Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 117

سورة الأعراف

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ

And We inspired to Moses, "Throw your staff," and at once it devoured what they were falsifying.

اورہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Musa defeats the Magicians, Who believe in Him Allah tells; وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ... And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand, ... فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ ... It swallowed straight away, and devoured, ... مَا يَأْفِكُونَ all the falsehood which they showed. the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn Abbas said that; Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی ۔ چنانچہ یہی ہوا ۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا ۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی ۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے ۔ حق ثابت ہو گیا باطل دب گیا ۔ تمیز ہو گئی معاملہ صاف ہو گیا ۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے ۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں ۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے ۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے ۔ حقیقتاً رب العالمیں وہی ہے ۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہما السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا ۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

117۔ 1 لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٩] مقابلے میں فرعون کی شکست :۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدہا بن کر ان رسیوں اور لاٹھیوں کے مصنوعی سانپوں کو نگلنے لگا اور چونکہ یہ مصنوعی سانپ حقیقتاً سانپ نہیں تھے بلکہ حقیقتاً وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں محض لوگوں کی نظر بندی ہوئی تھی۔ اس لیے جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدہا نے نگلا وہ فی الحقیقت رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مطلب واضح ہوتا ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدہا پہنچتا تھا تو مصنوعی سانپ لوگوں کو پھر سے رسیاں اور لاٹھیاں ہی نظر آنے لگتے تھے اور وہ اژدہا صرف ان کی شعبدہ کاری کا خاتمہ کر رہا تھا جو جادوگر نظر بندی کے ذریعے لوگوں کو دکھلا رہے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے اپنی لاٹھی پھینکی تو اس نے ان کے جھوٹ موٹ بنائے ہوئے سانپوں کو نگلنا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جو حق تھا، ثابت ہوگیا اور جادو جو جھوٹ شعبدے اور مکاری پر مبنی تھا، بےکار اور باطل ہوگیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verse 117 said, وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴿١١٧﴾ |"And We revealed to Musa &Throw your staff.& Then, of a sudden it began to swallow all that they had concocted.|" We find it reported in history, when thousands of staffs and ropes were turned into snakes leaping all over the ground, Allah commanded Musa to drop down his staff on the ground. It turned into a great snake and instantly began to eat up the snakes of the sorcerers. The crowd stood bewildered and stunned at this sight. Within no time all the snakes were eaten up by the great snake of the prophet Musa (علیہ السلام) .

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ، یعنی ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو ، وہ زمین پر گرتے ہی سب سے بڑا سانپ بن کر ان تمام سانپوں کو نگلنے لگا جو جادوگروں نے جادو سے ظاہر کئے تھے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہزاروں جادوگروں کی ہزاروں لاٹھیاں اور رسیاں جب سانپ بن کر دوڑ نے لگیں تو سارا میدان سانپوں کو نگل کر ختم کردیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ۝ ٠ ۚ فَاِذَا ہِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۝ ١١٧ ۚ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ لقف لَقِفْتُ الشیء أَلْقَفُهُ ، وتَلَقَّفْتُهُ : تناولته بالحذق، سواء في ذلک تناوله بالفم أو الید . قال : فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ [ الأعراف/ 117] . ( ل ق ف ) لقفت الشئی الففۃ وتلقفتہ کے معنی کسی چیز کو ہوشیاری اور حذاقت سے لینا کے ہیں اور یہ منہ ہاتھ دونوں سے لینے پر بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ [ الأعراف/ 117] وہ فورا جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو ( ایک ایک کرکے ) نگلنے لگا ۔ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/ 22] ، فاستعملوا الإفک في ذلک لمّا اعتقدوا أنّ ذلک صرف من الحق إلى الباطل، فاستعمل ذلک في الکذب لما قلنا، وقال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ جاؤُ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ [ النور/ 11] ( ا ف ک ) الافک ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیردی گئی ہو ۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤلفکۃ کہا جاتا ہے اور آیات کریمہ : ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ } ( سورة الحاقة 9) اور وہ الٹنے والی بستیوں نے گناہ کے کام کئے تھے ۔ { وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى } ( سورة النجم 53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا ۔ ( میں موتفکات سے مراد وہ بستیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا ) { قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ } ( سورة التوبة 30) خدا ان کو ہلاک کرے ۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ۔ یعنی اعتقاد و حق باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ { يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ } ( سورة الذاریات 9) اس سے وہی پھرتا ہے جو ( خدا کی طرف سے ) پھیرا جائے ۔ { فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ } ( سورة الأَنعام 95) پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ { أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا } ( سورة الأَحقاف 22) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے معبودوں سے پھیردو ۔ میں افک کا استعمال ان کے اعتقاد کے مطابق ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے اعتقاد میں الہتہ کی عبادت ترک کرنے کو حق سے برعمشتگی سمجھتے تھے ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ } ( سورة النور 11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٧ (وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَج فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

90. It would be a mistake to believe that the rod of Moses swallowed up the rods and ropes cast by the other sorcerers and which had looked like serpents. The Qur'anic statement means that the rod of Moses swallowed up the falsehood faked by them. This clearly shows that wherever Moses' rod moved, it destroyed the magical effect which had caused the transformation of their ropes and rods. One blow of Moses' rod caused every other rod to revert to a rod, and every rope to revert to a rope. (For further elaboration see Tafhim al-Qur'an, Ta Ha 20, n. 42)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :90 یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے کہ عصا ان لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا جو جادوگروں نے پھینکی تھیں اور سانپ اور اژد ہے بنی نظر آرہی تھیں ۔ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ عصا نے سانپ بن کر ان کے اس طلسم فریب کو نگلنا شروع کر دیا جو انہوں نے تیار کیا تھا ۔ اس کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانپ جدھر جدھر گیا وہاں سے جادو کا وہ ا ثر کافور ہوتا چلا گیا جس کی بدولت لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح لہراتی نظر آتی تھیں ، اور اس کی ایک ہی گردش میں جادوگروں کی ہر لاٹھی ، لاٹھی اور ہر رسی ، رسی بن کر رہ گئی ۔ ( مزید تشریح کے لیےملاحظہ ہو طہٰ ، حاشیہ ٤۲ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:117) تلقف۔ وہ نگل جاتی ہے۔ وہ نگل جائے گی۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی وہ نکل گئی (باب سمع) لقف سے جس کے معنی پھرتی سے لے لینے اور جھٹ اتار لینے کے ہیں خواہ منہ میں نکلنے کی صورت میں ہو یا ہاتھ سے لے لینے کی شکل میں۔ یافکون ۔ مضارع جمع مذکر غائب افک سے (باب ضرب) جس کو وہ پلٹ رہے تھے۔ جس کو وہ جھوٹے طور پر بنا رہے تھے۔ انک جھوٹ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہوگے۔ باطل ہمیشہ پھول جاتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کردیتا ہے ، دلوں کو مرعوب کردیتا ہے اور اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ باطل غالب ہی رہے گا۔ یہ سیلاب کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ اور تمام چیزوں کو نیست و نابود کردے گا لیکن جونہی اس کا واسطہ ایک سنجیدہ ، پر عزم اور مضبوط سچائی سے ہوتا ہے تو اس سے غبارے کی طرح ہوا نکل جاتی ہے اور وہ بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، خارپشت کی طرح سکڑ جاتا ہے اور محض گھاس کے شعلے کی طرح ہوتا ہے جو ایک منٹ میں بجھ جاتا ہے۔ اب سچائی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس میں اس مفہوم کا پرتو موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ حق ایک عظیم اور بھاری وجود کا مالک ہے اور اس کی زد بڑے زور سے پڑتی ہے اور وہ مستقلاً ثابت ہوجاتا ہے اور حق کے سوا تمام دوسرے امور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں اور باطل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں۔ سچائی باطل اور اس کے پیروکاروں پر غالب آجاتی ہے اور نہایت پھلنے پھولنے اور آنکھوں کو چندھیانے کے بعد یہ باطل بڑی تیزی سے سکڑ جاتا ہے۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور فتح مند ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوئے۔ لیکن ابھی تک یہ سر پر ائز ختم نہیں ہوئی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

114: جادوگروں کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا لاجواب جادو تیار کر کے لائے ہیں کہ دنیا کے تمام جادوگر مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ ہاں اگر کوئی خدائی امر ہو تو ہم میں اس کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ “ روي ان السحرة قالوا قد عملنا سحرا لا یطیقه سحرة اھل الارض الا ان یکون امرا من السماء فانه لا طاقة لنا به ” (کبیر ج 4 ص 401) ۔ جب جادوگر اپنی سیاں اور لاٹھیاں ڈال چکے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے اپنی لاٹھی میدان میں پھینک دی اور گرتے ہی وہ ایک عظیم اژدہا کی شکل میں منقلب ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گئی۔ “ مَا یَافِکُوْنَ ” یعنی جو کچھ انہوں نے فریب اور جھوٹ بنایا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

117 اور اس وقت ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا عصا ڈال دے اور اپنی لاٹھی جس طرح پھینکا کرتا ہے پھینک دے لاٹھی کا پھینکنا تھا کہ وہ لاٹھی اس تمام کھیل اور سانگ اور جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا جو وہ بنا رہے تھے یعنی لاٹھی کا اژدہا بنا اور اس اژد ہے نے ان کی تمام فرضی مصنوعات کو نگل لیا۔