Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 158

سورة الأعراف

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

Say, [O Muhammad], "O mankind, indeed I am the Messenger of Allah to you all, [from Him] to whom belongs the dominion of the heavens and the earth. There is no deity except Him; He gives life and causes death." So believe in Allah and His Messenger, the unlettered prophet, who believes in Allah and His words, and follow him that you may be guided.

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف سے اس اللہ تعا لٰی کا بھیجا ہوا ہوں ، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالٰی پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالٰی پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Muhammad's Message is Universal Allah says to His Prophet and Messenger Muhammad, قُلْ ... Say, (O Muhammad), ... يَا أَيُّهَا النَّاسُ .. O mankind! this is directed to mankind red and black, and the Arabs and non-Arabs alike, .... إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ... I am sent to you all as the Messenger of Allah, This Ayah mentions the Prophet's honor and greatness, for he is the Final Prophet who was sent to all mankind (and the Jinns). Allah said, قُلِ اللَّهِ شَهِيدٌ بِيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـذَا الْقُرْءَانُ لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ Say, "Allah is Witness between you and I; this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach." (6:19) وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place. (11:17) and, وَقُلْ لِّلَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ وَالاٍّمِّيِّينَ ءَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ And say to those who were given the Scripture and to the illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves (to Allah in Islam)!" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message. (3:20) There are many other Ayat and more Hadiths than can be counted on this subject. It is also well-known in our religion that the Messenger of Allah was sent to all mankind (and the Jinns). Al-Bukhari recorded that Abu Ad-Darda' said, "Abu Bakr and Umar had an argument in which Abu Bakr made Umar angry. So Umar went away while angry and Abu Bakr followed him asking him to forgive him, but Umar refused. Umar shut his door closed in Abu Bakr's face and Abu Bakr went to the Messenger of Allah while we were with him. The Messenger of Allah said, أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَر This fellow of yours (Abu Bakr) has made someone angry! Umar became sorry for what he did, went to the Prophet and greeted him with the Salam and sat next to him, telling him what had happened. The Messenger of Allah became angry (at Umar), and realizing that, Abu Bakr said, `O Allah's Messenger! It was me who was unjust.' The Messenger of Allah said, هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي إِنِّي قُلْتُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقْت Will you leave my Companion (Abu Bakr) alone! I said, `O People! I am the Messenger of Allah to you all,' and you said, `You lie,' but Abu Bakr declared, `You said the truth."' Al-Bukhari recorded it. Imam Ahmad recorded that Ibn Abbas said that the Messenger of Allah said, أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلاَ أَقُولُهُ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الاَْحْمَرِ وَالاَْسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَايِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لاِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الاَْرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لاِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لِمَنْ لاَأ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْيًا I have been given five things which were not given to any Prophet before me, and I do not say it out of pride. I was sent to all mankind (their) black and white alike. Allah made me victorious by fright, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. The spoils of war are lawful for me, yet it was not lawful for anyone else before me. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform purification with. I have been given the Shafa'ah (right of intercession), and I saved it for my Ummah on the Day of Resurrection. Therefore, the Shafa'ah will reach those who associate none with Allah in worship. This Hadith's chain of narration is suitable, but the Two Sahihs did not record it. Allah's statement, ... الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْيِـي وَيُمِيتُ ... to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. None has the right to be worshipped but He. It is He Who gives life and causes death. describes Allah by the words of the Messenger that He Who has sent him is the Creator, Lord and King of all things and in His Hand is the control, life, death and the decision. Just as Allah said ... فَأمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الاُمِّيِّ ... So believe in Allah and His Messenger, the Prophet who can neither read nor write, Allah proclaims here that Muhammad is His Messenger and reiterates this fact by commanding that he be believed in and followed. Allah said, النَّبِيِّ الاُمِّيِّ (The Prophet who can neither read nor write) who you were promised and given the good news of in previous revealed books. Certainly, Muhammad was amply described in the previous books, including his description as being the unlettered Prophet. Allah's statement, ... الَّذِي يُوْمِنُ بِاللّهِ وَكَلِمَاتِهِ ... who believes in Allah and His Words, means, his actions conform with his words and he believes in what he was given from his Lord. ... وَاتَّبِعُوهُ ... And follow him, embrace his path and guidance, ... لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ so that you may be guided, (to the Straight Path).

النبی العالم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب عجم گوروں کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لئے صرف آپ ہی نبی ہیں ۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت ( قل اللہ شھید بینی وبینکم واو حی الی ھذا القران لا نذر کم بہ ومن بلغ ) یعنی اعلان کر دے کہ مجھ میں تم میں اللہ گواہ ہے اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لئے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے ( ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ ) یعنی مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ سے انکار کرے اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے اور آیت میں ہے ( وقل للذین اوتوا الکتاب ولا مبین ا اسلمتم فان اسلموافقد اھتدواوان تولوافانما علیک البلاغ ) یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہدو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کرلیں مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے ۔ اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بیشمار ہیں ۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اتفاق سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں کچھ چشمک ہو گئی ۔ حضرت صدیق نے حضرت فاروق کو ناراض کر دیا حضرت فاروق اسی حالت میں چلے گئے حضرت صدیق نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لئے بخشش جاہیں لیکن حضرت عمر راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لئے ۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی میں آئے اس وقت اور صحابہ بھی حضور کی مجلس میں موجود تھے آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا ۔ حضرت عمر حضرت صدیق کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی ۔ حضور ناراض ہوئے ۔ ابو بکر صدیق بار بار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ زیادہ ظلم تو مجھ سے سر زد ہوا ہے ۔ حضور نے فرمایا کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں؟ سنو جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا تو جھوٹا ہے لیکن اس ابو بکر نے کہا آپ سچے ہیں ۔ ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کیلئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کے لئے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ ( مسند امام احمد ) روایت ہے کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہوگئے کہ آپ کی چوکیداری کریں نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں وہیں وہ مرعوب ہو جاتے ہیں ۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آ جائے وہ تیمم کر لے اور نماز ادا کر لے مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لئے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا آپ دعا کیجئے مانگئے کیا مانگتے ہیں؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لئے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دے ۔ اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے ۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ میری اس امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں نہیں جا سکتا یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرا ذکر اس امت کے جس یہودی نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے وہ جہنمی ہے ۔ مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں پھر فرمایا ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لئے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے ۔ یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں مہی نے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت ، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے ادا کر لے ، غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں ۔ شفاعت کا دیا جانا ، تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے کے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے ۔ پھر فرماتا ہے کہ کہو مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے سب چیزوں کا خالق مالک ہے جس کے ہاتھ میں ملک ہے جو مارنے جلانے پر قادر ہے جس کا حکم چلتا ہے ۔ پس اے لوگو تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے ۔ انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں ۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں ۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں ۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ ۔ انہی کے طریقے پر چلو انہی کی فرمانبرداری کرو ، تم راہ راست پر آ جاؤ گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

158۔ 1 یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالمگیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو ! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری بنی نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذ ہب میں، نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے اس آیت میں بھی اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو النبی الأمی کہا گیا ہے۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانو بطور شاگرد نہیں کئے کسی سے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کریم پیش کیا، اس کے اعجاز و بلاغت کے سامنے دنیا بھر کے خوش بیان عالم فاضل عاجز آگئے اور آپ نے جو تعلیمات پیش کیں، ان کی صداقت و حقانیت کی ایک دنیا اعتراف کرتی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقع اللہ کے سچے رسول ہیں ورنہ ایک ان پڑھ نہ ایسا قرآن پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسی تعلیمات بیان کرسکتا ہے جو عدل و انصاف کا بہترین نمونہ اور انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے ناگزیر ہیں، انہیں اپنائے بغیر دنیا حقیقی امن سکون اور راحت و عافیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٩] آپ تا قیامت اور تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ آپ سابقہ انبیاء کی طرح نہ نسلی یا قومی پیغمبر تھے اور نہ علاقائی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ پوری دنیا کے انسان ہیں اور سارے کے سارے لوگ ہیں پھر آپ وقتی یا کسی مخصوص زمانہ کے بھی پیغمبر نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے پیغمبر ہیں اور آپ کی رسالت کا کام تاقیامت جاری رہے گا، کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے آنے والا نہیں اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ آپ نے اپنی زندگی بھر امکانی حد تک تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیا حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بڑی تاکید سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ جن لوگوں تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچ سکا، ان تک وہ پہنچا دیں لہذا اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا کام سر انجام دیں اور اس کام کے لیے جو ممکن ذرائع اختیار کیے جاسکتے ہوں وہ کیے جائیں۔ [١٦٠] نبی خود سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ہر نبی اور ہر رسول پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لائے پھر دوسرے لوگوں کو دعوت دے اور تمہارا یہ نبی امی بھی سب سے پہلے اس اللہ اور اس کے کلمات ہدایت و ارشاد پر ایمان لا چکا ہے جو زمین و آسمان کی سلطنت کا خالق ومالک اور خود تمہاری زندگی اور موت کا بھی مالک ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ کارساز۔ لہذا اگر ہدایت چاہتے ہو تو اس پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے جاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا۔۔ : یعنی میری رسالت تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ” جَمِيْعَۨا “ کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں صاف ظاہر ہیں اور مجھے ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنے والا وہ ہے جو آسمان و زمین کا بادشاہ، اکیلا عبادت کا حق دار اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اب مجھ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنا انجام سوچ لو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تاقیامت تمام قوموں کے لیے رسول ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے۔ دیکھیے سورة سبا (٢٨) ، فرقان ( ١) اور احزاب (٤٠) ۔ ” جہاں تک پہنچے “ کے الفاظ کے ساتھ رسالت عام ہونے کی تصریح کے لیے دیکھیے سورة انعام (١٩) عرب اور اہل کتاب کی صراحت کے ساتھ دیکھیے سورة آل عمران (٢٠) اور دوسری آیات۔ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ ۔۔ : پچھلی آیت میں اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصف نبی امی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بیخبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : ” آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ “ [ العنکبوت : ٤٨ ] اور فرمایا : ” یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔ “ [ ھود : ٤٩ ] اور فرمایا : ” آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔ “ [ الشوریٰ : ٥٢ ] بلکہ فرمایا : ” آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔ “ [ القصص : ٨٦ ] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ : اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورة کہف (١٠٩) اور لقمان (٢٧) میں۔ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ : معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورة نجم (٣، ٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This verse speaks of one of the basic aspects of the prophethood which is among the fundamental tenets of Islam. That is, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been sent as His Messenger to the entire mankind and to the jinn (genies) coming into being upto the day of judgment. This verse has commanded the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to make general declaration that he has been sent to all the people of the world, and that his prophethood was not limited to a particular people and place as was the case with the early prophets who came to a particular people and place and for a limited period of time. He is the last of all Prophets (علیہم السلام) The fact that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been sent down at the end of all prophets is an obvious reason behind the Islamic belief of Finality of prophethood. His being the last of all prophets and coming down for the guidance of all people of all future times leaves no room for any other Prophet. The same fact provides with an explanation to a characteristic quality of the Muslim Ummah. According to a Tradition of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، there shall always be a group among the Muslims who will keep defying the anti-Islamic forces and putting resistance in the way of sacrilegious thought and practice. It will also correct false interpretations of the Qur&an and the Sunnah. This group shall be favoured by Allah with His special help and thereby will, ulti¬mately, win over the opposite forces. It is because these people are considered to be the real inheritors of the prophetic mission, faithfully discharging their duty after the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Imam al-Razi, under the comments of the Qur&anic commandment كُونُوا مَعَ الصَّادِقِي (Be in the company of the truthful) has remarked that this phrase has provided an assurance that a group of the truthful shall always be available for people, otherwise the command of seeking their company made no sense. Imam Razi has inferred the principle of consensus (اِجمَاع) from this phrase. That is, the presence of the truthful people was enough to preclude the agreement of the Muslim Ummah on error. Ibn Kathir has inferred from this verse it has provided a proof that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the seal of and for prophets (علیہم السلام) because his message was for all the people of the world the ages to come. According to some authentic Traditions, the Prophet &Isa (علیہ السلام) will also follow the Law of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after his descent from heavens in the last age. Apart from this verse there are many other verses which speak in unmistakable terms of the Finality of Prophethood. For example the Holy Qur&an said: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ لِأُنذِرَ‌كُم بِهِ وَمَن بَلَغَ |"And this Qur&an has been revealed to me that I may warn you thereby, and whomsoever it may reach.|" (6:19) This, evidently, enjoins the following of the Holy Qur&an upon all the people coming after the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and to acquire knowledge of the Qur&an. Some distinctions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Ibn Kathir has cited the Musnad of lmam Ahmad reporting by authentic narrators that at the occasion of the battle of Tabuk, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was engaged in the late night prayer (Tahajjud). The companions gathered around him in a circle to save him from any possible attack by the enemy. After completing the prayer the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"This night I have been awarded with five distinctions, not awarded to any prophet before. Firstly, my prophethood has been extended to all mankind while the message of the prophets prior to me was limited to their particular. Secondly, my presence creates a feeling of dread in the hearts of my enemy which overtakes him from a distance of one month&s travel. Thirdly, the spoils taken from the enemy have been made permissible for my people, while it was prohibited for the early people. Fourthly, Allah has made the whole earth a place for our prayers like a mosque, and made it a purifier (in tayammum) for my people, while the prayers of the early people was limited to their churches or synagogues. They were not permitted to pray at home or out in the land. Besides, in the absence of water my people allowed to make use of soil, in place of water for tayammum (a substitute of ablution). The early people were not given this concession.|" Then, he said, emphatically that the fifth distinction was, above all, the most promising and helpful. He explained, |"Every prophet was asked by Allah to make one particular supplication which was to be essentially acceded to, and every prophet made that invocation for their particular aim. Allah asked me too to make such invocation. I preferred to reserve my invocation until the Day of Judgment which will be of great use to you and to those who follow and bear witness that there is no god but Allah.|" Another Tradition reported by Imam Ahmad on the authority of the Companion Abu Musa al-Ash&ari (رض) has contained that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Any one hearing the news of my appearance, be he a Muslim, Christian or Jew must believe in me, otherwise he will be placed in Hell.|" Sahih al-Bukhari has reported the following incident with regard to this verse: Sayyidna Abu Bakr and Sayyidna ` Umar (رض) once had severe disagreement on a matter. Sayyidna ` Umar (رض) left the place to express his dissent. Sayyidna Abu Bakr (رض) followed him in order to bring him round. Sayyidna ` Umar (رض) being angry with him entered his house and locked the door upon him. Sayyidna Abu Bakr (رض) having no choice went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and related the whole story to him. Later, Sayyidna ` Umar (رض) had a feeling of regret for misbehaving Sayyidna Abu Bakr (رض) ، he too went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him of the incident. The Companion Abu al-Darda& (رض) عنہ has reported that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was annoyed at it. Seeing that Sayyidna ` Umar (رض) was going to be admonished for it, Sayyidna Abu Bakr (رض) said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، |"My fault was greater|". At this point the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Can you people not leave one of my companions alone and save him from the annoyance on your part? Do you people not know when I declared by the will of Allah يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَ‌سُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا |"0 people, I am a messenger of Allah sent to you all,|" you all belied me? It was Abu Bakr alone who testified to my Prophethood.|" In short, this verse is a clear evidence proving that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been sent to the whole mankind. His message is for all generations and for all times to come and for all places. No one can achieve salvation without believing in him, even if he is faithfully and devotedly practicing some other faith or book. The next sentence of the verse reminds people that he has been sent from the One to Whom the Kingdom of the heavens and the earth belongs and Who gives life to every living creature and brings death to it. That is, He alone is the Lord of the Universe. The last sentence of the verse said: آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ |"So, believe in Allah and His Messenger, the Ummi (unlettered) prophet who believes in Allah and in his words, and follow him so that you may get the right path.|" After establishing the fact that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was sent for all the people of the world and for all times to come, and that there is no other choice for anyone but to follow his law - the Islam, the verse enjoins the belief in Allah and in His Messenger, who is Ummi, the unlettered. He, himself believes in Allah and in His words. The people should, therefore, follow him to keep themselves on the right path. The &words& کلمات refer to the word of Allah revealed to his prophets like the Torah, Evangel (the book revealed to the Prophet &Isa (علیہ السلام) (Jesus) ) and the Qur&an. It may be noted that the command of believing in him is followed by another command of following him. This has indicated that sheer belief or making the verbal utterances of belief, is not enough for guidance or salvation. Practicing Islamic Shari&ah is essen¬tially required for one&s salvation in the Hereafter. The great saint and spiritual leader Sheikh Junaid of Baghdad has remarked that all the paths leading to Allah are closed except the path specifically defined by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اے (دنیا جہان کے) لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر) ہوں جس کی بادشاہت ہے تمام آسمانوں اور زمین میں، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے، اس لئے اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر (بھی ایمان لاؤ) جو کہ (خود بھی) اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی جب باوجود اس رتبہ عظیمہ کے ان کو اللہ اور سب رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے سے عار نہیں تو تم کو اللہ و رسول پر ایمان لانے سے کیوں انکار ہے) اور ان (نبی) کا اتباع کرو تاکہ تم راہ (راست) پر آجاؤ اور (اگرچہ بعض لوگوں نے آپ کی مخالفت کی لیکن) قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق (یعنی اسلام) کے موافق (لوگوں کو) ہدایت بھی کرتے ہیں اور اسی کے موافق (اپنے اور غیروں کے معاملات میں) انصاف بھی کرتے ہیں (مراد اس سے عبداللہ بن سلام وغیرہ ہیں) معارف ومسائل اس آیت میں اسلام کے اصولی مسائل میں سے مسئلہ رسالت کے ایک اہم پہلو کا بیان ہے کہ ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت دنیا کے تمام جن و بشر کے لئے اور ان میں بھی قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عام ہے۔ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اعلان عام کردینے کا حکم ہے کہ آپ لوگوں کو بتلا دیں کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، میری بعثت و رسالت پچلھے انبیاء کی طرح کسی مخصوص قوم یا مخصوص خطہ زمین یا خاص وقت کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے دنیا کے ہر خطہ ہر ملک ہر آبادی کے لئے اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے قیامت تک کے واسطے عام ہے، اور انسانوں کے علاوہ جنات بھی اس میں شریک ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت تمام عالم کیلئے تا قیامت ہے، اسی لئے آپ پر نبوت ختم ہے یہی اصلی راز ہے مسئلہ ختم نبوت کا، کیونکہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت قیامت تک آنے والی سب نسلوں کے لئے عام ہے تو پھر کسی دوسرے رسول اور نبی کے مبعوث ہونے کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش، اور یہی راز ہے امت محمدیہ کی اس خصوصیت کا کہ اس میں ارشاد نبوی کے مطابق ہمیشہ ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو دین میں پیدا ہونے والے سارے فتنوں کا مقابلہ اور دینی معاملات میں پیدا ہونے والے سارے رخنوں کا انسداد کرتی رہے گی، کتاب و سنت کی تعبیر و تفسیر میں جو غلطیاں رائج ہوں گی یہ جماعت ان کو بھی دور کرے گی اور حق تعالیٰ کی خاص نصرت و امداد اس جماعت کو حاصل ہوگی جس کے سبب یہ سب پر غالب آکر رہے گی، کیونکہ درحقیقت یہ جماعت ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرائض رسالت ادا کرنے میں آپ کی قائم مقام ہوگی۔ امام رازی نے آیت كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ کے تحت میں بتلایا ہے کہ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اس امت میں صادقین کی ایک جماعت ضرور باقی رہے گی ورنہ دنیا کو صادقین کی معیت وصحبت کا حکم ہی نہ ہوتا اور اسی سے امام رازی نے ہر دور میں اجماع امت کا حجت شرعیہ ہونا ثابت کیا ہے، کیونکہ صادقین کی جماعت کے موجود ہوتے ہوئے کسی غلط بات یا گمراہی پر سب کا اجماع و اتفاق نہیں ہوسکتا۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاتم النبیین اور آخری پیغمبر ہونے کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جب آپ کی بعثت و رسالت قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے اور پورے عالم کے لئے عام ہوئی تو اب کسی دوسرے جدید نبی و رسول کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اسی لئے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو وہ بھی اپنی جگہ اپنی نبوت پر برقرار ہونے کے باوجود شریعت محمدی پر عمل کریں گے، جیسا کہ صحیح روایات حدیث سے ثابت ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت و رسالت ساری دنیا اور قیامت تک کے لئے عام ہونے پر یہ آیت بھی بہت واضح ثبوت ہے، اس کے علاوہ قرآن کریم کی متعدد آیات اس پر شاہد ہیں۔ مثلا ارشاد ہے (آیت) وَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۔ یعنی یہ قرآن مجھ پر بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور ان لوگوں کو بھی جن کو میرے بعد یہ قرآن پہنچے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چند اہم خصوصیات : اور ابن کیثر نے بحوالہ مسند احمد سند قوی کے ساتھ روایت کیا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تہجد میں مشغول تھے، صحابہ کرام کو خوف ہوا کہ کوئی دشمن حملہ نہ کردے اس لئے آپ کے گرد جمع ہوگئے، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ آج کی رات مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی رسول و نبی کو نہیں ملیں، اول یہ کہ میری رسالت و نبوت کو ساری دنیا کی کل اقوام کے لئے عام کیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے جتنے انبیاء آئے ان کی دعوت و بعثت صرف اپنی اپنی قوم کے ساتھ مخصوص ہوئی تھی، دوسری بات یہ ہے کہ مجھے میرے دشمن کے مقابلہ میں ایسا رعب عطا کیا گیا ہے کہ وہ مجھ سے ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تو میرا رعب اس پر چھا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ میرے لئے کفار سے حاصل شدہ مال غنیمت حلال کردیا گیا حالانکہ پچھلی امتوں کے لئے حلال نہ تھا بلکہ اس کا استعمال کرنا گناہ عظیم سمجھا جاتا تھا، ان کے مال غنیمت کا صرف یہ مصرف تھا کہ آسمان سے ایک بجلی آئے اور اس کو جلا کر خاک کردے، چوتھے یہ کہ میرے لئے تمام زمین کو مسجد اور پاک کرنے کا ذریعہ بنادیا کہ ہماری نماز زمین پر ہر جگہ ہوجاتی ہے مسجد کے ساتھ مخصوص نہیں بخلاف پہلی امتوں کے کہ ان کی عبادت صرف ان کے عبادت خانوں کے ساتھ مخصوص تھی اپنے گھروں میں یا جنگل وغیرہ میں ان کی نماز و عبادت نہ ہوتی تھی، نیز یہ کہ جب پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو، خواہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے یا کسی بیماری کے سبب تو وضو کے بجائے مٹی سے تیمم کرنا اس امت کے لئے طہارت و وضو کے قائم مقام ہوجاتا ہے، پچھلی امتوں کے لئے یہ آسانی نہ تھی، پھر فرمایا : اور پانچویں چیز کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں وہ خود ہی اپنی نظیر ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کو ایک دعا کی قبولیت ایسی عطا فرمائی ہے کہ اس کے خلاف نہیں ہوسکتا اور ہر رسول و نبی نے اپنی اپنی دعا کو اپنے خاص مقصدوں کے لئے استعمال کرلیا وہ مقصد حاصل ہوگئے مجھ سے یہی کہا گیا کہ آپ کوئی دعا کریں، میں نے اپنی دعا کو آخرت کے لئے محفوظ کرادیا، وہ دعا تمہارے اور قیامت تک جو شخص لآ الہ الا اللہ کی شہادت دینے والا ہوگا اس کے کام آئے گی۔ نیز امام احمد کی ایک روایت حضرت ابو موسیٰ اشعری سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص میرا مبعوث ہونا سنے خواہ وہ میری امت میں ہو یا یہودی نصرانی ہو اگر وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے گا تو جہنم میں جائے گا۔ اور صحیح بخاری میں اسی آیت کے تحت میں بروایت ابو درداء نقل کیا ہے کہ ابوبکر و عمر (رض) کے درمیان کسی بات میں اختلاف ہوا، حضرت عمر (رض) ناراض ہو کر چلے گئے، یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر (رض) بھی ان کو منانے کے لئے چلے، مگر حضرت عمر نے نہ مانا، یہاں تک کہ اپنے گھر میں پہنچ کر دروازہ بند کرلیا، مجبورا صدیق اکبر واپس ہوئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے، ادھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمر کو اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی اور یہ بھی گھر سے نکل کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنا واقعہ عرض کیا، ابو الدرداء کا بیان ہے کہ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوگئے، جب صدیق اکبر نے دیکھا کہ حضرت عمر پر عتاب ہونے لگا تو عرض کیا یا رسول اللہ زیادہ قصور میرا ہی تھا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ میرے ایک ساتھی کو اپنی ایذاؤں سے چھوڑ دو ، کیا تم نہیں جانتے کہ جب میں نے باذن خداوندی یہ کہا کہ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا تو تم سب نے مجھے جھٹلایا صرف ابوبکر ہی تھے جنہوں نے پہلی بار میری تصدیق کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے اور ہر ملک ہر خطہ کے باشندوں کے لئے اور ہر قوم و برادری کے لئے رسول عام ہونا ثابت ہوا اور یہ کہ آپ کی بعثت کے بعد جو شخص آپ پر ایمان نہیں لایا وہ اگرچہ کسی سابق شریعت و کتاب کا یا کسی اور مذہب و ملت کا پورا پورا اتباع تقوی و احتیاط کے ساتھ بھی کررہا ہو وہ ہرگز نجات نہیں پائے گا۔ آخر آیت میں بتلایا کہ میں اس ذات پاک کی طرف سے رسول ہوں جس کی ملک میں ہیں تمام آسمان اور زمین، وہ ہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا : (آیت) فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤ ْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام اقوام عالم کے لئے رسول و نبی ہیں، ان کے اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہیں، تو ضروری ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو خود بھی اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان لاتے ہیں، اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم صحیح راستہ پر قائم رہو۔ اللہ کے کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتابیں تورات، انجیل، قرآن وغیرہ ہیں، ایمان کے حکم کے بعد پھر اتباع کا مزید حکم دے کر اس کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ محض ایمان لانا یا زبانی تصدیق کرنا آپ کی شریعت کا اتباع کرنے کے بغیر ہدایت کے لئے کافی نہیں۔ حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے کل راستے بند ہیں بجز اس راستہ کے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۝ ٠ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَكَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝ ١٥٨ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی مینا مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ کلام الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، فَالْكَلَامُ يقع علی الألفاظ المنظومة، وعلی المعاني التي تحتها مجموعة، وعند النحويين يقع علی الجزء منه، اسما کان، أو فعلا، أو أداة . وعند کثير من المتکلّمين لا يقع إلّا علی الجملة المرکّبة المفیدة، وهو أخصّ من القول، فإن القول يقع عندهم علی المفردات، والکَلمةُ تقع عندهم علی كلّ واحد من الأنواع الثّلاثة، وقد قيل بخلاف ذلک «4» . قال تعالی: كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلام کا اطلاق منظم ومرتب الفاظ اور ان کے معانی دونوں کے مجموعہ پر ہوتا ہے ۔ اور اہل نحو کے نزدیک کلام کے ہر جز پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ خواہ وہ اسم ہو یا فعل ہو یا حرف مگر اکثر متکلمین کے نزدیک صرف جملہ مرکبہ ومفیدہ کو کلام کہاجاتا ہے ۔ اور یہ قول سے اخص ہے کیونکہ قول لفظ ان کے نزدیک صرف مفرد الفاظ پر بولاجاتا ہے اور کلمۃ کا اطلاق انواع ثلاثہ یعنی اسم فعل اور حرف تینوں میں سے ہر ایک پر ہوتا ہے ۔ اور بعض نے اس کے برعکس کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] یہ بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٨) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ میں تمام لوگوں کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو مرنے کے بعد زندہ کرتا اور دنیا میں موت دیتا ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور کلمہ پڑھا جائے تو حضرت مراد ہوجائیں یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن فرمانے سے وہ پیدا ہوگئے اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی پیروی کرو تاکہ تمہیں گمراہی سے ایمان کی طرف ہدایت نصیب ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب اگلی آیت کا مطالعہ کرنے سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ایک تو گزشتہ آیات کے مضمون کا اس آیت کے ساتھ ربط کا معاملہ ہے۔ اس ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد انباء الرسل کے اس سلسلے کو نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک لانے میں بہت تفصیل درکار تھی۔ اس تفصیل کو چھوڑ کر اب براہ راست آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بتادیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمام بنی نوع انسان کی طرف۔ چناچہ پچھلی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر اور تورات و انجیل میں نبی آخرالزماں کے بارے میں بشارتوں کے حوالے سے اس آیت کا سیاق وسباق گویا یوں ہوگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب آپ علی الاعلان کہہ دیجیے کہ میں ہی وہ رسول ہوں جس کا ذکر تھا تورات اور انجیل میں ‘ مجھ پر ہی ایمان لانے کی تاکید ہوئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ‘ میری ہی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے لیے وعدہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت کا ‘ اور اب میری ہی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کرنے والوں کو ضمانت ملے گی ابدی و اخروی فلاح کی ! دوسری اہم بات یہاں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اس سورة میں ہم نے اب تک جتنے رسولوں کا تذکرہ پڑھا ہے ‘ ان کا خطاب یَا قَوْمِ (اے میری قوم کے لوگو ! ) کے الفاظ سے شروع ہوتا تھا ‘ مگر محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ امتیازی شان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مخصوص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت آفاقی اور عالمی سطح کی رسالت ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری بنی نوع انسانی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت ٢١ میں عبادتِ رب کا حکم جس آفاقی انداز میں دیا گیا ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی جھلک نظر آتی ہے : (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) ۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں : آیت ١٥٨ (قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا) یہ بات مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں قرآن حکیم کے پانچ مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔ ان میں سورة سبا کی آیت ٢٨ سب سے نمایاں ہے : (وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا) ہم نے نہیں بھیجا ہے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ کو مگر پوری نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر۔ (فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ) ۔ یہ گویا اعلان عام ہے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کہ میری بعثت اس وعدے کے مطابق ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد کی یہ آیات گویا اس خطاب کی تمہید ہے جو یہود مدینہ سے ہونے والا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت ہجرت سے قبل نازل ہوئی تھی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہجرت کا حکم آنے کو تھا ‘ جس کے بعد دعوت کے سلسلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدینہ کے یہودی قبائل سے براہ راست سابقہ پیش آنے والا تھا۔ مکی قرآن میں ابھی تک یہود سے براہ راست خطاب نہیں ہوا تھا ‘ ابھی تک یا تو اہل مکہ مخاطب تھے یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ یا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے اہل ایمان۔ لیکن اب انداز بیان میں جو تبدیلی آرہی ہے اس کا اصل محل ہجرت کے بعد کا ماحول تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :116 اصل سلسلہ کلام بنی اسرائیل سے متعلق چل رہا تھا ۔ بیچ میں موقع کی مناسبت سے رسالت محمدی پر ایمان لانے کی دعوت بطور جملہ معترضہ آگئی ۔ اب پھر تقریر کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو پچھلے کئی رکوعوں سے بیان ہو رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

77: چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے وقت ان کو یہ بتادیا گیا تھا کہ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ان کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہوگا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے جملۂ معترضہ کے طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اللہ پاک نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے صاف صاف کہہ دو کہ میں تم سب لوگوں کی طرف کیا عجم اور کیا عرب مغرب سے مشق تک جنوب سے شمال تک سارے جہان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ پاک نے پانچ چیزیں مجھ کو دیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور یہ بات میں کچھ فخر کی راہ سے نہیں کہتا ہوں میں سارے لوگوں کی طرف کیا لال کیا کالے سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور میں رعب کے ساتھ ایک مہینہ کی راہ کے فاصلہ سے مدد تک گیا ہوں مطلب یہ ہے کہ جہاد میں فقط میرے رعب سے ملک یوں فتح ہوجاتے ہیں کہ میں ایک مہینہ کی راہ پر ہوتا ہوں اور میرے رعب سے لوگ ڈر جاتے ہیں مال غنیمت میرے لئے اللہ نے حلال کردیا مجھ سے پہلے کبھی غنیمت حلال نہیں تھی لوگ جلا دیا کرتے تھے میرے لئے تمام روئے زمین مسجد کا حکم رکھتی ہے جہاں نماز کا وقت آجاتا ہے اگر پانی نہیں میسر ہوا تیمم کر کے نماز ادا کرلی اور مجھے شفاعت دی گئی ہے جو میں نے اپنی امت کے واسطے رکھ جوڑی ہے میری امت میں سے جو شرک نہ کرے گا اس کی میں قیامت کے دن شفاعت کروں گا۔ اسی مضمون کی حدیث امام احمد کی مسند میں بھی ہے جس کی سند اچھی ہے اور صحیح بخاری ومسلم میں بھی جابر (رض) بن عبداللہ سے ایسی ہی ایک حدیث ہے اس کے بعد اللہ پاک نے زمین و آسمان کا اپنا خالق ہونا بیان فرمایا اور فرمایا کہ میں جس کو چاہتا ہوں تو زندہ کرتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں مارتا ہوں اس میں اپنی وحدانیت ثابت کی ہے پھر لوگوں کو حکم دیا کہ ان نبی امی پر ایمان لاکر ان کی بتلائی ہوئی راہ پر چلو نبی امی آپ کو اس لئے فرمایا کہ اگلی کتابوں میں آپ کا ذکر اسی نام سے تھا اسی واسطے فرمایا کہ وہی نبی امی ہیں جن کی بشارت تم کو اگلی کتابوں میں دی گئی تھی اگر ان کی راہ پر چلو گے تو ہدایت پاؤ گے آیت کی تفسیر وہی حدیں قرار پاسکتی ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا کیونکہ آیت اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت عام خلق اللہ کے حق میں ہے اور اس آخری زمانہ میں ہدایت اسی آخری شریعت میں آنحضرت ہے اسی واسطے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث جو ایک جاہ گذر چکی ہے اس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص میرا حال سن کر پھر میری نبوت تسلیم نہ کرے گا اس کی نجات مشکل ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی میری رسالت عالمگیر ہے اور دائمی بھی، صحیح بخاری میں ہے کہ کہ حضرت ابوبکر (رض) سب سے پہلے اس پر ایمان لائے اور حدیث میں ہے، بعثت الی الناس کا فتہ کہ میں ج سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں یہاں یا یھا الناس سے خطاب اور جمیعا سے تاکید صراحت کے ساتھ اس پر دال ہیں۔ ابن کثیر)3 یعنی قرآن پاک یا اس کی نازل کردہ تمام کتابوں پر (روح المعانی)4 آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی یہ ہے کہ زندگی، انفراد دی ہو یا اجتماعی، کے ہر گوشہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے اس میں اشارہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کے علاوہ ہدایت کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ خلاف پمیر کسے رہ گزید کہ ہر کز بمنزل نخواہد رسید نیز دیکھئے، ( سورة النجم آیت 3 ۔ 4)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔ اسرار و معارف : جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ انہوں نے ہدایت قبول کرلی ہوتی۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ اب سوچو کہ تم نے اللہ کے فرستادہ نبیوں اور رسولوں کو کی اجواب دیا تھا لیکن عذاب ان کی یادداشتیں تک کھو دے گا آپس میں بھی ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ نہ سکیں گے ہاں مگر جو اب توبہ کرلے ۔ توبہ کیا ہے : اور توبہ یہ ہے کہ عقائد درست کرے اور عقائد کے مطابق نیک اعمال بجا لائے سو ایسے لوگوں کے کامیاب ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ تیرا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور اپنی مخلوق سے جسے چاہے پسند کرلے یہ پسند و ناپسند ان کے اختیار میں نہیں بلکہ ان کے مشرکانہ عقائد سے اللہ کریم بہت بلند ہے اور اس نے فیصلہ کردیا کہ جس کے دل میں جتنی انابت اور جس قدر خلوص ہوگا اللہ اسے اتنا پسند فرمائے گا۔ فضیلت کا معیار : علما کے نذدیک معیار فضیلت دو چیزیں ہیں ایک اختیاری اور ایک غیر اختیاری۔ غیر اختیاری یہ ہے کہ زمانوں پہ ایک خاص زمانے کو یا زمین پر ایک خاص جگہ کو جیسے بیت اللہ شریف یا دنوں پر جمعہ کے روز کو رمضان کو مہینوں پر یا لیلۃ القدر کو راتوں پر اور دوسری اختیاری جیسے انبیاء کے علاوہ انسانوں کو ان کے خلوص اور کردار پر یا جس جگہ نیک کام کے لیے جائیں ان کے باعث اس جگہ کو دوسرے مقامات پر ایسے ہی عالم کو پھر تابعی اور پھر صحابہ کو اور ان میں بااتفاق علماء حق سب میں خلفائے راشدین کو اور ان سب پر ابوبکر صدیق (رض) کو پھر حضرت عمر (رض) حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) کو۔ یہخیال کرو کہ اگر تم لوگوں پہ ہمیشہ کے لیے رات ہی طاری کردی جاتی تو کتنی نعمتوں سے تمہاری حیات محروم ہوجاتی۔ بھلا کسی میں ہمت ہے کہ رب جلیل کے علاوہ تمہیں روشنی مہیا کرتا اور دن پیدا کردیتا پھر تمہیں کیا ایسی باتیں سنائی ہی نہیں دیتیں اور اگر اللہ ہمیشہ کے لیے دن کردیتے سورج کبھی غروب ہی نہ ہوتا قیامت تک دن ہی دن چلا جاتا تو کوئی ایسا معبود اللہ کے بغیر تھا جو تمہیں رات کے آرام مہیا کرتا اور رات کا سکون واپس لا دیتا۔ کیا یہ حقائق تمہاری نظر میں نہیں آتے ۔ یہ تو اس کا کرم ہے کہ کاروبار حیات کے لیے دن بخشا اور سکون و آرام کے لیے رات عطا فرما دی اور اتنے انعامات اس لیے بخشے کہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ رسومات کو دین سمجھا جائے تو آسمانی آفات کے آنے کا باعث بنتا ہے : محرومی تو اپنی جگہ دنیا میں بھی ان پر آسمانی بلائیں ٹوٹ پڑیں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ آپ کا اتباع چھوڑ کر اگر رسومات اور بدعات کو باعث ثوابت جان کر ان پر عمل کیا جائے تو عذابوں کا نزول ہوتا ہے جیسے فصلوں کی تباہی قحط سالی مختلف امراض زلزلے وغیرہ موجودہ دنیا میں سائنس کی بےپناہ ترقی اور بچاؤ کے جدید انتظامات کے باوجود طرح طرح کے عذاب بیماری جنگ اور آفات سماوی کی صورت میں دنیا پہ مسلط ہیں۔ آج بھی اگر کوئی پناہ کا طالب ہو تو اتباع رسالت کا دروازہ کھلا ہے قوم اختیار کرے تو قوم فلاح پائے گی کوئی فرد اپنا لے تو وہ فرد کامیاب رہے گا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی باوجود اس رتبہ عظیمہ کے ان کو اللہ پر اور سب رسل وکتب پر ایمان سے عار نہیں تو تم کو اللہ و رسول پر ایمان لانے سے کیوں انکار ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصاریٰ کو ایمان کی دعوت کے ساتھ بنی نوع انسان کو ایمان کی دعوت اور قرآن مجید میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر گرامی آپ کی زبان اطہر سے نبوت کا اعلان۔ قرآن مجید کے مختلف مقامات میں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ موجود ہے لیکن اس مقام پر آپ کی زبان اطہر سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ اے رسول ! آپ از خود اعلان کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ سب سے مراد ہر علاقے اور ہر زمانے کے لوگ ہیں۔ امام ابن کثیر (رض) نے اس آیت سے آپ کی ختم نبوت کا استدلال کیا ہے۔ کیونکہ آپ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں لہٰذا آپ کے بعد اب کسی نبی اور رسول کی گنجائش نہیں۔ یہاں آپ کی عالمگیر نبوت کا یہ بھی ثبوت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بلا شرکت غیرے مالک اور معبود ہے اسی طرح کسی شراکت کے بغیر آپ بھی قیامت تک کے لیے بنی نوع انسان کے لیے رسول ہیں۔ ” الٰہ “ کا معنی ہے معبود، خالق، مالک، رازق اور حاجت روا مشکل کشا۔ دلائل کے طور پر سورة النمل آیت ٦٠ تا ٦٤ کی تلاوت کیجیے۔ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق ومالک اور معبود نہیں تو پھر اسی کی ذات کبریاء پر کامل اور اکمل ایمان لانا چاہیے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں اکیلا ہے اسی طرح حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نبوت و رسالت میں اکیلے ہیں۔ لہٰذا کلمہ کی تکمیل اور توحید کے تقاضے تب ہی پورے ہوسکتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاتم المرسلین تسلیم کرکے ان پر ایمان لایا جائے اور آپ کی رسالت کا مرکزی اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ جو روشنی آپ پر نازل ہوئی وہ قرآن مجید کی شکل میں ہو یا حدیث کی صورت میں اس کی اتباع کی جائے۔ اتباع کرنے والا ہی ہدایت یافتہ ہوگا۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللَّہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللَّہِ شَیْءًا)[ مسند احمد ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ ١۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ ٢۔ میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے۔ ٣۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ ٤۔ میری رعب سے مدد فرمائی گئی ہے کیونکہ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ ٥۔ مجھے قیامت کے دن کہا جائے گا مانگیں عطا کیا جائے گا اور میری امت کے حق میں میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ ) [ رواہ مسلم : کتاب المساجد، و مواضع الصلاۃ ] دوسرے موقعے پر حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ نے یوں فرمایا مجھے انبیاء پر چھ فضیلتیں عنایت کی گئی ہیں۔ ١۔ مجھے جوامع الکلم کی صلاحیت عطا کی گئی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی رعب اور دبدبہ سے میری مدد فرمائی ہے۔ ٣۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا۔ ٤۔ میرے لیے ساری زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا۔ ٥۔ مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا اور مجھ پر سلسلۂ نبوت ختم کردیا گیا۔ (عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللَّہُ بِہِ الإِسْلاَمَ وَذُلاًّ یُذِلُّ اللَّہُ بِہِ الْکُفْرَوَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ یَقُولُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِراً الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ )[ مسند احمد ] ” حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں جہاں رات دن کا سلسلہ چلتا ہے کوئی کچاپکامکان ایسا نہیں ہوگا جس میں یہ دین داخل نہ ہو عزت دار کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کو ذلت کے ساتھ اللہ تعالیٰ عزت والے کو اسلام کی بنیاد پر عزت سے نوازے گا اور کافر کو اس کی وجہ سے ذلیل کرے گا۔ حضرت تمیم داری کہا کرتے تھے میرے گھر میں جو عزت و بھلائی ہے وہ اسلام کی وجہ سے ہے اور کافر کو اسلام نہ لانے کی وجہ سے ذلت، کمتری اور جزیہ سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔ “ مسائل ١۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول بنائے گئے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ، ہمیشہ قائم ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ٣۔ قرآن و سنت کی اتباع کرنے والا ہی ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف کی ایک جھلک : ١۔ آپ کے اوصاف تورات اور انجیل میں موجود ہیں۔ (الاعراف : ١٥٧) ٢۔ قرآن پڑھ کر سنانا، کتاب و حکمت کی تعلیم دینا، لوگوں کا تزکیۂ نفس کرنا۔ (البقرۃ : ١٢٩، الجمعۃ : ٢) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلق عظیم کے مالک ہیں۔ (القلم : ٤) ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشیر اور نذیر ہیں۔ (الفتح : ٨) ٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہترین نمونہ ہیں۔ (الاحزاب : ٢١) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے بوجھ اتارنے والے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٧) ٨۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ہمدرد اور خیر خواہ بنائے گئے۔ (التوبۃ : ١٢٨) ٩۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبّیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠) ١٠۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف بلانے والے اور آپ کو روشن چراغ بنایا گیا ہے۔ (الاحزاب : ٤٦) ١١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری دنیا کے لیے رسول مبعوث کیا گیا۔ (السبا : ٢٨) ١٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی کفار کے لیے بڑے سخت اور آپس میں بڑے رحمدل ہیں۔ (الفتح : ٢٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قبل اس کے کہ سیاق کلام اگلے منظر کی نقاب کشائی کرے ، یہاں قدرے وقفہ کیا جاتا ہے اور اس وقفے میں روئے سخن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ پوری انسانیت کو دعوت دیتے رہیں اور یہ اللہ کا وعدہ قدیم ہے۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ اے محمد ان سے کہو کہ " اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے یہ آخری رسالت ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے عام ہے ، یہ کسی نوع یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اس رسالت سے پہلے جو رسالتیں گزری ہیں وہ مقامی تھیں یا محدود اور ایک محدود زمانے کے لیے تھیں اور زمانہ وہی تھا جو کسی رسول کے بعد دوسرے رسول کے آنے کے درمیان ہوتا ہے۔ ان رسالتوں کے دور میں انسانیت نے ترقی کی طرف چند ہی قدم رکھے تھے ، تاکہ انسانیت رفتہ رفتہ ترقی کرتی چلی جائے اور آخری رسالت تک یہ قافلہ پہنچ جاے۔ ہر رسالت میں شریعت کے بعض احکام کے اندر اضافے و ترمیم کا کام ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب آخری رسالت کا دور آیا تو یہ آخری رسالت اپنے اصول اور فروع کے اعتبار سے ایک مکمل رسالت تھی اور یہ ایسی تھی کہ اس کے اصول نئے قوانین کی شکل میں دنیا میں نافذ ہوسکتے تھے اور یہ آخری رسالت ساری دنیا کے لیے آئی۔ اس لیے کہ اس آخری رسالت پر سلسلہ رسل ختم ہوگیا ہے۔ اب اور کوئی رسالت کے لیے نبی امی منتخب ہوا تاکہ اس کا پیغام فطری پیغام ہو اور اللہ کی جانب سے جو کچھ آئے وہ پہنچا دے اور اس کا معلم صرف اللہ ہو ، اس لیے اس آخری رسالت کے اوپر کسی دنیاوی تعلیم کی چھاپ نہیں ہے ، نہ وہ انسانی افکار سے متاثر ہے تاکہ فطری رسالت لوگوں کی فطرت تک پہنچے اور اپیل کرے۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ۔ اے محمد ان سے کہو۔ اے انسانو ، میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں۔ یہ آیت مکی سورة میں ایک مکی آیت ہے۔ اس میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے اپنی رسالت کا اعلان کردیں ، یہ ان اہل کتاب اور مستشرقین کا مسکت جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں ، اہل مکہ اور قریش سے آگے وسیع علاقے میں اپنی رسالت کے بارے میں نہ سوچتے تھے۔ یہ کہ قریش سے آگے اہل عرب اور پھر اہل عرب سے آگے اہل کتاب تک اپنی دعوت کو وسعت انہوں نے اس وقت دی اور جزیرۃ العرب سے بھی باہر پوری دنیا تک دعوت پھیلانے کا انہوں نے اس وقت سوچا جبکہ کامیاب حالات نے ان کو اس پر آمادہ کیا۔ یہ حقیقت میں ایک عظیم افتراء ہے اور اسلام کے خلاف ان کی ایک قدیم نظریاتی جنگ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ نظریاتی جنگ وہ ہر وقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پریشانی کی بات یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب اس دین کے خلاف یہ سازشیں کیوں کرتے ہیں اور مستشرقین جو اہل کتاب کے سرخیل ہیں اور اسلام کے خلاف لڑنے والی ایک زبردست قوت ہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، پریشانی اور عظیم پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ ان ملمع سازوں سے اپنا دین سیکھتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اپنا استاد سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے لکھے ہوئے ان خرافات کے حوالے اپنی کتابوں میں دیتے ہیں۔ وہ اسلامی تاریخ بھی ایسے ملمع کاروں سے لیتے ہیں اور اس قسم کے دھوکہ کھائے ہوئے احمق پھر اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب بھی کہتے ہیں۔ اب ہم دوبارہ آیت کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔ رسول اللہ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ اعلان کردیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ جس رب کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس کی پہچان کیا ہے ؟ الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۔ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں اور آپ اس رب کے فرستادہ ہیں جو تمام مخلوقات کا رب ہے اور وہ بھی اسی کائنات کا ایک حصہ ہیں۔ اللہ وحدہ الہ اور حاکم ہے۔ تمام لوگ اس کے بندے ہیں۔ اور آپ کی بادشاہت اور قدرت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ آپ واحد پیدا کرنے والے اور زندہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تمام کائنات کا مالک ہے ، وہ تمام موجودات پر حاکم ہے ، وہ موت وحیات کا مالک ہے۔ لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس کے دین پر چلیں اور اس کے فرستادے سب کے سب اسی دین کو پھیلانے والے ہیں۔ اس طرح قرآن کریم لوگوں کو ان کے رب کی شناخت کراتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کا نظام اس رسول کی اطاعت پر قائم کریں۔ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پا لوگے۔ اس پکار اور دعوت کے اندر نہایت ہی لطیف اشارے ہیں چاہیے کہ ہم ذرا وقفہ کرکے ان پر غور کریں۔ ٭ اس پکار اور دعوت میں سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ پر ایمان لاؤ اور یہ ایمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمہ طیبہ میں منضبط کیا گیا ہے۔ ٭ اور اس پر ایمان و اقرار کے بغیر اسلام اور ایمان کا تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن یہاں ایمان لانے کی دعوت سے پہلے اللہ کی تعریف کی گئی اور اس کی شناخت دی گئی کہ ایسے اللہ پر ایمان لاؤ۔ یعنی وہ " جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اس کے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے ، وہ زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے " لہذا یہاں جس خدا پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے اس کی صفا پہلے بیان کردی گئی ہیں۔ اسی طرح جس رسول پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے کہ سب لوگ اس کو مانیں اور اطاعت کریں اس کی صفات بھی پہلے بیان کردی گئیں۔ ٭۔ دوسری بات یہ کہ نبی امی بھی اللہ پر اور اللہ کے کلام پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے لیکن اس کے اندر یہ اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی بھی دعوت سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ داعی کا خود اس پر یقین ہو ، اس کے دین میں دعوت کا مفہوم واضح ہو ، اسے اس پر پورا یقین ہو ، ہی وجہ ہے کہ جس رسول کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے وہ " اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے اور اس کے کلمات پر بھی " اور اسی کی طرف وہ لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ ٭ پھر یہاں ایمان کے تقاضے بھی دیے گئے ہیں ، کہ سب لوگ رسول کی اطاعت بھی کریں اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو بھی اپنے ہاں جاری کریں۔ اس کی سنت کو مشعل راہ بنائیں۔ اور اس بات کی نشاندہی یوں کی گئی ہے " لہذا اس کی پیروی اختیار کرو ، اس کی امید ہے کہ شاید تم راہ راست پا لوگے " اس سے معلوم ہوا کہ اگر لوگ رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو ان کی فلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ بات کافی نہیں ہے کہ لوگ دلوں میں ایمان لے آئیں اور پھر رسول کا اتباع نہ کریں۔ عملی اتباع ہی در اصل اسلام ہے۔ دین اسلام اپنے مزاج اور اپنی ماہیت کی وضاحت ہر موقع و محل میں کرتا ہے۔ اس طرح کہ اسلام مجرد عقیدہ و نظریہ نہیں ہے ، نہ اسلام صرف مراسم عبودیت کا نام ہے۔ اسلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکمل اتباع کا نام ہے ، تمام ہدایات جو رسول پہ اترے ، تمام شرعی قوانین جو رسول نے وضع کیے ان کا اتباع ضروری ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف یہ حکم نہیں دیا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، اور نہ صرف یہ حکم دیا ہے کہ اس طرح مراسم عبودیت بجا لاؤ بلکہ اسلام نے ایک مکمل قانون اور نظام دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک تم پورے نظام شریعت اور اسلامی قانون اور نظام کو اپنی عملی زندگی میں واضح نہ کروگے اس وقت تک تمہاری فلاح کی کوئی امید نہیں۔ یہ ہے دین اسلام اور اس دین کی کوئی اور تصویر قابل قبول نہیں ہے ، صرف اس کی یہی شکل قابل قبول ہے جس میں کہا گیا (واتبعوہ) اس کی اطاعت کرو ، شاید کہ تم فلاح پاؤ۔ اگر صرف اعتقادی تصور ہی مطلوب ہوتا تو اللہ صرف یہ بات کہنے پر اکتفا کرتے۔ فامنوا باللہ ورسولہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم اور آپ کی بعثت عامہ کا اعلان اس آیت کریمہ میں نبی امی سیدنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت عامہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آپ تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرما دیں کہ بلاشبہ مجھے اللہ نے تم سب کی طرف بھیجا ہے۔ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہے تم سب بھی اللہ کی مخلوق و مملوک ہو۔ اس کے ملک سے اور اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، لہٰذا اس پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کی تصدیق کرو۔ یہ رسول اللہ کا نبی ہے جو امی ہے، یعنی اس نے کسی انسان سے نہیں پڑھا، وہ خود بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے کلمات یعنی اس کے احکام کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا تم اس کا اتباع کرو تاکہ ہدایت پا جاؤ۔ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت عامہ کا دیگر مواضع میں بھی قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا ہے سورة سبا میں فرمایا : (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے) سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خصوصی امتیازات اور فضائل عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی بعثت عام ہے۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ (١) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ایک ماہ کی مسافت تک دشمن مجھ سے ڈرتے ہیں۔ (٢) پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی (کہ مسجد کے علاوہ بھی ہر پاک جگہ نماز ہوجاتی ہے۔ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم سے حدث اصغر اور حدث اکبر دور ہوجاتے ہیں) سو میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے۔ (٣) میرے لیے غنیمت کے مال حلال کردیئے گئے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے۔ (٤) اور مجھے شفاعت عطا کی گئی (یعنی شفاعت کبریٰ جو قیامت کے دن ساری مخلوق کے لیے ہوگی) ۔ (٥) اور مجھ سے پہلے نبی خاص کر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عامۃً تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ (رواہ البخاری ص ١٤٨ ج ١) آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : و الذی نفس محمد بیدہ لا یسمع بی احد من ھذہ الامۃ یھودی و لا نصرانی ثم یموت و لم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اصحاب النار۔ (رواہ مسلم فی کتاب الایمان) (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس امت میں جس کسی کو بھی میری بعثت کا علم ہوا خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی پھر وہ اس حالت میں مرجائے کہ میں جو دین دے کر بھیجا گیا ہوں اس کو نہ مانا وہ ضرور دوزخ والوں میں سے ہوگا) ۔ چونکہ آپ کی بعثت عامہ ہے اس لیے ہر فرد بشر کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں۔ آپ کا دامن پکڑے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کرسکتا۔ خواہ کتنی ہی عبادت کرتا ہو اس کو (وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔ (اس نبی کا اتباع کرو ان کا اتباع کرو گے تو ہدایت پر رہو گے) جو ہدایت اللہ کے یہاں معتبر ہے وہ خاتم النّبیین رسول الانس و الجان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتباع میں مرکوز ہے اور منحصر ہے۔ اس سے و حدت ادیان کے نظریہ کی بھی تردید ہوگئی۔ جو لوگ اپنی جہالت سے یوں کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اور کسی بھی طریقہ اور دین کے مطابق اللہ کی عبادت کرلے اس کی نجات ہوجائے گی (العیاذ باللہ) یہ ان لوگوں کی گمراہی کی بات ہے۔ شیطان انسان کو خدا کا منکر رکھنا چاہتا ہے اور اگر کوئی شخص اللہ کو مان لے اور اللہ کے دین پر آنا چاہے تو اسے ایسی باتیں سجھاتا ہے جن کی وجہ سے وہ اس دین پر نہ آسکے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور اپنے خیال میں دھرمی بھی رہے اور مذہبی بھی رہے اور پھر بھی آخرت میں نجات نہ پائے اور جہنم میں جائے، یہ شیطان کی خواہش رہتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

156: پہلے ذکر فرمایا کہ تورات و انجیل میں حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے اس جلیل القدر پیغمبر کی بشارت دی اس کے بعدحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود اپنی رسالت کا اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔ “ ذکر ان موسیٰ بشر به و ان عیسیٰ بشر به ثم امره ان یقول بنفسه انی رسول اللہ الیکم جمیعا ” (قرطبی ج 7 ص 302) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

158 اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ بنی نوع انسان کو فرما دیجئے اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا رسول اور پیغامبر ہوکر آیا ہوں جس کی حکومت اور جس کا راج تمام آسمانوں میں اور زمین میں قائم ہے اور اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے لہٰذا تم سب لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور اس کے بھیجے ہوئے رسول نبی امی پر ایمان لائو جس کی شان یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے تم اس نبی امی کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پر آجائو اور تم راہ یافتہ ہوجائو۔