Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 172

سورة الأعراف

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚ ۛ شَہِدۡنَا ۚ ۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۙ

And [mention] when your Lord took from the children of Adam - from their loins - their descendants and made them testify of themselves, [saying to them], "Am I not your Lord?" They said, "Yes, we have testified." [This] - lest you should say on the day of Resurrection, "Indeed, we were of this unaware."

اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں ۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Covenant taken from the Descendants of Adam Allah tells; وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي ادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ... And (remember) when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed, Allah stated that He brought the descendants of Adam out of their fathers' loins, and they testified against themselves that Allah is their Lord and King and that there is no deity worthy of worship except Him. Allah created them on this Fitrah, or way, just as He said, فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ So set you (O Muhammad) your face truly towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Khalqillah. (30:30) And it is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah said, كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاء Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian. Just as animals are born having full bodies, do you see any of them having a cutoff nose (when they are born). Muslim recorded that Iyad bin Himar said that the Messenger of Allah said; يَقُولُ اللهُ إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم Allah said, `I created My servants Hunafa (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion, prohibiting what I allowed. There are Hadiths that mention that Allah took Adam's offspring from his loins and divided them into those on the right and those on the left. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet said, يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الاَْرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ ادَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي شَيْيًا فَأَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تُشْرِكَ بِي It will be said to a man from the people of the Fire on the Day of Resurrection, `If you owned all that is on the earth, would you pay it as ransom!' He will reply, `Yes.' Allah will say, `I ordered you with what is less than that, when you were still in Adam's loins, that is, associate none with Me (in worship). You insisted that you associate with Me (in worship).' This was recorded in the Two Sahihs Commenting on this Ayah (7:172). At-Tirmidhi recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, لَمَّا خَلَقَ اللهُ ادَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَي كَلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ادَمَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هوُلاَءِ When Allah created Adam, He wiped Adam's back and every person that He will create from him until the Day of Resurrection fell out from his back. Allah placed a glimmering light between the eyes of each one of them. Allah showed them to Adam and Adam asked, `O Lord! Who are they!' قَالَ هوُلاَاءِ ذُرِّيَّتُكَ Allah said, `These are your offspring.' فَرَأَىَ رَجُلً مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا Adam saw a man from among them whose light he liked. He asked, `O Lord! Who is this man!' قَالَ هَذَا رَجُلٌ مِنْ اخِرِ الاْاُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ Allah said, `This is a man from the latter generations of your offspring. His name is Dawud.' قَالَ رَبِّ وَكَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ Adam said, `O Lord! How many years would he live!' قَالَ سِتِّينَ سَنَةً Allah said, `Sixty years.' قَالَ أَيْ رَبِّ وَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً Adam said, `O Lord! I have forfeited forty years from my life for him.' فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ ادَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً When Adam's life came to an end, the angel of death came to him (to take his soul). Adam said, `I still have forty years from my life term, don't I!' قَالَ أَوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ He said, `Have you not given it to your son Dawud!' قَالَ فَجَحَدَ ادَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ ادَمُ فَنِسَيتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِىءَ ادَمُ فَخَطِيَتْ ذُرِّيَّتُه So Adam denied that and his offspring followed suit (denying Allah's covenant), Adam forgot and his offspring forgot, Adam made a mistake and his offspring made mistakes. At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih, and it was reported from various chains of narration through Abu Hurayrah from the Prophet." Al-Hakim also recorded it in his Mustadrak, and said; "Sahih according to the criteria of Muslim, and they did not record it." These and similar Hadiths testify that Allah, the Exalted and Most Honored, brought forth Adam's offspring from his loins and separated between the inhabitants of Paradise and those of the Fire. Allah then said, ... وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا ... and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord!" They said: "Yes! We testify," Therefore, Allah made them testify with themselves by circumstance and words. Testimony is sometimes given in words, such as, قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنفُسِنَا (They will say: "We bear witness against ourselves"). (6:130) At other times, testimony is given by the people themselves, such as Allah's statement, مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ الله شَاهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ (It is not for the Mushrikin, (polytheists) to maintain the mosques of Allah, while they testify against their own selves of disbelief). (9:17) This Ayah means that their disbelief testifies against them, not that they actually testify against themselves here. Another Ayah of this type is Allah's statement, وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ (And to that he bears witness (by his deeds). (100:7) The same is the case with asking, sometimes takes the form of words and sometimes a situation or circumstance. For instance, Allah said, وَاتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (And He gave you of all that you asked for). (14:34) Allah said here, ... أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... lest you should say on the Day of Resurrection: ... إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا ... we were of this (of Tawhid), ... غَافِلِينَ

ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں ۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب ، خالق ، مالک ، معبود صرف وہی ہے ۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا ۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے ، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں ، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں ۔ قبیلہ بن سعد کے ایک صحابی حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بجوں کو بھی پکڑ لیا جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا حضور وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا سنو تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں یاد رکھو ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں ۔ اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے ( ابن جریر ) اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے ؟ وہ کہے گا ہاں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو اس سے بہت ہی ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن تو عہد توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا ۔ مسند میں ہے نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہ ہیں پھر آپ نے مبطلون تک تلاوت فرمائی ۔ یہ روایت موقوف ابن عباس سے بھی مروی ہے واللہ اعلم ۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے ۔ حضرت ضحاک بن مزاحم کے جھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا جابر نے حکم کی بجا آوری کی ، پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بجے سے کیا سوال ہو گا اور کون سوال کرے گا ؟ فرمایا اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے سوال کیا جائے گا ۔ میں نے پوچھا وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا میں نے حضرت ابن عباس سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں سب کی روحیں آ گئیں اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے خود ان کے رزق کا کفیل بنا پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا ۔ پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے ۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی اسے پہلے کا وعدہ کجھ فائدہ نہ دے گا ۔ بچپن میں ہی جو مر گیا وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا ۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے ۔ ابن جریر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسی نکلایں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا انہوں نے اقرار کیا فرشتوں نے شہادت دی اس لئے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو پیدا کیا اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا اس سے اولاد نکلی فرمایا میں نے انہیں جہنم کیلئے پیدا کیا ہے یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا جو جنتی ہے اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائیں گے ہاں جو جہنم کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا ( ابوداؤد ) اور حدیث میں ہے کہ اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں؟ فرمایا یہ تیری اولاد ہے ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں؟ فرمایا یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں ان کا نام داؤد ہے پوچھا ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا ساٹھ سال کہا یا اللہ چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر پس جب حضرت آدم کی روح کو قبض کرنے کیلئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں ، فرشتے نے کہا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے حضرت داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں ۔ بات یہ ہے چونکہ آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے آدم خود بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی ہے آدم نے خطا کی ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے ، یہ حدیث ترمذی میں ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح لکھتے ہیں اور روایت میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے کوئی کوڑھی ہے کوئی اندھا ہے کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یا اللہ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ فرمایا یہ کہ میرا شکریہ کیا جائے ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یا اللہ ان میں یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا یہ انبیاء ہیں ۔ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی ۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قضیہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا پھر فرمایا اے دائیں طرف والو انہوں نے کہا لبیک وسعد یک فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں پھر سب کو ملا دیا کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے لئے اور اعمال ہیں جنہیں یہ کرنے والے ہیں یہ تو صرف اس لئے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے ۔ پھر سب کو صلب آدم میں لوٹا دیا ۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا ، صورتیں دیں ، بولنے کی طاقت دی ، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں ، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں ۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے ۔ آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا جس کا بیان آیت ( وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا Ċ۝ۙ ) 33- الأحزاب:7 ) ، میں ہے ۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت ( فطرۃ اللہ ) میں ہے اسی لئے فرمان ہے آیت ( ھذا نذیر من النزر الا ولی ) اسی کا بیان اس آیت میں ہے ( وما وجدنا لا کثرھم من عھد ) ( مسند احمد ) حضرت مجاہد ، حضرت عکرمہ ، حضرت سعید بن جبیر ، حضرت حسن ، حضرت قتادہ ، حضرت سدی اور بہت سے سلف سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا جنتی دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا یہ جن دو احادیث میں ہے وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں اسی لئے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گذرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنے ہے جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت ( من بنی آدم ) فرمایا اور آیت ( من ظھور ھم ) کہا ورنہ من آدم اور من ظھرہ ہوتا ۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ١٦٥؀ۧ ) 6- الانعام:165 ) اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے اور جگہ ہے وہی تمہیں زمین کے خلیفہ بنا رہا ہے اور آیت میں ہے جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا ۔ الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا ۔ شہادت قولی ہوتی ہے جیسے آیت ( شھدنا علی انفسانا ) میں اور شہادت کبھی حال سے ہوتی ہے جیسے آیت ( مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 17؀ ) 9- التوبہ:17 ) میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے اس طرح کی آیت ( وانہ علی ذالک لشھید ) ہے ۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی حال سے ۔ جیسے فرمان ہے ( وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34؀ۧ ) 14- ابراھیم:34 ) اس نیت میں تمہارے کا منہ مانگا دیا ۔ کہتی ہیں کہ اس بات پر یہ دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی ۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے ۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو رسولوں کو ہی نہیں مانتے وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے ۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

172۔ 1 یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح آتی ہے ' عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، ' کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ ' سب نے کہا ' کیوں نہیں ' ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں واسنادہ لامطعن فیہ (فتح القدیر) اس کی سند میں کوئی طعن نہیں نیز امام شوکانی فرماتے ہیں۔ یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جاناصحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے اس کا ناک کان کٹا نہیں ہوتا۔ اور صحیح مسلم کی روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کردیتا ہے۔ الحدیث۔ یہ فطرت یا دین فطرت یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٥] سابقہ آیت میں ایک خاص عہد کا ذکر تھا جو یہود سے لیا گیا تھا اور اس آیت میں عام عہد کا ذکر ہے جو فرداً فرداً تمام انسانوں سے لیا گیا تھا اور یہ اس دور کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ آدم کو پیدا کرچکے تھے اور خلافت ارضی کے لیے انہیں منتخب کیا جا چکا تھا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی نسل سے تاقیامت پیدا ہونے والی اولاد کی روحوں کو اپنے سامنے حاضر کرلیا اور ان ارواح کو وہی شکل عطا کی گئی جو ان کی پیدائش کے بعد انہیں میسر ہونے والی تھی اور بعض احادیث کے مطابق ان ارواح کی شکل چیونٹیوں کی سی تھی۔ پھر ان ارواح کو مخاطب کر کے فرمایا : اس بھری کائنات کو خوب دیکھ بھال کر بتلاؤ کہ یہاں میرے سوا تمہیں کوئی اور پروردگار نظر آتا ہے اور کیا تمہارا پروردگار بھی میں ہی نہیں ؟ تو ان سب ارواح نے مل کر یقین کے ساتھ یہ شہادت دی کہ اے اللہ صرف تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔ بالفاظ دیگر یہ اس بات کی شہادت تھی کہ ہم کبھی کسی دوسرے کو تیرا شریک نہیں بنائیں گے۔ عہد الست کی تفصیل اور حالات ارضی :۔ یہ واقعہ محض تمثیلی طور پر بیان نہیں ہوا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ اس خارجی کائنات میں فی الواقع اسی طرح وقوع پذیر ہوا تھا جس طرح آدم (علیہ السلام) کی خلافت کے متعلق آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پیشتر اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے مکالمہ کا واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا اور یہ اقرار اس لیے لیا گیا تھا کہ خلافت ارضی کی بنیاد اس وقت تک اٹھ ہی نہیں سکتی جب تک انسان ان دو باتوں کا اقرار نہ کرلے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا یقینی طور پر کوئی خالق موجود ہے اور دوسرے یہ کہ وہی خالق اس کائنات کی تربیت کر کے اس کو حد کمال تک پہنچانے والا ہے اور اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں گویا یہی شہادت خلافت ارضی کے لیے بنیادی پتھر کا کام دیتی ہے اگر اس بنیاد کو نیچے سے کھینچ لیا جائے تو خلافت ارضی کا تصور بھی محال ہے لہذا بنی آدم کی تمام تر ارواح میں اس بنیادی حقیقت کی تخم ریزی کردی گئی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عہد اتنا اہم تھا تو انسان کو یاد کیوں نہیں رہا ؟ اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ انسان کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں رہا تھا پھر اس سے پیدا ہوا کہاں پیدا ہوا ؟ کس وقت ہوا۔ غرض یہ کہ بیشمار ایسی باتیں ہیں جو انسان کو یاد نہ رہنے کے باوجود اپنی جگہ پر ٹھوس حقیقتیں ہوتی ہیں لہذا یاد نہ رہنے کا عذر معقول نہیں ہوسکتا اور حقیقی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہی نہ تھا کہ وہ عہد انسان کو ہر وقت یاد رہے کیونکہ اس صورت میں انسان اللہ سے بغاوت اور اس کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتا تھا اور یہ بات مشیت الہٰی کے خلاف ہے کیونکہ یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے لہذا اس واقعہ کو انسان کے شعور میں نہیں بلکہ تحت الشعور یا وجدان میں رکھ دیا گیا اور یہ اسی داعیہ کا اثر ہے کہ بعض دفعہ پکے کافر اور دہریہ قسم کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یا مصیبت کے وقت لاشعوری طور پر اسے پکارنے لگتے ہیں۔ اس عہد کے لاشعور میں موجود ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ انسان میں دو طرح کی استعدادیں رکھی گئی ہیں ایک بالقوۃ، دوسری بالفعل۔ مثلاً ایک انسان پینٹر بننا چاہتا ہے تو وہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس میں یہ استعداد بالقوۃ موجود ہو یعنی وہ پینٹر بننے کی صلاحیت رکھتا ہو پھر اسے اس کے مطابق خارجی ماحول میسر آجائے یعنی اسے کوئی استاد وقت اور متعلقہ آلات اور سامان مل جائے تو محنت سے وہ پینٹر بن جائے گا۔ اس وقت اس کی وہ استعداد جو بالقوۃ تھی وہ بالفعل میں تبدیل ہوگئی اور اگر انسان یہ چاہے کہ وہ فرشتہ بن جائے تو وہ کبھی نہ بن سکے گا خواہ لاکھوں کوششیں کرے کیونکہ اس میں فرشتہ بننے کی استعداد بالقوۃ موجودہی نہیں ہے۔ قرآن کس لحاظ سے ذکر اور تذکرہ ہے ؟ :۔ اب ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اس عہد الست کی یاد اور خلافت ارضی کی استعداد انسان میں بالقوۃ موجود ہے پھر جب اسے خارج سے موافق ماحول اور سامان میسر آجاتا ہے تو اس کی یہی استعداد بالفعل میں تبدیل ہوجاتی ہے موافق سامان اور ماحول سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور اس کی کتابیں ہیں جو انسان کی استعداد کو صحیح راستے پر چلا دیتی ہیں تو اس ماحول سے ایسا صالح عنصر وجود میں آجاتا ہے جو خلافت کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے معیار پر پورا اترتا ہے اسی لیے قرآن میں انبیاء و رسل کو مذکر (اس عہد الست بربکم کی یاددہانی کرانے والے) اور خود قرآن کو ذکر اور تذکرہ (یاد دہانی) کہا گیا ہے گویا انبیاء (علیہ السلام) اور کتابوں کا یہ کام ہوتا ہے جو استعداد انسان کے اندر بالقوۃ موجود تھی اس کو یاد دہانی کراتے رہیں اور اسے بالفعل کے مقام پر لے آئیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ ۔۔ : یہاں تک رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے بنی آدم کی ہدایت کا جو اہتمام فرمایا اس کا ذکر تھا، اب کائنات میں اور خود انسان کی ذات (اَنْفُسِهِمْ ) میں ہدایت کی جو دلیلیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں ان کا ذکر ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ یہ جانے کہ میرا ایک رب ہے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے روزی دیتا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو نسلاً بعد نسل پیدا کرتا ہے اور بنی آدم میں سے کسی کی پشت سے اس کا نطفہ جدا کرکے ماں کے رحم میں اس کی اولاد پیدا کرتا ہے، اسی وقت اس اولاد کی فطرت میں رکھ کر اس کے نفس اور اس کی ذات میں اپنے رب ہونے کے اتنے دلائل رکھ دیتا ہے گویا خود اسے اپنے آپ پر گواہ بنا دیتا ہے کہ اس کا رب اللہ ہے۔ گویا وہ پیدا ہی اسلام پر ہوتا ہے۔ ایک بوند جو جونک بنی، پھر مضغہ بنی، پھر ہڈیاں، پھر کامل اعضا والا جان دار انسان، یہ اور بیشمار نشانیاں خود اس کی ذات اور کائنات میں اس بات کی کافی شہادت ہیں کہ اس کا ایک رب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ) [ حٰم السجدۃ : ٥٣ ] ” عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہوجائے کہ یقیناً یہی حق ہے۔ “ اور فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ) [ الذاریات : ٢٠، ٢١ ] ” اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟ “ اور شہادت ضروری نہیں زبان ہی سے ہو، قرآن مجید کے مطابق حالت کی بھی شہادت ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : ( مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭ )[ التوبۃ : ١٧ ] ” مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ “ اور فرمایا : (اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْد، وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ) [ العادیات : ٦، ٧ ] ” بیشک انسان اپنے رب کا یقیناً بہت ناشکرا ہے اور بیشک وہ اس بات پر یقیناً خود گواہ ہے۔ “ معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت ہی توحید ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ “ [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین : ١٣٨٥ ] اس لیے انسان کی ذات میں اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کے رب واحد ہونے کے دلائل ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اگر کوئی بھی رسول نہ آتا تو انسان پر عقل، فطرت سلیمہ اور اپنی ذات اور کائنات میں موجود توحید کے بیشمار دلائل کی وجہ سے شرک سے بچنا لازم تھا، اگر وہ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس سے مؤاخذہ فرمائے۔ مگر قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا یہ بیحد و حساب رحم و کرم ثابت ہے کہ انسان کے نفس پر اس کی اپنی شہادت کے باوجود وہ رسولوں کے ذریعے سے حق واضح کیے بغیر عذاب نہیں دیتا، فرمایا : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : ١٥ ] ” اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ “ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ دیکھنے کے لیے آنکھ میں نور ہونا بھی ضروری ہے اور سورج، چاند یا کسی اور چیز کے ذریعے سے روشنی ہونا بھی ضروری ہے، آنکھ میں روشنی نہ ہو یا باہر روشنی نہ ہو تو نظر نہیں آتا۔ فطرت میں رکھی ہوئی عقل اور کائنات کے دلائل رب کی پہچان کے لیے آنکھ کے نور کی طرح ہیں اور پیغمبر سورج اور چاند کی طرح اس کے لیے دلائل کو روشن کرکے سمجھانے والے ہیں۔ شیخ صالح آل الشیخ نے شرح عقیدہ طحاویہ میں فرمایا کہ اہل السنہ کے بہت سے ائمہ مثلاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، ابن ابی العز حنفی شارح طحاویہ، شیخ عبد الرحمان سعدی اور دوسرے کئی ائمہ (رض) نے ” واخذ ربک “ کی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھ اور سورج کی روشنی کی مثال ان ائمہ کی تفسیر کا حصہ نہیں۔ دوسری تفسیر وہ میثاق (عہد و پیمان) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تمام اولاد آدم کو نکال کر ان سے لیا اور جو عموماً عہد الست سے مشہور ہے، وہ عبداللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ (رض) سے منقول ہے۔ چناچہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نعمان (نون کے فتحہ کے ساتھ) یعنی عرفہ میں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے میثاق (عہد و پیمان) لیا، چناچہ اس کی پشت سے تمام اولاد جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی تھی نکالی اور اس کے آگے بکھیر دی، پھر ان سے آمنے سامنے بات کی، فرمایا : (اَلست بربکم)” کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟ “ انھوں نے کہا : (بلٰی) کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی ! (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔ آخر آیات تک۔ [ أحمد : ١؍٢٧٢، ح : ٢٤٥٩۔ مستدرک حاکم : ٢؍٥٤٤، ح : ٤٠٠٠ ] حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے، شوکانی اور بہت سے علماء نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے، مگر قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ میں کئی لحاظ سے فرق ہے، ایک تو یہ کہ آیت میں (مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ ) ہے ” مِنْ آدَمَ “ نہیں، دوسرا ( مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ) ہے ” مِنْ ظَہْرِہِ “ نہیں۔ تیسرا (ذُرِّيَّتَهُمْ ) ہے، ” ذُرِّیَّتَہُ “ نہیں، چوتھا یہ کہ فرمایا : (وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ) گواہ کو وہ بات یاد تو ہونی چاہیے جس کی گواہی اس نے دینی ہے جبکہ وہ عہد کسی کو یاد نہیں، البتہ انسان کے نفس اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور توحید کے دلائل کا وہ خود فطری شاہد ہے، یہ الگ بات ہے کہ گندے عقیدوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی فطرت پر پردہ پڑگیا ہو۔ اگر کوئی کہے کہ بیشک آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکلتے وقت کیا ہوا عہد ہمیں یاد نہیں مگر پیغمبروں کا اس میثاق کو یاد کرا دینا ہی کافی ہے تو حافظ ابن کثیر (رض) نے اس کا جواب دیا ہے کہ مشرک تو پیغمبروں کی کوئی بات صحیح مانتے ہی نہیں تھے، ان کا یاد کرا دینا ان پر حجت کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ (جب کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اس گواہ بنانے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے، جس طرح رسولوں کے بھیجنے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے) غرض ابن ابی العز نے شرح عقیدہ طحاویہ میں آیت اور احادیث کے درمیان دس فرق بیان کیے ہیں۔ اس لیے دونوں الگ الگ ہیں، ہاں ! تطبیق کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالنا بھی آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اس کی اولاد کو نکالنے ہی کی تفصیل ہے۔ (واللہ اعلم) اَنْ تَقُوْلُوْا : یہ اصل میں ” لِءَلَّا تَقُوْلُوْا “ یا ” کَرَاھَۃَ اَنْ تَقُوْلُوْا “ ہے، یعنی یہ عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تو یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگو کہ ہم تو اس سے بیخبر تھے۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The covenant of Alust: عہد الست These two verses describe the event of the great heavenly covenant which the Creator, Allah, made with all His created being even before they took the form of their existence. This covenant is known as the covenant of Alust (أَلَسْتُ ). Allah is the creator of all the worlds, the heavens, the earth and whatever exists between them. His infinite wisdom and all-encompassing knowledge has designed and manufactured this universe with as much perfection as leaves no room for any doubt or question. He has created everything with a wise set of rules and regu¬lations. Following these laws ensures people of eternal success and everlasting peace and comfort while deviation from these principles makes one liable to punishments prescribed by Allah. We may also note that His all-encompassing knowledge and infi¬nite wisdom was enough to decide the fate of all the created beings without assigning His angels to watch over and keep the record of the deeds of His servants, and without weighing their deeds in the Balance on the Day of Judgment. It is because He is All-Aware of the deeds, even of the hidden thoughts and intentions of His servants without the remotest possibility of making wrong judgment. His Grace and perfect Justice, however, chose that none should be punished without providing him with documentary evidences of his sinful acts, in a way, that sinner himself finds no choice but to readily acknowledge his sinful deeds. He appointed some of His angels to record each and every act done by an individual. The Holy Qur&an said: مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَ‌قِيبٌ عَتِيدٌ ﴿١٨﴾ |"He utters not a word but there is by him a vigilant watcher1.|" (50:18) 1. According to Sayyidna Ibn ` Abbas , LI everything good or bad about a mortal is recorded by his guardian angels|" (A study of al-Qur&an al-Karim vol. 4 p. 969, by La&l Muhammad Chawla) )Translator) In another verse the Holy Qur&an said: وَكُلُّ صَغِيرٍ‌ وَكَبِيرٍ‌ مُّسْتَطَرٌ‌ ﴿٥٣﴾ And everything small and great is written down.|" (54:53) Then, on the Day of Judgment the Balance shall be set to weigh the good and bad deeds of all people. Those whose good deeds weigh heavy shall be rewarded with salvation while those whose bad deeds weigh heavier shall be punished. Moreover, when Allah, the Best of All Judges shall hold His court on the Day of Judgment, He shall call for witnesses on the deeds of every individual. Certain wrongful people shall falsify certain witnesses. Allah shall ask his physical organs to bear witness to his deeds. They shall be given power to speak and bear witness against him. The places where the deeds were done shall also come to witness against him until he shall find no way to belie the witnesses and finally will make confession of his evil deeds. The Holy Qur&an referred to it in these words: فَاعْتَرَ‌فُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ‌ ﴿١١﴾ |"So, they will confess their sins, but far removed (from Allah&s Mercy) are the companions of the blazing fire.|" (67:11) We also note that Allah, who is the most kind and loving did not leave His servants at the mercy of law and regulations only. He, out of His kindness, provided His servants with complete guidance through His prophets and the Books, in order to save them from eternal punishment. Like the kind parents who make it essential for their children to go to school every morning also make sure that their children get all their requirements ready before time to facilitate their following the law of school-going with all possible ease. Allah, who is free from all similarities is more loving and kind to His servants than are the parents to their children. He did not only formulate the laws but made them a source of real guidance. Along with the commandments He also taught how people can carry out His commandments with ease and readiness. Apart from sending His messengers and divine books to His servants He appointed a large number of His angels to help and guide people to the right path. Besides, He created .clear signs of His Power and wisdom all around so that people may use their own observation and understanding to distinguish right from wrong, and to remember their Creator. He repeatedly invited people to make use of their obser¬vation and understanding when seeing His signs scattered all around them. He said, in the Holy Qur&an : وَفِي الْأَرْ‌ضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ﴿٢٠﴾ وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿٢١﴾ |"And on the earth are signs for those who have firm faith, and also in your own selves. Do you not see then?|" 1 (51:20-21) 1. This verse has referred to two kinds of signs; external and internal. The external signs are profusely available all around us; the heavens the earth, the oceans, mountains, plants and trees, fruits of different colour and taste; they provide us with unmistakable guidance to our Lord. The internal signs include the process of our reproduction, our physique, our thoughts, intentions emotions and sentiments of happiness and sorrow. A little reflection on these signs positively leads us to the Creator and makes us to express our gratefulness to Him. (Translator) Another arrangement made by Allah to make people act right¬eously was to make them enter into covenants with Him through His Prophets (علیہم السلام) . The Holy Qur&an has references to a number of such cove¬nants made with various people in varied circumstances. The Prophets (علیہم السلام) were made to promise that they shall essentially convey Allah&s message to their people without any regard to difficulties and reproach from them. This pious group of prophets (علیہم السلام) did convey Allah&s message as faithfully as was possible and sacrificed all that they had in this way. Similarly the people of every prophet were made to promise to obey their prophet, and in some special cases, to spend all their energy in carrying out particular commands. Some people fulfilled their promise while some others did not. Among such covenants the most significant one is the covenant which all the prophets were made to enter regarding the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that all the prophets shall follow the last of all prophets and assist him when they find some opportunity to do so. The Holy Qur&an has mentioned this covenant in the following verse: وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَ‌سُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُ‌نَّهُ |"And when Allah made the prophets take pledge: (saying) If I give you a book and wisdom, then comes to you a messenger verifying what is with you, you shall have to believe in him and you shall have to support him1.|" (3:81) 1. By implication this pledge taken by all the prophets makes it binding on the followers of all the prophets to believe in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and to follow him and support him in achieving his objectives. It makes binding upon them to follow the law given by the last of all Prophets. (Translator) The Significance of Bay&ah بَیعَت Swearing Allegiance) The traditional way of taking pledge (bay&ah: discipleship) from the devoted followers, is in fact, in pursuance of this practice of Allah. The Prophets (علیہم السلام) ، their companions and spiritual leaders have been taking the pledge of allegiance from their followers. The incident of اَلرِضوَان بَیعَت &Bay&ah al-Rizwan& has been mentioned in the Holy Qur&an. It said: لَّقَدْ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَ‌ةِ |"Allah was certainly well pleased with the believers when they swore fidelity to you (0 Prophet) under the tree.|" (48:18) The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took such pledge of allegiance from his companions on many occasions. &Bay&ah al-&Aqabah& is a famous pre-migration covenant made with the Ansars of Madinah. The custo¬mary way of Sufis to take pledge from their followers, is a covenant taken for practising the commandments of Allah regularly and strengthening their belief in Allah by frequent remembrance of their Lord. The way of swearing fealty to someone has many advantages and draws &Barakah& from Allah. After swearing fealty to some Sheikh (Spiritual Master), a follower feels himself more willing and inclined to practise the religious obliga¬tions, and is more conscious in seeking the pleasure of Allah. The above description of Bay&ah also clears away a misconception common among the men of little knowledge that by putting one&s hand in the hands of some Sheikh or spiritual leader is enough for one&s salvation in the Hereafter. This is absolutely an erroneous notion as swearing allegiance is a pledge taken for following practical guidance according to the instructions given by the Sheikh. Therefore, only placing one&s hands into the hands of a Sheikh is simply of no use. Rather, it is a deviation from the pledge and may incur the wrath of Allah. The verse (172) speaking of the covenant of Eternity عہداَلَست in the preceding pages has used the word ذُرِّیِّۃ for the children of Adam. According to Imam Raghib al-Isfahani the word ذُرِّیِّۃ has been derived from the Arabic root ذرء which signifies to create. The Holy Qur&an has used this word to signify the same meanings in a number of verses. The word &Dhurriyyah& (. ذُرِّیِّۃ) therefore signifies all those created. This implies that the covenant of Eternity included all the human beings as they are the progeny of Adam (علیہ السلام) . We find some more information about this covenant in the litera¬ture of Hadith. Imam Malik, Abu Dawud, Tirmidhi and Imam Ahmad have reported on the authority of Muslim bin Yasar that some people asked the Caliph &Sayyidna ` Umar al-Faruq (رض) of the connotation of this verse. He said that the same question was put to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the answer of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he heard it was as follows: |"Allah Almighty first created Adam then He placed His hand upon his back, and drew forth all the righteous descendants of Adam who were to come into being and said, |"I have created them for the Paradise, and they shall act righteously as to deserve Paradise. Then He placed His hand on the back of Adam and all the wicked descendants that were to come into being appeared. He said, |"I have created them for the Hell, and they shall act wickedly as to lead them to Hell.|" Someone from among the companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked him, |"When Allah has already decided the fate of the mankind why the people are asked to do good deeds, while they are of no effect. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Whoever is created for Paradise, he starts doing good deeds making him worthy of paradise and he dies in this state, while the one created for the Hell involves himself in wicked acts making him liable of the fires of Hell until he dies doing such deeds as leads him to the Hell.|" That is to say, when one is not aware of the category he belongs to, he must invest all his effort and energy in doing such deeds as are the characteristics of the people of Paradise and should be hopeful of his being one among them. The Tradition reported by Imam Ahmad on the authority of the Companion Abu al-Darda& (رض) has added that the people who appeared the first time were of fair colour while those appearing the second time were black. The same description reported by Tirmidhi on the authority of the Companion Abu Hurairah (رض) has additionally reported that all the children of Adam (علیہ السلام) who were to come in the world upto the end of time had a kind of brilliance on their foreheads. Here we are faced with two descriptions apparently differing from one another. The descriptions given by the above traditions have described the children of Adam coming out of the back of the Prophet Adam (علیہ السلام) while the Qur&anic verse under discussion has related them as coming forth from the backs of the progeny of Adam (علیہ السلام) . In fact, there is no conflict between the two descriptions as the direct descendants of Adam are described as coming forth from the back of Adam (علیہ السلام) while the people coming after them have been described as coming forth from the backs of his descendants. The aim of this pledge taken from the whole mankind was to make them acknowledge that Allah Almighty is the Nourisher, The Sustainer or the Lord of all the created beings. This implies that the children of Adam (علیہ السلام) coming forth from the back of the Prophet Adam (علیہ السلام) were not in the form of spirit alone but also had a certain kind of physique made of some fine elements. It is because the function of nourishing is directly related to body which is made to progress from one state to another. The spirits do not require this kind of nourishment as they remain in one state from the moment of their creation. This is also supported from the above traditions speaking of the fair and black colour or the brilliance on their forehead because both, the colour and brilliance, require some material form to show their existence. The spirits obviously have no colour. One may wonder how all the human beings to be created up to the Last Day could have gathered in one place. This also has been explained by the Tradition narrated by the Companion Abu al-Darda& (رض) which said that they did not appear with their usual size rather they appeared in the size of a small ant. In this age of scientific knowledge it should be of no surprise how a man of human size can be reduced to the size of an ant. The science has established the fact that a perfect system similar to our solar system is functioning in and around the nucleus of an atom. The books of hundreds of pages can be reduced to a dot of small size through a process of micro filming. It should not, therefore, be a matter of surprise that Allah, the All-Powerful, might have reduced them to the size of an ant at this occa¬sion. The above discussion with regard to the covenant of eternity gives rise to a couple of questions: 1. Which was the time and place of the covenant? 2. This pledge was taken prior to the creation of all human beings, excluding Adam (علیہ السلام) . How did the children of Adam have knowledge and reason to acknowledge Allah almighty as being the Nourisher or their Lord which requires the experience of their being nourished which was not possible prior to coming as human being on the earth. The first question has been answered by the Companion ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) as reported through authentic sources by Imam Ahmad and Nasa&i that the covenant was taken at the time when Adam (علیہ السلام) was sent down from heavens to the earth. The place was the valley of Nauman known as the plain of ` Arafat (Near Makkah). As to the second question with regard to inability of their acknowl¬edging Allah as their Lord prior to their creation, the answer is quite simple. Allah Almighty who has all the powers to do anything He wills, and who was able to make all the human beings appear in a size of an ant could more easily imbue knowledge and reason enough to make them capable of recognizing their Lord, the Nourisher. Allah made them appear with body and soul in a small size with all the physical functions needed by a perfect human being. Reason and understanding being the most significant functions must have been included. Another question which remains unsettled is as to what value can be attached to a covenant occurring prior to the actual creation of human beings, and which is not remembered by them after they take their actual existence on the earth? Before proceeding to answer this question we may add that, in some cases, there have been individuals who remembered the occasion of this covenant. For example, the great spiritual leader Dhul Nun al-Misri has said, |"I remember the occur¬rence of this covenant as clearly as I am hearing it this very moment.|" Some of the elders have reported to have remembered even the people who were present near them. True, that such cases are rare and do not make an answer to the above question. The answer to this question, therefore, is that there are many things or acts which are effective in their very nature without any regard to their being remembered or understood by others. They imprint the effect on others quite naturally. For example, the common practice, among Muslims, of saying Adhan1 in the right ear of a new born and reciting iqamah in his left ear is an obvious example of such acts. The baby neither understands the meaning of this call nor does he remember it after becoming an adult. The wisdom behind this religious practice is nothing but to revive the pledge he has taken with Allah, and sow the seed of Faith in his heart by repeating the message of the covenant in his ears. The influence of this act is so obvious that can be seen in every Muslim individual even if he is not practically a good Muslim. He takes pride in calling himself a Muslim and utterly dislikes being deprived of this categorical entity. 1. Adhan is a call for salah the ritual prayer which in fact is a bold declaration that Allah is one, has no partners, and is the greatest of all etc. while iqamah is the same declaration with added enunciation that the salah has been set ready to be joined by people. (Translator) Similarly the commandment of reciting the Qur&an even to those who do not know Arabic is perhaps for the same reason that their hearts are enlightened with the impact of the Qur&anic words, and their Faith in Allah is renovated therewith. The wisdom behind this covenant is similarly to sow the seed of Faith in the heart of every human being. This seed is taking its nour¬ishment in the soil of human heart , no matter whether people are conscious of it or not. The fruit of this seed manifests itself in the form of love and respect for god (Allah) which is a part of human nature. The expression of this love and respect, may take unjust forms like worshipping false gods - idols or created beings. The worships, just or unjust, is in itself, an expression of love and respect for the creator. The billions of people have this respect and love for Allah which is expressed by them through their worship according to their ideas of worship guided by their knowledge or ignorance. There is no need to speak of those few who, under the influence of mundane pursuits have deteriorated their natural understanding and forgot the pledge they made with Allah. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: کُلُّ مَولُودِ یُولَدُ عَلَی الفِطرَۃِ every baby is born on Fitrah (nature, that is, Islam) then he is converted by his parents to their religion. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said in a Tradition that Allah Almighty has said, &I have created my servants as Hanif, that is, having faith in Allah, the One, then they were led astray by Satanic influences.|" The next sentence of the verse has said: أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَافِلِينَ |"Lest you should say on the Day of Doom, |"We were ignorant of this.|" That is to say, the pledge taken by Allah has lit the candle of Faith in their hearts. Now with little reflection they can easily recognize Him as their Lord. Therefore, their excuse of ignorance shall not be of any avail to them on the Day of Judgment.

خلاصہ تفسیر ( ان سے اس وقت کا واقعہ ذکر کیجئے) جب کہ آپ کے رب نے ( عالم ارواح میں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تو خود ان کی اولاد کو اور) اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ( ان کو سمجھ عطا کرکے) ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے ( اس عقل خداداد سے حقیقت امر کو سمجھ کر) جواب دیا کہ کیوں نہیں ( واقعی آپ ہمارے رب ہیں، حق تعالیٰ نے وہاں جتنے ملائکہ اور مخلوقات حاضر تھے سب کو گواہ کرکے سب کی طرف سے فرمایا) ہم سب واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں ( اور یہ اقرار اور شہادت سب اس لئے ہوا کہ) تاکہ تم لوگ ( یعنی جو تم میں ترک توحید اور اختیار شرک پر سزا پائیں) قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس ( توحید) سے محض بیخبر تھے یا یوں کہنے لگو کہ ( اصل) شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کے نسل میں ہوئے ( اور عادةً نسل عقائد و خیالات میں تابع اپنی اصل کے ہوتی ہے اس لئے ہم بےخطا ہیں، پس ہمارے فعل پر تو ہم کو سزا ہو نہیں سکتی، اگر ہوگی تو لازم آتا ہے کہ ان بڑوں کی خطا میں ہم ماخوذ ہوں) سو کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر آپ ہم کو ہلاکت میں ڈالے دیتے ہیں ( سو اب اس اقرار و اشہاد کے بعد تم یہ عذر نہیں پیش کرسکتے پھر اس کے بعد ان سب سے وعدہ کیا گیا کہ یہ عہد تم کو دنیا میں پیغمبروں کے ذریعہ سے یاد دلایا جائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا یہاں بھی اول میں اِذْ اَخَذَ کے ترجمہ سے معلوم ہوا کہ آپ کو اس واقعہ کے ذکر کا حکم ہوا) آخر میں بھی اس یاد دھانی کو جتلاتے ہیں کہ) ہم اسی طرح ( اپنی) آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ( تاکہ ان کو اس عہد کا ہونا معلوم ہوجائے) اور تاکہ ( معلوم ہونے کے بعد شرک وغیرہ سے) وہ باز آجائیں۔ معارف و مسائل : عہد الست کی تفصیل و تحقیق : ان آیتوں میں اس عظیم الشان عالمگیر عہد و پیمان کا ذکر ہے جو خالق و مخلوق اور عبد و معبود کے درمیان اس وقت ہوا جب کہ مخلوق اس جہان کون و فساد میں آئی بھی نہ تھی، جس کو عہد ازل یا عہد الست کہا جاتا ہے۔ اللہ جل شانہ سارے عالموں کا خالق ومالک ہے، زمین و آسمان اور ان کے درمیان اور ان کے ماسوا جو کچھ ہے اس کی مخلوق اور ملک ہے، نہ اس پر کوئی قانون کسی کا چل سکتا ہے، نہ اس کے کسی فعل پر کسی کو کوئی سوال کرنے کا حق ہے۔ لیکن اس نے محض اپنے فضل و کرم سے عالم کا نظام ایسا بنایا ہے کہ ہر چیز کا ایک ضابطہ اور قانون ہے، قانون کے موافق چلنے والوں کے لئے ہر طرح کی دائمی راحت اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے ہر طرح کا عذاب مقرر ہے۔ پھر خلاف ورزی کرنے والے مجرم کو سزا دینے کے لئے اس کا ذاتی علم محیط کافی تھا جو عالم کے ذرہ پر حاوی ہے اور اس کے لئے کھلے اور چھپے ہوئے تمام اعمال و افعال بلکہ دلوں میں پوشیدہ ارادے تک بالکل ظاہر ہیں اس لئے کوئی ضرورت نہ تھی کہ نگران مقرر کئے جائیں، اعمال نامے لکھے جائیں، اعمال تولے جائیں اور گواہ کھڑے کئے جائیں۔ لیکن اسی نے خالص اپنے فضل و کرم سے یہ بھی چاہا کہ کسی کو اس وقت تک سزا نہ دیں جب تک دستاویزی ثبوت اور ناقابل انکار شہادتوں سے اس کا جرم اس کے سامنے اس طرح کھل کر نہ آجائے کہ وہ خود بھی اپنے مجرم ہونے کا اعتراف کرلے اور اپنے آپ کو مستحق سزا سمجھ لے۔ اس کے لئے ہر انسان کے ساتھ اس کے ہر عمل اور قول کو لکھنے والے فرشتے مقرر فرما دیئے (آیت) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ، یعنی کوئی کلمہ انسان کی زبان سے نہیں نکلتا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نگرانی کرنے والا فرشتہ مقرر نہ ہو، پھر محشر میں میزان عدل قائم فرما کر انسان کے اعمال نیک و بد کو تولا جائے گا، اگر نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگیا تو نجات پائے گا اور گناہوں اور جرائم کا پلہ بھاری ہوگیا تو گرفتار عذاب ہوگا۔ اس کے علاوہ جب احکم الحاکمین کا دربار عام محشر میں قائم ہوگا تو ہر ایک کے عمل پر شہادتیں بھی لی جائیں گی بعض مجرم گواہوں کی تکذیب کریں گے تو اس کے ہاتھ پاؤں اور اعضاء وجوارح سے اور اس زمین و مکان سے جس میں یہ افعال کئے گئے گواہی لی جائے گی وہ سب بحکم خداوندی گویا ہو کر صحیح صحیح واقعات بتلا دیں گے یہاں تک کہ مجرمین کو انکار و تکذیب کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا وہ اعتراف و اقرار کریں گے، (آیت) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ ۔ پھر رؤف و رحیم مالک نے اس نظام عدل و انصاف کے قائم کرنے ہی پر اکتفاء نہیں فرمایا، اور دنیا کی حکومتوں کی طرح نرا ایک ضابطہ اور قانون ان کو نہیں دے دیا بلکہ قانون کے ساتھ ایک نظام تربیت قائم کیا جیسے بلا تشبیہ کے کوئی شفیق باپ اپنے گھریلو معاملات کو درست رکھنے اور اہل و عیال کو تہذیب و ادب سکھانے کے لئے کوئی گھریلو قانون اور ضابطہ بناتا ہے کہ جو شخص اس کے خلاف کرے گا اس کو سزا ملے گی، مگر اس کی شفقت و عنایت اس کو اس پر بھی آمادہ کرتی ہے کہ ایسا انتظام کرے جس کے سبب ان میں سے کوئی سزا کا مستحق نہ ہو بلکہ سب کے سب اس ضابطہ کے مطابق چلیں، بچہ کے لئے اگر صبح کو اسکول جانے کی ہدایت اور اس کے خلاف کرنے پر سزا مقرر کردی ہے تو باپ سویرے اس کی بھی فکر کرتا ہے کہ بچہ اس کام کے لئے وقت سے پہلے تیار ہوجائے۔ رب العالمین کی رحمت اپنی مخلوق پر ماں اور باپ کی شفقت و رحمت سے کہیں زائد ہے اس لئے اس نے اپنی کتاب کو محض قانون اور تعزیرات نہیں بنایا بلکہ ایک ہدایت نامہ بنایا ہے اور ہر قانون کے ساتھ ایسے طریقے بھی سکھائے ہیں جن کے ذریعہ قانون پر عمل سہل ہوجائے۔ اسی نظام ربوبیت کے تقاضے سے اپنے انبیاء بھیجے ان کے ساتھ آسمانی یدایت نامے بھیجے، فرشتوں کی بہت بڑی تعداد نیکیوں کی طرف ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لئے مقرر فرمادی۔ اسی نظام ربوبیت کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ ہر قوم اور ہر فرد کو غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے رب کریم کو یاد کرنے کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کئے، زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اور دن رات کے تغیرات اور خود انسان کے اپنے وجود کی کائنات میں اپنی یاد دلانے والی ایسی نشانیاں رکھ دیں کہ اگر ذرا بھی ہوش سے کام لے تو کسی وقت اپنے مالک کو نہ بھولے، (آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، یعنی زمین میں اہل بصیرت کے لئے ہماری نشانیاں ہیں، اور خود تمہارے وجود میں بھی، کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے۔ اسی طرح غافل انسان کو بیدار کرنے اور عمل صا لح پر لگانے کے لئے ایک انتظام رب العالممین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ افراد اور جماعتوں اور قوموں سے مختلف اوقات اور حالات میں اپنے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ عہد و پیمان لے کر ان کو قانون کی پابندی کے لئے تیار کیا گیا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں بہت سے معاہدات و مواثیق کا ذکر کیا گیا ہے جو مختلف جماعتوں سے مختلف اوقات و حالات میں لئے گئے، انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا گیا کہ جو کچھ ان کو حق تعالیٰ کی طرف سے پیغام رسالت ملے وہ اپنی اپنی امتوں کو ضرور پہنچا دیں گے، اس میں ان کے لئے کسی کا خوف اور لوگوں کی ملامت و توہین کا اندیشہ حائل نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کی اس مقدس جماعت نے اپنے اس معاہدہ کا پورا حق ادا کردیا، پیغام رسالت کے پہنچانے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ اسی طرح ہر رسول و نبی کی امت سے اس کا معاہدہ لیا گیا کہ وہ اپنے اپنے انبیاء کا اتباع کریں گے، پھر خاص خاص اہم معاملات میں خصوصیت کے ساتھ اس کے پورا کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کا عہد لیا گیا، جس کو کسی نے پورا کیا کسی نے نہیں کیا۔ انہی معاہدات میں سے ایک اہم معاہدہ وہ ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) سے ہمارے رسول کریم محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں لیا گیا کہ سب انبیاء نبی امی خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کریں گے، اور جب موقع پائیں گے ان کی مدد کریں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے : (آیت) وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ، یہ تمام عہود و مواثیق حق تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے مظاہر ہیں اور مقصد ان کا یہ ہے کہ انسان جو کثیر النسیان ہے اکثر اپنے فرائض کو بھول جاتا ہے، اس کو بار بار ان معاہدات کے ذریعہ ہوشیار کیا گیا تاکہ وہ ان کی خلاف ورزی کرکے تباہی میں نہ پڑجائے۔ بیعت لینے کی حقیقت : انبیاء علہیم السلام اور ان کے نائب علماء و مشائخ میں بھی جو بیعت لینے کا دستور رہا ہے وہ بھی اسی سنت الہیہ کا اتباع ہے، خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے معاملات میں صحابہ کرام سے بیعت لی، جن میں سے بیعت رضوان کا تذکرہ قرآن کریم میں ان لفاظ کے ساتھ موجود ہے (آیت) لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، یعنی اللہ راضی ہوگیا ان لوگوں سے جنہوں نے ایک خاص درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ہجرت سے پہلے انصار مدینہ کی بیعت عقبہ بھی اسی قسم کے معاہدات میں سے ہے۔ بہت سے صحابہ کرام (رض) اجمعین سے ایمان اور عمل صالح کی پابندی پر بیعت لی۔ صوفیائے کرام میں جو بیعت مروّج ہے وہ بھی ایمان اور عمل صالح کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کے اہتمام کا عہد ہے اور اسی سنت اللہ اور سنت الانبیاء کا اتباع ہے، اسی وجہ سے اس میں خاص برکات ہیں کہ انسان کو گناہوں سے بچنے اور احکام شرعیہ بجا لانے کی ہمت اور توفیق بڑھ جاتی ہے۔ بیعت کی حقیقت معلوم ہونے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جس طرح کی بیعت عام طور پر ناواقف جاہلوں میں رواج پاگئی ہے کہ کسی بزرگ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دینے ہی کو نجات کے لئے کافی سمجھ بیٹھتے ہیں، یہ سراسر جہالت ہے، بیعت ایک معاہدہ کا نام ہے، اس کا فائدہ جبھی ہے جب اس معاہدہ کو عملا پورا کیا جائے ورنہ وبال کا خطرہ ہے۔ سورة اعراف کی گذشتہ آیت میں ان معاہدات کا ذکر تھا جو بنی اسرائیل سے احکام تورات کی پابندی کے سلسلے میں لئے گئے تھے، مذکور الصدر آیات میں اس عالمگیر معاہدہ کا بیان ہے جو تمام اولاد آدم سے اس عالم دنیا میں آنے سے بھی پہلے ازل میں لیا گیا جو عام زبانوں پر عہد الست کے نام سے معروف و مشہور ہے۔ (آیت) وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ، ان آیتوں میں اولاد آدم کے لئے لفظ ذریت استعمال فرمایا ہے، امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ یہ لفظ دراصل لفظ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں پیدا کرنے کے، قرآن کریم میں کئی جگہ یہ لفظ اس معنی کے لئے استعمال ہوا ہے (آیت) وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا، وغیرہ، اس لئے ذریت کا لفظی ترجمہ مخلوق کا ہوا، اس لفظ سے اشارہ کردیا گیا کہ یہ عہد ان تمام لوگوں کے لئے عام و شامل تھا جو آدم (علیہ السلام) کے واسطہ سے اس دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ روایات حدیث میں اس عہد ازل کی مزید کچھ تفصیلات آئی ہیں : امام مالک، ابوداؤد، ترمزی اور امام احمد نے بروایت مسلم بن یسار نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت فاروق اعظم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تھا، آپ سے جو جواب میں نے سنا ہے وہ یہ ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، پھر اپنا دست قدرت ان کی پشت پر پھیرا تو ان کی پشت سے جو نیک انسان پیدا ہونے والے تھے وہ نکل آئے تو فرمایا کہ ان کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنت ہی کے کام کریں گے، پھر دوسری مرتبہ ان کی پشت پر دست قدرت پھیرا تو جتنے گناہ گار بد کردار انسان ان کی نسل سے پیدا ہونے والے تھے ان کو نکال کھڑا کیا اور فرمایا کہ ان کو میں نے دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخ میں جانے ہی کے کام کریں گے۔ صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ جب پہلے ہی جنتی اور دوزخی متعین کردیئے تو پھر عمل کس مقصد کے لئے کرایا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو جنت کے لئے پیدا فرماتے ہیں تو وہ اہل جنت ہی کے کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ کسی ایسے ہی کام پر ہوتا ہے جو اہل جنت کا کام ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو دوزخ کے لئے بناتے ہیں تو وہ دوزخ ہی کے کام میں لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا خاتمہ بھی کسی ایسے ہی کام پر ہوتا ہے جو اہل جہنم کا کام ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو معلوم نہیں کہ وہ کس طبقہ میں داخل ہے تو اس کو اپنی توانائی اور قدرت و اختیار ایسے کاموں میں خرچ کرنا چاہئے جو اہل جنت کے کام ہیں اور یہی امید رکھنا چاہئے کہ وہ انہی میں سے ہوگا۔ اور امام احمد کی روایت میں یہی مضمون بروایت حضرت ابوالدرداء (رض) منقول ہے، اس میں اتنا اور زیادہ ہے کہ پہلی مرتبہ جو لوگ آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکلے وہ سفید رنگ کے تھے جن کو اہل جنت فرمایا، اور دوسری مرتبہ سیاہ رنگ کے تھے جن کو اہل جہنم قرار دیا۔ اور ترمذی میں یہی مضمون بروایت ابوہریرہ (رض) منقول ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ اس طرح قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم جو ظہور میں آئی ان میں سے ہر ایک کی پیشانی پر ایک خاص قسم کی چمک تھی۔ اب غور طلب یہ ہے کہ ان احادیث میں تو ذریت کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے لینے اور نکالنے کا ذکر ہے اور قرآن کریم کے الفاظ میں بنی آدم یعنی اولاد آدم کی پشت سے نکالنا مذکور ہے۔ تطبیق اس کی یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان لوگوں کو نکالا گیا جو بلا واسطہ آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونے والے تھے، پھر ان کی نسل کی پشت سے دوسروں کو اور اسی طرح جس ترتیب سے اس دنیا میں اولاد آدم پیدا ہونے والی تھی اسی ترتیب سے ان کو پشتوں سے نکالا گیا۔ حدیث میں سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے ان کی اولاد کو پھر اس اولاد سے ان کی اولاد کو ترتیب وار پیدا کیا گیا۔ قرآن مجید میں اس سب ذریت آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لینے میں اس کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ ذریت آدم جو اس وقت پشتوں سے نکالی گئی تھی صرف ارواح نہیں تھیں بلکہ روح اور جسم کا ایسا مرکب تھا جو جسم کے لطیف ترین ذرات سے بنایا گیا تھا، کیونکہ ربوبیت اور تربیت کی ضرورت زیادہ تر وہیں ہوتی ہے جہاں جسم و روح کا مرکب ہو اور جس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرنا ہو، ارواح کی یہ شان نہیں وہ تو اول سے آخر تک ایک ہی حال پر ہوتی ہیں، اس کے علاوہ احادیث مذکورہ میں جو ان کے رنگ سفید و سیاہ مذکور ہیں یا ان کی پیشانی کی چمک مذکور ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ صرف روح بلا جسم نہیں تھی ورنہ روح کا تو کوئی رنگ نہیں ہوتا، جسم ہی کے ساتھ یہ اوصاف متعلق ہوتے ہیں۔ اور اس پر کوئی تعجب نہ کیا جائے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسان ایک جگہ میں کس طرح سما گئے، کیونکہ حضرت ابوالدرداء کی حدیث مذکور میں اس کی بھی تصریح ہے کہ اس وقت جو ذریت پشت آدم (علیہ السلام) سے نکالی گئی تھی وہ اپنے اس ڈیل ڈول کے ساتھ نہیں تھی جس میں وہ دنیا میں آئیں گے بلکہ چھوٹی چیونٹی کے جثہ میں تھی، اور سائنس کی اس ترقی کے زمانہ میں تو کسی سمجھ دار انسان کو کوئی اشکال اس میں ہونا ہی نہیں چاہئے کہ اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ایک چیونٹی کے جثہ میں کیسے ظاہر ہوا، آج تو ایٹم کے اندر تمام نظام شمسی کے موجود ہونے کا تجربہ کیا جا رہا ہے، فلم کے ذریعہ بڑی سے بڑی چیز کو ایک نقطہ کی مقدار دکھلایا جاسکتا ہے، اس لئے یہ کیا مشکل ہے کہ حق تعالیٰ نے اس عہد و میثاق کے وقت تمام بنی آدم کو بہت چھوٹے جثہ میں وجود عطا فرمایا ہو۔ عہد ازل کے متعلق چند سوال و جواب : اس عہد ازل کے متعلق چند چیزیں اور قابل غور ہیں : اول یہ کہ عہد و اقرار کس جگہ اور کس وقت لیا گیا ؟ دوسرے یہ کہ جب اقرار اس حال میں لیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سوا کوئی دوسرا انسان پیدا بھی نہ ہوا تھا تو ان کو یہ عقل و علم کیسے حاصل ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچانیں اور اس کے رب ہونے کا اقرار کریں، کیونکہ ربوبیت کا اقرار وہ کرسکتا ہے جس نے شان تربیت کا مشاہدہ کیا ہو اور یہ مشاہدہ اس دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے ؟ پہلا سوال کہ یہ عہد و اقرار کس جگہ اور کس وقت لیا گیا، اس کے متعلق مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے جو روایت بسند قوی امام احمد، نسائی اور حاکم نے نقل کی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ عہد و اقرار اس وقت لیا گیا جب آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین پر اتارا گیا، اور مقام اس اقرار کا وادی نعمان ہے جو میدان عرفات کے نام سے معروف و مشہور ہے ( تفسیر مظہری) رہا دوسرا سوال کہ یہ نئی مخلوق جس کو ابھی وجود عنصری بھی پوری طرح عطا نہیں ہوا وہ کیا سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا کوئی پیدا کرنے والا اور پروردگار ہے، ایسی حالت میں ان سے سوال کرنا بھی ایک قسم کی ناقابل برداشت تکلیف ہے، اور وہ جواب بھی کیا دے سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق کا ئنات جس کی قدرت کاملہ نے تمام انسانوں کو ایک ذرہ کی صورت میں پیدا فرمایا اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ اس نے ان کو عقل و فہم اور شعور و ادراک بھی اس وقت بقدر ضرورت دے دیا ہو، اور یہی حقیقت ہے کہ اللہ جل شانہ نے اس مختصر وجود میں انسان کے تمام قوٰی کو جمع فرما دیا تھا جن میں سب سے بڑی قوت عقل و شعور کی ہے۔ انسان کے اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ شانہ کی عظمت وقدرت کی وہ بیشمار نشانیاں ہیں جن پر ذرا بھی غور کرنے والا اللہ تعالیٰ کی معرفت سے غافل نہیں رہ سکتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، یعنی زمین میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لئے اور خود تمہارے وجود میں بھی، کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے۔ یہاں ایک تیسرا سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ازلی عہد و پیمان کتنا ہی یقینی اور صحیح کیوں نہ ہو مگر کم از کم یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں آنے کے بعد یہ عہد کسی کو یاد نہیں رہا تو پھر عہد کا فائدہ کیا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اسی نوع بنی آدم میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہمیں یہ عہد پوری طرح یاد ہے، حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ یہ عہد و میثاق مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں، اور بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جس وقت یہ اقرار لیا گیا میرے آس پاس میں کون کون لوگ موجود تھے، ہاں یہ ظاہر ہے کہ ایسے افراد شاذ و نادر کے درجہ میں ہیں، اس لئے عام لوگوں کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو بالخاصہ اثر رکھتے ہیں، چاہے وہ کام کسی کو یاد رہے یا نہ رہے بلکہ اس کی خبر بھی نہ ہو مگر وہ اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ عہد و اقرار بھی ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے کہ دراصل اس اقرار نے ہر انسان کے دل میں معرفت حق کا ایک بیج ڈال دیا جو پرورش پارہا ہے چاہے اس کو خبر ہو یا نہ ہو، اور اسی بیج کے پھل پھول ہیں کہ ہر انسان کی فطرت میں حق تعالیٰ کی محبت و عظمت پائی جاتی ہے خواہ اس کا ظہور بت پرستی اور مخلوق پرستی کے کسی غلط پیرایہ میں ہو، وہ چند بدنصیب لوگ جن کی فطرت ہی مسخ ہو کر ان کا عقلی ذائقہ خراب ہوگیا اور میٹھے کڑوے کی پہچان جاتی رہی ان کے علاوہ باقی ساری دنیا کے اربوں انسان اللہ تعالیٰ کی دھن اور خیال اور عظمت سے خالی نہیں، پھر چاہے مادی خواہشات میں مبتلا ہو کر یا کسی گمراہ سوسائٹی میں پڑ کر وہ اس کو بھلا دیں، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کل مولود یولد علی الفطرة، وفی بعض الروایات علی ھذہ الملة (اخرجہ البخاری ومسلم) یعنی ہر پیدا ہونے والا دین فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو دوسرے خیالات میں مبتلا کردیتے ہیں، اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو حنیف یعنی ایک خدا کا ماننے والا پیدا کیا ہے پھر شیاطین ان کے پیچھے لگ گئے اور ان کو اس صحیح راستہ سے دور لے گئے۔ اسی طرح بالخاصہ اثر رکھنے والے بہت سے اعمال و اقوال ہیں جو اس دنیا میں بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم سے جاری ہیں جن کا اثر یہ ہے کہ ان کو کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اور یاد رکھے یا نہ رکھے وہ بہرحال اپنا کام کرتے اور اپنا اثر دکھلاتے ہیں۔ مثلا بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت و تکبیر کہنے کی جو سنت، ہر مسلمان جانتا ہے اور الحمداللہ پورے عالم اسلام میں جاری ہے، اگرچہ بچہ نہ کلمات کے معنی سمجھتا ہے نہ اس کو بڑا ہونے کے بعد یاد رہتا ہے کہ میرے کان میں کیا الفاظ کہے گئے تھے، اس کی حکمت یہی تو ہے کہ اس کے ذریعہ اس اقرار ازلی کو قوت پہنچا کر کانوں کی راہ سے دل میں ایمان کی تخم ریزی کی جاتی ہے، اور اسی کا یہ اثر مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بڑا ہونے کے بعد اگرچہ یہ اسلام اور اسلامیات سے کتنا ہی دور ہوجائے مگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور مسلمانوں کی فہرست سے الگ ہونے کو انہتائی برا سمجھتا ہے، اسی طرح جو لوگ قرآن کی زبان نہیں جانتے ان کو بھی تلاوت قرآن کا حکم شاید اسی حکمت پر مبنی ہے کہ اس سے بھی کم از کم یہ مخفی فائدہ ضرور پہنچ جاتا ہے کہ انسان کے قلب میں نور ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ یعنی یہ اقرار ہم نے اس لئے لیا ہے کہ تم قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس سے غافل تھے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس ازلی سوال و جواب سے تمہارے دلوں میں ایمان کی بنیاد ایسی قائم ہوگئی کہ ذرا بھی غور و فکر سے کام لو تو اللہ جل شانہ کی ربوبیت کے اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّيَّــتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ۝ ٠ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ۝ ٠ ۭ قَالُوْا بَلٰي۝ ٠ ۚۛ شَہِدْنَا۝ ٠ ۚۛ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اِنَّا كُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِيْنَ۝ ١٧٢ ۙ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له العقل والفهم والرّوية التي فضّل بها علی غيره، كما قال تعالی: وَفَضَّلْناهُمْ عَلى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضِيلًا [ الإسراء/ 70] ، وذلک من قولهم : الإدام، وهو ما يطيّب به الطعام وفي الحدیث : «لو نظرت إليها فإنّه أحری أن يؤدم بينكما» أي : يؤلّف ويطيب . ( ادم ) ادم ۔ ابوالبشیر آدم (علیہ السلام) بعض نے کہا ہے ۔ کہ یہ ادیم لارض سے مشتق ہے اور ان کا نام آدم اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کے جسم کو بھی ادیم ارض یعنی روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ادمۃ سے مشتق ہے جس کے معنی گندمی رنگ کے ہیں ۔ چونکہ آدم (علیہ السلام) بھی گندمی رنگ کے تھے اس لئے انہیں اس نام سے مسوسوم کیا گیا ہے چناچہ رجل آدم کے معنی گندمی رنگ مرد کے ہیں ۔ اور بعض آدم کی وجہ تسمیہ بیان ہے کہ وہ مختلف عناصر اور متفرق قویٰ کے امتزاج سے پیدا کئے گئے تھے ۔ جیسا کہ آیت { أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ } ( سورة الإِنْسان 2) مخلوط عناصر سے ۔۔۔۔ کہ اسے آزماتے ہیں ۔ سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ محاورہ ہے جعلت فلانا ادمہ اھلی میں فلاں کو اپنے اہل و عیال میں ملالیا مخلوط کرلیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آدم ادام سے مشتق ہے اور ادام ( سالن وغیرہ ہر چیز کو کہتے ہیں جس سے طعام لو لذیز اور خوشگوار محسوس ہو اور آدم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی روح ڈال کر اسے پاکیزہ بنا دیا تھا جیسے کہ آیت و نفخت فیہ من روحی (38 ۔ 72) اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ۔ میں مذکور ہے اور پھر اسے عقل و فہم اور فکر عطا کرکے دوسری مخلوق پر فضیلت بھی دی ہے جیسے فرمایا : { وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا } ( سورة الإسراء 70) اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ اس بناء پر ان کا نام آدم رکھا گیا ہے اور حدیث میں ہے (8) لو نظرت الیھا فانہ احری ان یودم بینکما اگر تو اسے اپنی منگیرکو ایک نظر دیکھ لے تو اس سے تمہارے درمیان الفت اور خوشگواری پیدا ہوجانے کا زیادہ امکان ہے ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

عہد الست قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں “۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی ربوبیت کے متعلق جو سوال کیا تھا وہ بعض انبیاء کی زبانی کیا گیا تھا۔ قول باری ہے ولقدذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن و انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے) لفظ جہنم پر داخل حرف لام کو لام عاقبت کہتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے فالتقطہ ال فرعون لبکون لھم عدواً وحزناً ۔ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے غم کا سبب بن جائے) فرعون کے آل نے اس مقصد کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں اٹھایا تھا لیکن جب انجام کار کے طور پر یہی صورت سامنے آئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے بارے میں اس کا اطلاق کردیا۔ شاعر کا مصرعہ بھی یہی مفہوم ادا کرتا ہے۔ لدواللموت وابنواللخراب۔ موت کے لئے پیدا کردہ اور تخریب کے لئے تعمیر کرو۔ یہ شعر بھی ہے۔ وام سماک فلاتجزعی…فللموت ماغذت الوالدہ…اے ام سماک ! آنسو نہ بہا اور آہ و بکا نہ کر اس لئے کہ ماں اپنے بچوں کی پرورش موت کے لئے کرتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٢) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ انکی اولاد کو ان کی پشتوں سے نکالا اور ان ہی سے اقرار لیا تو سب نے اس بات کا اقرار کیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ ان پر گواہ رہو اور ان سے کہا تم بھی ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے وعدہ نہیں لیا گیا تھا ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٢ (وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ ) یہ واقعہ عالم ارواح میں وقوع پذیر ہوا تھا جبکہ انسانی جسم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اہل عرب جو اس وقت قرآن کے مخاطب تھے ان کی اس وقت کی ذہنی استعداد کے مطابق یہ ثقیل مضمون تھا۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ انہیں پہلے تفصیل سے بتایا جاتا کہ انسانوں کی پہلی تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی اور دنیا میں طبعی اجسام کے ساتھ یہ دوسری تخلیق ہے اور پھر بتایا جاتا کہ یہ میثاق عالم ارواح میں لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس مضمون کو آسان پیرائے میں بیان کرنے کے لیے عام فہم الفاظ عام فہم انداز میں استعمال کیے گئے کہ جب ہم نے نسل آدم کی تمام ذریت کو ان کی پیٹھوں سے نکال لیا۔ یعنی قیامت تک اس دنیا میں جتنے بھی انسان آنے والے تھے ‘ ان سب کی ارواح وہاں موجود تھیں۔ (وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط) یعنی پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری (self conciousness) کے ساتھ یہ اقرار ہوا تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی ہوچکی ہے کہ انسان کی خود شعوری (self conciousness) ہی اسے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے جن میں شعور (conscious) تو ہوتا ہے لیکن خود شعوری نہیں ہوتی۔ انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص صرف انسان میں پھونکی ہے۔ چناچہ جب یہ عہد لیا گیا تو وہاں تمام ارواح موجود تھیں اور انہیں اپنی ذات کا پورا شعور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح انسانیہ سے یہ سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ‘ تمہارا مالک ‘ تمہارا آقا نہیں ہوں ؟ (قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَا ج) تمام ارواح نے یہی جواب دیا کہ تو ہی ہمارا رب ہے ‘ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ ہم اس پر گواہ ہیں۔ اب یہاں نوٹ کیجیے کہ یہ اقرار تمام انسانوں پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے سورة المائدۃ کی آیت ١٩ میں آچکا ہے : اے اہل کتاب ! تمہارے پاس آچکا ہے ہمارا رسول جو تمہارے لیے (دین کو) واضح کر رہا ہے ‘ رسولوں کے ایک وقفے کے بعد ‘ مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو آیا ہی نہیں تھا کوئی بشارت دینے والا اور نہ کوئی خبردار کرنے والا۔ تو یہ گویا اتمام حجت تھی اہل کتاب پر۔ اسی طرح سورة الانعام کی آیت ١٥٦ میں فرمایا : مبادا تم یہ کہو کہ کتابیں تو دی گئی تھیں ہم سے پہلے دو گروہوں کو اور ہم تو ان کتابوں کو (غیر زبان ہونے کی وجہ سے) پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ تو یہ اتمام حجت کیا گیا بنی اسماعیل پر کہ اب تمہارے لیے ہم نے اپنا ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم ہی میں سے بھیج دیا ہے اور وہ تمہارے لیے ایک کتاب لے کر آیا ہے جو تمہاری اپنی زبان ہی میں ہے۔ لہٰذا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے اپنی کتابیں تو ہم سے پہلے والی امتوں پر نازل کی تھیں ‘ اور یہ کہ اگر ہم پر بھی کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے۔ آیت زیر نظر میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ پوری نوع انسانی کے لیے حجت ہے۔ یہ عہد ہر روح نسانی اللہ سے کر کے دنیا میں آئی ہے اور اخروی مواخذے کی اصل بنیاد یہی گواہی فراہم کرتی ہے۔ نبوت ‘ وحی اور الہامی کتب کے ذریعے جو اتمام حجت کیا گیا ‘ وہ تاکیدمزید اور تکرار کے لیے اور لوگوں کے امتحان کو مزید آسان کرنے کے لیے کیا گیا۔ لیکن حقیقت میں اگر کوئی ہدایت بذریعہ نبوت ‘ وحی وغیرہ نہ بھی آتی تو روز محشر کے عظیم محاسبہ (accountability) کے لیے عالم ارواح میں لیا جانے والا یہ عہد ہی کافی تھا جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

133. The preceding discourse concluded with the note that God made the Israelites enter into a covenant with their Lord. In the following passages all men are told that a covenant with God is not the exclusive privilege of Israel. In fact all human beings are bound in a covenant with God and a Day will come when they will be made to answer how well they were able to observe that covenant. 134. This event, according to several traditions, took place at the time of the creation of Adam. Apart from the prostration of the angels before Adam and the proclamation that man would be God's vicegerent on earth, all the future progeny of Adam were gathered, and were endowed with both existence and consciousness in order to bear witness to God's lordship. The best interpretation of this event is found in a statement by, 'Ubayy b. Ka'b, who has probably given the substance of what he had heard from the Prophet (peace be on him): God gathered all human beings, divided them into different groups, granted them human form and the faculty of speech, made them enter into a covenant, and then making them witnesses against themselves He asked them: 'Am I not your Lord?' They replied: 'Assuredly you are Our Lord.' Then God told them: 'I call upon the sky and the earth and your own progenitor, Adam, to be witness against you lest you should say on the Day of Judgement that you were ignorant of this. Know well that no one other than Me deserves to he worshipped and no one other than Me is your Lord. So do not ascribe any partner to Me. I shall send to you My Messengers who will remind you of this covenant which you made with Me. I shall send down to you My Books.' In reply all said: 'We witness that You are Our Lord and our Deity. We have no lord or deity other than You.' (Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 5, p. 135 - Ed.) This event has also been interpreted by some commentators in a purely allegorical sense. They are of the opinion that the purpose of the Qur'an is merely to emphasize that the acceptance of God's lordship is innate in human nature. However, this was narrated in such a way as to suggest that the event did actually take place. We do not subscribe to this allegorical interpretation of the primordial covenant of man with God. For both the Qur'an and Hadith recount it not only as an actual happening, but also affirm that the covenant would be adduced as an argument against man on the Day of Judgement. There remains, therefore, no ground whatsoever to interpret the event in terms of mere allegory. In our own view the event did take place. God caused all human beings whom He intended to create until the Last Day to come into existence. He endowed upon them life, consciousness and the faculty of speech, and brought home to them that there is no god or lord besides Him, and that Islam alone is the right way to serve Him. If someone considers calling all human beings together in one assembly impossible, that shows, more than anything else the woeful paucity of his imagination. For if someone accepts that God has the power to create countless human beings in succession, there is no reason to suppose that He did not have the power to create them all at some given moment prior to the creation of the universe, or that He will be unable to resurrect them all at some given moment in the future. Again, it stands to reason that at a time when God wanted to designate man as His vicegerent on earth after endowing him with reason and understanding, He took from him an oath of allegiance. All this is so reasonable that the actual occurrence of the covenant should not cause any wonder. On the contrary, one should wonder if the event did not take place.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :133 اوپر کا سلسلہ بیان اس بات پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت کا عہد لیا تھا ۔ اب عام انسانوں کی طرف خطاب کر کے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ، درحقیقت تم سب اپنے خالق کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں ایک روز جواب دہی کرنی ہے کہ تم نے اس میثاق کی کہاں تک پابندی کی ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :134 جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا تھا ۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا ، اسی طرح پوری نسل آدم کو بھی ، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی ، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی ۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت اُبَیّ بن کَعب نے غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے ۔ وہ فرماتے ہیں: ۔ ”اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور ( ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے ) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کر کے انہیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی ، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پو چھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھیراتا ہوں تا کہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا ۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے ۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا ۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو ، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا ۔ اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے ، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں ، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود“ ۔ اس معاملہ کو بعض لوگ محض تمثیلی انداز بیان پر محمُول کرتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ دراصل یہاں قرآن مجید صرف یہ بات ذہن نشین کرنا چاہتا ہے کہ اللہ کی ربوبیت کا اقرار انسانی فطرت میں پیوست ہے ، اور اس بات کو یہاں ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ گویا یہ ایک واقعہ تھا جو عالم خارجی میں پیش آیا ۔ لیکن ہم اس تاویل کو صحیح نہیں سمجھتے ۔ قرآن اور حدیث دونوں میں اسے بالکل ایک واقعہ کے طور پر بیان گیا گیا ہے اور صرف بیان واقعہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے روز بنی آدم پر حجت قائم کرتے ہوئے اس ازلی عہد و اقرار کو سند میں پیش کیا جائے گا ۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے محض ایک تمثیلی بیان قرار دیں ۔ ہمارے نزدیک یہ واقعہ بالکل اسی طرح پیش آیا تھا جس طرح عالم خارجی میں واقعات پیش آیا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فی الواقع ان تمام انسانوں کو جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، بیک وقت زندگی اور شعور اور گویائی عطا کر کے اپنے سامنے حاضر کیا تھا ، اور فی الواقع انہیں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا کوئی رب اور کوئی الٰہ اس کی ذاتِ اقدس و اعلیٰ کے سوا نہیں ہے ، اور ان کے لیے کوئی صحیح طریق زندگی اس کی بندگی و فرماں برداری ( اسلام ) کے سوا نہیں ہے ۔ اس اجتماع کو اگر کوئی شخص بعید از امکان سمجھتا ہے تو یہ محض اس کے دائرہ فکر کی تنگی کا نتیجہ ہے ، ورنہ حقیقت میں تو نسلِ انسانی کی موجودہ تدریجی پیدائش جتنی قریب از امکان ہے ، اتنا ہی ازل میں ان کا مجموعی ظہور ، ابد میں ان کا مجموعی حشر و نشر بھی قریب از امکان ہے ۔ پھر یہ بات نہایت معقول معلوم ہوتی ہے کہ انسان جیسی صاحب عقل و شعور اور صاحب تصرف و اختیارات مخلوق کو زمین پر بحیثیت خلیفہ مامور کرتے وقت اللہ تعالیٰ اسے حقیقت سے آگاہی بخشے اور اس سے اپنی وفاداری کا اقرار ( Oath of allegiance ) لے ۔ اس معاملہ کا پیش آنا قابلِ تعجب نہیں ، البتہ اگر یہ پیش نہ آتا تو ضرور قابلِ تعجب ہوتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

88: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے اِنسان پیدا ہونے والے تھے، ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے۔ پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اﷲ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اﷲ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں، (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم وبیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اﷲ تعالیٰ نے اِنسان کو دُنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا۔ دُنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دُنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا ہے، مثلاً حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : ’’یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں‘‘۔ (معارف القرآن ج : ۴، ص ۱۱۵) لیکن یہ درست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی اِنسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ اثر آج بھی دُنیا کے اکثر وبیشتر اِنسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کی عظمت وکبریائی کے گن گاتے ہیں۔ جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کرچکے ہوں، ان کی بات تو اور ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ کی عظمت ومحبت ہر اِنسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کبھی فطرت سے دور کرنے والے بیرونی عوامل دور ہوتے ہیں تواِنسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧٢۔ ١٧٤۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو جتنی اولاد ان کی ہونے والی تھی ان سب کو آدم اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں میں تمہارا مالک نہیں ہوں جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہو کر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کے یہ عہد اس واسطے لیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی ہم اس سے بالکل غافل تھے یا یہ کہیں کہ دنیا میں جا کر ہم اس کو بھول گئے اس واسطے ان لوگوں کے پاس رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ ان کو یہ بھی عذر کرنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جو فعل کرتے دیکھا وہی ہمارا بھی مذہب و دین رہا ہمارے ہر کام میں وہی مربی و سرپرست تھے ان کے قدم بقدم چلے ان گمراہوں کی وجہ سے ہماری ہلاکت نہیں ہونی چاہیے پھر فرمایا کہ ہم اپنی نشانیاں اسی طرح مفصل کر کے بتلاتے ہیں تاکہ لوگ توحید کی طرح رجوع کریں۔ اس بات میں مفسروں کا اختلاف ہے کہ کس مقام پر اللہ پاک نے آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے ان کی ذریات کو نکالا تھا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مقام بطن نمعان میں جو عرفات کے قریب ہے وہاں ان کی اولاد کو نکال کر یہ عہد و پیمان مضبوط کیا تھا اور دوسرا قول حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ ہے کہ وھنا میں جو ملک ہند میں ایک مقام کا نام ہے جہاں آدم (علیہ السلام) جنت سے اتارے گئے تھے وہاں یہ عہد لیا گیا ہے اور کلبی کہتے ہیں کہ مکہ اور طائف کے درمیان میں یہ ہوا تھا ١ ؎ مسلم بن یسار (رح) کی حدیث جو حضرت عمر (رض) سے روایت کی گئی ہے اس کو ترمذی ابوداؤد ومالک نے روایت کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلم بن یسار (رح) نے اسی آیت کے متعلق حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس طرح اس آیت کی بابت پوچھا گیا تھا آپ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کی پیٹھ پر دونوں ہاتھ پھیرے داہنا ہاتھ پھیرنے سے جس قدر ذریات نکلیں ان کی نسبت یہ حکم فرمایا کہ ان کو میں نے جنتی پیدا کیا ہے یہ لوگ اہل جنت کا عمل کریں گے اور بائیں ہاتھ کے پھیرنے سے جس قدر اولاد پیدا ہوئی اس کو فرمایا کہ یہ سب دوزخی ہیں اور اہل دوزخ کا عمل کریں گے جب یہ بات حضرت صلعم نے فرمائی تو یہ شخص نے کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر پھر عمل کیوں کیا جائے کیونکہ یہ بات پہلے ہی طے ہوچکی ہے کہ کون بہشتی ہے اور کون جہنمی پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ آپ نے جواب دیا کہ اللہ پاک نے جن بندوں کو جنت کے واسطے پیدا کیا ہے ان کو وہ جنت والوں کے عمل کی توفیق دیتا ہے ویسا ہی کام ان سے لیتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگ اسی حالت پر دنیا سے اٹھ جاتے ہیں اور جس لوگوں کو دوزخ کے واسطے بنایا ہے ان سے وہ ویسا ہی کام لیتا ہے اور مرتے دم تک وہ لوگ اہل دوزخ کا عمل کرتے رہتے ٢ ؎ ہیں۔ ابی بن کعب (رض) کی یہی حدیث اس مضمون کی آیت کے متعلق امام احمد ٣ ؎ نے نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی کل اولاد کو اکٹھا کر کے اس طرح علیحدہ علیحدہ گروہ کردیا کہ انبیا کو الگ اولیاء کو جدا شہیدوں کو علیحدہ نیک بختوں کو ایک طرف بدبختوں کو دوسری طرح یہود ونصاری ومجوس کل فرقے اور ہر مذہب کے لوگوں میں ایک کو دوسرے سے متفرق کر کے ان کو صورتیں بنائیں کسی کو خوبصورت کسی کو بدصورت کوئی لنگڑا کسی کو بہرا کسی کو کانا غرضیکہ جس کو جیسا پیدا کرنا تھا ویسی ہی ظاہر کیا پھر ان سے قول واقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب ہوں نے کہا کہ ہاں تو ہمارا رب ہے پھر فرمایا دیکھو یہ آسمان اور زمین اور تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) اس بات کے گواہ ہیں کبھی ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم کہنے لگو ہم اس سے بالکل بیخبر تھے تو جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور نہ مرے سوار کوئی اور رب ہے خبردار میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہم اس عہد و میشاق کے یاد دلانے کو پیغمبر اور اپنے رسول بھیج دیں گے اور اپنی کتابیں ان پر اتاریں گے تاکہ پھر تم کوئی عذر و حیلہ نہ کرسکو ان سب نے کہا کہ تو ہمارا رب ہے تیرے سوا اور کوئی ہمارا معبود نہیں ہے اور سبوں نے اس بات کا پکا اقرار کیا پھر آدم (علیہ السلام) نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو بعضوں کو خوبصورت کسی کو بدصورت کوئی فقیر کسی کو تونگر پایا کہا کہ اے معبود تو ان کو یکساں پیدا کرتا تو سب ایک حال میں ہوتے اللہ پاک نے جواب دیا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تونگر لوگ میرا شکر اور فقیر لوگ اپنی حالت پر صبر کریں پھر آدم (علیہ السلام) نے انبیاء کی طرف دیکھا کہ چراغ کی روشنی کی طرح ان پر فور برس رہا تھا ان سے دوسرا عہد و پیمان لیا گیا ہے جو رسالت اور نبوت کے متعلق تھا کا ذکر اللہ پاک نے آیت واذ اخذنا من النبیین میثاتھم (٣٣۔ ٧) میں فرمایا ہے مسند امام احمد کی سند معتبر ہے ٤ ؎ مسلم بن یسار (رح) کی روایت کے متعلق اگرچہ منذری نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلم بن یسار (رح) کو حضرت عمر (رض) سے کسی حدیث کی سماعت کا موقع نہیں ملا اس لئے اس حدیث کی سند پوری نہیں ہے لیکن موطا امام مالک اور مستدرک حاکم کی سند پوری ہے اسی واسطے حاکم نے اسی حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے غرض اس حدیث کے باب طریقوں کے ملانے سے اس حدیث کو معتبر قرار دیا جاسکتا ہے اس وجہ سے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ٥ ؎ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک (رض) کی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ کم سے کم عذاب والے دوزخیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ پوچھے گا کہ تم لوگوں کے پاس اگر تمام دنیا کی دولت ہو تو تم اس کو معاوضہ میں دے کہ اس عذاب سے نجات پانے کی تمنا دل میں رکھ سکتے ہو وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرماویگا کہ جب تم لوگ آدم ( علیہ السلام) کی پشت میں ہی تھے تو تم سے توحید کا عہد لیا گیا تھا تم لوگ دنیا میں اس عہد پر قام نہیں ٦ ؎ ہے اس لئے آج مشرکوں کی کسی طرح نجات نہیں ہوسکتی بعضے مفسروں نے اس یوم المیثاق کے عہد کی تفسیر میں یہ جو لکھا ہے کہ ہر شخص کو فطرت اسلام پر پیدا کرنا آسمانی کتابوں کا متواتر نازل فرمانا ان کتابوں کا مطلب سمجھانے کے لئے رسولوں کا بھیجنا اسی کو عہد فرمایا ہے عالم روح میں اور کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ یہ تفسیر انس بن مالک (رض) کی اس صحیح حدیث کے مخالف ہے کیونکہ اس صحیح حدیث سے عالم ارواح میں توحید کے عہد کا لیا جانا صاف طور پر ثابت ہوتا ہے۔ اس عہد کی بابت اوپر یہ ذکر جو گذرا کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر اترے جانے کے بعد لیا گیا ہے یہ ذکر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور عبداللہ بن عمر (رض) کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر اتارے جانے کے بعد لیا گیا ہے یہ ذکر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور عبداللہ بن عمر (رض) کے قول کے موافق ہے کوئی حدیث نبوی اس بات میں نہیں ہے۔ اس عہد یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی حکمتیں ہیں جن کو وہی خوب جانتا ہے مثلا جو بچہ ایسی چھوٹی عمر میں مرجاوے کہ اس کو آسمانی کتاب اور رسول وقت کی نصیحت سے ہدایت پانی کا موقع نہ ملا ہو تو اس کے لئے یہی توحید میثاقی نجات کا سبب ٹھہر جاتی ہے۔ دنیا عالم اسباب میں یہی میثاقی عہد اس بات کا سبب قرار پایا ہے کہ ہر شخص فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اس عہد کے یاد نہ ہونے میں مثلا یہ حکمت ہے کہ دنیا آسمانی کتابوں اور رسولوں پر اختیاری ایمان لانے کے امتحان کے طور پر پیدا کی گئی ہے اس عہد کے یاد رہنے کی صورت میں وہ امتحانی حالت اچھی طرح باقی نہیں رہتی تھی بلکہ ہر شخص اس عہد کی پابندی پر اپنے آپ کو مجبور خیال کر کے ایمان لاتا اور اس طرح کا مجبوری کا ایمان بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے اس واسطے حکمت الٰہی اس بات کی مقتضی ہوئی کہ بغیر آسمانی کتابوں اور رسولوں کی یاد دہی کے خود یہ عہد لوگوں کو یاد نہ رہے۔ مجبوری کے ایمان کے مقبول نہ ہونے کا ذکر سورة انعام میں گذر چکا ہے۔ ١ ؎ یہ تینوں قول تفسیر فتح البیان ج ٢ ص ١١١۔ ١١٢ میں دیکھئے ٢ ؎ جامع ترمذی ج ٢ ص ١٣٣ تفسیر سورة الاعراف ومشکوٰۃ ص ٢١ باب الایمان بالقدر فصل دوسری۔ ٣ ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر فضل تیسری۔ ٤ ؎ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٣٢٣۔ ٣٢٤۔ کتاب التفسیر و جامع ترمذی ج ٢ ص ١٣٣ تفسیر سورة الاعرات۔ ٥ ؎ تنقیح الرواۃ ج ١ ص ٢٥ میں یہ ساری تفصیں موجود ہے۔ ٦ ؎ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٢٦١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:172) ظھورھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ظھور۔ ظھر۔ کی جمع ہے ۔ پیٹھیں۔ پشتیں۔ نسلیں۔ ذریۃ۔ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے ذریۃ بعضھا من بعض (3:34) ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے ذریۃ کے اصل کے متعلق تین قول ہیں۔ (1) بعض کے نزدیک یہ ذرء اللہ الخلق سے ہے یعنی اصل میں مہموز اللام ہے مگر کثرت استعمال کے سبب دوتۃ وبریۃ کی طرح ہمزہ کو ترک کردیا گیا۔ اور ذریۃ ہوگیا۔ (مادہ ذرئ) ۔ (2) بعض کے نزدیک یہ اصل میں ذرویۃ بروزن فعلیۃ تھا اور ذر (ذرر) سے مشتق ہے جیسے قریۃ قر سے۔ (3) کہ آیت کریمہ ولقد ذرأنا لجھنم (7:79) اور ہم نے جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں ذرانا ذریت الحنطۃ (گیہوں کو ہوا میں صاف کرنا) سے مشتق ہے۔ اس صورت میں مادہ ذرو ہے۔ واذاخذ ۔۔ ذریتہم۔ میں من ظہورہم بدل ہے من بنی ادم کا اور ذریتہم (مضاف مضاف الیہ) مفعول ہے اخذ کا ترجمہ : اور جب تیرے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ (یعنی اپنے روبرو لاحاضر کیا) اشھدہم۔ اس نے ان کو گواہ بنایا۔ اس نے ان کی شہادت لی۔ ان تقولوا عم غفلین۔ یہ جملہ مفعول لہ ہے فعلنا زلک کا جو محذوف ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12) یعنی جب وہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت سے تمام ذریت پیدا کی جو قیامت تک انکی نسل سے روئے زمین پر پائی جانے والی تھی اور انہیں عقل اور قوت گو یائی عطا فرماکر ان سے اپنی ربوبیت عامہ کا قرار لیا۔ حاٖفظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ذراول کے بارے متعدد احادیث بھی ورد ہیں لہذا اس کو ایک تمیثلی واقعہ کہنا صحیح نہیں ہے جبکہ عقلا بھی اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے۔ اور حدیث کل مو لود یو لد علی الفطرۃ کسر بچہ فرطت اسلام پر پیدا ہوتا ہے) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی، ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181 اسرار و معارف : اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے گواہ بھی ہیں اور یوں وہ خود اپنی جانوں کے بھی گواہ قرار پائے۔ عہد الست ارواح سے یا بدن سے بھی تھا۔ یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں پورے خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں جو بھی نیک عمل کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا وہ اپنے اعمال کی نسبت بہت زیادہ صلہ پائے گا اور جو اپنے ساتھ گناہ اور برائیاں لائے گا وہ یقینا انہی برائیوں کا بدلہ پائے گا کہ وہی کچھ وہ کرکے لایا ہوگا۔ اقرار ربوبیت اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جس عظیم ذات نے آپ پر قرآن کی تبلیغ اور اس پر عمل فرض کیا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو ہجرت کرنا پڑی وہ آپ کو اپنے شہر عزیز میں یعنی مکہ مکرمہ میں واپس لائے گا یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہونے والی آیت فتح مکہ کی نوید بھی سنا رہی ہے اور یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ قرآن کریم پر عمل اور اس کے غلبہ کے لیے کوشش کی جائے تو بفضل اللہ فتح نصیب ہوتی ہے اور ایسی جماعت کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتی۔ اور ان سے کہ دیجئے کہ بھلائی اور برائی کا معیار یہ لوگ نہیں بلکہ اللہ کی پسند ہے لہذا وہ خوب جانتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ بھلا آپ کو کیا خبر تھی کہ آپ کو یہ عظ مت رسالت نصیب ہوگی اور اللہ کی آخری کتاب آپ پر نازل ہوگی یہ تو سب اللہ کی رحمت ہے اور اس کا بےپناہ احسان ہے لہذا آپ کفار کی پرواہ نہ کیجیے ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کو رواداری کے نام پر آپ کو اللہ کے احکام کی تبلیغ سے روکنے کی کوشش کریں بلکہ علی الاعلان اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور کبھی ان مشرکین کا ساتھ مت دیجیے۔ اے مخاطب اللہ کے برابر کسی سے امید وابستہ نہ کر اور نہ کسی کو پکار اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی اس کا مستحق نہیں۔ اور سوائے ذات باری کے ہر شے مخلوق اور فانی ہے صرف اللہ کا حکم سب پر جاری ہے اور سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ بیوی کو پیدا فرمایا وہ قادر مطلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ان کی زوجہ محترمہ حضرت حوا کو بھی تو مٹی سے پیدا کرسکتا تھا اور پھر ہمیشہ ساری انسانیت کو بھی اسی طرح پیدا کرنے پہ قادر تھا مگر اس نے کوئی علیحدہ وجود پیدا کرنا پسند نہیں فرمایا بلکہ اسی ایک وجود سے دوسرے کو تخلیق اور پھر ان دونوں کو مزید افرادِ انسانیت کے پیدا کرنے کا سبب بنا دیا اور اس سے طرح سے مرد و عورت کو جہاں میں پھیلا دیا۔ رنگ مختلف ہوسکتے ہیں زبان کا فرق ہوسکتا ہے قد و قامت جدا جدا ممکن ہے مگر اصل سب کی ایک ہے اور تمام افرادِ انسانیت ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ ایک بدن کے اجزا ہیں اس لیے انہیں محبت ہی زیب دیتی ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی امید کی جاسکتی ہے۔ کہ ایک درخت کی شاخیں اور پتے آپس میں دشمن نہیں ہوتے بلکہ اگر شاخیں الجھ جائیں تو چھاؤں اور گھنی ہوجاتی ہے ایسے ہی افراد انسانیت میں اگر اختلاف یا الجھاؤ پیدا ہو تو انسانیت کی بہتر کے لیے سایہ مزید گھنا کرنے کے لیے تو ہوسکتا ہے تباہی کا تصور انسانیت کے منافی ہے جب ہی تو اسلام نے کافر تک کے حقوق مقرر فرما دئیے ہیں اور اس پر بھی ظلم و زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی چہ جائیکہ مومن ایک دوسرے پر یا مرد اپنی بیویوں پر ورثاء اپنے یتیم عزیزوں پر زیادتی کریں تو یہ بات ہرگز ہرگز اللہ کریم کو پسند نہیں۔ یاد دلایا کہ جب تمہیں اپنا حق طلب کرنا ہو تو کیا نہیں کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور میرا حق ادا کردو یا قریبی رشتے کا واسطہ دیتے ہو کہ دیکھو آپس میں تو یہ بات زیب نہیں دیتی ، فرمایا یہ درست ہے مگر جب تمہاری اپنی باری آئے تب بھی تو خیال رکھو کہ اللہ کریم سب کا رب ہے اور رشتہ داری میں سب کی اصل ایک فرد ہے پھر رب جلیل ہمارے ہر حال کو دیکھ رہا ہے کیفیات باطنی تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ سو نہ صرف طلب حقوق میں بلکہ ادائے فرائض میں بھی اس کا خیال رکھو۔ یتیموں سے برتاؤ : اور یتیم بچوں کو تو تمہاری ذاتی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ان کی طرف سے تو کوئی مطالبہ کرنے والا بھی نہیں۔ انہیں ان کے اموال سے ہرگز محروم نہ کرو اور حرام کو حلال سے نہ بدبو یا برے کو اچھے مال سے تبدیل نہ کرو۔ دونوں صورتیں مفسرین نے تحریر فرمائی ہیں کہ تمہارے پاس جو مال ہے حلال اور جائز اس میں مال یتیم ناجائز طور پر شامل کرکے اسے خراب نہ کردیا کرو ان کے مال میں کوئی اچھی چیز لباس برتن جانور وغیرہ ہو تو اس کی جگہ کمتر شامل کردیا جائے اور وہ لے لیا جائے جیسا کہ عموماً قبل اسلام لوگوں کا وطیرہ تھا تو ایسا ہرگز نہ کرو کہ یہ بہت بڑا وبال ہے اور بہت سخت گناہ ہے کہ جرم تو ہے ہی مگر اس پر جو غضب مرتب ہوتا ہے اور جس قدر رحمت باری سے محرومی ہوتی ہے وہ دوسرے جرائم کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے اگرچہ مال بلوغت پہ لوٹایا جاتا ہے اور بعد بلوغت تو کوئی بھی یتیم نہیں رہتا۔ مگر یہاں چونکہ یتیم ہی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال لوٹا دو ۔ احادیث مبارکہ میں صلہ رحمی یعنی رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے کی فضیلت اور آپس میں محبت سے رہنا پھر اس بھائی چارے کو وسعت دے کر پوری انسانیت کی بہتری اور بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہونا ہی کمال انسانیت ہے ایسے لوگ ہی اللہ کریم کے پسندیدہ لوگ ہیں جن کی محبت سے دوسروں کو آرام پہنچے اور جو خود انسانیت پر بوجھ ہیں وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہرگز نہیں ہوسکتے خصوصاً دوسروں کے مال پر نگاہ رکھنے والے لوگ تو کسی تعریف کے ہرگز مستحق نہیں۔ صورت ہو اور تم ان کے حقوق کی نگہداشت نہ کرسکو تو یتیم لڑکیوں سے شادی ہی نہ کرو بلکہ جو عورتیں نکاح میں حلال ہیں ان میں سے دو تین یا چار تک بیک وقت نکاح کرسکتے ہو مگر خیال رہے کہ ان سب کے حقوق کا خیال رکھنا پڑے گا یہ نہ ہو کہ نکاح تو کرلیا مگر کسی ایک کو تو محبوبہ بنا لیا اور دوسری بیویوں کی پرواہ نہ کی بلکہ سب کے حقوق برابر ہوں گے اور اختیار امور میں کسی کی حق تلفی جائز نہ ہوگی اگر یہ مشکل نظر آئے تو پھر ایک ہی بیوی رکھو یا باندی جو تمہاری ملکیت ہے۔ سو اس طرح امید ہے کہ خطا سے بچ جاؤ گے۔ تعدد ازواج : تعدد ازواج اسلام نے شروع نہیں کیا بلکہ قبل اسلام اس کا بہت زیادہ رواج تھا اور دنیا کی تمام قوموں میں بھی اور سب مذاہب میں بھی اسے جائز سمجھا جاتا تھا۔ نہ صرف عرب بلکہ ایران مصر ، بابل اور ہندوستان سب میں یہ رسم موجود تھی ہندوؤں کا اوتار کرشن سینکڑوں بیویاں رکھتا تھا اور آج بھی ویدوں سے غیر محدود تعدد ازواج ثابت ہے یہی حال وسط ایشیائی اقوام کا تھا اور پیرس و روم کی تاریخ دیکھئے نیز اس کی ضرورت و افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر اقوام میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ مرد جنگوں وغیرہ میں کام آجاتے ہیں اور عورتیں ایسی صورت میں رہ جاتی ہیں کہ انہیں کسی آسرے کی ضرورت ہوتی ہے نیز عورت کی ذات کے مختلف تقاضے ایسے ہیں جن سے مرد آزاد ہے۔ سو اس طرح سے اگر متعدد عورتوں سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔ تو دوسری صورت زنا ہے جو معاشرے میں پھیل جائے گا۔ جس کا عملی ثبوت مغرب کا معاشرہ پیش کر رہا ہے کہ اپنے متقدمین کے خلاف تعدد ازواج پر پابندی لگا دی مگر بغیر نکاح عورت کے ساتھ مراسم رکھنے میں کوئی پابندی نہیں یعنی نکاح کرنے کی اجازت نہیں داشتہ رکھ سکتے ہو۔ یہ سب صورتیں ناپسندیدہ تھیں کہ لوگ نکاح تو بہت زیادہ کرلیتے پھر ان کی پرواہ نہ کرتے تھے اور دوسری صورت میں زنا کے جرم کے علاوہ داشتہ کے کوئی حقوق بھی تو نہیں اسلام نے اس پہلو کی شاندار اصلاح فرمائی کہ تعدد ازواج کو چار تک کا پابند کردیا۔ کہ بیک وقت کوئی بھی مسلمان چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ چناچہ احادیث و سیرت میں موجود ہے کہ بعض صحابہ جب مسلمان ہوئے تو قبل اسلام ان کے نکاح میں دس یا آٹھ یا پانچ عورتیں تھیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چار رکھ لو جو چاہو اور باقی کو طلاق دے کر آزاد کردو یعنی ایک اصلاح تو یہ فرمائی کہ چار کی حد مقرر فرما دی پھر پوری تاکید سے سب بیویوں کے حقوق برابر قرار دئیے اور مساوات کی بہت زیادہ تاکید فرمائی۔ خلاف ورزی پر اللہ کریم کی سخت ناراضگی کا خوف دلایا۔ نیز شروع میں ہی ، ما طاب ، کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ جو عورت حلال ہو اور تمہیں پسند بھی ہو۔ کہ اس پسند کو حقوق کی نگہداشت میں بہت دخل ہوگا تو جب چاروں پسندیدہ ہوں گی تو مساوات اور آسان ہوجائے گی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دلی چاہت کسی سے کم زیادہ ہو مگر عملی طور پر سب برابر ہوں اگر یہ مشکل نظر آئے جیسا کہ واقعی ہے تو پھر صرف ایک بیوی سے گذارہ کرو۔ یا لونڈی جو تمہاری ملکیت ہے اور بغیر نکاح کے حلال ہے یاد رہے کہ آج کے زمانہ میں وہ شرائط نہیں پائی جاتیں جو باندی کے لیے مقرر ہیں اس لیے کسی عورت کو خرید کر یا باندی بنا کر رکھنا جائز نہیں۔ اس شرط کی اور صورت کیا ہے یہ علیحدہ موضوع ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ عورت پر اسلام کا احسان : اسلام نے حقوق نسواں کا علم اس دور میں بلند فرمایا جس دور میں عورت محض ایک کھلونا تھی جسے زندہ درگور تک کردیا جاتا تھا جس کی عزت و ناموس سر بازار نیلام ہوتی تھی حتی کہ بیویوں کو ملکیت سمجھا جاتا تھا اور مال کے ساتھ اولاد میں تقسیم بھی ہوتی تھیں۔ مغرب و مشرق ہر جگہ عورت تباہ حال تھی۔ کہ اسلام نے اس کا حق نہ صرف مقرر فرمایا بلکہ معاشرے میں اسے مناسب مقام دلوایا اور حدود مقرر فرما دیں۔ تب اقوام عالم میں یہ رسوا تھی اور اب اقوام عالم میں عیاشی کا ذریعہ اور اشتہار کی زینت بنی ہوئی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب سوائے اسلام کے کسی معاشرے میں عورت کا نہ حال ہے اور نہ مستقبل عزت و ناموس نام کی کوئی شئے اس کے پاس نہیں۔ اس کے باوجود اسلام کے تعددازواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ ناموس رسالت یپہ حملے کئے جاتے ہیں اور اعتراض ہوتے ہیں۔ کفار سے تو گلہ نہیں خود مسلمان کی سمجھ میں بھی پتھر پڑگئے۔ ایک صاحب جو لندن سے چند دن کے لیے تشریف لائے تھے فرمانے لگے کہ ہمارے مولوی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا یہ پہلو بیان ہی نہیں کرنا چاہئے۔ سبحان اللہ ! انہیں یہ شعور نہیں کہ نبی معصوم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی پاک کا یہ پہلو کس قدر روش اور درخشندہ تھا کہ مشرکین مکہ اور یہود عرب بھی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں ذرا دیکھیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس برس کنوارے پن میں گزارے اور پھر حضرت خدیجہ (رض) سے نکاح ہوا جو عمر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑی تھیں پچیس برس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان کے ساتھ بسر ہوئے جو مثالی زندگی تھی جسے رب جلیل نے نبوت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے باقی سارے نکاح پچاس سال کی عمر شریف کے بعد ہوئے جب عنفوان شباب گذر چکا تھا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ (رض) سے نکاح ہوا اور چار سال وہ تنہا رہیں عمر شریف چون سال تھیں جب 2 ھ میں عائشۃ الصدیق (رض) رخصت ہو کر آئیں۔ ایک سال بعد حضرت حفصہ (رض) کا نکاح ہوا پھر حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) کا جو ڈیڑھ سال بعد فوت ہوگئیں۔ 4 ھ میں ام سلمی (رض) اور 5 ھ میں زینب بنت جحش (رض) اس وقت عمر شریف اٹھاون برس تھی تب تک صرف چار ازواجِ مطہرات تھیں زاں بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ اور 7 ھ میں ام حبیبہ (رض) حضرت صفیہ (رض) اور اسی سال حضرت میمونہ (رض) غرض عمر شریف کے چون برس ایک بیوی کے ساتھ بسر ہوئے اٹھاون برس کی عمر شریف تک چار چار اور اس کے بعد پانچ ازواج مطہرات جمع ہوئیں جن کا نکاح اطہر میں آنا جہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خانگی زندگی کو امت تک پہنچانے کا ذریعہ تھا وہاں سیاسی اعتبار سے ریاست اسلام کو اس قدر فتوحات دینے کا سبب بنا جو سینکڑوں جنگوں سے حاصل ہونا ممکن نہ تھا۔ حضرت ام سلمہ (رض) اولاد ساتھ لائیں تو عملی زندگی میں یتیموں کی پرورش کا انداز سمجھ میں آیا۔ حضرت جویریہ (رض) کا نکاح ان کے پورے قبیلہ کی آزادی کا سبب بنا ام حبیبہ (رض) سے نکاح نے اہل مکہ کی کمر توڑ دی کہ ان کے سردار ابوسفیان کی بیٹی تھی۔ غرض جہاں تک تقدس ذات اور عصمت کا تعلق ہے تو وہ اعتراض تو مشرک بھی نہ کرسکے ہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انفرادی خصوصیات بھی تھیں جیسے وصل کے روزے رات کی نمازیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جائیداد پر احکام وراثت کا نہ ہونا جسم اطہر کا شب معراج عرش عظیم تک جانا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کا آپ کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال مبارک کے بعد کسی کے نکاح میں نہ آنا اسی طرح سے ان خوش نصیب خواتین کا اس عظمت سے سرفراز ہونا عطائے الہی ہے جہاں تک معترضین کا تعلق ہے ان کے منہ میں خاک ڈالنے کے لیے ذرا عمر شریف کا تجزیہ اور ان نکاحوں کے سیاسی فوائدجو ریاست اسلامی کو حاصل ہوئے اور دینی تعلیم مسلمانوں کے لیے نگاہ میں رہے اور پھر اللہ کریم کا ارشاد کہ ، لایحل لک النساء من بعد۔ یعنی اب ان کے علاوہ آپ کوئی نکاح نہیں کرسکتے یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ ان خوش قسمت خواتین پر بھی اللہ تعالیٰ کا انعام تھا امت مرحومہ پر بھی احسان تھا اور ریاست اسلامی کے ساتھ ساتھ کفار تک کو ان کے فوائد محروم نہ رکھا کاش مسلمان اس پر معذرت کی بجائے اس موضوع کو پڑھیں کہ ان کے دل صاف ہوں اور انہیں اس پر فخر ہو نہ کہ ندامت۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ العزیز کا رسالہ ، کثرت ازواج لصاحب المعراف ، بھی بہت فائدہ مند ہے۔ دعوت حق : نیز ساری مخلوق تو گمراہ بھی نہیں بلکہ ایسی جماعت بھی ہے کہ حق کی دعوت دیتی ہے یعنی نہ صرف خود حق پر قائم ہیں ساتھ دوسروں کو بھی حق کی طرف بلاتے ہیں ۔ کے طور پر پیش فرمایا ہے باقی سارے نکاح پچاس سال کی عمر شریف کے بعد ہوئے جب عنفوان شباب گذر چکا تھا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ (رض) سے نکاح ہوا اور چار سال وہ تنہا رہیں عمر شریف چون سال تھیں جب 2 ھ میں عائشۃ الصدیق (رض) رخصت ہو کر آئیں۔ ایک سال بعد حضرت حفصہ (رض) کا نکاح ہوا پھر حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) کا جو ڈیڑھ سال بعد فوت ہوگئیں۔ 4 ھ میں ام سلمی (رض) اور 5 ھ میں زینب بنت جحش (رض) اس وقت عمر شریف اٹھاون برس تھی تب تک صرف چار ازواجِ مطہرات تھیں زاں بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ اور 7 ھ میں ام حبیبہ (رض) حضرت صفیہ (رض) اور اسی سال حضرت میمونہ (رض) غرض عمر شریف کے چون برس ایک بیوی کے ساتھ بسر ہوئے اٹھاون برس کی عمر شریف تک چار چار اور اس کے بعد پانچ ازواج مطہرات جمع ہوئیں ۔ اور پیر تک اور حکمران سے لے کر عام کاشتکارو دکاندار تک ہر کوئی ذاتی خواہشات اور ذاتی لالچ اور نفع کے شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے اس لیے سب تشتت و افتراق اور باہمی رنجش و نااتفاق کا شکار ہیں اللہ کرے کہ ہم پھر سے حق پرستی اختیار کرکے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح آیت نمبر 172 تا 174 پچھلی آیات میں دو وعدوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لئے ہیں۔ (ا) ایک کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کرنے سے پہلے اور دوسرا معلق کرنے کے بعد اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے عہد، میثاق اور وعدوں کا ذکر ہے جو مختلف جماعتوں سے لئے گئے ہیں ان آیات میں ایک مقدس ترین عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جسے خود حق تعالیٰ شانہ نے براہ راست اپنے تمام بندوں سے لیا ہے اس عہد کا نام عہد الست ہے۔ اس عہد الست کے لئے بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اس عہد کی وضاحت فرمائی گئی ہے کچھ حضرات نے حضرت عمر فاروق (رض) سے اس میثاق اور اور عہد کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کچھ صحابہ کرام (رض) نے یہ سوال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو جواب آپ نے ارشاد فرمایا میں نے ستا وہ یہ تھا کہ : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، پھر اپنا دست قد رت ان کی پشت پر پھیرا تو ان کی پشت سے جو نیک انسان پیدا ہونے والے تھے وہ نکل آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنت ہی کے کام کریں گے پھر دوسری دفعہ ان کی پشت پر دست قدرت پھیرا تو جتنے گناہ گار بد کار انسان تھے ان کو نکال کر کھڑا کیا اور فرمیا کہ میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے ہی کام کریں گے۔ حضرت فاروق اعظم (رض) فرماتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ کرام (رض) میں سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب پہلے ہی جنتی اور جہنمی متعین کردیئے گئے تھے تو پھر عمل کس مقصد کے لئے کرایا جاتا ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو جنت کے لئے پیدا کرتا ہے تو وہ اہل جنت ہی کے کام کرنے لگتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو جہنم کے لئے پیدا فرماتے ہیں تو وہ دوزخ ہی کے کام میں لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ کیس ایسے کا پر ہوتا ہے جو اہل جہنم کا کام ہے مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طبقہ میں داخل ہے تو اس کو قوت اختیار ایسے کاموں میں خرچ کرنا چاہیے جو ہل جنت کے ہیں اور یہی امید رکھنا چاہئے کہ وہ ان ہی میں سے ہوگا اس حدیث کی وضاحت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو انسان کی فطرت میں رکھدیا ہے۔ ۔۔ ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو اس حدیث میں واضح فرمایا کہ : کل مو لود یمجسا نہ (بخاری و مسلم) ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو (اپنے رنگ میں ڈھال کر ) یہودی ، عیسائی یا ستارہ پرست مشرک بنا لیتے ہیں ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان بچہ جو اس دنیا میں قدم رکھتا ہے وہ پیدائشی گناہگار یا کافر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد کا ماحول جو اسکے والدین بنالیتے ہیں اس بچے کو وہ اس رنگ میں ڈھا ل لیتے ہیں کسی کو یہودی کسی کو عیسائی اور کسی کو مشرک بنال یتے ہیں اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک انسانی بچہ اگر کسی مشرک کافر اور بت پرست کے گھر میں پیدا ہوتا ہے تو وہ مشرک ، کافر اور بت پرست نہیں ہوتا بلکہ وہ فطرت اسلام لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی فطرت کی وجہ سے جہنم میں نہیں بھیجیں گے بلکہ اس کو اہل جنت کا خادم بنا دیں گے۔ جب کسی مسلمان گھرانے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے سنت طریقہ یہ ہے کہ اس بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے اگر غور کیا جائے تو ایک ایسا بچہ جس نے ابھی دنیا میں قدم رکھا ہے اس کے کان میں اذان اور اقامت کہی جارہی ہے۔ اقامت کے کیا معنی ہیں ؟ کیا وہ اس کو سمجھ رہا ہے ؟ لیکن پھر بھی حکم ہے کہ اس کے کان میں اللہ اور اس کے رسول کا نام ڈال دیا جائے تاکہ وہ عہد جو اس نے اپنے رب سے روز اول کیا تھا وہ یاد دلا دیا جائے۔ وہ بچہ جو چند گھنٹہ کا ہوتا ہے کیا وہ یہ بات کو سمجھتا ہے ؟ موجودہ تحقیق یہ ہے کہ جو کچھ اس کے کان کے راستے پہنچ رہی ہے وہ اس کو سمجھتا ہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتا بچہ اس ٹیپ ریکارڈ کی طرح ہے جو ہر بات کو اپنے اندر جذب کرتا رہتا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک مشین ہے جو غیر محسوس طریقے سے چل رہی ہے لیکن در حقیقت وہ ہر اس بات کو نوٹ کرتی جارہ ہے جو اس کے سامنے کی جاتی ہے۔ یہی حال اس چند گھنٹے کے بچے کا بھی ہے کہ اس کر فطرت میں جو عہد و میثاق ہے جب اللہ اور اس کے رسول کا نام لیا جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتا۔ پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے ہیں اور وہ انسان کی فطرت کے اس عہد کی یاد دلاتے ہیں جو اس کی روح نے اپنے رب سے کیا تھا جو سعادت مند روحیں ہوتی ہیں وہ دین کی سچائیوں کو قبول کرتی ہیں اور بد بخت اور بد نصیب لوگ ہیں وہ ان سے روگردانی کرتی ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اسی عہد کو یاد کرانے تشریف لاتے رہے یہاں تک کہ سارے نبیوں کے بعد آخر میں خاتم الانبیاء حضت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جنہوں نے نہ صرف اسلام کی روشنی دلوں تک پہنچایا بلکہ آج ان کا ہر عمل اس طرح روشن وتا باں ہے کہ جو بھی عمل کرے گا اس کی فطرت اپنے پروردگار کے اس عہد کے لئے پکار اٹھے گی کہ اے میرے رب میں حاضر ہوں۔ ان تمام روشنیوں کی موجودگی میں اب انسان کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اے میرے رب مجھے تو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ میں نے آپ سے کیا اور کب عہد کیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یہ میثاق عالم ارواح کا بیان ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے عہد کی مناسبت سے وہ عہد بھی بنی نوع انسان کو یاد کروایا جا رہا ہے جو روز آفرینش ان سے لیا گیا تھا۔ خالق کائنات نے زمین و آسمان بنانے کے بعد جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھا جس سے قیامت تک نسل در نسل پیدا ہونے والے بنی نوع انسان اس کی بار گاہ میں حاضر ہوگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سب سے یہ استفسار فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں کہ نہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ شہادت دی کیوں نہیں ! آپ ہی ہمارے خالق، مالک، اور پیدا کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اس پر قائم رہنا کہیں قیامت کے دن یہ بہانہ نہ بنانا کہ ہمیں تو اس عہد اور شہادت کا علم ہی نہیں تھا۔ یا تم یہ کہو کہ ہم اس لیے شرک کے مرتکب ہوئے کہ ہمارے آباء و اجداد اس طرح کرتے تھے اور ہم تو ان کے بعد آنے والے ان کی اولاد تھے لہٰذا ہمارا کوئی گناہ نہیں جو کچھ کیا ہم سے پہلے لوگوں نے کیا۔ اس لیے ہمیں کسی قسم کی سزا نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت بنی نوع انسان کو یہ سمجھا دیا تھا کہ اس عہد کو بھول جانا یا اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے کا بہانہ بنانا قیامت کے دن اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے اس عہد کی یاد دہانی کروائی۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل ہوا۔ جس میں اللہ کی توحید کو ہر قسم کے دلائل کے ساتھ کھول، کھول کر بیان کرتے ہوئے شرک کو سب سے بڑا ظلم، گمراہی اور جہالت قرار دیا گیا ہے۔ تاکہ شرک سے لوگ بچیں اور اپنے رب کی توحید پر پکے ہوجائیں۔ بعض لوگ عقلی موشگافیوں میں پڑ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انسان سے یہ عہد لیا اور عقیدۂ توحید اس کی فطرت میں رکھا ہے تو پھر انسان اسے فراموش کرکے شرک کا ارتکاب کیوں کرتے ہیں ؟ ایسا اعتراض اٹھانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان نسیان سے بنا ہے انسانی فطرت کے سب سے بڑے ترجمان نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انسان کی اس کمزوری کو یوں بیان فرمایا ہے۔ ” نَسِیَ اٰدَمْ وَنَسِتْ اَوْلَادُہٗ “ کہ جناب آدم بھول گئے اور ان کی اولاد بھی بھول جایا کرے گی۔ اس بنا پر کچھ لوگ بھول جاتے ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصدیہ ہے کہ انسان کو اس کی غفلت اور بھول پر چوکنا کیا جاسکے۔ جہاں تک عقیدۂ توحید کو انسانی فطرت میں ودیعت کرنے کا تعلق ہے اس کی گواہی ہر انسان اپنی زندگی میں دیے بغیر نہیں رہتا۔ مکہ کے مشرک بڑے ظالم تھے اور انھوں نے شرک کی بنیاد پر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کئی جنگیں لڑیں لیکن جب کبھی ان میں سے کسی کو بھاری اور ناگہانی مصیبت آتی تو وہ اقرار کرتا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے۔ یہ فطرت ہی کی آواز ہے جب دنیا کے پرلے درجے کے مشرک اور کافر کو اس کے کفر اور شرک کی نشاندہی کی جائے تو وہ فوراً اس کا انکار کرتا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہٖ کَالذَّرِّ ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قِبَلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ )[ رواہ احمد ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی پشت کی طرف سے وعدہ لیا نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے تمام اولاد نکالی جس کو پیدا فرمایا تھا۔ انھیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلایا پھر ان سے اپنے سامنے کلام فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہنا بلاشبہ ہم تو اس سے غافل تھے یا تم کہو شرک تو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کی اولاد تھے۔ کیا تو ہمیں باطل کام کرنے والوں کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت ہی بنی نوع انسان سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ ٢۔ عقیدۂ توحید کو بھول جانا یا آباؤ اجداد کے شرک کا بہانہ مقبول نہیں ہوگا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں توحید کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ لوگ شرک سے بچ جائیں۔ ٤۔ توحید فطرت کی آواز اور تمام ادیان کی بنیاد ہے۔ ٥۔ عقیدۂ توحید کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن برہان کا معنی دلیل : ١۔ جنت میں داخلہ کے لیے دلیل چاہیے اہل کتاب سے مطالبہ۔ (البقرۃ : ١١١) ٢۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے برہان آچکا ہے۔ (النساء : ١٧٤) ٣۔ اگر رب کی طرف سے برہان نہ ہوتی تو یوسف بھٹک جاتے۔ (یوسف : ٢٤) ٤۔ شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ (المومنؤن : ١١٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی داتا ہے تو دلیل لاؤ۔ (النمل : ٦٤) ٦۔ حضرت موسیٰ کے معجزے برہان تھے۔ (القصص : ٣٢) ٧۔ قیامت کے دن نبی کی گواہی امت پر دلیل ہوگی۔ (القصص : ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 81 ایک نظر میں اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔ لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ، اقرار ربوبیت کو فطرت انسانی میں ودیعت کردیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بشریت انسانی وجود کی گہرائیوں میں اپنے خالق اور رب کے وجود کا شعور رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد رسول کیوں آئے ہیں تو رسولوں کی آمد محض تذکیر کے لیے ہوتی ہے اور ایک رسول بشیر و نذیر کی حیثیت سے آتا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے جو فطرت سے انحراف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید در اصل ایک میثاق ہے جو فطرت انسانی اور خالق فطرت کے درمیان انسان کے ابتدائی دور کے وقت سے طے شدہ ہے۔ لہذا اس عہد کے توڑنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرچہ تذکیر اور یاد دہانی کے لیے ان کے پاس کوئی رسول نہ آیا ہو ، لیکن یہ اللہ کی خالص رحمت اور احسان ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے منحرفین کی اصلاح کے لیے رسولوں کو ارسال کیا اور لوگوں کو محض ان کے عقول پر نہیں چھوڑ دیا گیا کیونکہ عقل غلطی کرسکتی ہے۔ چناچہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت ہی نہ رہے کہ فطرت کے تقاضے کے علاوہ اب تو رسول بھی آگئے۔ اس سبق میں مسئلہ توحید کو اس زاویہ سے لیا گیا ہے اور اس زاویہ سے کئی خطوط کھینچے گئے ہیں۔ ایک تاریخی لکیر ہے۔ اس میں ایک شخص کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا تعلق بھی تاریخ بنی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس کا کسی خاص اور متعین واقعہ یا خاص زمان و مکان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ یہ در اصل ایک نفسیاتی حالت کی تصویر کشی ہے جو بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہے تو اس علم کا تقاضا اور اس سے توقع یہی ہے۔ یہ شخص ہدایت یافتہ ہو اور حق پر قائم ہونے والا ہو۔ لیکن اچانک یہ غیر متوقع صورت حالات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے علم کے تقاضوں سے بھاگ نکلتا ہے۔ وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اور وہ راہ ضلالت پر اس شخص کے دوش بدوش چلتا ہے جو بالکل بےعلم ہے۔ بلکہ یہ عالم شخص اس بےعلم سے بھی زیادہ شر پسند ، گمراہ اور بدبخت ثابت ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ علم کو ایمان کی چاشنی نہ دی گئی ہو۔ کیونکہ ایمان کے رنگ سے ہی یہ علم کا چراغ روشن بن جاتا ہے۔ اور مسافر کے لیے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔ ایک دوسرا خط یا دوسری لکیر ملاحظہ ہو۔ اس میں انسانی فطرت کے انحراف کا ایک دوسرا قصہ یا نمونہ بتایا گیا ہے کہ انسان کس ڈھٹائی کے ساتھ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا ہے وہ اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے کہ اگر انہیں ایک صالح بچہ دیا گیا تو وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ یہاں تک تو فطرت کے تقاضوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی خلاف توقع بچے کی پیدائش کے عمل میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کی فطرت میں کجی آجاتی ہے۔ ایک تیسری لائن خود انسانی وجود کے اندر پائے جانے والی ادراکی قوتوں کے بارے میں ہے کہ اگر ان قوتوں کو صحیح طرح کام میں نہ لایا جائے تو ایک معقول انسان انسانیت کے مرتبہ اور مقام سے گر کر حیوانی سطح پر اتر آتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم کا مستحق ہو کر اس کا ایندھن بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی کہ وہ دل رکھتے ہیں لیکن اس کے اندر جذبہ ادراک نہیں ہوتا۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن بینائی نہیں ہوتی ، وہ کان رکھتے ہیں لیکن سنتے ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ضلالت کے پیچھے اس طرح بھاگتے ہیں کہ نہ واپسی ہوتی ہے اور نہ واپسی کا موقع رہتا ہے۔ ایک اشاراتی لائن ہے ، ہدایت کی جاتی کہ دل و دماغ کو بیدار رکھو اور ہر معاملے میں غور و فکر کرتے رہو ، اس زمین و آسمان کے نظام مملکت کو دیکھو۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا پیدا کیا ہے اور پھر ہر چیز کے خاتمے کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ اس لیے تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر توجہ کرو اور غور کرو کہ اس دعوت کے حامل کو مجنون اور گمراہ کہا جاتا ہے۔ ایک لائن میں ان پر سخت تنقید لی گئی ہے اور یہ تنقید ان الہوں کے بارے میں ہے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ حالانکہ وہ جن کو پکارا جاتا ہے الہیت کی ابتدائی خصوصیات سے بھی عاری ہیں بلکہ ان میں تو زندگی کے معمولی آثار بھی ناپید ہیں۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ انہیں اور ان کے خداؤں کو چیلنج دیں کہ وہ کچھ تو پکاریں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ان سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان فرما دیں اور ان کے معبودوں اور عبادت سے علیحدہ ہوجائیں اور اس مولیٰ کے ہاں پناہ لیں جس کے سوا کوئی مولی نہیں۔ الذی نزل الکتب وھو یتولی الصالحین۔ میرا ناصر وہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں بنی اسرائیل کے اور پہاڑ کو چھتری کرکے ان سے عہد لیا گیا تھا ، اور اس سبق کا آغاز انسانیت کے ساتھ میثاق اکبر کے ذکر سے کیا گیا جو فطرت انسانی کے ساتھ طے پایا تھا۔ یہ عہد بھی ایسے منظر کی شکل میں ہے کہ اپنی خوبصورتی اور جلالت کے اعتبار سے اس منظر سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ ۔۔۔۔ درس نمبر 81 ۔ تشریح آیات 172 تا 198 ۔ ۔۔۔ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ۔ اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے " یہ ایک حیران کن کائناتی منظر ہے۔ ہم تک تمام زبانوں کے اندر جو تصورات منتقل ہوئے ہیں اس تصور کی کوئی مثال کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ جب انسانی تصورات اور قوائے مدرکہ اس تصور کا صحیح طرح احاطہ کرلیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجیب تصور ہے۔ انسانی خلیے تمام کائنات سے اخذ کرلیے گئے ہیں۔ اور ان سے اس طرح بات ہو رہی جس طرح ایک مکمل انسان سے بات ہوتی ہے اور وہ بھی ایک عقلمند انسان کی طرح بات کرتے ہیں ، کیونکہ ان میں بات کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے۔ یہ خلیے اعتراف کرتے ہیں اور شہادت توحید دیتے ہیں اور اس عظیم میثاق پر دستخط کرتے ہیں اور ہیں وہ انسانوں کے صلب میں۔ جب انسان اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو دیکھتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کی گہرائیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ باریک خلیوں کے اندر انسانی نسل کے ذرات کو دیکھ رہا ہے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ ہر ذرہ اس وقت زندہ ہے اور ہر ایک میں مکمل استعداد موجود ہے ، ہر ذرے کے اندر مکمل انسانی صفات موجود ہیں صرف وہ نشوونما کی اجازت کا منتظر ہے۔ اس کائنات کی نامعلوم وسعتوں سے وہ ظہور اور شہادت کا منتظر ہے۔ یہ ذری موجودات اس میثاق کو قبول کرتی ہے۔ اگرچہ ہماری نظروں میں آنے والے عالم معلوم ہیں یہ موجود ذرہ ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آیا۔ قرآن کریم نے اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو اس عظیم حقیقت کے ذہن نشین کرانے کے لیے پیش کیا جو اس کائنات کی حقیقت میں نہایت ہی گہرائی پر موجود اور مستحکم ہے۔ یہ منظر قرآن کریم نے آج سے 1400 سو سال قبل پیش کیا۔ اس وقت انسانوں کو اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں کچھ زیادہ سائنسی معلومات نہ تھیں۔ اس موضوع پر انسانی معلومات چند اوہام پر مشتمل تھیں۔ انسانی مزاج اور تخلیق انسانیت کے بارے میں زمانہ مابعد میں انسان نے کچھ حقائق دریافت کیے۔ چناچہ ان سائنسی انکشافات نے کہ جین کے اندر وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کسی انسان میں بعد کے ادوار میں نمودار ہوتی ہیں اور ان میں ایک مکمل فرد کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں جو بعد میں فرد کی صورت میں سامنے آتا ہے حالانکہ یہ خلیے کی شکل میں ہوتا ہے۔ ان خلیوں میں تین ہزار ملین انسانوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے جس میں ان کی تمام خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ ان خلیوں کا حجم ایک مکعب سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا یعنی سوئی کے ناکے کے برابر اور یہ وہ معلومات ہیں کہ اگر اس وقت لوگوں کو یہ بتائی جائیں تو لوگ کہتے کہ یہ شخص مجنوں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سچ کہا سنریہم ایاتنا فی الافاق و فی انفسہم حتی یتبین لہم انہ الحق۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ حق ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ " حضور نے فرمایا تمہارے رب نے آدم کی پشت کو چھوا ، اس سے وہ تمام جرثومے برآمد ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا ، اب اللہ نے ان سے پختہ وعدہ لیا اور انہیں خود ان کے خلاف گواہ ٹھہرایا اور سوال کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو ان سب نے جواب دیا ہاں ! یہ روایت حضرت ابن عباس سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح سے مروی ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کی موقوف روایت زیادہ قوی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منظر کیسے تھا ، اور اللہ نے کس طرح تمام پیدا ہونے والی مخلوقات کو نکال لیا اور ان کی گواہی خود ان کے خلاف ثبت کرلی۔ اور ان کو مخاطب کرنے کا انداز اور سوال و جواب کس طرح تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ افعال الہی کی کیفیت بھی غیوب میں سے ایک غیب ہے ، جب تک انسان کے اندر ذات باری کے ادراک ذہنی کی قوت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک انسان کے لیے افعال الہیہ کی کفیت کا ادراک بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جب کسی ماہیت کا ادراک نہیں ہوسکتا تو اس کے فروعات یعنی کیفیات کا ادراک کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اور وہ تمام افعال جن کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے مثلا ثم استوی الی السماء وھی دخان۔ " پھر اللہ آسمانوں پر متمکن ہوا اور یہ ایک دھواں تھا "۔ ثم استوی علی العرش " پھر عرش پر متمکن ہوا "۔ یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت " اللہ جسے چاہتا ہے ، مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹھہراتا ہے "۔ والسموات مطویات بیمینہ " اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے "۔ وجاء ربک والملک صفا صفا " تمہارا رب آئے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے "۔ وما یکون من نجوی ثلاثۃ الا ھو رابعہم " جو تین آدمیوں کا مشور ہو ، ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے "۔ وغیرہ ، یہ سب آیات جو افعال الہیہ کے بارے میں وارد ہیں ، یہ افعال تو لازماً صادر ہوئے اور ہوں گے لیکن ان کی کیفیت کا ادراک مشکل ہے۔ اس لیے کہ کیفیت کا تصور بھی ماہیت کے تصور کا فرع ہوتا ہے۔ اور اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس جیسی کوئی ذات نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ماہیت اور اس کے افعال کی کیفیت کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تشبیہ لازم آتی ہے اور اس کے مشابہ کوئی نہیں ہے۔ اللہ کے افعال کو انسانی افعال کے ذریعے سمجھنے کی جو کوشش بھی کی گئی وہ گمراہی پر منتج ہوئی ہے۔ کیونکہ اللہ اور مخلوق اللہ کی ماہیت میں فرق ہے۔ فلاسفہ اور سائنس دانوں نے انسانی افعال کے رنگ میں اللہ کے افعال کی کیفیات کو سمجھنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ نامراد ثابت ہوئی ہیں۔ نیز اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد فطرت انسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر اعتراف ربوبیت الٰہی ودیعت کردیا ہے اور فطرتاً ایک شخص اعتراف رب کرتا ہے ، البتہ بعض خارجی عوامل اسے فطرت کی راہ مستقیم سے بد راہ کرتے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں " سلف اور خلف کے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے جیسا کہ اس سے قبل حضرت ابوہریرہ اور عیاض ابن حمار المجاشعی کی حدیث میں منقول ہے۔ ان سے حسن بصری نے روایت کی ہے۔ جس نے اس آیت کی تفسیر اس کے مطابق کی ہے۔ ان لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے آدم کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ بنی آدم کا لفظ استعمال کیا ہے اور من ظھرہ نہیں کیا بلکہ من ظہورہم " ان کی پشتوں سے " کیا ہے۔ (ذریاتہم) کے لفظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد لوگ ہیں جو نسلاً بعد نسل اس دنیا میں مختلف زمانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا وھو الذی جعلکم خلفاء الارض " اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا۔ جعلکم خلفاء الارض " وہ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے " اور دوسری آیت میں ہے کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین " جیسا کہ تمہیں دوسری قوم کی پشت سے پیدا کیا "۔ پھر اللہ نے فرمایا واشھدہم علی انفسہم " انہیں اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا ہاں ! یعنی ان کو جود میں لا کر ان سے پوچھا اور انہوں نے اسے تسلیم کیا یعنی پیدائش کے وقت۔ علماء کہتے ہیں کہ شہادت کبھی تو قولی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے قالوا شہدنا علی انفسنا و غرتہم الخیاۃ الدنیا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " انہوں نے کہا ہمہ اپنے اوپر شہادت دیتے ہیں اور ان وک دنیا کی زندگی نے غرے میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے اپنے اوپر شہادت دی کہ وہ کافر تھے " اور کبھی حالاتی شہادت ہوتی ہے مثلاً قالوا شھدنا علی انفسنا و غرتہم الحیاۃ الدنیا و شھدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں۔ در آں حالیکہ وہ اپنے کفر کی شہادت دے رہے ہیں " یعنی ان حالات میں کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ زبان سے اپنے آپ کو کافر نہیں کہتے۔ و انہ علی ذلک لشہید " اور وہ اس پر گواہ ہے " اسی طرح سوال بھی کبھی تو قولی ہوتا ہے اور کبھی حالاتی ہوتا ہے۔ واتاکم من کل ما سالتموہ " اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جس کا تم نے سوال کیا " مفسرین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو عملاً اٹھا کر ان سے اقرار لیا گیا تھا اور یہ اقرار ان کے خلاف بائنڈنگ تھا تو پھر چاہئے کہ لوگوں کو وہ یاد بھی ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے اس واقعہ کی اطلاع ہی کافی ہے تو جواب یہ ہے کہ مشرکین تو اس حدیث کے ساتھ حضور اکرم کے تمام اخبار کو جھٹلاتے ہیں اور یہ ان کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ توحید کا اقرار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد تمام انسانوں کو کہا ان تقولوا یہ نہ ہو کہ تم کہو۔ یعنی قیامت کے دن تم یہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔ یا یہ نہ کہو انما اشرک اباؤنا " در اصل ہمارے آباء مشرک تھے " بعض احادیث میں بھی اس فطرت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے " (بعض روایات میں ہے کہ ملت پر پیدا ہوتا ہے " بعد میں اس کے باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا مجوسی جیسا کہ تمام جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اس میں کوئی کان کٹا ہوتا ہے ؟ صحیحین میں عیاض ابن حمار کی روایت ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو سیدھا پیدا کیا ، اس کے بعد شیاطین آئے اور انہوں نے بندوں کو ان کو دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ باتیں حرام کردیں جو حلال تھیں۔ ابن جریر نے اسود ابن سریع کی حدیث نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے حضور اکرم کے ساتھ چار غزوات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جنگ کے بعد بچوں کو بھی قتل کیا۔ یہ بات رسول اللہ تک پہنچی اور یہ ان پر بہت ہی گراں گزری۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کیا حال ان لوگوں کا ، جو بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ حضور کیا یہ لوگ مشرکین کے بچے نہیں ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر سے بہتر لوگ بھی تو مشرکین کے بچے ہیں ، جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اس فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد والدین اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی۔ حسن نے کہا " اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورہم ذریتہم " جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا " الی الی آخرہ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس آیت کو اپنے حقیقی معنوں میں بھی مستبعد نہیں سمجھتا ، کیونکہ جس طرح اللہ نے فرمایا ہے اسی طرح اس کا وقوع ممکن ہے " اور لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا تھا " اور کوئی بات بھی اس میں خلاف عقل نہیں ہے لیکن اوپر جن مفسرین نے اسے حالات فطرت کے معنوں میں لیا ہے وہ تفسیر بھی مستبعد نہیں ہے۔ ابن کثیر ، حسن بصری وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ بات پیش نظر رہے کہ انسانی فطرت نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اللہ کو وحدہ لا شریک ٹھہرائے گی۔ حقیقت توحید انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ ہر بچہ جب زندگی پاتا ہے تو یہ عہد اس کی فطرت کے ساتھ آتا ہے وہ اس وقت تک اس فطرت پر قائم رہتا ہے جب تک کوئی خارجی عامل اسے اس فطرت سے پھیر نہیں دیتا۔ اور یہ خارجی عوامل انسان کی فطری استعداد کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے جس طرح فطرت میں توحید و ودیعت کی ہے اسی طرح فطرت کو یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا ضلالت۔ اور جن حالات میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ حالات اور ظروف احوال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حقیقت توحید صرف فطرت انسانی کے اندر ہی ودیعت نہیں کی گئی بلکہ نظریہ توحید اس پوری کائنات کے اندر بھی رکھا ہوا ہے کیونکہ انسانی فطرت بہرحال اس وسیع فطری نظام ہی کا ایک حصہ ہے۔ انسانی وجود اس کائنات کے وجود سے منقطع نہیں ہے۔ یہ بھی اسی قانون کے مطابق چل رہا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے۔ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کے احکام اور اشارات قبول کرتی ہے اسی طرح اس چھوٹے سے انسان کی فطرت بھی تکوینی اثرات کو قبول کرتی ہے۔ وہ ناموس توحید جو اس کائنات پر حکمران ہے وہ اس کائنات کی شکل و صورت میں بالکل نمایاں ہے۔ اس میں کائنات کی ہم آہنگی ، اس کے اجزاء کا باہم ربط اور تناسب ، اس پوری کائنات اور اس کے اجزاء کی حرکت کا نظام ، اس کے قوانین کا تسلسل اور پوری کائنات کا ان قوانین کے مطابق مسلسل رواں دواں ہونا اور پھر ان قلیل معلومات کے مطابق جن تک انسان اب تک پہنچ سکا ہے کہ وہ ذرات جن سے یہ کائنات مرکب ہے اور ان ذرات کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں نکلنے والی شعاعیں یہ سب کچھ اس کائنات کے خالق کی وحدت پر دلیل ہیں۔ اس ہمہ گیر وحدت کے راز ہائے نہفتہ کو انسان رات دن کھول رہا ہے جن سے اس کائنات کے مزاج کی وحدت معلوم ہوتی ہے ، اس کے قوانین کی یک رنگی معلوم ہوتی ہے اور یہ یک رنگی آٹومیٹک نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اس کے نظام تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہم بہر حال انسانی انکشافات پر بھی بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ انسان کا علم بہرحال ظن وتخمین پر مبنی ہے۔ اور انسان کا علم یقینی علم نہیں ہے ، اس لیے کہ انسان کو جو ذرائع ادراک دئیے گئے ہیں وہ بھی یقینی نہیں ہیں اور ہم یقینا یہ نہیں معلوم کرسکتے کہ ناموس الہی کیا ہے ؟ جہاں تک انسانی علم اور ذرائع علم کا تعلق ہے انسان صرف حقیقت سے مانوس ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس اس کائنات کے ناموس اکبر کے بارے میں بھی حقیقی ذریعہ اطلاع اور ذریعہ علم صرف خالق کائنات کا پیغمبر ہے۔ قرآن کریم بہرحال یقینی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک قانون توحید جاری وساری ہے۔ اور اس قانون توحید کو اللہ رب العزت نے جاری کیا ہے اور یہ کائنات اور اس کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات صرف اسی رب واحد کی غلام ہے۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ رب کی بندگی کرے۔ جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے تو ہم صرف اس کائنات کے جاری وساری نظام ہی کو دیکھ سکتے ہیں جو ایک قاعدے کے مطابق چل رہا ہے۔ یہ ناموس اکبر جو اس عظیم کائنات کے اندر اللہ کی مشیت اور تقدیر نے جاری کیا ہے ، یہی خود انسان کے اس چھوٹے سے وجود میں بھی جاری ہے ، کیونکہ انسان بھی اس کائنات کا ایک کارکن ہے۔ یہ بھی اپنی فطرت میں جھگڑا ہوا ہے جسے اپنی فطری حرکات کا عقلی احساس بھی ضروری نہیں ہے کہ ہو ، اس لیے وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ادارک رکھتا ہے اور یہ ادراک حقیقت اس کی فطرت کی گہرائیوں میں ہے اس کی ذات اس کا شعور بھی رکھتی ہے۔ وہ اس کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ جب تک کہ خلل و فساد اس پر طاری نہ ہوجائے۔ اس خلل و فسادگی کی وجہ سے اس کا ذاتی ادراک ماند پڑجاتا ہے اور انسان عارضی حالات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ اور اب وہ بیرونی عوامل کے مطابق چلتا ہے۔ اور اس کا اندرونی عامل اپنا کام چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ناموس فطرت بذات خود اللہ اور بندے کے درمیان ایک عقد ہے اور یہ عقد انسان کے وجود کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت سے وہ ہر خلیے میں رکھ دیا جاتا ہے اور یہ عقد آدم (علیہ السلام) کے وقت سے آج تک جاری وساری ہے۔ انسان کا ہر حلیہ ربوبیت کا اقرار کرتا ہے اور اسی اقرار اور عقد یعنی ناموس قدرت کے مطابق دنیا میں آتا ہے۔ لہذا اس فطری عقد کے بعد مزید کسی دلیل وحجت کی انسان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چاہے یہ دلیل بلسان الحال ہو یا بلسان القول ہو۔ لہذا اب انسان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ وہ کہے کہ میں تو غفلت کا شکار ہوگیا تھا اور میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات سے لاپرواہی برتی تھی۔ یا کوئی شخص یہ بہانہ نہیں پیش کرسکتا کہ جب وہ کائنات میں وارد ہوا تو میرے آباء و اجداد اور ماحول میں شرک ہی شرک تھا اور عقیدہ توحید کی قبولیت کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ لہذا وہ اپنے عقائد و اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صاف صاف وضاحت فرما دی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عہد اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ کا تذکرہ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیل یوں وارد ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وادی نعمان میں (جو عرفات کے قریب ہے) حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا جو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی صورتوں میں تھے۔ اور پشت در پشت ان کی نسل سے جو بھی مخلوق پیدا ہونے والی تھی سب کو پیدا فرمایا اور ان کی وہی صورتی بنا دیں جو بعد میں عالم ظہور میں پیدا ہونے والی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بولنے کی قوت دی اس کے بعد ان سے عہد لیا اور انہیں ان کے نفسوں پر گواہ بنایا۔ ان سے فرمایا (اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) ان سب نے کہا ” بَلٰی “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ واقعی آپ ہمارے رب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سے یہ عہد اس لیے لیا گیا کہ قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس توحید سے بیخبر تھے یا یوں کہنے لگو کہ اصل شرک تو ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں تھے ان کے تابع ہو کر ہم نے بھی ان کے اعمال اختیار کرلیے۔ سو کیا ان گمراہوں کے فعل پر آپ ہمیں ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تمام بنی آدم سے اس بات کا اقرار لے لیا کہ واقعی اللہ ہی ہمارا رب ہے انہوں نے اقرار کرلیا اور اپنی جانوں پر گواہ بن گئے اس لیے قیامت کے دن کسی کے لیے کوئی عذر نہیں رہا اور اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ کوئی شخص توحید سے منہ موڑ کر اور شرک کے اعمال اختیار کر کے یوں کہنے لگے کہ مجھے تو کوئی پتہ نہ تھا، مسند احمد میں ہے کہ جب سب نے ” بلٰی “ کہہ کر اقرار کرلیا تو اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ میں تمہارے اوپر ساتوں آسمانوں کو اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو تم پر گواہ بناتا ہوں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم یوں کہنے لگو کہ ہمیں اس کا پتہ نہ تھا تم جان لو کہ بیشک میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میرے سوا کوئی رب نہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں تمہاری طرف رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد اور میثاق یاد دلائیں گے اور تمہارے اوپر کتابیں نازل کروں گا۔ اس پر سب نے کہا بیشک ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں اس موقع پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی عہد لیا گیا (جو سورة احزاب کی آیت (وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ) میں مذکور ہے) ۔ مذکورہ بالاحدیث مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٤ ج ١ میں مسند احمد سے نقل کی ہے اس سے یہ اشکال رفع ہوگیا کہ جو عہد کیا تھا وہ ہمیں یاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب عہد لیا تھا اس وقت فرما دیا تھا کہ میں تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد و میثاق یاد دلائیں گے۔ اور تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا۔ جب سے انسان دنیا میں آیا ہے سلسلہء نبوت بھی اس وقت سے جاری ہے سب سے پہلے انسان یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے پیغمبر بھی تھے۔ ان کے بعد یکے بعد دیگرے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے رہے جب ایک نبی جاتا تو دوسرا نبی آجاتا تھا۔ سورۂ فاطر میں فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) (اور کوئی جماعت ایسی نہیں جن میں کوئی نذیر نہ گزرا ہو) آخر میں سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی آپ کی بعثت سارے انسانوں کے لیے سارے زمانوں کے لیے اور سارے جہانوں کے لیے ہے۔ آپ کی دعوت ہر شخص کو پہنچی ہوئی ہے۔ آپ کے دین کی خدمت کرنے والے علماء مبلغ اور داعی سارے عالم میں تحریر و تقریر اور دیگر ذرائع سے توحید کی دعوت دے چکے ہیں اور دیتے رہتے ہیں اور عہد اَلَسْتُ کی تذکیر پوری طرح ہوتی رہی ہے۔ اگر بالفرض کوئی شخص دور دراز پہاڑوں کے غاروں میں رہتا ہو اور اسے دعوت نہ پہنچی ہو تب بھی عقل و فہم خالق ومالک نے اس کو عطا فرمائی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اپنے خالق کو پہچانے اور اس کو (وَحدہٗ لا شریک) مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ عقل و فہم بھی ہے اور (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) کے جواب میں بَلٰی بھی کہا تھا اس واقعہ کی کیفیت یاد ہو یا نہ ہو اس کا اثر یہ ضرور ہے کہ ہر انسان یہ ضرور سمجھتا ہے کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے مجھے اس کی عبادت ضرور کرنی چاہئے اسی وجہ سے فطری طور پر انسان عبادت کے لیے کسی ایسی ذات کو تلاش کرتا ہے جس کی وہ عبادت کرے۔ شیطان کے ورغلانے سے بہت سے لوگوں نے شرک اختیار کرلیا اور اصحاب توحید جب انہیں ملامت کرتے ہیں اور شرک کی قباحت ظاہر کرتے ہیں تو وہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ غیر اللہ کی عبادت بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے ہے، یہ جواب وہ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ خود بھی شرک کو برا سمجھتے ہیں۔ ان کے دلوں میں یہ عقیدہ ہے کہ ہمیں اپنے خالق کی عبادت کرنی چاہئے۔ اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے کو برا جاننا یہ اسی عہد اَلَسْتُ کا نتیجہ ہے۔ جس کا آیت کریمہ میں اور احادیث شریفہ میں ذکر ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرت (اسلامیہ) پر پیدا ہوتا ہے اور اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے تم چوپائے کو دیکھتے ہو کہ اس کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم اس میں کوئی عضو کٹا ہوا پاتے ہو (نہیں اس کا کوئی عضو ناقص نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگوں کے قبضہ میں ہوتا ہے وہ اس کا کان یا اور کوئی عضو کاٹ دیتے ہیں۔ اسی طرح فطرت اسلامیہ پر پیدا ہونے والے بچہ کو اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں) ۔ اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ (فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ) تلاوت فرمائی (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢١ از بخاری و مسلم ١٢) (وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (اور ہم اسی طرح اپنی آیات واضح طور پر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ رجوع ہوجائیں) ۔ فائدہ : انسانوں کو ترتیب وار ان کے باپوں کی پشتوں سے نکال کر چیونٹیوں کے جثہ میں جو ظاہر فرمایا تھا، آج کل جدید آلات اور ایٹمی توانائی کے ذریعہ جو چیزیں ذرات کی صورت میں بن رہی ہیں اور کمپیوٹر میں بڑی ہو کر سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے بتادیا ہے کہ بڑی سے بڑی چیز کو ایک چھوٹے نقطہ کی شکل دی جاسکتی ہے اور اس میں اس کے سب اعضاء موجود ہوسکتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

171: یہ ان کے قول باطل کے رد کی تیسری وججہ ہے یعنی اگر بخشے ہوئے ہوتے تمام بنی آدم کے ساتھ ان سے ہم اپنی ربوبیت کا عہد کیوں لیتے۔ “ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ”، “ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ ” سے بدل ہے اور “ ذُرِّیَّتَھُمْ ”، “ اَخذَ ” کا مفعول ہے۔ یعنی اولاد آدم سے ان کی اولاد کو پیدا کیا اور سب سے عہد لیا۔ “ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ” کیا میں تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہوں۔ “ قَالُوْا بَلیٰ ” تو سب نے کہا کیوں نہیں ؟ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ ہم سب اس کا اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ “ والمعنی شھدنا انک ربنا والٰھنا ” (قرطبی ج 7 ص 318) ۔ یہ عہد کب لیا گیا ؟ عام طور پر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عہد عالم ارواح میں لیا گیا۔ اس طرح کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کی روحوں کو نکال کر ان سے اقرار لیا گیا۔ حضرت شیخ (رح) نے ھ فرمایا یہ عہد ہر شخص سے اس کی پیدائش کے وقت لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنی فطرت کے لحاظ سے موحد ہوتا ہے جیس کہ ارشاد ربانی ہے۔ “ فِطْرَةَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ” اسی طرح ایک جہ فرمایا۔ “ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلقَھُمْ لَیقُوْلُنَّ اللّٰهُ ”(زخرف رکوع 7) ۔ یہ اللہ کے خالق ومالک ہونے کا سبق ان کو پیدائش کے وقت ہی سے ملا تھا۔ 172: یہ اصل میں “ کراھة ان تقولوا یا لئلا تقولوا ” تھا۔ یعنی یہ عہد ربوبیت اس لیے لیا تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو توحید سے بالکل بیخبر تھے اور ہم کو اس کا بالکل علم ہی نہ تھا۔ “ اَوْ تَقُوْلُوْا ” یہ پہلے “ تَقُوْلُوْا ” پر معطوف ہے اور نہ یہ عذر پیش کس کو گے کہ شرک کے اصل بانی تو ہمارے باپ دادا تھے ہم ان کے بعد پیدا ہوئے اور ہم نے محض ان کی دیکھا شرک کیا اس لیے ان کے فعل کی وجہ سے ہمیں کیوں ہلاک کرتا ہے۔ اس عذر کو ختم کرنے کے لیے ہم نے ہر ایک سے عہد لیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

172 اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اے پیغمبر آپ کے پروردگار نے اولاد آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد اور ان کی اولاد کی پشت سے ان کی اولاد اسی طرح اولاد در اولاد سب کو عالم ارواح میں نکال کر جمع کیا اور ان سب کو خود انہی کی ذات پر گواہ بنایا اور ان کو خطاب کرتے ہوئے دریافت فرمایا کہ میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟… ان سب نے جواب دیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں ہم سب آپ کی ربوبیت پر گواہ بنتے ہیں اور آپ کی ربوبیت اور آپ کے رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں یہ اقرار اولاد ِ آدم (علیہ السلام) سے اس لئے لیا گیا تاکہ قیامت میں اگر تمہارے شرک کی وجہ سے تم کو سزا دی جائے تو تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو آپ کی توحید اور آپ کی ربوبیت سے بالکل ہی بیخبر تھے۔