Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 9

سورة الأعراف

وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾

And those whose scales are light - they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.

اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کر لیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the weighing on that Day will be the true (weighing). So, as for those whose scale (of good deeds) will be heavy, they will be the successful (by entering Paradise). And as for those whose scale will be light, they are those who will lose themselves for their wrongful behavior with Our Ayat. وَالْوَزْنُ (And the weighing), of deeds on the Day of Resurrection, الْحَقُّ (will be the true (weighing)), for Allah will not wrong anyone. Allah said in other Ayat, وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْياً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ And We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And Sufficient are We to take account. (21:47) إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَـعِفْهَا وَيُوْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward. (4:40) فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَزِينُهُ فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَزِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ وَمَأ أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ نَارٌ حَامِيَةٌ Then as for him whose scale (of good deeds) will be heavy. He will live a pleasant life (in Paradise). But as for him whose scale (of good deeds) will be light. He will have his home in Hawiyah (pit, Hell). And what will make you know what it is (It is) a fiercely blazing Fire! (101:6-11) and, فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَيِذٍ وَلاَ يَتَسَأءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَزِينُهُ فَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَزِينُهُ فأُوْلَـيِكَ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ فِى جَهَنَّمَ خَـلِدُونَ Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another. Then, those whose scales (of good deeds) are heavy, they are the successful. And those whose scales (of good deeds) are light, they are those who lose themselves, in Hell will they abide. (23:101-103) As for what will be placed on the Balance on the Day of Resurrection, it has been said that; the deeds will be placed on it, even though they are not material objects. Allah will give these deeds physical weight on the Day of Resurrection. Al-Baghawi said that this was reported from Ibn Abbas. It is recorded in the Sahih that; Al-Baqarah (Surah 2) and Al Imran (Surah 3) will come on the Day of Resurrection in the shape of two clouds, or two objects that provide shade, or two lined groups of birds. It is also recorded in the Sahih that; the Qur'an will come to its companion (who used to recite and preserve it) in the shape of a pale-faced young man. He will ask (the young man), "Who are you?" He will reply, "I am the Qur'an, who made you stay up sleeplessly at night and caused you thirst in the day." The Hadith that Al-Bara' narrated about the questioning in the grave states, فَيَأْتِي الْمُوْمِنَ شَابٌّ حَسَنُ اللَّوْنِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتَ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِح A young man with fair color and good scent will come to the believer, who will ask, `Who are you?' He will reply, `I am your good deeds'. The Prophet mentioned the opposite in the case of the disbeliever and the hypocrite. It was also said that; the Book of Records that contains the deeds will be weighed. A Hadith states that; a man will be brought forth and ninety-nine scrolls containing errors and sins will be placed on one side of the balance each as long as the sight can reach. He will then be brought a card on which `La ilaha illallah' will be written. He will say, "O Lord! What would this card weigh against these scrolls?" Allah will say, "You will not be wronged." So the card will be placed on the other side of the Balance, and as the Messenger of Allah said, فَطَاشَتِ السِّجِلَّتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَة Behold! The (ninety-nine) scrolls will go up, as the card becomes heavier. At-Tirmidhi recorded similar wording for this Hadith and said that it is authentic. It was also said that the person who performed the deed will be weighed. A Hadith states, يُوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ السَّمِينِ فَلَ يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَة On the Day of Resurrection, a fat man will be brought forth, but he will not weigh with Allah equal to the wing of a mosquito. He then recited the Ayah, فَلَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَزْناً And on the Day of Resurrection, We shall assign no weight for them. (18:105) Also, the Prophet said about Abdullah bin Mas`ud, أَتَعْجَبُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُد Do you wonder at the thinness of his legs? By He in Whose Hand is my soul! They are heavier on the Balance than (Mount) Uhud. It is also possible to combine the meanings of these Ayat and Hadiths by stating that all this will truly occur, for sometimes the deeds will be weighed, sometimes the scrolls where they are recorded will be weighed, and sometimes those who performed the deeds will be weighed. Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے۔ جس کا نیکیوں کا پلا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے ؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرمادے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تولے جائیں گے۔ جن میں انسان کے اعمال درج ہونگے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا، تینوں مسلکوں والے کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے، کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بےوزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے ؟ آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت (وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۝) 7 ۔ الاعراف :8) (یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہوگا) یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہوگی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہوگا مثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی رضامندی چاہتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہوگا جس نے اپنی نماز بےدلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کر ادا کی اور جس عمل میں حق کا کچھ بھی حصہ نہ ہوگا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا، جیسے سورة کہف کی آیت نمبر ١٠٥ میں مذکور ہے کہ && جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیات سے کفر کیا ہوگا ان کے لیے ہم میزان قائم ہی نہیں کریں گے۔ && اور سورة فرقان کی آیت نمبر ٢٣ میں فرمایا کہ && ہم ایسے کافروں کے اعمال کی طرف پیش قدمی کریں گے تو انہیں اڑتا ہوا غبار بنادیں گے && ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان عدل صرف ان لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو ایمان لائے تھے اور ان کے اعمال اچھے اور برے، وزنی اور کم وزن والے ملے جلے ہوں گے۔ کافروں کے لیے ایسی میزان قائم کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی اور ان الفاظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اعمال کا حق کے ساتھ وزن کیا جائے گا یعنی فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی تھی۔ اس بات کا فیصلہ بھی نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اعمال کی میزان (ترازو) ایسی ہی ہوگی جیسی ہمارے استعمال میں آتی ہے، اس کے دو پلڑے ہوں گے ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اس ترازو کی زبان بھی ہوگی زبان سے مراد ترازو کے اوپر کے ڈنڈے کے درمیان میں لگی ہوئی وہ سوئی ہے جو خفیف سے خفیف فرق کو بھی ظاہر کردیتی ہے اور یہ باتیں صرف ہمارے سمجھانے کے لیے کافی سمجھی گئی ہیں باقی اس کی صحیح کیفیت کیا ہوگی ؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ اس دنیا میں تو اعمال اعراض کی شکل میں ہوتے ہیں لیکن اس دن اعمال کو مجسم کیا جائے گا اور جس عمل میں جس قدر حق ہوگا اسے اتنا ہی بڑا جسم والا اور وزنی بنایا جائے گا پھر انہیں اس ترازو میں تولا جائے گا۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ ۔۔ : اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد کافر ہیں، کیونکہ قرآن نے انھیں ” خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ “ قرار دیا ہے، مومن گناہ گار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے۔ (کبیر) مزید دیکھیے سورة حاقہ (٢٥ تا ٢٩) کی تفسیر۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا، اس کے ننانویں اعمال نامے پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے، پھر پروردگار اس سے فرمائے گا : ” کیا تم ان میں سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو ؟ “ وہ عرض کرے گا : ” نہیں۔ “ پھر پروردگار فرمائے گا : ” تمہاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور آج تم سے کوئی بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ “ پھر ایک بطاقہ (کاغذ کا ٹکڑا) لایا جائے گا جس پر ” أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ “ درج ہوگا۔ وہ عرض کرے گا : ” بھلا یہ ایک پرزہ ان تمام دفتروں کے مقابلے میں کس کام آئے گا ؟ “ حکم ہوگا کہ تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا (لہٰذا صبر کرو) پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور یہ کاغذ کا ایک پرزہ دوسرے پلڑے میں، تو وہ دفتر ہلکے ہوجائیں گے اور وہ پرزہ بھاری ہوگا اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوگی۔ “ [ ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت۔۔ : ٢٦٣٩۔ ابن ماجہ : ٤٣٠٠۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ١؍٢٦١ ] اہل علم نے دوسری آیات و احادیث کو مد نظر رکھ کر اس شخص سے وہ آدمی مراد لیا ہے جسے کلمہ پڑھنے کے بعد عمل کا موقع ہی نہیں ملا، یعنی جسے آخری وقت پر کفر و شرک سے باز آنے اور اسلام لانے کی توفیق ملی اور اسلام لانے سے اس کے تمام گناہ معاف ہوگئے یا بدعمل، اور آخری وقت توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ۝ ٩ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9. For a full appreciation of this point it is necessary, to remember that man's deeds will be classified into positive and negative categorics. The positive category will consist of knowing the truth, believing in it, acting upon it, and striving to make it prevail. It is such acts alone which will have weight in the Hereafter. Conversely, whenever someone follows and goes after lusts or blindly follows other humans or satans, his acts will be reckoned as 'negative'. Such acts will not only be of no value at all, but will also have the effect of reducing the total weight of one's positive acts. Thus, a man's success in the Hereafter requires that his good acts outweigh his evil ones to such an extent that even if his evil acts cause the effacement of some of his good acts, he should still have enough left in his credit to ensure his scale is inclined towards the positive. As for the man whose evil acts outweigh his good acts, he will be like the bankrupt businessman who, even after spending all his assets, remains under the burden of debt.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :9 اس مضمون کو یوں سمجھیے کہ انسان کا کارنامہ زندگی دو پہلوؤں میں تقسیم ہوگا ۔ ایک مثبت پہلو اور دوسرا منفی پہلو ۔ مثبت پہلو میں صرف حق کو جاننا اور ماننا اور حق کی پیروی میں حق ہی کی خاطر کام کرنا شمار ہوگا اور آخرت میں اگر کوئی چیز وزنی اور قیمتی ہوگی تو وہ بس یہی ہوگی ۔ بخلاف اس کے حق سے غافل ہو کر یا حق سے منحرف ہو کر انسان جو کچھ بھی اپنی خواہشِ نفس یا دوسرے انسانوں اور شیطانوں کی پیروی کرتے ہوئے غیر حق کی راہ میں کرتا ہے وہ سب منفی پہلو میں جگہ پائے گا اور صرف یہی نہیں کہ یہ منفی پہلو بجائے خود بے قدر ہوگا یہ آدمی کے مثبت پہلوؤں کی قدر بھی گھٹا دے گا ۔ پس آخرت میں انسان کی فلاح و کامرانی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ اس کے کارنامہ زندگی کا مثبت پہلو اس کے منفی پہلو پر غالب ہو اور نقصانات میں بہت کچھ دے دلا کر بھی اس کے حساب میں کچھ نہ کچھ بچا رہ جائے ۔ رہا وہ شخص جس کی زندگی کا منفی پہلو اس کے تمام مثبت پہلوؤں کو دبالے تو اس کا حال بالکل اس دیوالیہ تاجر کا سا ہوگا جس کی ساری پونجی خساروں کا بھگتان بھگتنے اور مطالبات ادا کرنے ہی میں کھپ جائے اور پھر بھی کچھ نہ کچھ مطالبات اس کے ذمہ باقی رہ جائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:9) خسروا (باب سمع) خسران مصدر۔ خسروا انفسھم۔ انہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا۔ بما کانوا بایتنا یظلمون۔ ای یکذبون۔ جھٹلاتے تھے۔ یا بےانصافی کیا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 کثر مفسرین (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافر ہے کیونکہ قرآن نے ان کو خسر وا انفسھم قرار دیا ہے۔ مومن گنہگار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں گے (کبیر) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا اس کے ننانوے اعمال پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر اک اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نگاہ جاتی ہے۔ پھر پروردگار اس سے دریافت فرمائے گا کیا تم ان میں م سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو َ وہ عرض کرے گا نہیں پھر پروردگار فرمائے گا تمہاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور ا آج تم سے کوئی نے انصافی نہیں کی جائے گی پھر ایک بطاقہ (کاغذ کا ٹکڑا) لایا جائے گا جس میں اشھد ان لا الہٰ اللہ واشھد ان محمد اعبدہ ورسو لہ درج ہوگا وہ عرح کرے گا بھلا یہ ایک پر زہ ان تمام دفتروں کے مقابلے میں کس کام آئے گاَ حکم ہوگا تم پر کئی ظلم نہ ہوگا لہذا صبر کرو پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور یہ کاغذ کا پرزہ درسرے پلڑے میں لیکن اس پرزے کا پلڑا بھاری رہے گا اور دفتروں کا پلڑا ہلکا (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ میزان میں ایمان وکفر کا وزن کیا جائے گا اور اسی وزن میں ایک پلہ خالی رہ جائے گا اور ایک پلہ میں اگر وہ مومن ہے تو ایمان اور اگر وہ کافر ہے تو کفر رکھا جائے گا جب اس تول سے مومن و کافر متمیز ہوجائیں گے تو پھر خاص مومنین کے لیے ایک پلہ میں ان کے حسنات اور دوسرے پلہ میں ان کے سیئات رکھ کر ان اعمال کا وزن ہوگا اور جیسا کہ در منثور میں ابن عباس سے مروی ہے اگر حسنات غالب ہوئے تو جنت اور اگر سیئات غالب ہوئے تو دوزخ اور اگر دونوں برابر ہوئے تو اعراف اس کے لیے تجویز ہوگی پھر خواہ شفاعت سے قبل سزا خواہ سزا کے بعد مغفرت ہوجائے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ نیک اعمال کرکے نیکیوں کے پلڑے کو بھاری بنائے لیکن اس نے برائی کے پلڑے کو بھاری بنایا اور جہنم کا ایندھن بنا۔ انسان کو زمین پر بھیجتے وقت ہدایت کی گئی تھی کہ اب تیرا رہنا، مرنا اور محشر کے دن اٹھنا زمین سے ہی ہوگا۔ لہٰذا زمین ہی تیرا ٹھکانہ اور اس میں تیرے لیے زینت کا سامان ہے۔ ہاں یا درکھنا میری طرف سے تیری رہنمائی کے لیے احکام نازل ہوتے رہیں گے۔ جس نے اس رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کی۔ اسے دنیا اور آخرت میں خوف و خطر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بسنے کے لیے وسائل اور کچھ اختیارات دیے ہیں تاکہ اسے آزمائے کہ وسائل کس طرح بروئے کار لاتا اور اپنے اختیار ات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ وسائل اور اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا گویا کہ اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز اور اللہ کے دیے ہوئے وسائل کو غلط استعمال کرکے اس کے شکر گزار بندے بننے کے بجائے باغی اور نافرمان ثابت ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا انسان کے لیے کھلا پیغام ہے کہ اپنے رب کا شکر ادا کرے گا تو وہ تجھے مزید عنایت فرمائے گا۔ شکر کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی تابع داری میں لگائے۔ اس کی دی ہوئی طاقت کو اس کے بندوں کی خدمت اور دین کی سربلندی پر صرف کرے اس کے دیے ہوئے مال کو غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرے۔ تفسیر بالقرآن شکر گذار لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں : ١۔ شکر گذار بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ (السباء : ١٣) ٢۔ لوگوں کی اکثریت نا شکری ہوتی ہے۔ (البقرۃ : ٢٤٣) ٣۔ آپ انکی اکثریت کو شکر کرنے والے نہیں پائیں گے۔ (الاعراف : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کفار کی نیکیاں بےوزن ہونگی : سورۂ کہف کے آخری رکوع میں ارشاد ہے کہ (قُلْ ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا) آپ فرمادیجیے کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بڑے گھاٹے میں ہیں (یہ) وہ لوگ ہیں جن کی کوشش اکارت گئی دنیاوی زندگی میں وہ سمجھتے رہے کہ اچھے کام کر رہے ہیں (یہ) وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی آیتوں کے اور اس کی ملاقات کے سو اکارت گئے ان کے عمل پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے تول قائم نہ کریں گے۔ یعنی سب سے زیادہ ٹوٹے اور خسارہ والے حقیقت میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے برسہا برس دنیا میں گزارے اور محنت و کوشش کر کے نفع کماتے رہے اور دنیا جوڑ کر خوش ہوئے اور یہ یقین کرتے رہے کہ ہم بڑے کامیاب اور با مراد ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ضرور ایسا ہوگا کہ بعض بھاری بھر کم موٹے بدن والے آدمی اس حال میں آئیں گے کہ اللہ کے نزدیک ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا پھر فرمایا کہ تم لوگ (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) کو پڑھ لو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٨٤ از بخاری و مسلم) صاحب تفسیر مظہری (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کافروں کے اعمال کا کوئی اعتبار یا قدر و منزلت نہ ہوگی۔ پھر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی بروایت حضرت ابوہریرہ (رض) نقل فرمایا ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار جو دنیا کی زندگی میں اپنے خیال میں نیک کام کرتے ہیں مثلاً پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں اور مجبور کی مدد کر گزرتے ہیں، یا اللہ کے ناموں کا ورد رکھتے ہیں الیٰ غیر ذالک۔ اس قسم کے کام بھی آخرت میں ان کو نجات نہ دلائیں گے۔ سادھو اور سنیاسی جو بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں اور مجاہدہ کر کے نفس کو مارتے ہیں۔ اور یہود و نصاریٰ کے راہب اور پادری جو نیکی کے خیال سے شادی نہیں کرتے ان کے اس قسم کے تمام افعال بےسود ہیں، آخرت میں کفر کی وجہ سے کچھ نہ پائیں گے۔ کافر کی نیکیاں مردہ ہیں۔ وہ قیامت کے روز نیکیوں سے خالی ہاتھ ہوں گے۔ پھر صاحب تفسیر مظہری آیت کے ان الفاظ کی دوسری تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ معنی ہیں کہ ان (کافروں) کے لیے ترازو نصیب ہی نہ کی جائے گی اور تولنے کا معاملہ ان کے ساتھ ہونا ہی نہیں کیونکہ ان کے عمال وہاں اکارت ہوجائیں گے لہٰذا سیدھے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ آیت کے الفاظ مذکورہ کے تیسرے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ کفار اپنے جن اعمال کو نیک سمجھتے ہیں قیامت کے ترازو میں ان کا کچھ وزن نہ نکلے گا (کیونکہ وہاں اسی نیک کام کا وزن ہوگا جو ایمان کی دولت سے مشرف ہوتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے) دنیا میں کیا گیا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

9 اور وہ لوگ جن کا پلہ تول میں ہلکا ہوگا تو یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا بہ سبب اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو کیا کرتے تھے۔ یعنی منکر اس دن خسارے میں پڑجائیں گے اور ان کو سخت ٹوٹا ہوگا۔