Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 165

سورة الأعراف

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾

And when they forgot that by which they had been reminded, We saved those who had forbidden evil and seized those who wronged, with a wretched punishment, because they were defiantly disobeying.

سو جب وہ اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچالیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ ... So when they forgot the reminder that had been given to them, when the evil doers refused the advice, ... أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُواْ ... We rescued those who forbade evil, but We seized who did wrong, who committed the transgression, ... بِعَذَابٍ بَيِيسٍ ... with a severe torment, Allah stated that those who enjoined good were saved, while those who committed the transgression were destroyed, but He did not mention the end of those who were passive (the third group), for the compensation is comparable to the deed. This type did not do what would warrant praise, nor commit wrong so that they are admonished. Ikrimah said, "Ibn Abbas said about the Ayah: `I do not know whether or not the people were saved who said; لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللّهُ مُهْلِكُهُمْ ("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy..."). So I continued discussing it with him until I convinced him that they were. Then he gave me (the gift of) a garment." Allah said, ... وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُواْ بِعَذَابٍ بَيِيسٍ ... and We seized those who did wrong with a Ba'is torment, indicating that those who remained were saved. As for `Ba'is', it means `severe', according to Mujahid, or `painful', according to Qatadah. These meanings are synonymous, and Allah knows best. ... بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ because they used to rebel against Allah's command. Allah said next, فَلَمَّا عَتَوْاْ عَن مَّا نُهُواْ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُواْ قِرَدَةً خَاسِيِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

165۔ 1 یعنی واعظ و نصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔ 165۔ 2 یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنالیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپنا شیوہ اور وطیرہ بنالیا

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ۔۔ : یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں ” بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔ (دیکھیے سورة سجدہ : ٢١) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ ” بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن (وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا) کے بعد دوبارہ (فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا عذاب تنبیہ کے لیے تھا، پھر بھی جب وہ متنبہ نہ ہوئے، بلکہ سرکشی اختیار کی تو ان سرکشوں کو بندر بنادیا گیا۔ واللہ اعلم ! وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ ” بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ “ کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہرگز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ ( ١) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔ ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔ “ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی : ٤٣٣٨۔ ترمذی : ٣٠٥٧، و قال الألبانی صحیح ] راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر ” بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ ] قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنادی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کردی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنادی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔ “ [ المعجم الکبیر : ٧٤٦، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع : ٥٦٧٣، عن أم سلمۃ۔۔ مسلم : ٢٦٦٣ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِہٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍؚ بَىِٕيْــسٍؚبِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝ ١٦٥ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ( ن س ی ) النسیان یہ سنیتہ نسیانا کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں خواہ یہ ترک ضبط ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازارہ غفلت ہو یا قصدا کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ بؤس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ : الشدة والمکروه، إلا أنّ البؤس في الفقر والحرب أكثر، والبأس والبأساء في النکاية، نحو : وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا [ النساء/ 84] ، فَأَخَذْناهُمْ بِالْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ [ الأنعام/ 42] ، وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ [ البقرة/ 177] ، وقال تعالی: بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، وقد بَؤُسَ يَبْؤُسُ ، وبِعَذابٍ بَئِيسٍ [ الأعراف/ 165] ، فعیل من البأس أو من البؤس، فَلا تَبْتَئِسْ [هود/ 36] ، أي : لا تلزم البؤس ولا تحزن، ( ب ء س) البؤس والباس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقرو فاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولاجاتا ہے اور الباس والباساء ۔ بمعنی نکایہ ( یعنی جسمانی زخم اور نقصان کیلئے آتا ہے قرآن میں ہے { وَاللهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا } ( سورة النساء 84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے { فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ } ( سورة الأَنعام 42) پھر ( ان کی نافرمانیوں کے سبب ) ہم انہیوں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے { وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ } ( سورة البقرة 177) اور سختی اور تکلیف میں اور ( معرکہ ) کا رزا ر کے وقت ثابت قدم رہیں ۔۔ { بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ } ( سورة الحشر 14) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ بؤس یبوس ( باشا) بہادر اور مضبوط ہونا ۔ اور آیت کریمہ ۔ { بِعَذَابٍ بَئِيسٍ } ( سورة الأَعراف 165) بروزن فعیل ہے اور یہ باس یابوس سے مشتق ہے یعنی سخت عذاب میں اور آیت کریمہ ؛۔ { فَلَا تَبْتَئِسْ } ( سورة هود 36) کے معنی یہ ہیں کہ غمگین اور رنجیدہ رہنے کے عادی نہ بن جاؤ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٥) غرض کہ ان لوگوں کی تین جماعتیں تھیں، ایک جماعت تو خود بھی شکار کرتی تھی اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتی تھی، اور دوسری جماعت نہ خود شکار کرتی تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس سے روکتی تھی، تیسر جماعت خود بھی شکار نہیں کرتی تھی، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے منع کرتی تھی چناچہ پہلی شکاری جماعت کی شکلیں مسخ کردی گئیں اور بعد والی دونوں جماعتیں عذاب الہی سے بچ گئیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

125. This shows that the people in that town were of three categories. One, those who flagrantly violated God's commands. Two, those who were silent spectators to such violations and discouraged those who admonished the criminals, pleading that their efforts were fruitless. Three, those who, moved by their religious commitment, actively enjoined good and forbade evil so that the evil-doers might make amends. In so doing, they were prompted by, a sense of duty, to bring back the evil-doers to the right path, and if the latter did not respond to their call, they would at least be able to establish before their Lord that for their part they had fulfilled their duty to admonish the evil-doers. So, when the town was struck by God's punishment, only the people belonging to the last category were spared for they had displayed God-consciousness and performed the duties incumbent upon them. As for the people of the other two categories, they were reckoned as transgressors and were punished in proportion to their crimes. Some commentators on the Qur'an are of the opinion that whereas the Qur'an specifically, describes the fate of the people belonging to the first and third categories, it is silent about the treatment meted out to the people of the second category. It cannot be said, therefore, with certainty, whether they were spared or punished. It is reported that Ibn 'Abba's initially believed that God's punishment included the second category as well. It is believed that later his disciple Ikramah convinced him that only the people of the second category would be delivered in the same manner as the people of the third category. A closer study of the Qur'anic account, however, shows that Ibn 'Abba's earlier viewpoint is sound. It is evident that the people of the town would inevitably have been grouped into two categories on the eve of God's punishment: those who were spared and those who were not. Since the Qur'an states that the people of the third category, had been spared, it may be legitimately assumed that the people belonging to both the first and the second categories were punished. This view is also corroborated by the preceding verse: Also recall when a party of them said: 'Why do you admonish a people whom Allah is about to destroy or punish severely? They said: 'We admonish them in order to he able to offer an excuse before your Lord, and in the hope that they will guard against disobedience.' (Verse 164.) Thus it clearly emerges from the above discussion that all the people of the place where evil deeds are publicly committed stand guilty, One cannot be absolved merely on the basis that one had not committed any evil. One may be acquitted only, in the event that one made every possible effort to bring about reform and actively worked in the cause of the truth. This constitutes the divine law pertaining to collective evil as is evident from the teachings of the Qur'an and Hadith. The Qur'an says: And guard against the mischief that will not only bring punishment to the wrong-doers among you. Know well that Allah is severe in punishment (Al-Anfal 8: 15). Explaining the above verse the Prophet (peace be on him) remarked: 'God does not punish the generality of a people for the evil committed by a particular section of that people until they observe others committing evil and do not denounce it even though they are in a position to do so. And when they do that, God punishes all, the evil-doers and the people in general.' (Ahmad b. Hanbal. Musnad, vol. 4, p. 192 - Ed.) Moreover. the verse in question seems to suggest that God's punishment afflicted the town concerned in two stages. The first stage is referred to as 'grevious chastisement', for in the next stage they were turned into apes. We may, therefore, hold that people belonging to both the first and the second categories were subjected to punishment. But the punishment of transforming the persistent evil-doers into apes was confined only to the people of the second category. (God knows best. If I am right that is from God. If I err, that is from me alone. God is All-Forgiving, All-Merciful.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :125 اس بیان سے معلوم ہوا کہ اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے ۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الہٰی کی خلاف ورزی کر رہے تھے ۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کر تے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے ۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو برداشت نہ کر سکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی براءت کا ثبوت پیش کر ہی دیں ۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی براءت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا ۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے ۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کے مبتلائے عذاب ہونے کی اور تیسرے گروہ کے نجات پانے کی تصریح کی ہے ، لیکن دوسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے لہٰذا اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے تھا یا مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے ۔ پھر ایک روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ وہ پہلے اس بات کے قائل تھے کہ دوسرا گروہ مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے تھا ، بعد میں ان کے شاگرد عکرِمہ نے ان کو مطمئن کر دیا کہ دوسرا گروہ نجات پانے والوں میں شامل تھا ۔ لیکن قرآن کے بیان پر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کا پہلا خیال ہی صحیح تھا ۔ ظاہر ہے کہ کسی بستی پر خدا کا عذاب آنے کی صورت میں تمام بستی دو ہی گروہوں میں تقسیم ہو سکتی ہے ، ایک وہ جو عذاب میں مبتلا ہو اور دوسرا وہ جو بچا لیا جائے ۔ اب اگر قرآن کی تصریح کے مطابق بچنے والا گروہ صرف تیسرا تھا ، تو لا محالہ پہلے اور دوسرے دونوں گروہ نہ بچنے والوں میں شامل ہوں گے ۔ اسی کی تائید مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّکُمْ کے فقرے سے بھی ہوتی ہے جس کی توثیق بعد کے فقرے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمادی ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہو سکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی ، بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کےلیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حد استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا ۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے ۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ ا لَّذَینَ ظَلَمُوْ ا مِنْکُمْ خَآصَّةً ( ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو ) ۔ اور اس کی تشریح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان اللہ لا یعذب العامة بعمل الخاصة حتٰی یرو االمنکربین ظھرانیھم وھم قادرون علیٰ ان ینکروہ فلا ینکروہ فاذا فعلوا ذٰلک عذب اللہ الخاصة و العامة ، یعنی ”اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہو جائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہار ناراضی نہ کریں ۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے“ ۔ مزید برآں جو آیات اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی پر خدا کا عذاب دو قسطوں میں نازل ہوا تھا ۔ پہلی قسط وہ جسے عذاب بئیس ( سخت عذاب ) فرمایا گیا ہے ، اور دوسری قسط وہ جس میں نافرمانی پر اصرار کرنے والوں کو بندر بنا دیا گیا ۔ ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ پہلی قسط کے عذاب میں پہلے دونوں گروہ شامل تھے ، اور دوسری قسط کا عذاب صرف پہلے گروہ کو دیا گیا تھا ، و اللہ اعلم بالصواب ۔ ان اصبتُ فمن اللہ وان اخطَئْتُ فمن نفسی ، واللہ غفورٌ رحیم ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:165) نسوا ماضی معروف جمع مذکر غائب نسیان مصدر (باب سمع) وہ بھول گئے۔ یعنی انہوں نے چھوڑ دیا (متذکرہ بالا پہلے گروہ کے افراد مراد ہیں) ۔ بئیس۔ شدید۔ سخت۔ بروزن فعیل۔ باس اور بؤس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صرف اہل معصیت ہی ہلاک ہوئے اور باقی دونوں گروہ بچ گئے جیسا کہ مروی ہے کہ جب حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے یہ خیال پیش کیا کہ سکوت اختیار کرتے تھے اور انہوں نے بھی ارتکاب کرنے والوں کی مخالفت کی تھی تو حضرت ابن عباس (رض) نے ان کو خلعت پہنایا اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ صرف وہی گروہ عذاب سے محفوظ رہا جو دوسروں کو منع کرتا تھا باقی سب ہلاک کر دئے گئے یہ قول بھی حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور اسناد جید کے ساتھ ثابت ہے مگر پہلا قول اصح ہے چناچہ حافظ ابن کثیر حضرت ابن عباس کا یہ دوسرا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ولکن رجوعہ الی قول عکرمتہ فی نجا ۃ ا الساکن او لی من القول ھذا الانہ تبین حالھم بعد ذٰلک نیز حافظ ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن قرآن نے منع کرنے والوں کی نجات اور ظالموں کی ہلاکت کی تو تصریح کردی ہے مگر سکوت کرنے والوں سے سکوت ہی اختیار کیا ہے۔ لان الجزا من جنس العمل لہذا وہ نہ مدح کے مستحق ہیں اور نہ خدمت کے واللہ اعلم، ) ( ج 2 ص 257) تنبیہ : برائی کو دیکھ کر اس سے سکوت اختیار کرنا اس صورت میں جرم ہو تو ہے جب اس برائی سے کراہت نہ ہوجیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم میں منکرات کا ارتکاب ہو رہا ہو اور باوجود قدرت کے دوسرے لوگ منع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب سب پر آجاتا ہے۔ مزید دیکھئے ( سورة انفال آیت 25)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان لوگوں کو یہ سخت سزا اس لیے دی گئی تھیں کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی میں ڈوب گئے تھے اور قرآن نے اسے کفر سے تعیر کیا ہے۔ کبھی اسے ظلم کہا گیا ، کبھی فسق کہا گیا اور قرآن کریم میں بارہا یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کو ظلم اور فسق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ انداز تعبیر اس فقہی اور قانونی انداز تعبیر سے مختلف ہے جو ازمنہ مابعد میں اختیار کیا گیا۔ لہذا قرآنی انداز تعبیر اس فقہی اصطلاح کا پابند نہیں ہے کیونکہ اصطلاحات کا تعین بعد میں ہوا اور یہ شدید عذاب کیا تھا ؟ یہ کہ آدمیون کی شکل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا ، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو مرتبہ انسانیت سے گرا دیا تھا ، اس لیے کہ انسانیت کی مخصوص ترین خصوصیت یعنی قوت ارادی کا انسانی خواہشات پر غالب رہنا انہوں نے ترک کردیا تھا اور وہ حیوانات کی طرح خواہشات کے پابند ہوگئے تھے ، لہذا ان سے کہا گیا کہ اچھا تو پھر حیوان ہی بن جاؤ، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جو تم نے اپنے لیے پسند کیا ہے۔ یہ کہ وہ کس طرح بندر بن گئے ، ان کی شکل کس طرح بدل گئی۔ کیا وہ بذات خود بدل کر بندر بن گئے یا ان سے بندر پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ اس سلسلے میں تفاسیر میں متعدد روایات ہیں اور اس نکتے کے بارے میں قرآن خاموش ہے ، اور اس سلسلے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ لہذا ہم اس معاملے میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

163: یہاں “ نَسُوْا ” بمعنی “ تَرَکُوْا ” ہے یعنی جب انہوں نے اپنی قوم کے صلحاء اور ناصحین کی پند و نصیحت کو چھوڑ دیا اور اس سے بالکلیہ اعراض کرلیا تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا مگر ان ظالموں کو جو سرکشی اور نافرمانی کرتے تھے دردناک عذاب سے پکڑ لیا۔ “ فَلَمَّا عَتَوْا ” جب وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئے اور ان کا انکار ضد وعناد کی حد کو پہنچ گیا تو ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور ان کو بندر بنا دیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

165 پھر جب ان ماہی گیروں نے ان تمام نصیحتوں کو جو ان کو کی گئی تھیں فراموش کردیا اور جملہ نصائح کو نظرانداز کردیا تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو اس بری بات یعنی ارتکاب جرم سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو نافرمان تھے ان کو ان کی اس نافرمانی کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ یعنی جو برابر سمجھاتے رہے اور جنہوں نے تھک کر سمجھانا چھوڑ دیا تھا یہ دونوں فریق بچ گئے۔ تیسرے کے ذکر سے حضرت حق نے سکوت فرمایا چوتھا فریق جو مجرم تھا اس کی گرفت کا ذکر فرمادیا۔