TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat ul Aeyraaf - سورة الأعراف | Verse Number 161 Tafaseer

The tafseer of Surat ul Aeyraaf, verse 161, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

وَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمُ اسۡکُنُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ وَ کُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ وَ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطِیۡٓئٰتِکُمۡ ؕ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾
And [mention, O Muhammad], when it was said to them, "Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, 'Relieve us of our burdens,' and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]."
اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جا کر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے ۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

And (remember) when it was said to them: "Dwell in this town (Jerusalem) and eat therefrom wherever you wish, and say, `(O Allah) forgive our sins'; and enter the gate prostrating (bowing with humility). We shall forgive you your wrongdoings. We shall increase (the reward) for the good-doers." فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاء بِمَا كَانُواْ يَظْلِمُونَ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

[١٦٥] یہ غالباً اریحا کا شہر تھا جو سب سے پہلے بنی اسرائیل کے ہاتھوں فتح ہوا یہاں انہیں آباد ہونے کا حکم دیا گیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بتلایا گیا اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ جب فاتحانہ انداز میں اس شہر میں داخلہ ہو تو اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اس کا شکر بجا لاتے ہوئے اور اپنے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے داخل ہونا۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے دن حکم ہوا تھا۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ شکر ادا کیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ میں اللہ کے حضور عجز و انکساری پہلے سے بھی بڑھ گئی اور پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے لگے فتح کے بعد اپنے قدیمی دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے ان کے لیے عام معانی کا اعلان کردیا تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

وَاِذْ قِيْلَ لَہُمُ اسْكُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْيَۃَ وَكُلُوْا مِنْہَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ۝ ٠ ۭ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ ١٦١ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] ، وقال تعالی: أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] ( س ک ن ) السکون ( ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ اور فرمایا : ۔ وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے ۔ ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] تاکہ اس میں آرام کرو ۔ تو پہلے معنی یعنی سکون سے ( فعل متعدی ) سکنتہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی کو تسکین دینے یا ساکن کرنے کے ہیں اور اگر معنی سکونت مراد ہو تو اسکنتہ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] اے پروردگار میں نے اپنی اولاد لا بسائی ہے أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] 25 ) ( مطلقہ ) عورتوں کو ( ایام عدت میں ) اپنے مقدرو کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں حطَّ الحَطّ : إنزال الشیء من علو، وقد حططت الرجل، وجارية محطوطة المتنین، أي : ملساء غير مختلفة ولا داخلة، أي : مستوية الظهر، وقوله تعالی: وَقُولُوا حِطَّةٌ [ البقرة/ 58] ، كلمة أمر بها بنو إسرائيل، ومعناه : حطّ عنا ذنوبنا وقیل : معناه : قولوا صواب ( ح ط ط ) الحط ( ن ) کے معنی کسی چیز کو اوپر سے نیچے اتارنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے حططت الرحل ( میں نے سواری سے پالاں اتار کر نیچے رکھ دیا ) جاریتہ محطوطتہ المتن دوختر پست شکم کہ پشت دی درازو ہموار باشد ) اور آیت کریمہ : وَقُولُوا حِطَّةٌ [ البقرة/ 58] اور حطتہ کہنا میں بنی اسرائیل کو یہ کلمہ کہنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے معنی ہیں اے اللہ ہمارے گناہ ہم سے اتار دے بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی قولوا صوابا کے ہیں یعنی صحیح بات کہنا ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Info

(١٦١۔ ١٦٢) یعنی اس بستی ” اریحاء “ میں جاکر رہو ” لاالہ الا اللہ “۔ یا توبہ توبہ کرتے ہوئے اریحاء کے دروازہ سے عاجزی کے ساتھ داخل ہو ان گنہگاروں نے جو ان کو کہنے کے لیے کہا گیا تھا تبدیلی کرلی اور حطہ (توبہ) کے بجائے حنطۃ (گیہوں) کہنا شروع کردیا، نتیجہ یہ ہو کہ ان کی وجہ سے ہم نے آسمان سے طاعون نازل کردیا

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ١٦١ (وَاِذْ قِیْلَ لَہُمُ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ ) اس شہر کا نام اریحا تھا ‘ جو آج بھی جریکو (Jericho) کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیا تھا۔ (وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا) اور استغفار کرتے رہو ‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’ حِطَّۃٌ‘ کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دوسرا حکم یہ تھا کہ جب تم فاتح کی حیثیت سے شہر کے دروازے سے داخل ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سجدۂ شکر ادا کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت تکبر سے تمہاری گردنیں اکڑی ہوئی ہوں۔ (نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓءٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ) اس طرح سے ہم نہ صرف یہ کہ تمہاری خطائیں لغزشیں اور فروگزاشتیں معاف کردیں گے ‘ بلکہ تم میں سے مخلص اور نیک لوگوں کو مزید نوازیں گے ‘ ان کے درجات بلند کریں گے اور ان کو اونچے اونچے مراتب عطا کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

120. This alludes to their constant defiance and rebellion in face of God' favours which eventually brought about their destruction.

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(7:161) القریۃ۔ یہاں اور 2:58 میں القریۃ سے مراد بیت المقدس ہے۔ منھا۔ ای من اثمار القریۃ وزروعھا۔ یعنی شہر میں پائے جانے والے پھل وغیرہ ۔ حطۃ۔ ہم بخشش مانگتے ہیں۔ تو ہمارے گناہ چھوڑ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:58)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

ف 1 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا۔ ( موضح) یا مطلب یہ ہے کہ گناہ معاف کرنے کے علاوہ ان کے درجے بھی بلند ہوں گے ( دیکھئے سو رہ البقرہ آیت 58) اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ اس قریہ ( شہر) سر مراد ایلتہ ( یا ایلات ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔ ( کبیر) یہ شہر بحر قلزم کے اند خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں کج این اردن کی بندر گاہ عقبہ پائی جاتی ہے اس کے قریب خلیج عقبہ ہی ہیں یہود یوں نے جو نئی بندر گاہ بنائی ہے اس کا نام نام انہوں نے ایلات ہی رکھا ہے تفہیم القرآن کے حاشیہ نمبر پر لکھا ہے کہ بنی سرائیل کے زمانہ عروج میں یہ شہر بڑاہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اسی شہر کو بنایا تھا ،۔ ( ج 2 ص 59)

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

تشریح : آیت نمبر ا 16 تا 162 آپ نے اس سے پہلے کی آیات میں یہ پڑھ لیا ہے کہ بنی اسرائیل جنہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بہت عروج حاصل ہوا اور مصر کے اہم مقام پر بنی اسرائیل آباد ہوگئے تھے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد آل فرعون نے مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلیا اور بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ اس قوم کی ذلت و خواری جب انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ نے قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھادی کہ قومیں جب اپنی ذندگی کا مقصد کھو بیٹھتی ہے تو پھر ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں رہتی ۔ اور قوموں کی زندگی کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ یہ مقصد اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کرکے اس کے دین کی سربلندی کے لئے مر مٹنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے ۔ قوم بنی اسرائیل اس بات کو سمجھ گئی اور اس نے فرعون جیسی طاقت سے ٹکرا نے کا عزم کرلیا اور پھر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہ قوم جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے راتوں رات مصر سے نکل گئی۔ جب کوئی قوم اللہ نے بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسرے کنارے پر اس طرح پہنچادیا کہ سمندر بھی راستہ دینے پر مجبور ہوگیا لیکن جب فرعون ان سمندری راستوں میں داخل ہوا تو وہی پانی اس طرح آپس میں مل گیا کہ فرعون اور اس کا لشکر اسی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑے دشمن سے چھوٹ گئی۔ صحرائے سینا سے گذرتے ہوئے اللہ نے ان لاکھوں بنی اسرائیل کو ایک ایسا انتظام عطا فرمایا کہ ان کی بارہ جماعتیں بناکر اس پر ایک ایک نگراں بنادیا گیا تا کہ اپنے معاملات زندگی میں ہر تکلیف سے محفوظ رہیں ۔ ان کو زندگی گذارنے کے لئے توریت جیسی کتاب دی گئی جس میں وہ تمام آئین و قوانین دیئے گئے تھے جن کی روشنی میں وہ زندگی کے تاریک راستوں میں آسانی سے چل سکتے تھے۔ مگر وہ اللہ کے دین کو اپنانے کے بجائے پھر ایک دفعہ اللہ کی نافرمانی کے راستے پر چل پڑے ۔ جب ان سے کہا گیا کہ وہ ملک شام کو جہاد کرکے فتح کریں تو اس قوم کی قوت و طاقت سے اتنے مرعوب ہوگئے کہ انہوں نے نہ صرف جہاد سے انکار کردیا بلکہ گستاخی کی انتہا کرتے ہوئے یہاں تک کہہ اٹھے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر تمہیں جہاد کرنے کا اس یا شوق ہے تو تم اور تمہارا معبود اس قوم سے جا کر جہاد کرلو (ہم تو یہاں بیٹھے ہیں جب فتح حاصل ہوجائے تو ہمیں بتا دینا آکر اس پر قبضہ کرلیں) ۔ ۔۔ ۔ یہ اتنی بڑی نافرمانی تھی جس کی سزا ضروری تھی جنانچہ ان کو اس کستاخی کی سزا یہ دی گئی کہ وہی ملک جو ادنیٰ سی جدو جہد کے بعد حاصل ہوسکتا تھا وہ ان سے چالیس سال کے لئے دور کردیا گیا اور صحرائے سینا میں ان کو اس طرح بھٹکا دیا گیا کہ وہ ہر روز صبح سے شام تک نکلنے کا راستہ تلاش کرتے مگر جب اگلے دن سو کر اٹھتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ گذشتہ صبح کو وہ جہاں سے چلے تھے وہ پھر وہین پر ہیں۔ اسی طرح چالیس سال تک وہ سی میدان تیہ میں سر گرداں رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کو سمجھاتے رہے لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی کہ جب نبی موجود ہیں تو ان کے بغیر زندگی کی منزل کیسے مل سکتی ہے لیکن وہ اپنے زعم اور گھمنڈو میں یہی سمجھتے رہے کہ ہم خود ہی راستہ تلاش کرلیں گے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاؤں سے اللہ نے ان کو اس بیا بان صحرا میں پینے کے لئے پانی کھانے کیلئے من وسلویٰ اور سائے کے لئے بادل کا سایہ عطا فرمایا۔ لیکن وہ ان نعمتوں پر شکرادا کرنے کے بجائے اس کو اپنا حق سمجھنے لگے ان کی نافرمانی کا مزاج اس قدر پختہ ہوچکا تھا کہ جب چالیس سال کے بعد قوم بنی اسرائیل سے اس صحرا نوردی کے عذاب کو ہٹا دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جائو سامنے وہ شہر ہے جہاں سے تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس سے تم چالیس سال تک محروم رہے لیکن ایک شرط ہے کہ جب تم اس شہر میں داخل ہو تو عام فاتحین کی طرح شور مچاتے اور بدمستی سے داخل ہونا اور زبان پر یہ کلمہ رکھنا کہ الہی شکر ہے ہم توبہ کرتے ہیں ۔ اگر تم نے ادب و احترام اور شکر کا طریقہ اختیار کیا تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں عطا کی جائیں گی ۔ چالیس سال کی سزا بھگتنے کے بعد جب یہ قوم اس بستی میں داخل ہوئی تو اس نے تمام وعدوں اور اللہ کے احکامات کو بھلادیا اور تکبر اور غرور کے ساتھ داخل ہوئے اور زبان پر توبہ کے کلمات کے بجائے دنیا طلبی کے کلمات جاری ہوگئے۔ انہوں نے اس شہری زندگی کی تمام بد مستیوں کو اختیار کرنا شروع کردیا اور جب نافرمانی کی انتہا کردی تو پھر اللہ نے ان پر ” طاعون “ جیسی بیماری کا عذاب مسلط کردیا جس لاتعداد اسرائیل مر کھپ گئے۔ یہ کون سی بستی تھی۔ اس کے متعلق صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مفسرین کے بقول اس بستی کا نام ” اریحا “ تھا۔ ممکن ہے اس بستی کا کوئی اور بھی نام ہو۔ یہاں بحث اس شہر کے نام سے نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل کی اس نافرمانی اور ان پر عذاب سے ہے جو ان کو دیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کی زندگی سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر وہ اپنے نبی کا کہا مانتے۔ اطاعت کرتے تو جس اللہ نے صحرا میں کھانا۔ ۔ پانی اور سایہ عطا کیا تھا جس نے بغیر کیس جنگ کے ایک ملک عطا کردیا تھا اگر وہ اللہ کی شکر گذاری کا طریقہ اختیار کرتے تو اللہ ان کو اس سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز تا لیکن بد قسمتیوں میں اپنے انجام کو بھول گئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل چالیس سال تک صحرا سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتے رہے مگر وہ صبح کو جہاں سے چل کر شام کو پہنچتے تھے اگلے دن معلوم ہوتا کہ وہ تو وہیں ہیں جہاں سے چلے تھے اگر وہ اپنی مرضی کے بجائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات مانت لیتے تو اور شکر کا راستہ اختیار کرلیتے تو ایک دن میں ان کو شہری زندگی کی راحتیں نصیب ہوجاتیں اور اس در بدری سے نجات پالیتے اگر غور کیا جائے تو آج ہماری زندگیاں بھی اس کو بیل کی طرح ہو کر رہ گئی ہیں کہ ہم برسوں محنت کے بعد جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دین و دنیا کے اعتبار سے جہاں سے چلے تھے وہیں پر آج بھی موجود ہیں۔ دوسرے یہ کہ جب ہمیں تنگیوں اور پریشانیوں کے بعد راحت اور سکون ملتا ہے تو ہم ایسے بدمست ہوجاتے ہیں کہ ہمیں آخرت اور اس پر چلنے والے برے لگتے ہیں کیا ہم اس آئینہ میں دیکھ کر یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس آئینہ میں ہمیں اپنا عکس تو نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر ہمیں بنی اسرائیل جیسا محسوس ہو تو اللہ سے توبہ کرنی چاہیے اور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے کو درست کرلینا چاہیے۔ پھر ایسانہ ہو کہ زندگی میں فرصت عمل نہ رہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کا بیان جاری ہے۔ سورۃ البقرۃ، آیت : ٥٨ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بستی میں داخلہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ سورة المائدۃ، آیت : ٢١ میں ذکر ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فتح تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ یہاں داخل ہونے کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے تینوں مقامات میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسر ائیل کو پوری طرح یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ہمت کرو تمہاری فتح یقینی ہے۔ جب بیت المقدس میں تمہارا داخلہ اور سکونت لکھ دی گئی ہے تو دنیا دار فاتحوں کی طرح نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے اور اس کے شکرگزار بندوں کی طرح شہر میں داخل ہونا۔ اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی مانگنا اور مفتوح قوم کے ساتھ درگزر کا رویہ اختیار کرنا۔ ہم اس کے بدلہ میں تمہاری خطاؤں کو معاف کرتے ہوئے تمہیں مزید عنایات سے نوازیں گے لیکن اس قوم نے اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگنے اور مفتوح قوم سے درگزر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کو بدل دیا تھا۔ حِطَّۃٌ کا معنی مانگنا، لیکن انھوں نے لفظ حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ میں بدل دیا جس کا معنیٰ گندم ہے۔ گویا کہ بخشش کے بجائے روٹی روٹی کہنے لگے۔ انھوں نے ذرّہ برابر نہ سوچا کہ جس رب نے ہمیں چالیس سال تک لق ودق صحرا میں بہترین کھانا، پینا اور رہنا نصیب فرمایا تھا۔ اب کھانے، پینے کے لیے کیوں نہ دے گا۔ جب کہ ہم ایک ایسے علاقہ اور شہر میں آچکے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے روحانی اور دنیوی طور پر برکات سے نوازا ہے۔ لیکن یہودی ایسی قوم ہے کہ جن کے نزدیک اللہ کے احکام اور دینی اقدار کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان پر طاعون کی صورت میں عذاب مسلط کردیا گیا۔ جس سے فتح کا خمار ان کے دماغوں سے اس طرح نکلا کہ انھیں لینے کے دینے پڑگئے۔ چند دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے کیونکہ یہ لوگ قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے فرامین کی نافرمانی کرکے خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے ہر دم بخشش طلب کرنی چاہیے۔ ٢۔ دنیا کی ہر نعمت کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش بہتر ہے۔ ٣۔ طاعون ایک آسمانی عذاب ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو مزید عنایت فرماتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا ہے۔ ٦۔ بنی اسرائیل پر بدترین عذاب نازل کیے گئے۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہونے کی وجوہات : ١۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا : (البقرۃ : ٥٩) ٢۔ ہفتہ کے دن شکار سے باز نہ آنے کیوجہ سے انہیں بندر بنادیا گیا۔ (البقرۃ : ٦٥) ٣۔ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے : (آل عمران : ١١٢) ٤۔ منکرات سے نہ روکنے کی وجہ سے لعنت کے حقدار ٹھہرے : (المائدۃ : ٧٨۔ ٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ۔۔۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام نہیں لیا گیا ، کیونکہ سیاق کلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شرط صرف یہ عائد کی گئی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت ایک مخصوص دعا مخصوص کلمات کی صورت میں پڑھتے جاؤ، اور اس شہر میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہوتے جاؤ اور تمہیں جو فتح و نصرت عطا ہوئی اس پر شکر ادا کرو ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ اپنی سواری کے اوپر سجدہ ریز تھے۔ ان لوگوں سے اللہ وعدہ کر رہے تھے کہ اگر تم اس حالت میں اس شہر میں داخل ہوگے تو اللہ تمہاری تمام غلطیاں معاف کردے گا اور اگر تم م میں سے کوئی مزید نیکی کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ مزید بارش کرے گا اپنے انعامات کی۔ لیکن ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں بعض نے گستاخانہ انداز میں دعا کے الفاظ ہی بدل دئیے اور بعض نے داخلے کے لیے مقرر شکل بدل دی۔ انہوں نے یہ نافرمانی کیوں کی ؟ الفاظ بدلنے یا سجدہ ریز نہ ہونے سے انہیں کیا فائدہ مل رہا تھا ؟ محض سرکشی اور کج مزاجی کی تسکین !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی نافرمانی : تیسری اور چوتھی آیت میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک بستی میں رہنے کا حکم فرمایا تھا ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس بستی میں خشوع کے ساتھ جھکے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہونا۔ ان ظالموں نے قولاً و عملاً دونوں طرح سے نافرمانی کی اور اس بات کو بدل دیا جس کا حکم فرمایا گیا تھا۔ عملاً تو یہ کیا کہ بجائے جھکے ہوئے داخل ہونے کے بچوں کی طرح گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے جس میں ایک طرح کا استہزاء ہے اور معافی مانگنے کا جو حکم ہوا تھا اس کی خلاف ورزی یوں کی کہ حِطَّۃٌ کی جگہ حَبَّۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس بستی سے بیت المقدس مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اریحا مراد ہے۔ مفسر ابن کثیر نے کہا ہے کہ پہلا قول ہی صحیح ہے کیونکہ یہ لوگ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدس میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں حیران و سرگردان پھرنے کے بعد جب حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانہ میں بیت المقدس جانا نصیب ہوا اس وقت کی بات ہے جب ان لوگوں نے حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ جل شانہٗ نے ان پر عذاب بھیج دیا، جسے (رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ ) سے تعبیر فرمایا۔ سورة بقرہ میں (بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ) فرمایا اور سورة اعراف میں (بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ) فرمایا یعنی یہ عذاب ان کی نا فرمانیوں اور ان کے ظلم کی وجہ سے بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی جو نتیجہ کے اعتبار سے اپنی جانوں پر ظلم ہے کیونکہ اس کی وجہ سے گرفت ہوجاتی ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے ان لوگوں پر جو عذاب بھیجا گیا تھا طاعون تھا۔ مفسر ابن کثیر نے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا ہے کہ الطاعون رجزٌ عَذَابٌ عذب بہ من کان قبلکم (یعنی طاعون رجز ہے جو عذاب ہے اس کے ذریعے تم سے پہلی امتوں کو عذاب دیا گیا) ۔ من وسلویٰ اترنے اور پتھر سے چشمے پھوٹنے اور ایک بستی میں جھکے ہوئے داخل ہونے اور معافی مانگنے کا حکم پھر بنی اسرائیل کی قولاً و فعلاً خلاف ورزی پر عذاب نازل ہونا سورة بقرہ (رکوع ٦، ٧) میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے کچھ زیادہ تفصیل لکھ دی ہے اس کی مراجعت کرلی جائے۔ (انوار البیان جلد اول)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

159: انعامات کے بعد بنی اسرائیل کی سرکشی اور کج روی کا ذکر فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشین ہوئے۔ ان کی قیادت میں بنی اسرائیل نے ملک شام فتح کرلیا تو اللہ نے حکم دیا کہ بیت المقدس کے شہر میں جاؤ اور وہاں جاکر میری عبادت بجا لاؤ اور “ الباب ” سے یہاں بیت المقدس کے شہر کا دروازہ مراد نہیں بلکہ اس سے بیت المقدس کی مسجد کا دروازہ مراد ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو۔ ص 37 ص 38 حاشیہ 117 تا 119 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

161 اور وہ زمانہ بھی قابل ذکر ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر رہو اور اس بتی میں جہاں سے چاہو کھائو اور جب اندر جانے لگو تو زبان سے حطۃ کہتے ہوئے جانا اور عاجزی سے کمر کو جھکائے ہوئے دروازے میں داخل ہونا اگر تم نے حکم کی تعمیل کی تو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دیں گے۔ یعنی بیابان کی زندگی سے جب تنگ آئے تو بستی میں جانے کا حکم ہوا۔ جانے کے آداب بتائے دروازے میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا تعمیل ارشاد پر زیادہ عطا کا وعدہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا ۔ 12 عام طور سے اس بستی کا نام اریحا بتایا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ بیت المقدس ہو زیادتی سے مراد ملک کی زیادتی یا اجر وثواب کی زیادتی یا دونوں ہوسکتے ہیں۔

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.