Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 35

سورة الأعراف

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾

O children of Adam, if there come to you messengers from among you relating to you My verses, then whoever fears Allah and reforms - there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

اے اولاد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقوٰی اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَا بَنِي ادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ايَاتِي ... O Children of Adam! If there come to you Messengers from among you, reciting to you My Ayat, Allah then warned the Children of Adam that He sent to them Messengers who conveyed to them His Ayat. Allah also conveyed good news, as well as warning, ... فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ ... then whosoever has Taqwa and becomes righteous, by abandoning the prohibitions and performing acts of obedience, ... فَلَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 یہ ان اہل ایمان کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو تقوے ٰ اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے۔ قرآن نے ایمان کے ساتھ، اکثر جگہ، عمل صالح کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عند اللہ ایمان وہی معتبر ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] جنت کا دوبارہ حصول کیسے ممکن ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی آدم (علیہ السلام) و ابلیس اور جنت سے آدم کے نکلنے کا قصہ بیان فرمایا تو بنی آدم کی دلجوئی کے لیے بھی آیات نازل فرمائیں۔ ابلیس نے جنت میں آدم و حوا کو بےستر کیا تھا، تو لباس اور اس کے نعمت ہونے اور اچھا لباس پہننے کے لیے کئی آیات نازل فرمائیں۔ جنت میں آدم (علیہ السلام) و حوا جنت کے پھل بافراغت کھاتے تھے صرف ایک درخت کا کھانا حرام کیا تھا تو اس دنیا کے متعلق بھی فرمایا کہ ماسوائے چند حرام کردہ اشیاء کے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے مباح ہے لہذا حلال اور پاکیزہ اشیاء میں سے جو چاہو کھا سکتے ہو البتہ اسراف نہ کرنا۔ فرق یہ ہے کہ جنت میں بلا مشقت کھانے پینے کی چیزیں ملتی تھیں لیکن دنیا میں مشقت اور جستجو بھی کرنا ہوگی اور اسی مشقت اور جستجو ہی میں انسان کی آزمائش ہے۔ اس طرح تقدیر کا لکھا پورا ہو کے رہا۔ اب رہا قصہ اس جنت گم گشتہ کو پھر سے حاصل کرنے کا تو اس کے متعلق فرمایا کہ تمہارے پاس تمہاری رہنمائی کے لیے میرے رسول آتے رہیں گے جو تمہیں میری ہدایات اور میرے احکام بتلاتے رہیں گے۔ پھر جس شخص نے ان رسولوں کی پیروی کی، اللہ کی نافرمانیوں سے بچا رہا اور اپنی اصلاح کرلی تو اس کے لیے وہ جنت دوبارہ حاصل کرنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ نہ انہیں اپنے مسقتبل کے متعلق کوئی فکر دامن گیر ہوگی اور نہ انہیں دنیا میں گزاری ہوئی زندگی پر کچھ افسوس و ندامت ہوگی لیکن جن لوگوں نے رسولوں کو اور میرے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور شیطان کی طرح اکڑ بیٹھے تو ان کے دوبارہ جنت میں جانے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ مزید برآں اخروی زندگی میں ان کو ہمیشہ دوزخ میں جلنا اور دکھ کا عذاب سہنا ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر (ہم نے عالم ارواح ہی میں کہہ دیا تھا) اے اولاد آدم کی اگر تمہارے پاس پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے سو (ان کے آنے پر) جو شخص (تم میں ان آیات کی تکذیب سے) پرہیز رکھے اور (اعمال کی) درستی کرے (مراد یہ کہ کامل اتباع کرے) سو ان لوگوں پر (آخرت میں) نہ کچھ اندیشہ (کی بات واقع ہونے والی) ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ (تم میں سے) ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتادیں گے اور ان (کے قبول کرنے) سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (جب تکذیب کرنے والوں کا مستحق وعید شدید ہونا اجمالاً معلوم ہوگیا سو اب تفصیل سنو کہ) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے (یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی نہ ہو اس کو خدا کی کہی ہوئی کہے) یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلا دے (یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی ہو اس کو بےکہی بتلا دے) ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ (رزق اور عمر) ہے وہ تو ان کو (دنیا میں) مل جاوے گا (لیکن آخرت میں مصیبت ہی مصیبت ہے) یہاں تک کہ (برزخ میں مرنے کے وقت تو ان کی یہ حالت ہوگی کہ) جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آویں گے تو (ان سے) کہیں گے کہ (کہو) وہ کہاں گئے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (اب اس مصیبت میں کیوں نہیں کام آتے) وہ (کفار) کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے (یعنی واقعی کوئی کام نہ آیا) اور (اس وقت) اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے لگیں گے (لیکن اس وقت کا اقرار محض بےکار ہوگا، اور بعض آیات میں ایسے ہی سوال و جواب کا وقوع قیامت میں بھی مذکور ہے سو دونوں موقعوں پر ہونا ممکن ہے، اور قیامت میں ان کا یہ حال ہوگا کہ) اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جو فرقے (کفار کے) تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنّات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ (چنانچہ آگے پیچھے سب کفار اس میں داخل ہوں گے، اور یہ کیفیت واقع ہوگی کہ) جس وقت بھی کوئی جماعت (کفار کی) داخل (دوزخ) ہوگی اپنی جیسی دوسری جماعت کو بھی (جو انہی جیسی کافر ہوں گے اور ان سے پہلے دوزخ میں جا چکے ہوں گے) لعنت کرے گی (یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی، بلکہ بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور برا کہے گا) یہاں تک کہ جب اس (دوزخ) میں سب جمع ہوجاویں گے تو (اس وقت) پچھلے لوگ (جو بعد میں داخل ہوئے ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو کفر میں دوسروں کے تابع تھے) پہلے (داخل ہونے والے) لوگوں کی نسبت (یعنی ان لوگوں کی نسبت جو بوجہ رئیس و پیشوائے کفر ہونے کے دوزخ میں پہلے داخل ہوں گے یہ) کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا، سو ان کو دوزخ کا عذاب (ہم سے) دوگنا دیجئے، (اللہ تعالیٰ ) ارشاد فرمائیں گے کہ (ان کو دوگنا ہونے سے تم کو کون سی تسلی و راحت ہوجائے گی، بلکہ چونکہ تمہارا عذاب بھی ہمیشہ آناً فاناً بڑھتا جاوے گا، اس لئے تمہارا عذاب بھی ان کے دوگنے عذاب ہی جیسا ہوگیا، پس اس حساب سے) سب ہی کا (عذاب) دوگنا ہے، لیکن (ابھی) تم کو (پوری) خبر نہیں (کیونکہ ابھی تو عذاب کی ابتداء ہی ہے، اس تزاید کو دیکھا نہیں اس لئے ایسی باتیں بنا رہے ہو جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کے تضاعف عذاب کو اپنے لئے موجب شفاء غیظ و باعث تسلی سمجھ رہے ہو) اور پہلے (داخل ہونے والے) لوگ پچھلے (داخل ہونے والے) لوگوں سے (خدا تعالیٰ کے اس جواب سے مطلع ہوکر) کہیں گے (کہ جب سب کی سزا کی یہ حالت ہے تو) پھر تم کو ہم پر ( تخفیف عذاب کے بارے میں) کوئی فوقیت نہیں (کیوں کہ تخفیف نہ ہم کو نہ تم کو) سو تم بھی اپنے کردار (بد) کے مقابلے میں عذاب (متزاید) کا مزہ چکھتے رہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْـتَكْبَرُوْا عَنْہَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ ٠ ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٣٦ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( اسعاے ل ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) جس وقت تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر آئیں جو اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے منع کرنا تم سے بیان کریں، تو جو اس وقت کتاب الہی اور رسول پر ایمان لائے اور اطاعت ربانی کرے تو اسے عذاب کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:35) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔ جیسے اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا (18:86) خواہ ان کو عذاب دے خواہ ان سے حسن سلوک کر۔ آیۃ ہذا میں بمعنی اگر استعمال ہوا ہے ۔ نیز ملاحظہ ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات الا قرآن آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔ یاتینکم (تمہارے پاس آئیں) ۔ ینال (پہنچے گا۔ ملے گا) ۔ نصیب (حصہ) ۔ یتوفون (موت دیں گے۔ جان نکالیں گے) ۔ تدعون (تم پکارتے ہو) ۔ ضلواعنا (ہم سے غائب ہوگئے۔ گم ہوگئے) ۔ شیدوا (وہ گواہ بن گئے) ۔ امم (امتیں۔ جماعتیں) ۔ خلت (گزر گئی۔ (گزر گئیں) ۔ لعنت (لعنت کی۔ (لعنت کریں گے) ۔ اختھا (اپنے ساتھی کو) ۔ ادرکوا (مل جائیں گے) ۔ ضعف (دو گناہ ) ۔ فضل (بڑائی ) ۔ تکسبون (تم کماتے ہو ) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (35 تا 39 ) ۔” کفار اور مشرکین کو آگاہ کرنے کے لئے ان آیات میں چار بڑی حقیقتوں کو پیش کیا جا رہا ہے ان حقیقتوں کا تعلق اس دنیا کی زندگی سے بھی ہے اور اس کے بعد آنے والی آخرت کی زندگی سے بھی ہے۔ 1) اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی روحوں سے یہ وعدہ لے لیا تھا کہ تمہارا رب اللہ اور صرف اللہ ہے۔ وہی ذات ہے جو ہر طرح واجب الاطاعت ہے۔ تمام روحوں نے اللہ کی اسی ربوبیت کو تسلیم کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ” جی ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں “ اس عہد اور وعدہ کو ” عہد الست “ کہا جاتا ہے۔ اسی وعدہ کی یاد دھانی کے لئے اللہ نے ہر دور اور ہر علاقے میں اپنے پاک بازبندوں کو نبی اور رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ انسانی روحوں کے اس وعدے کو یاد دلادیں۔ چناچہ جن لوگوں نے اپنی روحانی کیفیات کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا انہوں نے نبیوں اور رسولوں کی تعلیم کو قبول کرلیا اور جو لوگ دنیا کی غفلت اور دنیا کی طلب میں دھنسے رہے انہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو مذاق محسوس کیا اور صاف انکار کردیا۔۔۔۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب دنیا بھیجے گئے تو سب سے پہلے انہوں نے اس پیغام الہٰی اور شریعت الہٰی کو اپنی اولاد کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اسی کا وعدہ تمہاری فطرت میں رکھ دیا گیا ہے اس کے بعد اللہ کے نبی اور رسول (علیہ السلام) تشرف لاتے رہے اور انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو اس روحانی وعدے اور کفر و شرک سے توبہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ نے سارے نبیوں اور رسولوں کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا آخری نبی اور رسول بنا کر ایک ایسی شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک جاری وساری رہے گی۔ آپ کے بعد اب رسالت و نبوت کا دروازہ کچھ اس طرح بند کردیا گیا ہے کہ آپ کے بعد ہر وہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ وہ اور اس کے ماننے والے بھی اللہ کی ابدی لعنت کے مستحق ہیں۔ اب نہ تو کوئی ظلی، بروزی نہیں ہوگا۔ ، نہ کوئی وحی کا سلسلہ ہوگا۔ اور آپ کی امت کے بعد نہ کوئی اور امت ہوگی یہی نبوت، کتاب اور یہی امت قیامت تک رہے گی۔ 2) جب کفار اور مشرکین کے مرنے کا وقت آئے گا تو اس وقت موت کے فرشتے ان سے پوچھیں گے بتائو وہ بت اور وہ ہستیاں آج کہاں ہیں جب پر تمہیں بڑا بھروسہ تھا اور تم نے انہیں اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ اس وقت اللہ کے عذاب سے بچانے کے لئے کیوں نہیں آئے ؟ ۔ کفار اور مشرکین بڑی حسرت سے کہیں گے کہ وہ معبود تو آج موجود نہیں ہیں وہ ہم سے نجانے کہاں گم ہو کر وہ گئے ہیں۔ انہیں آج اس بات کا پوری طرح احساس ہوگا۔ کہ واقعی وہ شدید غلطی پر تھے اور وہ جن کو اپنا معبود ، کارساز اور مشکل کشامانتے رہے تھے وہ آج ان سے گم ہوچکے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے کفر پر خود ہی گواہ بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ ان سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے اور اس طرح یہ کفار اور مشرکین اپنے برے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ 3) جب ایک نسل کے لوگ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے تو وہ چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ہم تو اپنے باپ دادا اور بزرگوں کے اندھے مقلد بنے رہے۔ ہم نے بت پرستی اور شرک کے کام ان سے سیکھے جو ہم سے پہلے تھے وہ اپنے گناہوں کا ذمہ دار اپنی پچھلی نسل اور اسکے بڑوں کو قرار دیں گے اور وہ اللہ سے درخواست کریں گے کہ اے اللہ بیشک ہم مجرم ہیں مگر ہمارے جرم اور گناہوں کا سبب یہ تھا کہ ہم سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے راستے پر چلایا۔ بیشک ہم مجرم ہیں لیکن وہ ہم سے بڑے مجرم ہیں جو ہزاروں تجربات اور علم کے باوجود ہمیں گمراہی اور کفر و شرک سے نہ بچا سکے۔ ایسے لوگوں کو دو گنا عذاب دیا جائے۔ پہلے والی نسل کے لوگ جواب میں فریاد کریں گے کہ اگر ہم نے تمہیں غلط راستے پر لگایا تھا تو تم کیوں لگ گئے۔ تم نے اپنی عقل کو استعمال کیوں نہ کیا۔ تمہارے زمانہ میں جو نبی تھا یا اس کی تعلیمات تھیں تم نے اس سے راہ ہدایت کیوں حاصل نہ کی۔ تم ہمارے بہکانے سے کیوں بہک گئے۔ ہم نے اگر تمہین بہکایا تو تم نے بھی تو اپنے سے بعد آنے والی نسلوں کو بہکانے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے کہ تم دونوں ہی اس جرم میں برابر کے شریک ہو۔ ۔۔ ۔ تم دونوں کو یکساں عذاب دیا جائے گا۔ 4) اس سلسلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو ارشادات نقل کئے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر وہ قتل جو ” قتل ناحق “ ہے اس کی جنتی سزا قاتل کیلئے ہے اس کا اتنا ہی گناہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے قابیل کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ جس نے قتل انسانی کی بنیاد رکھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس سے کوئی گمراہ ہوگیا یا کوئی نسل گمراہ ہوگئی تو اس شخص پر جس نے ابتدا کی ہے اس پر اس گناہ کی پوری ذمہ داری ہے بعد میں آنے والے جو لوگ بھی اس راستے پر چلیں گے وہ بھی گناہ گارہوں گے اور جس نے اس کی ابتدا کی ہے اس کے نامہ اعمال میں بھی وہ گناہ لکھ دیا جائے گا اس کے برخلاف اگر کسی نے کوئی نیکی کا کام کیا اور بعد میں آنے والے لوگ اس کے بہتر اور نیک راستے پر چلے تو جتنا ثواب کرنے والے کو ملے گا اتناہی ثواب اس کے ابتداء کرنے والے کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا جیسے کسی نے کوئی مسجد تعمیر کی یا کوئی ایسی عمارت بنائی جس سے لوگ فائدہ حاصل کریں تو یہ چیزیں صدقہ جاریہ ہوجائیں گی اس سے معلوم ہوا کہ انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ اس بات پر ضرورغور کرلے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس سے کوئی ایسی خطا سر زد ہو رہی ہو جس سے دوسروں کے صراط مستقیم سے بھٹکنے کا اندیشہ ہو۔ مثال کے طور پر رشوت کو لیجئے۔ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ کسی کا حق مارا گیا، ظلم ہور، بےانصافی ہوئی، بری راہ قائم ہوئی۔۔۔۔ ۔ یہ جرم یہیں تک نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بہت دور تک پہنچتے ہیں مثلاً یہ گناہ افراد سے بڑھ کر معشرے میں، ملکی اقتصادیات اور انتظامات کے ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ لوگوں نے رشوت لینا دینا سیکھا۔ انصاف اور حق کا سوال ختم ہوا۔ اب بےایمانی فراث۔ غبن، ظلم، حرام خوری وغیرہ کے شخصی اور قومی دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ بد انتظامی شروع ہو جاے گی اور ان سب کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ کر رہیں گے۔ جس سے بد انتظامی پھیلتی چلی جائے گی اور آنے والی نسلوں کو یہ میراث کے طور پر ملے گی۔ اب فرض کیجئے ایک شخص نے رشوت کے اس دروازے کو کھولا تو اس کے اثرات ملک گیر بلکہ عالم گیر سطح تک پہنچ جائیں گے کیا سللہ کا انصاف اسکو چھوڑ دے گا۔ جس نسل نے تبلیغ و تنظیم اور جہاد سے منہ پھیرلیا اور حکومت کے انتظامات بےایمانوں، چوروں ، ڈاکوؤں اور راشیوں کے حوالے کر دئیے گئے کیا وہ نسل غلط باتوں کو اختیار کرنے کے جرم میں اللہ کے ہاں پکڑی نہ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ہر اٹھا ہوا قدم اس کائنات میں اپنے اثرات مرتب کرتا چلا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

10۔ اوپر عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع وموافقت سے ممانعت فرمائی گئی تھی اب یہ بتلاتے ہیں کہ اس مضمون کا خطاب تم کو جدید نہیں بلکہ عالم ارواح میں یہ عہد لے لیا گیا تھا اور وہ وعدہ وعید سنا دیا گیا تھا اب اسی کا عادہ ہے اور اس میں مسئلہ رسالت اور معاد کا اثبات بھی ہوگیا جو کہ اعظم مقاصد سورت ہذا سے ہے۔ 1۔ مراد یہ کہ کامل اتباع کرے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم کی اجتماعی تباہی کا اشارہ دینے کے بعد بنی آدم کو اجتماعی خطاب اور نصیحت کرتے ہوئے نیک وبد کا انجام بیان کیا ہے یہی قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ انتباہ اور نصیحت کو برابر چلاتے ہوئے لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرتا ہے تاکہ سننے والا ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ کو زمین پر اترنے کا حکم صادر فرمایا تو اس وقت نصیحت فرمائی کہ تم سب کے سب زمین پر اتر جاؤ۔ بس جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرو اور جو اس ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں کوئی خوف وخطر اور رنج وملال نہیں ہوگا۔ جنہوں نے انکار کیا اور جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں قوموں کے زوال اور ان کے فنا کا ذکر ہوا ہے لہٰذا انہیں اجتماعی طور پر مخاطب کرتے ہوئے بنی آدم کے الفاظ استعمال کرکے وہ نصیحت یاد دلائی گئی ہے جو بنی نوع انسان کے جد اعلیٰ کو زمین پر اترنے کے وقت دی گئی تھی چناچہ ارشاد ہوا کہ اے بنی آدم جب میرے رسول تمہارے سامنے میرے احکام بیان کریں تو میری نافرمانی سے بچ کر تمہیں اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ جس کا دوسرا مفہوم یہ ہے میں نے اول روز کے فرمان کو اس طرح پورا کردیا ہے کہ تمہارے پاس میرے رسول میرے احکام لے کر پہنچ چکے ہیں جن میں آخری رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرکے اپنی اصلاح کریں گے انہیں کوئی خوف وغم نہیں ہوگا اور جنہوں نے میرے احکام کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا انہیں آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحر یم الکبر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا بلاشبہ بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اس لیے نازل فرمائے ہیں کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کریں۔ ٢۔ اصلاح کرنے والوں کو قیامت کے دن کوئی خوف وخطر اور رنج وغم نہیں ہوگا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے ساتھ تکبر کرنے والے ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن متکبرین : ١۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : ٧٤) ٢۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : ٣٩) ٣۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : ٣٥) ٤۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : ٢٣) ٥۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المؤمن : ٧٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٧٥ تشریح آیات : ٣٥۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٥٣۔ قصہ تخلیق انسانیت پر تبصرہ کرنے کے لئے یہ ایک طویل وقفہ تھا ۔ اس تبصرے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت انسانیت کس قسم کی جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس کے مقابلے میں عرب جاہلیت کس مقام پر ہے ۔ جاہلیت کا موازنہ چند اساسی مسائل کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ یعنی جسم کی ستر پوشی اور روح کی ستر پوشی لباس تقوی کے ساتھ ۔ جسم وروح کی سترپوشی کا تعلق اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقیدے ‘ عقیدہ توحید وشرک کے ساتھ ہے جو اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عقیدہ ہے ۔ اب یہاں سے انسانیت کے نام ایک دوسری پکار شروع ہوتی ہے ۔ اس ندا اور پکار کا تعلق مسئلہ لباس کے ساتھ بھی ہے اور انسانوں کے لئے زندگی کے تمام معاملات میں ہدایات لینے اور ان کا اتباع کرنے کے معاملے سے بھی ہے ۔ قانون سازی کے مسئلے سے بھی ہے اور دنیا میں اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے مسئلے سے بھی ہے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح از سر نو یہ بات معلوم ہوجائے کہ انہوں نے ان موضوعات پر ہدایات لینے کا قوام رسالت کا قوام ہے۔ اور زندگی کے موجودہ مرحلے کے اختتام پر قیامت کے دن حساب و کتاب اسی نقطہ نظر سے ہوگا کہ کس نے رسولوں سے ہدایات لے کر ان کی پیروی کی اور کس نے ان کی نافرمانی کی ؟ آیت ” نمبر ٣٥ تا ٣٦۔ اللہ کی جانب سے بنی آدم کو آغاز تخلیق ہی میں یہ صاف ہدایت تھی اور یہ اس کرہ ارض پر بنی آدم کے اقتدار اور خلافت کے لئے لازمی شرط بھی تھی ‘ کیونکہ یہ زمین اللہ نے پیدا کی ہے ۔ اس میں انسانوں کی زندگی کی ضروریات اس نے پیدا کی ہیں اور اس کے اوپر اقتدار واختیار اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے تاکہ انسان یہاں مناسب رول ادا کرسکے ‘ ورنہ انسان کا ہر قسم کا عمل مردود ہوگا اور اسے کوئی مسلمان قبول نہ کرے گا ۔ آخرت میں بھی وہ گناہ ہوگا اور موجب جہنم ہوگا اور کوئی بدلہ اس عذاب سے چھڑا نہ سکے گا ۔ آیت ” فَمَنِ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ (35) ” تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرلے گا اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ “ اس لئے کہ تقوی ہی انہیں گناہوں اور فواحش سے دور رکھ سکتا ہے ۔ سب سے بڑی فحاشی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب ہے ‘ پھر اللہ کے اقتدار اعلی کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے اور خدائی خصوصیات کا دعوی کرنا ہے ۔ تقوی ہی انسان کو خدا کی اطاعت اور نیک کاموں پر آمادہ کرتا ہے اور خوف سے نجات دے کر درالامان میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے حصول رضائے الہی ممکن ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی آدم کو خطاب کہ رسولوں کا اتباع کرنا : اس کے بعد پھر بھی آدم سے خطاب فرمایا اور مومنین اور کافرین کے انجام سے باخبر فرمایا، ارشاد ہے۔ (یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ) اے آدم کی اولاد ! اگر تمہارے سامنے میرے رسول آئیں جو تمہارے سامنے میری آیات بیان کریں یعنی میرے فرائض اور احکام بتائیں (کما فسرہ ابن عباس) تو جن لوگوں کے پاس میرے رسول آئے اور انہوں نے ان کی بات مانی اور شرک اور کفر سے بچے اور اپنے اعمال کو درست کیا تو (آخرت) میں ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ بھی نہ ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

36: اس سے قبل “ قُلْنَا ” محذوف ہے یہ قاعدہ ہے کہ جب بھی کسی گذشتہ واقعہ کو لفظ مضارع سے تعبیر کیا جائے تو وہاں “ قلنا ” محذوف ہوتا ہے تاکہ خلاف مراد کا وہم نہ ہو۔ اس طرح یہ آیت “ قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ ” کے ساتھ متعلق ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ قصہ آدم کے بعد ہم نے اسی وقت اولاد آدم کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تمہارے پاس میرے رسول آئیں گے چناچہ اللہ کے رسول آئے یہاں تک کہ حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس لیے اس خطاب کو موجودہ بنی آدم پر چسپاں کر کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سلسلہ رسالت کے جریان پر استدلال کرنا قطعاً غلط اور قرآن کی تحریف کے مرادف ہے سورة بقرہ ع 4 کی آیت اس پر شاہد عدل ہے جس میں ہبوط کے حکم کے متصل بعد فرمایا کہ تمہارے پاس میری ہدایت کا پیغام لے کر میرے انبیاء آئیں گے۔ چناچہ ارشاد ہے۔ “ قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا، فَاِمَّا یَاتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًي الخ ”۔ 37:“ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ای من جنسکم و مثلکم من بنی اٰدم ”(خازن ج 2 ص 186) یعنی رسول تمہاری جنس (بنی آدم) ہی سے آئیں گے کسی دوسری جنس سے نہیں آئیں گے۔ “ فَمَنِ اتَّقیٰ الشرک ومخالفۃ رسلی ”(خازن) یہ بشارت اخروی ہے۔ “ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا الخ ” یہ تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد جب تمہارے پاس میرے پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں گے یعنی بشر ہوں گے فرشتے نہ ہوں گے اور جو تم کو میرے احکام بتائیں اور میری آیات سنائیں سو جو شخص اس وقت ان کی تکذیب اور ان کے جھٹلانے سے پرہیز کرے گا اور نیک اعمال سے اپنی اصلاح کرلے گا تو ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے یعنی یہ خطاب اولاد آدم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ جب ایسا ہو کہ میرے رسول تمہارے پاس آئیں اور وہ تم کو میرے احکام سنائیں اور وہ رسول بھی تم ہی میں سے ہوں تو جوان کا کہا مانے گا اور ان کی تکذیب نہیں کرے گا اور اپنی اصلاح اور درستی کرلے گا تو وہ پھر اپنے باپ کی میراث جنت کو حاصل کرلے گا چناچہ یہ ارسالِ رسل کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک حسب وعدہ جاری رہا۔ یہ خطاب یا تو عالم ارواح میں کیا گیا جیسا کہ بعض نے کہا اور یا یہ خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر اتر آنے کے بعد کیا گیا ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے۔