Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 38

سورة الأعراف

قَالَ ادۡخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ فِی النَّارِ ؕ کُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّۃٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَکُوۡا فِیۡہَا جَمِیۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰىہُمۡ لِاُوۡلٰىہُمۡ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِہِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ۬ ؕ قَالَ لِکُلٍّ ضِعۡفٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾

[ Allah ] will say, "Enter among nations which had passed on before you of jinn and mankind into the Fire." Every time a nation enters, it will curse its sister until, when they have all overtaken one another therein, the last of them will say about the first of them "Our Lord, these had misled us, so give them a double punishment of the Fire. He will say, "For each is double, but you do not know."

اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دوگنا دے ۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے لیکن تم کو خبر نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

People of the Fire will dispute and curse Each Other Allah mentioned what He will say to those who associate others with Him, invent lies about Him, and reject His Ayat, قَالَ ادْخُلُواْ فِي أُمَمٍ ... (Allah) will say: Enter you in the company of nations, who are your likes and similar to you in conduct, ... قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم ... Who passed away before you, from the earlier disbelieving nations, ... مِّن الْجِنِّ وَالاِنسِ فِي النَّارِ ... Of men and Jinn, into the Fire. Allah said next, ... كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ... Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before), Al-Khalil (Prophet Ibrahim), peace be upon him, said, ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ "But on the Day of Resurrection, you shall deny each other. (29:25) Also, Allah said, إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الاٌّسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَـلَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَـرِجِينَ مِنَ النَّارِ When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return (to the worldly life), we would declare ourselves as innocent from them as they have declared themselves as innocent from us." Thus Allah will show them their deeds as regrets for them. And they will never get out of the Fire. (2:166-167) Allah's statement, ... حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعًا ... until they are all together in the Fire, means, they are all gathered in the Fire, ... قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاُولاَهُمْ ... The last of them will say to the first of them, that is, the nation of followers that enter last will say this to the first nations to enter. This is because the earlier nations were worse criminals than those who followed them, and this is why they entered the Fire first. For this reason, their followers will complain against them to Allah, because they were the ones who misguided them from the correct path, saying, ... رَبَّنَا هَـوُلاء أَضَلُّونَا فَأتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ... "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." multiply their share of the torment. Allah said in another instance, يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ يَقُولُونَ يلَيْتَنَأ أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولاَ وَقَالُواْ رَبَّنَأ إِنَّأ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلْ رَبَّنَأ ءَاتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ On the Day when their faces will be turned over in the Fire, they will say: "Oh! Would that we had obeyed Allah and obeyed the Messenger." And they will say: "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the (right) way. Our Lord! Give them a double torment." (33:66-68) Allah said in reply, ... قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ He will say: "For each one there is double (torment) but you know not." We did what you asked, and recompensed each according to their deeds.' Allah said in another Ayah, الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment. (16:88) Furthermore, Allah said, وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own. (29:13) and, وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ And also (some thing) of the burdens of those whom they misled without knowledge. (16:25)

کفار کی گردنوں میں طوق اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے ، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے ، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ ۔ ( فی النار یاتو فی امم ) کا بدل ہے یا ( فی امم ) میں ( فی ) معنی میں ( مع ) کے ہے ۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے اور آیت میں ہے ( اذ تبرا ) یعنی وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے ، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے ۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ آج ہم سے بیزار ہو گئے ہیں ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کیلئے سر تا سر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے ۔ یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا کہیں گے کہ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر چنانچہ اور آیت میں ہے ( يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَ66 ) 33- الأحزاب ) جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے ۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول کے مطیع ہوتے ۔ یا اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا ۔ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر ۔ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کیلئے دگنا ہے ۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن88 ) 16- النحل ) جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا ان کا ہم عذاب اور زیادہ کریں گے اور آیت میں ہے آیت ( وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ13 ) 29- العنكبوت ) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور آیت میں ہے ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا ۔ اب وہ جن کی مانی جاتی رہی اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ اور آیت میں ہے ولو تری اذالظالمون موقوفون عندربھم کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے ۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے ۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار بد کردار تھے ۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے ( کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں ) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا ۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے ۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا نہ کم نہ زیادہ ( پورا پورا )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک و تکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت " بہن " کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ 38۔ 2 اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہونگے۔ 38۔ 3 اخری (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولی (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا اخری سے مراد اتباع پیروکار اور اولی سے متبوع لیڈر اور سردار مراد ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے پیرو کاروں سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ 38۔ 4 جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یا اللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر۔ 38۔ 5 یعنی ایک دوسرے کو طعنے دینے، کو سنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ ان کا یہ مکالمہ سورة سبا۔ 31، 23 میں بیان کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] یہاں پہلی اور پچھلی جماعت سے مراد ایک ہی جنس کے اسلاف اور اخلاف ہیں مثلاً یہود یا نصارٰی یا مشرکین یا مسلمانوں میں سے ایک فریق گمراہ کرنے والا اور دوسرا فریق گمراہ ہونے والا۔ گمراہ ہونے والے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے یا اللہ ہمارے ان اسلاف کو دوگنا عذاب کر۔ اس لیے کہ وہ خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے اور گمراہ کرنے والے اپنے اخلاف سے کہیں گے کہ ملعونو ! اگر ہم گڑھے میں گرگئے تھے تو کیا تم اندھے ہوگئے تھے جو اسی گڑھے میں تم بھی گرگئے۔ آخر تمہارا جرم کس لحاظ سے کم ہے ؟ گویا دونوں اپنے گناہ اور بدبختی ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ [٣٩] مکافات عمل کے تقاضے :۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب کے لیے دگنا عذاب ہے اس لیے کہ مکافات عمل کا یہی تقاضا ہے۔ ایک شخص مثلاً زید ایک شرکیہ رسم ایجاد کرتا ہے اب اس کا بیٹا، پھر پوتا، پھر پڑپوتا اور اسی طرح اگلی نسلیں اس شرکیہ رسم کو ادا کرتی چلی جاتی ہیں تو زید کو یہی نہیں کہ صرف اپنے شرکیہ رسم ایجاد کرنے کی سزا ملے گی۔ بلکہ بعد میں آنے والے جتنے لوگ اس شرکیہ رسم کو بجا لائیں گے تو زید کو بھی ان کے گناہ سے حصہ رسدی پہنچے گا اور اس کے اعمال نامے میں درج ہوتا رہے گا۔ زید کے بیٹے اور اس سے آگے پوتوں پڑپوتوں کا جرم صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے باپ کی شرکیہ رسم کیوں بجا لاتے رہے۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بلاتحقیق اور اللہ کے فرمانبرداروں کے سمجھانے کے باوجود اپنے آباو اجداد کی تقلید کیوں کی جبکہ تقلید آباء بذات خود گناہ کبیرہ اور شرک کے مترادف ہے۔ پھر زید کے بیٹے اور ان سے آگے چلنے والی نسلوں کے لوگوں کو صرف اپنے ہی جرم کی سزا نہیں ملے گی بلکہ ان کے بعد ایسا عمل کرنے والوں کے گناہ میں سے بھی حصہ پہنچتا رہے گا اس لحاظ سے کسی بھی شرکیہ یا بدعیہ رسم کا موجد اور اس کے مقلدین اپنے جرم کی سزا کے علاوہ کئی گنا زیادہ سزا کے مستوجب بن جاتے ہیں۔ مکافات عمل (یعنی کسی عمل کا پورا پورا بدلہ دئیے جانے) کی اس بنیاد کو قرآن کریم میں متعدد بار دہرایا گیا ہے۔ مثلاً جہاں آدم کے قاتل بیٹے کا قصہ بیان کیا تو فرمایا && اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا کہ جس کسی نے کسی کو ناحق قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا && (٥ : ٣٢) اور رسول اللہ نے فرمایا کہ && جہاں بھی کوئی ناحق قتل ہوتا ہے تو اس قتل کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے اس بیٹے کے کھاتے میں بھی ڈالا جاتا ہے جس نے یہ طرح ڈالی && نیز اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا۔ && کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے عذاب پر مزید عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔ && (١٦ : ٨٨) نیز فرمایا کہ && وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے علاوہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی && (٢٩ : ١٣) اور ایک مقام پر فرمایا && وہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بغیر علم کے گمراہ کیا تھا && (١٦ : ٢٥) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا && جس نے کسی اچھے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کے ثواب سے اس طرح ڈالنے والے کو بھی ملتا رہے گا اور جس نے کسی برے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کی سزا میں سے حصہ رسدی اسے بھی ملتا رہے گا (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ) مکافات عمل کے لئے یوم آخرت ضروری ہے :۔ مکافات عمل کے اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد طویل بلکہ لامحدود مدت کی زندگی حاصل ہوتا کہ وہ اپنے کیے کی پوری پوری جزاء و سزا پا سکے مثلاً دیکھئے ایک شخص پچاس آدمیوں کو ناحق قتل کرتا ہے تو ایک شخص کے قتل کے عوض تو قصاص کے طور پر اس کی جان لی جاسکتی ہے یا برطانوی قانون کے مطابق اسے ١٤ سال یا ٢١ سال یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ باقی ٤٩ آدمیوں کے قتل کی سزا وہ یہاں کیسے بھگت سکتا ہے یا مثلاً ایک شخص جنگ کا فتنہ برپا کرنے کا سبب بنتا ہے جس میں لاکھوں انسان ناحق مرجاتے ہیں تو اس کے اس جرم کی سزا اسے اس دنیا میں کیسے دی جاسکتی ہے ؟ جبکہ اس کی عمر کی مدت محدود ہے اور سزا کے لیے لامحدود مدت درکار ہے۔ لہذا مکافات عمل کا اور عدل کا تقاضا یہی ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو لامحدود زندگی حاصل ہوتا کہ اسے اس کے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جاسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ ۔۔ : اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ پہلے ہوں گے، کچھ بعد میں جائیں گے۔ (رازی) كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ: ” اُخْتٌ“ کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہوگی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اللہ والے دوسرے مشرکین اور غیر اللہ کو پکارنے والوں پر۔ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ ” ادَّارَكُوْا “ اصل میں ” تَدَارَکُوْا “ ہے، یعنی ایک دوسرے کو آ ملیں گے۔ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ : یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں، یا پیروی کرنے والے عوام اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے بارے میں کہیں گے۔ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا ۔۔ : یعنی ہم تو اپنے ان پہلوں کی تقلید میں یا انھی کی باتوں میں آ کر ایمان کے بجائے شرک و بدعت اور منکرات کی راہ پر چلتے رہے، ہمیں گمراہ کرنے والے یہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة احزاب (٦٧، ٦٨) ۔ لِكُلٍّ ضِعْفٌ : ہر ایک کے لیے ایک عذاب کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اگر خود گمراہ ہوئے تو پچھلوں نے ان کا کہا مانا اور خود غور و فکر نہ کیا، لہٰذا دونوں مجرم ہوئے۔ اور دگنا عذاب ہونے کی وجہ یہ کہ پہلوں نے انھیں گمراہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کیا، لہٰذا دونوں دگنے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔ رازی نے لکھا ہے کہ جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا اور ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہوجائے گا، اس اعتبار سے ہر ایک کے لیے ” ضعف “ ” دو گنا “ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (٨٨) ۔ دونوں گروہوں کا ایسا ہی مکالمہ سورة سبا (٣١، ٣٢) میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَتْ اُوْلٰىہُمْ لِاُخْرٰىہُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۝ ٣٩ ۧ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جو فرقے جنات اور انسانوں میں سے گزر گئے تم بھی ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ جو جماعت دوزخ میں داخل ہوگی، اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے پہلے داخل ہوچکی ہے، لعنت بھیجے گی ، جس وقت سب جماعتیں دوزخ میں جائیں گی تو پچھلی جماعت پہلی جماعت والوں کی نسبت کہے گی ان سرداروں نے ہمیں آپ کی اطاعت اور آپ کے دین سے گمراہ کیا، ان کو ہم سے دوہرا عذاب دیجیے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ہر ایک فرقے کو دوہرے عذاب ہے مگر تم اپنے عذاب کی شدت کا سبب نہیں سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط) یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا جائے گا اور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل ‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ٰہذا القیاس۔ اب وہاں ان میں مکالمہ ہوگا۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے ‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں ‘ ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لوگ اپنے پہلے والوں پر لعنت کریں گے اور کہیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہی ہم گمراہ ہوئے ‘ لہٰذا تم لوگوں کو تو دو گنا عذاب ملنا چاہیے۔ اس طریقے سے وہ آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور جھگڑیں گے۔ (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا ط ) (حَتّٰیٓ اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْہَا جَمِیْعًالا قالَتْ اُخْرٰٹہُمْ لِاُوْلٰٹہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا دنیا میں تو یہ لوگ اپنی نسلوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہمارے آباء و اَجداد تھے ‘ ہمارے قابل احترام اسلاف تھے۔ یہ طور طریقے انہی کی ریتیں ہیں ‘ انہی کی روایتیں ہیں اور ان کی ان روایتوں کو ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ لیکن وہاں جہنم میں اپنے انہیں آباء واجداد کے بارے میں وہ علی الاعلان کہہ دیں گے کہ اے اللہ ! یہی ہیں وہ بد بخت جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ (فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ط) (قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَعْلَمُوْنَ ) جیسے یہ لوگ تمہیں گمراہ کر کے آئے تھے ویسے ہی تم بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کر کے آئے ہو اور یہ سلسلہ دنیا میں اسی طرح چلتا رہا۔ یہ تو ہر ایک کو اس وقت چاہیے تھا کہ اپنی عقل سے کام لیتا۔ میں نے تم سب کو عقل دی تھی ‘ دیکھنے اور سننے کی صلاحیتیں دی تھیں ‘ نیکی اور بدی کا شعور دیا تھا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر برے بھلے کا خود تجزیہ کرتے اور اپنے آباء و اَجداد اور لیڈروں کی اندھی تقلید نہ کرتے۔ لہٰذا تم میں سے ہر شخص اپنی تباہی و بربادی کا خود ذمہ دار ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30. As it is, each group of people is followed, even as it is preceded, by others. A group which inherits an error of outlook and conduct from its predecessors passes on the same, in turn, to future generations. In addition, whereas a group owes its wrong-doing partly to the wrong-doing of its predecessors, it will also be held responsible for leaving behind an evil legacy for the future generations. The Qur'an, therefore, pronounces a double punishment on such a group: it will incur punishment for its own misdeeds and also for leaving behind such a legacy for the coming generations. A number of traditions elucidate this point. According to one such tradition the Prophet (peace be on him) said: 'He who introduces a misleading innovation which does not please God and His Messenger shall be held guilty for the sins of all those who follow that innovation without lessening in the least the burden [of sins] of those who followed the innovation,' (Cf. Ibn Majah, Muqaddimat Bab Man Ahya Sunnah qad umitat, where the words are slightly different - Ed.) According to another tradition, he said: 'The responsibility for all the murders committed in the world is shared by the first son of Adam [i.e. Cain] for he was the first to have innovated murder.' (See Bukhari, Kitab al-Jana'iz, Bab Qawlih 'alay al-Salam Yu'addhab al-Mayyit bi Ba'd Buka'i ahlih 'alayh - Ed.) We thus know that the individual or group responsible for introducing a wrong idea or practice is not only responsible to the extent of those sins, but shares the responsibility of the sins of all those who are influenced by him. As long as the evil effects of that influence continue, their sins will be continually added to his account. This also shows that a person is not only accountable for the good or bad deeds that he commits. In fact he is also accountable for the influence of those deeds on others. This may be illustrated by considering the case of someone who indulges in unlawful sex. All those whose bad examples, evil company, and inducements to evil caused a man to indulge in such an act have a share in the sin that he committed. The persons who influenced him in turn had been influenced by others. Were this chain of influence traced back to its ultimate origin, the blame would be fixed on the first person who demonstrated this unlawful way for satiating the sexual urge. This does not detract from the fact that anyone who indulged in fornication is also accountable for the sin he committed. This is so because when he committed a sin he did so because he failed to make proper use of his capacity to distinguish between good and evil with which he had been endowed. He also did not pay due heed to the voice of his conscience, and mobilize the power of self-control given him. Nor did he benefit from the knowledge of good and evil transmitted to him by pious men nor was he inspired by the noble examples of the God-fearing. Nor did he learn any lesson from the evil consequences of sexual misconduct. Instead, he totally succumbed to blind sexual lust which sought gratification at all cost. This much relates to the responsibility of the person who indulged in sexual misconduct. But there is another dimension of that person's evil conduct - his propagation of that same evil among others which ruined the lives of countless people belonging to his own generation and to the generations that follow. It is also possible that he might have been afflicted by some general disease which he then communicated to his own generation and also to the generations that followed. His sexual misconduct might also have given birth to illegitimate children, unjustly passing on the burden of their upbringing to others, and making his offspring - without any justification - co-sharers in the fortunes and even the inheritance of others. The wrong that is thus perpetrated persists for many generations. Likewise, it is also possible that the said criminal might, by his cunning, have led an innocent girl to sexually corrupt behaviour. That in turn is likely to awaken evil propensities in her which wreck the lives and homes of countless families, even generations. Also, by setting an evil example for his children, relatives, friends and the society at large a fornicator is likely to cast a bad influence on people around him and infect others with moral corruption. The evil consequences of such an act thus linger on for a long time. The moral corruption that ultimately, engulfs the society owes its origin to the person who initially introduced an evil. Justice, therefore, demands that such a culprit should also be held responsible for the subsequent evils which may be traced back to his initial act of corruption. The same holds true for good deeds. The reward for the heritage of goodness left behind by our predecessors from the earliest times should inevitably go to the credit of those men of the past who have continually transmitted that heritage to posterity down to our own time. If our own generation takes good care of that heritage, enriches it and passes it on to the coming generation, it also deserves due reward for that. As long as our good acts leave a trace of good influence on history and continue to cast a good influence on people, mankind will reap the benefits of those acts. This is the Qur'anic view of retribution. Every sensible person will agree that such a dispensation alone can ensure perfect justice. Appreciation of this concept should dispel the idea of those who believe that men can be fully rewarded or punished for their deeds within the confines of this worldly life. Likewise, such an appreciation should also dispel the views of those who believe that the transmigration of souls alone can ensure full justice to all men. Such people have blundered because they have neither grasped fully the nature and consequences of human acts nor the nature and requirements of perfect justice. It is obvious that the consequences of individuals' acts are not visible during their life-span - say sixty or seventy years or so. Instead, human activities, both good and evil, influence the lives of countless people belonging to countless generations. One cannot, therefore, be brought to justice during one's own lifetime, since only a small part of the consequences of those acts have yet come to the surface. Moreover, the limited possibilities available in the present world are quite inadequate for bringing people to justice. Just consider the hideous crime of someone who pushes us to a world war. As things stand, the catastrophic consequences of such a crime would affect the lives of billions of men through the ages. Is there any punishment - physical, spiritual or material - which can be deemed even remotely, proportionate to that crime? Likewise, no worldly reward, however valuable, can adequately recompense for the noble services rendered by a philanthropist which will benefit numerous people for thousands of years. Having viewed the question from this angle. one readily, concludes that there must necessarily be life in the Hereafter such that full justice can be meted out to everyone. Here all human beings are brought together, their full records are made available, and the reckoning is made by God Himself Whose knowledge embraces literally everything. Additionally, men should be granted unlimited spans of life, and infinite possibilities should be made available for receiving compensation. A little reflection on this will help us see how false the doctrine of the transmigration of souls is. Those who subscribe to this doctrine fail to realize that eternal life is needed to mete out recompense to people for the deeds they commit during their relatively brief spans of life. If one were to believe in the unending cycle of life and death it would become impossible to reward or punish anyone for his actions, for each span of life would go on accumulating endlessly. The arrears would never be cleared.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :30 یعنی بہرحال تم میں سے ہر گروہ کسی کا خلف تھا تو کسی سلف بھی تھا ۔ اگر کسی گروہ کے اسلاف نے اس کے لیے فکر وعمل کی گمراہیوں کا ورثہ چھوڑا تھا تو خود وہ بھی اپنے اخلاف کے لیے ویسا ہی ورثہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا ۔ اگر ایک گرہ کے گمراہ ہونے کی کچھ ذمہ داری اس کے اسلاف پر عائد ہوتی ہے تو اس کے اخلاف کی گمراہی کا اچھا خاصا بارخود اس پر بھی عائد ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے ۔ ایک عذاب خود گمراہی اختیار کرنے کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے کا ۔ ایک سزا اپنے جرائم کی اور دوسری سزا دوسروں کے جرائم پیشگی کی میراث چھوڑ آنے کی ۔ حدیث میں اسی مضمون کی توضیح یوں بیان فرمائی گئی ہے کہ من ابتدع بدعة ضلالةِ لا یرضاھا اللہ و رسولہ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من عمل بھا لا ینقص ذالک من اوزارھم شیئا ۔ یعنی جس نے کسی نئی گمراہی کا آغاز کیا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ناپسندیدہ ہو ، تو اس پر ان سب لوگوں کے گناہ کی ذمہ داری عائد ہوگی جنہوں نے اس کے نکالے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ، بغیر اس کے کہ خود ان عمل کرنے والوں کی ذمہ داری میں کوئی کمی ہو ۔ دوسری حدیث میں ہے لاتقتل نفس ظلما الا کان علی ابن اٰدم الاول کفل من دمھا لانہ اول من سن القتل ۔ یعنی دنیا میں جو انسان بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے اس کے خونِ ناحق کا ایک حصہ آدم کے اس پہلے بیٹے کو پہنچتا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا ، کیونکہ قتلِ انسان کا راستہ سب سے پہلے اسی نے کھولا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یا گرہ کسی غلط خیال یا غلط رویّہ کی بنا ڈالتا ہے وہ صرف اپنی ہی غلطی کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں جتنے انسان اس سے متاثر ہوتے ہیں ان سب کے گناہ کی ذمہ داری کا بھی ایک حصہ اس کے حساب میں لکھا جاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی غلطی کے اثرات چلتے رہتے ہیں اس کے حساب میں ان کا اندراج ہوتا رہتا ہے ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کا صرف اپنی ذات کی حد تک ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی جواب دہ ہے کہ اس کی نیکی یا بدی کے کیا اثرات دوسروں کی زندگیوں پر مرتب ہوئے ۔ مثال کے طور پر ایک زانی کو لیجیے ۔ جن لوگوں کی تعلیم و تربیت سے ، جن کی صحبت کے اثر سے ، جن کی بری مثالیں دیکھنے سے ، اور جن کی ترغیبات سے اس شخص کے اندر زناکاری کی صفت نےظہور کیا وہ سب اس کے زنا کار بننے میں حصہ دار ہیں ۔ اور خود ان لوگوں نے اوپر جہاں جہاں سے اس بد نظری و بدنیتی اور بدکاری کی میراث پائی ہے وہاں تک اس کی ذمہ داری پہنچتی ہے حتٰی کہ یہ سلسلہ اس اولین انسان پر منتہی ہوتا ہے جس نے سب سے پہلے نوعِ انسانی کو خواہش نفس کی تسکین کا یہ غلط راستہ دکھایا ۔ یہ اس زانی کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کے ہم عصروں اور اس کے اسلاف سے تعلق رکھتا ہے ۔ پھر وہ خود بھی اپنی زنا کاری کا ذمہ دار ہے ۔ اس کو بھلے اور برے کی جو تمیز دی گئی تھی ، اس میں ضمیر کی جوطاقت رکھی گئی تھی ، اس کے اندر ضبطِ نفس کی جو قوت ودیعت کی گئی تھی ، اس کو نیک لوگوں سےخیر و شر کا جو علم پہنچا تھا ، اس کے سامنے اخیار کی جو مثالیں موجود تھیں ، اس کو صنفی بدعملی کے برے نتائج سے جو واقفیت تھی ، ان میں سے کسی چیز سے بھی اس نے فائدہ نہ اُٹھایا اور اپنےآپ کو نفس کی اس اندھی خواہش کے حوالے کر دیا جو صرف اپنی تسکین چاہتی تھی خواہ وہ کسی طریقہ سے ہو ۔ یہ اس کےحساب کا وہ حصہ ہے جو اس کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے ۔ پھر یہ شخص اس بدی کو جس کا اکتساب اس نے کیا اور جسے خود اپنی سے وہ پرورش کرتا رہا ، دوسروں میں پھیلانا شروع کرتا ہے ۔ کسی مرضِ خبیث کی چھوت کہیں سے لگا لاتا ہے اور اسےاپنی نسل میں اور خدا جانے کن کن نسلوں میں پھیلا کر نہ معلوم کتنی زندگیوں کو خراب کر دیتا ہے ۔ کہیں اپنا نطفہ چھوڑ آتا ہے اور جس بچہ کی پرورش کا بار اسے خود اُٹھانا چاہیے تھا اسے کسی اور کی کمائی کا ناجائز حصہ دار ، اس کےبچوں کےحقوق میں زبردستی کا شریک ، اس کی میراث میں ناحق کا حق دار بنا دیتا ہے اور اس حق تلفی کا سلسلہ نہ معلوم کتنی نسلوں تک چلتا رہتا ہے ۔ کسی دوشیزہ لڑکی کو پُھسلا کر بد اخلاقی کی راہ پر ڈالتا ہے اور اس کے اندر وہ بری صفات ابھار دیتا ہے جو اس سے منعکس ہو کر نہ معلوم کتنے خاندانوں اور کتنی نسلوں تک پہنچتی ہیں اور کتنے گھر بگاڑ دیتی ہیں ۔ اپنی اولاد ، اپنے اقارب ، اپنے دوستوں اور اپنی سوسائٹی کےدوسرے لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق کی ایک بری مثال پیش کرتا ہے اور نہ معلوم کتنے آدمیوں کے چال چلن خرب کرنے کا سبب بن جاتا ہے جس کے اثرات بعد کی نسلوں میں مدّتہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں ۔ یہ سارا فساد جو اس شخص نے سوسائٹی میں برپا کیا ، انصاف چاہتا ہے کہ یہ بھی اس کے حساب میں لکھا جائے اور اس وقت تک لکھا جاتا رہے جب تک اس کی پھیلائی ہوئی خرابیوں کا سلسلہ دنیا میں چلتا رہے ۔ اس پر نیکی کو بھی قیاس کر لینا چاہیے ۔ جو نیک ورثہ اپنے اسلاف سے ہم کو ملا ہے اس کا اجر ان سب لوگوں کو پہنچنا چاہیے جو ابتدائے آفرنیش سے ہمارے زمانہ تک اس کے منتقل کرنے میں حصہ لیتے رہے ہیں پھر اس ورثہ کو لے کر اسے سنبھالنے اور ترقی دینے میں جو خدمت ہم انجام دیں گے اس کا اجر ہمیں بھی ملنا چاہیے ۔ پھر اپنی سعی خیر کے جو نقوش و اثرات ہم دنیا میں چھوڑ جائیں گے انہیں بھی ہماری بھلائیوں کے حساب میں اس وقت تک برابر درج ہوتے رہنا چاہیےجب تک یہ نقوش باقی رہیں اور ان کے اثرات کا سلسلہ نوعِ انسانی میں چلتا رہے اور ان کے فوائد سے خلقِ خدا متمتع ہوتی رہے ۔ جزا کی یہ صورت جو قرآن پیش کر رہا ہے ، ہر صاحب عقل انسان تسلیم کرےگا کہ صحیح اور مکمل انصاف اگر ہو سکتا ہے تو اسی طرح ہو سکتا ہے ۔ اس حقیقت کو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس سے ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہو سکتی ہیں جنہوں نے جزا کے لیے اسی دنیا کی موجودہ زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے ، اور ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انسان کو اس کے اعمال کی پوری جزاء تناسُخ کی صورت میں مل سکتی ہے ۔ دراصل ان دونوں گروہوں نے نہ تو انسانی اعمال اور ان کے اثرات و نتائج کی وسعتوں کو سمجھا ہے اور نہ منصفانہ جزا اور اس کے تقاضوں کو ۔ ایک انسان آج اپنی پچاس ساٹھ سال کی زندگی میں جو اچھے یا برے کام کرتا ہے ان کی ذمہ داری میں نہ معلوم اوپر کی کتنی نسلیں شریک ہیں جو گزر چکیں اور آج یہ ممکن نہیں کہ انہیں اس کی جزاء یا سزا پہنچ سکے ۔ پھر اس شخص کے یہ اچھے یا برے اعمال جو وہ آج کر رہا ہے اس کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ ان کے اثرات کا سلسلہ آئندہ صد ہا برس تک چلتا رہے گا ، ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں تک پھیلے گا اور اس کے حساب کا کھاتہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک یہ اثرات چل رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں ۔ کس طرح ممکن ہے کہ آج ہی اس دنیا کی زندگی میں اس شخص کو اس کے کسب کی پوری جزا مل جائے درآں حالے کہ ابھی اس کے کسب کے اثرات کا لاکھواں حصہ بھی رونما نہیں ہوا ہے ۔ پھر اس دنیا کی محدود زندگی اور اس کے محدود امکانات سرے سے اتنی گنجائش ہی نہیں رکھتے کہ یہاں کسی کو اس کے کسب کا پورا بدلہ مل سکے ۔ آپ کسی ایسے شخص کے جرم کا تصور کیجیے جو مثلاً دنیا میں ایک جنگِ عظیم کی آگ بھڑکاتا ہے اور اس کی اس حرکت کے بے شمار برے نتائج ہزاروں برس تک اربوں انسانوں تک پھیلتے ہیں ۔ کیا کوئی بڑی سے بڑی جسمانی ، اخلاقی ، روحانی ، یا مادّی سزا بھی ، جو اس دنیا میں دی جانی ممکن ہے ، اس کے اس جرم کی پوری منصفانہ سزا ہو سکتی ہے؟ اسی طرح کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انعام بھی ، جس کا تصور آپ کر سکتے ہیں ، کسی ایسے شخص کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو مدّةالعمر نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے کام کرتا رہا ہو اور ہزاروں سال تک بے شمار انسان جس کی سعی کے ثمرات سے فائدہ اُٹھائے چلے جارہے ہوں ۔ عمل اور جزا کے مسئلے کو اس پہلو سے جو شخص دیکھے گا اسے یقین ہو جائے گا کہ جزا کے لیے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے جہاں تمام اگلی اور پچھلی نسلیں جمع ہوں ، تمام انسانوں کے کھاتے بند ہو چکے ہوں ، حساب کرنے کے لیے ایک علیم و خیبر خدا انصاف کی کُرسی پر متمکن ہو ، اور اعمال کا پورا بدلہ پانے کے لیے انسان کے پاس غیر محدود زندگی اور اس کے گرد و پیش جزا و سزا کے غیر محدود امکانات موجود ہوں ۔ پھر اسی پہلو پر غور کرنے سے اہل تناسُخ کی ایک اور بنیادی غلطی کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے جس میں مبتلا ہو انہوں نے آواگون کو چکر تجویز کیا ہے ۔ وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھے کہ صرف ایک ہی مختصر سی پچاس سالہ زندگی کے کارنامے کا پھل پانے کے لیے اس سے ہزاروں گنی زیادہ طویل زندگی درکار ہے ، کجا کہ اس پچاس سالہ زندگی کے ختم ہوتے ہی ہماری ایک دوسری اور پھر تیسری ذمہ دارانہ زندگی اِسی دنیا میں شروع ہو جائے اور ان زندگیوں میں بھی ہم مزید ایسے کام کرتے چلے جائیں جن کا اچھا یا بُرا پھل ہمیں ملنا ضروری ہو ۔ اس طرح تو حساب بے باق ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھتا ہی چلا جائے گا اور اس کے بے باق ہونے کی نوبت کبھی آہی نہ سکے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: یعنی جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے ،وہ اپنے اُن سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا، اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے اُن کی حد سے زیادہ تعظیم کرکے انہیں گمراہی میں اور پختہ کردیا۔ 21: مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عذاب پہلے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ لہٰذا اگر سرداروں کو اس وقت دگنا عذاب دے دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود تم اتنے شدید عذاب سے محفوظ رہو گے، بلکہ ایک وقت آئے گا کہ خود تمہارا عذاب بھی بڑھ کر ان کے موجودہ عذاب کے برابر ہوجائے گا، چاہے ان کا عذاب اس وقت اور بڑھ جائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(38 ۔ 39) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مالک دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے جن اور آدمیوں میں سے گذر چکی ہیں پھر دوزخ میں داخل ہوتے ہی ایک امت دوسری امت کو لعنت کرنے لگے گی مشرک مشرکوں یہود یہود کو لعنت کرنے لگیں گے پچھلی امت کے لوگ پہلی امت کے لوگوں کے حق میں خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار انہوں نے ہم کو تیرے راستہ سے بہکا دیا تھا ان کو دوچند عذاب کر جواب ملیگا کہ تم سب کے واسطے دو چند عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے کیونکہ ہم نے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق سزادی ہے اور پہلی امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں سے کہیں گے کہ تم کو ہم پر کچھ فوقیت نہیں ہے جس طرح ہم گمراہ ہوئے اسی طرح تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کئے کی سزا چکھو مجاہد کا قول ہے کہ فضل کے لفظ سے مراد اس جگہ عذاب کی تخفیف ہے ایک طرح پہلی امت کے لوگوں کی بڑی خطا ہے کہ پچھلوں کے واسطے برے راہ ڈال گئے اور ایک طرح پچھلوں کا بڑا قصور ہے کہ پہلوں کی حالت دیکھ کر اور سن کر بھی متنبہ نہ ہوئے نہ کوئی عبرت حاصل کی بہکنے والے اور بہکانے والوں کی جو آپس میں قیامت کے دن حجت ہوگی اس کا ذکر سورة احزاب اور سورة سبا میں تفصیل سے آویگا۔ حاصل یہ ہے کہ بہکانے والوں کی جو آپس میں قیامت کے دن حجت ہوگی اس کا ذکر سورة احزاب اور سورة سبا میں تفصیل سے آویگا۔ حاصل یہ ہے کہ بہکانے والوں کو دوگنا عذاب یوں ہوگا کہ ایک اپنے عملوں کا اور دوسرا لوگوں کو بہکانے کا اور بہکنے والوں کو ایک بہکاوے میں آجانے اللہ رسول کی نصیحت نہ سننے کا اور دوسرا بدعملوں کا مسند امام احمد صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب جو شخص کسی شخص کو قتل کرتا ہے اس میں ایک قتل ناحق کا گناہ قابیل بن آدم کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ قتل ناحق کا طریقہ دنیا میں پہلے پہل اس نے نکالا ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص دنیا میں کوئی برا طریقہ نکالے گا تو وہ سوائے اپنے ذاتی گناہوں کی سزا کے ان لوگوں کی سزا میں بھی پکڑا جاویگا جو لوگ اس برے طریقہ پر چلے ان آیتوں میں دوگنے عذاب کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ بہکانے والوں کو اپنے بدعملوں کا جدا عذاب ہوگا اور دوسروں کو برے طریقہ پر لگانے کا جدا اسی طرح بہکنے والوں کو باوجود شرعی نصیحت کے بہکاوے میں آجانے کا عذاب جدا ہوگا اور دوسرے بدعملوں کا جدا :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:38) لعنت اختھا۔ لعنت۔ بمعنی لعنت بھیجے گی۔ (یعنی وہ جماعت جو نئی جہنم میں داخل ہو رہی ہوگی) اختھا۔ اپنی بہن پر (یعنی اپنی جیسی جماعت پر جو اس سے قبل جہنم میں داخل ہوچکی ہوگی۔ اپنی جیسی سے مراد یہ کہ جس پاداش میں دونوں جہنم میں پہنچی ہیں یعنی مشرکین کی جماعت مشرکین پر۔ یہود کی جماعت یہود پر ۔ وغیرہ وغیرہ) ۔ ادارکوا۔ ندارک یتدارک (تفاعل) تدارک کے تاء کو دال میں ادغام کرکے شروع میں ہمزہ وصل لائے ادارک ہوگیا۔ ادارکوا ماضی جمع مذکر غائب۔ تدارک سے۔ الدرک اور الدرج کے ایک ہی معنی ہیں۔ لیکن الدرج کا لفظ اوپر چڑھنے کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اور الدرک کا لفظ نیچے اترنے کے لحاظ سے۔ اسی لئے درجات الجنۃ اور درکات النار کا محاورہ ہے ۔ قرآن میں ہے درفع بعضہم درجت (2:253) اور بعض کو بلند درجات سے نوازا۔ یا ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار۔ (4:145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے۔ سمندر کی گہرائی کی تہ کو اور اس رسی کو جس کے ساتھ پانی تک پہنچنے کے لئے دوسری رسی ملائی جائے۔ اس کو بھی درک کہتے ہیں۔ یا وہ رسی سے باندھی جائے یا وہ رسی جو ڈول کے کنڈے سے باندھی جائے۔ درک کہلاتی ہے۔ اس لئے یکے بعد دیگرے ایک چیز کے کسی دوسری چیز سے ملنے کو (تاکہ غایت کو پہنچ سکے) ادراک کہتے ہیں۔ اسی طرح پیہم کوششوں سے کسی حقیقت کے پالینے کو بھی ادراک کہتے ہیں پس تدارک کے معنی پے در پے ایک دوسرے سے ملنے کے ہیں۔ عربی محاورہ ہے تدارک القوم قوم کے فرد ایک دوسرے سے جا ملے۔ (ہلاک ہوگئے) آیۃ ہذا میں ادارکوا سے مرا دیہی ہے کہ جب ان کی جماعتیں ایک دوسرے سے ملتی ملتی ختم ہوجائیں گی۔ یعنی جب سب امتیں اس میں (دوزخ میں) یکے بعد دیگرے جمع ہوجائیں گی۔ اخرھم۔ ان کی پہلی۔ اگلی ۔ اول کا مؤنث۔ قالت اخراہم لاولہم۔ کے مندرجہ ذیل معنی ہوسکتے ہیں۔ (1) سب سے آخری امت (دوزخ میں داخل ہوگی) اپنے سے پہلی امتوں کو کہہ گی۔ (2) (دوزخ میں) ہر پیچھے آنے والی امت اپنے سے پہلے والی امت کو کہے گی۔ (3) جو امت زمانہ کے لحاظ سے بعد میں آئی تھی۔ وہ اپنے سے پہلی امت کو کہے گی۔ کیونکہ یہ پہلی امت تھی جو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے گمراہی کے دین کو چھوڑ گئی تھی (دنیا میں) (4) یا مرتبہ کے لحاظ سے آخری امت وہ ہوگی جو تابعین کی جماعت تھی۔ اور اولیٰ وہ جماعت ہوگئی جو کہ قائدین کی ممانعت تھی۔ لہٰذا تابعین قائدین کو کہیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس صورت میں ال کتاب سے مراد قرآن ہے جیسا کہ مترجم نے تصریح کردی ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد لوح محٖفوظ ہو یعنی جو سعادت و شقاوت اور رزق وعمر وغیرہ چیزیں اور ان کے لیے لوح محفوظ میں مقدر ہیں وہ ان کو حاصل ہو کر رہیں گی۔ اور ان کے ظلم و بدکار کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان میں کوئی کی نہیں کریگا شاید یہ توبہ کرلیں اور اپنے گناہوں سے باز آجائیں یہ معنی یہ آیت کے مابعد سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں کیونکہ جعی اذا جائ تھم رسلنا یتوفو نھم میں ان کے فوت ہونے کو اس نصیب کے حصول کے لے غایت قرار دیا ہے اور یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ یہ عمرورزق اور سعادت و سقادت ہی ہوسکتے ہیں، ( کبیر)4 اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے بلکہ ان میں سابق اور مسبوق ہوں گے (رازی) اور اپنی بہن پر لعنت کرے گی یعنی اپنی پہلی ہم مذہب امت پر جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہوچکی ہوگی، مثلا یہودی دوسرے دوسرے یہود پر اور نصاریٰ دوسرے نصاری پر اور مشرکین دوسرے مشرکین پر ( وحیدی)5 یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں یا پیروی کرنے والے میں کہیں گے ( رازی)6 یعنی ہم تو اپنے متقد میں کی تقلید میں یا انہی کی باتوں پر ایمان لاکر شرک و بدعت اور منکر رات ی راہ پر چلتے رہے۔7 کہ ہر ایک عذاب کس قسم ہوگا، اور جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اروغیر منتہی ہوگا اور ایک درد کے بعد دوسرا درد شروع ہوجائے گا اس اعتبار سے اسے ضعٖ ( دوگنا) فرمایا ہے ورنہ یہ معنی نہیں کہ گناہ کے استحقاق سے بڑھ ر ہو گ، (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور براک ہے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جس میں مکذبین کی بری موت کے بعد ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے۔ متکبرین اور مکذبین گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جائیں گے جہنم میں ڈالا جانے والا جنوں اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے سے پہلے گروہ پر لعنت اور پھٹکار بھیجتے ہوئے کہے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے اس انجام کو پہنچے ہیں اگر تم ہدایت کا راستہ اختیار کرتے تو ہم تمہارے بعد کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم نے خود ہی ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ ہم نے تم پر کوئی جبر نہیں کیا تھا۔ (الصافات ٢٢ تا ٣١) سورة الاحزاب آیت ٦٦ تا ٦٨ میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جہنمی جہنم کی آگ سے منہ باہر نکالیں گے تو اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری کرتے ہوئے فریاد کریں گے اے ہمارے رب ! ہمیں ہمارے برے سادات اور بڑوں نے گمراہ کیا اس لیے انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار ڈال۔ یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ جب گروہ در گروہ جہنم میں جمع ہوں گے تو بعد میں آنے والے پہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ انہیں آگ کا دوگنا عذاب دیجیے۔ حکم ہوگا ہر ایک دوگنے عذاب میں مبتلا ہے جس کا تمہیں علم نہیں۔ پیچھے آنے والوں کی بددعاؤں کے جواب میں پہلے والے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر برتری حاصل نہیں لہذا تم بھی اپنے کیے کے بدلہ میں عذاب پاتے رہو یہاں جہنمیوں کے عذاب کے بارے میں ” ضعف “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنیٰ دوگنا ہے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ برے کی سزا اس کی برائی کے برابر ہوگی۔ لیکن یہاں دوگنا عذاب بیان کیا جا رہا ہے اس کا مفہوم حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے جو گناہ پہلے لوگوں کی وجہ سے دوسری نسل میں منتقل ہوں گے اس میں گناہ ایجاد کرنے والوں کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے گناہوں کا حصہ بھی ملے گا اور اکثر یہی ہوتا آرہا ہے کہ نہ صرف ایک نسل کے گناہ کسی نہ کسی صورت میں دوسری نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں بلکہ پہلے لوگوں کے گناہوں کے نتیجہ میں نئی نسل اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح ہر نسل اپنے بعد آنے والی نسل کے لیے پہلے سے زیادہ گناہ چھوڑتی ہے۔ نتیجتاً مجرموں کی غالب اکثریت اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے گناہوں کے ذمہ دار بنتے ہیں۔ اسی بناء پر انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ ان کے گناہوں کی نوعیت بھی دوگنی ہوگی۔ جہنمیوں کا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں ہوگا اس لیے جہنمیوں کے پیشوا اپنے سے پیچھے آنے والوں کو کہیں گے تمہارا ہم کو اپنے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرانا تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا اور تم سزا کے حوالے سے ہم پر کوئی امتیاز نہیں رکھتے لہٰذا اپنے کیے کی سزا بھگتتے رہو۔ اس طرح جہنمی عذاب میں مبتلا رہ کر ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ أَوْ یُنَصِّرَانِہٖ أَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فیہَا جَدْعَاءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماقیل فی أولاد المشرکین ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نو مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور کسی کو جنم دیتا ہے تو کیا تم ان میں کسی کو مقطوع الاعضا پاتے ہو ؟ مسائل ١۔ جہنمی ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجیں گے۔ ٢۔ جہنم میں پہلے داخل ہونے والے بعد میں آنے والوں کو ملامت کریں گے۔ ٣۔ جہنمی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ پہلے لوگوں کو دوگنا عذاب دیاجائے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٣٨ تا ٣٩۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (٧ : ٣٨) ” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔ یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (٧ : ٣٨) ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔ آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (٧ : ٣٨) ” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “ یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔ آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38) ” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔ جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔ آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39) ” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین صادقین کا منظر ہے اور اس المناک منظر کے بالکل برعکس ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

موت کے وقت کافروں کی بد حالی اور دوزخ میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔ طرز تو سوال کا ہے لیکن بتانا یہ ہے کہ ایسے لوگ ظلم میں سب ظالموں سے بڑھ کر ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ جو ان کا رزق مقدر ہے اور جو ان کی عمر مقرر ہے وہ تو اس دنیا میں ان کو مل جائے گی۔ ہاں موت کے وقت اور موت کے بعد ان کا برا حال ہوگا اور برا انجام ہوگا۔ موت کے وقت جو فرشتے ان کی جانیں قبض کرنے لگیں گے ان سے سوال کریں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے تھے اور ان کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ اس موقع پر مذکورہ سوال کا باعث یہ ہوسکتا ہے کہ اب تم دنیا سے جا رہے ہو موت آرہی ہے اللہ کو چھوڑ کر جن کو پکارا کرتے تھے اس وقت تم انہیں کیوں نہیں پکارتے اگر وہ مدد کرسکتے ہیں تو تمہیں موت سے بچا لیں۔ یہ سوال سرزنش کے لیے ہوگا تاکہ موت کے وقت انہیں اپنے شر اور کفر کی قباحت اور شناعت معلوم ہوجائے۔ وہ بےبسی کے عالم میں جواب دیں گے کہ جن لوگوں کو ہم پکارا کرتے تھے۔ وہ سب غائب ہوگئے اور ساتھ ہی وہ اقرار کریں گے کہ واقعی ہم کافر تھے۔ اس طرح کا سوال قیامت کے دن بھی ہوگا۔ جیسا کہ سورة انعام (رکوع ٣) میں گزر چکا ہے برزخ کے عذاب میں مبتلا رہ کر جب قیامت کے دن اٹھیں گے، اور سوال و جواب و حساب و کتاب کے بعد کافروں کے بارے میں دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہوگا تو جماعتیں بن بن کر دوزخ میں جاتے رہیں گے کچھ جماعتیں پہلے داخل ہوں گی اور کچھ بعد میں، جو لوگ بعد میں داخل ہوں گے ان سے اللہ کا فرمان ہوگا کہ تم سے پہلے جنات میں سے اور انسانوں میں سے جو جماعتیں دوزخ میں جا چکی ہیں تم بھی دوزخ کے عذاب میں ان کے ساتھی ہوجاؤ۔ اسی کو فرمایا (قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ ) پھر فرمایا (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا) کہ جب ایک جماعت دوزخ میں جائے گی تو اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ دنیا میں جو آپس میں ایک دوسرے سے تعلق تھا اور باہمی تعاون تھا وہ سب ختم ہوجائے گا۔ اور ہر بعد والی جماعت اپنی جیسی پہلی جماعت پر لعنت کرے گی اور وہاں بغض کی شان پیدا ہوگی۔ اور بعد میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا لہٰذا انہیں بڑھتا چڑھتا دوزخ کا عذاب دیجیے۔ یہ تفسیر اس صورت میں ہے کہ اُخْرٰھُمْ سے اتباع مراد لیے جائیں اور اُوْلٰھُمْ سے ان کے سردار مراد لیے جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی مانا جائے کہ سردار ان قوم دوزخ میں اپنی قوم سے پہلے جائیں گے۔ جیسا کہ معالم التنزیل اور تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے اور بعض حضرات نے اُخْرٰھُمْ سے نیچے درجے کے لوگ اور اُوْلٰھُمْ سے سردار ان قوم مراد لیے ہیں۔ اور اس میں دخول نار کی اولیت اور اخرویت کو ملحوظ نہیں رکھا۔ یہ قول روح المعانی میں لکھا ہے۔ دنیا میں تو اپنے بڑوں کی بات مانتے تھے اور ان کے کہنے پرچلتے تھے اللہ کی طرف سے جو ہدایت پہنچانے والے ہدایت کی طرف بلاتے تھے تو الٹا ان کو برا کہتے تھے اور اپنے بڑوں ہی کی باتوں پر چلتے تھے اور انہیں چپکے رہتے تھے اور جب آخرت میں عذاب دیکھیں گے تو گمراہ کرنے والوں پر لعنت کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ان کو ہمارے عذاب سے بڑھ کر خوب زیادہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ) ہر ایک کے لیے خوب زیادہ عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی تم میں سے ہر ایک کو جس قدر عذاب ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ اسے کہا ہی نہیں جاسکتا۔ پھر یہ عذاب ایک حالت پر نہیں رہے گا۔ بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا۔ (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب بڑھا دیں گے بسبب اس کے کہ وہ فساد کرتے تھے) فسر صاحب الجلالین الضعف بمعنی المضعف قال الشیخ الجمل فی حاشیتہٖ اشاریہ الیٰ ان المراد بالضعف ھنا تضعیف الشی و زیادتہ الیٰ مَا ینتھی لا الضعف بمعنی مثل الشی مرۃ واحدۃ اس میں یہ بات بھی آگئی کہ جب دونوں ہی فریق کا عذاب بہت زیادہ ہے تو دوسروں کا عذاب دیکھ کر کیا تسلی ہوسکتی ہے جب خود بھی سخت عذاب میں مبتلا ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

40:“ فِیْ اُمَمٍ ” فِیْ بمعنی مع ہے ای مع اُمَمٍ فِیْ النَّارِ ، یہ اُدْخُلُوْا سے متلعق ہے۔ (مدارک، روح) ۔ 41 ۔ “ اُخْتٌ” سے ہم مسلک جماعت مراد ہے۔ جب مشرکین کی وہ جماعت جہنم میں داخل ہوگی جو دوسروں کی پیروی کرتی تھی تو وہ اپنے پیشواؤں پر لعنت بھیجے گی جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور جب پیشوایان مشرکین دوزخ میں داخل ہوں گے تو وہ اپنے متبعین کو کو سیں گے جنہوں نے ان کا اتباع کر کے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کی گمراہی میں اضافہ کیا۔ ای دعت علی نظیرھا فی الدین تلعن التابعۃ المتبوعۃ التی اضلتہا و تلعن المتبوعۃ التابعۃ التی زادت فی ضلالھا (روح ج 8 ص 166) ۔ 42:“ اُخْرٰھُمْ ” مشرک مریدوں کی جماعت “ اُوْلٰھُمْ ” مشرک پیروں اور راہنماؤں کی جماعت۔ جب سب کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تب مریدین اور تابعین اپنے مشرک پیروں اور پیشواؤں کے بارے میں عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا اس لیے ان کو دوگنا عذاب دے۔ “ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ” ارشاد ہوگا سب کو دوگنا عذاب ہوگا تابعین کو بھی اور متبوعین کو بھی متبوعین کو اس لیے کہ وہ خود گمراہ تھے اور دوسروں کو گمراہ کرتے تھے اور تم تابعین کو اس لیے کہ تم خود بھی گمراہ تھے اور اپنے مشرک پیشواؤں کی ہر بات پر آمنا کہہ کر ان کی گمراہی اور سرکشی میں اضافہ کا باعث بنتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 یہ تو برزخ کا احوال ہوا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرمائے گا کہ تم سب بھی جنات اور انسانوں کے ان فرقوں اور جماعتوں کے ہمراہ جہنم میں داخل ہوجائو جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں کیونکہ تمہارا اور ان کا مسلک ایک ہی ہے جس وقت بھی کوئی جماعت آگ میں داخل ہوگی تو وہ اپنی سابقہ داخل شدہ جماعت پر لعنت بھیجتی ہوگی اور جماعت لاحقہ جماعت سابقہ پر لعنت کرے گی یعنی مشرک مشرکوں پر اور یہود یہود پر اور نصاریٰ نصاریٰ پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب یہ سب پہلے اور پچھلے آگ میں جمع ہوجائیں گے تو ان میں سے پچھلے پہلوں کے لئے یوں کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان پہلوں نے گمراہ کیا اور صحیح راستہ سے بچلایا تھا۔ اس لئے ان کو دوگنا عذاب کیجئو اور آتش دوزخ کا عذاب ان کو دو چند دیجئو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کے لئے دگنا ہی عذاب ہے مگر تم نہیں جانتے اور تم کو خبر نہیں ہے کہ جہنم میں تو عذاب ہر گھڑی بڑھتا ہی رہتا ہے۔