Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 54

سورة الأعراف

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾

Indeed, your Lord is Allah , who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne. He covers the night with the day, [another night] chasing it rapidly; and [He created] the sun, the moon, and the stars, subjected by His command. Unquestionably, His is the creation and the command; blessed is Allah , Lord of the worlds.

بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر قائم ہوا وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں ۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Universe was created in Six Days Allah says; إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ... Indeed, your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in Six Days, Allah states that He created the universe, the heavens and earth and all that is in, on and between them in six days, as He has stated in several Ayat in the Qur'an. These six days are: Sunday, Monday, Tuesday, Wednesday, Thursday and Friday. On Friday, the entire creation was assembled and on that day, Adam was created. There is a difference of opinion whether these days were the same as our standard days as suddenly comes to the mind, or each day constitutes one thousand years, as reported from Mujahid, Imam Ahmad bin Hanbal, and from Ibn Abbas according to Ad-Dahhak's narration from him. As for Saturday, no creation took place in it since it is the seventh day of (of the week). The word `As-Sabt' means stoppage, or break. Imam Ahmad recorded Abu Hurayrah saying: Allah's Messenger told me: خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الاَْحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الاْثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الاَْرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ ادَمَ عَلَيْهِ السَّلَمُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْم الْجُمُعَةِ فِي اخِرِ الْخَلْقِ فِي اخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْل Allah created the dust on Saturday, and He created the mountains on Sunday, and He created the trees on Monday, and He created the unpleasant things on Tuesday and He created the light on Wednesday and He spread the creatures through out it on Thursday and He created Adam after Asr on Friday. He was the last created during the last hour of Friday, between Asr and the night. Meaning of Istawa As for Allah's statement, ... ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ... and then He rose over (Istawa) the Throne. the people had several conflicting opinions over its meaning. However, we follow the way that our righteous predecessors took in this regard, such as Malik, Al-Awza`i, Ath-Thawri, Al-Layth bin Sa`d, Ash-Shafi`i, Ahmad, Ishaq bin Rahwayh and the rest of the scholars of Islam, in past and present times. Surely, we accept the apparent meaning of, Al-Istawa, without discussing its true essence, equating it (with the attributes of the creation), or altering or denying it (in any way or form). We also believe that the meaning that comes to those who equate Allah with the creation is to be rejected, for nothing is similar to Allah, لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَىْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer. (42:11) Indeed, we assert and affirm what the Imams said, such as Nu`aym bin Hammad Al-Khuza'i, the teacher of Imam Al-Bukhari, who said, "Whoever likens Allah with His creation, will have committed Kufr. Whoever denies what Allah has described Himself with, will have committed Kufr. Certainly, there is no resemblance (of Allah with the creation) in what Allah and His Messenger have described Him with. Whoever attests to Allah's attributes that the plain Ayat and authentic Hadiths have mentioned, in the manner that suits Allah's majesty, all the while rejecting all shortcomings from Him, will have taken the path of guidance." The Day and the Night are among the Signs of Allah Allah said, ... يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا ... He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, meaning, the darkness goes away with the light, and the light goes away with the darkness. Each of them seeks the other rapidly, and does not come late, for when this vanishes, the other comes, and vice versa. Allah also said; وَءَايَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَـا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرجُونِ الْقَدِيمِ لااَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَأ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلااَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ And a sign for them is the night. We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness. And the sun runs on its fixed course for a term (appointed). That is the decree of the All-Mighty, the All-Knowing. And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk. It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit. (36:37-40) Allah's statement, وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ (Nor does the night outstrip the day) (36:40) means, the night follows the day in succession and does not come later or earlier than it should be. This is why Allah said here, ... يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ... seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars subjected to His command. meaning, all are under His command, will and dominion. Allah alerted us afterwards, ... أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاَمْرُ ... Surely, His is the creation and commandment, the dominion and the decision. Allah said next, ... تَبَارَكَ اللّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ Blessed is Allah, the Lord of the all that exists! which is similar to the Ayah, تَبَارَكَ الَّذِى جَعَلَ فِى السَّمَأءِ بُرُوجاً Blessed be He Who has placed in the heaven big stars. (25:61) Abu Ad-Darda' said a supplication, that was also attributed to the Prophet, اللَّهُمَّ لَكَ الْمُلْكُ كُلُّـهُ وَلَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَإِلَيْكَ يُرْجَعُ الاَْمْرُ كُلُّهُ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّه O Allah! Yours is all the kingdom, all the praise, and Yours is the ownership of all affairs. I ask You for all types of good and seek refuge with You from all types of evil.

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک ۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہو چکی ۔ اسی دن حضرت آدم پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمولی دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ حضرت مجاہد کا قول ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس کا قول ہے ۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی ۔ اسی لئے اس کا نام عربی میں ( یوم السبت ) ہے ( سبت ) کے معنی قطع کرنے ختم کرنے کے ہیں ۔ ہاں مسند احمد نسائی اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے کہ اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور برائیوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جانوروں کو جمعرات کے دن اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں عصر سے لے کر مغرب تک ۔ حضور نے حضرت ابو ہریرہ کا ہاتھ پکڑ کر یہ گنوایا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی ۔ اسی وجہ سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت حضرت ابو ہریرہ نے کعب احبار سے لی ہے فرمان رسول نہیں ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہوا ۔ اس پر لوگوں نے بہت کچھ چہ میگوئیاں کی ہیں ۔ جنہیں تفصیل سے بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں ۔ مناسب یہی ہے کہ اس مقام میں سلف صالحین کی روش اختیار کی جائے ۔ جیسے امام مالک ، امام اوزاعی ، امام ثوری ، امام لیث ، امام شافعی ، امام احمد ، امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ ائمہ سلف وخلف رحمہم اللہ ۔ ان سب بزرگان دین کا مذہب یہی تھا کہ جیسی یہ آیت ہے اسی طرح اسے رکھا جائے بغیر کیفیت کے ، بغیر تشبیہ کے اور بغیر مہمل چھوڑنے کے ، ہاں مشبہین کے ذہنوں میں جو چیز آ رہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ پاک اور بہت دور ہے اللہ کے مشابہ اس کی مخلوق میں سے کوئی نہیں ۔ فرمان ہے آیت ( لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 11 ؀ ) 42- الشورى:11 ) اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے ۔ بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمتہ اللہ علیہم نے فرمائی ہے انہی میں سے حضرت نعیم بن حماد خزاعی رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔ آپ حضرات امام بخاری کے استاد ہیں فرماتے ہیں جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے وہ بھی کافر ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں ان میں ہرگز تشبیہ نہیں ۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں انہیں اسی طرح جانے جو اللہ کی جلالت شان کے شیان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے ۔ پھر فرمان ہے کہ رات کا اندھیرا دن کے اجالے سے اور دن کا اجالا رات کے اندھیرے سے دور ہو جاتا ہے ، ہر ایک دوسرے کے پیچھے لپکا چلا آتا ہے یہ گیا وہ آیا وہ گیا یہ آیا ۔ جیسے فرمایا آیت ( وایتہ لھم الیل ) الخ ، ان کے سمجھنے کیلئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آ جاتے ہیں ۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے ۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے ۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں ۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں ایک کا جانا ہی دوسرے کا آجانا ہے ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے آیت ( والشمس والقمر والنجوم ) کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے ۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے ۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان ، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں ۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے ۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے ۔ فرمان ہے آیت ( تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀ ) 25- الفرقان:61 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کسی نے کسی نیک پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے آیت ( اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54؀ ) 7- الاعراف:54 ) ( ابن جریر ) ایک مرفوع دعا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے دعا ( اللھم لک الملک کلہ ولک الحمد کلہ والیک یرجع الامر کلہ اسألک من الخیر کلہ و اعوذ بک من الشر کلہ ) یا اللہ سارا ملک تیرا ہی ہے سب حمد تیرے لئے ہی ہے سب کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں میں تجھ سے تمام بھلائیاں طلب کرتا ہوں اور ساری برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

54۔ 1 یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی، ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اس کو یوم البست کہا جاتا ہے، کیونکہ سبت کے معنی ہیں قطع (کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے ؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے ؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے۔ بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان اور زمین کی تخلیق کے بعد ہی یہ نظام قائم ہوا دوسرے یہ عالم بالا کا واقعہ ہے جس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے اس دن کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ہم قطعیت کے ساتھ کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ تو کُنْ سے سب کچھ پیدا کرسکتا تھا، اس کے باوجود اس نے ہر چیز کو الگ الگ درجہ بدرجہ سلسلہ وار بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم بعض علماء نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو آرام، وقار اور تدریج (سلسلہ وار) کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے۔ وَا للّٰہُ اَعْلَم 54۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر مستقر ( ّٹھہرا) ہے۔ لیکن کس طرح، کس کیفیت کے ساتھ، اسے ہم بیان نہیں کرسکتے کسی کے ساتھ تشبیہ ہی دے سکتے ہیں۔ نعیم بن حماد کا قول ہے ' جو اللہ کی تخلیق کے ساتھ تشبیہ دے اس نے بھی کفر کیا اور جس نے اللہ کی اپنے بارے میں بیان کردہ کسی بات کا انکار کیا، اس نے بھی کفر کیا ' اور اللہ کے بارے میں اس کی یا اس کے رسول کی بیان بات کو بیان کرنا، تشبیہ نہیں ہے۔ اس لئے جو باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں نص (قطعی حکم) سے ثابت ہیں، ان پر بلا تاویل اور بلا کیف و تشبیہ پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر) 54۔ 3 حثیثا کے معنی ہیں نہایت تیزی سے اور مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فورا آجاتا ہے یعنی دن کی روشنی آتی ہے تو رات کی تاریکی فوراً غائب ہوجاتی ہے اور رات آتی ہے تو دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے اور سب دور و نزدیک سیاہی چھا جاتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] یہاں دن سے مراد ہمارا یہ ٢٤ گھنٹے کا دن نہیں جو سورج سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہ سورج تو اس وقت موجود ہی نہ تھا۔ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر یوم کی مقدار ایک ہزار سال کا ذکر آیا ہے (٢٢ : ٤٧) اور دوسرے مقام پر پچاس ہزار سال کا (٧٠ : ٤) لہذا یہاں چھ دن سے چھ ادوار ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة حم السجدہ ٤١ کی آیات ٩ تا ١٢) [٥٤] استواء علی العرش کا مفہوم :۔ قرآن میں جہاں بھی استویٰ علی کا لفظ آیا ہے تو اس کے معنی قرار پکڑنا یا جم کر بیٹھنا ہے لیکن بعض عقل پرست فرقے جن میں جہمیہ اور معتزلہ سرفہرست ہیں آیت (اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ 59؀) 25 ۔ الفرقان :59) کا ترجمہ عرش پر متمکن ہوگیا یا کائنات کے نظام پر غالب آگیا یا زمام اختیار و اقتدار سنبھالی وغیرہ کرتے ہیں اور استویٰ کے معنی استولیٰ سے کرتے ہیں جن کے متعلق امام ابن قیم نے فرمایا کہ نون الیھود ولام جھمی ھما۔۔ فی وحی رب العرش زائد تان یعنی یہودیوں کا نون ( حطہ کی بجائے حنطہ کہنا) اور جہیمہ کالام (یعنی استویٰ کی بجائے استولیٰ سمجھنا) دونوں باتیں وحی الٰہی سے زائد ہیں۔ فرقہ جہمیہ کا تعارف :۔ جہیمہ فرقہ کا بانی جہم بن صفوان دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہشام بن عبدالملک (١٠٥ ھ تا ١٢٥ ھ) کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ یہ شخص ارسطو کے تجریدی نظریہ ذات باری سے متاثر تھا (ارسطو ایک یونانی فلاسفر تھا جو ذات باری کے وجود کا قائل تھا مگر تجریدی نظریہ رکھتا تھا اور آخرت کا منکر تھا) جہم اپنے زعم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مکمل تنزیہہ بیان کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کرتا تھا جو کتاب و سنت میں وارد ہیں اور اس تنزیہہ میں اس نے اس قدر غلو اور مبالغہ سے کام لیا کہ بقول امام ابوحنیفہ (رح) اس نے اللہ تعالیٰ کو لاشے اور معدوم بنادیا وہ اللہ تعالیٰ کے لیے جہت یا سمت مقرر کرنے کو شرک قرار دیتا تھا اور اس کی طرف ہاتھ، پاؤں، چہرہ، آنکھیں اور پنڈلی کی نسبت کرنے کو، جن کا قرآن میں ثبوت موجود ہے ناجائز قرار دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے عرش پر قرار پکڑنے یا اپنے ہاتھوں، آنکھوں، چہرے اور پنڈلی کا غیر مبہم الفاظ میں قرآن میں ذکر فرمایا ہے تو اس کی تنزیہہ خود اس سے زیادہ بہتر اور کون کرسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کا عرش کیسا ہے یا اس نے کس طرح عرش پر قرار پکڑا ہے یا اس کا چہرہ، آنکھیں اور ہاتھ وغیرہ کیسے ہیں تو یہ جاننے کے ہم مکلف نہیں ہیں کیونکہ اس نے خود ہی فرمایا ہے کہ آیت (فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ 74؀) 16 ۔ النحل :74) نیز فرمایا (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ 11 ؀) 42 ۔ الشوری:11) تو بس ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ جو کچھ کتاب و سنت میں مذکور ہے اسے جوں کا توں تسلیم کرلے اسے عقل اور فلسفہ کی سان پر چڑھا کر اس کی دوراز کار تاویلات و تحریفات پیش کرنا ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہوسکتا اور نہ قرآن ایسی فلسفیانہ موشگافیوں کا متحمل ہی ہوسکتا ہے کیونکہ جن لوگوں پر یہ قرآن نازل ہوا تھا وہ امی تھے اور فلسفیانہ موشگافیوں سے قطعاً نابلد تھے۔ صفات الہٰی میں بحثیں کرنے والے ملعون ہیں :۔ قرآن کی ایسی آیات جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور ہوں ان کی کرید کرنا اور ان کی عقلی توجیہات تلاش کرنا ان لوگوں کا کام ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے اور وہ یہ کام کسی فتنہ انگیزی یعنی کسی نئے فرقے کی طرح ڈالنے کی خاطر کرتے ہیں جس کے وہ قائد شمار ہو سکیں اور اس طرح امت کو فرقہ بازی کے فتنے سے دو چار کردیتے ہیں (ملاحظہ ہو سورة آل عمران کی آیت نمبر ٧ اور ٨) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ١٨٠۔ ) 7 ۔ الاعراف :180) یعنی جو لوگ اللہ کے اسماء (صفات الہیٰ ) میں ٹیڑھی راہیں اختیار کرتے ہیں ان کی کوئی بات نہ مانو یاد رہے کہ الحاد کا تعلق عموماً ایسے باطل عقائد سے ہوتا ہے جو صفات الٰہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ [٥٥] یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کر کے عرش پر قرار پکڑنے کے بعد بیٹھ نہیں گیا جیسا کہ بعض دوسرے گمراہ فرقوں کا خیال ہے بلکہ وہ پوری کائنات پر اکیلا کنٹرول کر رہا ہے یہ سورج چاند ستارے اس کی مقرر کردہ چال کے مطابق اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں اور اس کے حکم سے سرمو ادھر ادھر نہیں ہوسکتے اور کائنات میں جو کچھ تصرفات اور حوادث رونما ہو رہے ہیں سب اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ [٥٦] حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کے لیے ہے :۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہو اور تدبیر امور کائنات میں دوسرے بھی اس کے ساتھ شامل ہوجائیں کوئی بارش برسانے کا دیوتا ہو تو کوئی فصلیں پیدا کرنے والا اور کوئی دوسرا مال و دولت عطا کرنے والا ہو۔ جو چیزیں خود اللہ تعالیٰ کے فرمان کے آگے بےبس اور مجبور ہوں وہ دوسری چیزوں پر کیا حکم چلا سکتی ہیں ؟ اور انسانی زندگی پر کیسے اثر انداز ہوسکتی ہیں ؟ مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی مملوکہ چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے اور مملوک اسی کا تابع فرمان ہو۔ اگرچہ ربط مضمون کے لحاظ سے یہاں ستارہ پرستی کا رد مقصود ہے تاہم اس جملہ کا حکم عام ہے۔ یعنی اس دنیا میں انسانوں پر اللہ کے حکم کے سوا کسی دوسرے کا حکم چلنے کی کوئی وجہ نہیں۔ انسان اللہ کی مخلوق ہیں اور اسی کا عطا کردہ رزق کھاتے ہیں لہذا یہاں نہ حاکم کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے خلاف کوئی حکم دے اور نہ عام انسانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی دوسرے کا حکم مانیں۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس کام میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو ایسے کام میں کسی مخلوق کی اطاعت نہ کرنی چاہیے۔ نیز اس آیت کی رو سے نظام خلافت کے سوا باقی سب نظام ہائے سیاست باطل قرار پاتے ہیں جن میں اللہ کے سوا دوسروں کا قانون نافذ ہوتا ہے۔ [٥٧] برکت کا مفہوم :۔ برکت کا مطلب یہ ہے کہ جن متوقع فوائد اور خیر و بھلائی کے لیے کوئی چیز پیدا کی گئی ہے وہ پورے کے پورے فوائد اس سے حاصل ہوجائیں یہاں اللہ تعالیٰ کے بابرکت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی کوئی بھی چیز جس مقصد اور خیر و بھلائی کے لیے بنائی تھی اس سے پورے کے پورے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : ان چھ دنوں سے مراد دنیا کے چھ دن تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ ان کا وجود سورج اور زمین سے ہے اور اس وقت سورج تھا نہ زمین۔ اب یا تو مراد ہزار سال کا وہ دن ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہا : ( وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) [ الحج : ٤٧ ] ” اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو “ یا چھ ادوار مراد ہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (١٠) صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الاحد ( اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوئی اور جمعہ کے دن پوری ہوگئی۔ (ابن کثیر۔ المنار) اللہ تعالیٰ چاہتا تو لفظ ” کُنْ “ سے ایک لمحے میں سب کچھ پیدا فرما دیتا، مگر اس کی حکمت کا تقاضا اسی طرح کرنے کا تھا جو اس نے کیا۔ بعض اہل علم نے اس سے اپنے کام بالتدریج کرنے کا استنباط فرمایا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ : آیت کا یہ جملہ قرآن میں سات مقامات پر آیا ہے۔ آٹھویں جگہ سورة طہ (٥) میں (اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى) ہے۔ اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں۔ سلف صالحین نے بلا تاویل اللہ تعالیٰ کو عرش پر تسلیم کیا ہے، چناچہ منقول ہے کہ ” استواء “ کے معنی تو معلوم ہیں، مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے بالا ہے، اس کا اقرار عین ایمان ہے اور انکار کفر ہے۔ یہی مذہب چاروں اماموں کا ہے۔ پس صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے، تاہم اس کا علم و قدرت سب پر حاوی ہے۔ اہل السنہ کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا : یعنی رات کے بعد دن تیزی سے پہنچ جاتا ہے، کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور بال برابر اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ: یعنی جس طرح خلق ( پیدا کرنے) میں اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح حکم بھی اسی کا ہے، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، خواہ تکوینی حکم ہو جو ساری کائنات میں چلتا ہے، یا تشریعی، یعنی شریعت کا قانون جو اس نے اپنے بندوں کو ایک حد تک اختیار دے کردیا ہے اور جس پر عمل کے مطابق جنت یا جہنم کی جزا یا سزا ملے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Verse 54 begins with the statement that Allah has created the heavens and the earth and the planets and the stars and that they perform their functions under a firmly established system. The state¬ment releases an inevitable suggestion that the maker of this system has the most perfect power conceivable. This, in turn, invites every reasonable human being to think. Here is the most sacred Being who is capable of bringing this great universe from non-being to the state of being and who can keep it functioning through the wisest of systems. Why would it be difficult for him to undo everything and recreate it once again on the day of Qiyamah? For human beings, the best course is to stop denying the Qiyamah and turn to the same Being as their Rabb who is their Master and Nurturer. From Him they should seek what they need and Him alone they should worship. Let them come out of the quagmire of worshiping their own kind and recognize the truth. Said herein was: ` Surely, your Lord is Allah - Who created the heavens and the earth in six days.& The Creation of the Heavens and the Earth: Why in Six Days? A question arises here. We know that Allah Ta` ala has great power. He is capable of creating the whole universe in a single moment. The Holy Qur&an itself says so time and again. For instance, in Surah Al-Qamar, it is said: وَمَا أَمْرُ‌نَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ‌ ﴿٥٠﴾ (And Our Command is but a sin¬gle Word, - like the twinkling of an eye - 54:50). Again, in Surah Ya Sin, إِذَا أَرَ‌ادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (when [ Allah ] intends [ to create ] a thing it is said: “ Be” and it comes to be - 36:82). Why, then, would six days be spent in creating the universe? Commentator of the Qur&an, Sayyidna Said ibn Jubayr رضی اللہ تعالیٰ عنہ has given an answer by saying that Allah is certainly capable of creat¬ing everything there is in a single moment, but Divine wisdom so de¬manded that the creation of our universe take six days so that human beings could be taught the lesson of graduation and perfection in run-ning the universal system. This is supported by a Hadith in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Working with deliberation, dignity and graduation is from Allah Ta` ala and hastening, from Shaytan. (Mazhari, with reference to Shu&ab al-&iman by Al-Baihaqi) The implication is that the attitude of rushing into doing things is not good for human beings. One cannot give due thought to and take into consideration all aspects of an issue at hand if driven by haste. An action taken in haste spoils what is done and brings remorse in the end. So, whatever is done with proper advance thinking and functional ease brings Barakah (blessing from Allah which enhances the efficiency and outcome of the Endeavour). How were Days and Nights identified before the Creation of Earth, Heavens and Planets? The second question is: The presence of the day and night is recog¬nized through the movement of the sun. But, before the birth of the earth and the heavens, when there was no sun and moon, on what basis comes the count of six days? For this reason, some commentators have said that six days means a time duration equal to six days and nights as in the existing world. But, a much clearer approach is that the terminology of day and night, that is, what occurs from sunrise to sunset is day and what appears from sunset to the next sunrise is night, is a terminology used in this world. May be, before the birth of the universe, Allah Ta` ala had other signs determined for the day and night - as it would be in Paradise where the day and night will not depend on the movement of the sun. This also tells us that it is not necessary that the six days during which the earth and the heavens were created, be equal to our six days. Instead, it is possible that they may be longer than these - as the Qur&an says about the day of &Akhirah which will be equal to one thousand years. Abu ` Abdullah Razi has said that the movement of the far firma¬ment is so fast as compared to the movements of our earth that the raised step of a man running here has still to come down to touch the ground when the far firmament moves a distance of three thousand miles. (Al-Bahr Al-Muhit) Imam Ahmad ibn Hanbal and Mujahid say that six days here mean the six days of &Akhirah. The same view appears in a narration of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) reported by Dahhak. And these six days during which the creation of the universe took place began, according to authentic narrations, from Friday and ended on Friday. On Yowm al-Sabt (the day of Sabbath), that is, Saturday, there was no work done on the creation of the universe. Some ` Ulama say that ` sabt& means to discontinue. The day was named as Yowm al-Sabt because the work of creation was over by that day. (Tafsir Ibn Kathir) Mentioned in this verse is the creation of the universe in six days. Its details appear in verses 9 and 10 of Surah Ha Mim As-Sajdah (Fussilat - 41:9, 10) saying that the earth was created in two days, then, created on the earth were, mountains, rivers, tributaries, trees, vege¬tation and things, human beings and animals could eat, in another two days. This comes to a total of four days. So, it was first said: خَلَق الاَرضَ فِی یَومین (created the earth in two days) and then it was said: قَدَّرَ‌ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْ‌بَعَةِ أَيَّامٍ (and determined in it the measure of its sustenance in four days). The first two days during which the earth was created are Sunday and Monday; and the other two days during which the mountains, riv¬ers and the life support systems of the earth were created are Tuesday and Wednesday. Thereafter, it was said: فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْ (that is, then We completed the seven heavens in two days - 41:12 ). As obvious, these two days will be Thursday and Friday. Thus, by Friday, this becomes a total of six days. In the present verse (54), after mentioning the creation of the heavens and the earth, it was said: ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْ‌شِ (then He positioned Himself on the Throne). The word: اِسْتَوَىٰ (Istawa), as followed by &ala (on) here, literally means to take position on, or to settle, or be established. The word: عَرْ‌شِ (&Arsh) means throne. Now, the question is what is this throne, the throne of the great Rahman, and how is it shaped or constituted, or is as it is - and what would the phenomena of positioning& on it mean? Regarding this, the safest creed to hold, that which is clear and correct, and fairly doubt-free too, is no other but that of the most right¬eous elders, the Sahabah and the Tabi` in - and later, that of many Sufi thinkers as well. The creed is that human reason is incapable of com¬prehending the reality of the Being and Attributes of Allah Jalla Sha&nuhu. Pursuing the knowledge of its exact reality is an exercise in futility, even harmful. One should believe, as a matter of general prin¬ciple, that the meaning intended by Allah Ta` ala - whatever it may be - is the one correct and true. And, in this process, one should not try to determine or worry about fixing a meaning on one&s own. Someone asked the famous Imam Malik (رح) exactly the same question: at is the meaning of: اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْ‌شِ (Istawa ` ala al-&arsh : positioned Himself on the throne)? He paused for a while, then said: ` Everyone knows the meaning of ` Istawa and its particular nature and reality is such that human reason cannot comprehend it, and having faith in it is obligatory (Wajib), and asking a question about its nature and reality is Bid&ah (innovation in established religion) - because, the noble Sa¬habah, may Allah be pleased with them all, never asked such ques¬tions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Great elders (Salaf), Sufyan Al-Thawriy, Imam Awza&i, Layth ibn Sa&d, Sufyan ibn ` Uyaiynah and ` Abdullah ibn Mubarak, may the mercy of Allah be upon them all, have said that the verses which have appeared in the Qur&an as related to the Being and Attributes of Allah Ta` ala should be believed in as they have come and exactly as they are, without any explanation, explication and interpretation. (Mazhari) Said after that in the verse was: يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ‌ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا (He covers the day with night which pursues it swiftly). The sense is that this alterna¬tion of the night and day is a phenomenon of revolutionary proportions in that it brings the whole world from light into the darkness, and from darkness into the light. Then, this very phenomena lends itself so swiftly and smoothly and obediently to the magnificent subduing pow¬er of Allah Ta` ala that the least delay is not caused (in this transfor¬mation on such an unimaginable scale). After that, it was said: وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ‌ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَ‌اتٍ بِأَمْرِ‌هِ that is, Allah creat¬ed the sun and the moon and the stars in a state that all of them are moving in obedience to His will and command. For a reasonable person, this is an invitation to think, to think about things made by the made he observes around him all the time. Experts make machines of all sorts. Some of them would have engi¬neering problems right from the start. Others may not have such prob¬lems, but machines are machines, no matter how strong the base ma¬terial and how impeccable the design. Parts have their normal wear and tear, or need for adjustment, repairs, servicing. Machines become idle until fixed. It might take weeks, or months, to put them back to work. But, look at these God-made machines. The efficiency and the perfection with which they started working from day one is still there. They are working wonderfully non-stop. Their movement is as precise as ever, not a second fast or slow. There is no wear and tear of parts and no need to go to a workshop. The reason is that they are function¬ing ` subject to His command& (مُسَخَّرَ‌اتٍ بِأَمْرِ‌هِ ). In other words, they need no source of energy to move them, no engine to make them function. They are working only under Divine Command. They are subjected to that alone. Therefore, the emergence of the slightest malfunction in them is impossible. But, of course, when the Absolute Master Himself decides to eliminate them at a time appointed by Him, this entire system would disintegrate. That day will be the day of Qiyamah. After having pointed out some examples, the description of the Ab¬solute Subduing Power of Allah Ta` ala was put in the form of a general rule by saying: أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ‌ (Beware, for Him alone is the creation and the command). The word: خَلق (khalq) means to create and: اَمر (amr), to command. The sense is that being the Creator and the Master is exclu¬sive to Him. Other than Him, no one else can create the most insignifi¬cant of things, nor does anyone have the right to subject anyone to his command (except that Allah Ta` ala Himself delegates a particular area of activity to someone, in which case that too would be, in reality, nothing but the command of Allah). So, the verse means that creating all these things was the work of none but Him, and putting them into service was also not something anyone else could handle, for that too is an spectacle of the perfect power of Allah Ta` ala. In Sufi thought, ` Khalq& and ` Amr& are two domains. ` Khalq& relates to matter and ` Amr& to the refined abstract. The Qur&anic verse: قُلِ الرُّ‌وحُ مِنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّي (Say, |"The soul is a command from my Lord.|" - 17: 85) points out in this direction as |"Ruh|" (soul, spirit) has been identified as a com¬mand from the Lord. The sense of the creation and the command being exclusive to Allah Ta` ala would, in this light, mean that everything be¬tween the heavens and the earth is from matter and its creation has been called |"Khalq.|" And what is beyond these, free from matter, its creation has been called |"Amr.|" (Mazhari) At the end of the verse, it was said: تَبَارَ‌كَ اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ (Glorious is Allah, the Lord of the worlds). The word: تَبَارَک (tabarak) appearing here is a derivation from barakah which means to increase, grow, become more, remain, sustain, besides being employed in many other shades of meaning. At this place, ` tabaraka& means to be high and supreme. It can be taken in the sense of high and sustaining, for Allah Ta` ala is both. The sense of high finds confirmation in a sentence of the Hadith which says: تَبَرَکتَ وَ تَعَلَیتَ یَا ذَا الجلالِ وَ الاِکرَامِ (You are blessed and high, 0 Mas¬ter of Glory and Honour). Here, the word: ` tabarkta& has been ex¬plained by the word: ta` aiaita which follows.

خلاصہ تفسیر بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز (کے برابر وقت) میں پیدا کیا، پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے) چھپا دیتا ہے شب (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو (یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے) ایسے طور پر کہ وہ شب دن کو جلدی سے آ لیتی ہے (یعنی دن آناً فاناً گزرتا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ دفعةً رات آجاتی ہے) اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا، ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم (تکوینی) کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑے کمالات والے ہیں اللہ تعالیٰ جو تمام عالم کے پروردگار ہیں۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں آسمان و زمین اور سیارات و نجوم کے پیدا کرنے اور ایک خاص نظام محکم کے تابع اپنے اپنے کام میں لگے رہنے کا ذکر اور اس کے ضمن میں حق تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کا بیان کرکے ہر اہل عقل انسان کو اس کی دعوت فکر دی گئی ہے کہ جو ذات پاک اس عظیم الشان عالم کو عدم سے وجود میں لانے اور حکیمانہ نظام کے ساتھ چلانے پر قادر ہے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ ان چیزوں کو معدوم کرکے قیامت کے روز دوبارہ پیدا فرما دے، اس لئے قیامت کا انکار چھوڑ کر صرف اسی ذات کو اپنا رب سمجھیں اسی سے اپنی حاجات طلب کریں، اسی کی عبادت کریں، مخلوق پرستی کی دلدل سے نکلیں اور حقیقت کو پہچانیں اس میں ارشاد فرمایا کہ ” تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے آسمان اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا “۔ آسمان و زمین کی تخلیق میں چھ روز کی مدت کیوں ہوئی دوسرا سوال یہ ہے کہ دن اور رات کا وجود آفتاب کی حرکت سے پہچانا جاتا ہے، آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے جب نہ آفتاب تھا نہ ماہتاب، چھ دنوں کی تعداد کس حساب سے ہوئی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد چھ دن سے اتنا وقت اور زمانہ ہے جس میں چھ دن رات اس دنیا میں ہوتے ہیں، لیکن صاف اور بےغبار بات یہ ہے کہ دن اور رات کی یہ اصلاح کہ طلوع آفتاب سے غروب تک دن اور غروب سے طلوع تک رات، یہ تو اس دنیا کی اصطلاح ہے، پیدائش عالم سے پہلے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی دوسری علامات مقرر فرما رکھی ہیں، جیسے جنت میں ہوگا کہ وہاں کا دن اور رات حرکت آفتاب کے تابع نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ چھ دن جس میں زمین و آسمان بنائے گئے وہ ہمارے چھ دن کے برابر ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس سے بڑے ہوں، جیسے آخرت کے دن کے بارے میں ارشاد قرآنی ہے کہ ایک ہزار سال کے برابر ایک دن ہوگا۔ ابو عبداللہ رازی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ فلک اعظم کی حرکت اس دنیا کی حرکات کے مقابلہ میں اتنی تیز ہے کہ ایک دوڑنے والا انسان ایک قدم اٹھا کر زمین پر رکھنے نہیں پاتا کہ فلک اعظم تین ہزار میل کی مسافت طے کرلیتا ہے۔ (بحر محیط) امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اور مجاہد رحمة اللہ علیہ کا قول یہی ہے کہ یہاں چھ دن سے آخرت کے چھ دن مراد ہیں، اور بروایت ضحاک رحمة اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی یہی منقول ہے۔ اور یہ چھ دن جن میں پیدائش عالم وجود میں آئی ہے، صحیح روایات کے مطابق اتوار سے شروع ہو کر جمعہ پر ختم ہوتے ہیں، یوم السبت یعنی ہفتہ کے اندر تخلیق عالم کا کام نہیں ہوا، بعض علماء نے فرمایا کہ سبت کے معنی قطع کرنے کے ہیں، اس روز کا یوم السبت اسی لئے نام رکھا گیا کہ اس پر کام ختم ہوگیا (تفسیر ابن کثیر) آیت مذکورہ میں زمین و آسمان کی تخلیق چھ روز میں مکمل ہونے کا ذکر ہے اس کی تفصیل سورة حم سجدہ کی نویں اور دسویں آیات میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی، پھر دو دن میں زمین کے اوپر پہاڑ، دریا، معاون، درخت، نباتات، اور انسان و حیوان کے کھانے پینے کی چیزیں بنائی گئیں، کل چار دن ہوگئے، ارشاد فرمایا : (آیت) خلق الارض فی یومین اور پھر فرمایا (آیت) قدر فیہا اقو تھا فی اربعۃ ایام۔ پہلے دو دن جس میں زمین بنائی گئی، اتوار اور پیر ہیں، اور دوسرے دو دن جن میں زمین کی آبادی کا سامان پہاڑ، دریا بنائے گئے وہ منگل اور بدھ ہیں، اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) فقضھن سبع سموات فی یومین، یعنی پھر ساتوں آسمان بنائے دو دن میں، ظاہر ہے کہ یہ دو دن جمعرات اور جمعہ ہوں گے، اس طرح جمعہ تک چھ دن ہوگئے۔ آسمان و زمین کی تخلیق کا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ۔ یعنی پھر عرش پر قائم ہوا، استویٰ کے لفظی معنی قائم ہونے اور عرش شاہی تخت کو کہا جاتا ہے اب یہ عرش رحمن کیسا اور کیا ہے، اور اس پر قائم ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے متعلق بےغبار اور صاف و صحیح وہ مسلک ہے جو سلف صالحین صحابہ وتابعین سے اور بعد میں اکثر حضرات صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کی حقیقت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے، اس کی کھوج میں پڑنا بیکار بلکہ مضر ہے ان پر اجمالاً یہ ایمان لانا چاہئے کہ ان الفاظ سے جو کچھ حق تعالیٰ کی مراد ہے وہ صحیح اور حق ہے، اور خود کوئی معنی متعین کرنے کی فکر نہ کرے۔ حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ سے ایک شخص نے یہی سوال کیا کہ استواء علی العرش کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے کچھ دیر تامل فرمانے کے بعد فرمایا کہ لفظ استواء کے معنی تو معلوم ہیں اور اس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک عقل انسانی نہیں کرسکتی، اور ایمان لانا اس پر واجب ہے، اور اس کے متعلق کیفیت و حقیقت کا سوال کرنا بدعت ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے سوالات نہیں کئے، سفیان ثوری، امام اوزاعی، لیث بن سعد، سفیان ابن عینیہ، عبداللہ بن مبارک رحمة اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا کہ جو آیات اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق آئی ہیں ان کو جس طرح وہ آئی ہیں اسی طرح بغیر کسی تشریح و تاویل کے رکھ کر ان پر ایمان لانا چاہئے (مظہری) اس کے بعد آیت مذکور میں فرمایا يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ڈھانپ دیتے ہیں رات کو دن پر اس طرح کہ رات جلدی کے ساتھ دن کو آ لیتی ہے، مراد یہ ہے کہ رات اور دن کا یہ انقلاب عظیم کہ پورے عالم کو نور سے اندھیرے میں یا اندھیرے سے نور میں لے آتا ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے تابع اتنی جلدی اور آسانی سے ہوجاتا ہے کہ ذرا دیر نہیں لگتی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا وّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یعنی پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آفتاب اور چاند اور تمام ستاروں کو اس حال پر کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے امر و حکم کے تابع چل رہے ہیں۔ اس میں ایک ذی عقل انسان کے لئے دعوت فکر ہے جو مخلوق کی بنائی ہوئی مصنوعات کا ہر وقت مشاہدہ کرتا ہے کہ بڑے بڑے ماہرین کی بنائی مشینوں میں اول تو کچھ نقائص رہتے ہیں، اور نقائص بھی نہ رہیں تو کیسی فولادی مشینیں اور کَل پرزے ہوں چلتے چلتے گھستے ہیں، ڈھیلے ہوتے ہیں، مرمت کی ضرورت ہوتی ہے، گریسنگ کی حاجت پیش آتی ہے، اور اس کیلئے کئی کئی دن بلکہ ہفتوں اور مہینوں مشین معطل رہتی ہے، لیکن ان خدائی مشینوں کو دیکھو کہ جس طرح اور جس شان سے پہلے دن ان کو چلایا تھا اسی طرح چل رہی ہیں، نہ کبھی ان کی رفتار میں ایک منٹ سیکنڈ کا فرق آتا ہے، نہ کبھی ان کا کوئی پرزہ گھستا ٹوٹتا ہے، نہ کبھی ان کو ورکشاپ کی ضرورت پڑتی ہے، وجہ یہ ہے کہ وہ مستخرات بامرہ، چل رہی ہیں، یعنی ان کے چلنے چلانے کے لئے نہ کوئی بجلی کا پاور درکار ہے، نہ کسی انجن کی مدد ضروری ہے، وہ صرف امر الٓہی سے چل رہی ہیں، اسی کے تابع ہیں، اس میں کوئی فرق آنا ناممکن ہے، ہاں جب خود قادر مطلق ہی ان کے فنا کرنے کا ارادہ ایک معیّن وقت پر کریں گے تو یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا، جس کا نام قیامت ہے۔ ان چند مثالوں کے ذکر کے بعد حق تعالیٰ کی قدرت قاہرہ مطلقہ کا بیان ایک کلی قاعدے کی صورت میں اس طرح کیا گیا الا لہ الخلق والامر، خلق کے معنی پیدا کرنا اور امر کے معنی حکم کرنا ہیں، معنی یہ ہیں کہ اسی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، اس کے سوا کوئی دوسرا نہ کسی ادنی، چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو کسی پر حکم کرنے کا حق ہے، (بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کا کوئی خاصہ شعبہ کسی کے سپرد کردیا جائے تو وہ بھی حقیقت کے اعتبار سے اللہ ہی کا حکم ہے) اس لئے مراد آیت کی یہ ہوئی کہ یہ ساری چیزیں پیدا کرنا بھی اسی کا کام تھا، اور پیدا ہونے کے بعد ان سے کام لینا بھی کسی دوسرے کے بس کی بات نہ تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے۔ صوفیاء کرام نے فرمایا کہ خلق اور امر دو عالم ہیں، خلق کا تعلق مادّہ اور مادّیات سے ہے، اور امر کا تعلق مجردات لطیفہ کے ساتھ ہے، (آیت) قل الروح من امر ربی۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ روح کو امر رب سے فرمایا، خلق اور امر دونوں کا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہونے کا مطلب اس صورت میں یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جتنی چیزیں ہیں یہ تو سب مادی ہیں، ان کی پیدائش کو خلق کہا گیا، اور ما فوق السموٰات جو مادہ اور مادّیت سے بری ہیں ان کی پیدائش کو لفظ امر سے تعبیر کیا گیا (مظہری) آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ اس میں لفظ تبارک، برکت سے بنا ہے اور لفظ برکت، بڑھنے، زیادہ ہونے، ثابت رہنے وغیرہ کے کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اس جگہ لفظ تَبَارَکَ کے معنی بلند وبالا ہونے کے ہیں، جو بڑھنے کے معنی سے بھی لیا جاسکتا ہے، اور ثابت رہنے کے معنی سے بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ قائم اور ثابت بھی ہیں، اور بلند وبالا بھی، بلند ہونے کے معنی کی طرف حدیث کے ایک جملہ میں بھی اشارہ کیا گیا ہے تبارکت وتعالیت یا ذا الجلال، یہاں تَبَارَکتَ کی تفسیر تَعَالَیتَ کے لفظ سے کردی گئی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝ ٥٥ ۚ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ ضرع الضَّرْعُ : ضَرْعُ الناقةِ ، والشاة، وغیرهما، وأَضْرَعَتِ الشاةُ : نزل اللّبن في ضَرْعِهَا لقرب نتاجها، وذلک نحو : أتمر، وألبن : إذا کثر تمره ولبنه، وشاةٌ ضَرِيعٌ: عظیمةُ الضَّرْعِ ، وأما قوله : لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] ، فقیل : هو يَبِيسُ الشَّبْرَقِ «1» ، وقیل : نباتٌ أحمرُ منتنُ الرّيحِ يرمي به البحر، وكيفما کان فإشارة إلى شيء منكر . وضَرَعَ إليهم : تناول ضَرْعَ أُمِّهِ ، وقیل منه : ضَرَعَ الرّجلُ ضَرَاعَةً : ضَعُفَ وذَلَّ ، فهو ضَارِعٌ ، وضَرِعٌ ، وتَضَرّعَ : أظهر الضَّرَاعَةَ. قال تعالی: تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] ، لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] ، لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] ، أي : يَتَضَرَّعُونَ فأدغم، فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] ، والمُضَارَعَةُ أصلُها : التّشارک في الضَّرَاعَةِ ، ثمّ جرّد للمشارکة، ومنه استعار النّحويّون لفظَ الفعلِ المُضَارِعِ. ( ض ر ع ) الضرع اونٹنی اور بکری وغیرہ کے تھن اضرعت الشاۃ قرب دلادت کی وجہ سے بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا یہ اتمر والبن کی طرح کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں زیادہ دودھ یا کھجوروں والا ہونا اور شاۃ ضریع کے معنی بڑے تھنوں والی بکری کے ہیں مگر آیت کریمہ : ۔ لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] اور خار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں ہوگا میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں ضریع سے خشک شبرق مراد ہے اور بعض نے سرخ بدبو دار گھاس مراد لی ہے ۔ جسے سمندر باہر پھینک دیتا ہے بہر حال جو معنی بھی کیا جائے اس سے کسی مکرو ہ چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ ضرع البھم چوپایہ کے بچہ نے اپنی ماں کے تھن کو منہ میں لے لیا بعض کے نزدیک اسی سے ضرع الرجل ضراعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی کمزور ہونے اور ذلت کا اظہار کرنے کے ہیں الضارع والضرع ( صفت فاعلی کمزور اور نحیف آدمی تضرع اس نے عجز وتزلل کا اظہار کیا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] عاجزی اور نیاز پنہانی سے ۔ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] تاکہ عاجزی کریں لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] تاکہ اور زاری کریں ۔ یہ اصل میں یتضرعون ہے تاء کو ضاد میں ادغام کردیا گیا ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے ۔ المضارعۃ کے اصل معنی ضراعۃ یعنی عمز و تذلل میں باہم شریک ہونے کے ہیں ۔ پھر محض شرکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اسی سے علماء نحو نے الفعل المضارع کی اصطلاح قائم کی ہے کیونکہ اس میں دوز مانے پائے جاتے ہیں ) خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ عدا والاعْتِدَاءُ : مجاوزة الحقّ. قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] ، وقال : وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ [ النساء/ 14] ، ( ع د و ) العدو الاعتداء کے معنی حق سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٤) اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا جس کے ایک دن کی درازی ایک ہزار سال کے برابر تھی، پھر تخت شاہی پر قائم ہوا، رات کو دن سے اور دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بایں طور پر رات تیزی سے جاتی ہے اور دن تیزی سے آجاتا ہے، اسی طرح دن تیزی سے جاتا ہے اور رات آجاتی ہے اور سورج وغیرہ کو پیدا کیا کہ سب اپنی رفتار میں اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ ہی نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا آقا اور ان کی نگرانی کرنے والا برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٤ (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف) ۔ عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے تصور سے بالا تر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ممکن ہے واقعتا یہ کوئی مجسم شے ہو اور کسی خاص جگہ پر موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض استعارہ ہو۔ عالم غیب کی خبریں دینے والی اس طرح کی قرآنی آیات مستقل طور پر آیات متشابہات کے زمرے میں آتی ہیں۔ البتہ جن آیات میں بعض سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ ان میں سے اکثر کی صداقت سائنسی ترقی کے باعث منکشف ہوچکی ہے ‘ اور وہ محکمات کے درجے میں آچکی ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ تدریجاً مزید پیش رفت کی توقع بھی ہے۔ (واللہ اعلم ! ) (یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًالا) دن رات کے پیچھے آتا ہے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔ (وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ ط) سورج ‘ چاند اور ستاروں کے مسخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قاعدہ یا قانون ان کے لیے مقرر کردیا گیا ہے ‘ وہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔ (اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط) ۔ ان الفاظ کے دو مفہوم ذہن میں رکھئے۔ ایک تو بہت سادہ اور سطحی مفہوم ہے کہ یہ کائنات اللہ نے تخلیق کی ہے اور اب اس میں اسی کا حکم کارفرما ہے۔ یعنی احکام طبیعیہ بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے ‘ اور احکام تشریعیہ بھی اسی نے اتارے ہیں کہ یہ اوامر اور یہ نواہی ہیں ‘ انسان ان کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ مگر اس کا دوسرا اور گہرا مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں تخلیق دو سطح پر ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دو الگ الگ عالم ہیں ‘ ایک عالم خلق ہے اور دوسرا عالم امر۔ عالم امر میں عدم محض سے تخلیق (creation ex nihilio) ہوتی ہے اور اس میں تخلیق کے لیے بس کُن کہا جاتا ہے تو چیز وجود میں آجاتی ہے (فَیَکُون) ۔ اس کے لیے نہ وقت درکار ہے اور نہ کسی مادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرشتوں ‘ انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اسی لیے ان کے سفر کرنے کے لیے بھی کوئی وقت درکار نہیں ہوتا۔ فرشتہ آنکھ جھپکنے میں زمین سے ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ دوسری طرف عالم خلق میں ایک شے سے کوئی دوسری شے طبعی قوانین اور ضوابط کے مطابق بنتی ہے۔ اس میں مادہ بھی درکار ہوتا ہے اور وقت بھی لگتا ہے۔ جیسے رحم مادر میں بچے کی تخلیق میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگنے اور بڑھ کر درخت بننے کے لیے کئی سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ عالم خلق میں جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق ہوئی تو قرآن کے مطابق یہ چھ دنوں میں مکمل ہوئی۔ (یہ آیت بھی ابھی تک متشابہات میں سے ہے ‘ اگرچہ اس کے بارے میں اب جلد حقیقت منکشف ہونے کے امکانات ہیں۔ ) اس کی حقیقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ ان چھ دنوں سے کتنا زمانہ مراد ہے۔ اس کا دورانیہ کئی لاکھ سال پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔ خود قرآن کے مطابق ہمارا ایک دن اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کا بھی ہوسکتا ہے (سورۃ السجدۃ ‘ آیت ٥) اور پچاس ہزار سال کا بھی (سورۃ المعارج ‘ آیت ٤) ۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ انتہائی پیچیدہ علمی نکتے کو بھی ایسے الفاظ اور ایسے پیرائے میں بیان کردیتا ہے کہ ایک عمومی ذہنی سطح کا آدمی بھی اسے پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے ‘ جبکہ ایک فلسفی و حکیم انسان کو اسی نکتے کے اندر علم و معرفت کا بحربے کراں موجزن نظر آتا ہے۔ چناچہ پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کے ایک بدو کو اس آیت کا یہ مفہوم سمجھنے میں کوئی الجھن محسوس نہیں ہوئی ہوگی کہ یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے اور اسی کو حق ہے کہ اس پر اپنا حکم چلائے۔ مگر جب ایک صاحب علم محقق اس لفظ امر پر غور کرتا ہے اور پھر قرآن مجید میں غوطہ زنی کرتا ہے کہ یہ لفظ امر قرآن مجید میں کہاں کہاں ‘ کن کن معانی میں استعمال ہوا ہے ‘ اور پھر ان تمام مطالب و مفاہیم کو آپس میں مربوط کر کے دیکھتا ہے تو اس پر بہت سے علمی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ بہر حال عالم خلق ایک الگ عالم ہے اور عالم امر الگ ‘ اور ان دونوں کے قوانین و ضوابط بھی الگ الگ ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40. The word 'day' in the above verse has been used either in the usual sense of the twenty-four hour unit of time, or in a more general sense of 'period' of time such as in the following verses of the Qur'an: Verily a Day in the sight of your Lord is like a thousand years of your reckoning (al-Hajj 22: 47). The angels and the Spirit ascend unto Him on a Day the measure of which is fifty thousand years (al-Ma'arij 70: 4. For further explanation see Fussilat 41, nn. 12-15.) 41. It is quite difficult to appreciate fully the exact nature of the Qur'anic statement: '(Allah) ascended the Throne.' One possibility is that after the creation of the universe God focused His effulgence at a particular point in His Kingdom which is known as the Throne, from where He showers the blessings of life and power, and governs the whole universe. It is possible that the word 'Throne' stands for dominion and authority and that God's ascending the Throne signifies His actual taking over the reins of the universe after having created it. Whatever the exact meaning of the expression '(Allah) ascended the Throne', the main thrust of the verse is that God is not just the creator of the universe, but is also its sovereign and ruler; that after creating the universe He did not detach Himself from, nor become indifferent to, His creation. On the contrary, He effectively rules over the universe as a whole as well as every part of it. All power and sovereignty rest with Him. Everything in the universe is fully in His grip and is subservient to His will. Every atom is bound in obedience to Him. The fate of everything existent is in His Hands. Thus the Qur'an undermines the very basis of the misconception which leads man at times to polytheism, and at others to self-glorification and so to rebellion against God. This is the natural corollary of considering God divorced from the affairs of the universe. In such cases, there are two possibilities. One, that beings other than God are considered to have the power to make or mar man's destiny. Here, man is bound to turn to those beings in devotion and subservience. The second possibility is for man to consider himself as the master of his own destiny. Here, man considers himself independent of, and indifferent to, any higher being. It is significant that the words and figures of speech employed by the Qur'an to denote the relationship between God and man are closely related to kingship, dominion, and sovereignty. This is too conspicuous a fact to be missed by any careful student of the Qur'an. It is strange, however, that it has led some superficial critics and persons of biased outlook to conclude that the Qur'an reflects the milieu in which man's outlook was dominated by monarchical concepts, and that therefore its 'author', who in their view was the Prophet Muhammad (peace be on him), presented God as a sovereign ruler, an absolute monarch. Quite contrary to this is the fundamental truth which the Qur'an emphatically affirms - God's sovereignty over the heavens and the earth. It negates, with equal emphasis, that sovereignty belongs to anyone else. Such a doctrine demolishes the very assumption on the basis of which the above erroneous conclusion was derived. The Qur'anic concept of God's sovereignty is in sharp contrast to the idea that creatures of God may lay claim to sovereignty and kingship. In contrast to the weak, mortal kings of the world, God is eternal and all-powerfuL This undermines the very basis of the misconceived criticism that Islam has a monarchical basis since no hunian being can conform to the Islamic description of the sovereign. All sovereignty vests in the One True God. Hence, all those who claim total or partial sovereignty either for any person or group of people are merely cherishing an illusion. It is evident, therefore, that it is totally inappropriate for man, who is a part of the universe created and governed by God, to adopt any other attitude than that of acknowledging God as the only object of worship and as the only sovereign in a societal and political sense. 42. This is an elaboration of the idea propounded in the note immediately above explaining the meaning of God's ascension to the Throne. To reiterate, God is not merely the sole creator but also the only One Who commands and governs. He has not detached Himself from His creation, leaving it to the care of others who might rule over it as they please. Nor has He granted independence to His creation or any part of it so that they might function as they, wish. On the contrary, His grip over the entire universe is very firm. He rules over it according to His sovereign will. If we find alternation taking place between day and night, it is a result of God's command. God has full power both to hold that process in abeyance, or to alter the very system which causes the alternation. The heavenly bodies - the sun, the moon, and the stars - are all absolutely powerless. They are totally subservient to God's overpowering will, and have been yoked to function according to His command. 43. The word barakah signifies growth and increase. The notions of elevation and greatness as well as of permanence and stability are also an essential part of the word's meaning. Besides these the word inalienably carries nuances of goodness and beneficence. To say that God is full of barakah means that His goodness knows no bounds; that endless beneficence emanates from Him; that He is the Exalted One Whose loftiness knows no end; that His beneficence and loftiness are permanent, and thus they will never vanish or suffer decline. (For further elaboration see Tafhim al-Qaradn, al-Furqan 25: nn. 1 and 19.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :40 یہاں دن کا لفظ یا تو اسی چوبیس گھنٹے کے دن کا ہم معنی ہے جسے دنیا کے لوگ دن کہتے ہیں ، یا پھر یہ لفظ دور ( Period ) کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، جیسا کہ سورة الحج آیت نمبر ٤۷ میں فرمایا وَاِنَّ یَوْمًاعِنْدَرَبِّکِ کَاَلْفِ سَنَةٍمِمَّاتَعُدُّوْنَ ( اور حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کے ہاں ایک دن ہزار سال کے برابر ہے اس حساب سے جو تم لوگ لگاتے ہو ) ، اور سورة مارج کی آیت ٤ میں فرمایا کہ تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَةُوَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ ( فرشتے اور جبرائیل اس کی طرف ایک دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ) ۔ اس کا صحیح مفہوم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو حٰم السجدہ حواشی ١١ تا ١۵ ) سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :41 خد ا کے استواء علی العرش ( تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہونے ) کی تفصیلی کیفیت کو سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے ۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے بعد کسی مقام کو اپنی اس لامحدود سلطنت کا مرکز قرار دے کر اپنی تجلیات کو وہاں مرتکز فرمادیا ہو اور اسی کا نام عرش ہو جہاں سے سارے عالم پر موجود اور قوت کا فیضان بھی ہو رہا ہے اور تدبیر امر بھی فرمائی جا رہی ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ عرش سے مراد اقتدار فرماں روائی ہو اور اس پر جلوہ فرما ہونے سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کر کے اس کی زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لی ۔ بہر حال استواء علی العرش کا تفصیلی مفہوم خواہ کچھ بھی ہو ، قرآن میں اس کے ذکر کا اصل مقصد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق کائنات ہی نہیں ہے بلکہ مدبّر کائنات بھی ہے ۔ وہ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد اس سے بے تعلق ہو کر کہیں بیٹھ نہیں گیا ہے بلکہ عملاً وہی سارے جہان کے جز و کل پر فرماں روائی کر رہا ہے ۔ سلطانی و حکمرانی کے تمام اختیارات بالفعل اس کے ہاتھ میں ہیں ہر چیز اس کے امر کی تابع ہے ، ذرّہ ذرّہ اس کے فرمان کا مطیع ہے اور موجودات کی قسمتیں دائماً اس کے حکم سے وابستہ ہیں ۔ اس طرح قرآن اس کی بنیادی غلط فہمی کی جڑ کاٹنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے انسان کبھی شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوا ہے اور کبھی خود مختیاری و خود سری کی ضلالت میں ۔ خدا کو کائنات کے انتظام سے عملاً بے تعلق سمجھ لینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی قسمت کو دوسرں سے وابستہ سمجھے اور ان کے آگے سر جھکادے ، یا بھر اپنی قسمت کا مالک خود اپنے آپ کو سمجھے اور خود مختار بن بیٹھے ۔ یہاں ایک اور بات اور قابل توجہ ہے ۔ قرآن مجید میں خدا اور خلق کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے انسانی زبان میں سے زیادہ تر وہ الفاظ ، مصطلحات ، استعارے اور انداز بیان انتخاب کیے گئے ہیں جو سلطنت و بادشاہی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ طرز بیان قرآن میں اس قدر نمایاں ہے کہ کوئی شخص جو سمجھ کر قرآن کو پڑھتا ہو اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ بعض کم فہم ناقدین کے معکوس دماغوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ کتاب جس عہد کی ”تصنیف “ہے اس زمانہ میں انسان کے ذہن پر شاہی نظام کا تسلط تھا اس لیے مصنف نے ( جس سے مراد ان ظالموں کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ) خدا کو بادشاہ کے رنگ میں پیش کیا ۔ حالانکہ دراصل قرآن جس دائمی و ابدی حقیقت کو پیش کر رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے ۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں میں پادشاہی صرف ایک ذات کی ہے ، اور حاکمیت ( Sovereignity ) جس شے کا نام ہے وہ اسی ذات کے لیے خاص ہے ، اور یہ نظام کائنات ایک کامل مرکزی نظام ہے جس میں تمام اختیارات کو وہی ایک ذات استعمال کر رہی ہے ، لہذا اس نظام میں جو شخص یا گروہ اپنی یا کسی اور کی جزوی یا کُلّی حاکمیت کا مدعی ہے وہ محض فریب میں مبتلا ہے ۔ نیز یہ کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ صحیح نہیں ہو سکتا کہ اسی ایک ذات کو مذہبی معنوں میں واحد معبود بھی مانے اور سیاسی و تمدنی معنوں میں واحد سلطان ( Sovereign ) بھی تسلیم کرے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :42 یہ اسی مضمون کی مزید تشریح ہے جو”استواء علی العرش“ کے الفاظ میں مجملاً بیان کیا گیا تھا ۔ یعنی یہ کہ خدا محض خالق ہی نہیں آمر اور حاکم بھی ہے ۔ اس نے اپنی خلق کو پیدا کر کے نہ تو دوسروں کے حوالے کر دیا کہ وہ اس میں حکم چلائیں ، اور نہ پوری خلق کو یا اس کے کسی حصّے کو خود مختار بنا دیا ہے کہ جس طرح چاہے خود کام کرے ۔ بلکہ عملاً تمام کائنات کی تدبیر خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ لیل ونہار کی گردش آپ سے آپ نہیں ہو رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے ہو رہی ہے ، جب چاہے اسے روک دے اور جب چاہے اس کے نظام کو تبدیل کر دے ۔ سورج اور چاند اور تارے خود کسی طاقت کے مالک نہیں ہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں بالکل مسخّر ہیں اور مجبور غلاموں کی طرح بس وہی کام کیے جا رہے ہیں جو خدا ان سے لے رہا ہے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :43 برکت کے اصل معنی ہیں نمو ، افزائش اور بڑھوتری کے ، اور اسی کے ساتھ اس لفظ میں رفعت و عظمت کا مفہوم بھی ہے اور ثبات اور جماؤ کا بھی ۔ پھر ان سب مفہومات کے ساتھ خیر اور بھلائی کا تصورّ لازماً شامل ہے ۔ پس اللہ کے نہایت بابرکت ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی خوبیوں اور بھلائیوں کی کوئی حد نہیں ہے ، بے حد و حساب خیرات اس کی ذات سے پھیل رہی ہیں ، اور وہ بہت بلند و برتر ہستی ہے ، کہیں جا کر اس کی بلندی ختم نہیں ہوتی ، اور اس کی یہ بھلائی اور رفعت مستقل ہے ، عارضی نہیں ہے کہ کبھی اس کو زوال ہو ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ، الفرقان ، حواشی ۔ ١ ۔ ١۹ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

28: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دنوں کا حساب موجودہ سورج کے طلوع و غروب سے نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت کے دن کا شمار بظاہر کسی اور معیار پر کیا گیا ہے۔ جس کی حقیقت اﷲ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور یوں تو اﷲ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت تھی کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے پوری کائنات وجود میں لے آتا، لیکن اس عمل کے ذریعے اِنسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ 29: ’’استواء‘‘ عربی لفظ ہے جس کے معنیٰ ہیں سیدھا کرنا، قائم ہونا، قابو پانا اور بعض اوقات اس کے معنیٰ بیٹھنے کے بھی ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ چونکہ جسم اور مکان سے پاک ہے، اس لئے اس کے یہ معنیٰ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ جس طرح کوئی اِنسان تخت پر بیٹھتا ہے، اس طرح (معاذاللہ) اﷲ تعالیٰ بھی عرش پر بیٹھے ہیں۔ استوا اﷲ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور جمہور اہل سنت کے نزدیک اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے متشابہات میں شمار کیا گیا ہے، جن کی کھود کرید میں پڑنے کو سورہ آل عمران کے شروع میں خود قرآنِ کریم نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس کا کوئی بھی ترجمہ کرنا مغالطہ پیدا کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر ہم نے یہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ نہ اس پر کوئی عملی مسئلہ موقوف ہے۔ اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق استوا فرمایا جس کی حقیقت ہماری محدودعقل کے ادراک سے باہر ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

صحیح مسلم مسند امام احمد بن حنبل اور نسائی اس آیت کے مخالف جو ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے ابوہریرہ (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی اور اتوار کے روز پہاڑ پیدا کئے اور منگل کے روز جو چیزیں دنیا میں ناگوار معلوم ہوتی ہیں مثلا موذی جانور اور زہریہ چیزیں پیدا کیں اور نور بدھ کے دن پیدا کیا اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم ( علیہ السلام) پیدا کئے گئے ہیں حدیث میں امام بخاری اور ائمہ حدیث نے یہ کلام کیا ہے کہ آیت کے مخالف سات روز جملہ چیزوں کی پیدائش کی اس حدیث کے موافق ٹھہرتے ہیں حالانکہ آیت کے موافق چھ روز میں سب کچھ پیدا ہوا ہے اور بحث کے بعد یہ بات قرار پائی ہے کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے کعب بن احبار کا موقوف قول ہے بیہقی تفسیرابن منذر ابن جیریر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت بن مسعود (رض) اور صحابہ سے پیدائش عالم کی روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سب سے پہلے پانی پیدا ہو کر عرش الٰہی پانی پر تھا جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو چھ روز میں اتوار سے لے کر جمعہ تک سب کچھ پیدا کیا زیادہ تفصیل اس کی سورة حم سجدہ میں آوے گی بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ آیت ثُمَّ اسْتَوٰی الِیَ السَّمَآئِ وَھِیَ دُخَانٌ (٤١: ١١) سے زمین کے پہلے اور آسمان کا پیچھے پیدا ہونا معلوم ہوتا ہے اور آیت وَاْلَارْضَ بَعْدَ ذَلِکَ دَحَاھَا (٨٠: ٣٠) سے آسمان کا پیدا ہونا پہلے اور زمین کا بعد معلوم ہوتا ہے اس کا جواب وہی ہے جو کتاب التفسیر بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے منقول سے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پہلے تو پیدا کیا ہے لیکن آسمان کے بعد اس کو بچھایا ہے پہلے پانی کو جماکر ایک ٹیلہ پیدا کیا تھا اس لئے جن آیتوں میں آسمان سے پہلے زمین کا ذکر ہے وہ زمین کے ٹیلہ کی پیدائش ہے اور جن آیتوں میں آسمان کے بعد زمین کا ذکر ہے وہاں اس ٹیلہ کا پھیلاؤ مقصود ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی اس جواب پر تفسیر جامع البارن وغیرہ میں یہ اعتراض جو کیا ہے کہ اکثر مفسرین کی قرارد اد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے اس قول کے مخالف ہے کیونکہ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ امر صحیح قرار پایا ہے کر پھر دو روز میں آسمان پیدا ہوا ہے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی اس قرار داد کی بنا بھی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے دوسرے قول پر ہے جس کو عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں عکرمہ سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زمین اتوار اور پیر کے روز پیدا کی گئی اور منگل اور بدھ کے روز اس کا پھیلاؤ اور پہاڑ اور دریا اور اس میں پیداوار کی قوت یہ سب کچھ ہوا اور جمعرات اور جمعہ کو آسمان پیدا ہوا لیکن اس روایت میں ایک شخص ابی سعید بقال ضعیف ہے اس لئے یہ ضعیف روایت بخاری کی روایت کے مقابلہ میں مقبول نہیں ہوسکتی اور سورة حدید میں آسمان کی پیدائش کے ذکر کے بعد وَھُوَ الَّذِیْ ھَدَّالْاَرْضَ (١٣: ٣) جو فرمایا ہے اس سے بھی اس بخاری کی روایت کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس آیت میں صاف ارشاد ہے کہ زمین کا پھیلاؤ آسمان کی پیدائش کے بعد ہے غرض متقدمین اور متاخرین مفسروں میں ایک بڑا اختلاف ایک عرصہ دراز سے جو اس باب میں تھا وہ اس تفسیر کے بعد کچھ باقی نہیں رہتا۔ دن سورج کے نکلنے سے غروب ہونے تک کو کہتے ہیں اب یہ تو ظاہر ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے سے پہلے نہ سورج تھا نہ اس کی گردش تھی۔ اہل ہئیت اگرچہ اب بھی سورج کی ذاتی گردش کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ سورج کی گردش کو آسمان کی گردش کے تابع کہتے ہیں لیکن سورة یسین میں آویگا کہ ہر ایک ستارہ کو گردش ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آسمان کو پیدا ہونے سے پہلے نہ سورج تھا نہ اس کی گردش اس لئے حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان سورج اور سورج کی گردش کے پیدا ہوجانے کے بعد چھ دن کی مقدار جس قدر ہوتی ہے اس قدر مدت میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی بڑی ہے کہ ایک دم میں وہ جو چاہے سو کردے لیکن سہولت سے چھ دن میں دنیا کو پیدا کر کے بندوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ وہ کسی کام میں جلدی نہ کریں بلکہ ہر کام سہولت سے غور کر کے کیا کریں صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ہر کام میں سہولت بہت پسند ہے۔ اسی طرح معتبر سند سے مسند ابویعلی میں انس بن مالک (رض) سے روایت ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سہولت سے ہر کام کرنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور ہر کام میں جلدی کرنا شیطان کے بہکانے سے ہے سہولت سے چھ دن میں دنیا کی پیدا ہونے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔ اگرچہ مجاہد کے قول کے موافق یہ چھ دن ایسے ہیں کہ جن میں ہر ایک دن ہزار برس کا ہے لیکن جن مفسروں کا قول دنیا کے معمولی چھ دن کا ہے وہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت میں خطاب اہل دنیا سے ہے سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ صفات الٰہی کی آیتیں متشابہ آیتوں میں ہیں اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے اس واسطے استوی علی العرش کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے اسی طرح بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کے اللہ تعالیٰ جل شانہ عرش پر ہے جس کی تفصیلی کیفیت اللہ کو ہی معلوم ہے :۔ بعد ذکر پیدائش آسمان و زمین کے اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات دن کو اور دن رات کو چھپا لیتا ہے ہر ایک دوسرے کی طلب میں سرگرم اور تیز رو ہے جہاں ایک دن یا رات گئی دوسرا اسی وقت بہت جلدی سے موجود ہوگیا سورج اور چاند اور تارے سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اس واسطے فرمایا کہ اسی کا پیدا کیا ہوا سب ملک اور اسی کا حکم اور تصرف سب جگہ ہے سوائے اس کے نہ کوئی مالک ہے نہ اختیار والا وہ بڑی برکت والا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے قول کو ضعیف ٹھہرایا گیا ہے جو چاند سورج اور تاروں کی گردش میں مستقل تاثیرات کے قائل ہیں کیونکہ سوائے خدا کے اس جہان کا نہ کوئی پیدا کرنے والا ہے نہ تدبیر کرنے والا اس کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے وہ جو چاہے کرے اور حکم دے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ دم مار سکے غرض ہر چیز میں اسی کے نام کی برکت ہے جب اس کا نام نامی ایسی برکت والا ہے تو آگے کی آیت میں فرمایا کہ اس کی درگاہ میں ہر طرح کی التجا پیش کرنی چاہئے صحیح بخاری میں خالد جہنی (رض) اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مینہ برسنے کے بعد جن لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ستاروں کی مستقل تاثیر سے مینہ برسا ہے وہ اللہ کی قدرت کے منکر اور اللہ رحمت کے ناشکر گذرا ہیں یہ حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں اور حدیثوں کو ملا کر مطلب یہ ہوا جو لوگ زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ آفتاب۔ زہرہ۔ عطارد۔ چاند ان سات ستاروں کا دخل دنیا کے انتظام میں مانتے ہیں وہ مشرک ہیں اور جو لوگ اللہ کی قدرت کا دل میں تو اعتقاد رکھتے ہیں مگر اپنے تجربہ کے پابند ہو کر زبانی ستاروں کو بھی مینہ برسنے کا سبب قرار دیتے ہیں وہ اللہ کی خالص رحمت کے ناشکر گذار ہیں رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اللہ کی ایک یہ قدرت بھی نظر آتی ہے کہ کبھی رات بڑی ہوجاتی ہے اور کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے کبھی رات دن برابر ہوجاتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا طلوع غروب سورج کے اختیار میں نہیں ہے ورنہ وہ ایک وتیرہ پر رہتا پھر ایسے متغیر اور بےاختیار چیز کو دنیا کے انتظام میں کیا دخل ہوسکتا ہے۔ یہی حال باقی کے چھ ستاروں کا ہے کہ ان کا طلوع و غروب تجربہ کی رو سے کچھ چاہتا ہے اور اللہ کی قدرت سے دنیا کا انتظام کچھ اور ہی نظر آتا ہے مثلا لوگوں کے تجربہ کے موافق مینہ برسنے کے ستارے اپنی جلاہ پر موجود ہوتے ہیں اور دنیا میں قحط پڑھ جاتا ہے نجومی جھوٹے پڑجاتے ہیں۔ خلق کے معنے یہاں مخلوقات کے ہیں اور امر کے معنے ان انتظامی احکام کے ہیں جو دنیا کی مخلوقات کے حق میں رات دن بارگاہ الٰہی سے صادر ہوتے رہتے ہیں یہ وہی احکام ہیں جو دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں لکھے گئے ہیں چناچہ اس باب میں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص (رض) کی حدیث گذر چکی ہے ١ ؎ ان احکام میں سے ہر شب قدر کو سال بھر کے احکام فرشتوں کو تعمیل کرنے کے لئے دئے جاتے ہیں جس کا ذکر تفصیل سے سورة دخان میں آویگا :۔ ١ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٣٥ باب حجاج آدم وموسیٰ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:54) استوی علی۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھا۔ متمکن ہوا ملاحظہ ہو (2:29) استوی کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کی جو کیفیت ہے وہ ہمارے فہم سے بالاتر ہے۔ عرش کے معنی کے لئے ملاحظہ ہو (10:3) یغشی۔ مضارع واحد مذکر غائب اغشی یغشی (باب افعال متعدی بدو مفعول) یغشی اللیل النھار۔ وہ رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے۔ غشی یغشی (سمع) چھا جانا۔ ڈھانک لینا۔ حثیثا۔ دوڑتا ہوا۔ شتاب۔ جلد ۔ حث سے جس کے معنی کسی کام پر ابھارنے اور رغبت دلانے کے ہیں۔ فعیل بمعنی حاث (رغبت کرتے ہوئے) یا بمعنی مفعول یعنی محثوث (جیسے رغبت دلائی گئی ہو) صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جس کا استعمال سریع یعنی جلد اور شتاب کے معنی میں ہوتا ہے۔ یطلبہ حثیثا۔ اگر یطلبہ کا فاعل لیل ہے تو یہ الیل کا حال ہے یعنی وہ دن کو جلد پالینے کی کوشش میں ہے۔ اور اگر اس کا فاعل النھار ہے تو یہ النہار کا حال ہے یعنی دن رات کو جلد پالینے کی کوشش میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں رات اور دن سرعت سے ایک اور دوسرے کے پیچھے پیہم رواں دواں ہیں۔ مسخرات۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔ مسخرۃ واحد تسخیر مادہ باب تفعیل ۔ تابع تسخیر میں۔ زیر فرمان۔ تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ ما ضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ اور صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے۔ اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہے۔ (شوکانی) دیکھئے سورت حج آیت 47 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں دنوں سے ہمارے دن مراد نہیں ہیں جن کا تعلق سورج اور زمین کی گردش سے ہے کیونکہ ان سے لمبا زمانہ یا چھ ادوار مراد ہیں قرآن کی مخلتف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی دیکھئے سورة فٖصلت آیت 10 ۔۔۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الا حد ( اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوتی ہے اور جمعہ کے دن تمام ہوگئی ( ابن کثیر، المار ) 9 استویٰ علی العرش قرآن میں ساتھ مقامات پر آّیا ہے اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں سلف صالح نے بلاتاویل اللہ کو عرش پر تسلیم کیا ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ اس تو کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے با لا ہے اس کا اقرار ایمان ہے اور انکار کفر ہے یہی مذہب آئمہ اربعہ کا ہے پس صحیح عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے تاہم اس کا علم وقدرت سب پر حاوی ہے اہل حدیث کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے ( ابن کثیر، شوکانی)10 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتے۔ (کذافی الکبیر ) 11 یعنی جس طرح خلق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح حکم اور قانون بنانے کا اختیار بھی اسی کو ہے ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 54 ۔ تا۔ 58: اسرارو معارف : تمہارا رب تو بہت بڑا رحم کرنے والا اور کریم تھا اس نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہاری خاطر ایک بہت بڑا احسان پیدا فرمایا چھ دنوں میں آسمان زمین اور ان کی تخلیقات کو مکمل فرمایا اگرچہ ایک آن میں سب کچھ کرنے پہ قادر تھا مگر عمل میں تدریج ، غور و فکر اور ایک حسن انتظام کو پسند فرما کر انسان کے لیے اس میں بھی راہنمائی فرما دی کہ جلد بازی میں فیصلے نہ کئے جائیں بلکہ تمام امور نہایت غور و فکر سے طے کیے جائیں تاکہ پچھتانا نہ پڑے لہذا دو دن میں زمین بنائی جیسا کہ ارشاد ہے خلق الارض فی یومین۔ پھر دو دن میں اس کی آبادی کا سامان پہاڑ دریا معاون اور نباتات کہ ارشاد ہے۔ قدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام۔ اس طرح چار روز ہوگئے اور دو دن میں آسمان درست فرما دئیے اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ جیسا کہ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ یہ چھ دن ہوئے اور ساتویں روز کوئی کام نہ ہوا یعنی سب کچھ مکمل تھا ایک سوال کہ جب چاند سورج نہ تھے تو دنوں کا شمار کیسے ہوا تو اس کا بہت عمدہ جواب جو متقدمین نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح جنت میں یہ چاند سورج تو نہ ہوں گے مگر دن رات کا شمار ہوگا اسی طرح ان کی تخلیق سے قبل دن رات اللہ کے اپنے علم کے مطابق ہوں گے یہ شب و روز تو اس دنیا کے ہیں یہاں وہ مراد ہوں گے جو علم الہی میں ہیں۔ ربوبیت کے احسانات : مقرر ہیں جیسے آخرت کا ایک دن یہاں کے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہوگا وہاں بھی یہ سورج دن کی دلیل نہ ہوگا در اصل یہاں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ آج یوم حشر جس رب کو پکا رہے ہو وہ تمہارے لیے کس قدر کریم تھا کہ تم نہ تھے اس نے اتنی وسیع کائنات تخلیق فرمائی زمین اور اس کے عجائبات آسمان اور اس کی برکات اور پھر عرش عظیم کو اپنی تجلیات ذاتی کا مہبط قرار دے کر تمہارے لیے اپنا در وا کردیا۔ اس نے شب و روز کا سلسلہ قائم فرما کر ساری تخلیق میں ایک حسن ترتیب اور تمہاری زندگی میں کام و آرام کے اوقات عطا فرمائے سورج چاند ستارے اور ایک وسیع کائنات جو محض اس کی قدرت کاملہ سے اپنے اپنے فریضے کو باقاعدگی سے ادا کر رہی ہے تمہاری خدمت پہ لگا دی آج تک ہر چیز اپنے وقت پر اپنے حصے کی خدمت بجا لا رہی ہے اور یہ بات کتنی صاف ہے کہ ساری مخلوق اسی کی ہے اور اسی کا سب پر حکم بھی ہے نہ اس کے بنانے میں کوئی اس کا شریک کار اور نہ چلانے میں پھر ارشاد ہوا کہ وہ عرش پر قائم ہوا چم استوای علی العرش۔ اس کے معنی تو عام ہیں مگر کیفیت اور حقیقت کا ادراک عقل انسانی سے بالا تر ہے لہذا ایمان لانا واجب ہے اور کیفیت پہ بحچ بدعت کہ صحابہ کرام ایسے سوال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ کیے گھے عرش سے مراد تخت شاہی ہے اور اس کی نسبت رب کریم کی طرف ایسے ہی ہے جیسے کعبہ شریف کی کہ بیت اللہ ہے ہاں عرش کو دعا کا قبلہ بنا دیا اسی لیے دعا میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں ورنہ تو اس کی ذات ہاں نہیں اور اگر یہ ترتیب نہ ہو تو لوگ بکھر جائیں۔ لہذا عرش عظیم کو اپنی تجلیات کا مہبط بنا دیا اور اسی کا عالم خلق بھی ہے یعنی جہاں تک اجسام مادیہ ہیں اور عرش سے اوپر مجردات لطیفہ یعنی عالم امر بھی اسی کا ہے صوفیہ کے مطابق اس آیہ کریمہ سے دونون عالم چابت ہیں یعنی زیر عرش بھی سب کچھ اسی کا ہے اور بالائے عرش بھی وہی حاکم مطلق ہے لہذا وہ بہت بڑی ذات ہے جو اپنے وجود اپنی ذات اور چبات میں کسی کی محتاج نہیں اور اس کے علاوہ جو بھی سب اس کی مخلوق ہے اور اس کی محتاج۔ ادعوا ربکم۔ 56 تا 58 لہذا اب جبکہ تم اس عالم میں اس کی بیشمار نعمتوں سے فائدہ حاصل کر رہے ہو اور اس کے انعامات سے لطف اندوز ہو رہے تو اب وقت ہے اب اس کو یاد کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے ادب کے ساتھ کہ دعا میں بھی حد سے بڑھنا اسے پسند نہیں مچلا جو چیزیں یا امور شرعاً منع ہیں یا عقلا محال ہیں ان کے لیے دعا کرنا یا اپنی طرف سے طریق دعا ایجاد کرنا وغیرہ۔ دعا : لفظ عا طلب حاجات اور عبادات دونوں کو شامل ہے نیز مطلق یاد کرنا بھی مراد ہے یعنی اسے یاد کرتے رہو اسی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو لہذا دعا مانگنے کا ادب یہ ہے کہ بندے کی بات اپنے رب سے ہو اور محض لوگوں کو سنانے کے لیے موٹے موٹے جملے دہرا کر رسم پوری نہ کی جائے جیسا کہ آجکل رواج ہو رہا ہے اور خفیہ یعنی چپکے چپکے عاجزی اور تذلیل کے ساتھ اور یہی طریق عبادت سب سے بہتر ہے جو عبادت پوشیدہ ہوسکتی ہے اسے ظاہر نہ کیا جائے کہ معاملہ بندے اور رب کے درمیان ہے ورنہ تو ریا بن جائیگی۔ ذکر خفی : اور اس سے مرا ذکر الہی بھی ہے جو عجز کے ساتھ اور خفی کیا جائے صوفیائے کرام میں ذکر جہر بھی ہے اور اس کا جواز بھی سنت سے ابت ہے بشرطیکہ نہ ریا ہو اور نہ بہت زیادتی کی دوسروں کو پریشان کرے مگر ذکر خفی کی فضیلت بہرحال ثابت ہے حدیث شریف میں واد ہے۔ خیر الذکر خفی و خیر الرزق ما یکفی۔ یعنی بہترین ذکر خفی ہے۔ اور بہترین رزق جو انسان کا گزارہ کرسکے۔ جن خاص اوقات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہر کی وضاحت فرما دی مثلاً اذان اقامت جہری نماز میں تلاوت یا تکبیرات وغیرہ وہاں تو جہر ہی ضروری ہے اس کے علاوہ ذکر خفی اولی بھی ہے اور زیادہ نفع بخش بھی۔ نیز ذکر دعا اور عبادات میں حد سے نہ بڑھے یعنی اپنی طرف سے کچھ ایجاد نہ کرے اور نہ رسومات کو راہ دے بلکہ ہر کام میں اتباع رسالت شرط ہے ورنہ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے۔ فساد فی الارض : اللہ کریم نے زمین کی ہر طرح درستی فرما دی چاند سورج ستارے اور پہاڑو دریا رویدگی نباتات و جمادات ایک بہت خوبصورت آرام دہ نظام ساری مخلوق کے لیے بنا دیا پھر اس کی باطنی اصلاح فرمائی اپنے نبی اور کتابیں بھیج کر کہ کسی قسم کا ظلم یا کفر و شرک نہ ہو تو اے لوگو تم نافرمانی کرکے اس میں فساد نہ پھیلاؤ اس اپنے اور دوسروں کے لیے تکلیف دہ نہ بناؤ۔ گناہ کا ایک اثر تو یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جو بجائے خود بہت بڑا جرم ہے دوسرا اثر ماحول اور اشیا عالم پر مرتب ہوتا ہے اور ان میں فساد یعنی خرابی پیدا ہونے لگتی ہے جو چیزیں انسان کے آرام کا باعث تھیں اور اسے تکلیف پہنچانان شروع کردیتی ہیں اور یہی کھانا پینا اور روز مرہ استعمال کی اشیاء آرام کی بجائے دکھ کا باعث بن جاتی ہیں اور طرح طرح کے امراض پیدا ہونے لگتے ہیں جب بات اس حد سے بھی بڑھے تو انسان خود دوسرے انسانوں پر ظلم توڑنے لگتا ہے ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر خوش ہوتے ہیں آپس میں لڑائی اور تباہی کے درپے ہوتے ہیں ساتھ ہوا پانی مٹی سب مخلوق نقصان پہ تل جاتی ہے طوفان آتے ہیں زمین پھٹتی ہے سمندر آبادیوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور یہ سب کچھ انسانی کردار کا فوری نتیجہ ہوتا ہے ابدی اور ہمیشہ کے لیے رہنے والے نتائج میدان حشر میں سامنے آئیں گے جو ان تمام امور سے بہت زیادہ بھیانک ہوں گے لہذا گناہ کو محض ایک لغزش ہی نہ سمجھا جائے اس کے اثرات پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے کہ اول تو خود انسان کے عمل میں فساد پیدا ہوتا ہے پھر اس کی کیفیات باطنی میں فساد پیدا ہوتا ہے اور تیسرے درجے پر نظام عالم متاثر ہوتا ہے اس سب کی ذمہ داری میں خود اس کی ابدی زندگی غضب الہی کا شکار ہو کر رنج الم کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اللہ کریم اس سے پناہ دے۔ اور اس کا علاج صرف ایک ہے کہ اللہ کو یاد کرتے رہو اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت پر پوری امید کے ساتھ اصل بات عظمت باری کا احساس ہے جو کچر ذکر اور صحبت کاملین سے نصیب ہوتا ہے جب دل کو اللہ کی یاد نصیب ہوجائے تو اپنے سب کاموں کی تعمیل کو اولیت دیتا ہے اگرچہ بعض اوقات لغزش بھی صادر ہوجائے مگر کوشش اطاعت ہی کے لیے کرے تو توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے جو رحمت الہی کو پالیتی لہذا اللہ کریم کو پکارتے رہو عجز کے ساتھ خفیہ یعنی دل ہی دل میں اپنی کوتاہیوں کا خوف بھی ہو مگر اس کی رحمت پہ امید کامل بھی اس لیے کہ اس کی رحمت محسنین کے ساتھ رہتی ہے۔ محسنین سے مراد وہی لوگ ہیں جنہیں کوئی ذرہ معرفت باری کا نصیب ہوتا ہے اور خلوص دل سے خود کو اللہ کے روبرو زندہ رکھتے یعنی زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی رحمت عامہ تو محتاجوں کو تلاش کرتی ہے وہی ذات ہے جو ہواؤں کو چلاتی ہے اور وہاء یں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں لاکھوں گیلن پانی دھواں بن کر ہوا کے دوش پہ سوار ان جگہوں کو تلاش کرلیتے ہیں جو پیاس اور خشکی سے تباہ ہو رہی ہو اور پھر وہی دھواں دوبارہ پانی بننے لگتا ہے اور یوں ٹوٹ کر برستا ہے کہ جل تھل کردیتا ہے مردہ زمین انگڑائیاں لینے لگتی ہے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہوتے ہیں اور پھر سبزہ اور پھول اس کا ادامن سجا دیتے ہیں مختلف درختوں پہ طرح طرح کے پھل آتے ہیں اور یوں موج حیات رواں دواں ہوجاتی ہے اسی سے یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ قادر ہے موت کی وادی میں گم ہونے والوں کو بھی ویسے ہی دوبارہ زندہ کرکے کھڑا کردے گا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں اس کی قدرت کاملہ کو دیکھو پانی کہاں ہوا پر سوار ہوسکتا تھا مگر اس نے کردیا اور ایک مستقل نظام بنا دیا کہ مسلس بھاپ بنتی رہے پھر بادل کی صورت دے کر اسے فضا میں چلا دیتا ہے اس میں پانی کی کوئی خبر نہیں لگتی درمیان سے گذرو تو محض ایک دھواں سا ہے مگر یہ محض اتفاقا نہیں اڑ رہا اسے اڑایا جا رہا ہے اور جہاں اللہ چاہیں پہنچا دیتے ہیں پھر اسے پانی بنا کر بارش کی صورت میں برسا دیا جاتا ہے اس سے بھی حیرت انگیز صورت حال زمین کی ہوتی ہے جو ایک طرح سے مردہ ہوچکی ہو پھل پھول تباہ رویدگی ختم چشمے خشک اور ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر بارش نوید حیات لاتی ہے تو قدرت کاملہ ذرا ذرا سے بیج کو فصل گھاس بیل درخت بننے کی توفیق عطا فرماتی ہے اور دنوں میں پھر سے حیات لہلہانے لگتی ہے اسی طرح پیوند زمین ہونے والے انسانوں کو بھی پھر سے زندہ کردے گا اس میں جہاں رحمت باری کی وسعت اور اس سے امید رکھنے کی دعوت ہے وہاں یہ نصیحت بھی موجود ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا کوئی عجیب بات بات نہیں بلکہ اللہ کی قدرت سے اس کے مظاہر ہمارے روبرو موجود ہیں۔ زمین دل : اس کے ساتھ یہ بات بھی انسانی مشاہدے میں ہے کہ بارش تو ایک سی برستی ہے نتائج زمین کے اختلاف کے باعث مختلف ہوتے ہیں اچھی زمین پھولوں سے بھر جاتی ہے مگر شور اور ناکارہ زمین پر یا تو کچھ اگتا ہی نہیں اور اگر اگے بھی تو بہت ناقص جس سے حیات انسانی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا یہی حال انسانی قلوب کا ہے کہ ذکر الہی سے روشن دل ہر بات پہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور مسلسل قرب الہی پاتا رہتا ہے مگر زمین دل ہی شور ہوجائے تو اللہ کریم کی آیات بھی اسے متاثر نہیں کرپاتیں اور نفع کے احساس تک سے محروم رہتا ہے ورنہ شکر گزار تو ہر آن عطایات سے لطف اٹھاتے ہیں یعنی جن قلوب میں استعداد ہوا نہیں تو مسلسل راہنمائی نصیب ہوتی رہتی ہے اور یہ نعمت بارش کی طرح برست تو سب پر ہے محروم رہنے والوں کے قلوب فائدہ حاصل کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ستتہ ایام (چھ دن ) ۔ استوی (برابر ہوا ) ۔ العرش (تخت ) ۔ یغشی (چھا جاتا ہے) ۔ یطلبہ (وہ اس کے پیچھے آتا ہے ) ۔ حثیث (دوڑتا ہوا ) ۔ النجوم (ستارے ) ۔ مسخرت (تابع ہیں ) ۔ بامرہ (اس کے حکم کے ) ۔ الخلق (پیدا کرنا ) ۔ الامر (حکم کرنا ) ۔ ادعوا (پکارو ) ۔ تضرعا (عاجزی (سے) ۔ خفیتہ (چپکے چپکے ) ۔ المعتدین (حد سے گزر جانے والے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (54 تا 55 ) ۔ ” اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو اس کائنات میں ہر چیز میں ایک تدریج ہے یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ اور اصولوں کے مطابق بنتی اور اپنے عروج و کمال کو پہنچتی ہے۔ حیوانات نباتات وغیرہ میں بھی یہی اصول کار فرما ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ زمین وآسمان، چاند، سورج، ستارے ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور یہ سب چیزیں اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتی اور چلتی ہیں جس کے لئے اس نے ایک خاص نظام قائم فرما دیا ہے۔ یہ نظام اس قدر مرتب اور منظم ہے کہ اگر نگاہ بصیرت ہو تو ہر چیز میں ایک تدریج اور شان سامنے نظر آتی ہے۔ آج انسان نے ایسے سائنسی آلات ایجاد کر لئے ہیں جن سے وہ کائنات کے اس مرتب نظام کو دیکھ کر بہت کچھ پہلے سے بتا سکتا ہے جیسے محکمہ موسمیات ہے وہ اپنے آلات کے ذریعہ سے یہ تک بتا سکتا ہے کہ چند روز کے بعد بارش، یا طوفان آنے والا ہے۔ اگر یہ نظام کائنات مرتب اور منظم نہ ہوتا تو اس کی پہلے سے پیشین گوئی کیسے کی جاسکتی تھی۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو بتدریج چھ دن میں بنایا ہے۔ اب یہ چھ دن ہماری دنیا کے ہیں یا وہ دن ہیں جن کو سورة حج میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وان یو ما عند تبک کالف منتہ مما تعدون اور بیشک آپ کے رب کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے اس حساب سے جس کو تم اختیار کئے ہوئے ہو۔ بہر حال کوئی دن بھی ہو یہاں رب العالمین نے اس اصول کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ نظام کائنات خود بخود یا اچانک وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے پھے نل اللہ کی قدرت کا ہاتھ ہے جس نے اس کو بنایا اور وہ اس کا دست قدرت اس پوری کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے۔ اس آیت میں یہودیوں کے اس غلط تصور کی بھی تردید مقصود ہے جس میں انہوں نے یہ تصور قائم کرلیا ہے کہ اللہ نے چھ دن میں اس دنیا کو بنایا اور ساتویں دن اس نے آرام کیا اللہ نے فرمایا کہ اس نے اس نظام کائنات کو چھ دن میں بنایا۔ مگر اس کے بعد وہ اللہ تھک کر آرام کرنے نہیں چلا گیا بلکہ اس نے اپنی شان کے مطابق ساتویں دن عرش پر مستوی ہو کر نظام کائنات کا انتظام سنبھا لیا۔ اب اسی کی قدرت جاری وساری ہے۔ ان آیات میں پہلے تو زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر ارشاد ہے کہ وہی ذات ہے جس کے سامنے انسان کو جھک کر ہر آن اسی سے مانگنا چاہئے۔ دعا کا فلسفہ کیا ہے اس کو ملاحظہ فرمایئے۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلی آیات میں بھی ملاحظہ کیا ہوگا کہ اسلام نے اللہ کے ” معبود “ ہونے کا یہ تصور نہیں دیا کہ وہ انسانی ہنگاموں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا کوئی دیوتا ہے یا اس نے ایک مرتبہ کائنات کی خود کار مشین میں چابی بھر کر اس کو چھوڑ دیا ہے اور اب وہ دور سے بیٹھا تماشا دیکھ رہا ہے بلکہ دین اسلام میں اللہ کا تصور یہ ہے کہ وہ ہر آن کائنات کے نظام میں تصرف کرتا ہے وہ ایک ایک مخلوق کے رزق اور ضروریات زندگی کو فراہم کرتا ہے وہ ان کی مصیبتوں میں ان کی پکار کو سنتا ہے وہ زندگی کے ایک ایک مرحلے پر قدم بقدم ان کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ خود مطالبہ کرتا ہے کہ میرے بندو ! مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنتا ہوں میں تم سے دور نہیں ہوں بلکہ تمہاری رگ جاں بھی اتنی قریب نہیں ہے جتنا کہ میں تمہارے قریب ہوں۔ یہاں بھی حکم ہے کہ ہر حال میں اسی سے دعائیں مانگی جائیں حاجت روائی کیلئے بھی اور اللہ کو یاد کرنے کے لئے بھی اور دعا مانگنے کے اللہ نے آداب اور طریقے بھی سکھا دئے یعنی عاجزی اور انکساری کرتے ہوئے گڑ گڑاتے ہوئے اپنے آپ کو حاجت مند ذلیل اور پست سمجھ کر اپنے آپ کو قصور وار نادم، پیشمان، محتاج اور گداجان کر۔۔۔۔ اس اللہ کے دربار میں عرض پیش کرے جو غنی ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے رازق ہے شافی ہے مشکل کشا ہے مغفرت کرنے والا ہے، بخشش اور بخشائش والا ہے، رحمن و رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔ یہ بھی سکھایا گیا کہ دعا میں ادب اور تہذیب و شائستگی کا خیال رکھا جائے نرم اور پست لب و لہجہ شور غل سے دور خموشی سے قریب کیونکہ وہ اللہ سب کچھ سن رہا ہے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ پھر زور شور سے پکارنے کی ضرورت کیا ہے دعا میں مصنوعی گریہ وزاری سے پرہیز ہونا چاہئے اگر فطری ہو تو قابو کے اندرہو۔ کیونکہ اللہ کو دعا کرنے اور پکارنے میں بھی حد سے گذر جاناپسند نہیں ہے۔ اگر چہ دعا کے معنی میں یاد کرنا بیر شامل ہے لیکن عام طور پر حاجت روائی کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں کون شخص ہوگا جو حاجت یا حاجات نہیں رکھتا۔۔۔۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ہر آن اسی اللہ سے مانگا جائے اور دعائیں کی جائیں۔ دعا کے معنی ہیں اللہ کے حضور میں پکار، مناجات، فریاد، التجا، تمنا، گذارش، یاد۔ چونکہ اس کائنات میں وہی خالق ومالک ہے، وہی حاکم، کارساز، رازق، مصائب ڈالنے والا اور مصائب کو ٹالنے والا، صاحب تقدیر و تدبیر، صاحب موت وحیات ہے۔ اور بندہ کیا ہے ؟ مجبور، محتاج، مسکین، ہر وقت ناگہانی آفات کا شکار، بیماری ، غم، فکر، پریشانی، خوف، مفلسی قدم قدم پر موت کا خوف اور لمحہ بہ لمحہ نت نئی مشکلات۔۔۔۔ دوسری طرف خواہشات اور آرزوئیں اپنی تمام تر رنگین جلوہ آرائیوں کے ساتھ۔ ۔۔ ۔ غلطیوں، گناہوں کا پتلا، جذبات کا غلام، اگر بصارت نہیں تو بصیرت سے محروم۔ ۔۔ ۔ تاہم ان تمام کمزوریوں کے باوجود دعا سب سے بڑی طاقت ہے جو انسان اپنے اند پیدا کرسکتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ دعا مانگنے والے کے ہاتھ میں دو عظیم ہتھیار ہیں۔ ایک طرف خوف دوسری طرف امیدیں۔ ۔۔ ۔ سزا کا خوف، جزا کی امیدیں، ۔ اس دعا کے ذریعہ کمزور اور مجبور انسان تمام توانائیوں کے لا محدود سر چشمہ تک پہنچتا ہے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں تو اس قدرت و حکمت سے منسلک ہوجاتے ہیں جو لافانی ہے اور کائنات کو گردش میں رکھتی ہے اسی لئے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : دعا مغز عبادت ہے (ترمذی عن انس بن مالک (رض) دعا عین عبادت ہے (عن نعمان بن بشیر (رض) جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے (عن ابی ہریرہ (رض) ۔ ترمذی) دعا بہر حال فائدہ مند ہے ان بلاؤں کے معاملے میں بھی جا نازل ہوچکی ہیں اور ان کے لئے بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئیں۔ اللہ کے بندو تم ضرور دعا مانگا کرو (ترمذی) اللہ سے اس امید کے ساتھ دعائیں مانگا کرو کہ وہ قبول کرے گا (ترمذی)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔ 6۔ یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے۔ 7۔ یعنی دن آنافانا گزرنا معلوم ہوتا ہے حتی کہ دفعتا رات آجاتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرک جن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتے ہیں۔ ان کا کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں پھر وہ کس بنیاد پر سفارش کریں گے ؟ قرآن کریم نے مادی کائنات کے آغاز و انجام کا ایک خاص تصور دیا ہے۔ یہ تصور ڈیڑھ سو برس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھا۔ یقیناً نزول قرآن کے زمانے میں تو اس کا شاید تصور بھی کسی انسان کے لیے محال تھا۔ مگر جدید کائنات کے علم نے حیرت انگیز (کسی مسلمان کے لیے تو یہ بالکل حیرت انگیز نہیں ہے۔ ہاں غیر مسلموں کے لیے ضرور ہوسکتا ہے) طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔ قرآن کریم میں مظاہر فطرت، تخلیق اور دیگر اہم موضوعات کا تذکرہ ایک مسلسل اور مربوط انداز کی بجائے پورے قرآن میں پھیلا ہوا۔ جس کا مقصد موقعہ محل کے مطابق اس سے اللہ کی توحید کا استدلال کرنا ہے۔ چناچہ متعدد سورتوں میں پھیلے ہوئے اجزا کو یکجا کرکے ہم تخلیق کائنات اور سماوات وارض کے مختلف ارتقائی مراحل کا قرآنی تصور حاصل کرکے جدید سائنسی تحقیقات سے ان کا موازنہ کرسکتے ہیں۔ ان آیات سے تخلیق کے چند نکات بالکل واضح ہیں۔ ١۔ عام تخلیق کے لیے چھ ادوار کا ہونا۔ (جن کا دورانیہ اربوں کھربوں سالوں پر محیط ہے، صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ ) ٢۔ آسمان اور زمین کے وجود کا آپس میں جڑا ہونا۔ ٣۔ کائنات کی تخلیق ابتدائی نوعیت کے ایسے مادے سے جو ایک بڑے تودے کی شکل میں تھا اور بالآخر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ٤۔ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان مخلوق کی تخلیق۔ ٥۔ آسمانوں اور زمینوں کا مقررہ وقت پر طے شدہ وقت کے مطابق و خاتمہ۔ تشکیل کائنات سے متعلق چند جدید سائنسی معلومات کائنات کی ابتداء Big Bang Teory انیسویں صدی کے نصف اول میں چند علماء یورپ کا یہ خیال تھا کہ شاید کائنات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ لیکن جدید سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور اس کا ایک انجام بھی مقدر ہے۔ جدید طبیعات کا ایک قانون (Second law of the rmodynamics) ” احرکیات حرارت کا دوسرا قانون “ ہے۔ اس کا ایک ضمنی قانون جسے ” ضابطۂ ناکارگی “ (Law of enterophy) کہا جاتا ہے۔ ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ حرارت، مسلسل، باحرارت وجود سے بےحرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے مگر اس چکر کو الٹا نہیں چلایا جاسکتا کہ خود بخود حرارت، کم حرارت والے جسم سے زیادہ حرارت والے جسم میں منتقل ہونے لگے۔ ناکارگی دستیاب توانائی (Available Energy) اور غیر دستیاب توانائی (Unavailable Energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے اور اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ناکارگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے جب تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کار آمد توانائی باقی نہیں رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور زندگی بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔ لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ کیمیائی اور طبعی عمل جاری اور زندگی کے ہنگامے قائم ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ کائنات ازل سے موجود نہیں۔ وگرنہ اخراج حرارت کے لازمی قانون کی وجہ سے اس کی توانائی کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی اور یہاں زندگی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہ ہوتی۔ اسی جدید تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی عالم حیوانات ( Edward Futher Kesel) لکھتا ہے : ” اس طرح غیر ارادی طور پر سائنس کی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning) رکھتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ جو چیز اپنا آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہوسکتی۔ یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔ “ (The evidence of God , p51) چناچہ کائنات کے وجود میں آنے کا مسلمہ جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ ابتداً مادہ مرکوز اور مجتمع (Concentrated and Condensed) حالت میں تھا۔ (أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ )[ سورة الأنبیاء : ٣٠] ” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ارض و سماوات آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کی خلاقی) پر ایمان نہیں لاتے ؟ “ یہ مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی پھر اچانک یہ ایک عظیم دھماکہ (Big Bang) (یہ عظیم دھماکہ ایک اندازہ کے مطابق 15 کھرب سال پہلے ہوا) سے پھٹ پڑا اور اس نے ایک عظیم گیسی بادل یا قرآن کے لفظ میں دخان (ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ) کی صورت اختیار کرلی۔ سائنس کی یہ دریافت قرآنی بیان کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ یہ گیسی بادل بہت عظیم الجثہ تھا اور آہستہ آہستہ گردش کر رہا تھا۔ یہ عظیم سدیم (Primery nebula) انجام کار متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا جن کی لمبائی چوڑائی اور مقدار مادہ بہت ہی زیادہ تھا۔ نجمی طبیعات (Astrophysicist) کے ماہرین اس کی مقدار کا اندازہ سورج کے موجودہ مادہ کے ایک ارب سے لگا کر ایک کھرب گنا تک لگاتے ہیں۔ ان اعداد سے ابتدائی گیسی مقدار مادہ (Hydrogen and Helium) کے ان ٹکڑوں کے عظیم جثوں کا کچھ تصور ملتا ہے جن سے بعد میں عمل انجماد (Condensation) کے ذریعے کہکشائیں وجود میں آئیں۔ وسعت کائنات یہ کائنات جس کا ابھی تک انسان احاطہ نہیں کرسکا ہے اتنی وسیع ہے کہ اس کو تصور میں لانا ہی مشکل ہے اگر ساری دنیا کے ریگستانوں اور سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت اکٹھی کرلی جائے تو ریت کے اس عظیم ڈھیر میں جتنی حیثیت، ریت کے ایک ذرّے کی ساری ریت کے مقابلے میں بنتی ہے کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین کی شاید اتنی حیثیت بھی نہیں بنتی۔ اگر ہم ایک خیالی جہاز تصور کریں جو روشنی کی ہیبت ناک رفتار یعنی ایک لاکھ چھیا سی ہزار میل فی سیکنڈ (1, 86, 000 Miles/Sec) کی رفتار سے سفر کرسکتا ہو کائنات کے گرد گھومے تو اس ہوائی جہاز کو پورا چکر لگانے میں ایک ارب سال لگیں گے۔ پھر بھی ہمارا یہ فرضی جہاز کبھی کائنات کا چکر مکمل نہ کرسکے گا کیونکہ اتنی وسعت کے باوجود یہ کائنات ٹھہری ہوئی نہیں بلکہ غبارے کی طرح پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار اتنی ہے کہ ہر 130 کروڑسال بعد کائنات کے تمام فاصلے دگنے ہوجاتے ہیں۔ کائنات کا یہ پھیلاؤ جدید سائنس کی سب سے مرعوب کن دریافت اور اب یہ ایک نہایت مستحکم تصور ہے اور بحث صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ امر کس طرح انجام پا رہا ہے۔ جبکہ قرآن نے 14, 00 سال پہلے اس کا انکشاف کردیا تھا۔ (وَالسَّمَاء بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ )[ سورة الذاریات : ٤٧] ” آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم ہی اس میں توسیع کر رہے ہیں۔ “ نزول قرآن کے وقت کسی بھی شخص کے لیے ناممکن تھا کہ وہ وسعت کائنات کا مطالعہ و مشاہدہ کرسکتا ہو۔ چناچہ سائنس کی یہ دریافت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن خالق کائنات یعنی اللہ کا کلام ہے۔ نظام شمسی اور کہکشائیں نظام شمسی ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس کے مرکز میں ایک سیارہ ہو اور اس کے گرد مختلف سیارے اپنے اپنے مداروں میں چکر لگا رہے ہوں۔ چناچہ کائنات کے جس نظام شمسی میں ہم رہتے ہیں اس کے مرکز میں سورج ہے اور اس کے گرد بشمول ہماری زمین ٩ سیارے چکر لگا رہے ہیں۔ صرف اس نظام کی وسعت کا یہ حال ہے کہ سورج کی (یاد رہے کہ روشنی 1, 86, 000 میل فی سیکنڈ کی تیز ترین رفتار سے سفر کرتی ہے) روشنی کو اپنے بعید ترین سیارے یعنی پلوٹو (Pluto) جو کہ اعداد میں دیکھیں تو سورج سے تین ارب سر سٹھ کروڑ بیس لاکھ میل (3, 66, 2000000) دور ہے، کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور پلوٹو سورج کے گرد ساڑھے سات ارب میل کے دائرے میں چکر لگا رہا ہے۔ ہماری زمین جو سورج سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے۔ سورج کے گرد انیس کروڑ میل کا دائرہ ہے جو ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ تمام سیارے اپنے سفر میں اس طرح مصروف ہیں کہ ان کے گرد اکتیس چاند بھی اپنے اپنے سیاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان کے علاوہ تیس ہزار چھوٹے سیاروں (Asteroids) کا ایک حلقہ، ہزاروں دمدار ستارے (Comets) اور لاکھوں شہاب ثاقب ہیں جو اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے درمیان میں سورج ہے جس کا قطر (Diameter) آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے اور وہ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے، پھر یہ سورج خود بھی رکا ہوا نہیں۔ سورج کس طرح سفر کر رہا ہے ؟ کیلیفورنیا کی ایک رصد گاہ کے ڈائریکٹر آرجی ایٹکن کا اندازہ ہے کہ سورج اپنے نظام شمسی سمیت اپنی کہکشاں کے ساتھ چوبیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ جو جدید انکشاف کے مطابق سورج مجمع النجوم شلیاق کے مرکز جس کو Solar Apex ہا گیا ہے کی طرف جا رہا ہے۔ یہ دریافت بھی قرآن کی صداقت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جیسا کہ قرآن نے چودہ صدیاں قبل ہی یہ اعلان کردیا تھا۔ (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیم)[ یس : ٣٨] ” اور سورج اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ “ علمائے فلکیات کے ایک جدید اندازے کے مطابق ہر کہکشاں (Galaxy) میں دو کھرب ستارے ہیں اور اب تک معلوم کائنات میں تقریباً دو کھرب یہ کہکشائیں ہیں۔ جو کہکشاں ہم سے قریب ترین ہے وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً نو لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یہ کہکشاں مراۃ السلسلہ (Andromida) نامی مجمع النجوم میں واقع ہے۔ لہٰذا روشنی کو ان ستاروں سے جو معلوم سماوی جہاں کے اس سرے پر واقع ہیں ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ کائنات کی پہنائیاں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی پیمائش کے لیے خاص اکائیاں مثلاً نوری سال اور پارسک وغیرہ وضع کی گئیں ہیں۔ نوری سال یا سال نوای اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور یہ تقریباً 58 کھرب ستر ارب میل کے برابر ہوتا ہے اور پارسک 3.26 نوری سال یا ایک نیل 92 کھرب میل کے لگ بھگ ہے۔ (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) کائنات کی ان وسعتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس حدیث میں ذرا بھی مبالغہ نہیں جس میں بتایا گیا ہے وہ آخری آدمی جسے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجے گا اور اسے وہ وسیع و عریض باغ دکھا کر کہا جائے گا یہ سب تمہارا ہے تو وہ حیران ہو کر کہے گا۔ ” یا اللہ تو اللہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ “ طرّہ پھر اس پہ یہ کہ یہ کہکشائیں بھی ٹھہری ہوئی نہیں ہیں بلکہ اپنے محور پر گردش کر رہی ہیں۔ چناچہ وہ کہکشاں جس میں ہمارا نظام شمسی واقع ہے اس کا اپنے محور پر ایک دور 20 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ یہ ساری حرکتیں اور گردشیں حیرت انگیز طور پر نہایت تنظیم اور باقاعدگی کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ نہ ان میں باہم کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ رفتار میں کوئی فرق پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق Big Bang کے وقت اگر مادے کے پھیلنے کی رفتار میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لاکھویں حصے جتنا بھی فرق پڑجاتا تو ساری کائنات آپس میں ٹکرا کر درہم برہم ہوجاتی ! (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) یہ نظام اس حدتک مربوط اور مستند (Accurate) ہے کہ ایک کہکشانی نظام جو اربوں متحرک ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے دوسرے کہکشانی نظام میں حرکت کرتا ہوا داخل ہوتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے مگر باہم کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا ! اس عظیم اور حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر انسانی عقل بےاختیار اعتراف کرتی ہے کہ کوئی تو ہے، زبردست، غیر معمولی طاقت اور علم والا جس نے اس اتھاہ نظام کو قائم کر رکھا ہے۔ یہاں پر یہ واقعہ باعث بصیرت وتقویت ایمان ہوگا جس کا تعلق مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز (Sir James Jeans) England (1877-1946) سے ہے۔ موصوف مشہور کتاب (The Mysterious Universe) کے مصنف ہیں۔ اس واقعہ کو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے بیان کیا ہے انھی کے الفاظ میں سنیے۔ ” 1909 کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینز پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے قریب ہو کر سلام کیا۔ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا دو باتیں۔ اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھتری بغل میں دبا رکھی ہے۔ سر جیمز جینز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے۔ یہ کیا ؟ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز جینز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ” آج شام کی چائے میرے ساتھ پیو “ چناچہ شام کو میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں : ” سر جیمز تمہارے منتظر ہیں “ اندر گیا تو ایک چھوٹی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے : ” تمہارا سوال کیا تھا ؟ “ میرے بولنے کا انتظار کیے بغیر ہی اجرام فلکی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بےانتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا اور جبروت پر دہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونہ کیفیتیں عیاں تھیں، اللہ کی ہیبت اور دانش سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، عنایت اللہ خاں ! جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں ” تو بہت بڑا ہے “ تو میری ہستی کا ذرہ ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے۔ مجھے بےحد خوشی اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے کہو عنایت اللہ خاں ! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے کیوں جاتا ہوں ؟ “ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام مچا دیا۔ میں نے کہا :” جناب والا آپ کی روح افروز تفصیلات سے میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن پاک کی ایک آیت یاد آئی ہے اگر اجازت ہو تو پیش کروں۔ “ فرمایا ضرور چناچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔ (وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء إِنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ غَفُورٌ)[ سورة فاطر : ٢٨] ” اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے لیے بھی رنگ مختلف ہیں بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرتے وہی ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر غالب اور بخشنے والا ہے۔ “ آیت سنتے ہی پروفیسر بولے ” کیا کہا ! اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے ٥٠ برس کے مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس نے بتائی۔ کیا قرآن میں واقعی ہی یہ آیت موجود ہے ؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پڑھ تھے، انھیں یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہوسکتی۔ انھیں یقیناً اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب بہت عجیب۔۔ “ (بحوالہ : ” ماہنامہ نقوش “ ) مسائل ١۔ جہانوں کا رب اللہ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش کے اوپر متمکن ہے۔ ٣۔ رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے۔ ٤۔ سورج، چاند، ستارے اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ ٥۔ کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ ٦۔ کائنات پر صرف اللہ کا حکم چلتا ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٥٤۔ اسلام کا نظریہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہر قسم کے انسانی تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اللہ کے افعال کی کیفیات کی بھی وہ نفی کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ ایسا ہے جیسا کوئی بھی نہیں ہے ۔ چناچہ انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ‘ کیونکہ انسانی تصور اور انسانی عقل وہی تصاویر اللہ پر چسپاں کرے گا جو وہ اپنے ماحول سے اخذ کرے گا اور اس میں ان اشکال کا دخل ہوگا جو انسان دیکھتا ہے اور اللہ کی ذات ایسی ہے جیسا کوئی اور ذات نہیں ہے لہذا انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ۔ اور جب ذات باری انسانی تصور کے دائرہ تصویر کشی سے باہر ہے تو اللہ کے افعال کی کیفیات بھی دائرہ عقل سے وراء ہیں ۔ انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ ذات باری اور افعال باری کے آثار ہی ہمارے فہم وادراک کا موضوع ہو سکتے ہیں ۔ چناچہ ایسے سوالات کہ اللہ نے آسمان و زمین کو کس طرح پیدا کیا ؟ اللہ پھر عرش پر کیسے متمکن ہوا ؟ اور وہ عرش کیسا ہے جس پر باری تعالیٰ متمکن ہوا ؟ یہ تمام سوالات لغو سوالات ہیں اور اسلامی تصورات و عقائد کے اصول کے خلاف ہیں ۔ ایسے سوالات سے بھی لغو بات ہے اور کوئی شخص جو اسلامی تصورات و عقائد کے ان اصولوں سے واقف ہے ‘ وہ کبھی ان سوالات کا جواب دینے کی سعی نہیں کرے گا ۔ اسلامی فرقوں میں سے بعض لوگوں نے ان سوالات کے جوابات دینے کی سعی کی ہے ‘ جو نہایت ہی افسوسناک مشغلہ تھا ۔ اسلامی افکار کی تاریخ ایسے مباحث سے بھری پڑی ہے اور یہ مباحث اس وقت پیدا ہوئے جب اسلامی فکر کو یونان کی اکفار کی بیماری لاحق ہوئی ۔ رہے وہ چھ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا تو یہ بھی ایک غیبی حقیقت ہے ۔ جس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس وقت انسان موجود نہ تھا کہ وہ اس تخلیق اور زمانہ تخلیق کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہو۔ نہ اللہ کی دوسری مخلوق کے بارے میں انسان کچھ کہہ سکتا ہے ۔ آیت ” ما اشھدتم خلق السموت ولا خلق انفسھم “۔ تم نے تخلیق سماوات اور زمین اور خود اپنے نفوس کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا ۔ “ اس کے بعد ان موضوعات پر کوئی شخص جو بھی کہے گا وہ کسی یقینی اصول پر مبنی نہ ہوگا ۔ یہ چھ مراحل بھی ہو سکتے ہیں ‘ چھ طریقے بھی ہو سکتے ہیں ۔ اور اللہ کے ایام میں سے چھ یوم بھی ہو سکتے ہیں ۔ ایام الہی ان ایام جیسے نہیں ہوتے جو اجرام سماوی کی حرکات کے نتیجے میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ تخلیق کائنات سے قبل یہ اجرام فلکی تو موجود ہی نہ تھے جن سے ہم وقت کا تعین کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ یہ ایام اور کوئی چیز بھی ہو سکتے ہیں ۔ لہذا کوئی انسان متعین طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھ ایام کے عدد سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں انسانوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بہرحال انسانی مفروضے ہیں جو ظن وتخمین پر مبنی ہیں اور تعجب ہے کہ بعض لوگ ان اندازوں کو علم اور سائنس قرار دیتے ہیں جو کھلا تحکم ہے اور ذہنی وروحانی شکست پر مبنی ہے ۔ یہ سائنس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے برابر ہے جو بذات خود غیر یقینی چیز ہے اور اکثر اوقات مفروضات پر مبنی ہوتی ہے ۔ ہم اس آیت کو ان مفروضوں سے آلودہ نہیں کرتے ‘ کیونکہ ان مفروضوں کی وجہ سے اس کے مفہوم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اس وسیع و عریض کائنات کی سیر شروع کرتے ہیں ۔ آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ سارے جہانوں کا مالک و پروردگار ۔ “ یہ عظیم کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور جو نہایت ہی وسیع ہے ‘ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے اور اللہ اس پر حاوی اور سربلند ہے۔ وہ قدرت اور تدبیر کے ساتھ اسے چلاتا ہے ‘ جو رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے اور پھر رات کو دن کے پیچھے دوڑاتا ہے ۔ یہ سلسلہ مسلسل دوران کی شکل میں چلتا ہی رہتا ہے لیل ونہار آگے پیچھے چلتے رہتے ہیں ۔ جس نے سورج چاند اور ستاروں کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ۔ وہ نگہبان ‘ متصرف اور مدبر ہے ‘ وہی تمہارا رب ہے ۔ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ وہ رب ہو ‘ وہ اپنے طبیعی نظام کے ذریعے تمہاری تربیت کرتا ہے ‘ تم اس کے نظام کے مطابق اکٹھے ہو ‘ وہ اپنے حکم سے تمہارے لئے قانون بناتا ہے ‘ وہ اپنے قانون کے مطابق تمہارے درمیان فیصلے کرتا ہے ‘ وہی خالق ہے اور وہی حاکم ہے۔ جس طرح اس کے ساتھ خلق میں کوئی شریک نہیں ۔ اسی طرح اس کے ساتھ سیاسی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جو اس سبق کی روح ہے ۔ الوہیت ‘ ربوبیت ‘ سیاسی حاکمیت ‘ اور اقتدار اعلی میں اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھنا وغیرہ ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اللہ کی شریعت کا پابند ہو اور اس پوری سورة کا اصلی موضوع یہی ہے ‘ کبھی تو اسے لباس اور خوراک کے مسائل کے ضمن میں لیا جاتا ہے اور کبھی دوسری شکل میں جس طرح سورة انعام میں مویشیوں اور فصلون اور نذر ونیاز کے موضوع کے ضمن میں اسے بیان کیا گیا ۔ قرآن کریم کے پیش نظر جو ہدف ہے اسے سمجھتے ہوئے ہمیں اس بات کو بھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینا چاہئے کہ ان مناظر کی خوبصورتی کا معیار کس قدر اونچا ہے ۔ یہ مناظر زندگی اور حرکت سے کس قدر پھر پور ہیں اور ان کے اندر کس قدر اشاریت اور راہنمائی پائی جاتی ہے ۔ اس عظیم ہدف کے حصول کے لئے قرآن کریم نے کس قدر اچھا اسلوب اختیار کیا ہے ۔ گردش لیل ونہار کے ساتھ ساتھ گردش افکار و تصورات اور اس کائنات میں فکر کی جو لانی ‘ دن کے پیچھے رات کا تعاقب اور اس کے پکڑنے میں اس کی ناکامی ایک ایسی تگ ودو ہے کہ انسانی وجدان اس پر سے غفلت اور لاپرواہی کے ساتھ نہیں گزر سکتا ‘ اس گردش پیہم سے انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ بلکہ انسان ہر وقت انتظار اور امید میں رہتا ہے ۔ اس کائنات میں گردش اور زندگی قدرتی طور پر حسین لگتی ہے ‘ پھر گردش لیل ونہار کو ایک زندہ اور صاحب ارادہ ذات انسان کے ملاحظہ کے لئے پیش کرنا ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت طرز تعبیر ہے ۔ کوئی انسانی طرز تعبیر اسے اس حسن کے ساتھ پیش نہیں کرسکتا یہ قرآن کا مطلق اعجاز ہے۔ جب انسان کسی منظر کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے حسن اور خوبصورتی کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں ۔ انسان ان مناظر سے یونہی ایک بلید الطبع شخص کی طرح متاثر ہوئے بغیر ہی گرز جاتا ہے ۔ قرآن کریم عادی مناظر ومشاہد کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ عادی اور روٹین کے مناظر نہیں رہتے ‘ وہ انہیں ایسے نئے انداز میں پیش کرتا ہے اور اس انداز تعبیر کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ گویا یہ منظر انسان نے بالکل پہلی مرتب دیکھا ہے ۔ زیر نظر گردش لیل ونہار کے مناظر کو دیکھئے ‘ یہ عام عادی اور پیش پا افتادہ مناظر نہیں ہیں بلکہ لیل ونہار زندہ انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور ارادہ اور روح کے حامل حقائق واشخاص نظر آتے ہیں ۔ اپنی اس حرکت اور دوڑ میں لیل ونہار انسان کے ساتھ شریک اور مانوس ہیں اور ان کی حرکت کو ایسی حرکت سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ اسی طرح سورج ‘ چاند اور ستارے بھی اس منظر میں اس طرح پیش ہوئے ہیں گویا زندہ ارواح ہیں اور اللہ کے احکام ان پر آتے ہیں وہ ان احکام کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور پوری اطاعت اور وفا کیثی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں ۔ وہ اس طرح ڈسپلن میں ہیں کہ احکام لیتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ‘ جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے وہاں جاتے ہیں ‘ جس طرح زندہ باوردی فوجیوں کو احکام ملتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس انداز تعبیر سے انسان جھوم اٹھتا ہے ‘ فورا احکام الہی کی تعمیل کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو قافلہ وفا کیثاں کائنات کا فرد سمجھتا ہے اور انسان پر قرآن کی گرفت اس طرح نظر آتی ہے جس طرح کوئی کسی بادشاہ کی قید میں ہوتا ہے ۔ یاد رکھئے کہ قرآن انسانی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ۔ یہ فطرت اس خالق نے پیدا کی ہے ‘ جو قرآن کی شکل میں انسان سے ہمکلام ہے اور اللہ انسان کی فطرت کے اسرار و رموز سے خوب واقف ہے ۔ جب بات اس مقام تک پہنچی ہے ‘ جب انسانوں کے اندر شعور وجدان پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ اس کائنات کے زندہ جاوید مناظر کے ہمرکاب ہوجاتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ ایک غافل اور بلید الطبع انسان کی طرح ان حسین مناظر سے متاثر ہوئے بغیر گزر جاتے تھے ۔ اور جب انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ مناظر اللہ کے ہاتھ میں مسخر ہیں ۔ اس کے مطیع فرمان ہیں اور اپنے خالق کے احکام ونوامیس سے ذرہ برابر سرتابی نہیں کرتے تو اس مقام پر قرآن انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اپنے رب کو نہایت ہی خضوع وخشوع کے ساتھ پکارو ‘ چونکہ وہ تمہارا رب ہے ‘ لہذا اس کے ساتھ جڑ جاؤ اور اللہ کی حدود قیود کی پابندی کرو۔ اللہ کے سیاسی اقتدار اعلی پر دست درازی نہ کرو۔ اور اس زمین پر اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کی پیروی نہ کرو ۔ خصوصا جبکہ اللہ نے اپنے نظام کے ذریعے انسانی مصالح کا انتظام فرما دیا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آسمان و زمین کی پیدائش، شمس و قمر اور ستاروں کی تسخیر کا تذکرہ یہاں سے پھر توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جو بندوں کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات ہیں ان کی تخلیق اور تسخیر کا تذکرہ فرمایا۔ یہ چیزیں توحید کی نشانیاں ہیں اول تو یہ فرمایا کہ تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ اللہ جل شانہٗ آن واحد میں ساری کائنات کو پیدا فرمانے پر قادر ہے پھر آسمان و زمین کو چھ دن میں کیوں پیدا فرمایا ؟ ہمیں اس کی حکمت معلوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ اپنی مخلوق کو تعلیم دینے کے لیے دفعتہ پیدا فرمانے کی بجائے چھ دن میں فرمایا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ جب قادر مطلق نے چھ دن میں آسمان و زمین پیدا فرمائے حالانکہ وہ آن واحد میں دفعتہ پیدا فرما سکتا ہے تو مخلوق کے اپنے کام میں ضرور تدریج اور ترتیب کی ضرورت ہوگی۔ قال صاحب الروح و قال غیر واحد ان فی خلقھا مدرجًا قدرتہٖ سبحانہ علیٰ ابداعھا دفعۃ دلیل علی الاختیار و اعتبار لنظار (ج ٨ ص ١٣٣) و فیہ ایضًا ان التعجیل فی الخلق ابلغ فی القدرۃ و التثبت ابلغ فی الحکمۃ فاراد اللہ تعالیٰ اظھار حکمتہ فی خلق الاشیاء بالتثبت کما اظھر قدرتہ فی خلق الاشیاء بکُن (ج ٨ ص ١٣٤) و فی معالم التنزیل ج ٢ ص ١٦٤ قال سعید بن جبیر کان اللہ عزوجل قادرًا علی خلق السموٰت والارض فی لمحۃ و لحظۃ فخلقھن فی ستۃ ایام تعلیما لخلقہ التثبت وَ التأنی فی الامور و قد جاء فی الحدیث : التأنی من الرحمن و العجلۃ من الشیطان۔ سورۂ فرقان (ع ٥) اور سورة حم سجدہ (ع ١) اور سورة ق (ع ٣) میں سَمٰوٰتِ اور ارض کے ساتھ (وَ مَا بَیْنَھُمَا) بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا فرما دیا اس کی تفصیل سورة حمٓ سجدہ (ع ٢) میں بیان فرمائی ہے اور وہاں انشاء اللہ تعالیٰ اس بارے میں تفصیل سے لکھا جائے گا۔ یہاں یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دن تو سورج کی حرکت سے وجود میں آتا ہے اس وقت نہ آسمان تھے نہ زمین تھی نہ سورج تھا تو چھ دن کا وجود کیسے ہوا ؟ اس کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ ستہ ایام سے مقدار ستہ ایام مراد ہیں یعنی چھ دن کی مقدار میں تخلیق فرمائی۔ (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) پھر عرش پر استواء فرمایا۔ استواء قائم ہونے کو اور عرش تخت شاہی کو کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جو اپنے بارے میں (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا اور (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) فرمایا اس کو سمجھنے کے لیے بعض لوگوں نے مختلف تاویلیں کی ہیں۔ اس کے بارے میں حضرات سلف صالحین صحابہ وتابعین (رض) سے جو بات منقول ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہٗ کی ذات وصفات کو پوری طرح سمجھنے اور احاطہ کرنے سے عاجز ہے لہٰذا جو کچھ فرمایا ہے اس پر ایمان لائیں اور سمجھنے کے لیے کھوج کرید میں نہ پڑیں۔ یہی مسلک بےغبار اور صاف و صحیح ہے۔ حضرت امام مالک (رح) سے کسی نے اسْتَواء علی العرش کا معنی پوچھا تو ان کو پسینہ آگیا اور تھوڑی دیر سر جھکانے کے بعد فرمایا کہ استواء کا مطلب تو معلوم ہے اور اس کی کیفیت سمجھ سے باہر ہے اور ایمان اس پر لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر سائل سے فرمایا کہ میرے خیال میں تو گمراہ شخص ہے اس کے بعد اسے اپنی مجلس سے نکلوا دیا۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ١٦٥) اس بارے میں سوال کرنے کو بدعت اس لیے فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام (رض) کے سامنے بھی آیات متشابہات تھیں لیکن انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے بارے میں کیفیت اور حقیقت سمجھنے کے لیے کوئی سوال نہیں کیا۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان امور کو واضح نہیں فرمایا۔ جس طرح وہ حضرات آیات متشابہات پر اجمالاً ایمان لے آئے اسی طرح بعد والوں کے لیے بھی اسی میں خیر ہے کہ بغیر سمجھے ہوئے ایمان لے آئیں۔ سورۂ آل عمران کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے کہ جن کے دلوں میں زَیْغ یعنی کجی ہے وہ فتنہ تلاش کرنے کے لیے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں۔ اور ان کا مطلب معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ (فَاَ مَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِیْلہٖ ) (الآیۃ) پھر فرمایا (یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ ) (اللہ تعالیٰ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر) یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے۔ اس کو سورة زمر میں یوں فرمایا (یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ ) (وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے) اور یہ سب کے سامنے ہے اللہ کے سوا کسی کو قدرت نہیں کہ رات اور دن کے نظام کو بدل دے نیز فرمایا (یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا) (یعنی رات جلدی جلدی چل کر دن کو طلب کرلیتی ہے) دن آناً فاناً گزرتا ہوا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ رات آجاتی ہے اور دن غائب ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَوَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ ) (یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند اور تمام ستاروں کو پیدا فرمایا اس حالت پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں اور اس کی مشیت و ارادہ کے مطابق چل رہے ہیں۔ ہزاروں سال گزر گئے جو ان کی رفتاریں مقرر فرما دیں اور جو کام ان کے ذمہ لگائے ہیں ان میں لگے ہوئے ہیں صرف خداوند قدوس کے حکم سے چلتے ہیں کسی آلہ یا انجن کے بغیر محض امرالٰہی ہی کی وجہ سے رواں اور دواں ہیں) آسمان و زمین و شمس و قمر اور ستاروں کی تخلیق بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ) (خبر دار اللہ ہی کے لیے پیدا فرمانا اور حکم دینا ہے) قال صاحب الروح ج ٨ ص ١٣٨ و فسر بعضھم الامرھنا با لارادۃ و فسر اخرون الامر بما ھو مقابل النھی و الخلق بالمخلوق ای لہ تعالیٰ المخلوقون لانہ خلقھم و لہ ان یامرھم بما اداد۔ ١ ھ۔ خالق ہونا اور حاکم ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے اس کے علاوہ کوئی نہ ادنی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ تکوینی اور تشریعی طور پر اس کے علاوہ کسی کو حکم دینے کا اختیار ہے۔ آخر میں فرمایا (تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) (بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے) صاحب معالم التنزیل ج ٢ ص ١٦٥ نے اولاً تو تبارک کا معنی تعالیٰ اللہ و تعظم لکھا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ برتر ہے با عظمت ہے) اور ایک قول یوں بھی لکھا کہ تَبَارَکَ بمعنی تَقَدس ہے۔ پھر محققین کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ معنی ھذہ الصفۃ ثبت و دَام بمالم یزل و لا یزال (یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی ذات اور صفات کے ساتھ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا) تمام اقوال کو سامنے رکھ کر لفظ تَبَارَکَ کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ برتر ہے باعظمت ہے ہر عیب سے پاک ہے وہ اپنی صفات عالیہ سے ہمیشہ سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ اس کی ذات وصفات کو کبھی بھی زوال نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63 تیسرا دعوی : یہ تیسرا دعوی ہے یعنی کارساز اور غیب دان صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے اپنا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا لہذا غائبانہ حاجات میں اسی ہی کو پکارو “ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ ” یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اس نے کسی کے حوالے کچھ نہیں کیا۔ صفت خالقیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ساری کائنات کا مالک اور اس میں متصرف بھی وہی ہے اور اس نے اپنے اختیارات و تصرفات میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ قرآن مجید میں استواء علی العرش کا جہاں بھی ذکر آیا ہے اس کے ساتھ زمین و آسمان اور نظام شمسی کی تخلیق کا ذکر بھی ضرور کیا گیا ہے اور یہ کہ سارا نظام عالم اور نظالم عالم کی تدبیر کار اللہ کے اپنے اختیار میں ہے۔ مثلاً سورة یونس رکوع 1 میں ہے۔ (1) “ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مَا مِنْ شَفِیيْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِهٖ ، ذٰلِکُمُ اللّٰهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ”۔ (2) سورة طٰہٰ رکوع 1 میں ہے “ تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی۔ الرَّحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰي۔ لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰي ”۔ (3) سورة سجدہ رکوع 1 میں ہے۔ “ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْن۔ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهٗ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ ذٰلِکَ عٰلِمِ الْغَیْبِ والشَّھَادةِ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْم ” ان تمام مقامات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ استواء علی العرش سے مراد یہی ہے کہ تخت شاہی پر وہی متمک ہے سارا نظام عالم اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے وہی مختار و متصرف ہے اور اس نے اپنا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کر رکھا ہے۔ محاورات عرب میں لفظ عرش سلطنت، عظمت اور غلبہ کے مفہوم میں مستعمل ہے۔ ویکنی بہ عن العز والسلطان والملک فیقال۔۔۔ عرشہ ای ذھب عزہ و ملکہ (روح ج 8 ص 134، قرطبی ج 7 ص 220) اسی طرح علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ وقد یؤول العرش فی الایۃ بمعنی الملک ای استوی الملک الالہ عز وجل (قرطبی ج 7 ص 221) ۔ 64 یہ تینوں السَّمٰوٰت پر معطوف ہیں اور “ مُسَخَّرٰتٍ ” ان سے حال ہے۔ “ اَلَا لَهٗ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ” یہ ما قبل کی تکمیل وتذلیل ہے یعنی سارے عالم کا خالق بھی وہی ہے اور مدبر و متصرف بھی وہی ہے۔ کالتذییل للکلام السابق ای انہ تعالیٰ ھو الذی خلق الاشیاء وھو الذی دبرھا و صرفھا علی حسب ارادہ الخ (روح ج 8 ص 138) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

54 فی الحقیقت تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ 6 دن کی مدت اور میعاد میں پیدا کردیا پھر وہ عرش پر اپنی شان کے لائق متمکن و متصرف اور جلوہ گر ہوا وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یہ ڈھانکنا اور اڑاھنا اس طور پر ہوتا ہے کہ وہ رات دن کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے اور رات دن کو جلدی سے آلیتی ہے اور دن پر رات چھا جاتی ہے اور اسی اللہ تعالیٰ نے سورج کو اور چاند کو اور تاروں کو اس طور پر پیدا کیا کہ یہ سب اس کے تابع فرمان اور مسخر ہیں سن لو اور آگاہ ہو تخلیق اور حکمرانی کا وہی سزاوار ہے پیدا کرنا اور حاکم ہونا اسی کے لئے خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بابرکت اور بڑی بلندو باعظمت ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور جملہ مخلوقات کا رب ہے یعنی عرش کو تمام امور کی تدبیر کا مرکز اور اجرائے احکام اور حکومتِ الٰہی کا مظہر مقرر کیا رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یا دن کو رات پر اڑھا دیتا ہے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ دن گیا رات آئی رات گئی دن آیا ایک دوسرے کے پیچھے دوڑے چلے آتے ہیں مگر ایک سے دوسرا بڑا نہیں سکتا۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم