[ ١] یہ سورة انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس میں آٹھ آیات (آیت) ( وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ١٦٣۔ ) 7 ۔ الاعراف :163) سے لے کر ( وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ ١٧١ ) 7 ۔ الاعراف :171) تک مدنی ہیں اور اس سورة کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت اور دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔
Commentary An overview of the Surah shows that most of the subjects it deals with are related to Ma` ad (Return to the Hereafter) and Risalah (Prophethood). The former appear from the beginning of the Surah upto approximately the end of the sixth section. Then, from the eighth to the twenty first sections, there is a detailed description of past prophets, events about their communities, their reward and punish¬ment and the punishment which overtook them.
خلاصہ مضامین سورة تمام سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین معاد (آخرت) اور رسالت سے متعلق ہیں، اور پہلی ہی آیت كِتٰبٌ اُنْزِلَ میں نبوت کا اور آیت نمبر 6 میں فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ میں معاد و آخرت کی تحقیق کا مضمون ہے، اور رکوع چہارم کے نصف سے رکوع ششم کے ختم تک بالکل آخرت کی بحث ہے۔ پھر رکوع ہشتم سے اکیسویں رکوع تک وہ معاملات مذکور ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے ہوئے ہیں۔ یہ سب مسئلے رسالت سے متعلق ہیں، اور ان قصص میں ساتھ ساتھ منکرین رسالت کی سزاؤں کا بھی ذکر چلا آیا ہے، تاکہ منکرین موجودین کو عبرت حاصل ہو، اور رکوع بائیس کے نصف سے تیئیس کے ختم تک پھر معاد کی بحث ہے، صرف ساتویں اور بائیسویں رکوع کے شروع میں اور آخری رکوع چوبیس کے اکثر حصہ میں توحید پر خاص بحث ہے، باقی بہت کم حصہ سورة کا ایسا ہے جس میں جزوی فروعی احکام بمناسب مقام مذکور ہیں (بیان القرآن) خلاصہ تفسیر الٓمٓصٓ، (اس کے معنی تو اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ایک راز ہے، جس پر امت کو اطلاع نہیں دی گئی بلکہ اس کی جستجو کو بھی منع کیا گیا، کِتٰب اُنزِل اِلَیک الخ) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جو (اللہ کی جانب سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ذریعہ (لوگوں کو سزائے نافرمانی سے) ڈرائیں، سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں (کسی کے نہ ماننے سے) بالکل تنگی نہ ہونی چاہئے (کیونکہ کسی کے نہ ماننے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصل مقصد بعثت میں جو کہ حق بات پہنچانے کا ہے کوئی خلل نہیں آتا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں دل تنگ ہوں) اور یہ (قرآن خصوصیت کے ساتھ) نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے (آگے عام امت کو خطاب ہے کہ جب قرآن کا منّزل من اللہ ہونا ثابت ہوگیا تو) تم لوگ اس (کتاب کا) اتباع کرو جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے (اتباع کتاب یہ ہے کہ اس کی دل سے تصدیق بھی کرو اور اس پر عمل بھی) اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر (جس نے تمہاری ہدایت کے لئے قرآن نازل کیا) دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو، (جو تم کو گمراہ کرتے ہیں جیسے شیاطین الجن والانس مگر باوجود اس مشفقانہ فہمائش کے) تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو، اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ان کو (یعنی ان کے رہنے والوں کو ان کے کفر و تکذیب کی بناء پر) ہم نے تباہ و برباد کردیا اور ان پر ہمارا عذاب (یا تو) رات کے وقت پہنچا (جو سونے اور آرام کرنے کا وقت ہے) یا ایسی حالت میں (پہنچا) کہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے (یعنی کسی کو کسی وقت کسی کو کسی وقت) سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلتی تھی کہ واقعی ہم ظالم (اور خطاوار) تھے (یعنی ایسے وقت اقرار کیا جب کہ اقرار کا وقت گزر چکا تھا، یہ تو دنیوی عذاب ہوا) پھر (اس کے بعد آخرت کے عذاب کا سامان ہوگا کہ قیامت میں) ہم ان لوگوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے (کہ تم نے پیغمبروں کا کہنا مانا یا نہیں) اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے (کہ تمہاری امتوں نے تمہارا کہنا مانا یا نہیں ؟ (آیت) یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم، اور دونوں سوالوں سے مقصود کفار کو زجر و تنبیہ ہوگی) پھر چونکہ ہم پوری خبر رکھتے ہیں خود ہی (سب کے روبرو ان کے اعمال کو) بیان کردیں گے، اور ہم (عمل کے وقت اور جگہ سے) غائب تو نہ تھے۔
سورة الْاَعْرَاف نام : اس سورہ کا نام اَعراف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی آیات ٤٦ ۔ ٤۷ میں اعراف اور اصحاب کا ذکر آیا ہے ۔ گویا اسے”سورہ اَعراف“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ”وہ سورہ جس میں اَعراف کا ذکر ہے ۔ “ زمانہ نزول : اس کے مضامین پر غور کرنے سے بیّن طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول تقریباً وہی ہے جو سورہ انعام کا ہے ۔ یہ بات تو یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ پہلے نازل ہوئی ہے یا وہ ۔ مگر اندازِ تقریر سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ہے یہ اسی دَور سے متعلق ۔ لہذٰا اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے اس دیباچہ پر ایک نگاہ ڈال لینا کافی ہوگا جو ہم نے سورہ انعام پر لکھا ہے ۔ مباحث : اس سورہ کی تقریر کا مرکزی مضمون دعوت رسالت ہے ساری گفتگو کا مدّعا یہ ہے کہ مخاطبوں کو خدا کے فرستادہ پیغمبر کی پیروی اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔ لیکن اس دعوت میں انذار ( تنبیہ اور ڈراوے ) کا رنگ زیادہ نمایا پایا جاتا ہے ، کیونکہ جو لوگ مخاطب ہیں ، ( یعنی اہل مکّہ ) انہیں سمجھاتے سمجھاتے ایک طویل زمانہ گزر چکا ہے اور ان کی گراں گوشی ، ہٹ دھرمی اور مخالفانہ ضد اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ عنقریب پیغمبر کو ان سے مخاطبہ بند کر کے دوسروں کی طرف رجوع کرنے کا حکم ملنے والا ہے ۔ اس لیے تفہیمی انداز میں قبول رِسالت کی دعوت دینے کے ساتھ ان کو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جو روش تم نے اپنے پیغمبر کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی ہے ایسی ہی روش تم سے پہلے کی قومیں اپنے پیغمبروں کے مقابلہ میں اختیار کر کے بہت بُرا انجام دیکھ چکی ہیں ۔ پھر چونکہ ان پر حجت تمام ہونے کے قریب آگئی ہے اس لیے تقریر کے آخری حصّہ میں دعوت کا رخ ان سے ہٹ کر اہل کتاب کی طرف پھر گیا ہے اور ایک جگہ تمام دنیا کے لوگوں سے عام خطاب بھی کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب ہجرت قریب ہے اور وہ دَور جس میں نبی کا خطاب تمام تر اپنے قریب کے لوگوں سے ہوا کرتا ہے ، خاتمہ پر آلگا ہے ۔ دوران تقریر میں چونکہ خطاب کا رخ پہود کی طرف بھی پھر گیا ہے اس لیے ساتھ ساتھ دعوت رسالت کے اس پہلو کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ پیغمبر پر ایمان لانے کے بعد اس کے ساتھ منافقانہ روش اختیا کرنے ، اور سمع و طاعت کا عہد استوار کرنے بعد اسے توڑ دینے ، اور حق اور باطل کی تمیز سے واقف ہو جانے کے بعد باطل پرستی میں مستغرق رہنے کا انجام کیا ہے ۔ سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو حکمت تبلیغ کے متعلق چند اہم ہدایات دی گئی ہیں اور خصوصیّت کے ساتھ انہیں نصیحت کی گئی ہے کہ مخالفین کی اشتعال انگیزیوں اور چیرہ دستیوں کے مقابلہ میں صبر و ضبط سے کام لیں اور جذبات کے ہیجان میں مبتلا ہو کر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو اصل مقصد کو نقصان پہنچانے والا ہو ۔
سورۃ الاعراف تعارف یہ سورت بھی مکی ہے۔ اس کا بنیادی موضوع آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آخرت کو ثابت کرنا ہے۔ اس کے ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں۔ اور متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بھی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر تشریف لے جانے کا واقعہ سب سے زیادہ مفصل طریقے پر اسی سورت میں آیا ہے۔ اعراف کے لفظی معنی بلندیوں کے ہیں۔ اور اصطلاح میں یہ اس جگہ کا نام ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان واقع ہے، اور جن لوگوں کے اچھے اور برے اعمال برابر ہوں گے ان کو کچھ عرصے کے لیے یہاں رکھا جائے گا، پھر ان کے ایمان کی وجہ سے آخر کار وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ چونکہ اسی سورت میں اعراف اور اس میں رکھنے جانے والوں کا بیان تفصیل سے آیا ہے، اس لیے اس کا نام سورۃ اعراف رکھا گیا ہے۔
تعارف سورة الاعراف بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ نمبر 7 رکوع 24 آیات 206 الفاظ و کلمات 3387 حروف 14635 مقام نزول مکہ مکرمہ ٭خصوصیت : اس سورة میں توحید و رسالت اور فکر آخرت پر زور دیا گیا ہے۔ ٭فرض منصبی : دین کو سچائیوں کو بےخوف و خطر ہو کر پھیلانا ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے۔ اعراف۔ (عرف کی جمع) اونچے پہاڑ اور ٹیلوں کو اعراف کہا جاتا ہے۔ اس سورة میں اعراف والوں کا ذکر ہے۔ اس لیے اس سورة کا نام اعراف رکھا گیا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک میدان میں کچھ ایسے اونچے پہاڑ ‘ ٹیلے اور دیواریں سی ہونگی جہاں پر کھڑے ہونے والوں کو جنتی اور دوزخی دونوں صاف صاف نظر آئیں گے۔ ان آیات میں اعراف والے ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے اچھے اور برے اعمال وزن میں برابر ہونگے۔ ان کو جنت اور جہنم میں داخل کرنے سے پہلے اس میدان میں کھڑا کیا جائیگا جہاں اونچے پہاڑ اور ٹیلے ہوں گے۔ جب جنتیوں اور جہنمیوں کا فیصلہ ہوجائیگا تب اعراف والوں کا فیصلہ کیا جائیگا۔ توقع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے ان اعراف والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے۔ قرآن کریم کے نزول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو وقتی فائدوں کے پیچھے پڑ کر آخرت کی فکر سے غافل ہوجاتے ہیں ان کو توحید و رسالت کی عظمت کی طرف لاکر ان میں فکر آخرت پیدا کی جائے۔ اسی لیے عبرت و نصیحت کے لیے گذشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور نبی کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہو کر دین و دنیا کی تمام عظمتیں حاصل کرسکیں۔ سورة اعراف مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے توحید و رسالت اس سورة کا مرکزی مضمون ہے۔ اس سورة کی پہلی ہی آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ‘ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام بےخوف و خطر ہو کر اللہ کے بندوں تک پہنچائیے۔ کوئی سنے یا نہ سنے ‘ آپ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیے اس معاملہ میں آپ اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کیجئے۔ اللہ آپ کا محافظ و نگہبان ہے۔ جو سعادت مند لوگ ہیں وہ آپ کی بات ضرور سنیں گے لیکن جنہوں نے ضد ‘ عناد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اپنا رکھا ہے وہ آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام ہر شخص تک پہنچایا جن کے مقدر میں ایمان لانے کی سعادت تھی وہ آگے بڑھ کر نبی کے دامن سے وابستہ ہوگئے لیکن بد بخت اور بدنصیب لوگ اس نعمت سے محروم ہے۔۔۔۔ ! ٭قیامت کب آئے گی اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنی جان کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں سوائے اس کے جو اللہ چاہیے۔ اور اگر میں علم غیب رکھتا تو میں ہر طرح کی بھلائیاں سمیٹ لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف اللہ کے عذاب سے ڈرنے والا اور نیک عمل کرنے والوں کو جنت کی خوش خبری سنانے والا ہوں۔ ایسے لوگ اپنے زمانے میں کچھ بھی رہے ہوں لیکن آج ان کی زندگی نشان عبرت ہے۔ فرمایا گیا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کے اعمال اللہ کے ہاں محفوظ نہیں ہیں ؟ بلکہ وہ تمام اعمال محفوظ ہیں۔ ان اعمال کو تو لاجائے گا۔ جس کے جیسے اعمال ہونگے اس سے ویسا ہی معاملہ کیا جائیگا۔۔۔۔ ۔۔ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ان کے معاملہ کو کچھ دیر روک کر بالآخر ان کو بھی جنت کی ابدی راحتوں سے ہمکنار کردیا جائے گا۔ ان ہی لوگوں کو اصحاب الاعراف فرمایا گیا ہے۔
سورة الاعراف کا تعارف سورۃ الاعراف ٢٠٦ آیات اور ٢٤ رکوع پر مشتمل ہے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پانچ چھ آیات کو چھوڑ کر باقی تمام کی تمام آیات مکہ معظمہ میں نازل ہوئیں اس کے مضامین، اسلوب بیان سورة الانعام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہے۔ ” سورة البقرۃ “ میں دیگرادیان کے حاملین کے ساتھ یہودیوں کو زیادہ مخاطب کیا گیا ہے اور ” آل عمران “ میں دوسروں کی نسبت عیسائیوں کو کثرت کے ساتھ خطاب کیا ہے ” سورة الانعام “ اور ” سورة الاعراف “ میں اہل مکہ اور باقی مشرکین کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس سورة کے پہلے رکوع میں قرآن مجید کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قرآن کے بارے میں آپ کو اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں منکروں کے لیے انتباہ اور ماننے والوں کے لیے خیرخواہانہ نصیحت پائی جاتی ہے۔ اس لیے مومنوں کو صرف اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر کسی بزرگ، ولی اور خیرخواہ کی بات کو اللہ تعالیٰ کے فرمان سے مقدم نہیں جاننا چاہیے لیکن کھلی اور واضح ہدایت کے باوجود تھوڑے لوگ ہیں جو قرآن کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد نافرمان اقوام کا انجام بیان کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ قیامت کے روز ہر کسی کے اعمال کو عدل کے ترازو میں رکھ کر تولا جائے گا۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ہوگا اور جس کی نیکیوں کے مقابلے میں گناہ بھاری رہے وہ ہمیشہ کے لیے ذلت و رسوائی سے دوچار ہوں گے، پھر واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوال کریں گے اور ان کی دعوت کے مقابلہ میں جن لوگوں نے انکار اور انحراف کا رویہ اختیار کیا ان کا پوری طرح احتساب کیا جائے گا۔ اس کے بعد انسان اور شیطان کی جبلت کا فرق بیان کرکے ان کی آپس میں ازلی اور ابدی کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں واضح اشارہ ہے کہ انسان وہ ہے جو اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی اتباع میں غلطی کا اعتراف کرکے اپنے رب سے معذرت خواہ رہے اور شیطان وہ ہے جو غلطی کرنے کے بعد اس کا جواز پیش کرکے اس پر اڑ جائے بیشک وہ جنات میں سے ہو یا بنی نوع انسان سے۔ کچھ ضمنی مسائل بیان کرنے کے بعد آیت ٤٠ میں دو اور دو چار کی طرح واضح کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے شیطان کی طرح تکبر کیا ان کا جنت میں داخل ہونا اس طرح ہی محال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے سوراخ میں سے گزرنا محال ہے۔ اس کے ساتھ جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ان کی آپس میں ہونے والی گفتگو کا ذکر ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نیکوں اور بروں میں کیا فرق ہوگا۔ جہنمیوں کا اقرار جرم انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ جو انسان دنیا میں اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔ پھر توحید کے ٹھوس دلائل دے کر توحید کو ٹھکرانے والی قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم مدین اور قوم فرعون کے کردار کا تفصیلی تذکرہ کرکے ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا ہے تاکہ ان کے بعد آنے والے لوگ اس کردار اور انجام سے بچ جائیں۔ سورة کی ١٧٢ آیت میں اس عہد کا ذکر کیا جو آدم اور اس کی اولاد سے روز آفرنیش لیا گیا تھا جس میں ذکر ہے کہ اچھی طرح غور کرلو کہ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ تمام بنی نوع انسان نے ذات کبریا کی توحید کا اقرار کیا کہ کیوں نہیں تیرے سوا کون ہمارا رب ہوسکتا ہے۔ اس اقرار کے بعد فرمایا گیا۔ اب تمہارا یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ ہمارے آباؤ اجداد شرک کرتے رہے جن کی وجہ سے ہم اس سنگین جرم کے مجرم بنے۔ سورة کا اختتام ان آیات پر ہوا کہ اگر شیطان تمہیں پھسلانے کی کوشش کرے تو اس سے اپنے رب کی پناہ طلب کرو اور جس طرح اللہ کا حکم سمجھ کر ملائکہ نے عاجزی اختیار کی اس طرح تم بھی اپنے رب کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے اسی کی ذات اور فرمان کے سامنے جھک کر زندگی گزارو یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔
سورة اعراف ایک نظر میں : سورة انعام کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے اور اس کے اندر بنیادی موضوعات وہی ہیں جو عمومام کی آیات میں بیان ہوتے ہیں ۔ یعنی نظریاتی مباحث ۔ لیکن یہ دونوں سورتیں اس عظیم مسئلے کے بیان میں جو طرز عمل اور اسلوب بیان اختیار کرتی ہیں اور جس طرح میدان کار میں حرکت پذیر ہوتی ہیں ۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق و امتیاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورة ایک علیحدہ شخصیت کی مالک ہے ۔ ہر سورة کے اپنے خدوخال ہیں ‘ ہر ایک کا ایک متعین اسلوب ہے ہر ایک کا ایک میدان کار ہے ‘ جس میں یہ سورة اپنے اسی عظیم نظریاتی ہدف کی طرف بڑھتی ہے جو ایک ہے ۔ ہر سورة کا ایک موضوع اور ہدف ہوتا ہے ۔ یہ موضوع اور ہدف لے کر یہ سورة اپنے مخصوص میدان میں آگے بڑھتی ہے اور اپنی مخصوص راہوں پر چلتی ہے ۔ اپنے اس مضمون کو آگے بڑھاتی ہے اور اپنے ہدف اور مقصد تک پہنچتی ہے اور قارئین کو بھی پہنچاتی ہے ۔ قرآن کریم کی تمام سورتوں کا حال بعینہ انسانوں کی طرح ہے ۔ تمام انسان انسان ہیں لیکن ہر انسان کے خدوخال دوسرے سے جدا ہیں ۔ ہر ایک کے انسانی خصائص مختلف ہیں ۔ ہر ایک کی عضویاتی ساخت اور بناوٹ مختلف ہے ۔ پھر شخصیت کے اعتبار سے انسانوں کے مختلف نمونے ہیں اور یہ اختلاف بھی بین اختلاف ہے ۔ بعض کے درمیان معمولی اختلاف ہوتا ہے اور بعض ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتے ہیں کہ بنیادی اور عام انسانی خصوصیات کے سوا ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں ہوتی ۔ میں قرآن کریم کو اسی انداز میں سمجھنے کا عادی ہوں ‘ قرآن کریم کے بارے میں یہی میرا احساس ہے اس کے ساتھ اسی احساس کے مطابق میں معاملہ کرتا ہوں ۔ قرآن کے ساتھ طویل صحبت ‘ طویل الفت اور طویل ترین ممارست اور اس کی تمام سورتوں میں غور وفکر کرنے کے بعد میں نے ہر سورة کا مزاج ‘ اس کا رجحان اور اس کے خدوخال کو بالکل علیحدہ متعین کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے قرآن کی سورتوں کی شکل میں مختلف نمونے نظر آتے ہیں اور میں نے ہر سورة کے ساتھ ذاتی تعلق کی وجہ سے ایک خاص لگاؤ پیدا کرلیا ہے اور ہر سورة کے ساتھ اس ذاتی لگاؤ اور ممارست کی وجہ سے مجھے نظر آتا ہے کہ اس کے خدوخال دوسری سورتوں سے مختلف ہیں اور اس کے رجحانات بھی دوسری سورتوں کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ قرآن کریم کی سورتوں کے ساتھ میرا تعلق بعینہ اسی طرح ہے جس طرح کسی انسان کا مختلف دوستوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک دوست ہوتا ہے ۔ سب کے ساتھ الفت اور محبت ہوتی ہے سب محبوب ہوتے ہیں۔ سب قیمتی متاع کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ہر ایک کے ساتھ انسان کا دل عجیب رنگ ڈھنگ اختیار کرتا ہے ‘ ہر ایک کے اندر وہ ایک جدا خوشی پاتا ہے ‘ ہر ایک کے ساتھ علیحدہ اثرات ور مؤثرات ہوتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ برتاؤ اور مذاق علیحدہ ہوتا ہے ۔ جب انسان ایک سورة کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس کے اول سے آخر تک ایک سفر ہوتا ہے ۔ اس سورة کی دنیا اور اس کے مناظر دوسری سورتوں سے الگ ہوتے ہیں ۔ تصورات اور حقائق مختلف ہوتے ہیں ۔ اشارات اور قراردادیں مختلف ہوتی ہیں ‘ ہر سورة نفس انسانی میں غوطے لگا کر موتی نکال لاتی ہے ‘ ہر سورة میں نئے نئے مناظر پیش کئے جاتے ہیں حتی کہ ہر سورة کا سفر ایک نئی دنیا کا سفر ہوتا ہے اور اس سفر کی منزل اور نشانات منزل متعین ہوتے ہیں ۔ سورة انعام کا موضوع بھی نظریہ حیات تھا اور اعراف کا موضوع بھی اسلامی عقائد ونظریات ہیں۔ لیکن سورة انعام میں اسلامی عقائد سے براہ راست ذاتی طور پر بات کی گئی تھی ۔ عقائد اور ان کی حقیقت سے بحث کی گئی تھی اور ان عقائد کے حوالے سے عرب جاہلیت پر بھرپور تنقید کی گئی تھی ۔ جاہلیت عربیہ کو خطاب کرکے دوسری جاہلیتوں کو بھی بالواسطہ رد کیا گیا تھا اور اس میں سچائی کے حامل پیغمبر کو اس روپ میں دکھایا گیا تھا کہ وہ ببانگ دہل سچائی کا اعلان کر رہے ہیں ۔ اس اعلان حق کے ساتھ ساتھ فطرت کے گہرے اور بیشمار اور عظیم اشارات بھی پیش کئے گئے تھے جو اس سچائی کے لئے بطور دلیل اور مشیر موجود تھے اور جن اشارات فطرت کے بارے میں ہم نے سورة انعام کے آغاز میں ‘ ساتویں پارے میں اور اس پارے میں مختصر اور مفصل کلام کیا ہے اور اس سورة پر غور وفکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سورة انعام کا رنگ ڈھنگ اور اسلوب اور طریق کیا ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ سورة اعراف کا موضوع بھی وہی اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد ہیں لیکن اس کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے ۔ یہ ایک بالکل نئے میدان میں اس موضوع کو لے جاتی ہے ۔ اس سورة میں اسی موضوع کو انسانی تاریخی زاویہ سے لیا گیا ہے ۔ انسان جب اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تو وہ جنت میں ملاء اعلی کا باشندہ ہوتا ہے ۔ یہ سورة اس نقطہ آغاز سے انسانی کو لے کر آگے بڑھتی ہے ۔ انسانی سفر حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ہمارے سامنے آتا ہے اور انسانیت کی اس طویل شاہراہ پر قافلہ ایمان مختلف مقامات ومنازل سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا ہے یہ قافلہ اس نظریہ اور عقائد کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہے ۔ نسلا بعد نسل اقوام کے بعد اقوام آتی ہیں اور اس سورة میں ان قافلوں کے سفر کو ریکارڈ کیا جاتا ہے پھر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہر دور میں انسانوں نے اس قافلہ ایمان کا استقبال کس انداز میں کیا ۔ اس نے ان ہدایات کو پاکر کیا ردعمل ظاہر کیا۔ اس قافلہ ایمان نے دعوت کس انداز میں پیش کی ۔ اور لوگوں نے جواب دیا کس طرح بعض لوگوں نے اس قافلے کی راہ کو روکنے کی کوشش کی اور اس قافلے نے کس طرح مشکلات کے باوجود اپنی راہ نکالی اور اپنی راہ نکالی اور اپنی منزل کی طرف یہ قافلہ آگے ہی بڑھتا رہا ۔ راہ روکنے والوں اور جھٹلانے والوں کا انجام کیا رہا اور قافلہ ایمان کس انجام سے دو چار ہوا ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ یہ نہایت ہی طویل ترین سفر ہے ‘ لیکن یہ سورة اسے مرحلہ بمرحلہ طے کرتی چلی جاتی ہے ۔ یہ قافلے کے نشانات اور خدوخال بالکل واضح ہیں ۔ اس کے سنگ ہائے میل قائم ہیں ۔ اس کے سفر کا نقطہ آغاز بھی معلوم ہے اور منزل بھی متعین ہے ۔ انسانیت اپنی بڑی بڑی جمعیتوں کو لے کر اس منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ اور آخر کار یہ سورة انسانیت کو اس کے نقطہ آغاز یعنی عالم بالا تک پہنچا دیتی ہے ۔ انسانیت کا آغاز حضرت آدم وحوا کی شکل میں دو افراد سے ہوا ۔ آدم ابو البشر اور حوا ام البشر ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ ساتھ شیطان بھی اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے یہ اجازت مل جاتی ہے کہ وہ جس حیلے سے چاہے انسان کو گمراہ کرسکتا ہے ۔ حضرت آدم وحوا کو بھی گمراہ کرسکتا ہے اور ان کی اولاد کو بھی ۔ اللہ ان دونوں سے اور دونوں کی اولاد سے عہد لیتے ہیں کہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔ اولاد آدم کو بھی اس کرہ ارض پر یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جو راہ چاہے اختیار کرے لیکن اس اختیار تمیزی کے استعمال پر اس سے باز پرس ضرور ہوگی ۔ ذریت آدم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے اس عہد کو مضبوطی سے تھا میں اور شیطان کے آگے نہ جھکیں جو خود ان کا اور ان کے ابو الآباء آدم (علیہ السلام) کا دشمن ہے اور یہ شیطان ہی ہے جس نے آدم وحوا کو جنت سے نکالنے کا سامان کیا اور یہ کہ گردش ایام میں جس جس مرحلے پر بھی رسول آئیں انسانوں کا فرض یہ ہے کہ وہ ان رسولوں کی ہدایات کو قبول کریں ۔ اگر وہ انبیاء کی بات نہ سنیں گے تو وہ شیطان کے بہکاوے میں آجائیں گے جس کی فوجیں ہر وقت ان کی آگے اور پیچھے لگی ہوتی ہیں اور دائیں اور بائیں ہر طرف سے ایک انسان پر حملہ آور ہوتی ہیں ۔ انسانیت کا آغاز جنت سے ‘ اپنے رب کے ہاں سے ہوتا ہے ۔ وہاں سے انسانیت کا نزول زمین کی طرف ہوتا ہے ۔ یہاں عمل اور مکافات عمل ‘ سعی ومشقت ‘ اصلاح و فساد ‘ تعمیر وتخریب ‘ منافست اور مقابلے کا بازار گرم ہوتا ہے اور اس مقابلے میں ہر نیک وبد شریک ہے ۔ کسی کے لئے اس سے باہر نکل بھاگنا ممکن نہیں ہے ۔ اب یہ انسانیت لوٹ رہی ہے ‘ اپنے رب کی طرف ‘ جس نے اسے کھلا چھوڑ کر اس جہان میں اختیار تمیزی دیا اور اس لمبے سفر میں انسانیت نے جو کچھ کمایا اسے وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے ۔ اس نے جو کچھ جمع کیا ہے اس میں کانٹے بھی ہیں اور پھول بھی ہیں۔ اس میں قیمتی متاع بھی ہے اور کھوٹے سکے بھی ہیں ۔ خیر بھی ہے اور شر بھی ہے ‘ اچھائیں بھی ہیں اور برائیاں بھی ہیں۔ سونا بھی ہے اور پتیل ۔ اس نے صبح انسانیت میں آغاز کیا اب شام ہونے کو ہے اور اس کا انجام ہے اور ہم اس سورة کی عبارات اور آیات کے آئینے میں اس سفر کو اور اس کے آغاز و انجام کو دیکھ رہے ہیں ۔ لوگ اپنے اپنے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی طرف لوٹ رہے ہیں ‘ کسی کا بوجھ کم ہے اور کسی کا زیادہ ہے ‘ کسی کا اچھا ہے اور کسی کا برا۔ ہر ایک افتاں وخیزاں اسے اٹھائے ہوئے ہے ۔ یہ سب لوگ مشقت میں ہیں اور تھکے ماندے جارہے ہیں ۔ ہر ایک دوبارہ نقطہ آغاز تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کی میزان کے سامنے اپنا بوجھ رکھ دیتا ہے اور نہایت ہی خوف وہراس میں اپنے نتیجے کا منتظر ہے ہر شخص اپنی کمائی کو فردا فردا لے کر آرہا ہے ۔ اور اگر کوئی دوسرا اسے دعوت دے کہ وہ اس سے کوئی دوسرا اسے دعوت دے کہ وہ اس سے کوئی بوجھ ہٹا لے تو کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہے ۔ اگرچہ بلائے جانے والا رشتہ دار وتعلق دار ہو ۔ ہر شخص اپنا حساب علیحدہ چکا رہا ہے ۔ اور جزا وسزا سے دوچار ہو رہا ہے ۔ اس سورة میں لوگ فوج درفوج چلتے نظر آتے ہیں ‘ کوئی جنت کی طرف رواں ہے اور کوئی جہنم کی طرف ہانکا جارہا ہے اور جب سب لوگ واپس ہو کر اپنی اپنی جگہ داخل ہوجاتے ہیں تو پھر دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ گویا لوگ اس جہاں میں غریب اور مسافر تھے ۔ آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “ گردش لیل ونہار اور مناظر دکھائے جاتے ہیں ‘ رسولوں اور مخلص مومنین کے قافلوں کو متکبرین اور ذلیل لوگوں کے پیروکاروں کے ساتھ لڑتے دکھایا گیا ہے ۔ یہ ٹکراؤ تاریخ میں بار بار دکھایا جاتا ہے اور اس تاریخی تبصرے میں ایک جیسے نتائج سامنے آتے ہیں ۔ ایمانی صحیفے روشن اور ایمان اور واضح اور جلی نظر آتے ہیں اور کفر کے صحیفے بجھے بجھے نظر آتے ہیں ‘ کبھی کبھی جھٹلانے والوں کے مقتل کے مناظر بھی دکھائے جاتے ہیں اور کلام کا بہاؤ رک جاتا ہے اور درمیان میں ایک نہایت ہر پر مغز تبصرہ کیا جاتا ہے ۔ یاد دہانی اور ڈراوا آجاتا ہے اور یہ واقفے سورة کے اندر ایک خاص انتظام کے تحت ہوتے ہیں ۔ تاریخی واقعات کے ہر مرحلے کے بعد بات رک جاتی ہے اور بیچ میں تبصرہ ہوتا ہے اور ایک مختصر کلمہ نصیحت کہہ دیا جاتا ہے یاد دہانی اور ڈراوے کے لئے اور پھر سلسلہ کلام آگے چلتا ہے ۔ غرض یہ سورة انسانیت کی ایک کہانی ہے کہ یہ جنت اور ملاء اعلی سے نکلی اور پھر لوٹی اور دنیا کے اس سفر میں اس کی نظریاتی صورت حال کا نقشہ اس میں کھینچا گیا ہے ۔ تاریخ کے طویل سفر میں اس کی حرکات و سکنات کو ریکارڈ کیا گیا ہے اور انسانیت کا آغاز جہاں سے ہوا یہ سورة انجام کار انسانیت کو نقطہ آغاز تک پہنچاتی ہے ۔ بشریت کی نظریاتی کشمکش کا یہ ایک دوسرا انداز بیان ہے اور یہ انداز سورة انعام سے بالکل مختلف ہے ۔ اگرچہ دونوں سورتوں میں بعض اوقات جھٹلانے والوں کے جو انجام دکھائے گئے ہیں وہ یکساں نظر آتے ہیں ‘ دونوں میں شاید مناظر قیامت بھی یکساں ہیں اور اس کائنات پر جو تبصرے کئے گئے ہیں اور اس کے جو مناظر دکھائے گئے ہیں اور وہ بھی یکساں ہیں ‘ لیکن اس سورة کا انداز اور میدان کار سورة انعام سے بالکل جدا ہے اور حدود بھی علیحدہ ہیں ۔ یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ دونوں سورتوں کا انداز تعبیر مختلف ہے ۔ ہر سورة میں تعبیر کا وہ انداز اختیار کیا گیا جو اس کے موضوع کو پیش کرنے کے لئے مناسب سمجھا گیا ۔ انعام کی حالت یہ تھی کہ وہ انداز بیان لہروں کی شکل میں تھا اور ایک لہر کے بعد دوسری لہر اٹھتی ۔ اس میں مناظر نہایت ہی بھڑکیلے اور چمکدار تھے اور اس میں الفاظ کی سر موسیقی کی حد تک پہنچ رہی تھی ‘ سورة کے اندر سیاق کلام نہایت ہی تیز ‘ بڑھنے والا اور بمباری جیسا تھا جبکہ سورة اعراف میں بات نہایت ہی نرمی سے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتی ہے ‘ الفاظ کی سرنہایت ہی نرم اور اسلوب بیان دھیما ہے ۔ گویا ایک قافلہ نہایت ہی سنجیدہ رفتار سے جا رہا ہے اور اس پر رننگ کمنٹری ہو رہی ہے اور قافلہ قدم بقدم آگے بڑھ رہا ہے اور آخر کار اپنے نقطہ آغاز کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔ ہاں اس سورة میں جب تذکیر وتہدید کا مرحلہ آتا ہے تو انداز کلام سخت ہوجاتا ہے لیکن جونہی تہدید اور ڈراوے کا موضوع ختم ہوتا ہے بات دوبارہ سنجیدگی اختیار کرلیتی ہے اور نہایت ہی مرتب انداز میں آگے بڑھتی ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ انسانی تاریخ کے بہاؤ میں یہ سورة اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کو جس طرح ایک متحرک شکل میں پیش کرتی ہے ‘ اس کے کچھ نمونے پیش کریں ۔ یہ سورة اسلامی نظریہ حیات کی تاریخ اس طرح بیان نہیں کرتی جس طرح نظریات کی تاریخ عموما بیان کی جاتی ہے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کو آدم سے لے کر انتہا تک ایک حصے کی شکل میں بیان کردے ۔ بلکہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی وہ جھلکیاں دکھاتی ہے جس میں کسی دور میں اس نظریہ اور اس کے مقابل جاہلیت کے درمیان کشمکش برپارہی ہے ۔ چناچہ اس سورة میں بعض تاریخی مناظر اور معرکے کے لئے گئے ہیں اور یہ مناظر اور معرکے وہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہیں جو اس قرآن کے مخاطب تھے ۔ قرآن ان لوگوں کے سامنے اس طویل قصے کو پیش کرتے ہوئے اس کے نتائج اور نصائح کو بھی ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کو یاد دہانی بھی کراتا جاتا ہے ۔ اس طرح قرآن کریم ان زندہ مخاطبین کو لے کر ایک معرکے میں داخل ہوتا ہے اور یہ معرکہ حقیقتا برپا ہوتا ہے اور جب قصص کے اہم مراحل آتے ہیں تو پھر قرآن کریم ان پر مختصرا تبصرہ بھی کرتا ہے اور اس تبصرے کے مخاطب وہ زندہ لوگ ہوتے ہیں جو قرآن کو سنتے ہیں اور جو تحریک اسلامی کے معرکے کے اندر حصہ دار ہوتے ہیں جس طرح اس وقت صحابہ کرام عملا تحریک اسلامی کے معرکے میں شامل تھے ۔ قرآن کریم جو قصہ بھی بیان کرتا ہے اس کو کسی متعین صورت حال پر چسپاں کرتا ہے ۔ وہ جس حقیقت کا اظہار کرتا ہے اس کے بالمقابل کسی قائم باطل کو ختم کرنا مطلوب ہوتا ہے ۔ اس کے قصص محض فنی اور تاریخی پہلو سے بیان نہیں ہوئے ۔ جب کسی قصے کے آخر میں یا درمیان میں قرآن کریم ان واقعات پر تبصرہ کرتا ہے تو اس میں وہ مسلمانوں کو نصائح اور ڈراوے کے اسباق پڑھاتا ہے جبکہ کلام کا نقطہ آغاز اور انجام اس کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اس سورة میں اگر قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح ‘ قوم لوط ‘ اور قوم شعیب کے قصص کو سرسری طور پر لیا گیا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو بڑی تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس سورة کے اجمالی تعارف میں تو ہم صرف چند نمونے ہی پیش کرسکتے ہیں کہ یہ سورة کن اہم نکات پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ سورة کا آغاز یوں ہوتا ہے : آیت ” المص (1) کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3) ” ا ‘ ل ‘ م ‘ ص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والوں کو یاد دہائی کراؤ ۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی پاتے ہو ۔ “ یہ سورة اپنے آغاز ہی سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی قوم کو خطا کر رہی ہے ‘ جو اس قرآن کو لے کر جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ اس کے بعد جو قصص بھی اس میں لائے گئے ہیں اور انسانیت کے طویل ترین سفر پر کمنٹری کی گئی ہے ‘ اس کے بعد قافلہ انسانیت کو جو رب ذوالجلال کے سامنے پہنچایا گیا ہے اور اس کے اندر جو مناظر ور جو مشاہدات پیش کئے گئے ہیں دنیا میں اور قیامت میں وہ بھی بالواسطہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی قوم کو خطا کا درجہ رکھتے ہیں اور ایسا محض ڈراوے اور یاد دہانی کی خاطر کیا گیا ہے ۔ اس امر کی طرف وہ مختصر فقرات اشارہ کر رہے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں ” یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ “ یہ ایسی صورت حال ہے جسے صرف وہ شخص سمجھا سکتا ہے جو جاہلیت کے نظام میں زندگی بسر کر رہا ہو اور اس جاہلی ماحول میں وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے رہا ہو وہ جانتا ہو کہ اس کا ہدف ایک عظیم انقلاب ہے اور اس کے حصول کی راہ میں بہت ہی بڑی دشواریاں حائل ہیں ۔ اس کا ہدف یہ ہو کہ وہ دنیا کو ایک نیا نظریہ حیات دے ‘ ایک نیا تصور حیات دے ‘ نئی اقدار اور نئے پیمانے دے ‘ نئے حالات اور نئے طور طریقے پیدا کرے اور یہ سب کے سب اس وقت کی قائم صورت حالات اور اقدار سے بالکل مختلف اور متضاد ہوں ۔ ہو شخص سمجھتا ہو کہ جاہلیت کی آلودگیاں نفوس انسانی کی اندر رچی بسی ہیں ۔ لوگوں کے دماغوں پر جاہلیت کے تصورات چھائے ہوئے ہیں ۔ زندگی میں جاہلی اقدار کی حکمرانی ہے اور انسان کی عادات اور اس کے اعصاب پر ان کا مکمل دباؤ ہے اور اسے یہ احساس ہو رہا ہو کہ ایسے حالات میں وہ جو بات کرتا ہے وہ عجیب و غریب لگ رہی ہے ۔ لوگوں کے لئے وہ بات نہایت ہی ثقیل ہے اور ان کے دل اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ۔ یہ ایسی بات ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ‘ اس لئے کہ یہ بات لوگوں کے افکار ‘ ان کے تصورات ‘ ان کی اقدار ‘ ان کے پیمانوں ‘ ان کے قوانین ‘ انکی عادات اور ان کے اوضاع واطوار کے اندر مکمل تبدیلی کی بات ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان کے تمام جاہلی روابط کٹ جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عظیم بات کے نتائج کے بارے میں ممکن ہے کہ آپ کے دل میں خجان پیدا ہوجائے کہ لوگ اس عظیم بات سے رد عمل کا اظہار کس طرح کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ کوئی جھجک محسوس نہ کریں اور یاد دہانی اور ڈراوے کا کام جاری رکھیں ۔ اس سچی بات کے مقابلے میں کوئی جس قدر شدید رد عمل بھی ظاہر کرے ‘ برا سمجھے یا تشدد کرے آپ اس کی پرواہ نہ کریں ۔ کوئی مقابلے میں اتر آئے ‘ جنگ کے لئے تیار ہوجائے اور دشمنی پر اتر آئے تو آئے ۔ اس سے پہلے کہ بات تفصیلی قصص میں داخل ہو ‘ قرآن اپنے مخاطبوں کو فیصلہ کن انداز میں متنبہ کرتا ہے اور یہ بات ان کے علم میں لاتا ہے کہ ان سے پہلے جھٹلانے والوں کا جو انجام ہوا ہے وہ ذرا اس پر غور کرلیں یہ تنبیہ انہیں اس لئے کی جاتی ہے کہ اسلامی انقلاب کی بات نہایت ہی دور رس ہے ‘ انوکھی ہے ‘ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اتر آتے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ یہ بات مکمل انقلاب کی بات ہے اس سے ان کے عقائد تصورات اور طرز عمل سب کے سب بدلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : آیت ” وَکَم مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا فَجَاء ہَا بَأْسُنَا بَیَاتاً أَوْ ہُمْ قَآئِلُونَ (4) فَمَا کَانَ دَعْوَاہُمْ إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ (5) فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) (٧ : ٤ تا ٩) کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا ۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا ‘ یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جبکہ وہ آرام کر رہے تھے اور جب ہمارا عذاب ان پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۔ پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ اس تمہید کے بعد اب قصہ انسانیت کا آغاز ہوتا ہے ۔ اور یہ کہانی بتائی جاتی ہے کہ انسان کو اس کرہ ارض پر کس طرح بسایا جانا آسان تھا ۔ پھر انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتیں دی تھیں کہ اس کرہ ارض کو اس کے حوالے کرنا موزوں تھا ۔ ان کی صلاحیتیں اس کائنات کے خزانوں کے ساتھ ہم آہنگ تھیں ۔ وہ اس کائنات کے اصولوں اور نوامیس کا ادراک کرسکتا تھا ۔ اس کائنات کے اندر پوشیدہ قوتوں کو کام میں لاسکتا تھا اور اس سے بھرپور استفادے کی قوت اپنے اندر رکھتا تھا ۔ آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ یہ بات بطور تمہید لائی گئی ۔ اس کے بعد وہ قصہ تفصیلا آتا ہے کہ اس جہان میں انسانیت کی تخلیق کس طرح ہوئی اور اس دنیا میں انسانیت نے اپنے اس مقررہ سفر کا آغاز کس طرح کیا ۔ اس سورة کے سیاق کلام میں انسانیت کے نقطہ آغاز پر بات کو مرکوز کیا گیا ہے ۔ انسانیت کی تخلیق کی کہانی پر بھی ڈراوا اور یاد دہانی کرائی جاتی ہے ۔ اور انسانوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ ذرا عمل تخلیق کے واقعات پر غور تو کریں اس میں کیا کیا سامان عبرت ہے ۔ آیت ” وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11) قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (12) قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13) قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْؤُوماً مَّدْحُوراً لَّمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنکُمْ أَجْمَعِیْنَ (18) وَیَا آدَمُ اسْکُنْ أَنتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ فَکُلاَ مِنْ حَیْْثُ شِئْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا ہَـذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِیْنَ (19) فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْء َاتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَـذِہِ الشَّجَرَۃِ إِلاَّ أَن تَکُونَا مَلَکَیْْنِ أَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِیْنَ (20) وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21) فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22) قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (23) قَالَ اہْبِطُواْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِیْ الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِیْنٍ (24) قَالَ فِیْہَا تَحْیَوْنَ وَفِیْہَا تَمُوتُونَ وَمِنْہَا تُخْرَجُونَ (25) (٧ : ١١ تا ٢٥) ” بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔ پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ فرمایا : ” تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “ بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ اور اے آدم ‘ تو اور تیری بیوی دونوں اس جنت میں رہو جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے ۔ “ پھر شیطان نے ان کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگائیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ اس طرح دھوکہ دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا ۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔ تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ دونوں بول اٹھے ” اے ہمارے رب ہم نے اپنے اوپر ستم کیا ‘ اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے ۔ “ فرمایا : ” اتر جاؤ ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ‘ اور تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے ۔ “ اور فرمایا ” وہیں تم کو جینا اور وہی مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا ۔ “ اس منظر میں ‘ جس میں انسانیت کا آغاز دکھایا گیا ہے ‘ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور سفر انسانیت کے مسافر ان کی آخری منزل کون سی ہے ۔ جب انسانیت اس طویل سفر کا آغاز کرتی ہے تو اس سفر میں معرکہ خیر وشر شروع ہوجاتا ہے اور دوران سفر یہ ہر وقت برپا ہے ۔ یہ معرکہ شیطان ‘ حزب الشیطان اور انسانوں کے درماین برپا ہے ۔ اس پورے سفر میں ہمیں وہ مقامات بھی نظر آتے ہیں ۔ جہاں بنی آدم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر یہ شیطان حملہ آور ہوتا ہے ۔ ان مقامات پر سورة میں انسانوں کو یاد دہانی اور ڈراوے کے لئے وقفہ کیا جاتا ہے ۔ لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ ذرا غور تو کرو کہ اس شیطان مردود نے تمہارے باپ آدم کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ اس منظر میں آدم و شیطان آمنے سامنے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس معرکہ آدم وابلیس میں جب ابلیس اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے اور آدم وحوا جنت سے نکل جاتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ انسانوں کو یاد دلاتے ہیں اور ڈراتے ہیں ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللّہِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (26) یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (27) (٧ : ٢٦ تا ٢٧) ” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ‘ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ‘ شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔ اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ فَمَنِ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ (35) وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا أُوْلَـَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (36) ” اے بنی آدم “ یاد رکھو ! اگر تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں ‘ تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرے گا اس کے لئے کسی خوف ورنج کا موقع نہیں ہے ‘ اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ ممنوع کے ارتکاب کے بعد آدم وحوا کے ننگے ہوجانے کا جو منظر سامنے آتا ہے وہ اس میں جنت کے پتوں کے ذریعے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اس واقعہ پر قرآن مجید کا محولہ بالا تبصرہ کہ لباس انسان کے لئے اللہ نے اتارا ہے اور ستر کی پوشیدگی اور وہ لباس جس کے ذریعہ وہ زینت اختیار کرتے ہیں ۔ غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ یہ لباس اللہ کے نازل کردہ ہیں ۔ پھر انہیں شیطان کے فتنے سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ شیطان کی سعی یہ ہے کہ وہ انہیں بھی اس طرح ننگا کر دے جس طرح ان کے باپ کو اس نے ننگا کر کے جنت سے نکال دیا ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قصہ تخلیق آدم کی اس کڑی کا یہاں خاص طور پر ذکر کرنا اور پھر اس پر یہ تبصرہ کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ اس وقت عربوں کے مشرک جاہلی معاشرے میں ایسی ہی عملی صورت حال موجود تھی کیونکہ اس معاشرے میں لوگ اپنے جاہلی رسم و رواج اور اپنے جاہلی تصورات کے نتیجے میں اور اپنی سابقہ دیومالائی روایات کے مطابق بیت اللہ کے گرد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ۔ نیز انہیں تصورات کے تحت وہ خاص قسم کے لباسوں کو حرام قرار دیتے تھے ‘ بعض کھانوں کو بھی حرام قرار دیتے تھے خصوصا حج کے دنوں میں ‘ اور یہ خیال کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے ۔ نیز انہوں نے اپنے اوپر جو کچھ حرام قرار دیا ہے وہ دراصل اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کی تخلیق کی کہانی کی اس کڑی کے بعد ایسا تبصرہ آتا ہے جو اس وقت کے موجود حالات کے ساتھ نہایت ہی مناسبت رکھتا ہے ۔ یہ واقعی صورت حال صرف عرب جاہلیت کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام جاہلیتوں میں حالات ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ تمام جاہلیتوں میں عریانی اور بےحیائی اور خدا خوفی کو نظر انداز کرنا ایک قدر مشترک ہے ۔ اس سے ہمیں قرآن کریم کی ایک نہایت ہی اہم خصوصیت کا پتہ چلتا ہے اور اس کا ذکر یہاں نہایت ضروری ہے اور یہ یہ قرآن کریم جو بات بھی کرتا ہے یا جو قصہ بھی بیان کرتا ہے ‘ وہ ایک واقعی اور موجودہ صورت حالات کے لئے ہوتا ہے اور قرآن اپنے آپ کو عملی حالات تک محدود رکھتا ہئے ۔ جس قدر واقعات ہوتے ہیں اور ان میں جس قدر ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے ‘ قرآن اسی قدر بات کرتا ہے ۔ صرف حسب ضرورت ۔ سورة انعام کے تعارف میں ہم نے اس اہم قاعدے کی طرف اشارہ کیا تھا کہ قرآن کریم کوئی ایسی بات نہیں کرتا جس کی فی الواقعہ ضرورت نہ ہو ۔ قرآن کریم کا طریقہ کار یہ نہیں ہے کہ وہ معلومات یا احکام کے فرضی مجموعے تیار کرے یہاں تک کہ قرآن کریم قصص کے معاملے میں بھی وہ تمام حلقے چھوڑ دیتا ہے جن کی موضوع زیر بحث میں ضرورت نہ ہو ۔ قرآن معلومات و احکام کا خزانہ تیار نہیں کرتا تاکہ جب ضرورت ہو تو اس سے احکام لئے جائیں ۔ یہ قرآن کا طریق کار نہیں ہے ۔ اب اس سے پہلے کہ قافلہ انسانیت اپنی راہ پر روانہ ہو اور اس سے پہلے کہ رسول آکر انسانیت کے سامنے ہدایت پیش کریں اور اس سے پہلے کہ قرآن کریم کا سیاق کلام اس بات کو پیش کرے کہ نظریاتی تحریک کس طرح قافلہ انسانیت کے ساتھ ساتھ چلتی رہی اور آدم (علیہ السلام) اور بی بی حوا کے پہلے تجربے کے ساتھ ساتھ سلسلہ انبیاء ورسل کس طرح چلا ؟ ان تمام امور کے بیان سے پہلے قرآن کریم قافلہ انسانیت کے آخری منظر کو پیش کرتا ہے ۔ اس عظیم مرحلے کے آخری حصے کو یہاں پہلے لایا جاتا ہے اور قرآن کریم کا یہ عمومی طریقہ ہے کہ وہ ابتلاء اور جزا اور سزا کے مناظر کو پہلے لے لیتا ہے ۔ اس طرح گویا یہ سب مناظر ایک ہی سفر کی جھلکیاں ہیں ۔ یہاں مشاہد قیامت میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سی تفصیلات دی گئی ہیں ‘ پے درپے کئی مناظر پیش کئے گئے ہیں اور کئی قسم کے ڈائیلاگ دیئے گئے ہیں ۔ سورة میں یہ منظر اس موقعہ ومناست میں دیا گیا کہ قصہ آدم وابلیس میں ابلیس آدم اور ان کی بیوی کو ورغلاتا ہے اور ان کو جنت سے نکال دیا جاتا ہے اور یہاں لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ خبردار شیطان تمہیں اس طرح نہ ورغلائے جس طرح تمہارے ماں باپ کو ورغلایا اور جنت سے نکلوا دیا اب اللہ کی جانب سے تمہارے پاس رسول آتے رہیں گے جو تم پر اللہ کی آیات پڑھیں گے اور یہ منظر اس لئے بھی یہاں پیش کیا جاتا ہے کہ جب رسول آئیں گے تو لوگ ان کی تصدیق سے جنت میں دوبارہ داخل ہوں گے اور جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت کی وہ جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے ۔ گویا وہ آدم کی طرح شیطان کے بہکاوے میں آجائیں گے اور جن لوگوں نے شیطان کی مخالفت کی ‘ وہ لوٹیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے ۔ ان پر یہ آواز ہوگی ” یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث ہوگئے ہو ‘ جس کے بارے میں تم بھی جانتے تھے ۔ “ اب یہ مسافر اس پر مشقت سفر کو ختم کریں گے اور نعمتوں کی جگہ جنت میں داخل ہوں گے ۔ یہ منظر نہایت ہی طویل ہے اور اس مختصر تبصرے میں ہم اسے پیش نہیں کرسکتے جب تفسیر کا موقعہ آئے گا تو تفصیلی بحث ہوگی ۔ البتہ اس منظر کو پیش کرکے قرآن کریم یاد دہانی اور دراوے کے لئے موقعہ نکالتا ہے ان لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے جو قرآن کریم کا مقابلہ تکذیب سے کرتے ہیں اور معجزات اور خوارق طلب کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا ۔ آیت ” وَلَقَدْ جِئْنَاہُم بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاہُ عَلَی عِلْمٍ ہُدًی وَرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (52) ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِیْلَہُ یَوْمَ یَأْتِیْ تَأْوِیْلُہُ یَقُولُ الَّذِیْنَ نَسُوہُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاء تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَہَل لَّنَا مِن شُفَعَاء فَیَشْفَعُواْ لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُواْ أَنفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (53) (٧ : ٥٢۔ ٥٣) ” اور ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہی جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔ اب کیا یہ لوگ اس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے ؟ جس روز انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے اسے نظر انداز کردیا تھا ‘ کہیں گے کہ ” واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے ‘ پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں ؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کرکے دکھائیں ۔ “ انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہوئے ۔ “ اس دوردراز اور طویل سفر میں آغاز تخلیق اور انتہائے خلقت کے بیان کے بعد بات میں ایک وقفہ آتا ہے ۔ اب سابقہ کلام پر ایک تبصرہ سامنے آتا ہے ۔ اس تبصرے میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ خدا کی خدائی کی حقیقت کیا ہے ۔ اللہ کی ربوبیت اس کائنات کے مناظر ہیں اپنا کام کسی طرح کرتے ہیں ۔ اللہ کی ربوبیت اس حقیقت پر کس طرح شاہد عادل ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کائنات کے اندر نظر آنے والے عجیب و غریب مشاہدات اور کائنات کے آثار کے ذریعہ اس حقیقت کبری پر استدلال کرتا ہے جس کے انسانی احساسات پر نہایت ہی گہرے اثرات پڑتے ہیں بشرطیکہ انسانی دل اور اس کی بصیرت ان اشارات فطرت کے اخذ کے لئے تیار ہو قرآن کریم کے اس تاریخی سفر کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ بتائے کہ انسانیت کے پاس نظریاتی پیغام ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہ یہ کہ اس پوری کائنات میں اللہ کی بندگی اور اس کی ربوبیت کا نظام جاری وساری ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کا حاکم اور رب ہے لہذا انسان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ نافرمان نہ ہو اور اس رب کائنات کی بندگی سے سرتابی نہ کرے جو اس کائنات کا خالق بھی ہے اور اس کا حکمران مطلق بھی ‘ اور وہی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ پروردگار ہے ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْراً بَیْْنَ یَدَیْْ رَحْمَتِہِ حَتَّی إِذَا أَقَلَّتْ سَحَاباً ثِقَالاً سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِہِ الْمَاء فَأَخْرَجْنَا بِہِ مِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ کَذَلِکَ نُخْرِجُ الْموْتَی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (57) وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِیْ خَبُثَ لاَ یَخْرُجُ إِلاَّ نَکِداً کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ (58) (٧ : ٥٤ تا ٥٨) ” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ سارے جہانوں کا م