Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 90

سورة الأعراف

وَ قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَیۡبًا اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۰﴾

Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shu'ayb, indeed, you would then be losers."

اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب ( علیہ السلام ) کی راہ پر چلوگے تو بیشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells, وَقَالَ الْمَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوْمِهِ ... The chiefs of those who disbelieved among his people said (to their people): Allah describes the enormity of disbelief, rebellion, transgression and misguidance (of Shu`ayb's people) and the defiance of truth encrypted in their hearts. They vowed, saying, ... لَيِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْباً إِنَّكُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ "If you follow Shu`ayb, be sure then you will be the losers!" Allah answered them, فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے ۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے ۔ یہاں اس طرح بیان ہوا ۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے ۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کر دیئے گئے ۔ سورۃ شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا ۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے ۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی ، آگ برسنے لگی ۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی ، ادھر زمین پر زلزلہ آیا ۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کر دیئے گئے ، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

90۔ 1 اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآنحالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا، لیکن دنیا والوں کی نظر میں نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہونے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے، جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والا نفع) کے لئے اسے کیوں چھوڑتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٦] سچائی اختیار کرنے پر نقصان کا نظریہ :۔ سرداروں کے اس قول کے مخاطب وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو شعیب پر ایمان لائے تھے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم نے شعیب کا ساتھ نہ چھوڑا تو ہم تمہارا ناک میں دم کردیں گے اور جینا تم پر حرام کردیں گے لہذا اس کا ساتھ دینے سے باز آجاؤ۔ اور وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو ان منکرین کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتے تھے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم نے کاروبار میں سچ بولنے اور درست ناپ تول رکھنے کا طریقہ اختیار کرلیا جیسا کہ یہ شعیب کہتا ہے تو تمہیں تمہارے کاروبار اور تجارتی لین دین میں کبھی فائدہ نہ ہوگا اور ہمیشہ نقصان ہی اٹھاؤ گے اور بالآخر سارا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اور یہ نظریہ صرف اہل مدین کا نظریہ نہیں تھا بلکہ ہر زمانے میں مفسد قسم کے لوگوں کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت & سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی کے بغیر چل ہی نہیں سکتے اور آج بھی ہمارے تاجروں اور سیاست دانوں کی اکثریت کا یہی حال ہے حالانکہ یہی باتیں فساد فی الارض کی اصل جڑ ہیں اور انہی سے لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور بالآخر ایسے دغا باز لوگ پورے معاشرہ کو لے ڈوبتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْن یعنی شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کی صورت میں تم یقیناً خسارہ اٹھاؤ گے کہ اپنے آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہو ان کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ یہ بات شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں دنیا پرستوں نے اخلاق و دیانت کے اصولوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر بنیادی معاملات بددیانتی، دغا بازی اور سود خوری کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ سچی اور صاف بات کہنے سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Reported in the third verse (90) is a misleading statement of the ar¬rogant chiefs of the people of Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) which they made while talking among themselves, or said that to their followers: that is, ` if you are to follow Shu&aib, then you are sure losers.& (Al-Bahr Al-Muhit from &Ata& ) The account of the punishment of these wicked people was given in the fourth verse (91) in the following words: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّ‌جْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِ‌هِمْ جَاثِمِينَ ﴿٩١﴾ (So, the earthquake seized them, and they were [ found dead ] in their homes fallen on their knees).

تیسری آیت میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قوم کے متکبر سرداروں کا ایک گمراہ کن قول یہ نقل کیا ہے کہ وہ آپس میں کہنے لگے یا اپنے پیرو وں سے کہنے لگے کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کا اتباع کیا تو تم بڑے بیوقوف جاہل ٹھہرو گے (بحر محیط عن عطاء)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَ۝ ٩٠ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٠) سرداروں نے کمزور لوگوں سے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کرو گے تو تم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74. One should not pass cursorily over this short sentence; instead one must reflect upon it. What the leaders of Midian in effect told their people was that Shu'ayb's exhortations to practise honesty and righteousness, and to strictly adhere to moral values, would spell their disaster. They implied that they could not succeed in the business carried on by the people of Midian if they were totally honest and straightforward in their dealings. Were they to let trading caravans pass by unmolested, they would lose all the advantages of being located at the crossroads of the major trade routes and by their proximity to the civilized and prosperous countries such as Egypt and Iraq. Also, if they were to become peaceful and to cease their attacks upon the trade caravans, they would no longer be held in awe by neighbouring countries. Such attitudes have not, however, been confined to the tribal chiefs of Shu'ayb. People who stray away from truth, honesty and righteousness, regardless of their age and clime, have always found in honesty a means of great loss. People of warped mentalities in every age have always believed that trade, politics, and other worldly pursuits can never flourish unless they resort to dishonest and immoral practices. The main objection against the Message of truth in all ages has been that the pursuit of truth spells material doom.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :74 اس چھو ٹے سے فقرے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے ۔ یہ ٹھہر کر بہت سوچنے کا مقام ہے ۔ مَدیَنَ کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ شعیب جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کےجن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے ، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہو جائیں گے ۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں ۔ اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہ راہوں کے چوراہے پر بستے ہیں ، اور مصر اور عراق کی عظیم الشان متمدّن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں ، اگر ہم قافلوں کو چھیڑنا بند کر دیں اور بے ضرر اور پُر امن لوگ ہی بن کر رہ جائیں تو جو معاشی اور سیاسی فوائد ہمیں اپنی موجودہ جغرافی پوزیشن سے حاصل ہو رہے ہیں وہ سب ختم ہو جائیں گے اور آس پاس کی قوموں پر ہماری جو دھونس قائم ہے وہ باقی نہ رہے گی ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات صرف قوم شعیب کے سرداروں ہی تک محدود نہیں ہے ۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق اور راستی اور دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کیے ہیں ۔ ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جُھوٹ اور بے ایمانی اور بد اخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے ۔ ہر جگہ دعوت حق کے مقابلہ میں جو زبردست عذرات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر دنیا کی چلتی ہوئی راہوں سے ہٹ کر اس دعوت کی پیروی کی جائے گی تو قوم تباہ ہو جائے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہیں ان کو بھی تر کرنا پڑے گا یہ بات قوم شعیب ( علیہ السلام) کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر مانے میں دنیا پر ستوں نے اخلاق ودیانت کے اصول لوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے۔ اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر دنیاوی معاملات بددیانتی اور دغابازی کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ راست بازی سے کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” وَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْْباً إِنَّکُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ (90) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ ہیں خدوخال اس معرکے کے جو انسانی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا ہے اگرچہ اس کی نوعیت کبھی نہیں بدلتی ۔ طاغوتی قوتیں سب سے پہلے داعی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ دعوت کو بند کر دے لیکن جب وہ اپنی ایمانی قوت پر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتا ہے ‘ دعوت کو جاری رکھتا ہے ‘ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات کو انگیز کرتا ہے اور دھمکیوں اور طاغوتی قوتوں کے حجم سے مرعوب نہیں ہوتا تو یہ قوتیں داعی کے متبعین کو اذیت دینا شروع کردیتی ہے۔ ان پر یہ مصائب محض انکے دین کی وجہ سے توڑے جاتے ہیں ۔ ان ظالموں کے پاس اپنے ظلم کے لئے کوئی جواز نہیں ہوتا لیکن انکے پاس مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی ظاہری قوتیں ہوتی ہیں ۔ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی جاہلیت پر عوام کو مطمئن کرسکیں ۔ خصوصا ان لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور جن کی نظروں میں باطل خفیف و حقیر ٹھہرا کیونکہ ان لوگوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کردیا اور ہر قسم کا اقتدار اللہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی نظروں میں اس کے سوا کوئی مقتدر اعلی ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جب حق و باطل علیحدہ علیحدہ متمیز ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے بالمقابل آجاتے ہیں تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہوتا ہے اور اللہ خود فیصلہ کردیتا ہے ۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

96: قوم شعیب (علیہ السلام) کے مشرک سردار اپنے ہم مسلک لوگوں کو دین حق قبول کرنے سے روکنے کیلئے ان سے کہتے تھے اگر تم نے شعیب کی بات مان لی تو تم خسارے میں رہو گے۔ کیونکہ اس کا دین قبول کرلینے کے بعد تم ناپ تول میں کمی بیشی سے جو کچھ کماتے تھے، وہ نہیں کما سکو گے۔ نیز ہدایت کے عوض گمراہی خریدو گے جو سراسر خسارہ ہے مشرکین شرک کو ہدایت اور توحید کو گمراہی سمجھتے تھے۔ ای مغبونون لاستبدالکم الضلالۃ بالھدی وولفوات ما یحصل لکم بالبخس والتطفیف (روح ج 9 ص 6) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

90 اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم ان رئوسا اور سرداروں نے جنہوں نے کفر کی راہ اور کافرانہ روش اختیار کررکھی تھی ان غیر مسلموں سے کہا جو ابھی شعیب (علیہ السلام) کی تعلیم کے بارے میں کوئی آخری فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی اور شعیب کے کہنے پر چلے تو یقیناً اس وقت تم سخت نقصان اٹھانے والے ہوجائو گے اور بڑے ہی خسارے میں پڑجائوگے۔