After making all these strategic statements he threatened the sorcerers, first, with an indefinite remark saying, |"Now you shall know (your end) |". Further specifying the threat, He said, لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿١٢٤﴾ |"I shall surely, cut your hands and legs from the opposite sides. Then I shall crucify you all together.|" By cutting from the opposite sides he meant the right hand and the left foot so that they are made completely disabled and invalid.
لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ ، یعنی میں تم سب کے ہاتھ پیر مختلف جانبوں کے کاٹ کر تم سب کو سولی پر چڑھادوں گا۔ مختلف جانبوں سے کاٹنے کا مطلب یہ ہے کہ دایاں ہاتھ اور بایاں پیر جس سے دونوں جانبیں زخمی اور بدہیئت اور بیکار ہوجائیں۔ فرعون نے اس بدحالی پر قابو پانے اور اپنے درباریوں اور عوم کو قابو میں رکھنے کی کافی تدبیر کرلی تھی اور اس کی ظالمانہ سزائیں پہلے سے مشہور اور لوگوں کو لرزہ براندام کردینے کے لئے کافی تھیں۔ لیکن اسلام و ایمان ایک ایسی زبردست قوت ہے کہ جب وہ کسی دل میں گھر کرلیتی ہے تو پھر انسان ساری دنیا اور اس کے وسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیا رہوں جاتا ہے۔ یہ جادوگر جو اب سے چند گھنٹے پہلے فرعون کو اپنا خدا مانتے اور اسی گمراہی کی لوگوں کو تلقین کرتے تھے، چند منٹ میں کلمہ اسلام پڑھتے ہی ان میں کیا چیز پیدا ہوگئی تھی کہ وہ فرعون ساری دھمکیوں کے جواب میں کہتے ہیں :