Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 66

سورة الأعراف

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."

ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ الْمَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوْمِهِ ... The leaders of those who disbelieved among his people said... meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said, ... إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars." meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying, أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً "Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God!" (38:5) قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔ 1 یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧١] زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ اور سیدنا ھود پر کم عقلی کا الزام :۔ مشرکین کسی بھی قوم یا کسی بھی مقام سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً اللہ تعالیٰ اور اس کی فرمانروائی کو بھی دنیا کے کسی بادشاہ اور اس کی حکمرانی کی طرح خیال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ اکیلا اپنی مملکت پر فرمانروائی نہیں کرسکتا بلکہ اس نے اپنے بہت سے مددگار و معاون افسر اپنے ماتحت رکھے ہوتے ہیں جنہیں وہ کچھ اختیارات بھی تفویض کرتا ہے اور ان کی مدد ہی سے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی بعض ہستیوں کو بعض چیزوں کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ کائنات کی فرمانروائی کر رہا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک عام انسان کی طرح خیال کرتے ہیں جو اپنی بادشاہی کے انتظام اور اسے چلانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اور بعض ملکوں کے مشرکین یہ ممد و معاون ہستیاں فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض دیوی دیوتاؤں کو بعض سیاروں کی ارواح کو اور بعض اولیاء اللہ کو۔ ان کی سمجھ میں یہ آ ہی نہیں سکتا کہ اللہ اکیلا بھی ساری کائنات کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اس لیے جب ہود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ اللہ اکیلا ہی تمہارے سارے کے سارے کام سنوار سکتا ہے اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو تم کم عقل ہو جسے یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی یا پھر تم جھوٹے ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ : ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بےوقوفی تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

(2)-In the second verse (66), it was said: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَ‌اكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٦٦﴾ (Said the chiefs of his people who disbelieved, |"Indeed, We see you in foolishness, and we certainly believe you to be one of the liars.|" This stance taken in opposition here resembles the one taken by the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . The only difference is that of some words.

دوسری (آیت) میں ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ، یعنی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم آپ کو بےوقوفی میں مبتلا پاتے ہیں اور ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ یہ تقریباً ایسا ہی معارضہ ہے جیسا حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کیا تھا صرف بعض الفاظ کا فرق ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰكِـنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٦٧ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٦) قوم کے سردار کہنے لگے ہود (علیہ السلام) ہم تمہیں کم عقل اور تمہیں اپنی باتوں میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰٹکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ) یعنی تم جھوٹا دعویٰ کر رہے ہو ‘ تم پر کوئی وحی وغیرہ نہیں آتی ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:66) سفاھۃ۔ سفہ یسفہ (سمع) کا مصدر۔ بےعقلی۔ بےوقوفی۔ جہالت۔ امین۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ اور امن سے۔ اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم فعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی نعوذ باللہ نہ توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “ آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔ یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔ آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (٧ : ٦٩) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔ اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76:“ سَفَاھَةٍ ” کی تنوین اور اس کا نفی کے تحت واقع ہونا مفید مبالغہ ہے۔ یہاں سے “ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ” تک میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کے الزام کی نہایت بلیغ اسلوب سے تردید فرمائی یعنی اے میری قوم میں تو ادنیٰ ترین سفاہت اور کم عقلی سے بھی بالا تر ہوں کیونکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں اور تمہیں اس کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور پہلے سے تمہارے درمیان خیر خواہ اور امین مشہور ہوں یا مطلب یہ ہے کہ میں تم کو اللہ کی توحیدبتا کر اور شرک سے تم کو روک کر تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور اللہ کی وحی اور اس کی تبلیغ پر امین ہوں۔ والمعنی انی عرفت فیکم بالنصح فلا یحق لکم ان تتھمونی و بالامانۃ فیما اقول فلا ینغبی ان اکذب (بحر ج 4 ص 324) (ناصح) فیما اٰمرکم بہ من عبادۃ اللہ عز وجل و ترک عبادۃ ما سواہ (امین) یعنی علی تبلیغ الرسالۃ و اداء النصح (خازن ج 2 ص 204) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

66 اس کی قوم میں سے جو لوگ منکر تھے ان منکرین کے رئوسا اور بڑے لوگوں نے جواب دیا۔ اے ہود (علیہ السلام) ہم تو تجھ کو بیوقوف اور کم عقل سمجھتے ہیں اور تجھ کو بےوقوفی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تجھ کو جھوٹ بولنے والوں میں سے سمجھتے ہیں۔