تعارف سورة المعارج سورة نمبر 70 کل رکوع 2 آیات 44 الفاظ و کلمات 241 حروف 1095 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت، آخرت، جنت اور جہنم کا ذکر فرماتے تو کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ وہ قیامت جس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے اور وہ عذاب جو نازل کیا جاسکتا ہے آکر اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس جگہ کافروں میں سے ایک خاص آدمی کا ذکر کیا گی ا ہے جو مال و دولت، اپنے بیٹوں، بھائیوں ، دوستوں اور خاندان کے افراد کی کثرت پر ناز کرتے ہوئے ایک دن یہاں تک کہہ بیٹھا ” الٰہی ! اگر یہ حق تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر شدید عذاب کو لے آ۔ “ مفسرین نے اس کا نام نضر ابن حارث ابن کلدہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار اور اس خاص شخص کا ذکر کیے بغیر فرمایا ہے کہ مانگنے والا ایک ایسی چیز کو مانگ رہا ہے جو بہت جلد واقع ہونے والی ہے لیکن جب وہ دن آئے گا تو کافروں کے لئے بدترین اور سخت ترین دن ہوگا جو کسی کے ٹالنے سے ٹل نہ سکے گا۔ یہ اعلان اس ذات کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔ فرشتے اور جبرائیل امین بھی اللہ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو اس دن کی مقدار و مسافت پچاس ہزار سال ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی غلط سلط، بےہودہ باتوں پر صبر کیجئے اور صبر بھی وہ صبر جس میں کسی قسم کا شکوہ اور شکایت نہ ہو۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ان جیسے لوگ اپنے انجام کو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جس قیامت کے دن کو بہت دور کی چیز سمجھ رہے ہیں ہم اسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ جیسا اور پہاڑ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی روئی جیسے ہوجائیں گے۔ کوئی جگری اور گہرا دوست بھی دوسرے گہرے دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ ان کا آمنا سامنا بھی ہوگا۔ اس دن مجرم عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے اپنی اولاد، بیوی، بھائی اور کنبہ کے وہ لوگ جن میں رہا کرتا تھا ان کو اور روئے زمین کی ہر چیز کو دے کر اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا لیکن وہ بھی اس عذاب سے نہ بچ سکے گا۔ اس کو ایسی بھڑکتی آگ میں ڈالا جائے گا جو اس کی کھال تک کھینچ لے گی اور وہ جہنم ہر اس شخص کے لئے ہے جس نے حق سے منہ موڑا ہوگا اور مال کو اٹھا اٹھا کر رکھتا اور جمع کرتا ہوگا۔ وہ شخص جس کا یہ حال ہے کہ جب کوئی مصیبت اس کو گھیر لیتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اسے خوشحالی مل جاتی ہے تو وہ بخل اور کنجوسی کرنے لگتا ہے۔ لیکن وہ لوگ اس دن اللہ کے عذاب سے بچ جائیں گے اور جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوں گے جو… ١۔ ہمیشہ نمازوں کی پابندی اور اہتمام کرتے ہیں۔ ٢۔ جن کے مالوں میں سوالی اور غیر سوایل سب کا حق ہوتا ہے یعنی کوئی محروم نہیں رہتا۔ ٣۔ جو قیامت کے دن کو برحق ماننے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ٤۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ ٥۔ جو لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے سوا ہر جگہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٦۔ جو امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٧۔ جو اپنے ہر وعدے کو پورا کرتے ہیں۔ ٨۔ جو اپنی نمازوں کی تمام شرائط اور آداب کا لحاط کرکے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان سب لوگوں کو پورے اعزازو اکرام سے جنتوں میں رہنے کا حکم دیا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے جو اسلام کا مذاق اڑانے گروہ در گروہ چلے آرہے ہیں ان کا گمان یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نعمت بھری جنتوں میں پہنچ جائے گا ؟ ہر گر نہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کو ہم نے جس چیز سے پیدا کیا ہے یعنی ایک حقیر نطفہ سے۔ مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ہم اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتے ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ آئیں ۔ یہ ہمیں ہر انہیں سکتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بےہودہ باتوں اور مشغلوں میں لگا رہنے دیجئے۔ وہ وقت دور نہیں ہے یہ اس قیامت کے دن میں پہنچ جائیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑ رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں۔ اس دن ان کی نظریں نیچی ہوں گی۔ ان پر ذلت چھا رہی ہوں گی۔ اسی دن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
سورة المعارج کا تعارف المعارج کا نام اس کی تیسری آیت سے لیا گیا ہے یہ مکی سورت ہے اس کی چوالیس آیات ہیں جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ابتداء اس بات سے کی جا رہی ہے کہ کفار مکہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لہٰذا ان پر عذاب ہر صورت نازل ہو کر رہے گا اور اس کا انکار کرنے والے اسے روک نہیں سکیں گے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مقابلے میں پورے تحمل کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کریں۔ یہ لوگ عذاب کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب جانتے ہیں۔ کفار عذاب کے ساتھ اس بات کا بھی مطالبہ کرتے تھے کہ جس قیامت سے ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے وہ کیوں برپا نہیں ہوتی ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ قیامت کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب سمجھتے ہیں۔ جب یہ دن آئے گا تو آسمان پگلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ دار ڈھن کی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ اس دن مجرموں کی یہ حالت ہوگی کہ کوئی اپنے جگری دوست کی مدد نہیں کرسکے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ اور پہچان رہے ہوں گے۔ مجرم اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کی حمایت کیا کرتے تھے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوگا۔ تاکہ عذاب سے نجات پا جائے لیکن وہ بھڑکتی ہوئی آگ سے نہیں بچ سکے گا۔ جو مجرم کے گوشت پوست کو چاٹ جائے گی جہنم کی آگ ہر اس شخص کا پیچھا کرے گی جس نے حق بات سے منہ موڑا اور ناجائز طریقے سے مال جمع کیا۔ اس سے وہ لوگ بچا لیے جائیں گے جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے تھے، قیامت کے برپا ہونے کی تصدیق کرتے تھے اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے تھے اور امانتوں کا خیال رکھتے تھے اور شہادت حق پر قائم رہتے تھے انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت میں رکھا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں مگر پھر بھی چاہتے ہیں کہ انہیں جنت میں داخل کیا جائے انہیں بتائیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا جس قیامت کا مطالبہ کرتے ہیں اس دن ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان آنکھیں پھٹی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ یہ وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
سورة المعارج ایک نظر میں یہ سورت طویل اور سست رفتار نفسیاتی علاج کی کڑی ہے۔ مشرکین کے ذہنوں میں دورجاہلیت کی جو گہری اور پیچیدہ بیماریاں تھیں اور قرآن کریم ان کا علاج کررہا تھا ، یہ اس کی ایک کڑی ہے۔ اور اسی میں جاہلیت کی بقایا تاریکیوں اور بیماریوں کی صفائی کی گئی ہیں۔ جس طرح یہ مہم اس وقت قرآن کو درپیش تھی ، اسی طرح آئندہ بھی تحریک اسلامی کو ایسی ہی مہم درپیش ہوسکتی ہے۔ ہر دور کی جاہلیت کی سطح میں اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن اس کے ظاہری اور پوشیدہ حقائق میں اختلاف نہیں ہوتا۔ غرض یہ ایک نفسیاتی مہم ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نفس کے نشیب و فراز میں جہاں جہاں بھی جاہلیت کے اس قسم کے آثار ہوں اور تہہ بہ تہہ تاریکیاں جمی ہوئی ہوں ، ان کی صفائی کردی جائے اور یہ اس قدر مشکل مہم تھی ، جو ان جنگی مہمات ، سے زیادہ مشکل تھی ، جن میں ، بعد کے ادوار میں ، مسلمانوں نے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ یہ ذہنی اور نفسیاتی تاریکیاں اور بیماریاں ان سیاسی قوتوں سے زیادہ سخت اور زیادہ دفاع کرنے والی تھیں بلکہ حملہ آور ہونے والی تھیں ، جو تحریک اسلامی کی پوری تاریخ میں اس کے خلاف حملہ آور رہیں۔ قدیم زمانے میں بھی اور آج کے جدید تاریخ میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو نفسیات اور عقائد ونظریات کے میدان میں جنگ کرنی پڑی۔ اس سورت کا بنیادی موضوع اور اس کا محور عقیدہ قیامت ہے۔ قیامت کا ثبوت اسے لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھانا کہ وہ دن آئے گا ، جس میں جزاء وسزا کا عمل ہوگا۔ اور کافروں کو وہ سزا دی جائے گی جس سے قرآن ان کو ڈراتا ہے۔ اس سورت کا ہدف صرف یہی ہے کہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیا جائے اور نفس انسانی اگر مومن ہو تو وہ بہت مختلف ہوتا ہے اس سے جب وہ کافر ہو۔ چناچہ یہ سورت نفس مومنہ کی صفات اور علامات بھی بتاتی ہے۔ اور اس کے شعور اور طرز عمل کو بھی بتاتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کے استحقاق کو بھی ظاہر کرتی ہے اور نفس امارہ کفارہ کے بارے میں بھی بتاتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اسکے لئے عذاب ہے اور کس قدر ذلت و اہانت ہے۔ اور یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کی طے کردہ قدریں کیا ہوتی ہیں ؟ اور خالق کائنات کے طے شدہ قدریں کیا ہیں ؟ یوں یہ سورت انسان کی نفسیاتی بیماریوں کا طویل المدت علاج کرتی ہے۔ نفس انسانی کی دنیا کے نشیب و فراز میں اترتی ہے ، اور اس کی کمزوریوں اور بیماریوں کو لیتی ہے اور ان کا علاج کرتی ہے۔ یہ تھا وہ نفسیاتی معرکہ جو اس کتاب نے ایک طویل عرصے تک لڑا اور اس میں یہ کتاب کامیاب رہی ، بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے لئے پھر میدان معرکہ مشکل نہ تھا کیونکہ قرآن نے اس جنگی میدان میں معرکے سے قبل کفار کو نفسیاتی ، دینی اور نظریاتی میدان میں شکست دے دی تھی۔ اور یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے ، خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کسی نظریاتی قوت کی پشت پر کوئی مادی قوت نہ ہو۔ جو لوگ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں واقعات سیرت بھی مستحضر ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مکہ کے اندر قرآن کریم کس قوت کے ساتھ عربوں کی نفسیاتی دنیا پر لشکر کشیاں کررہا تھا اور کس طرح نفوس کو فتح کرکے ان کو برضاد رغبت اسلامی قیادت کی حلقہ بگوشی تسلیم کرنے پر مجبور کررہا تھا۔ مکہ مکرمہ میں جب انسان قرآن کی فتوحات پر نظر ڈالتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن انسانی نفسیات پر عجیب عجیب زاویوں سے حملے کرتا تھا اور ان کو فتح کرلیتا تھا۔ کبھی تو قرآن کا انداز یوں ہوتا کہ کسی سورت میں طوفان اور سیلاب کی طرح دلائل اور موثرات آتے ہیں۔ اور جاہلیت کے افکار باطلہ کے خس و خاشاک کو بہا کرلے جاتے ہیں اور بعض اوقات انداز بیان یوں ہوتا ہے جس طرح ایک غضبناک قوم حملہ آور ہتی ہے اور جو بھی اس کے سامنے آتا ہے اسے مٹا کر رکھ دیتی ہے۔ یوں قرآن کریم جاہلیت کے آثار اور تصورات کو مٹا دیتا ہے اور بعض اوقات وہ یوں حملہ آور ہوتا ہے کہ گویا وہ کوڑے برسارہا ہے ، جس سے انسانی احساس جل اٹھتا ہے۔ اور انسان ان کو مار کو اور درد کو برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ او بعض اوقات قرآن کریم کا انداز بہت ہی خوشگوار ، محبت آمیز مکالمات سے بھر پور ہوتا ہے اور یہ مکالمات محبت اور ہمدردی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن کی پکار نہایت ہی ہولناک ہوتی ہے۔ سننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی چیخ اور زور دار پکار کو سن کر انسان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ بہت ہی خطرہ درپیش ہے۔ اور بعض اوقات قرآن کا انداز نہایت سادہ اور صاف ہوتا ہے۔ اور کوئی عقلمند انسان اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اور نہ اس میں کوئی جدل وجدال کرسکتا ہے۔ کبھی اس کا انداز نہایت پر امیدی کا ہوتا ہے اور قرآن قاری کو امید کی ایک کرن عطا کرتا ہے ، جس سے انسانی شعور میں روشنی اور صبح نو اور ترو تازہ نہایت پرامیدی کا ہوتا ہے۔ اور قرآن قاری کو امید کی ایک کرن عطا کرتا ہے ، جس سے انسانی شعور میں روشنی اور صبح نو اور تروتازہ فضا کی امید پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی انداز یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسانی مغیبات کی پیچیدہ وادیوں اور اس کے اندرونی نشیب و فراز میں اترجاتا ہے اور انسان کی داخلی کیفیات کو ایک منظر کی شکل عطا کردیتا ہے اس طرح کہ انسان اس منظر کو دیکھ کر شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ یہ تو میرا راز افشا ہوگیا۔ یوں انسان خود اپنے تاثرات اور اپنے میلانات اور انفعالات سے واقف ہوتا ہیجب کہ اس سے قبل وہ خود اپنے میلانات سے غافل تھا۔ غرض قرآن کریم میں سینکڑوں ٹچ ، سینکڑوں تنبہیات ، سینکڑوں پکاریں ، سینکڑوں دلائل ہیں ، جو تلاوت قرآن کے دوران سامنے آتے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ قرآن اس فکری اور شعوری میدان جنگ کی کشمکش برپا کیے ہوئے ہے۔ غرض یہ طویل مسلسل اور پہیم جدوجہد قرآن نے جاری رکھی اور عربوں جیسے معانددلوں کو شکست دے دی۔ یہ پوری سورت ان کوششوں کا ایک نمونہ ہے جس میں ثبوت آخرت پر بحث ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے متعلقہ موضوعات بھی اس میں لئے گئے ہیں۔ سورة الحاقہ بھی دراصل ثبوت آخرت ہی کے موضوع پر تھی۔ لیکن سورة الحاقہ اور اس سورت کے انداز میں بہت فرق ہے ۔ اس سورت میں قیام قیامت کے موضوع کو بالکل ایک نئے زاویہ سے لیا گیا ہے۔ اور بالکل جدید رنگ اور جدید انداز اور جدید سائے اور عکس میں ! پچھلی سورة الحاقہ میں قیامت کے ہولناک اور خوفناک مناظر لئے گئے تھے جنہیں پڑھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے اور جو مناظر اور حرکات دکھائی گئی تھیں وہ بھی شدید اور خوفناک تھیں۔ مثلاً : فاذ نفخ…………واھیۃ (13:69 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا ، اس روز وہ ہونے والے واقعہ پیش آجائے گا۔ اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی۔ اور اسی سورت میں اللہ کی شان کبریائی اور جلالت کو یوں خوفناک انداز میں بیان کیا گیا ہے : والملک……………خافیۃ (17:69 تا 18) ” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جائو گے تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا “۔ اسی طرح سورة الحاقہ میں جو عذاب کے مناظر تھے ، وہ بھی نہایت ہولناک تھے۔ یہاں تک کے عدالت کبریائی کی طرف سے عذاب کے جو احکامات صادر ہوئے ، ان کے الفاظ میں بھی شدت صاف صاف نظر آتی ہے۔ خذوہ……………سلکوہ (30:69 تا 32) ” پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے جہنم میں جھونک دو ، پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ اور جن لوگوں کو عذاب دیا گیا ان کی چیخ و پکار اور آہ وفغاں میں بھی یہ شدت اور سختی عیاں ہے ، زور زور سے آہ وزاری کررہے ہیں وہ۔ وامامن……………القاضیۃ (25:69 تا 27) ” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی “۔ رہی یہ سورت تو اس کے تمام مناظر اس کائنات کے بجائے نفس انسانی کے اندر ہیں۔ انسانی نفس کے خدوخال ، اس کی علامات ، اس کے خلجان ، اس کے اقدامات وغیرہ۔ اگر اس میں اس کائنات کا کوئی منظر ہے بھی تو اس کا خوف بھی نفسیاتی دنیا میں ہے۔ ظاہری مناظر میں نہیں ہے۔ یعنی نفس انسانی کے اندر جو ڈر ، زلزلہ ، خلجان ، بھوک اور خوف کی حالت ہوتی ہے ، یہاں یوں اس کے اندر محدود ہے۔ یوم تکون……………ینجیہ (8:70 تا 14) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے۔ اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اسے نجات دلادے “۔ یہ سب نفسیاتی اتارچڑھائو ہیں۔ اس سورت میں جہنم بھی ایک زندہ نفس کی شکل میں آتی ہے۔ اور وہ تمام زندوں کے احساسات میں شریک ہے۔ کلا انھا…………فاوعی (15:70 تا 18) ” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔ اس سورت میں جو عذاب مذکور ہے اس کی نوعیت بھی حسی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ یوم یخرجون…………وعدون (43:70 تا 44) ” جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے آستانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں ، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی یہ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے “۔ لہٰذا اس سورت کے مناظر ، تصاویر اور سائے سورة الحاقہ سے اس طرح مختلف ہیں جس طرح دونوں سورتوں کا ماحول اور انداز مختلف ہے۔ لیکن دونوں سورتیں ایک ہی حقیقت کو بیان کررہی ہیں۔ یعنی عقیدہ آخرت اور آخرت کے مناظر۔ یہی وجہ ہے کہ سورة معارج میں انسانی نفس کے وہ حالات بھی بیان کیے گئے ہیں جو خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ حالات بھی جو مشکلات میں ہوتے ہیں۔ ایمان کی حالت اور کفر کی حالت ۔ اور یہ اس سورت کے نفسیاتی رنگ کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ چناچہ انسان کے نفسیاتی حالات کے بارے میں ہے : ان الانسان……………دائمون (19:70 تا 23) ” انسان تھرڈلا پیدا کیا گیا ہے ، جس اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔ اور اہل ایمان کی نفسیاتی اور عملی حالت یہ ہے : الا المصلین…………مکرمون (22:70 تا 35) ” جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں ، جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے ، جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں ، جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو ، جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں…‘ جو اپنی امانوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں ، جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے “۔ سورة الحاقہ کا محور اور مضمون یہ تھا کہ اسلامی عقیدہ اور نظریہ کے متعلق فیصلہ کن انداز اختیار کیا جائے اور عقیدہ آخرت چونکہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کے ایک جز کی حیثیت سے زیر بحث تھا۔ باقی مضامین بھی تھے مثلاً زمین میں مکذبین پر عذاب کا نزول۔ اور سخت گرفت اور یہ کہ اسلامی نظریہ میں اگر کوئی تبدیلی کرتا ہے تو ان کی گرفت۔ لیکن سورة المعارج کا زیادہ تر مضمون صرف قیامت کے بارے میں ہے۔ وہاں کی جزاء سزا ، گویا وہاں آخرت کا مضمون ضمنی اور یہاں اصل محور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو دوسرے مضامین یہاں لائے گئے ہیں ، وہ براہ راست آخرت سے متعلق ہیں۔ مثلاً یہ بات کہ اللہ کے ہاں ایام اللہ کا حساب و کتاب کیا ہے اور آخرت کے بارے میں لوگوں کے کیا اندازے ہیں اور اللہ کے ہاں اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تعرج…………قریبا (5:70 تا 7) ” ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کرجاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر کرو ، شائستہ صبر ۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ یہ بھی آخرت سے متعلق حقیقت ہے۔ اسی طرح یہ بات کہ انسانی نفس اگر ایمان رکھتا ہو یا ایمان سے خالی ہو ، ان دونوں حالتوں میں فرق کیا ہوتا ہے۔ دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ پھر یہ بات کہ کافر دھوکہ کھاتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے ، حالانکہ اللہ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور وہ اللہ سے آگے ہو کر کوئی کام نہیں کرسکتے اور نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں اور یہ بات بھی سورت کے اصلی محور سے متعلق ہے۔ یوں یہ سورت قریب قریب قیامت کے موضوع تک محدود ہے۔ اور اسی حقیقت کو لوگوں کے ذہن نشین کرنا چاہتی ہے ، باوجود اس کے کہ اس کے ٹچ متنوع ہیں اور بعض ایسے موضوعات بھی اس میں ہیں جو اصل موضوع کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ اس سورت کا ایک خاص انداز تعبیر ہے اور ایک خاص موسیقی اس میں ملحوظ ہے۔ سورة الحاقہ میں تنوع یہ تھا کہ قافیہ ایک ایک پیراگراف میں بدل جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی معنوی تبدیلی کے ساتھ ہوتی تھی ، لیکن اس سورة المعارج میں قافیہ اور موسیقی کا تنوع ذرا مزید گہرا ہے۔ اس میں جملوں میں موسیقی کے لحاظ سے بھی تنوع ہے اور قافیہ کے لحاظ سے بھی۔ اور اس میں جملوں کی ترکیب موسیقی کے زاویہ سے ذرا گہری اور سورت کے پہلے حصے میں خاص طور پر نمایا ہے۔ آغاز تین جملے موسیقی اور قافیہ کے اعتبار سے یکساں ہیں۔ جملوں کی طوالت بھی یکساں ہے مثلاً : سال سائل…………جمیلا (1:70 تا 5) یہاں پانچویں آیت اور قافی ہمیں اس پیرا گراف کو جمیلا کی الف پر ختم کیا گیا ہے۔ انھم…………قریبا (7:70) صرف دو فقرے اور خاتمہ الف پر دونوں مرتبہ اور دوسرے فقرے پر پیرا ختم ہے۔ یوم تکون…………حمیما (8:70 تا 10) اس میں داخلی قافیے مختلف ہیں ، لیکن تیسرے فقرے پر الف پر پیرا ختم ۔ یبصرونھم……………الخیر منوعا (11:70 تا 21) ” اس پیرے میں جو چھ مرتہ الف پر وقف ہے ، تین آخری الف کا انداز پہلے تین سے مختلف ہے۔ اور اس کے بعد پھر آیات کا خاتمہ میم اور نون پر یا یاء اور نون پر ہوتا ہے۔ سورت کا آغاز میں موسیقی کی متنوع ٹون ہے ، یہ ٹون نہایت گہری اور پیچیدہ ہے۔ اور اس کی یہ پیچیدگی ، اور اس کا یہ تنوع ، موسیقی کا ذوق رکھنے والے کانوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ اس کے اندر موسیقی کا وہ حسن ہے جو عربی معاشرے کے ذوق موسیقی کے لئے انوکھا ہے۔ اور سا کا ٹون عربی موسیقی کے ٹون سے مختلف ہے لیکن قرآن اپنے مخصوص اسلوب کے ساتھ اسے سہل بناکر عربی ذوق کے سامنے رکھتا ہے اور یہ عربی ذوق اسے قبول کرلیتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹون اپنی تشکیل کے اعتبار سے بالکل ایک جدید اور گہرا فن ہے اور عربوں کے عادی ذوق موسیقی سے مختلف ہے۔ ان گزارشات کو وہ لوگ تو بسہولت سمجھ سکتے ہیں جو کسی قدر اصول موسیقی سے واقف ہیں اور وہ ان باتوں کو سمجھنے میں زیادہ وقت محسوس نہ کریں گے۔ عام لوگوں کے لئے مناسب ہے کہ وہ میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن کی فصل ” الستلسق “ کا مطالعہ کریں۔ اب آیات کی تفصیلات اور تفسیر۔