Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 25

سورة الحاقة

وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ ۙ فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾

But as for he who is given his record in his left hand, he will say, "Oh, I wish I had not been given my record

لیکن جسے اس ( کے اعمال ) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی ، وہ تو کہے گا کہ کاش مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Bad Condition of Whoever is given His Record in His Left Hand These Ayat inform about the condition of the wretched people when one of them is given his Record (of deeds) in his left hand when the people are brought before Allah. At this time he will be very remorseful. وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيهْ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيهْ

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے ، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے ، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو ، حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو ، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے ، ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے ، حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں ، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہو گا ، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا ، حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی ، یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی ۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں ، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا ، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا ، اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے ، اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام ( غسلین ) ہے ، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام ( زقوم ) ہو ، اور ( غسلین ) کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ” ھآوم اقرء و کتبۃ “ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل) ” یلیتھا کانت القاضیۃ “ یعنی موت میرا کام تمام کردیتی، اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایاج اتا۔” ما اغنی عنی مالیہ، ھلک عنی سلطنیہ “ مال اور سرداری کی حرص کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ماذنبان جائعان ارسلا فی عنم بافسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ) (ترمذی، الزھد، باب ما ذئبان جائعان …: ٢٣٨٦ قال الالبانی صحیح)”’ و بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں ، وہ انہیں اس سے زیادہ تباہ و برباد نہیں کرتے جتنا آدمی کی مال اور سرداری کی حرص اس کے دنی کو تباہ و برباد کرتی ہے۔ “ تمام عمر اٹھی دو چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزار دینے کے بعد اس وقت افسوس سے کہے گا کہ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا اور میری سرداری بھی برباد ہوگی۔” سلطنیہ “ ” سلطان “ سے مراد دلیل و حجت ہو تو مطلب یہ ہے کہ میرے سارے دلائل اور حجت بازیاں ، جن سے میں حق والوں کو لاجواب کرتا تھنا، آج بےکار ہوگئے اور سرداری و حکومت ہو تو مطلب یہ ہے کہ آج میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا وہ جتھے اور پارٹیاں، فوج اور پولیس کے دستے، وہ اہل خانہ، وہ نوکر چا کر جن پر میرا کم چلتا تھا سب غائب ہوگئے۔ دوسروں پر اقتدار تو دور یک بات ہے اپنے ہی اعضا نے میری سرداری ماننے سے انکار کردیا ہے، بلکہ میرے خلاف شہادتیں دے رہے ہیں۔ ” سلطنیہ “ سے حجت و دلیل اور حکومت و سرداری دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ۝ ٠ۥۙ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَہْ۝ ٢٥ ۚ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی شمل الشِّمَالُ : المقابل للیمین . قال عزّ وجلّ : عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] ، ويقال للثّوب الذي يغطّى به : الشِّمَالُ وذلک کتسمية كثير من الثّياب باسم العضو الذي يستره، نحو : تسمية كمّ القمیص يدا، وصدره، وظهره صدرا وظهرا، ورجل السّراویل رجلا، ونحو ذلك . والِاشْتِمَالُ بالثوب : أن يلتفّ به الإنسان فيطرحه علی الشّمال . وفي الحدیث :«نهي عن اشْتِمَالِ الصمّاء» والشَّمْلَةُ والْمِشْمَلُ : کساء يشتمل به مستعار منه، ومنه : شَمَلَهُمُ الأمر، ثم تجوّز بالشّمال، فقیل : شَمَلْتُ الشاة : علّقت عليها شمالا، وقیل : للخلیقة شِمَالٌ لکونه مشتملا علی الإنسان اشتمال الشّمال علی البدن، والشَّمُولُ : الخمر لأنها تشتمل علی العقل فتغطّيه، وتسمیتها بذلک کتسمیتها بالخمر لکونها خامرة له . والشَّمَالُ : الرّيح الهابّة من شمال الکعبة، وقیل في لغة : شَمْأَلٌ ، وشَامَلٌ ، وأَشْمَلَ الرّجل من الشّمال، کقولهم : أجنب من الجنوب، وكنّي بِالْمِشْمَلِ عن السّيف، كما کنّي عنه بالرّداء، وجاء مُشْتَمِلًا بسیفه، نحو : مرتدیا به ومتدرّعا له، وناقة شِمِلَّةٌ وشِمْلَالٌ: سریعة کا لشَّمال، وقول الشاعر : ولتعرفنّ خلائقا مشمولة ... ولتندمنّ ولات ساعة مندم قيل : أراد خلائق طيّبة، كأنّها هبّت عليها شمال فبردت وطابت . ( ش م ل ) الشمال ۔ بایاں ضد یمین ۔ قرآن میں ہے ۔ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] جو دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں ۔ نیز چھوٹی چادر جس سے بائیں جانب ڈھانپ لی جائے اسے بھی شمال کہا جاتا ہے جس طرح کہ عربی زبان میں دوسرے اعضار کی مناسبت سے لباس کے مختلف نام رکھے گئے ہیں ۔ مثلا قمیض کی آستین کو ید ( ہاتھ ) اور جو حصہ سینہ اور پشت پر آئے اسے صدر اور ظہر کہا جاتا ہے اور پائجامہ کے پائتہ کو رجل سے موسم کردیتے ہیں وغیرہ ذالک ۔ اور الاشتمال بالثوب کپڑے کو اس طرح لپیٹا کہ اس کا بالائی سرا بائیں جانب ڈالا جائے حدیث میں ہے ۔ ( 101 ) «نهي عن اشْتِمَالِ الصمّاء» کہ اشتمال الصماء ممنوع ہے ۔ اور استعارہ کے طور پر کمبل کو جو جسم پر لپیٹا جاتا ہے ۔ شملۃ ومشمل کہا جاتا ہے اور اسی سے شملھم الامر کا محاورہ ہے جس کے معنی کسی امر کے سب کو شامل اور عام ہوجانے کے ہیں ۔ پھر شمال کے لفظ سے مجازا کہا جاتا ہے ۔ شملت الشاۃ بکری کے تھنوں پر غلاف چڑھانا اور شمال کے معنی عادت بھی آتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی چادر کی طرح انسان پر مشتمل ہوجاتی ہے ۔ الشمول شراب کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور شراب کو شمول کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ عقل کو ڈھانپ لینے کی وجہ سے خمر کہا جاتا ہے ۔ الشمال ( بکسرالشین ) وہ ہوا جو کعبہ کی بائیں جانب سے چلتی ہے اور اس میں ایک لغت شمال ( بفتحہ شین بھی ہے ۔ شامل واشمل کے معنی شمال کی جانب میں جانے کے ہیں جیسے جنوب سے اجنب ۔ ( جنوب کو جانا ) کنایہ کے طور پر تلوار کو مشتمل کہا جاتا ہے جیسا کہ اسے رداع سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اسی سے مرتد بالسیف ومتدرعا لہ کی طرح جاء مشتملا بسیفہ کا محاورہ ہے ۔ : ناقۃ شملۃ و شمال ۔ باد شمالی کی طرح تیز اونٹنی ۔ اور شاعر کے قول ع ( الکامل ) ( 262 ) ولتعرفنّ خلائقا مشمولة ... ولتندمنّ ولات ساعة مندم تم عمدہ اخلاق کو پہچان لو گے اور تم پشیمانی اٹھاؤ گے لیکن وہ وقت پشیمانی کا نہیں ہوگا ۔ میں مشمولۃ سے مراد پاکیزہ اخلاق ہیں گویا باد شمال نے ( شراب کی طرح ) انہیں ٹھنڈا اور خوش گوار بنا دیا ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ ليت يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت «1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته کان کذا . وأعرب «ليت» هاهنا فجعله اسما، کقول الآخر :إنّ ليتا وإنّ لوّا عناء«2» وقیل : معناه : لم يلتني عن هواها لَائِتٌ. أي : صارف، فوضع المصدر موضع اسم الفاعل . ( ل ی ت ) لا تہ ( ض ) عن کذا لیتا ۔ کے معنی اسے کسی چیز سے پھیر دینا اور ہٹا دینا ہیں نیز لا تہ والا تہ کسی کا حق کم کرنا پوا را نہ دینا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا ۔ اور اس کے اصلی معنی رد اللیت ۔ یعنی گر دن کے پہلو کو پھیر نے کے ہیں ۔ لیت یہ حرف طمع وتمنی ہے یعنی گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لئے آتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] اور کافر کہے کا اے کاش میں مٹی ہوتا يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] کہے گا اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رستہ اختیار کیا ہوتا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 406 ) ولیلۃ ذات وجی سریت ولم یلتنی عن ھوا ھا لیت بہت سی تاریک راتوں میں میں نے سفر کئے لیکن مجھے کوئی پر خطر مر حلہ بھی محبوب کی محبت سے دل بر داشت نہ کرسکا ( کہ میں کہتا کاش میں نے محبت نہ کی ہوتی ۔ یہاں لیت اسم معرب اور لم یلت کا فاعل ہے اور یہ قول لیتہ کان کذا کی تاویل میں سے جیسا کہ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( 403 ) ان لینا وان لوا عناء ۔ کہ لیت یا لو کہنا سرا سرباعث تکلف ہے بعض نے کہا ہے کہ پہلے شعر میں لیت صدر بمعنی لائت یعنی اس فاعلی ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھے اس کی محبت سے کوئی چیز نہ پھیر سکی ۔ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥۔ ٢٦) جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا مثلا اسود بن عبدالاسد وہ کہے گا کہ مجھ کر میرا یہ نامہ اعمال ہی نہ ملتا اور مجھ کو یہ بھی خبر نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

{ فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ ۔ } ” وہ کہے گا : اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ “ ” مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے “ کاش ! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 In Surah Al-Inshiqaq it has been said: "And the one whose record is given him behind his back..." Probably it will be like this: As the culprit would already be knowing that he was a culprit, and would be aware of what his record contained, he would dejectedly extend his left hand forward to receive it, and then would immediately hide it behind his back so that no one else saw what he had received. 16 That is, "1 should not have been given this record in the Plain of Assembly and thus publicly disgraced before all mankind, but should have been awarded secretly whatever punishment I deserved.

سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :15 سورہ انشقاق میں فرمایا گیا ہے اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا ۔ غالباً اس کی صورت یہ ہو گی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہو گا اور وہ جانتا ہو گا کہ اس نامہ اعمال میں اس کا کیا کچا چٹھا درج ہے ، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تاکہ کوئی دیکھنے نہ پائے ۔ سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :16 یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان حشر میں علانیہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٥۔ ٣٧۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ٢ ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں ورنہ آدمیوں کے ہاتھوں کے ناپ کے موافق گزوں کا حساب لیاجائے تو وہ زنجیریں بہت بڑی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے اس قول کی تائید ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ترمذی ٣ ؎ وغیرہ میں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ان زنجیروں کے اس سرے سے اس سرے تک چالیس برس کا راستہ کا فاصلہ ہے۔ حمیم کے معنی رشتہ دار۔ غسلین کے معنی دوزخیوں کے زخموں کی دھو ون کے صیح ہیں کیونکہ علی بن طلحہ ٤ ؎ کی روایت سے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا یہی قول ثابت ہوا ہے اس کے سوا حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے اور جو روایتیں ہیں جن کو بعض مفسروں نے اپنی تفسیروں میں بیان کیا ہے وہ روایتیں اس درجہ کی نہیں ہیں۔ چناچہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جس قدر سلسلے روایت کے ہیں ان میں علی بن طلحہ کا سلسلہ اعلیٰ درجہ کا ہے۔ (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٦ ج ٤۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی طعام اھل النار ص ٩٦ ج ٢۔ ) (٤ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٦ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:25) فاما من اوتی کتبہ بشمالہ : شمالہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے بائیں طرف اس کے بائیں ہاتھ میں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:19 متذکرۃ الصدر) فیقول : میں ف تعقیب کی ہے۔ جس پر وہ (اپنے اعمال بد اور ان کا برا انجام دیکھ کر کہے گا۔ یلیتنی : یاء حرف نداء منادی محذوف (یعنی اے قوم) لیت حرف مشبہ بالفعل : اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ تمنا کے لئے مستعمل ہے۔ کاش ! فی اسم ہے۔ یلیتنی : کاش مجھے۔ لم ادت : مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد متکلم ۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اوت اصل میں اوتی تھا۔ لم کے عمل سے ی حذف ہوگئی۔ اور مضارع ماضی کے معنی میں تبدیل ہوگیا۔ کتبیہ : ۃ ساکنہ۔ (دیکھو متذکرۃ الصدر) کتابی میرا اعمال نامہ۔ میری کتاب ترجمہ ہوگا :۔ اے قوم کاش مجھے میرا اعمال نامہ نہ ہی دیا جاتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے مقامات پر یہ تفصیل موجود ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال نامے دیئے جانے کے بعد کیا کیا معاملات پیش آئیں گئے۔ جب برے لوگوں کو ان کے اعمال دیئے جائیں گے تو وہ فریاد کریں گے کہ کاش ! ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں بالآخر مجرم ہر طرف سے مایوس ہوجائے گا۔ حکم ہوگا کہ اسے پکڑ لو اور اسے ستر گز لمبی زنجیر میں جھکڑ کر جہنم میں پھینک دو ، یہ نہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ ہی مسکین کو کھلانے کی ترغیب دیتا تھا، آج اس کا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا اور اسے جہنم کے پیپ کے سوا کوئی چیز کھانے کو نہیں دی جائے گی یہی مجرموں کا کھانا ہوگا۔ یہاں جہنمی کے دو گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر ان کے دیگر گناہوں کا ذکر بھی موجود ہے ان میں پہلا گناہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہ لائے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے یہ کافر، مشرک منافق لوگ ہوں گے۔ ان کا دوسرا گناہ یہ ہوگا کہ وہ غریبوں اور محتاجوں کا خیال نہیں کرتے تھے گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے غافل تھے۔ اس لیے ان کے گلے میں طوق ڈال کر اور ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ان کے کھانے میں جہنم کی پیپ بھی شامل ہوگی جو صرف ان کے لیے ہوگی۔ ” سلطان “ کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل وحجت کے معنٰی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ مجرم دنیا میں جو حجت بازیاں کیا کرتا تھا وہ قیامت کے دن نہیں چل سکیں گی، اگر سلطان کا لفظ اقتدار کے معنٰی میں لیا جائے تو مراد ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر وہ اکڑتا تھا وہ قیامت کے دن ختم ہوجائے گی۔ وہ اقرار کرے گا کہ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں بےبس اور لاچار مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ مسائل ١۔ جسے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ پچھتائے گا اور اپنی موت کی تمنا کرے گا۔ ٢۔ جہنمی اقرار کرے گا کہ آج میرا مال اور میرا اقتدار میرے کچھ کام نہیں آیا۔ ٣۔ جہنمی کے جرائم میں سر فہرست یہ جرم ہوں گے کہ وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ ٤۔ جہنمی کے گلے میں طوق پہناکر انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔ نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بائیں ہاتھ میں اعمالنامے ملنے والوں کی بدحالی : اس کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جن کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ٠٠٢٥ وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ٠٠٢٦﴾ (اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میری کتاب مجھے نہ دی جاتی اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے) جس شخص کے حساب میں گڑبڑ ہو وہ یہی چاہتا ہے کہ میرا حساب مجھے نہ دکھایا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے تو اچھا ہوتا۔ ﴿يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ٠٠٢٧﴾ (ہائے كاش دنیا میں جو مجھے موت آتی تھی وہی فیصلہ کردینے والی ہوتی اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کے لیے حاضر نہ کیا جاتا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” واما من اوتی کتبہ بشمالہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کافر اور مشرک کو جب اعمالنامہ بائیں میں دیا جائے گا تو وہ حسرت و یاس سے کہے گا کاش ! مجھے اعمالنامہ دیا ہی نہ جاتا اور نہ میں اپنا حساب کتاب ہی جانتا ! اے کاش ! موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور میں اپنے اعمالنامے کو نہ دیکھتا۔ آج نہ مال میرے کسی کام آیا اور نہ سلطنت ہی باقی رہی۔ الغرض اس پر مکمل مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوگی۔ یہ معاملہ جزاء وسزا کے فیصلہ سے پہلے کا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) اور بہرحال جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں اور الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش میرا نامہ اعمال اور میرا لکھا مجھ کو نہ ملتا اور مجھ کو دیا ہی جاتا۔ یعنی حسرت سے کہہ گا کہ کیا اچھا ہوتا کہ میرا عمل نامہ مجھ کو دیا ہی نہ جاتا۔