Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 81

سورة الأعراف

اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾

Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."

تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاء ... "Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations Verily, you practice your lusts on men instead of women." meaning, you left women whom Allah created for you and instead had sex with men! Indeed, this behavior is evil and ignorant because you have placed things in their improper places. Lut, peace be upon him, said to them: هَوُلاء بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ("these (the girls of the nation) are my daughters (to marry lawfully), if you must act (so))." (15:71) So he reminded them of their women, and they replied that they do not desire women!, قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters, and indeed you know well what we want!" (11:79) meaning, you know that we have no desire for women and you know what we desire with your guests. And Allah said; ... بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ Nay, but you are a people transgressing beyond bounds."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81۔ 1 یعنی مردوں کے پاس تم اس بےحیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو۔ اس لحاظ سے جاہلوں کی طرح تھے یا محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ 181۔ 2 جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 81۔ 3 لیکن اب یہ فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی ' مہذب ' قوموں نے اختیار کرلیا ہے تو یہ انسان کا بنیادی حق قرار پا گیا ہے، جس سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ چناچہ اب وہاں لواطت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اور یہ سرے سے جرم ہی نہیں رہا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٦] عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے :۔ اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کرلیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری کرلیں تو گویا سارا معاشرہ فحاشی کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ پھر انسان کی نسل آگے کیسے چلے گی ؟ کیا یہ اپنی قوم کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ؟ یہ تو ایسے واضح نتائج ہیں جو ایسے معاشرے کا تصور کرنے سے ہی سامنے آجاتے ہیں اور جو اس کے دور رس نتائج ہیں وہ بیشمار ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ : چھوٹے یا بےریش لڑکوں کے بجائے مردوں کا لفظ ان کے فعل کی قباحت کے مزید اظہار کے لیے استعمال کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ فعل بد تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں ہے : ( مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ) یعنی تم دوہرے مجرم ہو، ایک اس فعل بد کی وجہ سے، دوسرے اس فعل بد کا آغاز کرنے کی وجہ سے۔ اب قیامت تک اس جرم کے ہر مرتکب کا گناہ اس کے ساتھ ساتھ قوم لوط کی گردن پر بھی ہوتا ہے۔ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ: یہ تیسرا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش نفس پوری کرنے کے لیے جو بیویاں بنائی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے ہو، یہ تمہاری فطرت مسخ ہونے کی دلیل ہے، پھر بیویوں سے حاجت پوری کرنے میں خواہش نفس پوری کرنے کے ساتھ بہت سی حکمتیں وابستہ ہیں، اولاد کی طلب، گھر کی رونق، دلی سکون، میاں بیوی کی باہمی دوستی کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت۔ دیکھیے سورة روم (٢١) ۔ جبکہ تمہارا مردوں کے پاس جانا صرف خواہش نفس پوری کرنے کے لیے ہے جو نہایت کمینگی کی بات ہے۔ مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ : سورة شعراء میں فرمایا : (وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ) [ الشعراء : ١٦٦ ] ” اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔ “ یعنی تم نے اس خبیث فعل کی وجہ سے بیویوں کو چھوڑ رکھا ہے، تم اپنے آپ پر بھی زیادتی کر رہے ہو اور ان مردوں پر بھی جن سے یہ فعل کرتے ہو اور ان عورتوں پر بھی جو تمہاری بیویاں ہیں۔ ذرا غور کرو کہ اس عمل کا نتیجہ تمہاری بیویوں پر کیا مرتب ہوگا ؟ ان کی کچھ اور زیادتیوں کا ذکر سورة عنکبوت (٢٩) میں بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور یورپ کی اقوام نے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے کر مرد کی مرد اور عورت کی عورت کے ساتھ شادی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے، اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بھی اس فعل کو جرم نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے وہ اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے کی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی اللہ تعالیٰ سے علانیہ بغاوت کو کچلنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کا قانون آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینا ہے، فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ ) [ التوبۃ : ١٤ ] ” ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (81), this immodesty has been stated more expli¬citly - ` Surely, you come to men lustfully instead of women.& Here, the hint given is that, for the natural satisfaction of human desire, Allah &Ta` ala has appointed marrying women as a lawful method. Now, to by-pass it and opt for an unnatural method is bland ugliness of the hu¬man self and certainly the proof of a dirty mind. Therefore, the Sahabah, the Tabi` in and Mujtahid Imams have de¬clared this crime and sin to be far more grave than other acts of shame. Imam Abu Hanifah (رح) has said: The punishment given to the person who commits this act should match the punishment which came upon the people of Lut (علیہ السلام) by the command of Allah Ta` ala - that rocks rained from the skies and the floor of the earth flipped upside down. Therefore, this person should be pushed down from a high mountain and rocks should be thrown from above on top of him. According to a narration of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) in the Musnad of Ahmad, Abu Dawud, Tirmidhi, and Ibn Majah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said about the people who commit this evil act: فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ that is, the doer of this evil deed and his passive partner (al-mafulu bihi: with whom it was done) should both be killed. (Ibn Kathir) At the end of the verse (81), it was said: بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِ‌فُونَ (No, you are a people who cross the limits). In other words, their real disease was that they would go beyond the limits set by Allah for everything - in their case, it would be the very limit of humanity they would be hopping over. The same thing happened about sexual desire when they crossed the limits appointed by Allah only to reach for a taste of the counter-natural.

دوسری آیت میں ان کی اس بےحیائی کو زیادہ واضح الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو۔ اس میں اشارہ کردیا کہ انسان کی طبعی اور فطری خواہش کی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک حلال اور جائز طریقہ عورتوں سے نکاح کرنے کا مقرر فرما دیا ہے اس کو چھوڑ کر غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنا نری خباثت نفس اور گندہ ذہنی کا ثبوت ہے۔ اسی لئے صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین نے اس جرم کو عام بدکاری سے زیادہ شدید جرم و گناہ قرار دیا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ایسا فعل کرنے والے کو ایسی ہی سزا دینا چاہئے جیسے قوم لوط کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی کہ آسمان سے پتھراؤ کردیا جائے۔ مسند احمد ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ میں بروایت ابن عباس (رض) مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کام کرنے والوں کے بارے میں فرمایا فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ، یعنی اس کام کے فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردیا جائے (ابن کثیر) آخر آیت میں فرمایا بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ یعنی تم ایسی قوم ہو جو انسانیت سے گزر گئی ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ تم ہر کام میں اس کی حد سے نکل جاتے ہو۔ جنسی خواہش کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے نکل کر خلاف وضع فطری میں مبتلا ہوگئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ۝ ٠ ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَہَّرُوْنَ۝ ٨٢ جوب الجَوْبُ : قطع الجَوْبَة، وهي کا لغائط من الأرض، ثم يستعمل في قطع کلّ أرض، قال تعالی: وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] ، ويقال : هل عندک جَائِبَة خبر ؟ وجوابُ الکلام : هو ما يقطع الجوب فيصل من فم القائل إلى سمع المستمع، لکن خصّ بما يعود من الکلام دون المبتدأ من الخطاب، قال تعالی: فَما کانَ جَوابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قالُوا [ النمل/ 56] والجواب يقال في مقابلة السؤال، والسؤال علی ضربین : طلب مقال، وجوابه المقال . وطلب نوال، وجوابه النّوال . فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ، وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما . ( ج و ب ) الجوب ( ج و ب ) الجوب رض ) اس کے اصل معنی جو بہ قطع کرنے کے میں اور یہ پست زمین کی طرح مین گڑھاسا ) ہوتا ہے ۔ پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] اور غمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی ( قریٰ ) میں پتھر تراشتے اور مکانات بناتے تھے ۔ الجائبتہ ۔ پھیلنے والی ) محاورہ ہے ھن عندک من جایبتہ خبر ۔ کیا تمہارے پاس کوئی نشر ہونے والی خبر ہے ۔ جواب الکلام اور کسی کلام کے جواب کو بھی جواب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قائل کے منہ سے نکل کر فضا کو قظع کرتا ہوا سامع کے کان تک پہنچتا ہے مگر عرف میں ابتداء کلام کرنے کو جواب نہیں کہتے بلکہ کلام کے لوٹا پر جواب کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَما کانَ جَوابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قالُوا [ النمل/ 56] تو ان کی قوم کے لوگ ( بولے تو ) یہ بولے اور اس کے سوا ان کا جواب نہ تھا ۔ جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سوال دو قسم پر ہے ( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات طلب کرنا اس کا جواب یہ ہے کہ اسے خیرات دے دی جائے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] خدا کی طرف سے بلانے والے کی باٹ قبول کرو ۔ اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی باٹ قبول نہ کرے ۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے فرمایا : : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو ہم ثابت قدم رہنا قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ طهر والطَّهَارَةُ ضربان : طَهَارَةُ جسمٍ ، وطَهَارَةُ نفسٍ ، وحمل عليهما عامّة الآیات . يقال : طَهَّرْتُهُ فَطَهُرَ ، وتَطَهَّرَ ، وَاطَّهَّرَ فهو طَاهِرٌ ومُتَطَهِّرٌ. قال تعالی: وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] ، أي : استعملوا الماء، أو ما يقوم مقامه، قال : وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] ، ( ط ھ ر ) طھرت طہارت دو قسم پر ہے ۔ طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے کہا جاتا ہے : ۔ طھرتہ فطھروتطھر واطھر فھو طاھر ومتطھر میں نے اسے پاک کیا چناچہ وہ پاک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو نہاکر پاک ہوجایا کرو ۔ یعنی یا جو چیز اس کے قائم مقام ہو اس کے ذریعہ طہارت کرلیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨١ (اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ) یعنی تمہارا یہ فعل اصول فطرت کے بھی خلاف ہے اور قانون طبعی سے بھی متصادم۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64. The Qur'an refers elsewhere to the many evil deeds of the people of Lot. Here the Qur'an confines itself to mentioning that most ignominious of crimes which invited God's scourge upon them. The hideous act of sodomy, for which the people of Lot earned notoriety, has no doubt been committed by perverts in all times. The Greeks philosophers had the distinction of glorifying it as a moral virtue. It was left, however, for the modern West to vigorously propagate sodomy so much so that it was declared legal by the legislatures of a few countries. All this has been done in the face of the obvious fact that this form of sexual intercourse is patently unnatural. God created distinctions between the sexes of all living beings for the purposes of reproduction and perpetuation of the species. As far as the human species is concerned, their creation into two sexes is related to another end as well: that the two should come together in order to bring into existence the family and establish human civilization. In view of this, not only were human beings divided into two sexes, but each sex was made attractive to the other. The physical structure and psychological make-up of each sex was shaped in keeping with the purpose of forging bonds of mutual cordiality between the members of the two sexes. The sexual act, which is intensely pleasurable is at once a factor leading to the fulfilment of nature's purposes as underlined by the sexual division of humankind as well as a reward for fulfilling these purposes. Now, the crime of the person who commits sodomy in flagrant opposition to this scheme of things, is not limited to that act alone. In fact he commits along with it a number of other crimes. First, he wages war against his own nature, against his inherent psychological predilection. This causes a major disorder which leads to highly negative effects on the lives of both the parties involved in that unnatural act - effects which are physical, psychological as well as moral. Second, he acts dishonestly with nature since while he derives sexual pleasure he fails to fulfil the societal obligation of which this pleasure is a recompense. Third, such a person also acts dishonestly with human society. For, although he avails himself of the advantages offered by various social institutions, when he has an opportunity to act, he uses his abilities in a manner which not only fails to serve that society but which positively harms it. Apart from neglecting the abligations he owes to society, he renders himself incapable of serving the human race and his own family. He also produces effeminacy in at least one male and potentially pushes at least two females towards sexual corruption and moral depravity.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :64 دوسرے مقامات پر اس قوم کے بعض اور اخلاقی جرائم کا بھی ذکر آیا ہے ، مگر یہاں اس کے سب سے بڑے جرم کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے خدا کا عذاب اس پر نازل ہوا ۔ یہ قابل نفرت فعل جس کی بدولت اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی ہے ، اس کے ارتکاب سے تو بدکردار انسان کبھی باز نہیں آئے ، لیکن یہ فخر صرف یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤنے جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبے تک اٹھانے کی کوشش کی اور اس کے بعد جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کیا کہ علانیہ اس کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا ، یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالسِ قانون ساز نے اسے باقاعدہ جائز ٹھیرا دیا ۔ حالانکہ یہ بالکل ایک صریح حقیقت ہے کہ مباشرتِ ہم جنس قطعی طور پر وضع فطرت کےخلاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات انواع میں نر و مادہ کا فرق محض تناسُل اور بقائے نوع کے لیے رکھا ہے اور نوع انسانی کے اندر اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود میں لائیں اور اس سے تمدن کی بنیاد پڑے ۔ اسی مقصد کے لیے مرد اور عورت کی دو الگ صنفیں بنائی گئی ہیں ، ان میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پیدا کی گئی ہے ، ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصد زوجیت کے لیے عین مناسب بنائی گئی ہے اور ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشاء کو پورا کرنے کے لیے بیک وقت داعی و محرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی ۔ مگر جو شخص فطرت کی اس اسکیم کے خلاف عمل کر کے اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں متعدد جرائم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اوّلاً وہ اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خللِ عظیم بر پا کر دیتا ہے جس سے دونوں کے جسم نفس اور اخلاق پر نہایت برے اثرات مترتب ہوتے ہیں ۔ ۲؀ ثانیاً وہ فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کرتا ہے ، کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چُرا لیتا ہے ۔ ۳؀ ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اُٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے ، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے ، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:81) مسرفون۔ اسم فاعل۔ اسراف مصدر اعتدال سے یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بےجا و بیہودہ صرف کرنے والے۔ لواطت کرنے والے۔ غرض حد حلال سے حد حرام کی طرف بڑھنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ بل انتم کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ بعض معاصی میں تقلید آباء وغیرہ سے دھوکہ ہوجاتا ہے اس میں تو یہ بھی نہیں اور بعض آیتوں میں جو تجھلون آیا ہے اس سے شبہ نہ ہو کہ ان کو اس کی قباحت معلوم نہ تھی کیونکہ وہاں جہل سے مراد یہ نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ تم کو اس کو بد انجام یعنی عذاب معلوم نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو احکام پہنچانا اور قوم کا اپنے افعال سے باز نہ آنا اور انجام کے طور پر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بد کر داری کا اور تھوڑا سا اس سوال و جواب کا ذکر ہے جو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوا نیز جو ان پر عذاب آیا اس کا بھی ذکر ہے مفصل قصہ سورة ہود اور سورة حجر اور سورة شعراء اور سورة عنکبوت میں مذکورہ ہے اور تھوڑا تھوڑا دیگر مواقع میں بھی ہے۔ یہ لوگ ایمان بھی نہ لائے اور جن برے کاموں میں مبتلا تھے ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے روکا تو الٹے الٹے جواب دیتے رہے۔ یہاں سورة اعراف میں ان کی ایک بد کرداری کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وہ یہ کہ مرد، مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ بےحیائی کا ایسا کام ہے جسے تم سے پہلے جہانوں میں کسی نے بھی نہیں کیا۔ اس بد کرداری اور بد فعلی کی تم نے بنیاد ڈالی ہے۔ یہ خالق ومالک کی شریعت کے خلاف ہے اور فطرت انسانی کے بھی۔ ان کی دوسری بد کر داری یہ تھی کہ راہزنی کرتے تھے جسے سورة عنکبوت میں (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا (اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُوْنَ ) (کیا تم سارے جہانوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو اور وہ جو اللہ نے تمہارے لیے پیدا کیا یعنی تمہاری بیویاں ان کو چھوڑتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو) سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا برے کام سے روکا لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور بےہودہ جواب دینے لگے۔ کہنے لگے کہ اجی ! ان لوگوں کو بستی سے نکال لو۔ یہ لوگ پاکباز بنتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ خود پاکباز بنتے ہیں اور ہمیں گندا بتاتے ہیں۔ گندوں میں پاکوں کا کیا کام ؟ یہ بات انہوں نے ازراہ تمسخر کہی تھی۔ سورة شعراء میں ہے (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یَالُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ) (ان لوگوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے لوط ! اگر تو باز نہ آیا تو ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہیں نکال دیا جاتا ہے) (قَالَ اِِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ) (حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا میں تمہارے اعمال سے بغض رکھنے والا ہوں) وہ لوگ اپنی بےہودگی اور بےحیائی پر اڑے رہے اور کمال بےہودگی اور ڈھٹائی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اللہ کا عذاب لے آ جیسا کہ سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا اءْتِنَا بِعَذَاب اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) آخر ان پر عذاب آگیا اور انہیں منہ مانگی مراد مل گئی۔ سورة انعام میں فرمایا (وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا) اور سورة شعرا اور سورة نمل میں بھی ایسا ہی فرمایا یعنی ہم نے ان پر بڑی بارش برسادی اور سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰٓی اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ) (کہ ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس سبب سے کہ وہ بد کاری کرتے تھے) یہ کیا عذاب تھا اور کیسی بارش تھی اس کے بارے میں سورة ہود میں فرمایا ہے۔ (فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ ) (سو جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والا حصہ کردیا اور ہم نے اس زمین پر کنکر کے پتھروں کی بارش برسا دی جو لگا تار گر رہے تھے جو آپ کے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے تھے) سورة حجر میں بھی یہ مضمون ہے وہاں فرمایا ہے۔ (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ) (سو پکڑ لیا ان کو چیخ نے سورج نکلتے نکلتے سو کردیا ہم نے اس کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا حصہ اور برسا دیئے ہم نے ان پر کنکر کے پتھر) ان سب آیات کو ملانے سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر تینوں طرح کا عذاب آیا چیخ نے بھی پکڑا، ان کی سر زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا، اور ان پر پتھر بھی برسا دیئے گئے ان بستیوں کو سورة برأت (ع ٩) میں الْمُؤْتَفِکٰت سے تعبیر کیا ہے یعنی الٹی ہوئی بستیاں سورة ہود اور سورة ذاریات اور سورة عنکبوت میں ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے آئے تو پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے ان کی مہمانی کا انتظام کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ حضرات کیوں بھیجے گئے۔ سورة ذاریات میں ہے۔ (قَالُوْا اِِنَّا اُرْسِلْنَا اِِلٰی قَوْمٍ مُجْرِمِیْنَ لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَبَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) (انہوں نے جواب میں کہا کہ بلاشبہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جن پر نشان لگے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے، سو نکال دیا ہم نے جو ان میں ایمان والے تھے پس ہم نے اس میں ایک گھر کے سوا کوئی گھر مسلمانوں کا نہیں پایا) حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت محنت کی، حق کی طرف بلایا اور ایمان لانے کی دعوت دی لیکن قوم میں سے کوئی شخص بھی مسلمان نہ ہوا اور اپنی بیہودہ حرکتوں میں لگے رہے البتہ ان کے گھر کے لوگ مسلمان ہوگئے لیکن ان کی بیوی مسلمان نہ ہوئی تھی۔ مسلمان ہونے والی ان کی لڑکیاں تھیں اسی کو فرمایا کہ ایک گھر کے سوا کسی کو مسلمان نہ پایا۔ ان کی بیوی بھی چونکہ مسلمان نہ ہوئی تھی اسی لیے وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل کرلی گئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87: یہ “ اَلْفَاحِشَةَ ” کی تفسیر ہے۔ “ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ” بل ترقی کے لیے ہے یعنی برسر عام مجالس میں بھی تم اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا “ وَ تَاتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ”(عنکبوت رکوع 3) “ وَ مَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ الخ ”۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پند و نصیحت کے جواب میں قوم نے فیصلہ کیا کہ ان کو گاؤں سے نکال دیا جائے۔ یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

81 تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو یعنی غیر فطری افعال کے مرتکب ہوتے ہو نہیں بلکہ تم تو حد انسانیت سے نکل جانے والے لوگ ہو۔