Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 21

سورة الحاقة

فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ﴿ۙ۲۱﴾

So he will be in a pleasant life -

پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So he shall be in a life, well-pleasing. (69:21) meaning, pleasant. فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فھو فی عیشۃ راضیۃ…: جنت میں کوئی فکر و غم ہوگا نہ مرض، نہ موت، نہ تھکاوٹ ، نہ بڑھاپا، نہ کوئی نقص، نہ عیب اور نہ کمزوری۔ ہر نعمت جو دل چاہے گا بلکہ جو خیال کی رسائی سے بھی بلند ہے، ملے گی۔ ان تمام باتوں کو ” عیشۃ راضیۃ “ کے لفظ سے ادا فرما دیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَہُوَفِيْ عِيْشَۃٍ رَّاضِيَۃٍ۝ ٢١ ۙ عيش العَيْشُ : الحیاة المختصّة بالحیوان، وهو أخصّ من الحیاة، لأنّ الحیاة تقال في الحیوان، وفي الباري تعالی، وفي الملک، ويشتقّ منه المَعِيشَةُ لما يُتَعَيَّشُ منه . قال تعالی: نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ، مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ، لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] ، وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] . وقال في أهل الجنّة : فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] ، وقال عليه السلام : «لا عَيْشَ إلّا عَيْشُ الآخرة ( ع ی ش ) العیش خاص کر اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان میں پائی جاتی ہے اور یہ لفظ الحیاۃ سے اض ہے کیونکہ الحیاۃ کا لفظ حیوان باری تعالیٰ اور ملائکہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور العیش سے لفظ المعیشۃ ہے جس کے معنی ہیں سامان زیست کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جن زندگی بسر کی جاتی ہے قرآن میں ہے : ۔ نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا ۔ مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی ۔ وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] اور ہم ہی نے تمہارے لئے اس میں زیست کے سامان پیدا کردیئے ۔ لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] تمہارے لئے اس میں سامان زیست ۔ اور اہل جنت کے متعلق فرمایا : ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] وہ دل پسند عیش میں ہوگا ۔ اور (علیہ السلام) نے فرمایا ( 55 ) الا عیش الا عیش الاخرۃ کہ حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١۔ ٢٣) غرض کہ وہ شخص پسندیدہ عیش یعنی بہشت بریں میں ہوگا کہ جس کے پھل اور میوے اس قدر جھکے ہوں گے کہ جس حالت میں چاہیں گے لے سکیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ } ” پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔ “ وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہوگا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:21) فھو فی عیشۃ راضیۃ : ف تعقیب کا یا ترتیب کا ہے۔ ھو سے مراد وہ شخص ہے جسے اس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ لادیا گیا ہو۔ عیشۃ زندگانی، گزران، عاش یعیش (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی جینے کے ہیں۔ موصوف ہے۔ راضیۃ : رضی ۔ رضی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ پسندیدہ، من بھاتی۔ خوش، صفت، ھو مبتداء فی عیشۃ راضیۃ اس کی خبر۔ ترجمہ :۔ پس وہ شخص پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (٤٢) (٠٦ : ١٢ تا ٤٢) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاﺅ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ نعمتیں اور پھر ان کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز واکرم اور یہ تواضع اور پھر باری تعالیٰ کی طرف سے یہ مکالمہ ” کھاﺅ اور پیو ، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں “۔ یہ وہ سادہ رنگ ہے جہاں تک عہد اول کے مسلمانوں کا تعلق باللہ پہنچ گیا تھا ، حالانکہ اللہ کے قرب میں اس سے بھی زیادہ انعامات ہیں۔ نیز تعلق باللہ اور جنتوں کے ان انعامات میں بعض لوگوں کے لئے قیامت تک کشش رہے گی۔ لوگوں کے بھی رنگ اور اقسام ہیں اور نعمتوں کے بھی رنگ و اقسام ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ٠٠٢١﴾ (سو یہ شخص ایسی زندگی میں ہوگا جس سے راضی ہوگا اور خوش ہوگا) ۔ ﴿ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ٠٠٢٢﴾ (بہشت بریں یعنی اونچی جنت میں ہوگا) ۔ ﴿قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ٠٠٢٣﴾ (اس کے پھل قریب ہوں گے) ۔ جیسا کہ سورة ٴ رحمٰن میں فرمایا ﴿ وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍۚ٠٠٥٤﴾ (اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے یعنی ہر شخص جو پھل بھی چاہے گا بآسانی کھڑے ہوئے لیٹے بیٹھے توڑ سکے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) غرض وہ ایک پسندیدہ اور من مانی زندگی گزارتا ہوگا۔