Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 204

سورة الأعراف

وَ اِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾

So when the Qur'an is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.

اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Order to listen to the Qur'an Allah says; وَإِذَا قُرِىءَ الْقُرْانُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ So, when the Qur'an is recited, listen to it, and be silent that you may receive mercy. After Allah mentioned that this Qur'an is a clear evidence, guidance and mercy for mankind, He commanded that one listen to the Qur'an when it is recited, in respect and honor of the Qur'an. This is to the contrary of the practice of the pagans of Quraysh, who said, لااَ تَسْمَعُواْ لِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَالْغَوْاْ فِيهِ "Listen not to this Qur'an, and make noise in the midst of its (recitation)." (41:26) Ibn Jarir reported that Ibn Mas`ud said; "We would give Salams to each other during Salah. So the Ayah of Qur'an was revealed; وَإِذَا قُرِىءَ الْقُرْانُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ When the Qur'an is recited, then listen to it.

سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی چونکہ اوپر کی آیت میں بیان تھا کہ یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت و بصارت ہے اور ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل و علا حکم فرماتا ہے کہ اس کی عظمت اور احترام کے طور پر اس کی تلاوت کے وقت کان لگا کر اسے سنو ایسا نہ کرو جیسا کفار قریش نے کیا کہ وہ کہتے تھے آیت ( وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 26؀ ) 41- فصلت:26 ) ، اس قران کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور غل مچا دو ۔ اس کی اور زیادہ تاکید ہو جاتی ہے جبکہ فرض نماز میں امام با آواز بلند قرأت پڑھتا ہو ۔ جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے ہے کہ امام اقتدا کے کئے جانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔ جب وہ تکبیر کہے تم تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے تم خاموش رہو ۔ اس طرح سنن میں بھی یہ حدیث بروایت حضرت ابو ہریرہ مروی ہے ۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور اپنی کتاب میں نہیں لائے ـ ( یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے یہ صرف اس قرأت کیلئے ہے جو الحمد کے سوا ہو ۔ جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے یہ صرف اس قرأت کے لئے ہے جو الحمد کے سوا ہو ۔ جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حدیث ( من صلی خلف الا مام فلیقرا بفا تحۃ الکتاب ) یعنی جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو وہ سورہ فاتحہ ضرور پڑھ لے ۔ پس سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے اور قرأت کے وقت خاموشی کا حکم ہے ، واللہ اعلم ۔ مترجم ) اس آیت کے شان نزول کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ پہلے نماز پڑھتے ہوئے باتیں بھی کر لیا کرتے تھے تب یہ آیت اتری اور دوسری آیت میں چپ رہنے کا حکم کیا گیا ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہم آپ سے میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ آپ نے ایک مرتبہ نماز میں لوگوں کو امام کے ساتھ ہی ساتھ پڑھتے ہوئے سن کر فارغ ہو کر فرمایا کہ تم میں اس کی سمجھ بوجھ اب تک نہیں آئی کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ ( واضح رہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے میں اس سے مراد امام کے با آواز بلند الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت مقتدی کا خاموش رہنا ہے نہ کہ پست آواز کی قرأت والی نماز میں ، نہ بلند آواز کی قرأت والی نماز میں الحمد سے خاموشی ۔ امام کے پیچھے الحمد تو خود آپ بھی پڑھا کرتے تھے جیسے کہ جزاء القراۃ بخاری میں ہے حدیث ( انہ قرا فی العصر خلف الا مام فی الرکعتین الاولیین بام القران و سورۃ ) یعنی آپ نے امام کے پیچھے عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ الحمد بھی پڑھی اور دوسری سورت بھی ملائی ۔ پس آپ کے مندرجہ بالا فرمان کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت سنے اور چپ رہے واللہ اعلم ۔ مترجم حضرت زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس انصاری نوجوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کی عادت تھی کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ پڑھتے یہ بھی اسے پڑھتا پس یہ آیت اتری ۔ مسند احمد اور سنن میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہو کر پلٹے جس میں آپ نے باآواز بلند قرأت پڑھی تھی پھر پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ پڑھا تھا ؟ ایک شخص نے کہا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ نے فرمایا میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن کی چھینٹا جھپٹی ہو رہی ہے؟ راوی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں جن میں آپ اونچی آواز سے قرأت پڑھا کرتے تھے قرأت سے رک گئے جبکہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں اور ابو حاتم رازی اس کی تصحیح کرتے ہیں ( مطلب اس حدیث کا بھی یہی ہے کہ امام جب پکار کر قرأت پڑھے اس وقت مقتدی سوائے الحمد کے کچھ نہ پڑھے کیونکہ ایسی ہی روایت ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، موطا امام مالک ، مسند احمد وغیرہ میں ہے جس میں ہے کہ جب آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا حدیث ( لا تفعلوا الابفاتحۃ الکتاب فانہ لاصلوۃ لمن لم یقراء بھا ) یعنی ایسا نہ کیا کرو صرف سورہ فاتحہ پڑھو کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ پس لوگ اونچی آواز والی قرأت کی نماز میں جس قرأت سے رک گئے وہ الحمد کے علاوہ تھی کیونکہ اسی سے روکا تھا اسی سے صحابہ رک گئے ۔ الحمد تو پڑھنے کا حکم دیا تھا ۔ بلکہ ساتھ ہی فرمادیا تھا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں واللہ اعلم ۔ مترجم ) زہری کا قول ہے کہ امام جب اونچی آواز سے قرأت پڑھے تو انہیں امام کی قرأت کافی ہے امام کے پیچھے والے نہ پڑھیں گو انہیں امام کی آواز سنائی بھی نہ دے ۔ ہاں البتہ جب امام آہستہ آواز سے پڑھ رہا ہو اس وقت مقتدی بھی آہستہ پڑھ لیا کریں اور کسی کو لائق نہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے خواہ جہری نماز ہو خواہ سری ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ علماء کے ایک گروہ کا مذہب ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی پر نہ سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے نہ کچھ اور ۔ امام شافعی کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے لیکن یہ قول پہلے کا ہے جیسے کہ امام مالک کا مذہب ، ایک اور روایت میں امام احمد کا بہ سبب ان دلائل کے جن کا ذکر گذر چکا ۔ لیکن اس کے بعد کا آپ کا یہ فرمان ہے کہ مقتدی صرف سورہ فاتحہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لے ۔ صحابہ تابعین اور ان کے بعد والے گروہ کا یہی فرمان ہے ۔ امام ابو حنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں مقتدی پر مطلقاً قرأت واجب نہیں نہ اس نماز میں جس میں امام آہستہ قرأت پڑھے نہ اس میں جس میں بلند آواز سے قرأت پڑھے اس لئے کہ حدیث میں ہے امام کی قرأت مقتدیوں کی بھی قرأت ہے ۔ اسے امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ یہی حدیث موطاء امام مالک میں موقوفا مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے یعنی یہ قول حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ہونا زیادہ صحیح ہے نہ کہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ( لیکن یہ بھی یاد رہے کہ خود حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ حدیث ( کنا نقرا فی الظھر والعصر خلف الا مام فی الرکعتین الالیین بفاتحتہ الکتاب و سورۃ وفی الاخریین بفاتحۃ الکتاب ) یعنی ہم ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھتے تھے اور کوئی اور سورت بھی اور پچھلی دور کعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جو فرمایا کہ امام کی قرأت اسے کافی ہے اس سے مراد الحمد کے علاوہ قرأت ہے ۔ واللہ اعلم ، مترجم ) یہ مسئلہ اور جگہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ اسی خاص مسئلے پر حضرت امام ابو عبداللہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ ہر نماز میں خواہ اس میں قرأت اونچی پڑھی جاتی ہو یا آہستہ مقتدیوں پر سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے واللہ اعلم ۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ آیت فرض نماز کے بارے میں ہے ۔ طلحہ کا بیان ہے کہ عبید بن عمر اور عطاء بن ابی رباح کو میں نے دیکھا کہ واعظ و عظ کہہ رہا تھا اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو میں نے کہا تم اس وعظ کو نہیں سنتے اور وعید کے قابل ہو رہے ہو؟ انہوں نے میری طرف دیکھا پھر باتوں میں مشغول ہوگئے ۔ میں نے پھر یہی کہا انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر باتوں میں مشغول ہوگئے ۔ میں نے پھر یہی کہا انہوں نے پھر میری طرف دیکھ اور پھر اپنی باتوں میں لگ گئے ، میں نے پھر تیسری مرتبہ ان سے یہی کہا ۔ تیسری بار انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا یہ نماز کے بارے میں ہے ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں نماز کے سوا جب کوئی پڑھ رہا ہو تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بھی بہت سے بزرگوں کافرمان ہے کہ مراد اس سے نماز میں ہے ۔ حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت نماز اور جمعہ کے خطبے کے بارے میں ہے ۔ حضرت عطاء سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ حسن فرماتے ہیں نماز میں اور ذکر کے وقت ، سعید بن جبیر فرماتے ہیں بقرہ عید اور میٹھی عید اور جمعہ کے دن اور جن نمازوں میں امام اونچی قرأت پڑھے ۔ ابن جریر کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ مراد اس سے نماز میں اور خطبے میں چپ رہنا ہے جیسے کہ حکم ہوا ہے امام کے پیچھے خطبے کی حالت میں چپ رہو ۔ مجاہد نے اسے مکروہ سمجھا کہ جب امام خوف کی آیت یا رحمت کی آیت تلاوت کرے تو اس کے پیچھے سے کوئی شخص کچھ کہے بلکہ خاموشی کے لئے کہا ( حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی خوف کی آیت سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب کبھی کسی رحمت کے بیان والی آیت سے گذرتے تو اللہ سے سوال کرتے ۔ مترجم ) حضرت حسن فرماتے ہیں جب تو قرآن سننے بیٹھے تو اس کے احترام میں خاموش رہا کر ۔ مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص کان لگا کر کتاب اللہ کی کسی آیت کو سنے تو اس کے لئے کثرت سے بڑھنے والی نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر اسے پڑھے تو اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

204۔ 1 یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے، جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے ( لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ ) 41 ۔ فصلت :26) یہ قرآن مت سنو اور شور کرو، ان سے کہا گیا کہ اس کی بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٢] قرآن کا سننا باعث رحمت ہے :۔ مشرکین مکہ نے جیسے مسلمانوں پر یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ وہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نہ نماز ادا کرسکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں۔ اسی طرح یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ مسلمان نماز میں قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کے بچے اور ان کی عورتیں قرآن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ دوسرے انہوں نے آپس میں سمجھوتہ کر رکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص قرآن نہ سنے۔ اگرچہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور شیریں انداز کلام سے وہ خود بھی متاثر ہو کر اپنی اس تدبیر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کبھی کبھی قرآن سن لیا کرتے تھے۔ اور قرآن کی دعوت کو روکنے کے لیے ان کی تیسری تدبیر یہ تھی کہ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہو وہاں خوب شوروغل کیا جائے تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کانوں میں نہ پڑ سکے اس طرح تم اپنے مشن میں کامیاب ہوسکتے ہو۔ (٤١ : ٢٦) اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس روش کو چھوڑ دو اور ذرا غور سے سنو تو سہی کہ اس میں کیا تعلیم دی گئی ہے کیا عجب کہ تم خود بھی اسی رحمت کے حصہ دار بن جاؤ جو ایمان لانے والوں کو نصیب ہوچکی ہے۔ مخالفین کی معاندانہ سرگرمیوں کے مقابلہ میں یہ ایسا دل نشین انداز تبلیغ ہے جس سے ایک داعی حق کو بہت سے سبق مل سکتے ہیں۔ قرآن کو خاموشی سے سننا :۔ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ مسلم اور غیر مسلم سب کے لیے عام ہے اور اس سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ جہاں قرآن پڑھا اور سنا جاتا ہو وہاں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب جہری نمازوں میں امام قراءت کر رہا ہو تو مقتدی کو بھی بالخصوص سورة فاتحہ ساتھ ساتھ دل میں پڑھنی چاہیے یا نہیں۔ اس مسئلہ میں اگرچہ بعض علماء نے اختلاف کیا ہے تاہم ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وہ حدیث قول فیصل کا حکم رکھتی ہے جو سورة فاتحہ کے حاشیہ نمبر ١ میں درج کی جا چکی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ۔۔ : قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اس سے فائدہ اٹھانے کے آداب کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے پڑھے جانے کے وقت استماع اور انصات ضروری ہے، سو توجہ اور خاموشی سے سنو، تاکہ تم پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہوجائے۔ یہ ان ضد اور عناد کے مارے ہوئے کفار کو نصیحت ہے جن کا ذکر مسلسل چلا آ رہا ہے اور جو ہمیشہ نئے سے نئے معجزے کا مطالبہ کرتے اور جب قرآن پڑھا جاتا تو شور مچا کر دوسروں کو بھی سننے سے روکتے اور اس بےہودہ طریقے سے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة حم السجدہ (٢٦) میں فرمایا : ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔ “ اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں جو کفار نے کہیں، پہلی یہ کہ اس قرآن کو مت سنو، دوسری یہ کہ اس میں شور کرو، تیسری یہ کہ تاکہ تم غالب رہو، اس کے جواب میں سورة اعراف کی زیر تفسیر آیت : (وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ) میں تین باتوں کی تلقین فرمائی، چناچہ ” لاتستمعوا لھذا القرآن “ کے جواب میں ” فَاسْتَمِعُوْا “ فرمایا، یعنی کان لگا کر سنو اور ” والغوفیہ “ یعنی شوروغل کرو کے جواب میں ” اَنْصِتُوْا “ یعنی خاموش رہو فرمایا اور ” لعلکم تغلبون “ کے جواب میں فرمایا ” لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ “ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں قرآن سنایا جائے تو شوروغل کے بجائے کان لگا کر خاموشی سے سنو۔ یہ حکم عام ہے، کافر ہوں یا مسلمان، سب کو قرآن مجید توجہ سے سننا چاہیے۔ خصوصاً نماز اور خطبہ جمعہ میں تو خاموش رہنا فرض ہے، جس کے دلائل حدیث میں موجود ہیں۔ ہاں، اگر کوئی اپنے طور پر قرآن پڑھ رہا ہے تو سب کچھ چھوڑ کر اسے سننا ضروری نہیں، ورنہ ایک مسجد کے سپیکر سے قرآن کی تلاوت پوری بستی کو خاموش کرانے کے لیے کافی ہوگی۔ بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے، مگر یہ استدلال بالکل بےمحل ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور ماقبل سے مشرکین سے خطاب چلا آ رہا ہے، اس لیے نظم قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں بھی مشرکین ہی مخاطب ہوں، اگر اس آیت کو عام بھی مان لیا جائے تو اصول فقہ کی رو سے حدیث ( لاَ صَلَاۃَ لِِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) (جسے امام بخاری نے متواتر قرار دیا ہے) کے ساتھ سورة فاتحہ کی تخصیص ہوجائے گی، کیونکہ اس کے بغیر امام، منفرد، مقتدی کسی کی بھی نماز نہیں ہوتی۔ مقتدی آواز کے بغیر پڑھے تو خاموشی کے خلاف بھی نہیں۔ جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ جمعہ میں خاموش رہ کر غور سے سننے کا حکم دیا، اس کے باوجود صحیح مسلم (٥٩؍٨٧٥) میں جابر (رض) سے آپ کا یہ حکم مروی ہے : ” تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور انھیں مختصر پڑھے۔ “ اب ظاہر ہے کہ اس کا دو رکعتیں پڑھنا خاموشی کے خلاف نہیں، ورنہ اس صحیح حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے دوران میں ہر آنے والے شخص کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم نہ دیتے، مگر آپ کے حکم کی وجہ سے خطبہ کے دوران میں آنے پر دو رکعتیں پڑھنا ہوں گی، اسی طرح امام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھنی ہوگی اور خاموشی بھی قائم رہے گی۔ تعجب اس بات پر ہے کہ بعض لوگ اس وقت بھی مقتدی کو کچھ نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں جب امام بلند آواز سے قراءت نہ کر رہا ہو۔ فرمائیے اس کے ساتھ اس آیت کا کیا تعلق ہے ؟ پھر ہمارے بعض بھائی امام کی قراءت سنتے ہوئے صبح کی سنتیں پڑھتے رہتے ہیں، مگر انھیں اس وقت یہ آیت یاد نہیں آتی اور سب سے زیادہ تعجب تو ان کی اس بات پر ہے کہ ان کے ہاں سورة فاتحہ امام، منفرد، یا مقتدی کسی کے لیے بھی نماز میں فرض نہیں۔ قرآن کی کوئی بھی ایک آیت پڑھ لینے سے نماز ہوجائے گی۔ بتائیے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان کہ ” جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں “ یہ امام، منفرد یا مقتدی میں سے کسی کے لیے نہیں تو اس کا مخاطب کون ہوگا ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (204), we have been told that the Holy Qur&an has come as mercy for the believers. But, in order to benefit from this mercy, there are some conditions and rules of conduct. These have been delineated in the form of a general address as: وَإِذَا قُرِ‌ئَ الْقُرْ‌آنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا (And when the Qur&an is recited, listen to it and be silent). There are different reports about the background of these verses and about whether this injunction has appeared about the recitation of the Qur&an in Salah, or in Khutbah, or relates to the recitation of the Qur&an in an absolute sense, be it in Salah or Khutbah or in some other condition. But, according to the majority of commentators, the correct position is that the way the words of the verse are general, so the rule laid down therein too is generally applicable to all conditions - except some particular occasions. Therefore, the followers of Hanafi School have taken this verse to prove that the persons offering their prayer behind an Imam (i.e. the muqtadis) should not recite. Even Muslim jurists who have directed the muqtadis to recite Alfatihah behind the Imam, they too, having kept this verse in view have suggested that a muqtadi should recite only in an interval when the Imam is silent. However, this is not the appropriate occasion to take up this debate. Those interested may refer to standard works, brief or detailed, written by scholars on the issue. The main subject of the verse is not but that the people for whom the Qur&an has been declared to be mercy should realize the condition that they have to recognize the etiquette and respect aligned with the Qur&an and observe it literally in practice. Then, the cardinal etiquette of the Qur&an is that listeners should lend their ears to it when recited and remain silent. The sense of lending ears to it not only includes listening to it but also obeying it and making the effort of acting in accordance with its injunctions. (Maharl and Qurtubi) Then, by saying: لَعَلَّكُمْ تُرْ‌حَمُونَ (so that you may be blessed) at the end of the verse, a clear hint is given that the mercy of Qur&an depends on the observance of rules of etiquette mentioned above. Some important rules relating to listening and remaining silent when Qur&an is being recited In contrast with what has been said above, it is obvious that whoever flouts these rules and shows disrespect to the Qur&an will deserve Divine wrath, not mercy. As for listening to the recitation of the Qur&an in the Salah and remaining silent therein, Muslims generally know about it - though, they do fall short in practice. Some of them would not even be aware of the Surah recited by the Imam. For such people, it is imperative that they should realize the greatness of the Qur&an, and listen to it atten¬tively. This Islamic legal norm applies to the Khutbah of Jumu&ah etc. In addition to this verse, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has particu¬larly said about the Khutbah: اَذا خرجَ الاِمَام فَلَا صلٰوۃ وَ لَا کَلَام When the Imam comes out (for Khutbah), then, there is no Surah and no conversation. And it also appears in a Hadith that no one should say anything to anyone during Khutbah, not even a verbal advice is allowed to be given to another person to keep silence (if it has to be done, making a sign by hand should be enough). The objective is to emphasize that, during the Khutbah, no conversation of any kind, tasbih, durud or Salah or acts of similar nature are permissible. Muslim jurists have said that the rule which applies to the Khutbah of Jumu&ah applies to the Khutbah of the two ` Eid prayers and that of Nikah (marriage) for, at that time, listening to it and remaining silent is obligatory (wajib). However, in case someone is reciting on his own under usual condi¬tions other than Salah and Khutbah, the question arises: Will others be required to be silent and listen to it? Whether or not would it be oblig¬atory (wajib) on them? The positions taken by Muslim jurists in this matter differ. Some consider listening and remaining silent in this condition too as wajib and doing against it a sin. It is for this reason that they have ruled that it is not permissible for anyone to recite the Qur&an in a loud voice at places where people are busy doing their chores or are resting. They have also said that anyone who recites the Qur&an in a loud voice in such surroundings shall be a sinner. This is as it appears in Khulasatu 1-Fatawa and other juristic works. But, some other jurists have distinguished different situations from one another by saying that listening attentively is wajib only on occasions where the Qur&an is being recited for the express purpose of being listened to - such as, in Salah and Khutbah etc. And should it be that someone is reciting on his own, or some people are doing their own recitation at one place, then, it is not wajib to listen and be silent. The reason is that it stands proved on the authority of sound Ahadith that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to recite the Qur&an in his nightly prayers in a raised voice. At that time, his blessed wives would be sleeping. At times, his voice could also be heard from outside his roomette. There is a Hadith in al-Bukhari and Muslim. It says that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made a stop on his journey and when morning came he said, &I recognized my Ash&arite companions by the voices of their recitation of Qur&an during the darkness of the night and was able to pinpoint the direction and location of their tents - though, I had no idea during the day as to where they stay. This event shows that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never asked these Asharite companions as to why they were reciting the Qur&an in a loud voice, nor did he tell those sleeping that they all had to get up and listen to the Qur&an when it was being recited. As based on narratives such as these, jurists have given some leeway in the case of recitation outside Salah. But, they all consider it better and preferable to listen and be silent when the sound of the recitation of the Qur&an comes from somewhere - even if it is outside the Salah. For this reason, in places where people are resting or working, it is not appropriate to recite the Qur&an in a loud voice. This exposes the error of people who turn their radios to full volume at the time some program of recitation from the Qur&an comes on the air, particularly at places and gatherings where the crowd would not listen to it attentively. Similarly, the practice of relaying the recitation of the Qur&an from the public address systems of mosques late at night, in a manner that the sound goes out and disturbs the sleep of the sleeping or the work of the working, is not correct. ` Allamah ibn al-Humam has written that, at the time the Imam in Salah, or the Khatib in Khutbah, is reciting something about the Jannah or Jahannam, then, at that time, it is not permissible even to pray for Jannah or seek refuge from Jahannam. The reason is that, according to this verse, the promise of mercy from Allah Ta` ala is for the person who remains silent when the Qur&an is being recited - and whoever does not remain silent, to him the promise does not apply. Yes, if one supplicates voicelessly after the recitation of such verses during his na f Z prayers, it is an act proved by Sunnah, and is worthy of reward as well. (Mazhari)

دوسری آیت میں بتلایا گیا کہ قرآن مجید مومنین کے لئے رحمت ہے مگر اس رحمت سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے کچھ شرائط وآداب ہیں جن کو خطاب عام کے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا، (آیت) وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا، یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو تم اس پر کان لگاؤ اور خاموش رہو۔ اس آیت کے شان نزول میں روایات مختلف ہیں کہ یہ حکم نماز کی قرأت کے بارے میں آیا ہے یا خطبہ کے یا مطلقا قرأت قرآن کے خواہ نماز یا خطبہ میں ہو یا دوسرے حالات میں، لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جس طرح الفاظ آیت کے عام ہیں اسی طرح اس کا حکم بھی سب حالات کے لئے عام ہے بجز خاص استثنائی مواقع کے۔ اسی لئے حنفیہ نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کو قرأت نہیں کرنا چاہئے، اور جن فقہاء نے مقتدی کو فاتحہ پڑھنے کی ہدایت کی ہے ان میں بھی بعض نے اس کی رعایت رکھی ہے کہ امام کے سکتہ کے وقت فاتحہ پڑھی جائے یہاں اس بحث کا موقعہ نہیں، اس بحث میں علماء نے مستقل کتابیں چھوٹی بڑی بہت لکھی ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے۔ اصل مضمون آیت کا یہ ہے کہ قرآن کریم جن لوگوں کے لئے رحمت قرار دیا گیا اس کی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن کے ادب و احترام کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں، اور بڑا ادب قرآن کا یہ ہے کہ جب وہ پڑھا جائے تو سننے والے اپنے کان اس پر لگائیں اور خاموش رہیں۔ کان لگانے میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو سنیں اور یہ بھی کہ اس کے احکام پر عمل کرنے کی جد و جہد کریں، ( مظہری و قرطبی) آخر آیت میں لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ قرآن کا رحمت ہونا اس کے مذکورہ آداب بجا لانے پر موقوف ہے۔ تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہ کر سننے کے متعلق چند ضروری مسائل : اس کے بالمقابل یہ خود ظاہر ہے کہ اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کرکے قرآن کی بےحرمتی کی تو وہ رحمت کے بجائے قہر و غضب کا مستحق ہوگا۔ نماز کے اندر قرآن کی طرف کان لگانا اور خاموش رہنا تو عام طور پر مسلمانوں کو معلوم ہے گو عمل میں کوتاہی کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ امام نے کونسی سورت پڑھی ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو پہچانیں اور سننے کی طرف دھیان رکھیں، خطبہ جمعہ وغیرہ کا بھی شرعا یہی حکم ہے، علاوہ اس آیت کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد خاص طور سے خطبہ کے متعلق یہ آیا ہے کہ : اذا خرج الامام فلا صلوة ولا کلام |" یعنی جب امام خطبہ کے لئے نکل آئے تو نہ نماز ہے نہ کلام |"۔ اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی شخص دوسرے کو نصیحت کے لئے زبان سے یہ بھی نہ کہے کہ خاموش رہو (کرنا ہی ہو تو ہاتھ سے اشارہ کردے) غرض دوران خطبہ میں کسی طرح کا کلام، تسبیح، درود یا نماز وغیرہ جائز نہیں۔ فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو حکم خطبہ جمعہ کا ہے وہی عیدین کے خطبہ کا اور نکاح وغیرہ کے خطبہ کا ہے کہ اس وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے، اور اسی لئے ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں یا آرام کرتے ہوں کسی کے لئے بآواز بلند قرآن پڑھنے کو جائز نہیں رکھا، اور جو شخص ایسے مواقع میں قرآن بآواز بلند پڑھتا ہے اس کو گناہگار فرمایا ہے، خلاصتہ الفتاوی وغیرہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کے لئے پڑھا جارہا ہو، جیسے نماز و خطبہ وغیرہ میں، اور اگر کوئی شخص بطور خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفر میں رات کو پڑاؤ ڈالنے کے بعد صبح کو فرمایا کہ میں نے اپنے اشعری رفقائے سفر کو ان کی تلاوت کی آوازوں سے رات کے اندھیرے میں پہچان لیا کہ ان کے خیمے کس طرف اور کہاں ہیں، اگرچہ دن میں مجھے ان کے جائے قیام کا علم نہیں تھا۔ اس واقعہ میں بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان اشعری حضرات کو اس سے منع نہیں فرمایا کہ بلند آواز سے کیوں قرأت کی اور نہ سونے والوں کو ہدایت فرمائی کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو تم سب بیٹھو اور قرآن سنو۔ اس قسم کی روایات سے فقہاء نے خارج نماز کی تلاوت کے معاملہ میں کچھ گنجائش دی ہے، لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارج نماز بھی جب کہیں سے تلاوت قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے اور اسی لئے ایسے مواقع میں جہاں لوگ سونے میں یا اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تلاوت قرآن بآواز بلند کرنا مناسب نہیں۔ اس سے ان حضرات کی غلطی معلوم ہوگئی جو تلاوت قرآن کے وقت ریڈیو ایسے مجامع میں کھول دیتے ہیں جہاں لوگ اس کے سننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اسی طرح رات کو لاؤڈ اسپیکر لگا کر مسجدوں میں تلاوت قرآن اس طرح کرنا کہ اس کی آواز سے باہر کے سونے والوں کی نیند یا کام کرنے والوں کے کام میں خلل آئے، درست نہیں۔ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ جس وقت امام نماز میں یا خطیب خطبہ میں کوئی مضمون جنت و دوزخ کے متعلق پڑھ رہا ہو تو اس وقت جنت کی دعاء یا دوزخ سے پناہ مانگنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وعدہ اس شخص کے لئے ہے جو تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہے، اور جو خاموش نہ رہے اس سے وعدہ نہیں، البتہ نفل نمازوں میں ایسی آیات کی تلاوت کے بعد آہستہ دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے اور موجب ثواب ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝ ٢٠٤ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ( ق ر ء) قرءت المرءۃ وقرءت الدم ۔ القراءۃ کے معنی حروف وکلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حروت کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا ہے اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کے کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ لہذ ا اجمعت القوم کی بجاے قررءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے ۔ القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اسْتِمَاعُ والِاسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع الغرب اسمانع اس کے معنی غور سے سننے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس سے یہ سنتے ہیں ۔ ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری ( باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] اور سنو ( ن پکارنے والا پکارے گا ۔ اور آیت : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا ( تماہرے ) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ۔ یعنی ان کا پیدا کرنے والا اور ان کی حفاظت کا متولی کون ہے ۔ اور مسمع یا مسمع کے معنی کان کے سوراخ کے ہیں اور اسی کے ساتھ تشبیہ دے کر ڈول کے دستہ کو جس میں رسی باندھی جاتی ہے مسمع الغرب کہا جاتا ہے ۔ نصت : نَصَتَ الرجلُ يَنْصِتُ نَصْتاً ، وأَنْصَتَ ، وَهِيَ أَعْلى، وانْتَصَتَ : سكَتَ؛ وَقَالَ الطِّرِمَّاحُ فِي الانْتِصاتِ : يُخافِتْنَ بعضَ المَضْغِ مِنْ خَشْيةِ الرَّدَى، ... ويُنْصِتْنَ للسَّمْعِ انْتِصاتَ القَناقِنِ يُنْصِتْنَ لِلسَّمْعِ أَي يَسْكُتْنَ لِكَيْ يَسْمَعْنَ. وَفِي التَّنْزِيلِ الْعَزِيزِ : وَإِذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا قَالَ ثَعْلَبٌ: مَعْنَاهُ إِذا قرأَ الإِمام، فَاسْتَمِعُوا إِلى قراءَته، وَلَا تَتَكَلَّمُوا . لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے قرات کرنا قول باری ہے واذاقری القران فاستمعوالہ وانصتوالعلکم ترحمون۔ اور جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں قرات کی اور آپ کی اقتداء میں پڑھنے والے حضرات نے بھی قرات کی جس کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات گڈ مڈ ہوگئی۔ اس پر درج بالا آیت کا نزول ہوا ثابت بن عجلان نے سعید بن جیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے درج بالا آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ مومن کے لئے قرآن توجہ سے سننے کے حکم میں گنجائش موجود ہے البتہ اگر فرض نماز یا جمعہ کی نماز یا عیدین کی نمازیں ہوں (تو پھر توجہ سے سننا ضروری ہوگا) اور مخلدالمہاجر نے ابوالعالیہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھانے کے دوران قرات کرتے تو آپ کے پیچھے کھڑے تمام لوگ بھی قرات کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد صحابہ کرام خاموش رہتے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرات کرتے۔ شعبی اور عطا نے روایت کی ہے کہ آیت میں مذکورہ قرات سے نماز کی قرات مراد ہے۔ ابراہیم بن ابی حرہ نے مجاہد سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ ابن ابی بخیح نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری جو ان کی نماز کے اندر قرات سنی، اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی۔ سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ اس نے نماز کے اندر قرات کی تھی۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے نماز اور خطبہ کے دوران قرات مراد ہے لیکن یہاں خطبہ کا ذکر ایک بےمعنی بات ہے۔ اس لئے کہ خطبہ کے دوران قرات کو توجہ سے سننا اور خاموش رہنا اسی طرح واجب ہے جس طرح خطبہ کے علاوہ دوسری صورتوں میں واجب ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ لوگ نماز کے اندر باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکن یہ بھی بعید ازفہم تاویل ہے جو آیت کے مفہوم سے بالکل میل نہیں رکھتی۔ اس لئے آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف کسی کی قرات کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے حکم کی بات ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ ایک شخص کو اپنی قرات غور سے سننے اور خاموش رہنے کا حکم دیا جائے۔ البتہ اگر حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت کے یہ معنی لئے جائیں کہ لو گ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے دوران آپس میں باتیں کرتے تھے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو روایت کی یہ تاویل درست ہوگی۔ اگر بات اس طرح ہوجائے تو پھر یہ تاویل امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے سلسلے میں دوسرے حضرات کی تاویل کے مطابق ہوجائے گی۔ اس طرح سب کا اس پر اتفاق ہوجائے گا کہ آیت میں امام کے پیچھے قرات نہ کرنا بلکہ اس کی قرات کو غور سے سننا اور خاموش رہنا مرا د ہے۔ اگر امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے وجوب کے سلسلے میں آیت کے نزول پر سلف کے اتفاق کی روایت موجود نہ بھی ہوتی تو تنہا آیت ہی اپنے معنی کے ظہور اور اپنے الفاظ کے عموم کی بنا پر امام کی قرات خاموشی سے سننے کے وجوب پر واضح طور سے دلالت کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ قول باری واذاقری القران فاستمعوالہ وانصتوا) یہ حکم نماز اور غیر نماز کے اندر قرات قرآن کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے وجوب کا مقتضی ہے۔ پھر جب غیر نماز کے اندر قرآن کی قرات کو غور سے سننے اور خاموش نہ رہنے کے جواز پر دلالت قائم ہوجائے تو اس سے نماز کے اندر قرات کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے ایجاب پر آیت کی دلالت کا حکم ختم نہیں ہوگا۔ نیز آیت جس طرح جہری نماز میں امام کے پیچھے قرات کرنے کی نہی پر دلالت کرتی ہے اسی طرح سری نماز کے اندر بھی امام کے پیچھے قرات کرنے کی نہی پر آیت کی دلالت ہوگی اس لئے کہ آیت نے قرات قرآن کے دوران قرات کو غور سے سننا اور خاموش رہنا واجب کردیا ہے اور اس میں یہ شرط نہیں لگائی ہے کہ قرات جہری ہو سری نہ ہو۔ اس لئے جب امام جہری قرات کر رہا ہو تو ہم پر اسے غور سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے اسی طرح جب وہ سری قرات کر رہا ہو ہم پر آیت کے الفاظ کے بموجب یہی حکم واجب ہوگا اس لئے کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ وہ قرآن کی قرات کر رہا ہے اگرچہ سراً ہی سہی۔ قرات خلف الامام پر فقہاء کی آراء قرات خلف الامام کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ابن سیرین، ابن ابی لیلیٰ ، سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ جہری اور سری نماز میں مقتدی امام کے پیچھے قرات نہیں کرے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں مقتدی قرات کرے گا۔ امام مالک کا قول ہے کہ سری نماز میں مقتدی قرات کرے گا اور جہری نماز میں قرات نہیں کرے گا۔ المزنی کی روایت کے مطابق اما م شافعی کے نزدیک جہری اور سری دونوں نمازوں میں مقتدی قرات کرے گا۔ البویطی میں ہے کہ سری نماز میں مقتدی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی اور سورت کی اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ کی قرات کرے گا اور جہری نماز میں مقتدی امام کے پیچھے قرات نہیں کرے گا۔ البویطی نے یہ بھی کہا ہے کہ لیث بن سعد اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات واضح کردی ہے کہ آیت امام کی جہری اور سری دونوں قرات کے دوران خاموش رہنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اہل لغت کے قول کے مطابق انصاف کے معنی کلام سے رک جانے اور قرات کو غور سے سننے کے لئے خاموش رہنے کے ہیں۔ ایک شخص جو قرات کر رہا ہو وہ کسی حالت میں کلام سے رک جانے والا اور خاموش رہنے والا نہیں کہلا سکتا۔ اس لئے کہ سکوت کلام کی ضد ہے اور سکوت کے معنی یہ ہیں کہ آلہ کلام یعنی زبان کلام کے ذریعہ حرکت میں لانے سے ساکن رکھا جائے کلام الگ الگ حرف کو ایک نظام کے تحت مربوط کر کے زبان پر لانے کا نام ہے۔ اس لئے سکوت اور کلام الہ لسان اور ہونٹوں کی حرکت کے ذریعے بولنے والے کے لئے دو متضاد کیفیتیں ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ کسی شخص کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ متکلم اور ساکت ہے جس طرح کسی چیز کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ متحرک اور ساکن ہے اس لئے جو شخص ساکت ہوگا وہ متکلم نہیں ہوگا اور جو متکلم ہوگا وہ ساکت نہیں ہوگا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ بعض دفعہ سری طور پر قرات کرنے والے کو بھی ساکت کہا جاتا ہے جب اس کی قرات کی آواز کان میں نہ پڑتی ہو جس طرح عمارہ نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے ابویریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان خاموش رہتے۔ ایک دن میں نے عرض کیا :” میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان، مجھے بتا دیجئے کہ تکبیر اور قرات کے درمیان سکوت یعنی خاموشی کے دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اقول اللھم باعدبینی و بین خطایای کما باعدت بین المشرق و المغرب میں پڑھتا ہوں “ اے میرے اللہ ! میرے اور میری خطائوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کردیا ہے) حضرت ابوہریرہ (رض) نے باقی ماندہ حدیث کا بھی ذکر کیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے آپ کو ساکت کے نام سے موسوم کیا حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سراً دعا مانگتے تھے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ سکوت کے معنی کسی بات کو سرا کہنے کے ہیں۔ سرے سے بات نہ کرنے کے معنی نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے سراً بات کرنے والے کو مجازاً ساکت کا نام دیا ہے اس لئے کو جو شخص اس کی آواز نہیں سنے گا وہ اسے ساکت یعنی خاموش سمجھے گا۔ جب یہ شخص اس لحاظ سے خاموش شخص کے مشابہ ہوتا ہے تو ساکت شخص کی حالت کے ساتھ اس کی حالت قرب کی بنا پر اسے بھی ساکت کا نام دے دیا جاتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے صم بکم عمی۔ بہرے گونگے اور اندھے ہیں) منکرین کو بہروں، گونگوں اور اندھوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے یہ نام دیئے گئے ہیں جس طرح اصنام کے بارے میں فرمایا وتراھم ینظرون الیک ولھم لایبصرون۔ تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دیکھ نہیں سکتے) ان بتوں کو ایسے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو دیکھ تو رہا ہے لیکن حقیقت میں ان کی آنکھیں بےنور ہوں اور وہ کچھ نہ دیکھ سکتا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ امام کی قرات کے دوران مقتدی قرات نہیں کرے گا لیکن اس کے سکوت کے دوران تو وہ قرات کرسکتا ہے اس لئے کہ حسن نے حضرت سمرہ بن جندب (رض) سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نماز میں دو دفعہ سکتہ کرتے تھے ایک قرات سے پہلے اور دوسری قرات کے بعدا س لئے امام کو چاہیے کہ وہ قرات سے پہلے ایک سکتہ کرے تاکہ اس کے ساتھ نماز میں ابتداء سے شامل ہونے والے مقتدی اس دوران میں سورة فاتحہ پڑھ لیں اور پھر امام کی قرات کو غور سے سنیں۔ پھر جب امام قرات سے فارغ ہوجائے تو اسے دوسری دفعہ سکتہ کرنا چاہیے تاکہ بعد میں شامل ہونے والے مقتدی سورة فاتحہ پڑھ سکیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ دو سکتوں والی روایت کا ثبوت نہیں ہے اگر یہ روایت ثابت بھی ہوجائے تو معترض کے قول پر اس کی دلالت نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ پہلا سکتہ تو نماز کی افتتاحی دعائوں کے لئے ہوتا ہے اور دوسرا سکتہ اگر ثابت بھی ہوجائے تو روایت میں یہ دلالت نہیں ہے کہ وہ اتنا طویل ہوتا تھا کہ ایک مقتدی اس دوران سورة فاتحہ پڑھ لیتا۔ بلکہ یہ سکتہ صرف قرات اور رکوع کی تکبیر کے درمیان فصل کرنے کے لئے ہوتا تھا تاکہ ایک ناواقف شخص کو یہ گمان نہ پیدا ہوجائے کہ تکبیر بھی قرات کا حصہ ہے۔ اگر تکبیر قرات کے ساتھ متصل ہوتی تو یہ گمان پیدا ہونے کی پوری گنجائش تھی اگر معترض کی بیان کردہ روایت کے مطابق دونوں سکتوں میں سے ہر ایک سورة فاتحہ پڑھنے کی مقدار کا ہوتا تو اس کی بکثرت روایت ہوتی اور اسے مختلف طرق سے نقل کیا جاتا لیکن جب اس کی بکثرت روایت نہیں ہوئی جبکہ عمومی طور پر تمام نمازیوں کو اس بنا پر اس کی ضرورت تھی کہ ہر مقتدی اس طرح قرات کی فرضیت کی ادائیگی کرسکتا تھا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دراصل ان دو سکتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نیز مقتدی کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ وہ امام کے تابع رہے لیکن یہ جائز نہیں ہوتا کہ امام مقتدی کے تابع بن جائے اگر معترض کی یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ قرات کے بعد امام اتنی دیر خاموش کھڑا رہے کہ مقتدی اس دوران سورة فاتحہ پڑھ لے تو اس سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کی مخالفت لازم آتی ہے کہ انماجعل الامام لیوتم بہ، امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے) پھر معترض کے اس قول سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس حکم کا برعکس لازم آتا ہے واذا قرافانصتوا، جب امام قرات کرے تو تم خاموش رہو) وہ اس طرح کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ت مقتدی کو امام کے لئے خاموش رہنے کا حکم دیا ہے اور معترض امام کو مقتدی کے لئے خاموش رہنے کا حکم دے رہا ہے اور اسے مقتدی کے تابع قرار دے رہا ہے اس سے دلیل میں تخلف لازم آتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر امام ظہر کی دو رکعتوں کے بعد بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو مقتدی پر بھی اس کی پیروی لازم ہوتی ہے لیکن اگر مقتدی بھول کر کھڑا ہوجائے تو امام پر اس کی اتباع لازم نہیں ہوتی۔ اگر مقتدی بھول جائے تو اس کی وجہ سے نہ اس پر اور نہ ہی اس کے امام پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے لیکن اگر امام بھول جائے اور مقتدی نہ بھی بھولے تو بھی سجدہ سہو میں اس پر امام کی اتباع لازم ہوتی ہے اس لئے یہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ امام کو خاموش کھڑا رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس دوران مقتدی قرات کرلے۔ قرات خلف الامام کی نہی پر روایات قرات خلف الامام کی نہی پر مشتمل روایات مختلف طرق سے بکثرت منقول ہیں۔ قتادہ نے ابوغلاب یونس بن جبیر سے روایت کی ہے انہوں نے حطان بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسی (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اذاقراء الامام فانصتوا۔ جب امام قرات کرے تو تم خاموش رہو) ابن عجلان نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انما جعل الامام لیوتم بہ فاذا قرافانصتوا، امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے اس لئے جب وہ قرات کرے تو تم خاموش رہو) یہ دونوں روایتیں امام کو قرات کے دوران مقتدیوں پر خاموشی کو واجب کرتی ہیں۔ دوسری روایت تو اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ امام کی اقتداء کے مفہوم میں اس کی قرات کو خاموشی سے سننا بھی شامل ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مقتدی کی قرات کے لئے امام کو خاموش رہنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر اسے یہ حکم ہوتا تو گویا اسے مقتدی کی اقتداء کا حکم ہوتا اس طرح ایک ہی حالت میں امام مقتدی بن جاتا اور مقتدی امام۔ یہ کسی طرح درست نہیں ہے۔ حضرت جابر (رض) نے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من کان لہ امام قراۃ الامام لہ قراۃ۔ جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرات اس کے لئے بھی قرات ہوگی) حضرت جابر (رض) سے ایک بڑی جماعت نے یہ روایت کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں اذا کان لک امام فقرا تہ لک قراۃ۔ جب تمہارا امام ہو تو اس کی قرات تمہارے لئے بھی قرات ہوگی) حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام کے پیچھے قرات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حجا ج بن ارطاۃ نے قتادہ سے انہوں نے زراہ بن اونیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے اس کی روایت کی ہے ہم نے شرح مخترالطحاوی میں ان روایات کی اسانید پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک اور روایت ہے جو مالک نے ابونعیم وہب بن کیسان سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا من صلی صلوۃ لم یقراً فیھا بامرالقران فھی خداج۔ جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور سورة فاتحہ کی قرات نہ کی اس کی یہ نما ز ناقص ہے۔ بعض طرق میں ہے لم یصل ال اوراء الامام۔ اس نے گویا کوئی نماز نہیں پڑھی الایہ کہ اس نے امام کے پیچھے پڑھی ہو) آپ نے یہ بتادیا کہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ کی قرات نہ کرنا نماز میں کسی نقصان اور کمی کا موجب نہیں ہے اگر امام کے پیچھے قرات کا جواز ہوتا تو ترب قرات اس کی نماز میں نقصی کا موجب ہوتا جس طرح تنہا نماز پڑھنے والے کا ترک قرات اس کی نماز میں نقص کا موجب ہے۔ امام مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے اکیمہ اللیشی سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جہری نماز سے سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے دریافت فرمایا کہ آیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرات کی ہے ؟ صحابہ کرام نے اثبات میں جواب دیا اس پر آپ نے فرمایا انی اقول مالی انازع القران۔ اسی لئے میں سوچ رہا تھا کہ قرآن کی تلاوت میں میرے ساتھ چھینا جھپٹی کیوں ہو رہی ہے) حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے جہری نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات ترک کردی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول ھل قراً معنی احدمنکم۔ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرات کی ہے ؟ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جن لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کی تھی انہوں نے دراصل سری قرات کی تھی جہری نہیں کی تھی، اس لئے کہ جہری قرات ہوتی تو آپ درج بالا فقرہ نہ کہتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انی اقول مالی انازع القران) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس حکم کے لحاظ سے سری اور جہری دونوں نمازیں یکساں ہیں اس لئے کہ یہ آپ نے بتایا تھا کہ مقتدی کی قرات قرآن کی تلاوت میں منازعت یعنی چھینا جھپٹی کی موجب ہوتی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کرنے سے رک گئے اس میں ان لوگوں کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے جو سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرات کے جواز کے قائل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ راوی کا قول اور ان کی تاویل ہے۔ اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہری قرات اور سری قرات کی حالتوں میں فرق کیا تھا۔ ایک اور حدیث ہے جسے یونس ابن ابی اسحاق نے ابواسحاق سے انہوں نے ابوالاحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کرتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا خلطتم علی القران تم نے قرآن کو مجھ پر گڈ مڈ کردیا) یہ روایت بھی جہر اور اخفاء کی یکسانیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں حالتوں میں کسی فرق کا ذکر نہیں کیا۔ زہری نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، انہوں نے ابن لجینہ سے روایت کی ہے (ابن لجینہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی تھے) کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا کسی نے میرے ساتھ ابھی قرات کی تھی ؟ صحابہ کرام نے اثبات میں جواب دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (فانی اقول مالی انازع القران) راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد صحابہ کرام (رض) آپ کے پیچھے قرات کرنے سے رک گئے۔ اس روایت میں بھی حضرت ابن نجینہ (رض) نے یہ بتایا کہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کرے سے رک گئے تھے۔ اس میں جہر اور اخفاء کے درمیا ن کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ یہ تمام روایات سری اور جہری دونوں نمازوں میں امام کے پیچھے قرات کی نہی کی موجب ہیں اس پر وہ آثار بھی دلالت کرتے ہیں جو اجلہ صحابہ سے منقول ہیں جن میں ان حضرات سے قرات خلف الامام کی نہی اور قرات کرنے والے کو ٹوکنے اور نکیر کرنے کی بات مذکور ہے اگر قرات خلف الامام کی بات عام ہوتی تو صحابہ کرام سے یہ چیز چھپی نہ رہتی اس لئے عمومی طور پر لوگوں کو اس کی ضرورت پیش آتی تھی نیز شارع (علیہ السلام) کی طرف سے پوری جماعت کو اس بارے میں ہدایت دی جاتی اور ان کی رہنمائی کی جاتی اور صحابہ کرام اس امر سے اسی طرح واقف ہوتے جس طرح نماز میں قرات کے حکم سے واقف تھے اس لئے کہ قرات خلف الامام کے بارے میں معرفت کی انہیں اسی طرح ضرورت تھی جس طرح نماز میں قرات کی معرفت کی ضرورت تھی جبکہ انسان تنہا نماز پڑھ رہا ہو یا امامت کر رہا ہو۔ جب اجد صحابہ کرام سے قرات خلف الامام پر نکیر اور اس کی تردید منقول ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قرات خلف الامام جائز نہیں ہے جن حضرات صحابہ کرام سے قرات خلف الامام کی نہی منقول ہے ان میں حضر ت علی (رض) ، حضرت ابن مسعود (رض) ، حضرت سعد (رض) ، حضرت جابر (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت ابوالدردا (رض) ، حضرت ابوسعید (رض) ، حضرت ابن عمر (رض) ، حضرت زید بن ثابت (رض) اور حضرت انس (رض) شامل ہیں۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت علی (رض) سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جس شخص نے امام کے پیچھے قرات کی وہ راہ فطرت سے ہٹ گیا۔ ابواسحاق نے علقمہ سے انہوں نے عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جس شخص نے امام کے پیچھے قرات کی اس کا منہ مٹی سے بھر دیا جائے گا۔ وکیع نے عمر بن محمد سے انہوں نے موسیٰ بن سعد سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ جس شخص نے امام کے پیچھے قرات کی اس کی کوئی نماز نہیں۔ ابوحمزہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ آیا میں امام کے پیچھے قرات کرلوں تو آپ نے نفی میں اس کا جواب دیا۔ ابوسعید (رض) کا قول ہے کہ تمہارے لئے امام کی قرات کافی ہے۔ حضرت انس (رض) کا قول ہے کہ ” امام کے پیچھے قرات تسبیح ہے “……واللہ اعلم……رکوع کی تسبیح اور نماز کی افتتاح پر پڑھی جانے والی دعائیں منصور نے ابراہیم نخعی سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” ہم نے امام کے پیچھے قرات کی بات کسی سے نہیں سنی حتی کہ کوفہ پر مختار ثقفی کذاب کا غلبہ ہوگیا۔ لوگوں نے چونکہ اس پر بےدینی کی تہمت لگائی تھی اس لئے اس کے پیچھے نماز پڑھتے وقت خود بھی قرات کرلیتے “۔ حضرت سعد (رض) کا قول ہے کہ جو شخص امام کے پیچھے قرات کرتا ہے میرا دل چاہتا ہے کاش کہ اس کے منہ میں انگارے ہوتے “۔ روایت فاتحہ خلف الامام پر تنقید جو لوگ قرات خلف الامام کو واجب سمجھتے ہیں انہوں نے محمد بن اسحاق کی روایت سے استدلال کیا ہے جو انہوں نے مکحول سے انہوں نے محمود بن الربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت سے نقل کی ہے کہ ایک روز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات کا کچھ پتہ نہ چل سکا یعنی آواز گڈمڈ ہوگئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام پھیر کر فارغ ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے پوچھا : کیا تم لوگ بھی میرے پیچھے قرات کر رہے تھے ؟ “ لوگوں نے اثبات میں جوا ب دیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لاتفعلوا الابفاتحۃ الکتاب فانہ لاصلوۃ لمن لم یقرا بھا۔ ایسا نہ کرو الایہ کہ سورة فاتحہ کی قرات ہو اس لئے کہ جو شخص سورة فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی) اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے نیز اس کا مرفوع ہونا بھی مختلف فیہ ہے یہ اس لئے کہ صدقہ بن خالد ن یزید بن واقد سے انہوں نے مکحول سے انہوں نے نافع بن محمود بن ربیعہ سے اور انہوں نے حضرت عبادہ (رض) سے اس کی روایت کی ہے اس روایت کا ایک راوی نافع بن محمود مجہول ہے اس کے متعلق کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ اس حدیث کو ابن عون نے رجاء بن حیوۃ سے انہوں نے محمد بن الربیع سے حضرت عبادۃ (رض) پر موقوفاً روایت کی ہے اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر نہیں ہے ایوب نے ابوقلابہ سے انہوں نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی پھر اپنا چہرہ مبارک لوگوں کی طرف پھیر کر پوچھا کیا امام کی قرات کے دوران تم لوگ بھی قرات کرتے ہو “ لوگ خاموش رہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے تین بار یہی سوال کیا۔ اس پر لوگوں نے عرض کیا کہ ” جی ہاں ہم ایسا ہی کرتے ہیں “۔ اس پر آپ نے فرمایا ” ایسا نہ کرو “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سورة فاتحہ کی قرات کے استثناء کا ذکر نہیں فرمایا حضرت عبادہ بن الصامت (رض) کی اصل روایت وہ ہے جسے یونس نے ابن شہاب سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے محمود بن الربیع نے حضرت عبادہ بن الصامت سے بتایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لاصلوۃ لمن لم یقرا القران، جو شخص قرآن کی قرات نہیں کرتا اس کی کوئی نماز نہیں) حضرت عبادہ (رض) کی روایت سند کے اضطراب نیز رفع دوقف اور الاظ کے اختلاف کی وجہ سے اس درجے کی روایت نہیں رہی جسے ظاہر قرآن اور ان آثار صحیحہ کے بالمقابل پیش کیا جاسکے جن میں قرات خلف الامام کی نفی منقول ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد لاصلوۃ الابام القران) امام کے پیچھے سورة فاتحہ کی قرات کے ایجاب پر دلالت نہیں کرتا۔ اس لئے کہ امام کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز میں سورة فاتحہ کی قرات ہوتی ہے۔ امام اس کی قرات کرتا ہے اور امام کی قرات مقتدی کی قرات بن جاتی ہے۔ اسی طرح علاء بن عبدالرحمن کی روایت جو انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوالسائب سے کی ہے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من صلی صلاۃ لم یقرا فیھا بام القرآن فھی خداج غیر تمام جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو اس کی یہ نماز خداج یعنی ناتمام ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کا خیال ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے عرض کیا کہ ” میں بعض دفعہ امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں اس صورت میں کیا کروں “۔ یہ سن کر حضرت ابوہریرہ (رض) نے میرے بازو میں انگلی مارتے ہوئے فرمایا اے فارسی شخص ! اسے اپنے دل میں پڑھو “۔ اس روایت میں ان حضرات کے لئے کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس روایت میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی نماز خداج ہے۔ خداج نقصان کو کہتے ہیں۔ ایسی نماز پر اسم صلوۃ کا اطلاق اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے نیز یہ بات اس شخص کے متعلق کہی گئی ہے جو تنہا نماز پڑھ رہا ہو۔ اس توجیہ کی بنا پر اس روایت اور آیت نیز قرات خلف الامام کی نفی کرنے والے آثار کے درمیان تطبیق کی صورت پیدا ہوجاتی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہ قول کہ ” اسے اپنے دل میں پڑھو “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب نہیں ہے اور تنہا صحابی کے قول سے کوئی حجت ثابت نہیں ہوتی۔ قرات خلف الامام کی نفی میں ہم نے جو روایات پیش کی ہیں وہ اولی ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے مقتدی کی قرات کی نہی کے سلسلے میں ان روایات پر سب متفقہ طور پر عمل پیرا ہیں۔ ہم سے اختلاف رکھنے والوں کی پیش کردہ روایات مختلف فیہ ہیں۔ اس لئے ایسی روایات جن پر ایک صورت میں عمل پیرا ہونے پر سب متفق ہوں ان روایات کی بہ نسبت اولی ہوں گی جن پر عمل کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہم تمام روایات پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہ اس طرح کہ قرات خلف الامام کی نہی والی روایات کو سورة فاتحہ کے ماسوا قرات پر محمول کیا جائے اور قرات کے امر والی روایات کو سورة فاتحہ کی قرات پر محمول کیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان دو ارشادات کی بنا پر باطل ہے۔ اول یہ کہ آپ نے فرمایا علمت ان بعضکم خالجینھا مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے بعض نے مجھے قرات کے سلسلے میں خلجان میں مبتلا کردیا ہے) نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے مالی انازع القران، یہ کیا بات ہے کہ قرآن کی قرات میں میرے ساتھ چھینا جھپٹی ہوتی ہے) قرآن تو صرف سورة فاتحہ کا نام نہیں ہے اس لئے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بشمول سورة فاتحہ سارا قرآن مراد لیا تھا وہب بن کیسان کی روایت میں جو انہوں نے حضرت جابر (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کل صلوۃ لایقرافیھا بفاتحۃ الکتاب فھی خداج الام اوراء الامام۔ ہر وہ نماز جس میں سورة فاتحہ کی قرات نہ کی گئی ہو وہ ناقص ہے الایہ کہ کسی نے امام کے پیچھے نماز پڑھی ہو) اس روایت میں آپ نے منصوص طریقے سے امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم بیان فرما دیا۔ اس سے معترض کی تاویل اور قرات کے امر والی روایات کو سورة فاتحہ کی قرات پر محمول کرنے والی بات باطل ہوجاتی ہے بلکہ معترض پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ ان روایات کو رد کرنے اور ان پر عمل پیرا نہ ہونے کا مرتکب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنے مسلک کے حق میں صحابہ کرام کے اقوال سے جو استدلال کیا ہے اس میں کوئی جان نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان حضرات کے ہم چشموں نے اس معاملہ میں ان کی مخالفت کی ہے چناچہ عبدالواحد بن زیاد نے روایت کی ہے انہیں سلیمان الشیبانی، انہوں نے یزیدبن شریک سے کہ انہوں نے خود حضرت عمر (رض) سے یہ بات کہی تھی یا کسی اور کو ان سے یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ آیا میں امام کے پیچھے قرات کروں “۔ آپ نے اثبات میں اس کا جواب دیا تھا، سائل نے دوبارہ پوچھا ” خواہ امام قرات کیوں نہ کر رہا ہو “۔ آپ نے فرمایا :” خواہ امام کیوں نہ قرات کر رہا ہو “۔ شعبہ نے ابوالفیض سے، انہوں نے ابوشیبہ سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) نے فرمایا تھا کہ جب تمہیں امام کی قرات سنائی دے رہی ہو تو قل ھو اللہ احد یا اس جیسی کوئی اور سورت پڑھ لو اور اگر تمہیں امام کی قرات سنائی نہ دے رہی ہو تو اپنے دل میں پڑھ لو “۔ اشعث نے حکم اور حماد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی (رض) امام کے پیچھے قرات کرنے کا حکم دیتے تھے لیث نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ روایت کی ہے کہ ” سورة فاتحہ پڑھنا نہ چھوڑو خواہ امام جہری قرات کر رہا ہو یا سری جب صحابہ کرام سے قرات خلف الامام اور عدم قرات دونوں مروییں تو ان روایات سے استدلال کیسے درست ہوسکتا ہے اور حجت کیسے ہوسکتی ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا حضرت عمر (رض) اور حضرت معاذ (رض) سے منقول رویا ات کی سندیں مجہول ہیں اس لئے ان جیسی روایات سے کوئی حجت ثابت نہیں ہوسکتی جبکہ حضرت علی (رض) سے منقول روایت کے راوی الحکم اور حماد ہیں جن کی وجہ سے یہ روایت مرسل ہے اس میں تابعی کا واسطہ غائب ہے اور ہمارے مخالف ایسی مرسل روایات کو قبول نہیں کرتے حضرت ابن عباس (رض) سے منقول روایت کے راوی لیث بن ابی سلیم ہیں جو ضعیف شمار ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں ابوحمزہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے قرات خلف الامام کی نہی کی روایت نقل کی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارا استدلال صرف اقوال صحابہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ ہم نے یہ کہا ہے کہ ایسے فرائض جن سے عمومی طور پر سب کو سابقہ پڑھتا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ایجاب پر لوگوں کو اپنی ہدایت اور رہنمائی کے بغیر نہیں رہنے دیتے تھے جب ہم نے دیکھا کہ صحابہ کرام میں ایسے حضرات موجود ہیں جو قرات خلف الامام کی نہی کے قائل ہیں تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ قرات خلف الامام کے وجوب پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تمام لوگوں کو ہدایت نہیں دی گئی تھی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ واجب نہیں۔ صحابہ کرام میں سے جن حضرات نے قرات خلف الامام کے ایجاب کا قول نقل کیا ہے ان کا یہ قول ہمارے مذکورہ استدلال کے لئے قاوح نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس بارے میں تمام لوگوں کو ہدایات نہیں دی گئی تھیں جس کی بنا پر کچھ حضرات نے تاویل یا قیاس کی بنا پر قرات کے ایجاب کا مسلک اختیار کرلیا جبکہ ان جیسے امور کا ایجاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تمام لوگوں کو ہدایت دینے اور امت کی طرف سے اس ہدایت کو نقل کرنے کی بنیاد پر ہوتا ہے علاوہ ازیں قرات خلف الامام کے وجوب کی نفی پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ سب کے نزدیک متفقہ طور پر امام کو رکوع کی حالت میں پالینے والا مقتدی قرات ترک کر کے امام کی متابعت کرے گا اگر قرات واجب ہوتی تو کسی حالت میں بھی اس کا ترک جائز نہ ہوتا جس طرح طہارت اور دیگر افعال صلوۃ کی صورتحال ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا صورت میں ایک ضرورت کی بنا پر قرات ترک کردی گئی وہ ضرورت رکعت فوت ہوجانے کے خوف کی صورت میں پیش آئی تھی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ رکعت فوت ہوجانے کا خوف کئی وجوہ کی بنا پر ضرورت کے نام سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تو یہ کہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا فرض نہیں ہے اس لئے کہ اگر یہی شخص تنہا نماز ادا کرلیتا تو بھی اس کی نماز ادا ہوجاتی۔ البتہ امام کی اقتداء میں نماز کی ادائیگی ایک فضیلت ہے اس لئے رکعت فوت ہوجانے کا خوف ترک قرات کے لئے ضرورت نہیں قرار پاسکتا۔ نیز اگر کوئی شخص بےوضو ہوتاتو اس کے لئے جماعت کے فوت ہوجانے کا خوف ترک طہارت کی اباحت کا سبب نہیں بنتا۔ اسی طرح اگر ایک شخص امام کو سجدے کی حالت میں پالیتا تو یہ بات اس کے حق میں سقوط رکوع کے جواز کے لئے ضرورت نہ قرار پاتی۔ جب رکوع کی حالت میں امام کو پالینے کی بنا پر ترک قرات جائز ہوگیا دوسرے فرائض کا ترک جائز نہ ہوا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ قرات خلف الامام فرض نہیں ہے اس کی عدم فرضیت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص امام کی اقتداء میں کوئی جہر ی نماز پڑھ رہا ہو وہ سورة فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورت نہیں ملائے گا۔ اگر قرات فرض ہوتی تو پھر سورة فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت کا ملانا قرات کی سنت میں داخل ہوتا۔ اس لئے کہ ایسی تمام نمازیں جن میں قرات فرض ہے ان میں سورة فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملانا سنت ہے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ جہری نمازوں میں مقتدی جہری قرات نہیں کریگا۔ اگر قرات فرض ہوتی تو جہری نمازوں میں مقتدی بھی امام کی طرح جہری قرات کرتا۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ قرات خلف الامام فرض نہیں ہے کیونکہ یہ تو باجماعت نماز تھی اور ان نمازوں میں سے تھی جن میں جہری قرات کی جاتی تھی اگر مقتدی پر قرات اسی طرح فرض ہوتی جس طرح امام پر فرض ہے تو پھر مناسب یہ تھا کہ جہر اور اخفا کے لحاظ سے مقتدی اور امام کی ق راتوں کے حکم میں کوئی اختلاف نہ ہوتا جبکہ یہ اختلاف موجود ہے کہ جب امام جہری قرات کرے گا تو مقتدی جہری قرات نہیں کرے گا بلکہ دل میں پڑھے گا۔ قول باری ہے واذکرربک فی نفسک تضرعاً و خیفۃ۔ اے نبی ! اپنے رب کو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ یاد کیا کرو) حبصاص کہتے ہیں کہ ذکر یعنی یاد الٰہی کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی، اس کے جلال و منزلت اور اس کی قدرت کے دلائل و آیات پر غورو فکر کیا جائے یہ افضل ترین ذکر ہے اس لئے اسے ہی ذکر و فکر پر ایک بندہ جس ثواب کا مستحق ہوتا ہے وہ دوسرے اذکار کی صورت میں نہیں ہوتا اور اسی ذکر و فکر کی بدولت اللہ کی ذات تک اس کی رسائی ہوجاتی ہے۔ ذکر کی دوسری صورت ذکر قولی ہے یہ ذکر کبھی دعا کی شکل میں کبھی حمد و ثناء کی صورت میں کبھی قرآن کی تلاوت اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی شکل میں ہوتا ہے۔ آیت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ فکری اور قولی دونوں ذکر مراد ہوں اس صورت میں قول باری واذکرربک فی نفسک) سے اللہ کی ذات کے دلائل و آیات پر غور و فکر مراد ہوگا اور قول باری ودون الجھرمن القول۔ اور زبان سے بھی آواز کے ساتھ) ذکر لسانی کے لئے منصوص ہوگا۔ اس ذکر لسانی سے تلاوت قرآن مراد لینا بھی جائز ہے اور دعا مراد لینا بھی درست ہے۔ اس صورت میں دعا کے اندر اخفا افضل ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ادعواربکم تضرعاً وخفیۃ) اگر اس سے قرآن کی تلاوت مراد ہو تو یہ اس قول باری کے ہم معنی ہوگا ولاتجھربصلاتک ولاتخافت بھا وایتغ بین ذلک سبیلاً ۔ تم نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھو اور نہ ہی بہت چپکے پڑھو اور ان دونوں کے درمیان کوئی راستہ اختیار کرو) ایک قول ہے کہ دعا میں اخفا اس لئے افضل ہے کہ اس طرح ریاکاری کم سے کم ہوتی ہے اور اخلاص زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے اور ان دو صفات کی بنا پر ایسی دعا کی قبولیت کی زیادہ امید کی جاتی ہے۔ ایک قول ہے کہ اس میں قرآن کو غور سے سننے والے کو خطاب ہے اس لئے کہ یہ قول باری اس قول باری واذا قری القران فاستمعوالہ وانصتوا) پر معطوف ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور معنوی طورپر تمام مکلفین کے لئے یہ حکم عام ہے جس طرح یہ قول باری ہے یایھا النبی اذا طلقتم النساء اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو……) قتادہ کا قول ہے الاصال سے عشیات یعنی شام کے اوقات مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠٤) جب فرض نمازوں میں قرآن حکیم پڑھا جاتا ہے تو اس کی قرأت کو سنو اور خاموشی اختیار کیے رکھو۔ شان نزول : (آیت) ” واذا قریء القران “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نماز میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آوازیں بلند کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور مزید ابوہریرہ (رض) ہی سے روایت کیا ہے کہ ہم نماز میں کلام کرلیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جب قرآن کریم پڑھا جایا کرے، الخ، اور عبداللہ بن مغفل سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن جریر (رح) نے بھی ان مسعود (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے نیز زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ نوجوانوں کے متعلق نازل ہوئی کیوں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کچھ پڑھتے تو وہ بھی پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور (رح) نے اپنی سنن میں بواسطہ ابومعشر محمد بن کعب (رح) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت کو بغور سنتے تھے، آپ جب بھی (نماز میں) قرأت فرماتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ پڑھتے تھے یہاں تک کہ سورة اعراف کی یہ آیت اتر آئی، ان روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدینہ میں آئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠٤ (وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) سَمِعَ ‘ یَسْمَعُ کے معنی ہیں سننا ‘ جبکہ اِسْتِمَاع کے معنی ہیں پوری توجہ کے ساتھ سننا ‘ کان لگا کر سننا۔ جو حضرات جہری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے قائل ہیں وہ اسی آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں ‘ کیونکہ اس آیت کی رو سے تلاوت قرآن کو پوری طرح ارتکاز توجہ کے ساتھ سننا فرض ہے اور ساتھ ہی خاموش رہنے کا حکم بھی ہے۔ جبکہ نماز کے دوران خود تلاوت کرنے کی صورت میں سننے کی طرف توجہ نہیں رہے گی اور خاموش رہنے کے حکم پر بھی عمل نہیں ہوگا ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

153. The unbelievers are asked to shed their prejudice and to abandon their deliberate indifference to the Qur'an. Whenever the Qur'an is recited to them, they stuff their fingers into their ears and make a lot of noise lest they or any others hear the Qur'an. They should better behave more maturely and make an effort to grasp the teachings of the Qur'an. It is quite likely that their study, of the Book would ultimately make them share with Muslims the blessings of the Qur'an. This is an excellent, subtle and heart-winning approach which simply cannot be over-praised. Those who are interested in learning the art of effective preaching can benefit immensely by, pondering over this Qur'anic verse. The main purpose of the verse has also been explained. By implication, however, the verse also enjoins people to be silent and to listen attentively to the Qur'an when it is being recited. The verse also provides the basis of the rule that when the leader (imam) is reciting verses of the Qur'an in Prayer, the followers in the congregation should (refrain from reciting and) listen to the recitation in silence. There is some disagreement among scholars on this issue. Abu Hanifah and his disciples are of the view that the followers in the congregation should remain silent, irrespective of whether the the imam is reciting the Qur'an aloud or silently in his mind. On the other hand, Malik and Ahmad b. Hanbal are of the opinion that the followers in the congregation should listen silently only when the Qur'an is being recited aloud. According to Shafi'i, the followers in the congrega tion should also recite the Qur'an regardless of whether the imam is reciting the Qur'an aloud or silently'. His view is based on the Hadith that Prayer without recitation of al-Fatihah is void. (See Ibn Rushd, Bidayat al-Mujtahid, vol. 1, pp. 149-50; Ibn Qudamah, al-Mughni, vol. 1, pp. 562-9 - Ed.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :153 یعنی یہ جو تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تم لوگ قرآن کی آواز سنتے ہی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہو اور شور و غل برپا کرتے ہو تا کہ نہ خود سنو اور نہ کوئی دوسرا سن سکے ، اس روش کو چھوڑ دو اور غور سے سنو تو سہی کہ اس میں تعلیم کیا دی گئی ہے ۔ کیا عجب کہ اس کی تعلیم سے واقف ہو جانے کے بعد تم خود بھی اسی رحمت کے حصہ دار بن جاؤ جو ایمان لانے والوں کو نصیب ہو چکی ہے ۔ مخالفین کی طعن آمیز بات کے جواب میں یہ ایسا لطیف و شیریں اور ایسا دلوں کو مسخر کرنے والا انداز تبلیغ ہے کہ اس کی خوبی کسی طرح بیان کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ جو شخص حکمتِ تبلیغ سیکھنا چاہتا ہو وہ اگر غور کرے تو اس جواب میں بڑے سبق پاسکتا ہے ۔ اس آیت کا اصل مقصود تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے لیکن ضمناً اس سے یہ حکم بھی نکلتا ہے کہ جب خدا کا کلام پڑھا جا رہا ہو تو لوگوں کو ادب سے خاموش ہو جانا چاہیے اور توجہ کے ساتھ اسے سننا چاہیے ۔ اسی سے یہ بات بھی مُستَنبَط ہوتی ہے کہ امام جب نماز میں قرآن کی تلاوت کر رہا ہو تو مقتدیوں کو خاموشی کے ساتھ اس کی سماعت کرنی چاہیے ۔ لیکن اس مسئلہ میں ائمہ کے درمیان اختلاف واقع ہوگیا ہے ۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ جبری قرأت خواہ جہری ہو یا سِرّی ، مقتدیوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے ۔ امام مالک اور امام احمد کی رائے یہ ہے کہ صرف جہری قرأت کی صورت میں مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے ۔ لیکن امام شافعی اس طرف گئے ہیں کہ جہری اور سرّی دونوں صورتوں میں مقتدی کو قرأت کرنی چاہیے کیونکہ بعض احادیث کی بنا پر وہ سمجھے ہیں کہ جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

104: اس آیت نے بتادیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اسے سننے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ البتہ تلاوت کرنے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔ ایسی صورت میں اگر لوت تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تو اس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠٤۔ اس آیت کی شان نزول میں مفسروں کا بہت بڑا اختلاف ہے ایک گروہ کا یہ قول ہے کہ نماز میں باتیں کرنے کے متعلق یہ حکم ہوا ہے کیونکہ پہلے لوگ نماز میں باتیں کیا کرتے تھے تو حکم آیا کہ امام کی قرأت کو سنو اور چپکے رہو دوسرے گروہ کا یہ قول ہے کہ امام کے پیچھے زور سے پڑھنے کو منع کیا گیا ہے چناچہ تفسیر کلبی میں ہے کہ جب دوزخ اور جنت کا حال کسی آیت میں آجاتا تھا تو نماز میں ہی کچھ لوگ چیخنے لگتے تھے عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی ایک روایت ہے کہ امام کے پبچھے لوگ زور زور سے پڑھا کرتے تھے جب وہ نماز پڑھ چکے تو حضرت نے فرمایا کہ تمہیں سمجھ نہیں ہے جب قرآن پڑھا جاوے تو چپکے ہو کر سنو ١ ؎ اور ایک گروہ کا یہ قول ہے کہ یہ آیت خطبہ جمعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے لوگ خطبہ کے وقت کلام کیا کرتے تھے تو حکم ہوا کہ چپکے رہو عمر بن عبد العزیز کا قول ہے کہ خاموشی کچھ خطبہ کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ ہر وعظ میں چپکے رہنا چاہئے مجاہد وغیرہ اسی قول کے قائل ہیں مگر اس میں کسی قدر کلام ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جمعہ مدینہ میں فرض ہوا ہے اس لئے جمہور مفسرین اس آیت کی شان نزول یہی بتلاتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے حضرت جابر (رض) کی حدیث امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب امام ہو اس کو قرأت نہیں چاہئے امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے ٢ ؎ اب اس بات میں فقہا کا اختلاف ہے کہ نماز میں امام کے پیچھے سورة فاتحہ میں پڑھی جائے یا نہیں اس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ جن نمازوں میں امام زور سے قرأت نہیں پڑھتا ہے جیسے ظہر و عصر تو اس میں امام کے پیچھے سورة فاتحہ کے پڑھنے کی بعضے سلف کے نزدیک اجازت ہے اور جس میں قرات زور سے پڑھی جاوے جیسے مغرب عشا فجر اس میں فاتحہ کا پڑھنا بھی جائز نہیں کیونکہ جابر (رض) کی حدیث جو اوپر گذری اس سے معلوم ہوگیا کہ امام کی قرأت کافی ہے کچھ مقتدی پر قرأت ضروری نہیں ہے اور اس حدیث میں سورة فاتحہ یا اور کسی سورت کی تخصیص نہیں ہے مگر محدثین اور امام شافعی (رح) اور اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیت کے حکم میں سورة فاتحہ داخل نہیں اس لئے سورة فاتحہ کا پڑھنا ہر نماز میں خواہ امام قرأت بالجہر کرے یا نہ کرے ضروری اور واجب ہے بغیر اس کے نماز صحیح نہیں ہوتی ان کے نزدیک اس واسطے امام الحمد کی آیتوں میں جو پڑھتا ہے مقتدی جہری نماز میں ان سکتوں کے وقت اپنی الحمد پوری کر لیوے ابوداؤد ترمذی ونسائی میں عبادہ بن الصامت (رض) کی ایک حدیث ہے کہ ایک روز صبح کی نماز میں ہم لوگ حضرت کے پیچھے قرآن پڑھ رہے تھے آپ کو قرأت میں کسی قدر دشواری ہوئی جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شاید تم لوگ امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ہم لوگوں نے کہا کہ ہاں فرمایا کہ سوائے سورة فاتحہ کے اور کچھ نہ پڑھا کرو اس لئے کہ کوئی نماز بغیر سورة فاتحہ کے نہیں ہوتی حضرت جابر (رض) کی حدیث کی روایت کے سب طریقے دار قطنی نے جمع کئے ہیں اور آخر اس حدیث کو مرسل طور پر صحیح قرار دیا ٣ ؎ ہے جس طرح عبداللہ بن شداد تابعی نے اس حدیث جابر (رض) کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے اسی طرح کوئی تابعی کسی حدیث کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی ایک روایت میں اس حدیث کو مرسل طور پر روایت کیا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جس حدیث کی سند کا سلسلہ برابر ہو اس کو مرفوع کہتے ہیں۔ اس حدیث کے سب مرفوع طریقوں پر حافظ ابن حجر (رح) نے اعتراض کیا ٤ ؎ ہے۔ عبادہ بن صامت (رض) کی حدیث مرفوع ہے اور امام بخاری (رح) نے جزء القرائۃ میں اس کو صحیح قرار دیا ہے ٥ ؎ اور دار قطنی نے بھی اس کے راویوں کو معتبر ٹھہرایا ٦ ؎ ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے فیما بین یہ ایک اصول کے مسائل کا اختلاف ہے کہ ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مرسل حدیث معتبر ہے اور امام شافعی (رح) کے نزدیک معتبر نہیں ہے اس لئے امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب اس مسئلہ میں مرسل حدیث کہ موافق ہے اور امام شافعی (رح) کا مذہب مرفوع حدیث کے موافق ہے۔ اکابر حنفیہ میں سے ہدایہ میں امام محمد (رح) صاحب کا یہ قول ہے کہ احتیاط کے طور پر مقتدی کو بھی الحمد پڑھ لینی چاہئے آثار امام احمد میں امام ابوحنیفہ (رح) سے بھی ظہر اور عصر میں امام کے پیچھے الحمد کے پڑھنے کی ایک روایت ٧ ؎ ہے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے :۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ تفسیر ابن جریر یہ موقوف ہے مرفوع نہیں (ع۔ ر) ٢ ؎ یہ تفسیر ابن کثیر سے منقول ہے جس میں اس کے بعد لکھا ہے کہ یہ روایت موطا میں موقوف ہے وہذا ٢ صح (ج ٢ ص ٢٨٠) لیکن یہ حدیث مند امام احمد میں موجود نہیں۔ اور موطا میں جابر (رض) کا جو قول ہے اس کے الفاظ بالکل دوسرے ہیں ملاحظہ ہو (موطا ص ٢٨ طبع مجتبائی باب ماجاء فی ام القرآن) (ع۔ ر) ٣ ؎ سنن دار قطنی ص ١٢٢۔ ١٢٣ ٤ ؎ فتح الباری ج ١ ص ٤١٥ وتلخیص ص ٨٧ ٥ ؎ حافظ ابن کثیر لکھنے ہیں وقدرا فرد لہا الامام ابوعبداللہ البخاری مصنفا علی حدۃ واختار وجوب القرأۃ خلف الامام فی السریۃ والجہیہ یعنی ” امام بخاری (رح) نے اس مثلہ میں مستقل تالیف فرمائی اور ہر نماز میں سری ہو یا جہری سورة فاتحہ خلف الامام کے فرض ہونے کا مسلک اختیار کیا ہے (ع۔ ں ٦ ؎ سنن دارقطنی ص ١٢٠۔ ١٢٢ ٧ ؎ کتاب الاثار میں تو پید دایت نہیں ملی (ص ٢١۔ ٢٢ طبع لاہور) تاہم یہ روایت ہے ضرور جیسا کہ مولانا محمد عبدالحی حقی لکھنوی مرحوم نے عنہ الرحایۃ حاثیہ شرع دوایہ (ج ١ ص ١٧٣) اور غیث النعمام وایثہ امام الکلام (ص ١٥٦) وغیرہ میں اسی کو حنفی مذہب کا تحفق قول قرار دیا ہے (ع۔ ر)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:204) استمعوا تم کان لگا کر (غور سے) سنو ۔ استماع (افتعال) سے امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ینصت (ضرب) چپ رہنا۔ خاموش رہو۔ چپ سے سنتے رہو۔ انصات (باب افعال) سے نصت ینصت (ضرب) چپ رہنا۔ خاموشی سے سننا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اس سے استفا کے آداب کی طرف اشارہ فرمایا رہا ہے کہ اسکی قرات کے وقت استماع اور انصاف ہونا ضروری ہے یعنی خامو شی اور توجہ سے سنا جاتے، مروی ہے کہ مشرکین مکہ قرآن کی قرات کے وقت شور غل کرتے اور کا نوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( کبیر) ویسے یہ حکم عام ہے کہ جب قرآن کی قرات ہو تو وہ دھیان سے سنا جائے اور باتیں نہ کی جائیں ( از مو ضح) بعض نے اس آیت سے استد لا کیا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی کو سورة فاتحہ کی قرات بھی ممنوع ہے کیونکہ اذا قری القران کا حکم ہے جو مقتدی امام نما زی غیر نمازی سب کو شامل ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز میں قرات کے متعلق اس آیت کو لیا جائے تو یہ آیت اپنے ما قبل سے بےربط ہو کر رہ جاتی ہے ما قبل کی آیات میں مشرکین سے خطاب چلا آرہا ہے اس لیے نظم قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں بھی مشرکین ہی مخاطب ہوں اور پھر اس آیت کے مکی ہونے سے اس کی اور بھی تائید ہوجاتی ہے۔ اگر بالفرض اس آیت کو عام بھی مال لیاجائے تب بھی اصول فقہ کی رو سے حدیث لا صلوٰۃ الا بغاتحتہ الکتاب کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی) سے اس ی تخصیص ہوسکتی ہے لہذا ی آیت مقتدی کے لیئے سورة فاتحہ کی قرات سے کسی طرح مانع نہیں ہوسکتی۔ ( از کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ قری۔ پڑھا گیا۔ پڑھا جاتا ہے۔ استمعوا۔ غور سے سنو۔ انصتوا۔ خاموشی اختیار کرو۔ فی نفسک۔ اپنے دل میں۔ بالغدو۔ صبح کے وقت۔ اصال۔ (اصل) ۔ دن کا آخری وقت۔ رات۔ لا یستکبرون۔ وہ تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یسبحون۔ وہ تسبیح کرتے ہیں۔ یسجدون۔ وہ (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔ تشریح : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے یہاں آیت نمبر 204 میں اس کے سننے کے آداب ہیں نمبر 205 میں اس کے پڑھنے کے آداب ہیں اور آخری آیت میں ان لوگوں کی شناخت ہے جو قرآن کریم پڑھتے سمجھتے اور عمل کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی تمام کیفیات اسی وقت دل پر اپنا پورا اثر ڈالتی ہیں جب ان کو تمام توجہ اور یکسوئی کے ساتھ سنا جائے اور پڑھا جائے۔ تلاوت قرآن کے وقت ادھر ادھر کی باتیں کرنا منع ہے۔ قرأت کا لطف اور مزہ اس وقت ہے جب ایک تلاوت کر رہا ہو اور دوسرے خاموشی، ادب اور احترام سے سن رہے ہوں سب ایک ساتھ پڑھیں گے تو تلاوت انفرادی بن جائے گی اور جب ایک پڑھے گا اور دوسرے خاموشی سے سنیں گے تو یہ عمل اجتماعی عمل بن جائے گا۔ اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت اور لاتعداد حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز میں ایک شخص (امام) پڑھنے والا ہو اور بقیہ سب خاموشی سے سننے والے ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنا رحم و کرم سب پر نازل فرمائے گا۔ حدیث کی رو سے دراصل امام کی قرأت سارے مقتدیوں کی قرأت ہے جب امام تلاوت کر رہا ہے تو گویا وہ سب کی نمائندگی کر رہا ہے اور دنیا میں یہی سب سے بہتر طریقہ شمار ہوتا ہے۔ تو ان آیات میں پہلے ادب یہ بتایا گیا ہے کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو سب خاموش رہیں کان لگا کر سنیں تو اللہ اپنا رحم و کرم فرمائے گا۔ دوسرا ادب یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور انکساری کے ساتھ، خوف کے ساتھ آہستہ آہستی یا زور سے صبح وشام پکارتا رہے تاکہ اس کا شمار اہل غفلت میں نہ ہو۔ قرآن کریم کا پڑھنا اور سننا درحقیقت بہترین ذکر الٰہی ہے خواہ وہ نماز کے اندر ہو یا نماز سے باہر۔ ذکر کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر وق اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ مگر صبح و شام اطمینان سے اور سکون سے اللہ کو یاد کیا جائے تو اللہ کی رحمتیں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ ذکر الٰہی کی وہ صورتیں ہیں (1) دل ہی دل میں معرفت حقیقی کی کوشش کرے الفاظ سے ہو، زبان سے یا دل سے مگر اس میں ادب و احترام کا پہلو غالب رہنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) عموماً ہلکی آواز سے تلاوت کرتے تھے آپ کا ارشاد تھا کہ میں جس کو سنانا چاہتا ہوں وہ سن رہ ا ہے۔ حضرت عمر فاروق (رض) ذرا اونچی آوا ز سے پڑھتے تھے آپ کا فرمانا تھا کہ میں اونچی آواز سے پڑھتا ہوں تاکہ شجر و حجر بھی سن لیں اور جو لوگ غفلت میں پڑے سو رہے ہیں وہ اللہ کی یاد کے لئے بیدار ہوجائیں اسی کیفیت کو جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا تو فرمایا کہ اے ابوبکر (رض) تم اپنی آواز کو ذرا اونچا کرو اور اے عمر تم اپنی آواز کو ذرا دھیما کرلو۔ اللہ کو اعتدال پسند ہے۔ اسی سورة کی آخری آیت میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ : جو لوگ اپنے رب کی قربت اور رضا و خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ تلاوت و تہجد، صوم و صلوٰۃ، تبلیغ و جہاد اور ہر طرح کی عبادت کسی کو دکھانے کے لئے نہیں بلکہ وہ محض اللہ کے لئے کرتے ہیں وہ اللہ کے ہوجاتے ہیں اللہ ان کا ہوجاتا ہے وہ عاجزی انکساری اختیار کرتے ہیں اور اللہ کی عبادت و بندگی سے تکبر نہیں کرتے وہ اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ سورة علق میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ بندہ اپنے رب سے اس وقت بہت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ تاکہ اس کا معجزہ ہونا اور اس کی تعلیم کی خوبی سمجھ میں آئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس آیت پر یہ سورة ختم ہوجاتی ہے اور سورة کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ اسی کتاب والا صفات کی طرف اشارہ تھا۔ کتاب انزل الیک فلا یکن فی صدرک حرف منہ لتنذر بہ و ذکری للمومنین۔ یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ، پس اے نبی ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ، اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو "۔ ۔۔ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس وقت خاموش رہنے کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ قرآن مجید ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے کہ امام جہراً قراءت کرتا ہے تو مقتدی پر فرض ہے کہ وہ خاموش رہے۔ جب وہ جہری نماز میں امام کو سن رہا ہو تو اس کے لیے پڑھنا منع ہے۔ لا ینازع الامام القرآن ، امام کے ساتھ قرآن میں تنازعہ نہ ہو۔ یہ روایت امام احمد اور اہل سنن نے نقل کی ہے۔ اور امام ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے اور ابو حاتم الرازی نے اسے حدیث صحیح کہا ہے۔ انہوں نے زہری ، ابو اکشمہ لیثی کے واسطہ سے ابوہریرہ سے نقل کیا کہ حضور جب ایک جہری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ ابھی میرے پیچھے تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ؟ ایک شخص نے کہا " ہاں " رسول خدا میں نے پڑھا۔ حضور نے فرمایا " میں کہتا ہوں کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن کے ساتھ تنازعہ کر رہا ہوں " اس کے بعد لوگ حضور کے ساتھ جہری نمازوں میں قراءت کرنے سے باز آگئے۔ کیونکہ انہوں نے حضور کی یہ ہدایت سن لی۔ اسی طرح ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں ابوداود ابن ابو الہند ، بشیر ابن جابر کی روایت سے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے سنا کہ بعض لوگ امام کے ساتھ پڑھتے ہیں ، تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : " کیا اب وقت نہیں آگیا کہ تم سمجھو ، کیا وقت نہیں آگیا کہ تم عقل سے کام لو ، اللہ کا حکم مانو ، اللہ فرماتے ہیں۔ " جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو "۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں در اصل مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشرکین کی طرح رویہ نہ اختیار کریں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو مشرکین آکر سنتے۔ اس لیے ان میں سے بعض لوگوں نے دوسروں سے کہا تم لوگ قرآن نہ سنو بلکہ جب تلاوت ہو رہی ہو تو اس میں خلل ڈالو شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ۔ لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون۔ " اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو ، بلکہ اس میں شور مچاؤ شاید کہ تم غلبہ پا لو " اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ " واذا قرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا " جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ نماز کے بارے میں ہوئی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ، ابن مسعود ، جابر ، زہری ، عبیداللہ ابن عمیر ، عطاء اور سعید بن مسیب سے اس سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ علامہ ابن جریر نے اس کی بھی شان نزول نقل کی ہے۔ اس نے ابوکریب ، ابوبکر بن عیاش عاصم ، مسیب ابن رافع کے سلسلے کے ذریعے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کو نماز میں سلام کرتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی واذا قرئ القران فاستعموا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہو ، غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ۔ شاید کہ تم پر حم کیا جائے۔ اس کی تفسیر میں امام قرطبی کہتے ہیں کہ محمد ابن کعب قرظی نے یہ کیا ہے کہ جب حضور قرآن مجید پڑھتے تھے تو لوگ اسے دہراتے تھے جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تو لوگ بھی اسی طرح کہتے۔ پوری فاتحہ اور سورت کی تلاوت میں لوگ ایسا ہی کرتے۔ ایک عرصہ تک یہی معمول رہا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ جہراً نہ پڑھا جائے جس طرح کہ وہ لوگ رسول اللہ کی اطاعت میں پڑھتے تھے۔ یہ تو تھی امام قرطبی کی رائے۔ اس آیت کے بارے میں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب نماز ہو رہی ہوتی تھی تو ایک شخص آتا اور نمازیوں سے پوچھتا تم نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور کتنی باقی ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ ایسی ہی روایت مجاہد سے منقول ہے کہ مسلمان نماز میں حسب ضرورت بات کرلیا کرتے تھے ، اس لیے یہ آیت اتری لعلکم ترحمون۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حکم صرف اس تلاوت پر موقوف ہے ، جو نماز میں ہوتی ہے تو ان کا استدلال ابن جریر کی روایت سے ہے۔ انہوں نے حمید ابن مسعدہ ، بشر ابن جریری ، طلحہ ابن عبیداللہ بن عمیر سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمیر اور عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مباحثہ کر رہے تھے اور قاری قراءت کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا۔ کیا تم کان نہیں دھرتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے ، اس کے مستحق نہیں بنتے یعنی لعلکم ترحمون کے۔ اس پر انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں ، میں نے دوبارہ اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسرے باری اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری بار اپنی بات کا اعادہ کیا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا " یہ تو نماز کے بارے میں ہے " وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ " علامہ ابن کثیر اس روایت کو نقل کرکے کہتے ہیں کہ سفیان ثوری ابوہاشم اسماعیل ابن کثیر نے ، انہوں نے مجاہد سے یہی روایت کی ہے کہ آیت وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ۔ نماز کے بارے میں ہے۔ کئی لوگوں نے مجاہد سے یہی روایت نقل کی ہے۔ عبدالرزاق نے ثوری سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر نماز کے علاوہ قراءت ہو رہی ہو اور کوئی بات کر رہا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جس طرح نماز میں یہ حکم ہے اسی طرح خطبہ جمعہ اور عیدین میں بھی یہی حکم ہے۔ یہ سعید ابن ابوجیر ، مجاہد عطاء ، عمرو ابن دینار ، یزید ابن اسلم ، قاسم ابن مخیرہ ، سلمہ ابن بسار ، شہر بن حوشب اور عبداللہ ابن مبارک بھی اسی طرف گئے ہیں لیکن قرطبی کہتے ہیں " یہ مذہب ضعیف ہے۔ اس لیے کہ خطبات میں قرآن مجید کا حصہ کم ہوتا ہے۔ اور خاموشی سب میں واجب ہے۔ علامہ ابن عربی اور نقاش نے کہا ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں نہ کوئی خطبہ تھا اور نہ جمعہ واجب تھا۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ اہل تفسیر کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کو کان لگا کر سننا اور خاموش رہنا جس طرح فرض نماز میں ہے ، اسی طرح غیر فرض میں بھی ہے۔ لغوی مفہوم کے اعتبار سے ہر معاملے میں قرآن کو سننا اور خاموش رہنا فرض ہے ، الا یہ کہ کوئی مخصوص دلیل ہو۔ اسباب نزول کے بارے میں اس سے قبل جو روایات دی گئی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ یہ آیت صرف نماز کے ساتھ مخصوص ہے یا فرض اور غیر فرض نماز میں فرق ہے۔ کیونکہ حکم تو آیت کے الفاظ کی عمومیت پر ہوتا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیت کس خصوصی موقعہ پر نازل ہوئی۔ اقرب بات یہ ہے کہ یہ آیت عام تصور ہو ، اور اس کے لیے کس نص کو مخصوص نہ سمجھا جائے ، قرآن کی عظمت اور احترام کے قرین قیاس اور قرین مرتبہ یہ ہے کہ جہاں بھی تلاوت قرآن ہو ، خاموشی اختیار کی جائے اور چونکہ اللہ کا کلام ہے ، اس لیے اللہ کا ادب بھی اسی میں ہے۔ جب خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہوں تو خاموشی اختیار کرو اور سنو اور اسی میں تمہارے لیے رحمت کی امید ہے۔ لہذا کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ اس عمل کو نماز کے ساتھ مخصوص کردیا جائے بلکہ جہاں بھی قرآن پڑھا جائے وہاں اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے۔ نفس انسان کو ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ ادب اور احترام اسبات کا ضامن ہے کہ انسان پر دنیا و آخرت میں رحم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے اعراض اور روگردانی کرکے لوگ عظیم خسارے میں جا پڑے ہیں۔ بعض اوقات انسان ایک آیت کو غور سے سنتا ہے اور اس کے نتیجے میں عجیب و غریب تاثرات اس کے دل و دماغ پر نقژ ہوجاتے ہیں اور اس پر عمل و ادراک کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان کو اطمینان قلبی ، خوشی اور روحانی کیفیات نصیب ہوتی ہیں اور اس کی سوچ اور عمل میں بڑی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور یہ تاثرات اور یہ خصوصیت صرف اس شخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں ، جس نے انہیں کبھی چکھا ہو۔ قرآن کریم کا مسلسل مطالعہ ، اس پر غور و فکر اور تدبر ، صرف ترنم کے ساتھ قراءت ہی نہیں ، بلکہ یہ انسان کے قلب و نظر پر گہرا غور و فکر اور تدبر پیدا کردیتا ہے۔ اور انسان کو نہایت ہی دور رس قوت مدرکہ عطا ہوجاتی اور اس پر نہایت ہی یقینی علوم کا القا ہوتے ہیں۔ ان سان کے اندر زندگی کی حرارت اور اقدامی قوت پیدا ہوجاتی ہے ، وہ پر عزم ، مثبت سوچ اور مصمم ارادے کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ علوم انسان کو تدبر قرآن کے علاوہ کسی اور مشق یا اور ذریعہ علم سے حاصل نہیں ہوتے۔ قرآنی تصورات کے بیچ میں سے انسان اس کائنات کے حقائق معلوم کرلیتا ہے۔ انسان زندگی کے بارے میں نئے نئے حقائق کا ادراک و انکشاف ہوتا ہے۔ انسان کو انسانی زندگی کے حقائق ، انسانی ضروریات ، انسان کے مزاج اور اس کی فطرت و طبیعت کا نہایت ہی واضح گہرا اور دقیق و عمیق شعور حاصل ہوجاتا ہے اور یہ شعور خالص قرآنی عبادات اور احکام کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کائنات اور انسانی زندگی کے ساتھ وہ انسان جس نے قرآن کا مطالعہ کیا ہو نہایت ہی مختلف روح کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اب انسان کا طرق عمل اس کائنات اور انسان کے ساتھ وہ نہیں ہوتا جو اس انسان کا ہوتا ہے جس کی تربیت محض انسانی علم و معرفت کی فضا میں ہوئی ہو۔ یہ فضا اللہ کی رحمت کی امیدواری کی فضا ہے اور یہ نماز اور غیر نماز میں برابر ہے۔ لہذا اللہ کی رحمت کی فضا کو ہم نماز کے ساتھ کسی وجہ سے بھی مخصوص نہیں کرسکتے اور وہی رائے درست ہے جو قرطبی نے نقل کی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مجید پڑھنے اور سننے کے احکام و آداب ان آیات میں قرآن مجید سننے کا حکم فرمایا ہے اور بعض احکام و آداب ارشاد فرمائے ہیں۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے دھیان سے سنو اور خاموش رہو، اول تو قرآن پڑھنے والے کو چاہئے کہ قرآن پڑھنے میں اس کا خیال رکھے کہ جن کانوں میں آواز پہنچ رہی ہے وہ لوگ کام کاج اور نیند میں تو مشغول نہیں ہیں۔ اگر لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہوں یا سو رہے ہوں تو اونچی آواز سے تلاوت نہ کرے کیونکہ کام میں لگے ہوئے لوگ قرآن مجید کی طرف توجہ نہیں کرسکتے۔ پڑھنے والے پر لازم ہے کہ ایسی صورت حال پیدا نہ کرے کہ حاضرین کے کانوں میں قرآن مجید کی آواز آرہی ہو اور کام کاج میں مشغولیت کی وجہ سے قرآن مجید سننے کی طرف توجہ نہ کرسکیں۔ قاری جب یہ دیکھے کہ توجہ سے سننے والے موجود ہیں تو زور کی آواز سے تلاوت کرے، جو لوگ مشغول نہیں ہیں ان پر لازم ہے کہ خاموش رہیں اور دھیان لگا کر سنیں اگرچہ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ قرآن پڑھا جا رہا ہو اور باتیں کر رہے ہیں یہ قرآن مجید کی بےادبی ہے یہ حکم کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش رہو اور دھیان سے سنو نماز اور خارج نماز دونوں کو شامل ہے جو لوگ امام کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوں ان کے لیے تو غافل ہونے کا موقع ہی نہیں ہے۔ کارو بار اور دکان چھوڑ کر آتے ہیں مسجد میں موجود ہیں اور جب تک نماز میں ہیں دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ پھر بھی امام کی قرأت کی طرف متوجہ نہ ہوں تو یہ سخت محرومی کی بات ہے۔ امام کے پیچھے خاموش رہنے کا حکم اور امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب : حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مقتدی کو امام کے پیچھے سورة فاتحہ یا کوئی سورت پڑھنا ممنوع ہے۔ آیت بالا میں قرآن مجید کی تلاوت کے سننے اور تلاوت کے وقت خاموش رہنے کا جو حکم فرمایا ہے یہ حکم نماز کی مشغولیت کے وقت کو اور خارج نماز کو عام ہے، نیز صحیح مسلم ص ١٧٤ ج ١ میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : و اذا قرأ فانصتوا (کہ جب امام پڑھے تو خاموش رہو) امام مسلم نے نہ صرف اس حدیث کی تخریج کی بلکہ بالتصریح یہ بھی فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کے الفاظ بھی عام ہیں جہری اور سری دونوں نمازوں کو شامل ہیں۔ امام کے پیچھے قرأت نہ پڑھنے کے بارے میں حضرات صحابہ (رض) کے ارشادات حضرت صحابہ کرام (رض) کے آثار و اقوال سے بھی امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت زید بن ثابت (رض) سے حضرت عطاء بن یسار تابعی (رح) نے امام کے ساتھ قرأت پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : لا قرأۃ مع الامام فی شئ (صحیح مسلم ص ٤١٠ ج ١) یعنی امام کے ساتھ نماز میں کوئی بھی قرأت نہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے فرمایا : من صلی رکعۃً لم یقرأ فیھا بام القرآن فلم یصل الا ان یکون وراء الامام ١ ؂ یعنی جس شخص نے کوئی رکعت پڑھی جس میں ام القرآن (سورۂ فاتحہ) نہ پڑھی تو اس نے نماز نہیں پڑھی الایہ کہ امام کے پیچھے ہو (اگر امام کے پیچھے ہو تو سورة فاتحہ پڑھے) ۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ لا صلوٰۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب تنہا نماز پڑھنے والے کے لیے ہے (قال احمد و ھذا رجل من اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَاول قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لا صلوٰۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب ان ھذا اذا کان وحدہ) ۔ شرح معانی الآثار للامام الطحاوی، (باب القرأۃ خلف الامام) میں حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ من قرأ خلف الامام فلیس علی الفطرۃ (کہ جو شخص امام کے پیچھے قرأت پڑھے وہ فطرت پر نہیں ہے) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : انصت للقرأۃ فان فی الصلوٰۃ شغلاً فسیکفیک ذلک الامام (قرأت کے لیے خاموش ہوجاؤ کیونکہ نماز میں مشغولیت ہے اور اس بارے میں امام تمہاری طرف سے کافی ہے) نیز حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : لیت الذی یقرأ خلف الامام ملئی فمہ ترابا (کاش اس کے منہ میں مٹی بھر دی جاتی جو امام کے پیچھے پڑھتا ہے) حضرت ابن عباس سے ابو جمرہ نے دریافت کیا میں امام کے پیچھے پڑھوں ؟ تو جواب میں فرمایا کہ نہیں، اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) امام کے پیچھے نہیں پڑھتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ امام کے پیچھے پڑھا جائے تو فرمایا : اذا صلی احدکم خلف الامام فحسبہ قرأۃ الامام۔ (جب تم میں سے کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قرأۃ کافی ہے) یہ سب آثار شرح معانی الآثار میں مروی ہیں۔ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کا مذہب : اب دیگر ائمہ کے مذاہب کی طرف رجوع فرمائیے۔ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مذہب بھی یہ ہے کہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھنا واجب نہیں ہے اور حضرت امام شافعی (رح) کا قول قدیم یہ تھا کہ امام کے پیچھے جہری میں قرأت واجب نہیں ہے اور قرأت سری میں واجب ہے اور ان کا قول جدید یہ ہے کہ سری نماز ہو یا جہری مقتدی پر سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب آیت قرآنیہ اور حدیث صحیح اور آثار صحابہ سے موید ہے اور حضرت امام مالک اور امام احمد بن حنبل بھی ١ ؂ سنن ترمذی، باب ماجاء فی ترک قراء ۃ الامام اذا جھر بالقراء ۃ امام کے پیچھے پڑھنے کی فرضیت کے منکر ہیں ان کے نزدیک امام کے پیچھے نہ سورة فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور نہ کوئی دوسری سورت، البتہ بعض احوال میں ان کے نزدیک سورة فاتحہ پڑھنا مستحب ہے۔ (کما ذکر فی کتب مذھبم) قال ابن قدامۃ الحنبلی فی المغنی ص ٢٠٠ ج ١ و الماموم اذا سمع قرأۃ الامام فلا فقرء بالحمد و لا بغیرھا لقول اللہ تعالیٰ و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون ط و لما روی ابوہریرہ (رض) ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال : ما لی أنازع القرآن قال : فانتھی الناس أن یقروا فیھا جھر فیہ النبی۔ و جملۃ ذلک ان الماموم اذا کان یسمع قراءۃ الامام لم تجب علیہ القرأۃ و لا تستحب عند امامنا و الزھری و الثوری ومالک و ابن عیینۃ و ابن المبارک و اسحاق و احمد قولی الشافعی و نحوہ عن سعید بن المسیب و عروۃ بن الزبیر وأبی سلمۃ بن عبدالرحمن و سعید بن جبیر و جماعۃ من السلف، و القول الآخر للشافعی یقراء فیھا جھر فیہ الامام و نحوہ عن اللیث و الاوزاعی و ابن عون و مکحول و أبی ثور لعموم قولہ (علیہ السلام) ” لا صلوٰۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب “ متفق علیہ و لنا قول اللہ تعالیٰ : و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و أنصتوا لعلکم ترحمون ط و قال احمد فالناس علی أن ھذا فی الصلوٰۃ۔ و عن سعید بن المسیب و الحسن و ابراھیم و محمد بن کعب و الزھری أنھا نزلت فی شأن الصَّلٰوۃ۔ و قال زید بن أسلم و ابو العالیۃ کانوا یقرؤن خلف الامام فنزلت و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ و أنصتوا لَعَلَّکُمْ ترحمون وقال احمد فی روایۃ ابی داود اجمع الناس علی ان ھذہ الایۃ فی الصلوۃ ولاتہ عام فیتناول بعمومہ الصلوۃ، و روی ابوہریرہ قال : قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انما : جعل الامام لیؤتم بہٖ فاذاکبر فکبرواٗ واذا قرأ فانصتوا “ رواہ مسلم (الی ان قال) قال أحمد ما سمعنا احدا من اھل الاسلام یقول ان الامام اذا جھر بالقرأۃ لا تجزیء صلوٰۃ من خلفہ اذا لم یقرأ، و قال ھذا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و أصحابہ و التابعون و ھذا مالک فی اھل الحجاز و ھذا الثوری فی أھل العراق و ھذا الاوزاعی فی أھل الشام و ھذا اللیث فی أھل مصرما قولو الرجل صلی و قرأ امامہٗ و لم یقرأ ھو صلوٰۃ باطلۃ و لانھا قرأۃ لا تجب علی المسبوق فلم تجب علیٰ غیرہٖ کالسورۃ، فأما حدیث عبارۃ الصحیح فھو محمول علی غیر الماموم، و کذالک حدیث ابی ہریرہ قد جاء مصر حابہٖ رواہ الخلال باسنادہٖ عن جابر ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال کل صلوٰۃ لا یقرأ فیھا بأم القرآن فھی خداج الا أن تکون وارء الامام، و قد روی ایضاً موقوفاً عن جابر، و قول ابی ہریرہ اقرأ بھا فی نفسک من کلامہٖ و قد خالفہ جابر و ابن الزبیر وغیرھما، ثم یحتمل انہ اراد اقرأ بھا فی سکتات الامام أو فی حال اسرارہ فانہٗ یروی أن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال : اِذا قرأ الامام فانصتوا، و الحدیث الاخر و حدیث عبارۃ الآخر فلم یروہ غیر ابن اسحاق کذلک قالہ الامام أحمد و قد رواہ ابو داود عن مکحولٍ عن نافع بن محمود بن الربیع الانصاری و ھو أدنی حالا من ابن اسحاق فانہ غیر معروف من اھل الحدیث و قیاسھم یبطل بالمسبوق (ثم قال بعد سطور) الا تسحباب ان یقرأ فی سکتات الامام و فی ما لا یجھر فیہ (الی ان قال) فان لم یفعل فصلوٰۃ تامۃ لان من کان لہ امام فقراء ۃ، و جملۃ ذلک ان القراء ۃ غیر واجبۃ علی الماموم فیما جھر بہ الامام فیھا اسربہ نص علیہ احمد فی روایۃ الجماعۃ، و بذالک قال الزھری و الثوری و ابن عیینۃ ومالک و ابن حنفیۃ و اسحاق ١ ھ (علامہ ابن قدامہ حنبلی (رح) نے المغنی میں کہا ہے مقتدی جب امام کی قرأت سن رہا ہو تو نہ فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی اور سورة وغیرہ پڑھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگاؤ اور خاموش رہو اور حضرت ابوہریرہ کی اس روایت کی وجہ سے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے کیا ہے کہ میرے ساتھ قرآن کریم میں جھگڑا کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اس کے بعد لوگ ان نمازوں میں فاتحہ پڑھنے سے رک گئے جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہر سے تلاوت فرماتے تھے اور اسی کا خلاصہ یہ ہے کہ مقتدی جب امام کی قرأت سنے تو اس پر قرأت واجب نہیں ہے اور نہ مستحب ہے ہمارے امام کے نزدیک اور زہری، ثوری، مالک، ابن عیینہ، ابن المبارک، اسحاق اور امام شافعی کے ایک قول کے مطابق اسی طرح ہے اور حضرت سعید بن المسیب، عروۃ بن الزبیر، ابو سلمہ، اور سعید بن جبیر اور سلف کی ایک جماعت سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی (رح) کا دوسرا قول یہ ہے کہ جس نماز میں امام جہر کرے اس میں بھی مقتدی پڑھے اور اسی طرح منقول ہے لیث، اوزاعی، ابن عون، مکحول اور ابو ثور سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لا صلوٰۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب (اس آدمی کی نماز نہیں ہے جو فاتحہ نہ پڑھے) کے عام ہونے کی وجہ سے۔ ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) امام احمد فرماتے ہیں عام اہل علم اسی پر ہیں کہ یہ حکم نماز کے بارے میں ہے۔ حضرت سعید بن المسیب، حسن، ابراہیم، محمد بن کعب، زھری سے بھی یہی مروی ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور زید بن اسلم اور ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں لوگ امام کے پیچھے قرأت کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ امام احمد نے کہا ہے کہ امام ابو داؤد کی روایت کے مطابق سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں ہے اور اس لیے بھی کہ یہ آیت عام ہے جو نماز کو بھی شامل ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا امام اسی لیے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب قرأت کرے تو تم خاموش رہو (رواہ مسلم) یہ بھی کہا ہے کہ امام احمد کہتے ہیں ہم نے اہل اسلام میں سے کسی سے یہ نہیں سنا ہے کہ امام جب جہر سے قرأت کرے تو قرأت نہ کرنے والے مقتدی کی نماز نہیں ہوتی اور کہا کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہ آپ کے صحابہ (رض) ہیں اور تابعین ہیں یہ امام مالک ہیں حجاز میں، اور اہل عراق میں امام ثوری ہیں اور اہل شام میں اوزاعی اور اہل مصر میں لیث ہیں کہ انہوں نے امام کی قرأت کے پیچھے قرأت نہ کرنے والے کسی آدمی کو یہ نہیں کہا کہ تیری نماز باطل ہے اور اس لیے بھی مقتدی پر واجب نہیں کہ مسبوق پر واجب نہیں ہے تو سورة کی طرح دوسروں پر بھی واجب نہیں ہے۔ حضرت عبادۃ (رض) والی حدیث صحیح وہ منفرد کے لیے ہے اور اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں تو اس کی صراحت ہے خلال نے اپنی سند سے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہر وہ نماز جس میں فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نا قص ہے مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو اور حضرت جابر (رض) سے موقوفاً بھی مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں جو یہ ہے کہ اسے اپنے دل میں پڑھ یہ ان کا اپنا قول ہے کیونکہ حضرت جابر (رض) اور حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) وغیرہ نے اس کی مخالفت کی ہے، پھر یہ احتمال ہے کہ آپ کا مقصد یہ ہو کہ امام جب سکتہ کرے تو اس میں پڑھ لو یا اس کی خاموشی کے وقت پڑھ لے کیونکہ انہوں نے ہی روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور دوسری حدیث اور حضرت عبادۃ کی دوسری حدیث اسے ابن اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ امام احمد نے بھی یہی کہا ہے اور ابو داؤد عن مکحول عن نافع بن محمود بن الربیع الانصاری والی جو روایت ہے وہ ابن اسحاق سے بھی زیادہ کمزور ہے کیونکہ وہ محدثین میں غیر معروف ہے اور ان کا مسبوق پر قیاس باطل ہے (کچھ سطروں کے بعد ہے) کہ مستحب یہ ہے کہ امام کے سکتوں میں پڑھے اور غیر جہری میں پڑھے ...... اگر ایسا نہ کرے تو بھی نماز تمام ہوجائے گی کیونکہ جس کا امام ہو تو امام کی قرأت اس کے لیے کافی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مقتدی پر قرأت واجب نہیں ہے نہ جہری نمازوں میں نہ سری میں۔ ایک پوری جماعت کی روایت کے مطابق امام احمد نے اسی کی صراحت کی ہے اور یہ قول ہے زہری، ثوری، ابن عیینہ، مالک اور ابوحنیفہ اور اسحاق کا) ۔ حضرت امام شافعی کا قول جدید بعض جماعتوں نے اختیار کرلیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو شخص امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز ہوتی ہی نہیں۔ دیگر مسائل اختلافیہ کی طرح اس مسئلہ میں بھی صحابہ (رض) کے درمیان اختلاف تھا دونوں طرف دلائل ہیں پھر اس میں اتنا غلو ہونا کہ جو حضرات فاتحہ الامام کی فرضیت کے قائل نہ ہوں (جن میں حضرت امام احمد بن حنبل (رح) بھی ہیں جو جماعت مذکورہ کے نزدیک امام الحدیث اور امام السنہ ہیں) ان کو خطا کار بتانا اور جو امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کے بارے میں قسمیں کھا کھا کر یہ کہنا کہ ان کی نماز ہوتی ہی نہیں سراسر تعدی ہے۔ قیامت کے دن جب نمازوں کا اجر وثواب ملے گا تو اس سے پوچھا بھی نہ جائے گا کہ بتاؤ جس نے تمہاری رائے کے مطابق نماز نہ پڑھی اسے جنت میں بھیجا جائے یا نہیں ؟ فائدہ : جب قرآن مجید پڑھا جائے نماز کے اندر ہو یا نماز سے باہر اس کے بارے میں حاضرین کو حکم دیا کہ قرآن کو سنیں اور خاموش رہیں یہ قرآن کا ادب ہے جس طرح سامعین کو حکم ہے کہ قرآن سنیں اور کان دھریں اور خاموش رہیں اس طرح حضرات فقہاء کرام نے قرآن پڑھنے والے کو بھی ہدایت دی ہے کہ جہاں لوگ کام کاج اور کارو بار میں لگے ہوئے ہوں وہاں زور سے قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے یہ جو لوگوں نے طریقہ نکال رکھا ہے کہ ایسے مواقع میں کیسٹ یا ریڈیو کھول دیتے ہیں جہاں لوگ قرآن سننے کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتے یا شبینوں میں لاؤڈ سپیکر لگا کر محلوں میں بازاروں میں قرآن مجید کی آواز پہنچاتے ہیں اس میں قرآن مجید کی بےادبی ہے، جہاں لوگ سو رہے ہوں وہاں بھی زور سے تلاوت نہ کریں۔ آیت کے ختم پر جو (لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قرآن کے آداب بجا لائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اس سے بات کا دوسرا رخ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کی بےحرمتی اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کی گرفت کا سبب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

194: یہاں قرآن مجید پڑھنے، اسے غور سے سننے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اسی کو فوز و فلاح کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ قرآن میں اللہ نے توحید اور شرک کے تمام اقسام مثلاً شرک، فعلی اور شرک اعتقادی کو کھول کر بیان کردیا اور شریعت کے تمام اصول واضح فرما دئیے۔ حنفیہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے سری اور جہری نمازوں میں مقتدی کو قراءت کرنی جائز نہیں نہ سورة فاتحہ کی اور نہ کسی اور سورت کی۔ کیونکہ اس آیت میں قراءت قرآن کے وقت دو حکم دئیے گئے ہیں۔ اول “ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ” یعنی جب امام جہر سے قراءت کر رہا ہو۔ دوم “ وَ اَنْصِتُوْا ” یعنی خاموش رہو۔ یہ اس وقت ہے جب امام آہستہ قراءت کر رہا ہو۔ تفصیل کتب فقہ میں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

204 اور جب قرآن کریم پڑھا جایا کرے تو اس کو پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے۔ یعنی … قرآن کریم کے ادب اور اس کے معانی و مطالب پر غور کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جب اس کی تلاوت کی جائے تو خاموش رہو اور اس کو متوجہ ہوکر سنو جس سے امید ہے کہ تم پر خدا کی رحمت ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب کوئی قرآن کریم پڑھے تو اوروں پر واجب ہے کہ باتیں نہ کریں دھیان سے سنیں شاید دل میں ہدایت پڑے لیکن پڑھنے والا باتوں کی مجلس میں پڑھنے لگے پکار کر تو اس کی خطا ہے۔ 12 مدعا یہ ہے کہ قرآن کریم کا ادب تو یہی ہے کہ جب وہ پڑھا جائے تو لوگ خاموشی کے ساتھ اس کو سنیں لیکن پڑھنے والے کو بھی مجالس کی رعایت ملحوظ رکھنی چاہئے۔