Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 44

سورة الأعراف

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمۡ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾

And the companions of Paradise will call out to the companions of the Fire, "We have already found what our Lord promised us to be true. Have you found what your Lord promised to be true?" They will say, "Yes." Then an announcer will announce among them, "The curse of Allah shall be upon the wrongdoers."

اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم نے تو اس کو واقعہ کے مطابق پایا سو تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پایا؟ وہ کہیں گے ہاں پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو ان ظالموں پر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

People of Hellfire will feel Anguish upon Anguish Allah tells; وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ ... And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): Allah mentioned how the people of the Fire will be addressed, chastised and admonished when they take their places in the Fire, ... أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ ... "We (dwellers of Paradise) have indeed found true what our Lord had promised us; have you (dwellers of Hell) also found true what your Lord promised (warned)!" They shall say: "Yes." In Surah As-Saffat, Allah mentioned the one who had a disbelieving companion, فَاطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَاءِ الْجَحِيمِ قَالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ وَلَوْلاَ نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلاَّ مَوْتَتَنَا الاٍّولَى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ So he looked down and saw him in the midst of the Fire. He said: "By Allah! You have nearly ruined me. Had it not been for the grace of my Lord, I would certainly have been among those brought forth (to Hell)." (The dwellers of Paradise will say!) "Are we then not to die (any more) Except our first death, and we shall not be punished." (37:55-59) Allah will punish the disbeliever for the claims he used to utter in this life. The angels will also admonish the disbelievers, saying, هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see! Taste you therein its heat and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do. (52:14-16) The Messenger of Allah admonished the inhabitants of the well at Badr: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَسَمَّى رُوُوسَهُمْ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا O Abu Jahl bin Hisham! O Utbah bin Rabi`ah! O Shaybah bin Rabi`ah (and he called their leaders by name)! Have you found what your Lord promised to be true (the Fire)! I certainly found what my Lord has promised me to be true (victory). Umar said, "O Allah's Messenger! Do you address a people who have become rotten carrion!" He said, وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لاَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا By He in Whose Hand is my soul! You do not hear what I am saying better than they do, but they cannot reply. Allah's statement, ... فَأَذَّنَ مُوَذِّنٌ بَيْنَهُمْ ... Then a crier will proclaim between them, will herald and announce, ... أَن لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ The curse of Allah is on the wrongdoers. meaning, the curse will reside with the wrongdoers. Allah then described them by saying,

جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کیلئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے صحیح پایا تم اپنی کہو ۔ ان یہاں پر منسرہ ہے قول محذوف کا اور قد تحقیق کیلئے ہے ۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا ۔ جیسا سورۃ صافات میں فرمان ہے کہ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے کیا واقعہ ہی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا کہے گا قسم اللہ کی تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا ۔ اب بتاؤ دنیا میں جو کہا کرتا تھا کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو صبر اور بےصبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لئے یکساں ہے ۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابو جہل بن ہشام ، اے عتبہ بن ربیعہ ، اے شیبہ بن ربیعہ اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لئے جو اس نے مجھ سے کئے تھے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہوگئے؟ تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی ۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے ۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لئے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے ۔ حساب کا ڈر نہ تھا اس لئے سب سے زیادہ بد زبان اور بد اعمال تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 یہی بات نبی نے جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئیں تھیں۔ انہیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس پر حضرت عمر نے کہا تھا ' آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں ' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی قسم، میں انہیں جو کچھ کہ رہا ہوں، وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، لیکن اب وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣۔ الف ] جنت اور دوزخ میں اتنا زیادہ فاصلہ ہوگا جس کا ہمارے لیے اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں اور قرآن کی اس آیت اور بعض دوسری آیات سے اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ بھی ثابت ہے۔ جس سے کئی باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلاً ایک یہ کہ اس دوسری زندگی میں لوگوں کو جو سمعی اور بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ موجودہ زندگی سے بہت زیادہ قوی ہوں گی۔ دوسرے وہاں کا مواصلاتی نظام بھی موجودہ دنیا کے نظام سے بہت زیادہ سریع التاثیر ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم ٹیلی ویژن پر دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگوں کے مکالمات سن بھی سکتے ہیں اور انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور اس دوسری زندگی میں یہ ہوگا کہ اہل جنت میں سے اگر کسی کو اپنے ان ساتھیوں کا خیال آیا جو کافر اور دوزخ کے مستحق تھے اور وہ ان سے کلام کرنا چاہے گا تو ان کی اور ان کے احوال و ظروف کی تصویر ہی سامنے نہیں آئے گی بلکہ وہ اپنے اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے گفتگو بھی کرسکیں گے۔ یہ سورة مکی ہے اور اس مقام پر جن اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اس سے مراد غالباً وہی لوگ ہیں جو مسلمانوں کو حقیر مخلوق سمجھتے تھے اور ان کے متعلق قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ایسے لوگ کبھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق نہیں ہوسکتے ایسے ہی ناتواں اور نادار مسلمان جنت میں آرام پانے کے بعد اپنے ان متکبر ساتھیوں سے ہم کلام ہونا چاہیں گے جو انہیں حقیر سمجھا کرتے تھے۔ پھر ان میں وہی گفتگو ہوگی جو اس آیت میں مذکور ہے اور یہ مکالمہ ایسے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اس دنیا میں حسرت و یاس بڑھانے کے لیے یہاں مذکور ہوا ہے اور ایسے ظالموں پر اس دنیا میں بھی لعنت ہے اور اس جہان میں بھی لعنت ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۔۔ : جنتی جہنمیوں کی حسرت و ندامت بڑھانے کے لیے اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے اور انتقام لینے کے لیے ان سے یہ باتیں کہیں گے : (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ , عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ ) [ المطففین : ٣٤ تا ٣٦ ] ” سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں، تختوں پر ( بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں، کیا کافروں کو اس کا بدلہ دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے ؟ “ بالکل یہی الفاظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے مشرک مقتولین سے کہے تھے، چناچہ انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم دیا، تو انھیں بدر کے ایک نہایت گندے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ تیسرے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار ہو کر اس کی طرف چلے، کنویں کے کنارے پر جا کھڑے ہوئے، آپ کے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک ایک کا نام لے کر پکارنا شروع کیا : ” اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی ؟ کیونکہ ہم نے تو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا سچا پا لیا، تو کیا تم نے بھی جو وعدہ تمہارے رب نے کیا تھا سچا پا لیا ؟ “ تو عمر (رض) نے کہا : ” آپ ایسے لاشوں سے بات کر رہے ہیں جن میں جان ہی نہیں۔ “ فرمایا : ” تم ان سے زیادہ وہ بات نہیں سن رہے جو میں انھیں کہہ رہا ہوں۔ “ قتادہ نے کہا کہ اللہ نے انھیں زندگی دی، یہاں تک کہ انھیں آپ کی بات ڈانٹنے، ذلیل کرنے، انتقام اور حسرت و ندامت کے لیے سنوا دی۔ [ بخاری، المغازی، باب قتل أبی جہل : ٣٩٧٦ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور (جب اہل جنت جنت میں جا پہنچیں گے اس وقت وہ) اہل جنت اہل دوزخ کو (اپنی حالت پر خوشی ظاہر کرنے کو اور ان کی حسرت بڑھانے کو) پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا (ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے سے جنت دیں گے) ہم نے اس کو واقع کے مطابق پایا سو (تم بتلاؤ کہ) تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا (کہ کفر کے سبب دوزخ میں پڑو گے) تم نے بھی اس کو مطابق واقع کے پایا (یعنی اب تو حقیقت اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق اور اپنی گمراہی کی معلوم ہوئی) وہ (اہل دوزخ جواب میں) کہیں گے ہاں (واقعی سب باتیں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ٹھیک نکلیں) پھر (ان دوزخیوں کی حسرت اور جنتیوں کی مسرت بڑھانے کو) ایک پکارنے والا (یعنی کوئی فرشتہ) دونوں (فریق) کے درمیان میں (کھڑا ہوکر) پکارے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو ان ظالموں پر جو اللہ کی راہ (یعنی دین حق) سے اعراض کیا کرتے تھے اور اس (دین حق) میں (ہمیشہ بزعم خود) کجی (کی باتیں) تلاش کرتے رہتے تھے (کہ اس میں عیب اور اعتراض پیدا کریں) اور وہ لوگ (اس کے ساتھ) آخرت کے بھی منکر تھے (جس کا نتیجہ آج بھگت رہے ہیں، یہ کلام تو اہل جنت کا اور ان کی تائید میں اس سرکاری منادی کا مذکور ہوا، آگے اعراف والوں کا ذکر ہے) اور ان دونوں (فریق یعنی اہل جنت اور اہل دوزخ) کے درمیان آڑ (یعنی دیوار) ہوگی (جس کا ذکر سورة حدید میں ہے : (آیت) فضرب بینھم بسور الخ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی، رہا یہ کہ پھر گفتگو کیونکر ہوگی، سو ممکن ہے کہ اس دیوار میں جو دروازہ ہوگا، جیسا سورة حدید میں ہے (آیت) بسور لہ باب، اس باب میں سے یہ گفتگو ہوجاوے، یا ویسے ہی آواز پہنچ جاوے) اور (اس دیوار کا یا اس کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے اور اس پر سے جنتی اور دوزخی سب نظر آویں گے سو) اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے (جن کی حسنات اور سیئات میزان میں برابر وزن کی ہوئیں) جو لوگ (اہل جنت اور اہل دوزخ میں سے) ہر ایک کو (علاوہ جنت اور دوزخ کے اندر ہونے کی علامت کے) ان کے قیافہ سے (بھی) پہچانیں گے (قیافہ یہ کہ اہل جنت کے چہروں پر نورانیت اور اہل دوزخ کے چہروں پر ظلمت اور کدورت ہوگی، جیسا دوسری ( آیت) میں ہے وجوہ یؤ مئذ مسفرۃ ضاحکۃ الخ) اور یہ اہل اعراف اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم، ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، اور اس کے امیدوار ہوں گے (چنانچہ حدیثوں میں آیا ہے کہ ان کی امید پوری کردی جاوے گی اور جنت میں جانے کا حکم ہوجاوے گا) اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف جا پڑیں گی (اس وقت ہول کھا کر) کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ (عذاب میں) شامل نہ کیجئے اور (جیسے ان اہل اعراف نے اوپر اہل جنت سے سلام و کلام کیا اسی طرح) اہل اعراف (دوزخیوں میں سے) بہت سے آدمیوں کو (جو کہ کافر ہوں گے اور) جن کو ان کے قیافہ (ظلمت و کدورت چہرہ) سے پہچانیں گے (کہ یہ کافر ہیں) پکاریں گے (اور) کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا (اور انبیاء کا اتباع نہ کرنا) تمہارے کچھ کام نہ آیا (اور تم اسی تکبر کی وجہ سے مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ بیچارے کیا مستحق فضل و کرم ہوتے، جیسا (آیت) اھوالاء من اللّٰہ علیہم من بیننا سے بھی یہ مضمون مفہوم ہوتا ہے، تو ان مسلمانوں کو اب تو دیکھو) کیا یہ (جو جنت میں عیش کر رہے ہیں) وہی (مسلمان ہیں) جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نہ کرے گا (تو ان پر تو اتنی بڑی رحمت ہوئی کہ) ان کو یہ حکم ہوگیا کہ جاؤ جنت میں (جہاں) تم پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ تم مغموم ہوگے (اور اس کلام میں جو رجالاً کی تخصیص کی، غالباً وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہنوز عصاة مؤمنین بھی دوزخ میں پڑے ہوں گے، قرینہ اس کا یہ ہے کہ جب اہل اعراف امید جنت میں ہیں مگر داخل جنت نہیں ہوئے ہوں گے، تو گنہگار لوگ جن کے سیئات اہل اعراف کے سیئات سے زیادہ ہیں، ظاہراً بدرجہ اولیٰ دوزخ سے ابھی نہ نکلے ہوں گے، مگر ایسے لوگ اس کلام کے مخاطب نہ ہوں گے، واللہ اعلم۔ معارف و مسائل جب اہل جنت جنت میں اور دوذخ والے دوزخ میں اپنے اپنے مستقر پر پہنچ جائیں گے، اور ظاہر ہے کہ ان دونوں مقامات میں ہر حیثیت سے بعد بعید حائل ہوگا، لیکن اس کے باوجود قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ ان دونوں مقامات کے درمیان کچھ ایسے راستے ہوں گے جن سے ایک دوسرے کو دیکھ سکے گا، اور ان کے آپس میں مکالمات اور سوال و جواب ہوں گے۔ سورة صافات میں دو شخصوں کا ذکر مفصل آیا ہے جو دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے لیکن ایک مومن دوسرا کافر تھا، آخرت میں جب مومن جنت میں اور کافر جہنم میں چلا جائے گا تو یہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور باتیں کریں گے ارشاد ہے : (آیت) فاطلع فراہ فی سواء الجحیم تا نحن بمعذبین، جس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جنتی ساتھی جھانک کر دوزخی ساتھی کو دیکھے گا تو اس کو وسط جہنم میں پڑا ہوا پائے گا، اور کہے گا کہ کمبخت تو یہ چاہتا تھا کہ میں بھی تیری طرح برباد ہوجاؤ ں، اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو آج میں بھی تیرے ساتھ جہنم میں پڑا ہوتا، اور تو جو مجھ سے یہ کہا کرتا تھا کہ اس دنیا کی موت کے بعد کوئی زندگی اور کوئی حساب کتاب یا ثواب عذاب ہونے والا نہیں، اب دیکھ لو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ آیات مذکورہ اور ان کے بعد بھی تقریباً ایک رکوع تک اسی قسم کے مکالمات اور سوال و جواب کا تذکرہ ہے، جو اہل جنت اور اہل جہنم کے آپس میں ہوں گے۔ اور یہ جنت و دوزخ کے درمیان ایک دوسرے کو دیکھنے اور باتیں کرنے کے راستے بھی در حقیقت اہل جہنم کے لئے ایک اور طرح کا عذاب ہوگا کہ چار طرف سے ان پر ملامت ہوتی ہوگی، اور وہ اہل جنت کی نعمتوں اور راحتوں کو دیکھ کر جہنم کی آگ کے ساتھ حسرت کی آگ میں بھی جلیں گے، اور اہل جنت کے لئے نعمت و راحت میں ایک نئی طرح کا اضافہ ہوگا کہ دوسرے فریق کی مصیبت دیکھ کر اپنی راحت و نعمت کی قدر زیادہ ہوگی، اور جو لوگ دنیا میں دینداروں پر ہنسا کرتے تھے اور ان کا استہزاء کیا کرتے تھے، اور یہ کوئی انتقام نہ لیتے تھے، آج ان لوگوں کو ذلت و خواری کے ساتھ عذاب میں مبتلا دیکھیں گے تو یہ ہنسیں گے کہ ان کے عمل کی ان کو سزا مل گئی، قرآن کریم میں یہی مضمون سورة مطففین میں اس طرح ارشاد ہوا ہے (آیت) فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون تا یفعلون۔ اہل جہنم کو ان کی گمراہی پر تنبیہ اور ان کے احمقانہ کلمات پر ملامت فرشتوں کی طرف سے بھی ہوگی، وہ ان کو مخاطب کرکے کہیں گے (آیت) ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون تا تبصرون ” یعنی یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، اب دیکھو کہ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں نظر نہیں آتا “۔ اسی طرح آیات مذکورہ میں پہلی آیت میں ہے کہ اہل جنت اہل جہنم سے سوال کریں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جن نعمتوں اور راحتوں کا وعدہ کیا تھا ہم نے تو ان کو بالکل سچا اور پورا پایا تم بتلاؤ کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا وہ بھی تمہارے سامنے آگیا یا نہیں، وہ اقرار کریں گے کہ بیشک ہم نے بھی اس کا مشاہدہ کرلیا۔ ان کے اس سوال و جواب کی تائید میں اللہ جل شانہ کی طرف سے کوئی فرشتہ یہ منادی کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہے ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے، اور یہ چاہتے تھے کہ ان کا راستہ بھی سیدھا نہ رہے، اور وہ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے اہل اعراف کون لوگ ہیں جنت و دوزخ والوں کے باہمی مکالمات کے ضمن میں ایک اور بات تیسری آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پاگئے مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے، البتہ اس کے امیدوار ہیں کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں، ان لوگوں کو اہل اعراف کہا جاتا ہے۔ اعراف کیا چیز ہے، اس کی تشریح سورة حدید کی آیات سے ہوتی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے، ایک کھلے کافر و مشرک ان کو تو پل صراط پر چلنے کی نوبت ہی نہ آئے گی، پہلے ہی جہنم کے دروازوں سے اس میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ دوسرے مؤمنین ان کے ساتھ نور ایمان کی روشنی ہوگی۔ تیسرے منافقین، یہ چونکہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ لگے رہے وہاں بھی شروع میں ساتھ لگے رہیں گے، اور پل صراط پر چلنا شروع ہوں گے، اس وقت ایک سخت اندھیری سب کو ڈھانپ لے گی، مؤمنین اپنے نور ایمان کی مدد سے آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین پکار کر ان کو کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھائیں، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کہنے والا کہے گا کہ پیچھے لوٹو وہاں روشنی تلاش کرو، مطلب یہ ہوگا کہ یہ روشنی ایمان اور عمل صالح کی ہے، جس کے حاصل کرنے کا مقام پیچھے گزر گیا، جن لوگوں نے وہاں ایمان و عمل کے ذریعہ یہ روشنی حاصل نہیں کی، ان کو آج روشنی کا فائدہ نہیں ملے گا، اسی حالت میں منافقین اور مؤمنین کے درمیان ایک دیوار کا حصار حائل کردیا جائے گا، جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس دروازہ کے باہر تو سارا عذاب ہی عذاب نظر آئے گا، اور دروازہ کے اندر جہاں مؤمنین ہوں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مشاہدہ اور جنت کی فضا سامنے ہوگی، یہی مضمون اس آیت کا ہے (آیت) یوم یقول المنفقون المنفقت تا قبلہ العذاب اس آیت میں وہ حصار جو اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان حائل کیا جائے گا اس کو لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ لفظ دراصل شہر پناہ کے لئے بولا جاتا ہے، جو بڑے شہروں کے گرد غنیم سے حفاظت کے لئے بڑی مضبوط، مستحکم چوڑی دیوار سے بنائی جاتی ہے، ایسی دیواروں میں فوج کے حفاظتی دستوں کی کمین گاہیں بھی بنی ہوتی ہیں، جو حملہ آوروں سے باخبر رہتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَيَبْغُوْنَہَا عِوَجًا۝ ٠ ۚ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ كٰفِرُوْنَ۝ ٤٥ ۘ صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہاے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ عوج الْعَوْجُ : العطف عن حال الانتصاب، يقال : عُجْتُ البعیر بزمامه، وفلان ما يَعُوجُ عن شيء يهمّ به، أي : ما يرجع، والعَوَجُ يقال فيما يدرک بالبصر سهلا کالخشب المنتصب ونحوه . والعِوَجُ يقال فيما يدرک بالفکر والبصیرة كما يكون في أرض بسیط يعرف تفاوته بالبصیرة والدّين والمعاش، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، ( ع و ج ) العوج ( ن ) کے معنی کسی چیز کے سیدھا کپڑا ہونے کی حالت سے ایک طرف جھک جانا کے ہیں ۔ جیسے عجت البعیر بزمامہ میں نے اونٹ کو اس کی مہار کے ذریعہ ایک طرف مور دیا فلاں مایعوج عن شئی یھم بہ یعنی فلاں اپنے ارادے سے بار نہیں آتا ۔ العوج اس ٹیڑے پن کر کہتے ہیں جو آنکھ سے بسہولت دیکھا جا سکے جیسے کھڑی چیز میں ہوتا ہے مثلا لکڑی وغیرہ اور العوج اس ٹیڑے پن کو کہتے ہیں جو صرف عقل وبصیرت سے دیکھا جا سکے جیسے صاف میدان کو ناہمواری کو غور فکر کے بغیر اس کا ادراک نہیں ہوسکتا یامعاشرہ میں دینی اور معاشی نا ہمواریاں کہ عقل وبصیرت سے ہی ان کا ادراک ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28]( یہ ) قرآن عربی رہے ) جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ہے : آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤۔ ٤٥) یعنی ہم نے تو ثواب اور کرامت واضح طور پر دیکھ لیا، اے اہل جہنم ! کیا تم نے بھی عذاب اور ذلت کو صحیح پایا۔ پھر اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ان کافروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور لعنت نازل ہو، جو لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکا کرتے تھے اور دین میں کجی کی باتیں پیدا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جینے کے بھی منکر تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (وَنَادآی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا) جن نعمتوں کا اللہ نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہمیں مل گئیں۔ اللہ کا وعدہ ہمارے حق میں سچ ثابت ہوا۔ (فَہَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّاط قالُوْا نَعَمْ ج) اہل جہنم جواب دیں گے کہ ہاں ! ہمارے ساتھ بھی جو وعدے کیے گئے تھے وہ بھی سب پورے ہوگئے۔ جو وعیدیں ہمیں دنیا میں سنائی جاتی تھیں ‘ عذاب کی جو مختلف شکلیں بتائی جاتی تھیں ‘ وہ سب کی سب حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے موجود ہیں اور اس وقت ہم ان میں گھرے ہوئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(44 ۔ 45) ۔ جس وقت بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاویں گے تو جنتی لوگ دوزخیوں کو حسرت دلانے کی غرض سے پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا جو اس نے ہم سے اپنے رب کا وعدہ سچاپایا جو اس نے ہم سے اپنے رسولوں کی معرفت کیا تھا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچاپایا کہ تم اپنے اعمال کی سزا کو پہنچے یا نہیں اس وقت دوزخی سخت نادم وقائل ہو کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اللہ کا وعدہ سچاپایا غرض کہ اس گفتگو کے بعد ایک پکارنے والا پکارے گا کہ لعنت خدا کی ان ظالموں پر جو خدا راہ سے لوگوں کو روکتے اور سیدھے راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیتے اور اس میں کجی چاہتے تھے اور آخرت کا انکار کرتے حساب و کتاب کا کچھ خوف نہیں کرتے تھے اسی واسطے گناہ کرنے پر دلیر تھے جس کو آخرت کا یقین ہوتا ہے وہی گناہ کرنے سے ڈرتا ہے جانتا ہے کہ ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا جس طرح جنت والے دوزخیوں سے دریافت کریں گے اسی طرح پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن ان کافروں سے دریافت فرمایا جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے تھے چناچہ بخاری۔ ابن ابی شیبہ اور ابن مردو یہ نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے یہ قصہ روایت کیا ہے کہ بدر کے روز بدر کے کنویں پر جس میں کافروں کی نعشیں پڑی ہوئی تھیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر اس آیت شریف کو پڑھا ھل وجدتم ماوعدربکم حقا جس کا مطلب یہ ہے کہ پایا تم نے وعدہ پروردگار اپنے کا سچا “ اس وقت حضرت عمر (رض) نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ ایسے لوگوں سے جو کہ مرگئے ہیں کلام کرتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ یہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے یہ روایت صحیح بخاری ومسلم میں انس (رض) بن مالک سے بھی آئی ہے اس سے مردوں کا سننا ثابت ہوتا ہے مگر نہ ہمیشہ بلکہ جب خدا چاہے ان کو سنوا دے اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ مردوں سے مرادیں مانگی جادیں مرادوں کا دینا خاص اللہ تعالیٰ کا کام ہے اکثر اسی دھو کے میں آکر باوجود مسلمان ہونے کے قبر پرست بن گئے ہیں خدا تعالیٰ ایسے اعتقاد سے اپنی پناہ میں رکھے کیونکہ اگرچہ جس طرح اس حدیث میں مردوں کے سننے کا ذکر ہے اسی طرح براء بن عازب (رض) کی صحیح حدیث جو گذر چکی ہے اس میں بھی یہ ذکر ہے کہ ابھی مردہ ان لوگوں کی جوتیوں کی کھس کھس کی آواز سنتا ہی ہوتا ہے جو لوگ اس مردہ کو دفن کر کے اپنے گھروں کو الٹے پھرتے ہیں کہ منکرنکیر سوال و جواب کے لئے مردے کے پاس آجاتے ہیں لیکن اس خاص موقعہ پر مردوں کے سننے سے یہ بات کسی طرح ثابت نہیں ہوتی کہ یہ قبر پرست لوگ اللہ تعالیٰ اپنی مرادوں کا مانگنا چھوڑ کر بعضے مردوں سے جو اپنی مرادی مانگتے ہیں تو ان مردوں کو یہ قدرت بھی حاصل ہوگئی ہے کہ ان مراد مندوں کی مراد کو سن کر ان کی اس مراد کو پورا بھی کرسکتے ہیں بدر کے دن جن مقتولوں کا ذکر اوپر گذرا اسی ذکر کی مسندامام احمد اور صحیح مسلم میں انس بن مالک (رض) کی جو روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ سننتے تو ہیں مگر ان کو جواب دینے کی قدرت نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ قبر پرست لوگ مردوں میں جواب باصواب دینے کی قدرت کا اعتقاد دل میں رکھ کر جو ان مردوں سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں یہ اس صحیح حدیث کے بالکل خلاف ہے علاوہ اس کے یہ بھی ہے کہ جب بہت سی آیتوں اور حدیثوں سے یہ بات باثت ہوچکی ہے کہ ہر طرح کی مراد کا پورا کرنا خاص اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور کسی کا اس میں کچھ دخل اور اختیار نہیں ہے تو پھر کسی زندہ یا مردہ میں اس طرح کے اختیار کا اعتقاد رکھنا مشرکوں کا شیوہ ہے مسلمانوں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:44) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب ندائ۔ مصدر (باب مفاعلۃ) اس نے پکارا یہاں ماضی بمعنی مضارع ہے۔ اذن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے پکارا۔ الاذن سے مشتق ہے۔ اذن بمعنی کان۔ استعارہ کے طور پر وہ شخص جو ہر ایک کی بات سن کر اسے مان لیتا ہے جیسے قرآن میں ہے ویقولون ھو اذن (9:61) اور کہتے ہیں کہ وہ نرا کان ہے یعنی ہر ایک کی بات سن کر مان لینا ہے۔ اذن سے دیگر مشتقات اذن حکم۔ اجازت ۔ ارادہ ۔ مشیت۔ اذن اس سے سنا اس نے حکم دیا۔ واذنت لربھا وحقت (84:2) اور وہ اپنے رب کا فرمان سنے گی۔ اور اسے واجب بھی ہے۔ اور لایتکلمون الا من اذن لہ الرحمن (78:38) نہیں کلام کریں گے۔ مگر وہ (کلام کرسکیں گا) جسے اسی کا رحمن (اللہ تعالیٰ ) حکم سے گا۔ واذن (باب تفعیل) وہ پکارا۔ مؤذن۔ پکارنے والا۔ اور (باب تفعل) سے واذتاذن ربک (7:167) اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا۔ مؤذن۔ سے مراد بعض نے اسرافیل (صاحب صور) لیا ہے بہرکیف اس سے مراد کوئی فرشتہ ہے جو اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کو سن سکتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یہ بات دوزخیوں کور تقریع اور توبیخ کے طور پر کہی جائے گی بالکل انہی الفا ظ کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن جو کافرقتل ہوگئے تھے ان کے نام لے لے کر پکارا تو حضرت عمر نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ مردہ لاشوں کو پکار ہے ہیں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اذیت اور حسرت میں اضافے کی غرض سے ان کو زندہ کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد انہیں سنوادیا تھا واللہ اعلم (ابن کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ وجدنا (ہم نے پا لیا ) ۔ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا تھا) ۔ حق (سچ ۔ سچا ) ۔ وجدتم (تم نے پایا ) ۔ نعم (جی ہاں) ۔ موذن (پکارنے والا۔ اعلان کرنے والا ) ۔ یصدون (وہ روکتے ہیں ) ۔ یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں ) ۔ عوج (ٹیڑ ھا پن۔ کجی ) ۔ حجاب (پردہ ) ۔ الاعراف (ٹیلے۔ پردے) ۔ یطمعون (وہ امید رکھتے ہیں) ۔ صرفت (پھیر دی گئی۔ (پھیر دی جائیں گی) ۔ لا تجعلنا (تونہ بنا ہمیں) ۔ یعرفون (وہ پہچان لیں گے ) ۔ سیما (پیشانیاں۔ نشانیاں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (44 تا 49 ) ۔ ” ان آیات میں تین جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے (1) اہل جنت (2) اہل جہنم (3) جنت اور جہنم کے درمیان کسی اونچے مقام پر جنت میں جانے کی تمنا لئے ہوئے۔ جنت اور جہنم کتنی بڑی ہوں گی اور ان کے درمیان طویل ترین فاصلے کتنے ہوں گے ان کو تصور اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن وہاں کے طبعی قوانین یہاں کے طبعی قوانین سے بہت مختلف ہوں گے۔ بصارت اور سماعت دونوں بہت تیز ہوں گی یہاں تک کہ یہ تینوں گروہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکیں گے اور آپس میں باتیں اور تبصرے بھی کریں گے۔ یہ باتیں شاید آج سے ایک سو سال پہلے والے لوگوں کے لئے تعجب کی بات ہوگی لیکن آج موجودہ سائنس نے ہمیں آنکھوں سے دکھا دیا ہے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر کئی کئی ملکوں میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں گفتگو اور تبصرے کرتے ہیں۔ اور اس کو کروڑوں انسان سنتے ہیں۔ آج یہ حال ہے نجانے آج سے پچاس سال بعدیہ ترقیات کہاں تک پہنچ جائیں گی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ بہر حال جنتی، جہنمی اور اعراف والے ایک دوسرے سے باتیں کریں گے۔ ان آیات میں مکہ کے کفار اور مشرکین کے دلوں میں زیادہ اثر ڈالنے کے لئے قیامت کے دن جو کچھ ہوگا۔ اس کے ایک حصہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دیکھنا سننے سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے خواہ تصور کی آنکھ سے ہو۔ اہل جنت خوشی سے بےقرار ہو کر پکار اٹھیں گے کہ ہم لوگوں سے اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو وعدے کئے تھے وہ اس نے پورے کر دکھائے۔ ۔۔ ۔ جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ اللہ نے تمہیں بھی جہنم کے برے انجام سے آگاہ کرکے وعدہ کی تھا۔ ۔۔ ۔ کیا وہ سب کچھ تمہارے ساتھ ہو کر رہا ؟ وہ حسرت و افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ بیشک وہی ہوا جیسا کہا گیا تھا۔۔۔۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو صراط مستقیم سے روکا کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر اعتراض کی گنجائش تلاش کیا کرتے تھے تاکہ خود کو بھی فریب دے کر بہکتے رہیں اور دوسروں کو بھی بہکائیں۔ یہی وہ لوگ تھے جو حیات بعد الموت کے منکر تھے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ آج ایسے لوگوں کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا جائے گا اور جنت اور جہنم والوں کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا جائے گا۔ کچھ لوگ وہ بھی ہوں گے جو جنت اور جہنم کے درمیان اونچے ٹیلوں پر جمع ہوں گے اور جنت کے امیدوار ہوں گے ان ہی لوگوں کو اصحاب الاعراف کہا جاتا ہے۔ یہ اصحاب الاعراف وہ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برئیاں برابر ہوں گی وہ اہل جنت کو پہچان کر ان کو سلام کریں گے اور ان پر سلامتی بھیجیں گے دوسری طرف وہ اہل جہنم کو دیکھ کر چلا اٹھیں گے اور رب العالمین سے فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ فرمایئے گا۔ دوزخ میں چند بڑے بڑے لوگوں، حکمرانوں اور دولت مندوں کو دیکھ کر وہ کہیں گے کہ آج تم اللہ کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہو وہ تمہاری فوجیں ، تمہارے خزانے ، تمہاری توپیں، بندوقیں، تمہارے درباری اور خوشامدی لوگ کہاں ہیں جن پر تم ناز کرتے اور تکبر کیا کرتے تھے اس کے برخلاف وہ لوگ جن کو تم احمق، بادان اور حقیر و ذلیل سمجھتے تھے وہ جنت کے کتنے بلند مقام تک پہنچ چکے ہیں اور تم ؟ دوزخ میں جل جل کر مرنے اور مرمر کر جلنے کو جہنم کا ایندھن بنا دیئے گئے ہو۔ آخرت میں جنتی اور دوزخی ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور دونوں گروہ آپس میں کلام بھی کرسکیں گے اس کے لئے قرآن کریم میں بہت سی آیات نازل کی گئی ہیں جو اس سچائی پر شاہد و گواہ ہیں ۔ ۔۔ ۔ اس جگہ تین باتوں کی مزید وضاحت پیش خدمت ہے۔ 1) سورة صافات میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کی زندگی میں ایک دوسرے کے دوست تھے لیکن ان میں سے ایک نیک اعمال کی بدولت جنت کا اور دوسرا برے اعمال کی وجہ سے جہنم کا مستحق بن جائے گا۔ وہ آخرت میں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور باتیں کریں گے۔ 2) قرآن کریم کی بعض آیات سے ظاہر ہے کہ آخرت کا سلام ” سلام علیکم “ ہے جب کہ دنیا کا ” السلام علیکم “ ہے۔۔۔۔ السلام کے معنی ہیں دنیا اور آخرت کی سلامتی اس لئے دنیا میں ” السلام علیکم “ کہ اجئے گا لیکن آخرت میں جانے کے بعد دنیا کی سلامتی کا سوال ختم ہوجائے گا اس لئے ہوا ” سلام علیکم “ کہا جائے گا۔ فرشتے جب اہل جنت کا استقبال کریں گے تو ” سلام علیکم “ کہیں گے۔ 3) حضرت حذیفہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ جب حضور اکر م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی برئیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی سب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کو فیصلہ ہوگا۔ ۔۔۔۔ بالآخر ان کی مغفرت کردی جائے گی اور وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے سے جنت دیں گے۔ 5۔ یعنی اب تو حقیقت اللہ و رسول کے صدق اور اپنی گمراہی کی معلوم ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٤٤ تا ٤٥۔ یہ آوازہ کس قدر تو ہیں آمیز اور کس قدر تلخ ہے ؟ اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ اہل ایمان کو تو اچھی طرح یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی اٹل ہے لیکن وہ پھر بھی اہل جہنم سے سوال کرتے ہیں اور جواب میں وہ صرف لفظ ” ہاں “ منہ سے نکال سکتے ہیں ۔ صرف ایک ہاں پر جواب ختم اور بات کٹ جاتی ہے اور آواز آتی ہے : آیت ” فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْْنَہُمْ أَن لَّعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُونَ (45) ” تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ” خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے رہے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ۔ “ اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے ظالموں کا مفہوم کافروں کے مترادف ہے ۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھی راہ پر ڈال دیں اور یہی لوگ منکر قیامت ہیں۔ یہ صفت کہ وہ اللہ کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں بتاتی ہے کہ جو لوگ عوام کو اللہ کے راستے سے روکنا چاہتے ہیں ان کا منصوبہ کیا ہے ‘ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیڑھا راستہ تجویز کرتے ہیں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے پر نہیں ڈالتے ۔ وہ ٹیڑھ چاہتے ہیں اور ” سیدھ “ سے بھاگتے ہیں ۔ استقامت کی صورت ایک ہی ہے ۔ وہ یہ کہ انسان اللہ کے منہاج اور شریعت کو اپنا لے ۔ اس کے سوا تمام راستے ٹیڑھے ہیں اور جو کوئی دوسری راہ کا ارادہ کرے گا وہ آخر کار دار کفر میں پہنچ جائے گا ۔ کفر یہ ہے کہ انسان آخرت کی جواب دہی کا منکر ہوجائے اس لئے کہ اگر کسی کو آخرت میں ملاقات رب کا یقین ہو تو وہ ہر گز کسی کو اللہ کی راہ سے نہیں روکتا اور نہ وہ خود اللہ کے منہاج اور شریعت سے ایک طرف جاتا ہے ۔ غرض اللہ کی راہ سے روکنے والوں کی تصویر کشی اس آیت میں نہایت ہی صحیح اور جامع ومانع کی گئی ہے اور ہر دور میں دشمنان دین کی نفسیات یہی ہوتی ہیں ۔ اب منظر پر ایک نیا خطہ آتا ہے ‘ یہ جنت و جہنم کے درمیان حد فاصل ہے ۔ اس حدفاصل کے اوپر بھی کچھ مخلوق خدا بیٹھی ہے ‘ یہ لوگ اہل جنت کو بھی ان کی علامات سے پہچانتے ہیں اور اہل جہنم کو بھی انکی علامات سے پہچان لیتے ہیں ۔ دیکھئے ! یہ اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے کیا تاثرات پیش کرتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل جنت کا اہل دوزخ کو پکارنا اور دوزخیوں پر لعنت ہونے کا اعلان ہونا اہل جنت دوزخیوں کو آواز دیں گے اور ان کو خطاب کرتے ہوئے یوں پکاریں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے ایمان اور اعمال صالحہ پر جو عنایت اور مہربانی اور بخششوں کا وعدہ فرمایا تھا دنیا میں ہم نے بغیر دیکھے اس سب کی تصدیق کردی تھی۔ آج ہم نے یہاں ان سب وعدوں کے مطابق انعامات پا لیے جو وعدے ہم سے فرمائے گئے تھے ان سب کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اب تم کہو کہ کفر پر جو تمہارے رب نے تم کو اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ وعیدوں سے آگاہ فرمایا تھا کیا وہ وعیدیں سچی نکلیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کفر کی سزا سے دنیا ہی میں باخبر فرما دیا تھا ان خبروں کو تم نے صحیح پایا ؟ اس پر وہ لوگ جواب دیں گے ” نَعَمْ “ کہ ہاں ! ہم نے ان سب باتوں کو صحیح پایا۔ واقعی کتابوں اور رسولوں کے واسطہ سے جو اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبریں دی تھیں وہ سب ٹھیک نکلیں۔ جب وہ لوگ اس کا اقرار کرلیں گے کہ ہمیں جو کچھ بتایا گیا تھا وہ سب سچ تھا ہم نے نہ مانا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اس پر ایک پکارنے والا دونوں فریق کے درمیان کھڑے ہو کر یوں پکارے گا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ظالموں پر جو اللہ کی راہ سے یعنی دین حق سے روکتے تھے بلکہ بزعم خود اس میں کجی تلاش کرتے تھے یعنی ایسی باتیں ڈھونڈتے تھے جن کے ذریعہ حق میں عیب نکالیں اور اعتراض کریں۔ یہ لوگ نہ دین حق کو مانتے تھے نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے ان کی ان حرکتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیشہ ملعون ہوگئے ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار پڑگئی اور دوزخ کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوگئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

49: اس سوال سے جہنمیوں کو مزید حزن و ملال میں مبتلا کرنا اور اس حقیقت کا اظہار مقصود ہوگا کہ اہل ایمان ابدی سعادت پا چکے ہیں۔ والغرض من ھذا السؤال اظھار انہ وصل الی السعادات الکاملۃ و ایقاع الحزن فی قلب العدو (کبیر ج 4 ص 309) ۔ “ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ” اعلان کرنے والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ وہ اسرافیل صاحب الصور یا جبریل (علیہما السلام) ہوں گے یا کوئی اور غیر معین فرشتہ (بحر، روح وغیرہ) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44 اور اہل جنت اہل جہنم سے پکار پکار کر کہیں گے کہ ہمارے پروردگار نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو بالکل حق پایا اور وہ واقع کے مطابق نکلا اور جو کچھ اللہ کے پیغمبروں نے فرمایا تھا وہ حرف بہ حرف صحیح نکلا اور نیک اعمال کے صلہ میں ہم کو جنت مل گئی مگر تم بتائو تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو واقع کے مطابق پایا اور کفر و انکار کی پاداش میں تم کو بھی جہنم میں جانا پڑا۔ اہل جہنم کہیں گے ہاں ! سچا پایا اور وہی ہوا جو خدا کے پیغمبروں نے کہا تھا تب کوئی پکارنے والا خاص فرشتہ ان اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین پکار کر کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو ان ظالموں پر