People of Hellfire will feel Anguish upon Anguish
Allah tells;
وَنَادَى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ
...
And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying):
Allah mentioned how the people of the Fire will be addressed, chastised and admonished when they take their places in the Fire,
...
أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ
...
"We (dwellers of Paradise) have indeed found true what our Lord had promised us; have you (dwellers of Hell) also found true what your Lord promised (warned)!"
They shall say: "Yes."
In Surah As-Saffat, Allah mentioned the one who had a disbelieving companion,
فَاطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَاءِ الْجَحِيمِ
قَالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ
وَلَوْلاَ نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ
إِلاَّ مَوْتَتَنَا الاٍّولَى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
So he looked down and saw him in the midst of the Fire. He said: "By Allah! You have nearly ruined me. Had it not been for the grace of my Lord, I would certainly have been among those brought forth (to Hell)."
(The dwellers of Paradise will say!) "Are we then not to die (any more) Except our first death, and we shall not be punished." (37:55-59)
Allah will punish the disbeliever for the claims he used to utter in this life. The angels will also admonish the disbelievers, saying,
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ
اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see! Taste you therein its heat and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do. (52:14-16)
The Messenger of Allah admonished the inhabitants of the well at Badr:
يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَسَمَّى رُوُوسَهُمْ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا
O Abu Jahl bin Hisham! O Utbah bin Rabi`ah! O Shaybah bin Rabi`ah (and he called their leaders by name)! Have you found what your Lord promised to be true (the Fire)! I certainly found what my Lord has promised me to be true (victory).
Umar said, "O Allah's Messenger! Do you address a people who have become rotten carrion!"
He said,
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لاَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
By He in Whose Hand is my soul! You do not hear what I am saying better than they do, but they cannot reply.
Allah's statement,
...
فَأَذَّنَ مُوَذِّنٌ بَيْنَهُمْ
...
Then a crier will proclaim between them,
will herald and announce,
...
أَن لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
The curse of Allah is on the wrongdoers.
meaning, the curse will reside with the wrongdoers.
Allah then described them by saying,
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کیلئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے صحیح پایا تم اپنی کہو ۔ ان یہاں پر منسرہ ہے قول محذوف کا اور قد تحقیق کیلئے ہے ۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا ۔ جیسا سورۃ صافات میں فرمان ہے کہ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے کیا واقعہ ہی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا کہے گا قسم اللہ کی تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا ۔ اب بتاؤ دنیا میں جو کہا کرتا تھا کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو صبر اور بےصبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لئے یکساں ہے ۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابو جہل بن ہشام ، اے عتبہ بن ربیعہ ، اے شیبہ بن ربیعہ اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لئے جو اس نے مجھ سے کئے تھے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہوگئے؟ تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی ۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے ۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لئے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے ۔ حساب کا ڈر نہ تھا اس لئے سب سے زیادہ بد زبان اور بد اعمال تھے ۔