Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 174

سورة الأعراف

وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۷۴﴾

And thus do We [explain in] detail the verses, and perhaps they will return.

ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ باز آجائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Thus do We explain the Ayat in detail, so that they may turn (unto the truth).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ : ” اور تاکہ وہ پلٹ آئیں “ اور باطل کو چھوڑ دیں۔ یہ واقعہ یہود کو سنایا، کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verse 174 said: وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿١٧٤﴾ |"And this is how we elaborate the verses, so that they may return.|" That is, Allah has made His signs clear through His elaborate verses to facilitate people to turn back to their pledge and acknowledge Him as their Lord. Any one applying his reason can find the Truth and save himself from everlasting punishment.

تیسری آیت میں اسی مضمون کا بیان اس طرح آیا ہے، (آیت) وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کیا کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کجروی سے باز آجائیں، مراد یہ ہے کہ آیات الہیہ میں ذرا بھی غور کریں تو وہ اس عہد و میثاق کی طرف لوٹ آئیں جو ازل میں کیا گیا تھا یعنی اللہ جل شانہ کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی اطا عت کو لازم سمجیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝ ١٧٤ تفصیل : ما فيه قطع الحکم، وحکم فَيْصَلٌ ، ولسان مِفْصَلٌ. قال : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] ، الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] ( ف ص ل ) الفصل التفصیل واضح کردینا کھولکر بیان کردینا چناچہ فرمایا : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] اور ہم نے ہر چیز بخوبی ) تفصیل کردی ہے ۔ اور آیت کریمہ : الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم و خیبر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٤) اسی طرح ہم قرآن حکیم میں عہد ومیثاق کے واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ یہ کفر وشرک سے میثاق اول کی طرف رجوع کریں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٤ (وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ) اب آئندہ آیات میں ایک شخصیت کا واقعہ تمثیلی انداز میں بیان ہوا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ محض تشبیہہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ یہ قصہ دراصل ہمارے لیے درس عبرت ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت بدنصیب ہے وہ فرد یا قوم جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بیش بہا انعام و اکرام اور قرب خاص سے نوازے ‘ مگر وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے خود کو ان تمام فضیلتوں سے محروم کرلے اور اللہ کی بندگی سے نکل کر شیطان کا چیلہ بن جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

136. 'Signs' here refer to the imprints made by knowledge of the truth on the human heart which help towards cognition of the truth. 137. 'To return' here signifies giving up rebellion, and reverting to obedience to God.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :136 یعنی معرفت حق کے جو نشانات انسان کے اپنے نفس میں موجود ہیں ان کا صاف صاف پتہ دیتے ہیں ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :137 یعنی بغاوت و انحراف کی روش چھوڑ کر بندگی و اطاعت کے رویہ کی طرف واپس ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اور باطل کا چھو ڑدیں یہ قصہ یہود کے سنایا کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے ( از مو ضح)5 یعنی اس علم سے اس طرح نگل گیا جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے، (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر اثناء احوال بنی اسرائیل میں ان کا مامور باحکام الہییة ہونا اور ذکر میثاق عالم ارواح میں تمام آدمیوں کا مامور بتوحید ہونا مقصود اور ان مذکورین کا توحید و رسالت کے انکار سے ان عہود کے خلاف کرنا ضمنا مذکور ہوا تھا آگے بعد علم احکام کے ان کے خلاف کرنے والے کی مثال بیان فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

174 اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو مفصل اور صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ وہ ان آیات کے مطالب کو سمجھیں اور تاکہ وہ باز آجائیں اور اصرار علی الباطل کو چھوڑ دیں اور حق کی جانب مائل ہوجائیں۔