Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 4

سورة الأعراف

وَ کَمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا فَجَآءَہَا بَاۡسُنَا بَیَاتًا اَوۡ ہُمۡ قَآئِلُوۡنَ ﴿۴﴾

And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کر دیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nations that were destroyed Allah said, وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ... And a great number of towns We destroyed. for defying Our Messengers and rejecting them. This behavior led them to earn disgrace in this life, which led them to disgrace in the Hereafter. Allah said in other Ayat, وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ And indeed (many) Messengers before you were mocked at, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at. (6:10) and, فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِيْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins (up to this day), and (many) a deserted well and lofty castle! (22:45) and, وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَـكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلاَّ قَلِيلً وَكُنَّا نَحْنُ الْوَرِثِينَ And how many a town have We destroyed, which was thankless for its means of livelihood! And those are their dwellings, which have not been inhabited after them except a little. And verily, We have been the heirs. (28:58) Allah's saying, ... فَجَاءهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَأيِلُونَ Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap. means, Allah's command, torment and vengeance came over them at night or while taking a nap in the middle of the day. Both of these times are periods of rest and leisure or heedlessness and amusement. Allah also said أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَأيِمُونَ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep! Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing! (7:97-98) and, أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّيَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَوُوفٌ رَّحِيمٌ Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not! Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them! Or that He may catch them with gradual wastage. Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful. (16:45-47) Allah's saying; فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءهُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ

سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں ۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی ، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا ، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کر دیا ، ایک اور آیت میں ہے ، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے ۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت ، کہیں رات کے سونے کے وقت ، چنانچہ ایک آیت میں ہے ( افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون ) یعنی لوگ اس سے بےخوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے ؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارا عذاب آ جائیں ؟ اور آیت میں ہے کہ مکاریوں کی وجہ سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے یا اللہ انہیں ان کی بےخبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے ، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں ، عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے لیکن اس وقت کیا نفع ؟ اسی مضمون کو آیت ( وکم قصمنا ) میں بیان فرمایا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا انہیں عذاب نہیں کرتا ، عبدالملک سے جب یہ حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا انہیں عذاب نہیں کرتا تو آپ نے یہ آیت ( فما کان دعوھم ) الخ ، پڑھ سنائی پھر فرمایا امتوں سے بھی ، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا ، جیسے فرمان ہے ( وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ65 ) 28- القصص ) یعنی اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے اور آیت میں ہے ( يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ109 ) 5- المآئدہ ) ، رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں غیب کا جاننے والا تو ہی ہے پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک با اختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے ۔ بادشاہ سے اسکی رعایا کا ہر آدمی سے اس کی اہل و عیال کا ، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا ، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا ۔ راوی حدیث حضرت طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر آیت کی تلاوت کی ۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے ، قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جائے گی ۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے با خبر ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے ۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے ۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 فَائِلُوْنَ قَیْلُوْلَۃ، ُ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بیخبر بستروں میں آسودہ خواب تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا۔۔ : پچھلی آیت میں فرمایا کہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو، یہاں فرمایا کہ دیکھ لو کہ نصیحت اور عبرت کے لیے تمہارے سامنے کتنی ہی بستیاں ہیں، جنھیں غیر اللہ کی عبادت اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہم نے ہلاک کردیا، جن میں سے کچھ تو وہ تھے جو رات امن و اطمینان سے سو رہے تھے کہ ان پر ہمارا عذاب آگیا، جیسا کہ قوم لوط اور کچھ وہ تھے جو دوپہر کو آرام کر رہے تھے، جیسے شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ آرام اور بیخبر ی کی حالت میں آنے والا عذاب زیادہ خوف ناک ہوتا ہے، یعنی ان کفار کو اپنی خوش حالی پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ کر اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (٩٧، ٩٨) اور سورة نحل ( ٤٥ تا ٤٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا فَجَاۗءَہَا بَاْسُـنَا بَيَاتًا اَوْ ہُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۝ ٤ كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة . کم یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور یہ دو قسم پر ہے ۔ استفہامیہ اور خبریہ ۔ استفہامیہ ہوتا اس کا مابعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ( اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے کم رجلا ضربت اور جب خبریہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے یعنی کتنے ہی جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا اور اس صورت میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کروالیں ۔ وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] اور ہم نے بہت سے بستیوں کو جو ستم گار تھیں ہلاک کر ڈالا ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مراد لئے ہیں هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ بؤس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ : الشدة والمکروه، إلا أنّ البؤس في الفقر والحرب أكثر، والبأس والبأساء في النکاية، نحو : وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا [ النساء/ 84] ، فَأَخَذْناهُمْ بِالْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ [ الأنعام/ 42] ، وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ [ البقرة/ 177] ، وقال تعالی: بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، وقد بَؤُسَ يَبْؤُسُ ، وبِعَذابٍ بَئِيسٍ [ الأعراف/ 165] ، فعیل من البأس أو من البؤس، فَلا تَبْتَئِسْ [هود/ 36] ، أي : لا تلزم البؤس ولا تحزن، ( ب ء س) البؤس والباس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقرو فاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولاجاتا ہے اور الباس والباساء ۔ بمعنی نکایہ ( یعنی جسمانی زخم اور نقصان کیلئے آتا ہے قرآن میں ہے { وَاللهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا } ( سورة النساء 84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے { فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ } ( سورة الأَنعام 42) پھر ( ان کی نافرمانیوں کے سبب ) ہم انہیوں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے { وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ } ( سورة البقرة 177) اور سختی اور تکلیف میں اور ( معرکہ ) کا رزا ر کے وقت ثابت قدم رہیں ۔۔ { بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ } ( سورة الحشر 14) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ بؤس یبوس ( باشا) بہادر اور مضبوط ہونا ۔ اور آیت کریمہ ۔ { بِعَذَابٍ بَئِيسٍ } ( سورة الأَعراف 165) بروزن فعیل ہے اور یہ باس یابوس سے مشتق ہے یعنی سخت عذاب میں اور آیت کریمہ ؛۔ { فَلَا تَبْتَئِسْ } ( سورة هود 36) کے معنی یہ ہیں کہ غمگین اور رنجیدہ رہنے کے عادی نہ بن جاؤ۔ بياتا والبَيَاتُ والتَّبْيِيتُ : قصد العدوّ ليلا . قال تعالی: أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنا بَياتاً وَهُمْ نائِمُونَ [ الأعراف/ 97] ، بَياتاً أَوْ هُمْ قائِلُونَ [ الأعراف/ 4] . ( ب ی ت ) البیات البیات والتبیت کے معنی رات میں دشمن پر حملہ کرنے یعنی شبخون مارنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنا بَياتاً وَهُمْ نائِمُونَ [ الأعراف/ 97] کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ ( بیخبر ) سو رہے ہوں ۔ بَياتاً أَوْ هُمْ قائِلُونَ [ الأعراف/ 4] رات کو آتا تھا جب کے وہ سوتے تھے یا ( دن کو ) جب وہ قیلو لہ ( یعنی دن کو آرام ) کرتے تھے ۔ قيل ( قيلوله) قوله تعالی: أَصْحابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا[ الفرقان/ 24] مصدر : قِلْتُ قَيْلُولَةً : نمت نصف النهار، أو موضع القیلولة، وقد يقال : قِلْتُهُ في البیع قِيلًا وأَقَلْتُهُ ، وتَقَايَلَا بعد ما تبایعا . ( ق ی ل ) المقیل ۔ مقام استراحت چناچہ آیت کریمہ : ۔ أَصْحابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا[ الفرقان/ 24] اس دن اہل جنت کا ٹھکانہ بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا ۔ میں مقیلا قلت قیلولتہ کا مصدر ہے جس کے معنی دوپہر کے وقت استراحت کے لئے لیٹنے کے ہیں اور یاظرف مکان ہے یعنی قیلولہ کی جگہ : ۔ محاورہ قلتہ فی البیع واقلتہ وتقایلا بیع فسخ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا فَجَآءَہَا بَاْسُنَآ بَیَاتًا اَوْ ہُمْ قَآءِلُوْنَ ۔۔ چو ن کہ اس سورة مبارکہ کے موضوع کا عمود التّذکیر بِاَیَّام اللّٰہ ہے ‘ لہٰذا شروع میں ہی اقوام گزشتہ پر عذاب اور ان کی بستیوں کی تباہی کا تذکرہ آگیا ہے۔ یہ قوم نوح ( علیہ السلام) ‘ قوم ہود ( علیہ السلام) ‘ قوم صالح ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) اور قوم شعیب ( علیہ السلام) کی بستیوں اور عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف اشارہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(4 ۔ 7) ۔ اوپر کی فہمائش کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یوں ڈرایا ہے کہ جب تم سے پچھلے لوگوں نے کفر وشرک نہ چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور رسولوں کی فرمانبرداری نہ کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ان نافرمانوں کی بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی تم لوگ بھی الگ اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے قوم لوط (علیہ السلام) پر رات کے وقت اور قوم شعیب (علیہ السلام) پر دوپہر کے وقت عذاب الٰہی نازل ہوا تھا یہ دونوں وقت نہایت آرام و غفلت کے ہوتے ہیں ایسے ہی وقت میں خدا کا عذاب یکایک اترا اور اس واسطے ان دونوں وقتوں کا نام اس آیت میں لیا گیا کہ آرام کے وقت مصیبت کا آجانا انسان کو بہت شاق گذرتا ہے اہل مکہ اپنے عیش و آرام میں ڈوبے ہوئے تھے اس لئے ان کو جتلایا کہ ان سے پہلے لوگ بھی عیش کے بندے تھے لیکن راحت کے وقتوں میں جب ان پر عذاب آگیا تو سب راحت خاک میں مل گئی پھر فرمایا جن وقتوں میں عذاب آیا تھا وہ اس وقت سوائے اپنے گناہوں کے اقرار کے اور کچھ نہ کہہ سکے یہی کہتے کہ بیشک ہم اسی لائق ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ قیامت کے روز پروردگار پچھلی سب امتوں سے جھڑکی اور ان کو قائل کرنے کے طور پر یہ پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں سے یہ دریافت فرماوے گا کہ تم نے ہمارے پیغام ان کو پہنچاوئے یا نہیں سورة قصص میں آویگا۔ وَمَا کَانَ رْبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبُعَثَ فِیْ امہَا رَسُوْلًا یَّتْلُوا عَلَیْہِمْ ایٰاتِنَا وَمَاکُنَّا مُہْلِکیَ الُقُرٰی اِلَّاوَاَھْلُہَا ظَالِمُوْنَ (٢٨: ٥٩) اور سورة مومن میں آوے گا فَلَماَ رَاوَبْاَ ْسَنَآ قَالُوْا اٰمَنَّا بِاْللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّابِہٖ مُشْر کِیْنَ فَلَمْ یکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَا نُہئمْ لَمَّارَاُوُبَاْ سَنَآ سَنَۃَ اللّٰہِ الَّتیِ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ (٤٠: ٨٤۔ ٨٥) مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنی بڑی چھوٹی بستیاں پچھلے زمانہ میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی ہلاکت سے پہلے جب تک اللہ تعالیٰ نے ان میں کی بڑی بڑی بستیوں میں آسمانی کتابیں دے کر رسول نہیں بھیج لئے اور رسولوں کے بھیجنے کے بعد پھر جب تک ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر کے اللہ کے رسولوں سے پوری مخالفت نہیں کی اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے بےوقت ناانصافی سے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا پھر جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو نیک وبد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے اور مجبوری کے بعد یہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا اس لئے اللہ کے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ان لوگوں نے جو اللہ کی فرمانبرداری اور شرک سے بیزاری کا اقرار کیا ان کے اس بےوقت کے اقرار پر لحاظ کرنا انتظام دنیا کے برخلاف تھا اس واسطے ان کا وہ اقرار ناقابل توجہ قرار پایا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صاحب عذر کے عذر کو رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ کسی شخص کو احکام الٰہی کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن العاص (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا کے پیدا ہونے کے بعد جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ ان متوں کے رسولوں سے پوچھے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے احکام اپنی امتوں کو اچھی طرح سے پہنچادئے تھے اللہ کے رسول جواب دیں گے کہ یا اللہ ہم نے ان لوگوں کو تیرے سب سزا وجزا کے احکام پہنچادیے لیکن ان لوگوں نے ان احکام کو نہیں مانا یہ پچھلی امتوں کے لوگ اللہ کے رسولوں کو جھٹلادیں گیں اور کہیں گے یا اللہ ہم کو کسی نے تیرے احکام نہیں پہنچائے اس پر اللہ تعالیٰ ان رسولوں سے فرمادے گا کہ تم اپنے بیان کی تائید میں کوئی شہادت پیش کرسکتے ہو وہ رسول امت محمد یہ کو اپنا گواہ قرار دیں گے یہ سن کر پہلی امتیں کہیں گی کہ یا اللہ یہ لوگ تو ہم سے پیچھے دنیا میں پیدا ہوئے تھے ان کو ہمارے حال کی کیا خبر ہے۔ امت محمدیہ کے لوگ کہیں گے کہ یا اللہ تو نے ہمارے نبی آخر الزمان پر جو قرآن اتارا ہے اس میں پہلے نبیوں کا اور پہلی امتوں کا سب کا ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام کے موافق تیرے رسولوں کے سچے ہونے کی گواہی دیتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتیں اور حدیثیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک فرمانبردار اور نافرمان کا حاصل دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے معلوم تھا لیکن اس نے سزا وجزا کا مدار اپنے انصاف سے اس اپنے ازلی علم پر نہیں رکھا بلکہ دنیا اور عقبے میں نافرمان لوگوں کی سزا کا مدار ظہور جرم پر ثبوت جرم کے بعد رکھا ہے۔ فلنقصن کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے روبر رکھا جاوے گا جو سب عملوں کا احوال ظاہر کریگا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب چھوٹے بڑے عملوں کی خبر اپنے بندوں کو دے گا کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے سب کچھ اس کے علم میں ہے مگر نامہ اعمال سے ان لوگوں کو قائل کیا جاویگا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:4) کم سوالیہ استفہام کے لئے آتا ہے ۔ کتنی دیر۔ کتنی مقدار۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے مثلاً کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی محذوف ہوتی ہے مثلاً کم لبثت۔ یعنی کم زمانا لبث۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔ خبریہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم رجل ضربت۔ میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا۔ کبھی اس صورت میں اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا۔ (آیۃ ہذا) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ بیانا۔ البیات والتبییت۔ رات کے وقت دشمن پر حملہ کرنا۔ شبخون مارنا۔ آیۃ ہذا۔ بیاتا اوھم قائلون رات کے وقت جب وہ سو رہے تھے یا دن کو جب وہ قیلولہ (دوپہر کا سونا۔ آرام کرنا) کر رہے تھے۔ بیت یبیت تبییت (تفعیل) رات کو مشورہ کرنا۔ بیت طائفۃ منہم (4:81) ان میں بعض لوگ مشورہ کرتے ہیں ۔ بات یبیت (ضرب) رات گزارنا۔ رات ہوجانا۔ قائلون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ قیلولۃ۔ مصدر۔ دوپہر میں سونے والے، دوپہر کو آرام کرنے والے۔ آیۃ ہذا میں سونا مراد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی غفلت میں پڑے سو رہے تھے مقصود پیغمبر کی اطاعت سے اعراض پر تنبیہ کرنا ہے کہ ان کفار کو اپینی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فرمان نہ ماننے اور اس کی نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام۔ سورة کے تعارف میں ہم نے عرض کیا ہے کہ سورة کے پہلے رکوع میں ساری سورة کے مضامین کا خلاصہ ذکرہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام اور امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے جو انکو اللہ تعالیٰ کے احکام بتلاتے اور باربار نصیحت کرتے تھے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی ہدایات پر عمل کرو۔ اس میں تمہارا بھلا ہے اور ہم تمہارے خیرخواہ ہیں لیکن لوگوں نے اپنے رب کی ہدایات ماننے اور انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے آبا کے رسم و رواج، بزرگوں کے اقوال اور ذاتی خیالات کو مقدم جانا۔ اس فکروعمل پر انہیں بار بار تنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے اپنی طرزحیات کو نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں آلے گا لیکن وہ اپنے فکروعمل پر مصر اور انبیاء (علیہ السلام) کی توہین کرتے اور ان سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت تمام ہوئی تو اس کے عذاب نے انہیں ایسے وقت میں آدبوچا جب وہ غفلت کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ یعنی ایسی حالت میں عذاب آیا کہ وہ آہ وزاری بھی نہ کرسکے۔ بڑا ہی بدقسمت ہے وہ انسان اور قوم جسے اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے آخر وقت میں توبہ نصیب نہ ہو۔ انہوں نے غفلت میں زندگی گزاری اور غفلت کی حالت میں پکڑے گئے اگر کسی کو ہوش آیا بھی تو وہ یہی کہہ رہا تھا کہ واقعی ہم ظالم ہونے کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا ہوئے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ ٢۔ عذاب عموماً اس وقت آتا ہے جب لوگ غفلت و بےفکری میں پڑے ہوتے ہیں۔ ٣۔ عذاب کے وقت سبھی اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٤ تا ٩۔ اقوام سابقہ کا انجام سبق آموز ہوتا ہے ۔ وہ نہایت ہی اونچا ڈراوا ہوتا ہے ۔ قرآن کریم اقوام سابقہ کے عبرت آموز حصوں کو نہایت ہی موثر انداز میں لاتا ہے جس سے انسان خواب غفلت سے جاگ اٹھتا ہے ۔ اور دل پر سے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ بیشمار ایسی بستیاں ہیں جو غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہریں ۔ ان پر جب ہلاکت آئی تو وہ خواب غفلت میں مدہوش تھیں۔ یہ عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا دن کے وقت وہ سوتے میں مارے گئے ۔ بالعموم لوگ دوپہر کے وقت آرام کرتے ہیں اور اس وقت ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امن وامان سے رہیں۔ آیت ” وَکَم مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا فَجَاء ہَا بَأْسُنَا بَیَاتاً أَوْ ہُمْ قَآئِلُونَ (4) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا ۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا ‘ یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جبکہ وہ آرام کر رہے تھے۔ “ یہ دونوں حالتیں یعنی قیلولہ کی حالت اور رات کی وقت سونے کی حالت ایسی ہوتی ہے جس میں انسان بےپرواہ ‘ پرامن اور غفلت کی حالت میں ہوتا ہے اور ایسی حالت میں کسی کا پکڑا جانا اور عذاب میں مبتلا ہونا نہایت ہی خوفناک اور زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ڈر ‘ نصیحت آموزی ‘ احتیاط وتقوی ‘ زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل ہو سکتا ہے ۔ ایسے حالات میں جب یہ مجرمین پکڑے گئے اور ان پر عذاب آیا تو ان کا ردعمل کیا تھا اعتراف اور مطلق اعتراف جرم ۔ ماسوائے اقرار کے ان کے پاس اور کوئی بہانہ نہ رہا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5: یہ تخویف دنیوی ہے۔ “ اَھْلَکْنٰھَا اَي اھلھا ”۔ یعنی بہت سی بستیوں کے باسیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ “ بَیَاتًا ” مصدر بمعنی اسم فاعل “ اَھْلَکْنَا ” کے مفعول سے حال واقع ہے۔ مصدر واقع موقع الحال بمعنی بائتین۔ (مدارک ج 2 ص 24) ۔ “ قَائِلُوْنَ ” قیلولۃ سے ہے جس کے معنی دوپہر کے وقت نیند کرنے کے ہیں۔ “ فَمَا کَانَ دَعْوٰ ھُمْ الخ ” عذاب آنے سے پہلے تو وہ ضد وعناد کی وجہ سے مانتے نہ تھے لیکن جب ان کی بد اعمالیوں اور مسلسل جحود و انکار کے سبب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے مگر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور تباہ و برباد کرڈالا یعنی ان کی نافرمانی کے سبب پھر ہمارا عذاب ان پر یا تو رات کو ان کے سوتے میں آیا یا دوپہر کو آیا جبکہ وہ آرام کررہے تھے یعنی کسی بستی پر رات کو عذاب نازل ہو اور کسی بستی پر دوپہر کو قیلولہ کے وقت آیا۔