Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 183

سورة الأعراف

وَ اُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ۟ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۱۸۳﴾

And I will give them time. Indeed, my plan is firm.

اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأُمْلِي لَهُمْ ... And I respite them, prolong what they are in, ... إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ certainly My plan is strong (and perfect).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

183۔ 1 یہ وہی استدراج و امہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مواخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اسے بچانے پر قادر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٣] قانون امہال و تدریج :۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ مجرم لوگوں پر سرزنش اور تنبیہ کے طور پر پہلے چھوٹے چھوٹے دکھ اور تکلیفیں نازل فرماتا ہے اگر لوگ ان سے عبرت حاصل کرلیں تو خیر ورنہ انہیں ایک دوسرے طریقہ سے آزماتا ہے۔ یعنی ان پر خوش حالی اور آسودگی کا دور آتا ہے جس میں وہ ایسے مگن اور مستغرق ہوجاتے ہیں کہ انہیں سابقہ تکلیفیں یاد ہی نہیں رہتیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ انہیں محض اس لیے مہلت دے رہا ہوتا ہے کہ جس انتہا کو پہنچنا چاہتے ہیں پہنچ جائیں تو پھر یکدم انہیں ان کے انجام سے دو چار کردیتا ہے اس وقت لوگوں کو کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ : ” اَمْلَی یُمْلِیْ اِمْلَاءً “ لمبی مہلت دینے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ: جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے بھاگ کر جانے نہیں دیتا۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي) [ ھود : ١٠٢ ] [ بخاری، التفسیر، باب : ( وکذٰلک أخذ ربک۔۔ ) : ٤٦٨٦، عن أبی موسٰی۔ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verse (183) is also related with &Istidraj&. It said: وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿١٨٣﴾ |"And I give them respite. Surely, My plan is firm.|" That is, the disbelievers are left to enjoy their worldly life just for a while. Then, they shall be caught by punishment.

تیسری آیت میں اسی استدراج کا بیان ہے ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ، یعنی میں ان گناہگاروں کو مہلت دتیا رہتا ہوں، میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاُمْلِيْ لَہُمْ۝ ٠ ۭۣ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۝ ١٨٣ ملي ( مهلت) الْإِمْلَاءُ : الإمداد، ومنه قيل للمدّة الطویلة مَلَاوَةٌ من الدّهر، ومَلِيٌّ من الدّهر، قال تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] وتملّيت دهراً : أبقیت، وتملّيت الثَّوبَ : تمتّعت به طویلا، وتملَّى بکذا : تمتّع به بملاوة من الدّهر، ومَلَاكَ اللهُ غير مهموز : عمّرك، ويقال : عشت مليّا . أي : طویلا، والملا مقصور : المفازة الممتدّة «1» ، والمَلَوَانِ قيل : اللیل والنهار، وحقیقة ذلک تكرّرهما وامتدادهما، بدلالة أنهما أضيفا إليهما في قول الشاعر : 428- نهار ولیل دائم ملواهما ... علی كلّ حال المرء يختلفان «2» فلو کانا اللیل والنهار لما أضيفا إليهما . قال تعالی: وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] أي : أمهلهم، وقوله : الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] أي : أمهل، ومن قرأ : أملي لهم «3» فمن قولهم : أَمْلَيْتُ الکتابَ أُمْلِيهِ إملاءً. قال تعالی: أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] . وأصل أملیت : أمللت، فقلب تخفیفا قال تعالی: فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] ، وفي موضع آخر : فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] . ( م ل ی ) الا ملاء کے معنی امداد یعنی ڈھیل دینے کے ہیں اسی سے ملا وۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا ۔ تملیت الثوب میں نے اس کپڑا سے بہت فائدہ اٹھایا ۔ تملیٰ بکذا اس نے فلاں چیز سے عرصہ تک فائدہ اٹھا یا ۔ ملاک اللہ ( بغیر ہمزہ ) اللہ تیری عمر دراز کرے ۔ چناچہ اسی سے غشت ملیا کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں تم عرصہ دراز تک جیتے رہو ۔ الملا ( اسم مقصود ) وسیع ریگستان ۔ بعض نے کہا ہے کہ الملوان کے معنی ہیں لیل ونہار مگر اصل میں یہ لفظ رات دن کے تکرار اور ان کے امتداد پر بولا جاتا ہے ۔ کیونکہ لیل ونہار کی طرف اس کی اضافت ہوتی ہے ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( 413 ) مھار ولیل دائم ملوا ھما علیٰ کل جال المرء یختلفان رات دن کا تکرار ہمیشہ رہتا ہے اور ہر حالت میں یہ مختلف ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ملوان کا اصل لیل ونہار ہوات تو ان کی ضمیر کی طرف مضاف ہو کر استعمال نہ ہوتا اور آیت کریمہ : ۔ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ [ الأعراف/ 183] اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں ۔ میری تدبیر ( بڑی ) مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی ( بڑی مضبوط ہے میں املی لھم کے معنی مہلت دینے کے ہیں ۔ نیز فرمایا : ۔ أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ [ آل عمران/ 178] کہ ہم ان کو مہلے دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ الشَّيْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلى لَهُمْ [ محمد/ 25] طول ( عمر کا وعدہ دیا ۔ میں املا کے معنی امھل یعنی مہلت دینے کے ہیں ۔ ایک قراءت میں املا لھم ہے جو املیت الکتاب املیہ املاء سے مشتق ہے اور اس کے معنی تحریر لکھوانے اور املا کروانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَهِيَ تُمْلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفرقان/ 5] اور وہ صبح شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اصل میں املیت املک ( مضاف ) ہے دوسرے لام کو تخفیف کے لئے یا رسی تبدیل کرلیا گیا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ [ البقرة/ 282] تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے ۔ كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔ متن المَتْنَانِ : مکتنفا الصّلب، وبه شبّه المَتْنُ من الأرض، ومَتَنْتُهُ : ضربت متنه، ومَتُنَ : قَوِيَ متنُهُ ، فصار متینا، ومنه قيل : حبل مَتِينٌ ، وقوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ [ الذاریات/ 58] . ( م ت ن ) المتان پیٹھ کے دونوں حصے جو ریڑھ کی ہڈی کے ارد گرد ہوتے ہیں ۔ اور تشبیہ کے طور پر سخت زمین کو المتن کہتے ہیں ۔ متنتہ کسی کی پیٹھ پا مارنا متن مضبوط پشت ولا ہونا اور مضبوط پشت والے آدمی کو متین کہا جاتا ہے ۔ اسی سے حبل متین کا محاورہ ہے ۔ جس کے معنی مضبوط رسی کے ہیں قرآن پاک میں ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ [ الذاریات/ 58] خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٣) چناچہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ایک ہی دن میں ہلاک کردیا، کسی کو کسی کی ہلاکت کی خبر بھی نہ ہوئی، میں ان کو مہلت دیتا رہتا ہوں، میرا عذاب اور میری گرفت بہت سخت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٣ (وَاُمْلِیْ لَہُمْط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ ) ایسے مجرموں کو ڈھیل دینے کی مثال مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ جب کانٹا مچھلی کے حلق میں پھنس جائے تو اب وہ کہیں جا نہیں سکتی ‘ جتنی ڈور چاہیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔ جب آپ چاہیں گے اسے کھینچ کر قابو کرلیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

94: یہ ان لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جارہے ہوں، اور پھر بھی دُنیا کے عیش وعشرت سے لطف اندوز ہورہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دنیوی عیش وعشرت میسر آتی ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے ،جس کو قرآنِ کریم نے ’’استدراج‘‘ کا نام دیا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑلیا جاتا ہے، کبھی تو یہ پکڑ دُنیا میں ہوجاتی ہے ،اور اگر ایسا نہ ہوئی تو آخرت میں توہونی ہی ہونی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ان پر فورا گرفت نہ کروں گا تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گنا کرتے جائیں۔ اس کا نام ڈھیل اور استدراج ہے جو کفار کو انکے گناہ کی سزا میں دی جاتی ہے مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے حالانکہ انہیں آخری عذاب کے لیے تیار کہا جارہا ہے۔ ( کبیر)8 جس کی کسی حیلہ اور تد بیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی حضرت ابو موسیٰ الا شعری (رض) سے روایت ہے کہ بن صلعم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑتا ہے تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا ( بخاری ومسلم

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ حاصل یہ کہ ان کی شرارتوں پر سزائے شدید دینا منظور ہے اس لیے اس کی یہ تدبیر کی گئی کہ یہاں مواخذہ کامل نہیں فرمایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

183 اور میں ان کو مہلت دے رہا ہوں۔ بیشک میری تدبیر اور میری گرفت بڑی سخت ہے۔