Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 42

سورة الأعراف

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾

But those who believed and did righteous deeds - We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیادہ کسی کا مکلف نہیں بناتے وہی لوگ جنت والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Destination of Righteous Believers After Allah mentioned the condition of the miserable ones, He then mentioned the condition of the happy ones, saying, وَالَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ... But those who believed, and worked righteousness, Their hearts have believed and they performed good deeds with their limbs and senses, as compared to those who disbelieved in the Ayat of Allah and were arrogant with them. Allah also said that embracing faith and implementing it are easy, when He said, وَالَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا أُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دل میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں ۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں ۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے ۔ ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں حد بغض دور کر دیئے جائیں گے ۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک ہی پل پر روک دیئے جائیں گے وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے ۔ واللہ وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ سدی رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہ رہی ہوں گی یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی یہ شراب طہور ہے پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی پھر نہ تو بال بکھریں نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے ۔ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے جو آیت ( وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ 73 ) 39- الزمر ) کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انشاء اللہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا ۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے اس وقت وہ کہے گا کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا ۔ پھر جنتیوں کو جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا لوگوں نے پوچھا آپ بھی نہیں؟ فرمایا ہاں میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، بلکہ ہر انسان ان کو باآسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے عمل کو بروئے کار لاسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١] یعنی جنت میں داخلے کی خاطر ہر ایک کے لیے ایک ہی مقررہ مقدار عمل ضروری نہیں بلکہ ہر ایک شخص کا اس کی استعداد اور قوت کار کے مطابق ہی امتحان لیا جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک لکھ پتی آدمی سو روپے صدقہ کرتا ہے اور اسی وقت ایک مفلس پانچ روپے صدقہ کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مفلس کے پانچ روپے صدقے کی قدر و قیمت لکھ پتی کے سو روپے کے صدقے کی قدر و قیمت سے زیادہ ہو لہذا ہر شخص کے احوال و ظروف کا لحاظ رکھ کر اور اس کے اعمال کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ لگانے کے بعد اسے جنت میں داخل کیا جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ: یہ جملہ کہ ” ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے “ جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔ “ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٧٢٨٨، عن أبی ہریرہ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (42) mentions those who dutifully follow Divine injunctions as they are the people of Paradise and there they shall live forever. Injunctions of the Shari&ah : Consideration of Convenience But, along with the condition set forth for such people; that they believe and do good deeds - said there, in all mercy, was: لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (Allah does not obligate anyone beyond his capacity). The purpose is to emphasize that good deeds - which is a condition for entry into Paradise - is really not something so difficult as would be beyond the ability of a man or woman. In fact, Allah Ta` ala has made the injunc¬tions of the Shari&ah flexible and easy in every department of life. Leaves and concessions have been granted in every injunction keeping sickness, weakness, travel and other human needs under consideration. According to Tafsir Al-Bahr Al-Muhit, when human beings were commanded to do good deeds, the likelihood existed that they might find this a little heavy on them since doing what is good and required, everywhere and under all conditions, was beyond one&s capacity. Therefore, this doubt of theirs was removed through these words which ensure that the injunctions of Allah are given keeping in view the various stages of human lives and that they are appropriate to pre¬vailing conditions in all circumstances, for all time and all places. With such comprehensive consideration working behind these injunc¬tions acting according to them should not be difficult at all. For its People, a Paradise minus Malice In the fourth verse (43), two particular states of the people of Jan¬nah have been identified. The first one finds mention in: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِ‌هِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ‌; (And We remove whatever of malice they had in their hearts. Rivers will flow beneath them). According to Sahih al-Bukhari, when believers would have crossed the Bridge of Sirat صِرَاط and their deliverance from Jahannam would have become certain, they would be stopped over a bridge between Jannah and Jahannam - to remove their malice first. If someone had some grudge against someone, or ill-will or a heart-burn on the loss of a right, all that will be mutually settled and washed off for good right there. So, when they go to Jannah, they will be free of malice, hatred, animosity and other personality disorders of the kind. It appears in Tafsir Mazhari that this bridge will obviously be the last part of the Bridge of Sirat صِرَاط which is close to Jannah. ` Allama Al-Suyuti has also opted for this approach. Then comes the issue of settling rights. It goes without saying that any loss of rights cannot be compensated by money for nobody would have it there. Instead of that, in accordance with a Hadith in al-Bukhari and Muslim, this payment will be made in the currency of deeds. Lost rights will be compensated by giving the deeds of the usurper to the owner of the right. And should it be that no more deeds are left with this person and there remain other rights which still have to be settled, then, the sins of the owner of the unsettled right will be transferred to the account of the usurper of the right. In a Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has called the person, who did good deeds in his worldly life but remained negligent of the rights of people, the greatest pauper - for as a result of this neglect he lost all good deeds and stood there empty-handed. In this Hadith narration, what has been described is but a general rule governing the fulfillment of rights and avenging an injustice in flitted. But, it is not necessary that everyone has to face this situation. In fact, according to the report of Ibn Kathir and Tafsir Mazhari, possi¬ble there would be the situation that no one settles scores and takes revenge, yet mutual malices get to be removed without anything like that. This is what appears in some narrations. When people would have crossed the Bridge of Sirat, they would reach a stream of water and drink from it. The property of this water will be such as would remove all mutual malice from the hearts of all of them. While commenting on the noble verse: وَسَقَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ شَرَ‌ابًا طَهُورً‌ا (And their Lord will give to them to drink a pure drink - 76:21 - AYA), the Tafsir of this verse given by Imam al-Qurtubi is not any different when he says that washed away from this water of Jannah shall be all grudges in hearts. After reciting this verse, Sayyidna Ali al-Murtada (رض) ، once said: I hope that we - ` Uthman and Talhah and Zubayr and me - shall be among those whose hearts will be cleansed of malice before the entry into Paradise. (Ibn Kathir) These noble souls named here had their mutual disagreements during their life time in the world which had reached the limits of war. The second state of the people of Jannah described in this verse is that on their arrival in Jannah, they will express their gratitude to Al¬lah Ta` ala that He guided them towards Jannah and made it easy for them to reach there. They will say that, had the grace of Allah not been with them, they would have never dared reach there. This tells us that no one can go to Jannah by personal effort alone - unless the grace of Allah Ta` ala makes it possible for the aspirant. The reason is that even this ` effort& itself is not within one&s control. That too comes through the grace and mercy of Allah Ta` ala alone. Guidance has Degrees, the Last being the Entry into Paradise Imam Raghib al-Isfahani (رح) ، who has explained Hidayah or guidance in a comprehensive manner as it appears in the Holy Qur&an, has said that guidance is a popular term but it has different degrees. The truth of the matter is that guidance is another name of finding the way to reach Allah Ta` ala. Therefore, the degrees of achieving nearness to Al¬lah are many and different and unending. Similarly, the degrees of guidance too are extremely varied and different from each other. The lowest degree of guidance is deliverance from Kufr and Shirk, and having &Iman. One on this degree of guidance has his or her orientation changed, away from the path of error - towards Allah. Then, there is the distance between Allah Ta` ala and His servants. This distance takes a journey to cover - and every stage so covered has degrees, which is called Hidayah or guidance. Therefore, guidance is a need. At no time, can anyone claim not to need it, not even prophets and messengers of Allah. For this reason, the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ، not only taught his people the lesson of: اهْدِنَا الصِّرَ‌اطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ (Guide us in the straight path), but he himself kept making this prayer - because there is no end to the stages and ranks of nearness to Allah, so much so, that entry into the Paradise mentioned in this verse has been identified as Hidayah or guidance, for this is the last station of Hidayah.( Those interested in reading more about the implications, meaning and degrees of guidance may see Ma&ariful-Qur&an, English Translation, Vol.I, pages 72-77)

تیسری آیت میں احکام خداوندی کی پیروی اور پابندی کرنے والوں کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ جنت والے ہیں اور جنت ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔ احکام شریعت میں سہولت کی رعایت لیکن ان کے لئے جہاں یہ شرط ذکر کی گئی ہے کہ وہ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، اس کے ساتھ ہی رحمت و کرم سے یہ بھی فرما دیا (آیت) لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر کوئی ایسا بوجھل کام نہیں ڈالتے جو اس کی طاقت سے باہر ہو، مقصود یہ ہے کہ اعمال صالحہ جن کو دخول جنت کے لئے شرط کہا گیا ہے وہ کوئی بہت مشکل کام نہیں جو انسان نہ کرسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت کو ہر شعبہ میں نرم اور آسان کردیا ہے، بیماری، کمزوری، سفر اور دوسری انسانی ضروریات کا ہر حکم میں لحاظ رکھ کر آسانیاں دی گئی ہیں۔ اور تفسیر بحر محیط میں ہے کہ جب انسان کو اعمال صالحہ کا حکم دیا گیا تو یہ احتمال تھا کہ اس کو یہ حکم اس لئے بھاری معلوم ہو کہ تمام اعمال صالحہ ہر جگہ ہر حال میں بجا لانا تو انسان کے بس میں نہیں، اس لئے اس کے شبہ کو ان الفاظ سے دور کردیا گیا کہ ہم تمام انسانی زندگی کے مختلف ادوار اور حالات کا جائزہ لے کر ہر حال میں اور ہر وقت اور ہر جگہ کے لئے مناسب احکام دیتے ہیں جن پر عمل کرنا کوئی دشوار کام نہیں ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْھٰرُ۝ ٠ ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ ہَدٰىنَا لِـھٰذَا۝ ٠ ۣ وَمَا كُنَّا لِنَہْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ۝ ٠ ۚ لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۝ ٠ ۭ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ ٤٣ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے غل الغَلَلُ أصله : تدرّع الشیء وتوسّطه، ومنه : الغَلَلُ للماء الجاري بين الشّجر، وقد يقال له : الغیل، وانْغَلَّ فيما بين الشّجر : دخل فيه، فَالْغُلُّ مختصّ بما يقيّد به فيجعل الأعضاء وسطه، وجمعه أَغْلَالٌ ، وغُلَّ فلان : قيّد به . قال تعالی: خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] ، وقال : إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] وقیل للبخیل : هو مَغْلُولُ الید . قال : وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلالَ الَّتِي كانَتْ عَلَيْهِمْ [ الأعراف/ 157] ، وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ [ الإسراء/ 29] ، وَقالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ [ المائدة/ 64] ، أي : ذمّوه بالبخل . وقیل : إنّهم لمّا سمعوا أنّ اللہ قد قضی كلّ شيء قالوا : إذا يد اللہ مَغْلُولَةٌ أي : في حکم المقيّد لکونها فارغة ( غ ل ل ) الغلل کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو اور کبھی ایسے پانی کو غیل بھی کہہ دیتے ہیں اور الغل کے معنی درختوں کے درمیان میں داخل ہونے کے ہیں لہذا غل ( طوق ) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے کسی کے اعضار کو جکڑ کر اس کے دسط میں باندھ دیا جاتا ہے اس کی جمع اغلال اتی ہے اور غل فلان کے معنی ہیں اے طوق سے باندھ دیا گیا قرآن میں ہے : خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] اسے پکڑ لو اور طوق پہنادو ۔ إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] جب کہ ان لی گردنوں میں طوق ہوں گے ۔ اور ( کنایہ کے طور پر ) کنجوس شخص کو مغلول الید کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ [ الإسراء/ 29] اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا یعنی بہت تنگ کرلو ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ [ المائدة/ 64] اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ گردن سے بندھا ہوا ہے ( یعنی اللہ بخیل ہے ) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں ۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر بخیل کا الزام لگاتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ جب انہوں نے یہ سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا فیصلہ کردیا ہے تو کہنے لگے پھر تو اللہ کا ہاتھ مقید ہے یعنی فارغ ہونے کی وجہ سے مقید کے حکم میں ہے تو ہر آیت ناذل ہوئی اور آیت کریمہ : إِنَّا جَعَلْنا فِي أَعْناقِهِمْ أَغْلالًا[يس/ 8] ہم نے ان گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں ۔ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں ہر قسم کی خبر سے محروم کر رکھا ہے جس طرح کہ ان کے قلوب پر مہر لگانا اور آنکھ وکان پر پردہ ڈالنا ذکر کیا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں جعلنا اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے لیکن یہ اس سزا کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں انہیں دی جائے گی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَجَعَلْنَا الْأَغْلالَ فِي أَعْناقِ الَّذِينَ كَفَرُوا[ سبأ/ 33] اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے ۔ جَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گومن وجہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشاره پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذ کور ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُور أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» أي : أصله وبقيّته ( ور ث ) الوارثۃ والا رث کے معنی عقد شرعی یا جو عقد کے قائم مقام ہے جو کے بغیر کسی چیز کے ایک عقد کے قائم مقام ہے کے بغیر کسی چیز کے ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دسرے کی ملکیت میں چلے جانا کئے ہیں اسی سے میت کی جانب سے جو مال ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے اسے تراث اور کیراث کہا جاتا ہے اور تراث اصل میں وراث ہے واؤ مضموم کے شروع میں آنے کی وجہ سے اسے تا سے تبدیل کرلو اسے چناچہ قرآن میں سے ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] اور حج کے موقعہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ۔«اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» کہ اپنے مشاعر ( مواضع نسکہ ) پر ٹھہرے رہو تم اپنے باپ ( ابراہیم کے ورثہ پر ہو ۔ تو یہاں ارث کے معنی اصل اور بقیہ نشان کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ کی بجاآوری کی اور ہم اعمال کا مکلف اس کی طاقت سے زیادہ نہیں بناتے یہ مومن جنت والے ہیں یہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَآز اولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) یہ مضمون سورة البقرۃ کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ اب یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ آخرت کا محاسبہ انفرادی طور پر ہوگا اور ہر فرد کی صلاحیتوں اور اس کو ودیعت کی گئی نعمتوں کے عین مطابق ہوگا۔ کسی کی استطاعت سے زیادہ کی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: نیک عمل کے ذکر کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر یہ وضاحت فرمادی کہ نیک عمل کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جو اِنسان کی طاقت سے باہرہو، کیونکہ ہم نے کوئی حکم اِنسانوں کو ایسا نہیں دیا جو ان کی استطاعت میں نہ ہو۔ نیز شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طاقت کی حد تک نیک عمل کرنے کی کوشش کررہا ہو، اور پھر بھی اس سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو اﷲ تعالیٰ اس پر گرفت نہیں فرماتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(42 ۔ 43) ۔ اوپر قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا پھر فرمایا جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی صاف دل ہو کر جنت میں جاویں گے قتادہ (رح) کا قول ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ مجھ کو امید ہے کہ ان لوگوں میں میں اور عثمان (رض) اور طلحہ (رض) اور زبیر (رض) ہوں گے حضرت علی (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کی لڑائی جس کو جنگ جمل کہتے ہیں اس لڑائی میں طلحہ (رض) اور زبیر (رض) حضرت علی (رض) کے مخالف تھے اور حضرت عثمان (رض) کے قصاص کی بابت لڑائی تھی حضرت علی (رض) یہ فرماتے ہیں عقبیٰ میں یہ کدورت ہم لوگوں میں باقی نہ رہے گی بخاری میں ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب ایمان والے دوزخ سے نجات پاویں گے تو بہشت اور دوزخ کے درمیان میں ایک پل پر ٹھہرائے جاویں گے اور ان ظلموں کا بدلہ جو دنیا میں ان کے ذمہ تھے ہوگا اس بدلے کے بعد جب ان کے دل بغض سے پاک صاف ہوجاویں گے تو پھر ان کو بہشت میں جانے کا حکم ہوگا کیونکہ رنج وبغض سے عیش بےمزہ ہوجاتا ہے معتبر سند سے نسائی اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں ہے کہ تمام بہشتی لوگ اپنی جگہ پر دوزخ میں دیکھ کر بطور شکریہ کے کہیں گے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم کو ہدایت نہ کرتا تو ہم یہاں نہ ہوتے معتبر سند سے ابن ماجہ میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا گیا ہے اب جو نافرمان لوگ اپنی بدنصیبی سے ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جاویں گے اور ان کے جنت میں کے ٹھکانے لاوارث رہ جاویں گے ان لاوارث ٹھکانوں کا وارث اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کر دیگا اسی حدیث کی وراثت کا ذکر ان آیتوں میں ہے صحیح مسلم میں ابوسعید (رض) وابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے کہ جب بہشتی لوگ جنت میں داخل ہو چکیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ اے جنتیوں تمہارے واسطے یہ حکم ہے کہ تم جیتے رہو اور کبھی نہ مرو اور تندرست رہو کبھی بیمار نہ ہو جوان بنے رہو بوڑھے نہ ہو چین کرو کبھی رنجیدہ نہ ہو آواز سب جنتیوں کے کان میں پہنچے گی :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یہ جملہ ہم تو کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے جملہ معترضہ ہے اس لے ترجمہ میں قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے اس جملہ کو دمیان میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے لانے سے یہ بتابا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام فرض کئے ہیں وہ نہایت آسان اور انسانی طاقت کے اند ر ہیں لہذ ہر شخص کو ان کے لیے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے (کذافی لکبیر، وحیدی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ اوپر سزائے مکذبین کی تفصیل تھی اب جزائے مومنین کی تفصیل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلہ میں جنتیوں کا انعام و مقام۔ جنتیوں کا مرتبہ ومقام اور ان کا اجروثواب ذکر کرنے سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس میں ایک طرف جنتیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جنت کا حصول اور دین پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسری طرف جہنمیوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اپنے جرائم کی وجہ سے جہنم میں ہمیشہ سزا پائیں گے۔ یہ ان کے تکبر کا نتیجہ ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تو یہ ان کی ہمت سے باہر نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنے رب کی رضا پر مقدم جانا اور اس کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کا اوڑھنا بچھونا جہنم کی آگ کو بنادیا گیا۔ مفسر قرآن امام رازی (رح) لفظ ” وسع “ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں وسع کا معنیٰ ہے ایسا کام جو آسانی اور معمولی کوشش سے کیا جاسکے۔ اس کے مقابلہ میں ” جہد “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو کسی مشکل کام کی نشاندہی کرتا ہے اس سے پہلے جہنمیوں کا ایک دوسرے کے لیے بددعا کرنا اور لعنت کرنا بیان ہوا ہے۔ اب مومنوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کی خوش خبری دے کر یہ وضاحت کردی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ان کی آپس میں غلط فہمیوں کی وجہ سے جو ناچاتیاں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں جو رنجشیں پیدا ہوئیں۔ ان سے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٤٢ تا ٤٣۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا ۔ اور اس مضمون کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے کہ ” تم میں سے کوئی ایک بھی صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت کو نہ جائے گا “ ۔ کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی نہ جائیں گے ؟ ” نہیں میں بھی نہیں الا یہ کہ مجھے اللہ کی رحمت اور فضل ڈھانپ لے۔ “ ۔ ؛۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اس آیت اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول مبارک کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال بھی وحی پر مبنی ہوتے ہیں اور اسلامی فرقوں نے اس موضوع پر جو اختلافی مباحث کیے ہیں وہ غلط فہمی پر مبنی ہیں ۔ یہ اختلاف محض ذاتی خواہشات پر مبنی تھے ۔ اللہ کے علم میں تھا کہ انسان ضعیف کمزور اور عاجز مخلوق ہے ۔ وہ صرف اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت کے استحقاق کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ وہ دنیا میں کسی ایک نعمت کے استحقاق پر جنت میں داخل ہو سکتی ہے ۔ اس لئے اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا کہ وہ رحیم وکریم ہوگا اور انسانوں کی جانب سے تھوڑے بہت اچھے اعمال بھی قبول کرلے گا ۔ اور ان تھوڑے بہت اعمال ہی کی بناء پر ان کے نام جنت لکھ دے گا مگر یہ محض اس کا فضل وکرم ہوگا ۔ پس وہ اپنے عمل ہی کی وجہ سے جنت کے مستحق قرار پائیں گے لیکن ان تھوڑے اعمال پر استحقاق کی عطاء محض رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی ۔ ایک طرف یہ مفتری ‘ جھوٹے ‘ مجرم ‘ ظالم کافر اور مشرک اہل جہنم ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے ‘ باہم جھگڑیں گے ‘ ان کے دل کینہ پروری اور دشمنی سے جوش ماریں گے ‘ حالانکہ دنیا میں وہ ہم نشین اور دوست تھے ۔ دوسری جانب وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ نیک عمل والے تھے وہ جنت میں بھائی بھائی محبت کرنے والے دوست ‘ اولیائے باصفا اور ہم نشنیاں دلسوز ہوں گے اور ان پر محبت کا سایہ ہوگا۔ آیت ” وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ “۔ (٧ : ٤٣) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ بہرحال ایمان والے انسان ہی تو تھے ‘ انسانوں کی حیثیت سے انہوں نے زندگی بسر کی ۔ بارہا ایسا ہوا کہ وہ ایک دوسرے پر دنیا میں خفا ہوئے مگر انہوں نے اس خفگی کو چھپایا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی خلاف کدورت پیدا ہوئی مگر انہوں نے اس کدورت غلبہ پایا البتہ کچھ اثرات آخر تک ان کے دلوں میں موجود رہے ۔ قرطبی اپنی تفسیر احکام القرآن میں کہتے ہیں : ” حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ غل (کدورت) جنت کے دروازوں کے باہر پڑی ہوگی جس طرح اونٹوں کی مینگنیاں ۔ اللہ نے مومنین کے دلوں سے اس کو نکال پھینکا ہوگا۔ “ اور حضرت علی (رض) سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا ” میں امید کرتا ہوں کہ میں ” عثمان ‘ طلحہ ‘ اور زبیررضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں فرمایا (ونزعنا) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ اہل جہنم جب ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے تو دوسری جانب اہل جنت میں جن باغات میں ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور انکی وجہ سے پوری فضا پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاری ہوگی ۔ آیت ” تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَارُ “۔ (٧ : ٤٣) ” ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “ ایک طرف اہل جہنم ایکدوسرے کو کوس رہے ہوں گے اور دست دگریبان ہوں گے اور دوسری جانب اہل جنت اللہ کی تعریف اس کے احسانات کو اعتراف کررہے ہوں گے ۔ آیت ” وَقَالُواْ الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہَـذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلا أَنْ ہَدَانَا اللّہُ لَقَدْ جَاء تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ “۔ (٧ : ٤٣) ” اور وہ کہیں گے کہ ” تعریف خدا ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا ‘ ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول حق ہی لے کر آئے تھے۔ “ ایک طرف اہل جہنم کو بطور تحقیر وطنز اور برائے شرمساری یہ کہا جائے گا ۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّار “۔ (٧ : ٣٨) ” تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ آیت ” وَنُودُواْ أَن تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (43) ” اس وقت ندا آئے گی کہ ” یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں ان اعمال کے بدلے مین ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ۔ “ اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان مکمل تقابل ان آیات میں دے دیا گیا ہے ۔ غرض یہ مناظر مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اب ہمارے سامنے ایک نیا منظر ہے ۔ اہل جنت جنت میں اترچکے ہیں اور مطمئن ہیں اور اہل جہنم کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ اب یہی ان کا دائمی انجام ہے۔ چناچہ اہل جنت اب ان پر یہ آوازہ کستے ہیں اور وہ بھی بےبسی میں یہ جواب دیتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری اور جنت میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ان آیات میں اہل ایمان کی جزا کا ذکر فرمایا جو اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جنت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ فرمایا کہ ہم کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیتے جو اس کی قوت و طاقت سے باہرہو جس شخص کو جو حکم دیا گیا وہ اس کو کرسکتا ہے۔ یہ مضمون پہلے بھی (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) کے ذیل میں بیان ہوچکا ہے۔ اہل جنت جن نعمتوں میں ہوں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کا ذکر ہے۔ یہاں ایک خاص نعمت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ دنیا میں ان کے دلوں میں جو تھوڑا بہت کینہ تھا اور جو کچھ کدورت تھی ان کے سینوں سے اسے باہر نکال دیا جائے گا۔ جنت کا ماحول بغض، کینہ کپٹ لڑائی بھڑائی کو برداشت کرنے والا نہیں۔ جنت میں جانے والے سب میل محبت سے آمنے سامنے مسہریوں پر ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ (عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ) (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٦٠) میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں جو پہلی جماعت داخل ہوگی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔ پھر جو لوگ ان کے بعد داخل ہوں گے ان کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے کوئی بہت روشن ستارہ ہو۔ ان سب کے دل ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوگا اور نہ آپس میں کچھ بغض ہوگا۔ (یہ جو فرمایا کہ ان کے دل ایک ہی شخص کے دل پر ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب میں ایسی یگانگت ہوگی کہ گویا سب شخص واحد ہیں۔ ان کے درمیان باہمی کسی طرح کی کوئی رنجش نہ پائی جائے گی) ۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب مومنین دوزخ سے چھوٹ جائیں گے (یعنی پل صراط سے پار ہوجائیں گے) تو ان کو جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا اور آپس میں ایک دوسرے پر دنیا میں جو کوئی ظلم اور زیادتی ہوگئی تھی اس کا بدلہ دلایا جائے گا (تاکہ جنت میں رنجش اور کدورت کے ساتھ داخل نہ ہوں) یہاں تک کہ جب (حقوق کی ادائیگی سے) صاف ستھرے ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ہوجائے گی (یہ بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے یہ لوگ اپنے جنت والے گھر کو اس سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے جو ان کا گھر دنیا میں تھا۔ (رواہ البخاری ص ٩٦٧)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47: یہ بشارت اخروی ہے۔ “ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلّا وُسْعَھَا ” جملہ معترضہ ہے۔ “ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ الخ ” ایمان والوں کے دلوں میں دنیا میں ایک دوسرے کے بارے میں جو رنجشیں ہوں گی جنت میں ان کو دلوں سے محو کردیا جائے گا اور وہاں انہیں ہر قسم کا دلی سکوں حاصل ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 بروں کے ذکر کے بعد اب نیکوں کا ذکر فرماتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور یہ واقعہ ہے کہ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت و قوت اور برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی اتنا بوجھ رکھتے ہیں جس کی وہ برداشت کرسکتا ہے اس لئے نیک کاموں کا عامل بن جانا کچھ مشکل نہیں تو ایسے ہی حضرات اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے یعنی عقائد صحیح ہوں دلائل توحید پر ایمان ہو اور نیک کردار کے پابند ہوں تو وہی جنتی ہیں۔