Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 2

سورة الأعراف

کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾

[This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ ڈرائیں سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ ... (This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you (O Muhammad), from your Lord, ... فَلَ يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ ... so let not your breast be narrow therefrom, According to Mujahid, Qatadah and As-Suddi, meaning, having doubt about it. It was also said that the meaning here is: `do not hesitate to convey the Qur'an and warn with it,' فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ Therefore be patient as did the Messengers of strong will. (46:35) Allah said here, ... لِتُنذِرَ بِهِ ... that you warn thereby, meaning, `We sent down the Qur'an so that you may warn the disbelievers with it,' ... وَذِكْرَى لِلْمُوْمِنِينَ and a reminder unto the believers. Allah then said to the world,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی اس کے بھیجنے سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب (جھٹلائیں) نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ سب کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریف ہے اور اصل مخاطب امت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢] یہاں کتاب سے مراد یہی سورة اعراف ہے اور قرآن میں جب کبھی سورة کے ابتداء میں کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کا معنی وہ سورت ہی ہوتا ہے گویا قرآن کریم کی ہر سورة ایک مستقل کتاب ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہے اور قرآن ایسی ہی ایک سو چودہ کتابوں (یا سورتوں) کا مجموعہ ہے جیسا کہ سورة && البینہ && میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ( رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۝ ۙ ) 98 ۔ البینة :2) پھر لفظ کتاب کا اطلاق پورے قرآن پر بھی ہوتا ہے۔ [ ٣] جب کبھی کوئی سورة نازل ہوتی اور آپ لوگوں کو سناتے تو کافروں کی طرف سے ردّعمل یہ ہوتا کہ کبھی صاف انکار کردیتے کبھی مذاق اڑاتے، کبھی اعتراضات شروع کردیتے، کبھی کسی حسی معجزہ کا مطالبہ شروع کردیتے۔ غرض یہ کہ ان کی طرف سے حوصلہ شکنی اور دل شکنی کی تمام صورتیں واقع ہوجاتیں مگر حوصلہ افزائی کی کوئی صورت نہ ہوتی اسی وجہ سے بعض دفعہ آپ کی طبیعت میں سخت انقباض اور گھٹن پیدا ہوجاتی اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں آپ قرآن لوگوں تک صرف پہنچا دیں اور انہیں ڈرائیں کفار سے جو ردعمل ہو رہا ہے یا وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کے لیے آپ پریشان نہ ہوں اللہ خود ان سے نمٹ لے گا البتہ اس قرآن کے سنانے کا ایک فائدہ تو یقینی ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے لیے یہ نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی جو ان کے ایمان کو مزید پختہ اور مضبوط بنا دے گی۔ اور یاد دہانی سے مراد عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ١٧٢؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کی یاددہانی ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے اور کسی بھی خارجی داعیے سے اس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ قرآن اسی دبے ہوئے شعور کو بیدار کرتا اور اس عہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ ۔۔ : کتاب نازل کی گئی، کس نے نازل کی، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ کتاب کس نے نازل کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو ڈرائیں اور خبردار کریں، تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور ایمان والوں کو نصیحت کریں، تاکہ ان کے ایمان اور ہدایت میں اضافہ ہو، اس لیے آپ اسے پہنچانے میں دل میں کوئی تنگی یا خوف نہ آنے دیں کہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے، کیونکہ اگر کچھ جھٹلانے والے ہوں گے تو ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور آپ پر یہ کتاب اتارنے والا آپ کا حامی و ناصر ہوگا، اس لیے کسی تنگ دہی یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the statement فَلَا يَكُن فِي صَدْرِ‌كَ حَرَ‌جٌ appearing in the first verse, the address is to the Holy Prophet . (رض) and he has been told: This Qur&an is the Book of Allah sent down to you. This should not cause any constraint on your heart. The word: حَرَج (haraj) translated here as ` constraint& means that ` you should have no anguish or apprehension in conveying the Qur&an and its injunctions lest people belie it and hurt you.& (As reported from Abu Al-` Aliyah - Mazhari) The hint given here is that Allah who has sent down this Book on you has also made arrangements that you shall remain protected and that takes care of any anguish on your part. Some commentators have said that ` haraj& or ` constraint on the heart& refers to the constraint ex¬perienced by the Holy Prophet (رض) who, because of his affec¬tionate concern for people, felt pain when they would not believe despite having heard the Qur&an and its injunctions. To offset this constraint, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been told that the duty with which he has been obligated is simply to make the call and con¬vey the message. Once this is done, it is not his responsibility to see who becomes a Muslim and who does not. Therefore, there was no rea¬son for him to be anxious.

معارف و مسائل پوری سورة پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے مضامین زیادہ تر معاد، یعنی آخرت اور نبوت و رسالت کے متعلق ہیں، چناچہ ابتداء سورة سے چھٹے رکوع تک تقریباً مضمون معاد و آخرت کا بیان ہوا ہے، پھر آٹھویں رکوع سے اکیسویں رکوع تک انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات ان کی جزاء و سزا اور ان پر آنے والے عذابوں کا مفصل تذکرہ ہے۔ (آیت) فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ پہلی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرما کر یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجی گئی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی وجہ سے دل تنگی نہ ہونی چاہئے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی کا خوف مانع نہ ہونا چاہئے کہ لوگ اس کو جھٹلا دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء دیں گے، (کذاروی عن ابی العالیة، مظہری) اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امداد و حفاظت کا بھی انتظام کردیا ہے، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں دل تنگ ہوں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن اور احکام اسلام سن کر بھی جو لوگ مسلمان نہ ہوتے تھے تو یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بوجہ شفقت کے شاق ہوتا تھا، اسی کو دل تنگی سے تعبیر کیا گیا، اور یہ بتلایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرض منصبی صرف تبلیغ و دعوت کا ہے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کام کرلیا تو اب یہ ذمہ داری آپ کی نہیں کہ کون مسلمان ہوا کون نہیں ہوا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں بلا وجہ دل تنگ ہوں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سورة اعراف قول باری ہے فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) فقرے کا انداز بیان نہی کی صورت میں ہے اور معنی یہ ہیں کہ مخاطب کو حرج یعنی تنگی سے تعرض کرنے سے روکا گیا ہے جن سے مروی ہے کہ حرج کے معنی تنگی کے ہیں۔ یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ پورے فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا دل اس خوف سے تگ نہ ہو کہ کہیں تم اس کا حق ادا کرنے سے قاصر نہ رہ جائو۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے ذمہ تو صرف اس کے ذریعے لوگوں کو خدا کے عذاب اور اس کی نافرمانی کے نتائج سے ڈراتے رہنا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجا، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ حرج سے یہاں شک مراد ہے۔ یعنی تمہیں اس بات میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانا تم پر لازم ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” کفار اور مشرکین تمہاری تکذیب کرتے ہیں ان کی تکذیب کی وجہ سے تمہارا دل تنگ نہ ہونا چاہیے “۔ جس طرح یہ قول باری ہے فلعلک باخع نفسک علیٰ اثارھم لم یومنوا بھذا الحدیث اسفاً ۔ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو کیا تم اس پر افسوس کے مارے ان کے پیچھے اپنی جان دے دو گے) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢) یہ قرآن حکیم بذریعہ جبرئیل امین (علیہ السلام) مکہ والوں کو ڈرانے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتارا گیا ہے تاکہ وہ ایمان لائیں، سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کسی کے نہ ماننے پر قرآن کے اللہ کی طرف سے ہونے میں شک اور دل میں تنگ نہ ہونی چاہئے، قرآن کریم نے حلال و حرام تمام چیزوں کو وضاحت سے بیان کردیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبودان باطل مثلا بتوں وغیرہ کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، تم لوگ نہ کسی کم چیز سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زیادہ سے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ (کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہے تھے ‘ مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سالہا سال کی جدوجہد کے باوجود مکہ کے صرف چند لوگ ایمان لائے۔ یہ صورت حال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے باعث تشویش تھی۔ ایک عام آدمی تو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی دوسروں کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کو بھی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو صاف بچانے کی فکر میں رہتا ہے ‘ لیکن ایک شریف النفس انسان ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر اس کی کوشش کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں تو اس میں اس کی طرف سے کہیں کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ اس سوچ اور احساس کی وجہ سے وہ اپنے دل پر ہر وقت ایک بوجھ محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسلسل کوشش کے باوجود اہل مکہ ایمان نہیں لا رہے تھے تو بشری تقاضے کے تحت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دل میں بہت پریشانی محسوس ہوتی تھی۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اس قرآن کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوپر کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ (لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) لِتُنْذِرَ بِہٖ وہی لفظ ہے جو ہم سورة الانعام کی آیت ١٩ میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ وہاں فرمایا گیا تھا : (وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط) اور یہ قرآن میری طرف اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تمہیں بھی خبردار کروں اور جس جس کو یہ پہنچے۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ اہل ایمان کے لیے ذِکْرٰی (یاد دہانی) ہے۔ یعنی جن سلیم الفطرت لوگوں کے اندر بالقوۃ (potentially) ایمان موجود ہے ان کے اس سوئے ہوئے ( dormant) ایمان کو بیدار (activate) کرنے کے لیے یہ کتاب ایک طرح سے یاددہانی ہے۔ جیسے آپ کو کوئی چیز بھول گئی تھی ‘ اچانک کہیں اس کی کوئی نشانی دیکھی تو فوراً وہ شے یاد آگئی ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کے حصول کے لیے اس کائنات کی نشانیوں کو یاد دہانی (ذکریٰ ) بنا دیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1. The word 'Book', in this context, signifies this very surah, al-A'raf. 2. The Prophet (peace be on him) is directed to preach his Message without fear and hesitation, and to disregard his opponents' response. Such opponents may well be offended by his preaching of the Message, or may, hold it to ridicule, or go about maliciously twisting it, or acting with greater hostility.All this notwithstanding, the Message of Islam must be preached. The Arabic word haraj (which we have translated as straitness), signifies an intractable bush. (See Ibn Manzur. Lisan al 'Arab and Firuzabadi, al-qamus, q.v. 'Harajah'.) 'Straitness or constriction in the breast' refers to the reluctance of a person to go ahead in the face of opposition. The following Qur'anic verse would seem to allude to this mental state of the Prophet (peace he on him): 'We do indeed know how your heart feels distressed at what they say' (al-Hijr 15: 97). What painfully concerned the Prophet (peace be on him) was to find out how he could direct a people, whose adamance and opposition to truth had reached such high proportions, to the Right Way. The same state of mind is again reflected in the Qur'anic verse: 'Perhaps you might feel inclined to part with a portion of what has been revealed to you, and your heart feels straitened lest they, say: "Why is a treasure not sent down unto him; or why does an angel not come with him?" ' (Hud 11:12). 3. The main purpose of this surah is to jolt the people out of their heedlessness and to warn them of the dire consequences that will follow if they reject the call of the Prophet (peace be on him). Additionally , this surah also seeks to serve as a reminder to the belivers - a purpose which is achieved, incidentally, by the warning made to the unbelievers.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :1 کتاب سے مراد یہی سورہ اعراف ہے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :2 یعنی بغیر کسی جھجک اور خوف کے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرو کہ مخالفین اس کا کیسا استقبال کریں گے ۔ وہ بگڑتے ہیں ، بگڑیں ۔ مذاق اُڑاتے ہیں ، اُڑائیں ۔ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں ، بنائیں ۔ دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوتے ہیں ، ہو جائیں ۔ تم بےکھٹکے اس پیغام کو پہنچاؤ اور اس کی تبلیغ میں ذرا باک نہ کرو ۔ جس مفہوم کے لیے ہم نے لفظ ِ جھجک استعمال کیا ہے ، اصل عبارت میں اس کے لیے لفظ حَرَج استعمال ہوا ہے ۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو ۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہُوا کہ مخالفتوں اور مزاحمتوں کے درمیان اپنا راستہ صاف نہ پاکر آدمی کا دل آگے بڑھنے سے رُکے ۔ اسی مضمون کو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ضیق صدر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔ مثلاً وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِيْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ( الحجر۸ ، آیت ۹۷ ) ”اے محمد ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تم دل تنگ ہوتے ہو“ ۔ یعنی تمہیں پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی اور مخالفت حق کا یہ حال ہے انہیں آخر کس طرح سیدھی راہ پر لایا جائے ۔ فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعْضَ مَا یُوحٰیٓ اِلَیْکَ وَضَائِقٌۢ بِہ صَدْرُکَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَہ مَلَکٌ ( ہود ، آیت ١۲ ) ” تو کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ تم پر وحی کیا جارہا ہے اس میں سے کوئی چیز تم بیان کرنے سے چھوڑ دو اور اس بات سے دل تنگ ہو کہ وہ تمہاری دعوت کے جواب میں کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اُترایا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا ۔ “ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :3 مطلب یہ ہے کہ اس سورہ کا اصل مقصد تو ہے اِنذار ، یعنی لوگوں کو رسول کی دعوت قبول نہ کرنے کے نتائج سے ڈرانا اور غافلوں کو چونکانا اور متنبہ کرنا ، رہی اہل ایمان کی تذکیر ( یاد دہانی ) تو وہ ایک ضمنی فائدہ ہے جو اِنذر کے سلسلہ میں خود بخود حاصل ہو جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یعنی آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے، اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے، ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(2 ۔ 3) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) کے قول کے موافق اس آیت میں حرج کے معنے شک کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کتاب کے اللہ کا کلام ہونے میں کچھ شک نہیں ہے تو مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگوں کے اس قرآن کو سن کر راہ راست پر آنے میں بھی کچھ شک نہیں کرنا چاہئے اس لئے تم اس کتاب کے موافق لوگوں کو ڈراتے رہو اور آخر کو اس ڈرانے کا نتیجہ نیک حسب دل خواہ نکلنے میں کچھ شک وشبہ نہ کرو کیونکہ جو ایمان والے ہیں ان کے لئے تو اس قرآن میں بڑی نصیحت ہے اور جو منکر لوگ اس کی نصیحت نہ مانیں تو اے رسول اللہ کے تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے قرآن کی مانند ایک چھوٹی سی سورت بھی بنا کر پیش نہ کرسکے اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ قرآن طاقت بشری سے باہر ایک کلام ہے تو ان کے قائل کرنے کو فرمایا کہ اب ہٹ دھرمی نہ کرو قرآن کو کلام الٰہی جانو اور اس کی پیروی کرو شیطان کے بہکانے سے بت پرستی جو کر رہے ہو اس کو اور سب طرح کا کفرو شرک کو چھوڑ سوائے خدا کے کسی کو پانا کام بنانے والا نہ ٹھہراؤ تم لوگ نصیحت کی باتوں کا بہت کم دھیان کرتے ہو ورنہ قرآن کی نصیحت تمہارے دل پر خوب اثر کرسکتی ہے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کے لوگوں کی تعداد بہ نسبت اور امتوں کے زیادہ ہوگی یہ حدیث قرآن کے صاحب اثر ہونے کی گویا تفسیر ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

کتب۔ خبر ہے۔ جس کا مبتدا محذوف ہے یعنی ھو کتاب۔ کتب سے مراد یہاں القران ہے۔ صدرک۔ تیرا سینہ۔ صدر سے۔ مضاف۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ واحد صدور۔ جمع۔ بعض حکماء کے نزدیک قرآن میں جہاں کہیں قلب کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں صرف علم و عقل کی طرف اشارہ ہے۔ جیسے فرمایا ہے ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (50:37) جو شخص دل آگاہ رکھتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ اور جہاں صدر۔ استعمال ہوا وہاں علم و عقل کے علاوہ شہوت۔ ہوائے نفس اور غضب وغیرہ قوی نفسانیہ کی طرف بھی اشارہ ہے۔ چناچہ رب اشرح لی صدری (20:25) میں نفسانی قوی کی اصلاح کا سوال ہے۔ حرج۔ تنگی۔ مضائقہ ۔ شک۔ گناہ۔ تنگ۔ اصل میں حرج کے معنی اشیاء کے مجتمع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہا جاتا ہے۔ چناچہ اور جگہ آیا ہے ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا (4:25) اور ۔۔ پھر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں (نہ محسوس کریں) کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ فلا یکن فی صدرک حرج منہ۔ پس نہ چاہیے کہ نہ ہو تیرے سینہ میں کوئی شک یا تنگی خاطر اس سے۔ تقدیر کلام یوں ہے ۔ ھذا کتب انزل الیک لتنذر بہ وذکری للمؤمنین فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ یہ کتاب (القرآن) ہے ۔ جو نازل کی گئی ہے تیری طرف تاکہ تو ڈرائے (لوگوں کو) اس (کی نواہی سے پرہیز نہ کرنے کی عاقبت) سے اور یہ ایک نصیحت ہے مومنوں کے لئے۔ پس چاہیے کہ تیرے سینہ میں اس (کی تبلیغ) کے متعلق کوئی تنگی و شک و شبہ نہ ہو۔ یعنی آپ بلا جھجک اور بےدھڑک اس کی تبلیغ فرمادیں۔ مخالفین کی تکذیب اور تنقید کا کوئی ڈر دل میں نہ رکھیں۔ کیونکہ تیرے اللہ کی طرف سے یہ حق و صداقت پر مبنی کتاب ہے۔ ذکری۔ نصیحت کرنا۔ بہت ذکر کرنا۔ یاد۔ پندو نصیحت۔ موعظت۔ ذکر ٰذکر (نصر) کا مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ ذکری کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔:۔ (1) یہ بحالت نصب ہے اضمار فعل کے ساتھ ای لتنذر بہ وتذکر تذکیرا۔ اس صورت میں الذکری بمعنی التذکیر ہے۔ (2) یہ بحالت رفع ہے۔ اور اس کا عطف کتب پر ہے۔ ای ھو کتب وذکر للمؤمنین۔ (3) یہ بحالت جر ہے۔ والعطف علی محل لتنذر بمعنی للانذار ارد للذکری ڈرانے کے لئے اور نصیحت کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی خوف اور جھجک کے بغیر ان لوگوں تک پہنچادیں اور اگر لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے ہدایت دینا یا نہ دینا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ کیونکہ کسی کے نہ ماننے سے آپ کے انذار میں تو جو کہ اصلی غرض ہے خلل نہیں پڑتا پھر آپ کیوں تنگدل ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن المص۔ حروف مقطعات ہیں ان کے بارے میں سورة البقرۃ کی ابتداء میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان حروف کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان کا شریعت کے مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے صحابہ (رض) نے ان کے معانی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة البقرۃ کے ابتدائی حروف ا آم کی تشریح ملاحظہ فرمائیں چناچہ مقطعات کے بعد حکم ہوا۔ اے پیغمبر ! یہ کتاب مقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی ذات اطہر پر نازل کی گئی ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھائیں اور سمجھائیں۔ اگر لوگ اسے ماننے سے انکار اور آپ سے تکرار کرتے ہیں تو آپ کو دل میں تنگی اور لوگوں کو سمجھانے میں اکتاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کتاب تو تنگ دلی کا علاج، الجھنوں کا حل، قلب ونظر کے لیے نور، دینی و دنیاوی مسائل کا مداوا ہے۔ اس میں اللہ کے منکروں، حق کا انکار کرنے والوں کے لیے بڑا انتباہ ہے اور ایمان وایقان والوں کے لیے خیر خواہی، رحمت اور موعظت کی بےمثال اور لازوال دولت ہے بشرطیکہ لوگ اس کی چاہت اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَآ أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الأجر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ ” الف “ ایک حرف ہے اور ” لام “ ایک حرف ہے ” اور ” میم “ ایک حرف ہے۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔ ٢۔ دعوت و تبلیغ میں مبلغ کو پر عزم اور بلند حوصلہ ہونا چاہیے۔ ٣۔ وعظ و نصیحت سے مومن ہی صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف کی ایک جھلک : ١۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٢۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان : ٣) ٣۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٤۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : ٩٢) ٥۔ قرآن مجید میں ہدایت واضح کردی گئی ہے۔ (النحل : ٨٩) ٦۔ قرآن مجید روشن اور بین کتاب ہے۔ (المائدۃ : ١٥) ٧۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (یوسف : ٣) ٨۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ (الشعراء : ١٩٢) قرآن و سنت کے علاوہ کسی کی بات کو شریعت کا درجہ حاصل نہیں : ١۔ جب ان سے کہا جاتا ہے پیروی کرو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی تو جواب میں اپنے آباء و اجداد کی پیروی کا حوالہ دیتے ہیں۔ (البقرۃ : ١٧٠، لقمان : ٢١) ٢۔ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (الزمر : ٥٥) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیروی کریں جو آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ (الاحزاب : ٢) ٤۔ بےعلم لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (الجاثیۃ : ١٨) ٥۔ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ (البقرۃ : ٢٠٨) ٦۔ اس کتاب بابرکت کی پیروی کرو۔ (الانعام : ١٥٥) ٧۔ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے لہٰذا ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (المائدۃ : ٧٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١ تا ٢۔ یہ کتاب تمہاری جانب اتاری گئی ہے تاکہ تم لوگوں کو بھلایا ہوا سبق یاد دلاؤ اور انجام بد سے ڈراؤ ۔ اس میں جو سچائی ہے اسے صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کردیں اور اس بات کا خیال نہ کریں کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں ۔ یہ کتاب آئی ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ حقائق پیش کرے جسے وہ پسند نہیں کرتے ‘ یہ آئی ہی اس لئے ہے کہ غلط عقائد ‘ رسومات اور غلط تعلقات کو ختم کرے اور باطل نظامہائے حکومت ‘ باطل قوانین اور باطل معاشروں کا مقابلہ کرے ۔ لہذا اس کتاب کی راہ میں مشکلات بہت ہیں ‘ اس کتاب کا پیغام لے کر جو بھی آئے گا ‘ اے مشکلات کو انگیز کرنا ہوگا ۔ اس کتاب کے اس پہلو کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے ‘ جیسا کہ ہم نے سورة پر تبصرے کے وقت کہا ‘ جو اس کے پیغام کو لے کر اٹھے ۔ اس کتاب کے نظریات کا اعلان ببانگ دہل کردے اور اس راہ میں جو مشکلات پیش ہوں انہیں برداشت کرے ۔ اس حقیقت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے لئے اہداف طے کرے اور وہ جاہلی معاشرے کو جڑوں سے ‘ اس کے تنے اور شاخوں سمیت اکھاڑ پھینکنے اور اس کی جگہ مکمل تغیر اور انقلاب لانے کا داعیہ اپنے اندر رکھتا ہو ‘ جس طرح اس کتاب کے حامل اول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے لے کر دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا اور طاغوت اور جاہلیت کا مقابلہ کیا اور پہلے جزیرۃ العرب میں اور پھر پوری دنیا کی کایا پلٹ دی تھی ۔ اس کتاب کے ساتھ یہ طرز عمل اس وقت جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد کے ماحوال میں لائے جانے والے انقلاب تک ہی موقوف ومخصوص نہ تھا ‘ کیونکہ اسلام کوئی حادثہ یا تاریخ نہیں ہے کہ ایک وقفہ تاریخ میں واقعہ ہوگیا اور اس کے بعد لوگوں نے اسے تاریخ میں لکھنا شروع کردیا ۔ اسلام تو انسانیت کے بالمقابل ایک دائمی تحریک ہے اور یہ تحریک قیامت تک رہے گی ۔ اسلام لوگوں کے لئے وہی پیغام ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا ۔ جب بھی انسانیت صراط مستقیم سے انحراف کرے ‘ اسلام اسے روکتا ہے اور واپس اسے جادہ مستیقم پر ڈال دیتا ہے اس لئے کہ تاریخی عوامل کے تحت انسانیت بار بار جاہلیت کی طرف لوٹ جاتی ہے ۔ یہ اس کی پسماندگی اور رجعت ہوتی ہے لیکن اسلامی تحریک اس مرحلے پر آگے بڑھتی ہے ‘ دوبارہ اسلام کی تجدید ہوجاتی ہے اور اس کمزوری کے بعد اسلام دوبارہ ایک قوت بن کر اٹھتا ہے اور دوبارہ انسانیت کو ترقی اور تہذیب و تمدن کی راہ پر ڈال دیتا ہے ہر دور میں اس تحریک کے قائدین کو وہ مشکلات پیش آتی ہیں جو داعی اول کو پیش آئیں ‘ اس لئے کہ جب انسانیت جاہلیت کے گندے کیچڑ میں لت پت ہوتی ہے تو انہیں اس پوری انسانیت کو کھینچ کر واپس لانا ہوتا ہے ‘ کیونکہ جاہلیت میں انسانیت فکری گمراہی میں مبتلا ہوتی ہے ۔ اس کے تصورات تاریک ہوجاتے ہیں ‘ وہ نفسیاتی خواہشات کی تاریکیوں میں گرفتار ہوتی ہے ‘ وہ ظلم اور ذلت ‘ غلامی اور ذاتی خواہشات ‘ مفادات واغراض کا شکار ہوتی ہے اور جو شخص انسانیت کو اس جاہلیت اور گندگی سے نکالنا چاہتا ہے ‘ اسے اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس جہان کو ان گندگیوں سے پاک کرنے کے لئے تحریک چلاتا ہے اور اس تحریک میں وہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو خوب سمجھ سکتا ہے ۔ آیت ” المص (1) کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) (٧ : ١۔ ٢) ” ا ‘ ل ‘ م ‘ ص۔ یہ ایک تاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان والوں کو نصیحت ہو ۔ ‘ ایک مومن اپنے معاشرے کے حالات سے یہ اندازہ کرلیتا ہے کہ مومن کون ہیں جنہیں نصیحت کی جاتی ہے اور غیر مومن کون ہیں جن کے لئے اندار کا حکم ہے ۔ اس تحریکی کارکن کے لئے یہ قرآن ایک زندہ کتاب ہوتی ہے جسے پڑھتے ہوئے وہ محسوس کرتا ہے کہ گویا یہ کتاب ابھی نازل ہو رہی ہے ۔ یہ کتاب اس شخص کے لئے تازہ پیغام ہوتی ہے جب وہ اسے بطور پیغام لے کر پوری دنیا کے خلاف جدوجہد شروع کردے ۔ اس وقت پوری انسانیت کی حالت ویسی ہی ہے جس طرح اس وقت تھی جب یہ کتاب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی تھی ۔ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم تھا کہ آپ تذکیر اور انذار کا فریضہ سرانجام دیں اور جب آپ جاہلیت کے مقابلے میں اٹھیں تو آپ کے دل میں کوئی جھجک نہیں ہونا چاہئے ۔ آپ کے اندر یہ داعیہ ہونا چاہئے کہ آپ نے جاہلیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ آج گردش دوران نے حالات کو اسی مقام پر لا کر کھڑا کردیا ہے جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے نزول قرآن کے وقت تھے ۔ اس وقت دنیا مکمل طور پر جاہلیت کی طرف لوٹ گئی ہے ۔ اس نے اصول و فروع دونوں میں جاہلیت کو اپنا لیا ہے ‘ اس کا ظاہر و باطن اور اس کی سطح اور گہرائی سب کی سب جاہلیت میں ہے ۔ اس وقت انسانیت کے تمام تصورات ونظریات جاہلی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن کے آباؤ اجداد مومن تھے اور مومنین مخلصین تھے انہوں نے بھی پوری طرح جاہلی افکار کو اپنا لیا ہے ۔ ان کے تصورات وخیالات میں دین اسلام کا وہ مفہوم باقی نہیں رہا جو حقیقت میں ہے ۔ انہوں نے اسلامی نظام کا مفہوم ہی بدل دیا ہے ۔ یہ دین تو اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض کے خدوخال ہی بدل دے اور اس کی جگہ اسے ایک نیا روپ دے ۔ یہاں صرف اللہ کا اقتدار اعلی قائم کرے اور طاغوت کے اقتدار کا خاتمہ کردے ۔ یہ دنیا ایک دنیا ہو جس میں صرف اللہ کی مکمل بندگی ہو ‘ اور اللہ کے علاوہ انسانوں میں سے کوئی اپنی بندگی نہ کرائے ۔ ایک ایسی دنیا ہو جس میں لوگ آزادی کے ساتھ انسانوں کی بندگی سے باہر نکل آئیں ۔ اس دنیا میں آزاد ‘ شریف اور پاکدامن انسان پیدا ہوں ‘ وہ خود اپنی شہوات سفلیہ سے بھی آزاد ہوں اور دوسرے لوگوں کی غلامی سے بھی آزاد ہوں ۔ یہ دین اس لئے آیا تھا کہ دنیا میں یہ اصول قائم کرے ۔ (لا الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی حاکم اور مقتدر اعلی نہیں ہے ۔ انسانی تاریخ میں تمام انبیاء یہی دعوت لے کر آتے ہیں ۔ یہ سورة اور قرآن کریم کی دوسری نصوص وآیات اس بات کی صراحت کرتی ہیں ۔ کہ (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم صرف یہی ہے کہ اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کا نہیں ہے اور جس طرح اللہ اس کائنات کے اوپر حاکم ہے ‘ اسی طرح وہ انسان کی زندگی کے اوپر بھی حاکم ہے ۔ وہ اپنے نظام قضا وقدر کے ذریعے اس کائنات اور خود انسان کی طبیعی زندگی پر حکمران ہے لہذا وہ انسانوں کے قانونی اور ذاتی نظام کے متعلق امور پر بھی حاکم ہے ۔ اس اصول کے تحت جب طرح ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس جہاں کی تکوینی زندگی میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ صرف وہی متصرف ہے اور ایک مسلمان بندگی کے مراسم جس طرح صرف اللہ کے سامنے بجا لاتا ہے اسی طرح دستور و قانون میں بھی وہ صرف اسی اللہ کا مطیع ہے ۔ وہ اپنی اقدار اور حسن وقبح کے پیمانے بھی اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ عقائد ونظریات بھی اللہ سے اخذ کرتا ہے اور وہ ہرگز کسی طاغوت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اللہ کے اس اقتدار اعلی کا کوئی حصہ اپنے لیے مختص کرلے یا اللہ کے ساتھ شریک ہوجائے ۔ غرض اعتقاد ونظریے کے اعتبار سے یہ اس دین کا بنیادی اصول ہے ۔ اس اصول کی روشنی میں اگر ہم آج دنیا پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے اس اساسی اصول کو ترک کردیا ہے ۔ اس دنیا میں فرقے فرقے ہیں اور یہ سب فرقے جاہلیت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ایک گروہ ملحدین کا گروہ ہے اور یہ لوگ سرے سے وجود باری تعالیٰ کے منکر ہیں ‘ ان پر کسی تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک گروہ بت پرستوں کا ہے ‘ جو ایک الہ کے وجود کے تو قائل ہیں لیکن وہ اس خدا کے ساتھ دوسرے خداؤں کو شریک کرتے ہیں اور انہوں نے کئی رب بنا رکھے ہیں ۔ مثلا ہند اور وسطی افریقہ اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ ایک گروہ اہل کتاب کا ہے یعنی یہود ونصاری کا ۔ یہ لوگ اللہ کے بیٹے کے قائل ہیں اور بیٹے کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اپنے احبار اور رہبان کو ایسا سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان کی حاکمیت اعلی اور حق قانون سازی کو تسلیم کرلیا ہے اگرچہ یہ انکی نماز نہیں پڑھتے اور انکے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتے اور انہ ان کے سامنے جھکتے ہیں ۔ آج کے دور میں عیسائیوں نے اپنی زندگی سے اللہ کے اقتدار کو خارج کردیا ہے اور انہوں نے اپنے لئے نظامہائے زندگی تجویز کر لئے ہیں جنہیں وہ سرمایہ داری ‘ اشتراکیت اور دوسرے ناموں سے پکارتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لئے نظامہائے حکومت بھی تجویز کرلئے ہیں جسے وہ جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس طرح انہوں نے اللہ کے اصول ودستور کو کلیتا ترک کردیا ہے ۔ جیسا کہ یونانی اور رومی جاہلیت نے اللہ کے اقتدار اعلی کو ترک کرکے اپنا نظام زندگی اور نظام حکومت خود گھڑ لیا تھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے لیکن اپنی زندگی میں وہ اہل کتاب کے نظام کا مطیع ہے ۔ وہ پوری طرح اہل مغرب کے عیسائیوں کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ۔ یہ فرقہ اللہ کے نظام کو ترک کرکے اہل مغرب کے نظام کو اپنا چکا ہے ۔ اللہ کا دین قرآن وسنت اور اسلامی شریعت ہے اور یہی اسلامی نظام قانون ودستور ہے اور انسانوں کا دین انسانوں کا بنایا ہوا دستور اور قانون ہے ۔ لہذا بات یہی ہے کہ زمانہ گردش کر کے اسی مقام پر آگیا ہے جس پر اس وقت تھا جب پہلے پہل دین اسلام انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ۔ لوگ دین اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ہیں اور فرقے فرقے بن گئے ہیں لیکن کوئی فرقہ دین اسلام کا مطیع نہیں ہے ۔ آج قرآن پوری انسانیت کے لئے اسی طرح دعوت فکروعمل ہے جس طرح اپنے نزول کے وقت تھا ۔ اس دین کا آج بھی ہدف یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے عقیدے اور نظریات کے زاوے سے اسلام میں داخل کرے ‘ پھر نظام زندگی اور میدان عمل کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے ۔ چناچہ آج جو شخص بھی قرآنی دعوت کو لے کر اٹھتا ہے وہ ویسی ہی مشکلات سے دو چار ہوگا جس طرح کی مشکلات سے رسول اللہ دو چار رہے تھے ۔ کیونکہ آپ نے جب انسانیت کو خطاب فرمایا تو وہ جاہلیت کی گندگی میں آلودہ تھی ۔ جاہلیت کے صحرا میں گم کردہ راہ تھی ۔ اس نے شیطان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور بھٹک رہی تھی ۔ لہذا آج پہلا ہدف یہ ہونا چاہئے کہ لوگوں کے دل میں کلمہ شہادت کے مطابق اسلامی تصور حیات اور اسلامی سوچ پیدا کی جائے اور دنیا میں ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں صرف اللہ کی عبادت ہو ‘ اور اللہ کے سوا کوئی اور حاکم اور مقتدر اعلی نہ ہو ۔ یوں انسان کو ایک نئی اسلامی زندگی عطا کی جائے جس میں انسان انسانوں کی زندگی سے آزاد ہو کر اور اپنی خواہشات سے آزاد ہو کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائے ۔ اسلام کوئی تاریخی حادثہ نہیں ہے کہ وہ ایک دفعہ پیش آگیا اور پھر جس طرح اس سے پہلے کا دور ایک تاریخ ہے اور بعد کا دور بھی ایک تاریخ ہے ۔ اسے آج بھی وہی کردار ادا کرنا ہے جو اس نے ایک بار پہلے ادا کیا تھا ۔ وہ اس طرح کام کرے گا جیسے حالات اور واقعات میں ‘ جیسے نظام اور معاشرے میں ‘ جیسے عقائد و تصورات میں ‘ جیسی اقدار اور پیمانوں میں اس نے پہلے کام کیا تھا اور نظام باطل کا مقابلہ کیا تھا ۔ یاد رہے کہ جاہلیت ایک صورت حال ہوتی ہے ۔ جاہلیت تاریخ کے کسی مخصوص دور کا نام نہیں ہے ۔ اس وقت اطراف عالم میں یہ جاہلیت چھائی ہوئی ہے ۔ تمام فرقوں ‘ تمام تصورات ‘ تمام مذاہب اور تمام نظامہائے زندگی میں جاہلیت قائم ودائم ہے ۔ اس کا اصل الاصول یہ ہے کہ انسان انسانوں کے غلام ہوں اور اس میں اللہ کی ہمہ گیر حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا انکار ہو۔ اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ وہ انسانی خواہشات پر قائم ہوتی ہے ‘ چاہے ان کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ اس کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں اللہ کی شریعت کو بطور نظام حکومت تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اس کے بعد اس کی شکل و صورت ‘ اس کے خدوخال ‘ اس کے جھنڈے اور شعائر اس کے نام والقاب ‘ اس کے گروہ اور مذاہب اور اسکے ملل ونحل اگرچہ مختلف ہوتے ہیں لیکن ان تمام میں مذکورہ بالااساسی ضابطے اور اصول موجود ہوتے ہیں ۔ ان اصولوں کی روشنی میں ‘ آج اگر دنیا پر نظر ڈالی جائے تو اس میں ہر طرف جاہلیت چھائی ہوئی ہے ۔ بلکہ اس وقت پوری دنیا پر جاہلیت حکمران ہے ۔ اس وقت دنیا میں اسلامی نظام زندگی معطل ہے اور جو لوگ اس وقت دنیا میں اسلامی نظام زندگی کی طرف دعوت دے رہے ہیں ‘ انہیں ویسی ہی مشکلات درپیش ہیں جیسی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو درپیش تھیں ۔ ان کا ہدف وہی ہے جو رسول اللہ کا تھا اور آج یہ آیت ان سے اسی طرح مخاطب ہے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخاطب تھی ۔ آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) ” یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ “ اس وقت دنیا میں جس قدر معاشرے موجود ہیں ‘ وہ جاہلی معاشرے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ یہ پسماندہ ‘ رجعت پسند معاشرے ہیں کیونکہ وہ دبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ہیں حالانکہ اسلام نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دی تھی ۔ آج بھی اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس جاہلی معاشروں کو رجعت پسندی اور پسماندگی سے نجات دے ۔ اور ترقی اور زبانی ہدایات کے مطابق تہذیب و تمدن کے حصول کے لئے ان کی قیادت کے فرائض سرانجام دے ۔ جب اقتدار اعلی صرف اللہ کے لئے مخصوص ہوجائے اور یہ اقتدار ایک معاشرے کی صورت میں ردبعمل آجائے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ تو یہی ایک صورت حالات ہوگی جس میں انسانیت انسانوں کی غلامی سے پوری طرح آزاد ہوگی ۔ وہ ہوائے نفس اور مطلب پرستی کی غلامی سے آزاد ہوگی اور صرف یہی صورت حالات اسلامی اور متمدن صورت حالات ہوگی ‘ اسلامی اقدار کے مطابق ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جس تہذیب و تمدن کو انسان کے لئے پسند فرماتے ہیں وہ ہر فرد کی مکمل آزادی اور شرف کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس طرح کا کوئی تمدن اللہ کو پسند نہیں ہے جس میں انسان کو ایسی آزادی حاصل ہو جس میں وہ دوسرے انسانوں کا غلام ہو اور جس میں انسان انسانوں کے رب اور خدا ہوں اور ان کے حاکم اور قانون ساز ہوں ۔ بعض تابع ہوں اور بعض متبوع اور حاکم ہوں ۔ قانون سازی سے مراد محض رسمی قوانین ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد حسن وقبح کے پیمانے ‘ اخلاق اور رسم و رواج بھی ہیں ۔ یہ سب قوانین و ضوابط ہیں اور لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں چاہے لوگ شعوری طور پر ان کے پابند ہوں یا غیر شعوری طور پر ۔ اس قسم کے معاشروں کو رجعت پسند اور پسماندہ معاشرے تصور کیا جاتا ہے اور اسلامی اصطلاح کے مطابق انہیں جاہلی معاشرے کہا جاتا ہے ۔ جب کسی معاشرے میں اجتماعیت کی اساس نظریہ حیات پر ہو ‘ اس کی اساس پر ایک نظام حیات بھی ہو اور یہ تصور اور نظام دونوں کا مصدر ذات باری تعالیٰ ہو ‘ کسی ایک فرد کی خواہش نہ ہو ‘ کسی ایک بندے کا ارادہ نہ ہو ‘ تو یہ معاشرہ ترقی یافتہ مہذب معاشرہ ہوگا ۔ اسلامی اصطلاح کے مطابق اسے ربانی اور مسلم معاشرہ کہا جائے گا ۔ کیونکہ اس معاشرے میں اجتماعیت انسانی خواص پر نہ ہوگی بلکہ روحانی اور فکری تصورات پر ہوگی ۔ لیکن اگر کسی اجتماعی نظام اور معاشرے کی اساس قوم ‘ نسل وغیرہ اور زمین کی اساس پر ہو تو ایسا معاشرہ رجعت پسند اور پسماندہ معاشرہ کہلائے گا یا اسلامی اصطلاحات کے مطابق اسے جاہلی اور مشرک معاشرہ کہا جائے گا ۔ اس لئے کہ قوم ونسل اور زمین ورنگ کوئی اعلی انسانی اقتدار نہیں ہیں کیونکہ انسانی کسی نسل ‘ کسی قوم ‘ کسی زمین ‘ کسی زنگ میں بھی ہو وہ بہرحال انسان رہتا ہے ۔ اور اس کے اندر اگر کوئی فرق ہوتا ہے تو روح اور فکر کے ذریعے ہوتا ہے ۔ انسان اپنے آزادانہ اختیار اور ارادے سے اور یہ اختیار ارادہ وہ عظیم شرف ہے جو انسان کو عطا ہوا ہے ‘ اپنے عقائد واپنے تصورات کو بدل سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اپنے فہم کے ادراک کے ذریعے وہ کسی سمت میں مائل ہوجائے اور اسے اطمینان ہوجائے اس صورت میں گمراہی کو ترک کرکے ہدایت اپنا سکتا ہے ‘ اور کوئی اچھا نظام حیات اپنا سکتا ہے ‘ لیکن کوئی انسان اپنی نسل اپنا رنگ اپنی قوم اور اپنے اس ملک کو نہیں بدل سکتا اور زمین کا تعین نہیں کرسکتا ۔ اس لئے وہ معاشرہ اور وہ اجتماعی نظام جسے لوگوں نے خود اپنے آزادانہ ارادہ سے اپنایا ہو وہ بہتر یا وہ نظام جس کے اندر کوئی شخص مقہور ومجبور ہو ۔ اور اس میں اس کی آزادی اور ارادے کا کوئی دخل نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ پہلی صورت حالات شرف انسانیت کے لئے اعلی وارفع ہے اور اسے زیادہ ترقی پسندانہ کہا جاسکتا ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں انسان کی انسانیت ہی اعلی قدر قرار پائے انسان کے انسانی خصائص اہمیت اور رعایت کے مستحق قرار پائیں تو وہ معاشرہ ترقی پسند اور مہذب معاشرہ قرار پائے گا اور اسلامی اصطلاح میں وہ ربانی اور مسلم معاشرہ ہوگا۔ لیکن اگر کسی معاشرے کی اساس مادے پر ہو ‘ چاہے جس شکل و صورت میں بھی وہ ہو ‘ اور مادہ ہی اعلی قدر ہو ‘ وہ مارکسی نظریات کے مطابق ہو ‘ یا مادی پیداوار کے نظریہ کے مطابق ہو۔ مثلا یورپ وامری کہ کے تمام معاشرے جہاں اعلی قدر و قیمت مادی پیداوار ہے جس کے لئے انہوں نے تمام اعلی انسانی اقدار اور انسانی خصوصیات کو قربان کردیا ہے ۔ اس کے لئے ان معاشروں نے تمام اخلاق اقدار ثانوی حیثیت دے دی ہے تو یہ معاشرہ پسماندہ اور رجعت پسند معاشرہ تصور ہوگا اور اسلامی اصطلاح میں اسے جاہلی اور مشرکانہ معاشرہ کہا جائے گا ۔ اسلام کا ربانی معاشرہ بھی مادے کو حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھتا ‘ نہ اس نقطہ نظر سے کہ اس پوری کائنات کی تشکیل اسی مادے سے ہوئی ہے اور نہ اس اعتبار سے کہ اس سے پیداوار حاصل کرکے انسان کو اس سے استفادہ کرنا چاہئے ‘ کیونکہ مادہ اور مادی پیداوار اس کرہ ارض پر انسان کے لئے اپنے فرائض خلافت ادا کرنے کے لئے از حد ضروری ہیں ۔ دنیا کی حلال چیزوں سے فائدہ اٹھانا اسلام جائز سمجھتا ہے بلکہ اس کی دعوت دیتا ہے جیسا کہ آگے ہم اس سورة میں بتائیں گے لیکن اسلام مادے اور مادی پیداوارکو اس کائنات کی اعلی قدر قرار نہیں دیتا جس کے حصول کے لیے اعلی انسانی اقدار کو قربان کردیا جائے جیسا کہ تمام جاہلی اور مادی معاشرے کرتے ہیں۔ انسانی اقدار اور انسانی اخلاق ہی اگر کسی معاشرے میں اگر کسی معاشرے میں سربلند ہوں ‘ اس طرح جس طرح انہیں اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہو تو یہ معاشرہ مہذب اور ربانی معاشرہ ہوگا ۔ اب سوال یہ ہے کہ انسانی اخلاق کیا ہیں اور انسانی اقدار کیا ہیں ؟ تو یہ کوئی پوشیدہ اور ناقابل فہم مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اخلاق واقدار تغیر پذیر ہوتے ہیں یا ایک حالت پر نہیں رہتے جیسا کہ وہ لوگ رائے رکھتے ہیں جو اسلام کے اخلاقی نظام میں طوائف الملوکی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ اعلی اقدار اور اعلیٰ اخلاقی معیار انسان کی ان خصوصیات کو اجاگر کرتے ہیں جن میں وہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں نفرد ہے ۔ انسان کے انسانی پہلو کو اس کے حیوانی پہلو پر غالب کرتے ہیں ۔ اخلاقی قدریں انسان اور حیوان کے درمیان مشترک خصوصیات کو پروان نہیں چڑھاتیں ۔ اگر اس مسئلے کو اس انداز سے لیا جائے تو اعلی اقدار اور اخلاق اور محض حیوانیت کے درمیان ایک حد فاصل چڑھاتیں ۔ اگر اس مسئلے کو اس انداز سے لیا جائے تو اعلی اقدار اور اخلاق اور محض حیوانیت کے درمیان ایک حد فاصل قائم ہوجائے گی اور اعلی قدروں کو اچھی طرح سمجھا جاسکے گا ۔ چناچہ اس طرح ترقی پسندوں کے تمام فلسفے ڈھیر ہوجاتے ہیں اور سرمایہ دارانہ اخلاق ‘ اشتراکی اخلاق غرباء کے اخلاق اور مالداروں کے اخلاق جیسی کوئی تقسیم نہیں باقی رہتی ‘ صرف انسانی اخلاق اور حیوانی اخلاق رہ جاتے ہیں۔ اس طرح معاشرتی اخلاق اور معاشی اخلاق کی تقسیم کوئی مستقل تقسیم نہ رہے گی ۔ یہ چیزیں تعمیر اخلاق میں مستقل عوامل شمار نہیں ہوں گی اور تعمیر اخلاق میں ان کا اثر حتمی تصور ہوگا ۔ اس زاویہ سے ایک طرف انسانی اخلاقی اور انسانی اقدار ہوگی اور یہ اسلامی معاشرے کے اخلاق ہوں گے اور دوسری جانب حیوانی اخلاق اور اقدار ہوں گی اور اسے پسماندہ کہا جائے گا ۔ اسلامی اصطلاحات میں اس تقسیم کو اسلامی اور ربانی اخلاق واقدار اور رجعت پسندانہ جاہلی اخلاق واقدار کہا جاتا ہے ۔ وہ معاشرے جن پر حیوانی خواہشات اور میلانات چھائے ہوئے ہوتے ہیں ‘ وہ کبھی مہذب معاشرے نہیں بن سکتے اگر وہ صنفی اور اقتصادی اعتبار سے بہت ہی ترقی یافتہ ہوں ۔ انسان کی ترقی میں یہ معیار کبھی غلط ثابت نہیں ہوا ہے ۔ دورجدید کے جاہلی معاشروں نے اعلی اخلاق اور اعلی اقدار کو ان تمام شعبوں سے نکال دیا ہے جن کا تعلق انسان کے حیوانی پہلو سے ہے ۔ ان معاشروں میں فری سیکس کا اصول کارفرما ہے ۔ ان لوگوں کے ہاں نہایت ہی سوقیانہ جنسی حرکات کو بھی جائز سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے ہاں اگر ان کوئی قومی مفادتقاضا کرتا ہو تو وہ شخصی معاملات اقتصادی روابط اور سیاست میں اخلاق کے قائل ہیں ‘ اپنی قومی مصلحتوں کے دائرے کے اندر اندر ۔ ان ممالک کے صحافی ‘ ادیب اور میڈیا کے تمام شعبے نوجوانوں کو جنسی بےراہ روی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور ان میں جنسی اتصال کو اخلاق رذیلہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس قسم کے معاشرے اسلامی نقطہ نظر سے پسماندہ معاشرے ہیں اور انسانی زاویہ سے بہت ہی گرے ہوئے ہیں۔ اسلامی لحاظ سے تو یہ اس لئے قابل رد ہیں کہ اسلام انسان کی حیوانی خواہشات کو ضبط میں لاتا ہے اور اس کے انسانی پہلوؤں کو نرمی دیتا ہے اور انسانی پہلو کو حیوانی پہلو پر غالب کرتا ہے ۔ آج کے انسانی معاشروں پر یہاں ہم اس سے زیادہ بحث نہیں کرسکتے ۔ یہ معاشرے درحقیقت جاہلیت میں غرق ہیں۔ نظریات سے لے کر اخلاق تک میں اور تصورات سے لے کر طرز عمل تک میں ۔ ان معاشروں کے خدوخال کی وضاحت کے لئے یہ اشارات ‘ میں سمجھتا ہوں یہاں کفایت کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں ان کا تعارف ان اشارات سے ہوجاتا ہے ۔ ہمارے دور میں تحریک اسلامی کا اپنے اہداف ‘ دعوت اسلامی اور احیائے دین کیلئے اس قدر تعارف کافی ہے ۔ آج کی دعوت دین اور تحریک اسلامی کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسانیت کو از سر نو اسلام کی طرف دعوت دی جائے ۔ نظریات کے اعتبار سے بھی ‘ اخلاق کے اعتبار سے بھی اور نظام زندگی کے اعتبار سے بھی ۔ یہ وہی جدوجہد ہے جس کا آغاز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا ۔ ہماری دعوت کا آغاز بھی اسی مقام سے ہونا چاہئے جہاں سے داعی اول نے کیا تھا ۔ جس طرح داعی اول نے اس کتاب کے ساتھ رویہ اختیار کیا تھا وہی ہمارا بھی ہونا چاہئے اور دوبارہ اس آیت پر غور کرنا چاہئے ۔ (یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) اللہ نے اس کتاب کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نازل فرمایا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے پہلے کتاب کو لوگوں کے سامنے پیش فرمایا ۔ قیامت تک جب بھی کوئی شخص اس کتاب کو کسی قوم کے سامنے پیش کرے گا تو وہ ان کو لوگوں کو سب سے پہلے یہی حکم دے گا کہ تم ان احکام کی پیروی کرو جو اس کتاب میں ہیں ۔ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور کارساز نہ بناؤ۔ کیونکہ دعوت اسلامی کا اصل محور ہی یہ ہے کہ اسلامی احکامات کا اتباع کیا جائے بجائے اس کے کہ دوسرے لوگوں کا اتباع کیا جائے ۔ جو لوگ اس کتاب کا اتباع کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور اگر وہ دوسروں کا اتباع کرتے ہیں تو مشرک ہیں ۔ اہل کتاب کے مقابلے میں صرف یہی دو موقف ہیں یا مسلم یا مشرک ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہ کتاب مومنین کے لیے نصیحت ہے ان آیات میں اولاً تو یہ فرمایا کہ آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں، ایمان کی دعوت دیں۔ اور جو لوگ نہ مانیں ان کو بتائیں کہ اس کتاب پر ایمان نہ لانے سے عذاب میں مبتلا ہوں گے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ) کہ آپ کے سینہ میں ذرا بھی تنگی نہ ہو۔ مخاطبین آپ کی دعوت کا جو تکذیب سے مقابلہ کریں اس کی آپ ذرا پرواہ نہ کریں آپ اپنا کام کرتے رہیں اس کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کا اتباع کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو ولی نہ بناؤ۔ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں آتی ہیں مگر تمہارا حال یہ ہے کہ نصیحت حاصل نہیں کرتے ہو۔ پھر فرمایا کہ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا جن پر ہمارا عذاب رات کے وقت میں آیا۔ اور بعض کے پاس ایسے وقت عذاب پہنچا جب کہ وہ قیلولہ کر رہے تھے یعنی دوپہر کے وقت سو رہے تھے، جو لوگ ہدایت سے رو گردانی کرتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور آخرت میں بھی ماخوذ ہوں گے اور عذاب دائمی میں مبتلا ہوں گے، ان لوگوں پر جب عذاب آیا تو بس یہی کہنے لگے کہ ہم ظالم تھے، عذاب آجانے کے بعد اپنے ظلم کا اعتراف اور اقرار کرنے سے عذاب واپس نہیں ہوتالہٰذا باو جود اقرار ظلم کے وہ لوگ ہلاک ہوگئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3: پہلا دعوی۔ یہ دعوی اولی ہے۔ یعنی بہادر بن کر مسئلہ توحید پہنچاؤ اور دل میں کسی قسم کی تنگی نہ لاؤ اور مشرکین کی تکذیب کی پرواہ مت کرو۔ حرج منہ بتبلیغہ لانہ کان یخاف قومہ و تکذیبھم لہ و اعراضھم عنہ (مدارک ج 2 ص 34) کتاب خبر اور ھذا اس کا مبتدا محذوف ہے۔ “ لِتُنْذِرَ بِهٖ الخ ” یہ “ اَنْزَلَ ” کے متعلق اور “ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ” اسی پر متفرع ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

2 یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جو اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی جانب نازل کی گئی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہ ہو یہ اس لئے نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈرائیں اور اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی سے لوگوں کو سزا اور عذاب کا خوف دلائیں اور یہ کتاب خاص طور پر ایمان والوں کے لئے نصیحت ہے۔ یعنی اس کتاب کے متعلق منزل من اللہ نصیحت تو سب کے لئے ہے لیکن جو لوگ نصیحت مانتے ہیں انہی کیلئے نصیحت ہے۔