Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 1

سورة المعارج

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ﴿۱﴾

A supplicant asked for a punishment bound to happen

ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Request to hasten the Day of Judgement Allah says that, سَأَلَ سَايِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ A questioner asked concerning a torment about to befall, This Ayah contains an assumed meaning that is alluded to by the letter "Ba". It is as though it is saying, a questioner requested to hasten on the torment that is about to fall. It is similar to Allah's statement, وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ And they ask you to hasten on the torment! And Allah fails not His promise. (22:47) meaning, that its torment will occur and there is no avoiding it. Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas concerning the Ayah, سَأَلَ سَايِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ (A questioner asked concerning a torment about to befall), "That is the questioning of the disbelievers about the torment of Allah and it will occur to them." Ibn Abi Najih reported from Mujahid that he said concerning Allah's statement سَأَلَ سَايِلٌ (A questioner asked), "A person called out (requesting) for the torment that will occur in the Hereafter to happen." Then he said, "This is their saying, اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَأءِ أَوِ ايْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ O Allah! If this is indeed the truth from you, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment." (8:32) Allah's statement, ... وَاقِعٍ

بعذاب میں جو ب ہے وہ بتا رہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47؀ ) 22- الحج:47 ) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا ، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے ، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں آیت ( اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 32؀ ) 8- الانفال:32 ) یعنی الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ، ابن جریر وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہ نکلے گی ، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے پھر فرماتا ہے کہ وہ عذاب کافروں کے لئے تیار ہے اور ان پر آپڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ۔ آیت ( مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ Ǽ۝ۭ ) 70- المعارج:3 ) کے معنی ابن عباس کی تفسیر کے مطابق درجوں والا ، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں ، قتادہ کہتے ہیں فضل و کرم اور نعمت و رحم والا ، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے ، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ، روح کی تفسیر میں حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے ، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں ، اس لئے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمان کی طرف چڑھتی ہیں ، جیسے کہ حضرت براء والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں حضرت ابو ہریرہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ گذر چکی ہے جسکی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں ، پہلی حدیث بھی مسند احمد ابو داؤد و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے ، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت ( يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ 27؀ۧ ) 14- ابراھیم:27 ) کی تفسیر میں کر دیا ہے ۔ پھر فرمایا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد وہ دوری ہے جو اسفل السافلین سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے ، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب صفتہ العرش میں ذکر کیا ہے ، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے ، اس لئے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے یہی روایت دوسرے طریق سے حضرت مجاہد کے قول سے مروی ہے حضرت ابن عباس کے قول سے نہیں ، حضرت ابن عباس سی ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے ، اسی طرح آسمان ، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ، دوسرا قول یہ ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے ، چنانچہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے ، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے ، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے تیسرا قول یہ ہے کہ یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے ، حضرت محمد بن کعب یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے ، چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے حضرت ابن عباس سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے ، حضرت عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں ، ابن عباس کا قول ہے کہ قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا ، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں ، واللہ اعلم ۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گذرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟ اس نے کہا ہاں میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ قسم قسم کے غلام اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گذر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا ، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہوگا ، عامری نے پوچھا اے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا مسکنیوں کو سواری کے لئے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لئے جانور دینا ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لئے ہوا نہیں مانگا ہوا بےقیمت دینا ، یہ حدیث ابو داؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے ، مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ، پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گذرا ، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لئے ہیں ۔ ایک تو اجر دلانے والے ، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے ، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے ۔ ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوۃ ہے ، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے ، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں ۔ پھر فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا ۚ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا ۙ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ ۭ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ 18؀ ) 42- الشورى:18 ) ، یعنی بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایمان دار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے ، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں ، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں ، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 کہتے ہیں نضر بن حارث تھا یا ابو جہل تھا جس نے کہا تھا (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 32؀) 8 ۔ الانفال :32) چناچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) سال سآئل بعذاب واقع …: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایک پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق سوال کیا ہے (کہ وہ کب آئے گا ؟ ) اس صورت میں ” بائ “ بمعنی ” عن “ ہوگی اور مراد وہ کفری ہ سوال ہے جو وہ بار بار عذاب کو جھٹلانے اور مذاق کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : ٢٥)” اور وہ کہتے ہیں کہ وہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟ “ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے۔ اس سے مراد کفار کے سرکش لوگوں کی وہ دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کرتے رہتے تھے کہ ہم پر جلد از جلد عذاب لے آؤ جیسا کہ فرمایا :(ویستعجلونک بالعذاب) (العنکبوت : ٥٣)” اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا سوال کرتے ہیں۔ “ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پوچھنے والا عذاب کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہ کب آئے گا ؟ مانگنے والا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب لے آؤ، تو سن لو کہ وہ عذاب کافروں پر ضرور آکر رہے گا اور کوئی اسے ہٹا نہیں سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر آئے گا۔ آپ ان کے مطالبے پر نہ اس کے جلدی آنے کا سوال کریں اور ان کے مذاق اڑانے پر کسی قسم کی بےصبری کا مظاہرہ کریں، وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہمیں وہ بال قریب نظر آرہا ہے۔ (٢) للکفرین لیس لہ دافع :” للکفرین “ یا تو ” واقع “ کے متعلق ہے، یعنی وہ عذاب کافروں پر واقع ہونے والا ہے، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، یا ”’ دافع “ کے متعلق ہے، یعنی کافروں سے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

* The disbelievers used to come to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in groups mocking at the Muslims, and denying the Islamic beliefs, including Resurrection. But at the same time, they used to claim, in ironical style, that they would enter the Paradise, and enjoy its bliss. This verse refers to this attitude of the disbelievers. ** Since their pretended aspiration to enter Paradise was merely a mockery, and in fact they intended to deny Resurrection, their denial is refuted in this verse by saying that admittedly Allah has created them from a lifeless drop of semen, as they knew it well, and a drop of semen is more difficult to be transformed into a perfect human being. If Allah has power to make it a living man, how easy it is for Him to give life to a dead body! Still, they do not believe in Resurrection. Then, how can they enter Paradise?& (Muhammad Taqi Usmani) Commentary سَأَلَ سَائِلٌ (A demanding person has asked for the punishment that is going to befall....70:1). The Arabic word suwal/su&al means to &ask a question&. The word is used in more than one sense: [ 1] It could mean to inquire about something. In this sense, the Arabic word is followed by the preposition &an& [ about ]; and [ 2] It is used in the sense of &request&. In this sense, the word is followed by the preposition &bi& [ for ] as in this instance. Nasa&i transmits a narration from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) that this demanding person was Nadr Ibn Harith. In rejecting the Qur&an and the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، he daringly demanded: اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ‌ عَلَيْنَا حِجَارَ‌ةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ &0 Allah, if this be indeed the truth [ revealed ] from You, then, rain down upon us stones from the heavens, or bring upon us a painful punishment. [ 8:32] The result of this demand was that Nadr Ibn Harith was killed by Muslims in the Battle of Badr. (Mazhari, citing the narration of Ibn Abi Hatim). The Qur&an, further setting down the factual position of the demanded punishment, says that the punishment is inevitable and will most certainly occur in this world or in the Hereafter or in both the worlds. It cannot be averted. The impending punishment is from Allah, the Lord of the stairways. The last statement is also the proof of the preceding statement, in that the punishment is from the Lord of the Ascending Steps. It is not possible for anyone to avert it. The word ma’ arij is the plural of mi` raj or mi&raj. It means a &ladder or a staircase, having steps for reaching high places. The Divine attribute given in this verse as &dhil-ma’ arij& [ Lord of the stairways ] means that He is the Lord of high degrees. This is the interpretation given by Said Ibn Jubair. Sayyidna Ibn Masud (رض) says that these stairways or higher rungs are seven heavens one above another, and &dhil-ma’ arij& means &dhis-samawat&, that is to say, malik-us-samawat [ Lord of the heavens ].

خلاصہ تفسیر ایک مانگنے والا (براہ انکار) وہ عذاب مانگتا ہے جہ کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے (اور) جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں (اور) جو اللہ کی طرف سے واقع ہوگا جو کہ سیڑھیوں کا (یعنی آسمانوں کا) مالک ہے (جن سیڑھیوں سے) فرشتے اور (اہل ایمان کی) روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں ( اس کے پاس سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں جو موقع ان کے عروج کا منتہا مقرر کیا گیا ہے وہاں جاتی ہیں اور چونکہ اس عروج کا رستہ آسمان ہیں اسلئے ان کو معارج ( یعنی سیڑھیاں) فرما دیا اور وہ عذاب، ایسے دن میں ( واقع) ہوگا جس کی مقدار ( دنیا کے) پچاس ہزار سال (کی برابر) ہے (مراد قیامت کا دن ہے جو کچھ حقیقی مقدار سے کچھ اس کے اشتداد سے کفار کو اس قدر طول محسوس ہوگا اور چونکہ کفر و سرکشی کے مراتب کے اعتبار سے اس کی شدت اور درازی مختلف ہوگی کسی کے لئے بہت زیادہ کسی کے لئے کچھ کم، اس لئے ایک آیت میں کالف سنة آیا ہے اور کافروں کی تخصیص اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ مومن کو وہ دن اس قدر ہلکا معلوم ہوگا جیسے ایک فرض پڑھنے کا وقت (کذا فی الدروعن ابی سعید مرفوعاً بروایت احمد والبیھقی وغیرھما) سو (جب عذاب کا آنا ثابت ہے تو) آپ (ان کی مخالفت پر) صبر کیجئے اور صبر بھی ایسا جس میں شکایت کا نام نہ ہو (یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت حکایت زبان پر آجاوے بلکہ یہ سمجھ کر تحمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے اور اس یوم سزا کا جو ان کو انکار ہے سو) یہ لوگ اس دن کو (قیامت پر ایمان نہ ہونے کے سبب اس کے وقوع کو) بعید دیکھ رہے ہیں اور ہم (کو اس کا وقوع یقینی معلوم ہے اس لئے) اس کو (وقوع سے) قریب دیکھ رہے ہیں (اور وہ عذاب اس روز واقع ہوگا) جس دن (کہ) آسمان درنگ میں) تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجاوے گا (اور ایک آیت میں کالدھان ہے جس کی تفسیر ادیم احمر یعنی سرخ چمڑے کی گئی ہے تو جمع دونوں میں یہ ہے کہ سرخی کی شدت سے بھی سیاہی کے مشابہ رنگ پیدا ہوجاتا ہے پس احمر اور اسود دونوں کہنا صحیح ہے یا اول ایک رنگ ہو پھر دوسرا بدل جاوے کما نقل ابن کثیر فی الرحمن عن الحسن تتلون الوانا اور اگر اس کی تفسیر بھی مثل بعض کے دردی زیت سے کی جاوے یعنی روغن زیتون کی تلچھت، تو دونوں کا مفہوم متحد ہوجاوے گا، غرض آسمان سیاہ ہوجاوے گا اور پھٹ بھی جاوے گا) اور پہاڑ رنگین اون کی طرح (جو کہ دھنکی ہوتی ہے بقولہ تعالیٰ کالعھن المنقوش) ہو ویں گے (یعنی اڑتے پھریں گے اور رنگین سے تشبیہ اس لئے دی گی کہ پہاڑ بھی مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں کما ھوالمذکور فی قولہ تعالیٰ ومن الجبال جد دبیض حمر مختلف الوانھا وغرابیب سود) اور (اس روز) کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا ( کقولہ تعالیٰ لایتساءلون) باوجودیکہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جاویں گے (یعنی ایک دوسرے کو دیکھیں گے مگر کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا اور سوہ صافات میں جو باہم سوال کرنے کا ذکر ہے وہ بطور اختلفا کے ہے بطور ہمدردی کے نہیں اس لئے وہ اس آیت کے منافی نہیں، اس روز) مجرم (یعنی کافر) اس بات کی تمنا کرے گا کہ اس اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دیدے پھر یہ (فدیہ میں دیدینا) اس کو (عذاب سے) بچا لے (یعنی اس روز ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑجاوے گی اور کل تک جن پر جان دیتا تھا آج ان کو اپنے فائدے کے لئے عذاب کے سپرد کردینے کو تیار ہوگا اگر اس کے قابو کی بات ہو لیکن) یہ ہرگز نہ ہوگا (یعنی نجات عن العذاب مطلقاً نہ ہوگی بلکہ) وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال (تک) اتار دیگی (اوہ) وہ اس شخص کو (خود) بلاویگی، جس نے (دنیا میں حق سے) پیٹھ پھیری ہوگی اور (طاعت سے) بےرخی کی ہوگی اور (دوسروں کا حق مار مار کر یا براہ رص مال) جمع کیا ہوگا پھر اس کو اٹھا اٹھا رکھا ہوگا (مطلب یہ کہ حقوق اللہ و حقوق العباد ضائع کئے ہوں گے، یا اشارہ ہے فساد عقائد و فساد اخلاق کی طرف اور بلانا معنے حقیقی پر مجمول ہوسکتا ہے خلاصہ یہ کہ ایسے صفات موجب استحقاق نار ہیں اور اس مجرم میں یہ صفات پائے جاتے ہیں پھر نجات عن العذات کفار کو اصل عذاب نہیں ہوگا بلکہ اشتد اد عذاب ہوگا اور نفس عذاب کفر پر ہوگا، بخلاف گناہگار مؤمنین کے کہ ان کو معاصی پر نفس عذاب بھی ہوسکتا ہے (واللہ اعلم) (آگے دوسرے رذائل کا ذکر ہے جو عذاب کا سبب ہوتے ہیں ان سے اہل ایمان کا استثناء اور پھر استثناء کا نتیجہ بیان ہے یعنی) انسان کم ہمت پیدا ہوا ہے (مراد انسان سے استثناء کو شامل کرنے کے بعد انسان کافر ہے اور پیدا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اول پیدائش کے وقت سے ہی وہ ایسا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی جبلت میں ایسا مادہ رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے وقت پر پہنچ کر یعنی بلوغ کے بعد ان رذیل صفات کا عادی ہوجائے گا، پس کم ہمتی سے مراد طبعی کم ہمتی نہیں ہے بلکہ کم ہمتی کے آثار ذممیمہ اختیار یہ مراد ہیں جن کو آگے بیان فرماتے ہیں یعنی) جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو (جد جواز سے زیادہ) جزع فزع کرنے لگتا ہے اور جب اس کو فارغ البالی ہوتی ہے تو (حقوق ضروریہ سے) بخل کرنے لگتا ہے (یہ تمتہ ہوگیا موجبات عذاب کا جو من ادبر سے شروع ہوئے ہیں) مگر وہ نمازی (یعنی مومن ان موجبات عذاب سے مستثنیٰ ہیں) جو اپنی نماز پر برابر توجہ رکھتے ہیں (یعنی نماز میں ظاہراً یا باطناً دوسری طرف توجہ نہیں کرتے جس کو قد افلح المومنون میں خاشعون سے تعبیر فرمایا ہے کد انقل ابن کثیر عن عقبتہ بن عامر بقولہ الدائم الساکن وعنہ فی الدر المنشور اذا صلوالم یلتقتوا عن یمین ولاشمال) اور جن کے مالوں میں سوالی اور بےسوالی سب کا حق ہے (اس کے متعلق مضمون سورة ذاریات میں گزر چکا) اور جو قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (اور) واقعی ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ( یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے) اور جو اپنی شرمگاہوں کو (حرام سے) محفوظ رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیونکہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلبگار ہو ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں اور جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں (ان میں کمی بیشی نہیں کرتے) اور جو اپنی (فرض) نماز کی پابندی کرتے ہیں ( پس) ایسے لوگ بہشتوں میں عزت سے داخل ہوں گے (ان آیات کی تفسیر سورة مؤ منون میں دیکھ لی جائے آگ کفار کی حالت کا عجیب ہونا اور وقوع قیامت کا مستبعد نہ ہونا بیان فرماتے ہیں یعنی موجبات سعادت وشقاوت تو اوپر بدلالت واضحہ معلوم ہوچکے) تو (معلوم بالدلیل ہونے کے بعد پھر) کافروں کو کیا ہوا کہ (ان مضامین کی تکذیب کے لئے) آپ کی طرف کو داہنے اور بائیں سے جماعتیں بن بن کر دوڑے آ رہے ہیں (یعنی چاہئے تھا کہ ان مضامین کی تصدیق کرتے لیکن یہ لوگ متفق ہو ہو کر آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ ان مضامین کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاد کریں جیسا کہ کفار عرب نبوت کی خبریں سن سن کر اسی غرض سے آتے تھے اور اسلام کو باطل سمجھنے کے ساتھ اپنے کو حق پر سمجھتے تھے اور حق ہونیکا ثمرہ جنت میں جانا ہے اس بناء پر وہ اپنے کو مستحق جنت بھی سمجھتے تھے کقولہ تعالیٰ (آیت) ٰولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنیٰ ۔ اس لئے اس کے متعلق بطور انکار فرماتے ہیں کہ) کیا ان میں ہر شخص اس کی ہوس رکھتا ہے کہ وہ آسائش کی جنت میں داخل کرلیا جاوے گا یہ ہرگز نہ ہوگا (کیونکہ موجبات جہنم کے ہوتے ہوئے جنت کیسے مل جاویگی اور یہ لوگ ان مضامین کی تکذیب میں نفس قیامت کی بھی تکذیب کرتے اور اس کو محال سمجھتے تھے آگے اس کے متعلق ارشاد ہے کہ ان کا استبعاد محض بےوقوفی ہے کیونکہ) ہم نے ان کو ایسی چیز سے پیدا کیا ہے جس کی ان کو بھی خبر ہے (پس جب ان کو معلوم ہے کہ نطفہ سے آدمی کو بنایا ہے اور بظاہر ہے کہ نطفہ سے کہ جس میں کبھی حیات نہیں آئی آدمی بننے تک جتنا بعد ہے اتنا بعد اجزاء میت سے دوسری بار آدمی بننے تک نہیں ہے کیونکہ ان اجزاء میں ایک بار حیات پہلے آ چکی ہے اس کو محال سمجھنا ان کی بےوقوفی ہے) پھر (دوسرے طور پر دفع استبعاد وقوع قیامت کے لئے) میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی (معنے اس کے سورة صافات کے شروع میں گزرے ہیں آگے جواب قسم ہے) کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ (دنیا ہی میں) ان کی جگہان سے بہتر لوگ لے آئیں (یعنی پیدا کردیں) اور ہم (اس سے) عاجز نہیں ہیں (پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء حالت کے اعتبار سے ہے اور دوسرا استدلال ان کے امثال و نظائر کے امکان مخلوقیت سے اور جب باوجود وضوح حق مع الدلائل کے اپنے انکار وعناد سے باز نہیں آتے) تو آپ ان کو اسی شغل اور تفریح میں رہنے دیجئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جاتے ہیں (اور) ان کی آنکھیں (مارے شرمندگی کے) نیچے کو ڈھکی ہوں گی (اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا (جو کہ اب واقع ہوگیا) معارف و مسائل سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ۔ سوال کبھی کسی چیز کی تحقیق کے لئے ہوتا ہے اس کے ساتھ عربی زبان میں صلہ حرف عن کا استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی سوال بمعنے درخواست اور کسی چیز کی طلب کے ہوتا ہے یہاں ایسا ہی ہے اسی لئے اس کے صلہ میں بجائے عن کے حرف بار آیا بعذاب معنے یہ ہیں کہا یک مانگنے والے نے عذاب مانگا۔ نسائی میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ مانگنے والا نضربن حارث تھا جس نے قرآن اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب میں اس جرأت سے کام لیا کہ کہنے لگا اللھم (آیت) ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطرعلینا حجارة من السمآء او ائتنا بعذاب الیم یعنی یہ دعا کی یا اللہ اگر یہ قرآن ہی حق ہے اور آپ کی طرف سے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دوسرا عذاب الیم بھیج دے۔ (مظہری) اللہ تعالیٰ نے اس کو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا (مظہری بروایت ابن ابی حاتم) اس شخص نے اللہ تعالیٰ کا جو عذاب اپنے منہ مانگا تھا آگے اس کی کچھ حقیقت کا بیان ہے کہ یہ عذاب کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا (خواہ دنیا میں یا دونوں میں) اس عذاب کو دفع کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ یہ عذاب اللہ کی طر سے ہے جو درجات عالیہ والا ہے۔ یہ آخری جملہ پہلے جملے کی دلیل بھی ہے کہ جو عذاب اللہ بالاوبرتر کی طرف سے ہو اس کو دفع کرنا اور ٹالنا کسی کے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ۝ ١ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع ہونے کے متعلق استعمال ہوئے ہیں چناچہ فرمایا ۔ إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٢) نضر بن حارچ کافر اس عذاب کی درخواست کرتا ہے جو کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے جس عذاب کو کوئی ہٹانے والا نہیں، چناچہ یہ بدر کے دن مارا گیا۔ شان نزول : سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (الخ) نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سال سائل سے مراد نضر بن حارث ہے اس نے کہا تھا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء۔ اور ابن ابی حاتم نے سدی سے سال سائل کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی اس نے کہا تھا ان کان ھذا ھو الحق ( الخ) چناچہ اس کا عذاب بدر کے دن ہوا۔ ابن منذر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۔ اس پر یہ لوگ کہنے لگے کہ کس پر عذاب واقع ہوگا تب اللہ تعالیٰ نے یہ جملہ نازل فرمایا لّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ‘ ٢{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ ۔ } ” مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔ “ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے ۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) کی رائے بھی یہی ہے ۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب (رح) کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے ۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے دراصل اس دور کا نقشہ ذہن میں لانا ضروری ہے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر طرف سے طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور مکہ کی گلیوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر ‘ مجنون ‘ ساحر اور کذاب جیسے ناموں سے پکارا جارہا تھا (معاذ اللہ) ۔ اعلانِ نبوت کے بعد تین سال تک تو یوں سمجھئے کہ پورے شہر کی مخالفت کا نشانہ صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات تھی ۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوت ارادی اور ہمت توڑنے یا کسی بھی طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موقف سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اس دور میں عام اہل ایمان کو نظرانداز کر کے صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی جسمانی اذیت تو نہ پہنچائی گئی لیکن باقاعدہ ایک منظم مہم کے تحت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ذہنی ‘ نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی انتہا کردی گئی۔ ان لوگوں کی اس مذموم مہم کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل ایک کرب اور تکلیف کی کیفیت میں تھے۔ اس کا اندازہ ان الفاظ اور جملوں سے بھی ہوتا ہے جو اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے جگہ جگہ آئے ہیں۔ بہرحال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تو آخر انسان تھے۔ مسلسل شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے ردّعمل کے طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں ایسی خواہش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ اب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجانا چاہیے۔ چناچہ ان آیات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ اس سورت کا سورة نوح کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے اور سورة نوح میں بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر ہے جس میں آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے سخت عذاب مانگا تھا۔ گویا ان دونوں سورتوں کے اس مضمون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں یہ مناسبت بھی بہت اہم ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری رسول ہیں۔ (١)

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Some commentators have taken the verb sa'ala in the Text in the meaning of asking, and have interpreted the verse to mean: "The asker has asked: whom will the torment with which we are being threatened befall'" And AIIah has answered it, saying: "!t will befall the disbelievers." But most of the conunentators have taken sa ala here in the meaning of demanding. Nasa'i and other traditionists have related a tradition from Ibn 'Abbas, and Hakim hold it as authentic, that Nadr bin al-Harith Kaladah had said "O God, if it is really the Truth sent dawn by You, then rain down stones on us from the heavens, or send down any other painful torment on us." (AI-Anfal: 32) . Apart from this, at several places in the Qur'an the disbelievers' this challenge has been related: "Why don't you bring down on us the torment that you threaten us with?" For instance, see Yunus: 4b-48, Al-Anbiya': 36-41, An-Naml; 67-72, Saba: 26-30, Ya Sin: 45-52, Al-Mink: 24-27.

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :1 اصل الفاظ ہیں سال سآئل ۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب ، جس کی ہمیں خبردی جا رہی ہے ، کس پر واقع ہو گا ؟ اور اللہ تعالی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہو گا ۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال کو مانگنے اور مطالبہ کرنے کے معنی میں لیا ہے ۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ نے کہا تھا اللھم ان کان ھذا ہو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم ۔ ( الانفال ، آیت 32 ) خدایا اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ ۔ اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفار مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: یونس ، آیات 46 تا 48 ، الابنیاء 36 تا 41 ، النمل ، 67 تا 72 ، سبا ، 26 تا 30 ، یسین ، 45 تا 52 ۔ الملک ، 24 تا 27 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٧۔ نسائی ١ ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے نہ عذاب آخرت کا وقت کچھ دور ہے۔ دنیا ایک دن ختم ہونے والی ہے اور عذاب آخرت کا وقت ایک دن آنے والا ہے اور اگر ان سرکشوں کا یہی ڈھنگ رہا تو دنیا میں بھی یہ سرکش اپنی سرکشی کا خمیازہ بھگت لیں گے حاکم ١ ؎ نے اس شان نزول کی حدیث کو صحیح کہا ہے بعد اس کے اپنے رسول کو فرمایا کہ ذرا صبر کرو اور وقت مقررہ کا انتظار کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ بدر کی لڑائی میں الوجہل ‘ نضر بن حارث اور قریش کے سرکشوں پر کچھ آفت آئی اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دو معنی ہیں ایک تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے رو برو لے جاتے ہیں۔ ترمذی ٢ ؎ ابن ماجہ ‘ مسند امام احمد ‘ ابو دائود و نسائی کی حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت براء بن حارث کی حدیث اس باب میں اوپر گزر چکی ہے پچاس ہزار برس کا ذکر جو ان آیتوں میں آیا ہے اس کے بھی دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی۔ جس کا ذکر مسند ٣ ؎ امام احمد وغیرہ کی صحیح روایتوں میں ہے دوسرے معنی یہ ہیں ٤ ؎ کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے روز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنوں کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا کام روز کے روز طے ہوتا ہے تو سرکش لوگوں پر عذاب نازل ہونے کو کیا دیر لگتی ہے۔ فقط وقت مقررہ آنے کی دیر ہے جبکہ سزا و جزا کے لئے پچاس ہزار برس کا ایک دن مقرر ہے تو عذاب آخرت کی جدلی ان سرکشوں کو کیا ہے۔ معارج کے معنی آسمانوں کے ہیں مطلب یہ ہے کہ قدرت سے سات آسمانوں پر سے اس قدر جلدی ہر ایک کام ہوجاتا ہے تو ان عذاب کے چاہنے والوں پر عذاب کے آنے کی کیا دیر لگتی ہے۔ ان کے عذاب کے تو بہت سے سامان خود زمین پر موجود ہیں۔ فرعون اور قارون کا قصہ کیا ان کو یاد نہیں رہا کہ ایک کو دریا میں ڈبویا اور دوسرا زمین میں دھنس گیا۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٨ ج ٤ و تفسیر الدر المنثور ص ٢٦٣ ج ٦۔ ) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٦٣ ج ٦۔ ) (٢ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی عذاب القبر و نعیمہ ص ٧٠١ تا ٧١٥ ج ٤۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٩ ج ٤۔ ) (٤ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٨ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:1) سال سائل : سال ماضی واحد مذکر غائب سؤال (باب فتح) مصدر بمعنی سوال کرنا، دریافت کرنا۔ مانگنا۔ طلب کرنا۔ سائل اسی مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ سوال کرنے والا۔ پوچھنے والا۔ سأل سائل کی پوچھنے والے نے پوچھا۔ بعذاب واقع ب بمعنی عن ہے۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فسئل بہ خبیرا (25:59) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو۔ عذاب واقع موصوف و صفت دونوں مل کر مفعول ثانی سأل کے، مفعول اول محذوف ہے ای سأل اللہ سائل کسی (یا ایک) سوال کرنے والے نے اللہ سے سوال کیا ۔ واقع اسم فاعل صیغہ واحد مذکر وقع باب فتح مصدر سے بمعنی نازل ہونے والا۔ فائدہ : اس سورت کا شان نزول یہ ہے جسے نسائی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ عذاب کا سوال کرنے والا نضر بن حارث ابن کلدہ کافر تھا۔ سورة الحاقۃ سن کر اس سنگدل نے ازراہ تمسخر کرتے تھے۔ ان کے فکر میں قیامت کا آنا ایک امر محال تھا۔ اس لئے انکار کے طور پر سوال کرتے تھے اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی جس میں اس دن کی ہیبت ناک کیفیت اور اس عذاب کا آنا مذکور ہے جو کسی تدبیر سے ٹالے نہیں ٹلے گا۔ سائل نضربن حارث تھا مگر اس ذلیل کا نام نہیں لیا گیا کیونکہ وہ اس قابل نہ تھا۔ یا یہ کہ قرآن میں یہ عادت نہیں کہ معائب میں کسی کا نام لیا جائے۔ (تفسیر حقانی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة المعارج۔ آیات ١ تا ٣٥۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں مومنین کی ارواح بھی مقامات سلوک میں درجہ بدرجہ ان عظمتوں کو پہنچتی ہیں ایسے ہی قیامت کے روز ان بلندیوں پر پہنچیں گے۔ قیامت کے دن کی طوالت۔ قیامت کا روز پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، تو آپ نے فرمایا مومن کے لیے اتنا ہی ہوگا جس قدر فرض نماز کی ادائیگی میں وقت لگتا ہے لہذا ہر ایک کے لیے باعتبار اس کے اعمال کے مختلف محسوس ہوگا لہذا آپ اپنے کام پر ڈتے رہیں یعنی صبر کریں جیسا کہ صبر کرنا چاہیے مراد ہے کہ کفار کی باتوں اور مخالفانہ کوششوں سے مومن کو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حق پر قائم رہے اور نفاذ اسلام کا کام کرتا رہے کہ کفار کہ قیامت یا عذاب کا واقع ہونا ناممکن نظر آتا ہے دور نظر آتا ہے مگر اللہ جانتا ہے کہ یہ یقینی ہے۔ کفر اور کافرانہ نظام کوشکست۔ یہاں یہ بات بطور وعدہ بھی ثابت ہے جب بھی خلوص کے ساتھ نفاذ دین کی کوشش کی جائے گی کفر اور کافرانہ نظام کو یقینا شکست ہوگی قیامت کا روز اس قدر سخت ہوگا کہ آسمان بھی پگھلے ہوئے تانبے کی طرحبہہ جائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑجائیں گے اس روز کافروں کی دوستیاں کام نہ آئیں گی کوئی کسی کونہ پوچھے گا سب کو اپنی فکر لگ جائے گی اور مجرم چاہیں گے کہ اگر اپنے بدلے بیٹا دینا پڑے یا بیوی یا بھائی یاساراخاندان تو سب کو دوزخ میں ڈال کو جان بچالو یعنی جن کی خاطر اللہ سے اور اس کے نظام سے بغاوت کی انہیں کو جان بچانے کے لیے آگ میں جھونکنے پر تیار ہوگا بلکہ روئے زمین کی ہر نعمت بھی دے کر جان چھوت سکے تو چھڑالوں لیکن تب ہرگز ایسا نہ ہوسکے گا دوزخ کی آگ تو ایسی ہے کہ نافرمانوں کو کھینچ لیتی ہے جیسے کلیجے سے پکڑ کر کھینچتی ہو اور اللہ کے نافرمانوں کی تو کھال تک اتار دے گی سب کو پکر پکڑ کر جمع کرے گی۔ تخلیقی اوصاف۔ تخلیقی طو ر پر انسان میں کمزوریاں ہیں اور ان کا سدباب ہے اللہ سے تعلق یعنی نعمت انسان کے لیے ہے ہے اگر اس سے محروم ہوا تو کمزوریوں کا شکار ہوجاتا ہے پھر جب مشکل آئے تو چلاتا ہے اگر راحت ملے تو اللہ کا احسان بھول جاتا ہے سوائے ان اللہ کے بندوں کے جو اللہ سے تعلق عبادت کے ذریعے جوڑتے ہیں اور اس کو ہمیشہ قائم رکھتے ہیں اور عملی زندگی میں مال و دولت کے غلام نہیں ہوتے۔ معیشت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بلکہ معاشی نظام کو اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کرتے ہٰں کہ کسی بھی معاشرے کی بھلائی یا برائی میں معیشت بنیادی حیثیت رکھتی ہے لہذا یہاں معیشت کو مقدم رکھا اور فرمایا کہ ان کے مال میں غریب یعنی محروم اور سوالی کا حق ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ زکوۃ کی مقدار مقرر ہے جس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ لہذا یہ ثابت ہے کہ زکوۃ کی مقدار اور طریقہ مقرر ہے جو اللہ کی طرف سے ہے اس میں کمی بیشی جائز نہیں اور وہ آخرت پر اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں لہذا ان کا کردار وعمل اس کا گواہ ہوتا ہے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہیے۔ بیویوں یالونڈی کے علاوہ شہوت رانی کی تمام صورتیں حرام ہیں مشت زنی پر لعنت کی وعید ہے۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں یا حلال لونڈیوں کے دوسری جگہ شہوت رانی نہیں کرتے اور اگر کوئی کرے وہ حد شرعی سے تجاوز کرنے والا ہوگا۔ اس آیت میں شہوت کی جائز صورت بیوی ، یاشرعی لونڈی کو بیان فرمایا اس کے علاوہ تمام صورتیں حرام ہیں اسمیں نکاح کی وہ صورتیں بھی شامل ہیں جو شرعا درست نہیں جیسے ان عورتوں سے نکاح جن سے شرعا منع ہے یاوقتی شادی جیسے متعہ اور ایک رات کا حلالہ وغیرہ ذالک ، نیز ہاتھ سے شہوت رانی کرنا بھی حرام ہے اور نبی (علیہ السلام) نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے آج کل کے دین بےزار معاشرے میں اس پہ کافی بات ہوتی ہے مگر بات یہ ہے کہ ان محروم لوگوں کے پاس اس کا کوئی بدل نہیں یہ سمجھتے ہیں کہ صرف یہی طریقہ حصول لذت کا ہے لہذا ہر ایک کو حق ہے کہ کسی نہ کسی طرح حظ حاصل کرے جبکہ قران اسی سورت کے شروع میں بتاتا ہے کہ اصل لذت وصال حق ہے اور معرفت و سلوک میں وہ لزت ہے جو دنیا کی کسی شے میں نہیں اگر وہ نعمت حاصل ہو تو اس سے ناجائز طریقے میں بھی لذت کی بجائے کلفت ہوتی ہے لہذا اللہ نے صرف بقائے نسل کے لیے اس کی اجازت بخشی ہے یاپھرلونڈی حلال ہوتوجائز ہے اور اس سے بھی اولاد ہوسکتی ہے تفصیل کے لیے دوسری کتب دیکھی جاسکتی ہیں۔ نظام اسلام۔ اصل بات نظام زندگی کی ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کیا جائے لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ امانتوں پر قائم رہتے ہیں اور وعدے پورے کرتے ہیں اس سے مراد حقوق وفرائض ہیں کہ دوسرے کا حق دوسرے کے پاس امانت ہے کہ وہ اپنا وعدہ یعنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو امانت کا حق ادا ہوتا ہے اور اپنی گواہیوں پہ پورے اترتے ہیں کہ سب سے بڑی گواہی اللہ اور رسول پر ایمان ہے اور اپنی عبادات کی حفاظت کرتے ہیں یعنی اللہ کی اطاعت کا ہر کام عبادت ہے اسے پورے خلوص سے کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کو جنت میں داخلے کی عزت بخشی جائے گی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو بلندو برتر درجات رکھنے والا ہے۔ جس کی قدرت و طاقت اتنی زبردست ہے کہ جب دنیا کے پچاس ہزار سال گزرتے ہیں تو اس کا ایک دن گذرتا ہے لیکن اس کے فرشتے اور جبرئیل امین ایک لمحہ میں اس کی بارگاہ میں پہنچ کر ہر شخص کے تمام انامہ اعمال اللہ تک پہنچاتے ہیں اور اسی طرح اس کے احکامات کو دنیا میں آکر نافذ کرتے ہیں۔ یہی اس کا نظام کائنات ہے ویسے اللہ کا علم کسی ذریعہ کا محتاج نہیں ہے اسے درخت سے گرنے والے ایک ایک پتہ کا بھی علم ہر آن حاصل ہے۔ وہی عالم الغیب و الشھادہ ہے یعنی ہر کھلے چھپے کا اس کو پوری طرح علم ہے۔ یہ آیات اپنے معانی کے لحاظ سے عام ہیں لیکن مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں نضر ابن حارچ ابن کلدہ کی اس بات کا ذکر کیا ہے جو اس نے کہی تھی۔ سورة الانفال آیت نمبر 32 میں اس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” الٰہی ! (یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ کہہ رہے ہیں) اگر وہ حق ہے اور آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادیجئے یا ہم پر درد ناک عذاب کو لے آئیے۔ اسی طرح کا مطالبہ سورة یونس، سورة الانبیائ، سورة النحل، سورة سبا، سورة یسیٰن اور سورة ملک میں بھی کفار کی طرف سے کیا گیا ہے۔ یعنی ہم تو یہ سن سن کر تنگ آچکے ہیں کہ اگر ہم نے اللہ کا حکم نہ مانا تو ہم پر عذاب آجاے گا یا قیامت ٹوٹ پڑے گی وہ کہتے تھے کہ اگر عذاب یا قیامت کو آنا ہے تو اس کو آجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کب آئے گی اس کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے البتہ ان کفار کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب وہ قیامت آئے گی تو اس وقت ان کفارو مشرکین سے عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہ ہوگا۔ قیامت کا دن بڑا ہولناک دن ہوگا آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ بڑے بڑے پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔ پورے نظام کائنات کو توڑ کر درہم برہم کردیا جائے گا۔ اس ان کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ ہر شخص کے عزیز رشتہ دار اور گہرے دوست ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے لیکن ہر ایک کو اپنی اپنی پری ہوگی اور کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ شعلے برساتی جہنم اور عذاب کو دیکھیں گے اور جہنم کی آگ ان کی کھال تک کھینچ لے گی اس وقت یہ کہہ اٹھیں گے الٰہی ! ہمارے بیٹے، بیوی، خاندان اور برادری والے جن کے درمیان ہم رہا کرتے تھے اور وہ مال و دولت جو ہم نے جمع کر کے رکھا ہوا تھا وہ سب کچھ ہم سے لے کر ہمیں اس عذاب سے بچا لیجئے۔ اس وقت ان کی حسرت کی انتہا ہوگی جب ان سے کہا جائے گا کہ آج ہر شخص کو اپنے کئے ہوئے اعمال پر جزا اور سزا دی جائے گی یہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی اس ہولناک عذاب سے نجات دینے والا نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کفار کی باتوں سے پریشان نہ ہوں بلکہ صبرو تحمل اور صبر جمیل ( جس میں کوئی شکوہ شکایت نہ ہو) کا مظاہرہ کیجئے جو آپ کی شایان شان ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس نے سچائیوں سے منہ پھیرا اور پیٹھ کو موڑا ہوگا اس کو ایسا شدید عذاب دیا جائے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ قیامت کے دن کو دور سمجھ رہے ہیں حالانکہ قیامت تو بہت قریب ہے کیونکہ موت کے ساتھ ہی ہر شخص کی قیامت شروع ہوجاتی ہے اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ زیر مطالعہ آیات سے متعلق چند باتیں۔ 1۔ ایک مومن کو ہر حال میں عافیت اور سلامی مانگتے رہنا چاہیے اور اس کی زبان پر یہی دعا ہونی چاہیے الٰہی ! ہمیں دنیا اور آخرت میں عافیت نصیب فرمائیے گا اور ہمیں جہنم کی آ گے سے محفوظ رکھئے گا۔ 2۔ صبر و تحمل اور برداشت سب سے اچھی عادت ہے لیکن ایسا صبر جمیل جس میں کسی سے شکوہ اور شکایت نہ ہو یہ آدمی کی اعلیٰ ترین صفت ہے۔ 3۔ قیامت آدمی سے دور نہیں ہے بلکہ انتہائی قریب ہے کیونکہ موت آتے ہی آدمی کی قیامت شروع ہوجاتی ہے یہ قیامت صغری ہے۔ قیامت کبریٰ وہ ہے جب اس پوری کائنات کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا اور سوائے اللہ کی ذات کے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ 4۔ قیامت کا دن بڑا ہولناک دن ہوگا اس سے ہر وقت پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ وہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جس کو اللہ شفاعت کی اجازت دیں گے وہ بھی اسی شخص کی شفاعت فرمائیں گے جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان موجود ہوگا لیکن جو بعدعات و خرافات میں اپنے ایمان کو ضائع کرچکا ہوگا اس کی شفاعت نہ کی جائے گی اور وہ شفاعت سے محروم رہے گا۔ 5۔ قیامت کے دن آدمی کے وہی مال کام آئے گا جو اس نے دنیا میں حلال طریقے پر جمع کرکے جائز طریقے سے خرچ کیا ہوگ الیکن وہ مال جو اس نے حرام طریقے پر کمایا ہے وہ اس کے لئے جہنم کی آگ بن جائے گا اور وہ اس کے کسی کام نہ آسکے گا۔ اللہ ہم سب کو رزق حلال نصیب فرمائے اور جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ 6۔ قیامت کے دن اللہ و رسول کا نکار کرنیو الوں کے لئے بہت طویل ہوگا۔ ممکن ہے وہ دن ایک ہزار سال کا ہو لیکن قیامت کا دن مومن کے لئے بہت ہلکا اور مختصر ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ قیامت کا طویل ترین دن مومن کے لئے صرف اس قدر ہوگا جتنے وقت میں ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر بھی اس دن کو مختصر اور آسان فرما دے ۔ آمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس سورة میں بھی مثل سورة حاقہ کے مجازاة کا اور بعض اعمال موجبہ مجازاة کا بیان ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : کفار بار بار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو، وہ نازل ہوگا تو اسے ٹالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ المعارج کی ابتدا اس بات سے ہورہی ہے کہ ایک سوال کرنے والے نے سوال ہے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک وارد کیوں نہیں ہوا ؟ ” سَاَلَ سَآءِلٌ“ کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ بظاہر تو یہ الفاظ سوال کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اہل عرب ان الفاظ کو کسی چیز کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس معنٰی میں اس لیے گنجائش ہے کہ اکثر اوقات سائل اپنے سوال میں کسی نہ کسی بات کا مطالبہ ہی کیا کرتا ہے۔ حقیقت میں دونوں مفاہیم کا مقصد ایک ہے کہ کفار نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کے بارے میں ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے وہ اب تک نازل کیوں نہیں ہوا۔ اہل مکہ اس معاملے میں اس قدر بےباک اور دلیر ہوچکے تھے کہ ایک دن انہوں نے کعبۃ اللہ کا غلاف پکڑ کر مطالبہ کیا کہ الٰہی اگر یہ رسول اور قرآن برحق ہے تو پھر ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا ہمیں عذاب الیم میں مبتلا کردے۔ اس مطالبے کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم اس لائق ہو کہ تمہیں تہس نہس کردیا جائے لیکن ہم اس لیے تم پر عذاب نازل نہیں کررہے کیونکہ تم میں رسول کی ذات اور استغفار کرنے والے مسلمان موجود ہیں۔ ( الانفال : ٣٢، ٣٣) لہٰذا اہل مکہ کو بتلایا گیا ہے کہ جب عذاب کا فیصلہ صادر ہوگا تو اس کا انکار اور مطالبہ کرنے والے کسی صورت بھی اسے ٹال نہیں سکیں گے۔ انکار کرنے والے ہر صورت اس میں مبتلا اور گرفتار ہو کر رہیں گے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جب بھی کسی قوم پر عذاب نازل ہوا تو پھر اسے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ قوم نوح، ثمود، عاد، آل فرعون اور دیگر اقوام کا انجام عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے کھلی دلیل ہے جس پر انہیں غور کرنا چاہیے۔ اگلی آیات کے حوالے سے یہاں عذاب کا دوسرا معنٰی قیامت ہے۔ اس لیے کہ عذاب کے ذکر کے بعد متصل قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( اللہ اعلم ! )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس (رض) کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔ بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔ کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔ اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن کافروں کی بدحالی اور بےسروسامانی، ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہو گا یہاں سے سورة ٴ معارج شروع ہو رہی ہے چونکہ اس میں لفظ ذی المعارج وارد ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس لیے سورة ٴ المعارج کے نام سے موسوم ہوئی المعارج معرج کی جمع ہے جس کا معنی ہے چڑھنے کی جگہ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ المعارج سے آسمان مراد ہے چونکہ آسمانوں سے زمین کی طرف اور زمین سے آسمانوں کی طرف فرشتوں کا آنا جانا رہتا ہے اس لیے آسمانوں کو المعارج فرمایا اور خالق تعالیٰ شانہٗ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے آسمان بھی اس کی مخلوق ہیں جہاں سے فرشتوں کا گزر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وصف ذی المعارج ذکر فرمایا۔ مفسرین کرام نے اس سورت کی ابتدائی آیات کا شان نزول یہ ذکر فرمایا ہے کہ نضر بن حارث جو ایک بڑا مشرک اور مکہ معظمہ میں اسلام کا اور مسلمانوں کا بہت زیادہ کٹر دشمن تھا اس نے بارگاہ خداوندی میں یوں دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ دین (جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں) حق ہے (جسے ہم قبول نہیں کر رہے ہیں) تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دیجئے یا ہم پر دردناک عذاب لے آیئے۔ روح المعانی میں امام نسائی سے یہ روایت نقل کی ہے مذکورہ بالا دعا ابو جہل نے کی تھی اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا : ﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ٠٠١ لِّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ٠٠٢ مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِؕ٠٠٣﴾ یعنی ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو معارج یعنی آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے اور ان کا مالک ہے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے بیان فرمانے میں بظاہر یہ نکتہ ہے کہ زمین پر رہنے والے عذاب کا سوال کر رہے ہیں زمین تو ان کے قریب ہی ہے اس میں دھنسائے جاسکتے ہیں اور زلزلہ اور بھونچال کے ذریعے بھی ہلاک کیے جاسکتے ہیں اور آسمان کی جانب سے بھی ان پر عذاب آسکتا ہے انہوں نے جو آسمان سے پتھر برسانے کی دعا کی ہے یہ دعا بعینہ بھی قبول ہوسکتی ہے اور پتھر برس سکتے ہیں۔ جیسے زمین میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ہے اسی طرح وہ آسمانوں اور جو چیزیں ان میں ہیں ان سب کا بادشاہ ہے، یہ تو آیات کا ترجمہ اور سبب نزول بیان ہوا اور نتیجہ اس دعا کا یہ ہوا کہ نضر بن حارث اور ابو جہل دونوں غزوہٴ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مقتول ہوئے اور ان کے ساتھ دوسرے مشرکین بھی مارے گئے جن میں کفر کے بڑے بڑے سرغنہ تھے بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی تعداد ستر تھی اور ستر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ میں لایا گیا خود ان کی بد دعا ان کے حق میں لگ گئی پھر ان قیدیوں میں سے بعض لوگ بعد میں مسلمان بھی ہوگئے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” سال سائل “ للکفرین، واقع سے متعلق ہے۔ ” من اللہ “ دافع سے متعلق ہے یعنی اس عذاب کے اللہ کی طرف سے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں یا واقع سے متعلق ہے۔ ” ذی المعارج “ سیڑھیوں والا مراد آسمان ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ فی یوم، تعرف سے متعلق ہے۔ فرشتے جب اپنے اپنے مخصوص مقامات میں واپس جاتے ہیں، تو ان کو اتنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے جسے طے کرنے کے لیے انسانوں کو پچاس ہزار سال کا عرصہ درکار ہو، لیکن فرشتے اس فاصلے کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں۔ ای عروج الملائکۃ الی المکان الذی ھو محلہم فی وقت کان مقدارہ علی غیرہم لو صعد خمسین الف سنۃ (قرطبی ج 18 ص 281) ۔ الروح سے جبریل امین (علیہ السلام) مراد ہیں (روح) ۔ یہ معاندین اللہ سے عذاب مانگتے ہیں، وہ عذاب جو لا محالہ کافروں پر آنے والا ہے جسے کوئی روکنے والا نہیں، بڑی عظمت و شان والے اللہ کی طرف سے، جس کی جانب فرشتے انسانوں کے حساب سے پچاس ہزار سال کا فاصلہ طے کر کے پہنچتے ہیں۔ یا فی یوم، واقع سے یا، یقع مقدر سے متعلق ہے اور مراد قیامت کا دن ہے یعنی وہ عذاب اس دن میں واقع ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ای یقع العذب بہم فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یعنی یوم القیامۃ (مظہری ج 10 ص 61) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہ بطور تہکم و استہزاء فرمایا کہ اس عظیم الشان بادشاہ سے مانگنے والے نے کیا مانگا ؟ عذاب، جو ان پر آنے ہی والا ہے اس کو مانگیں یا نہ مانگیں۔ واہ ! شاباش ! کیا ایسے شہنشاہ سے ایسی چیزیں مانگی جاتی ہیں ؟

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) ایک درخواست کرنے والے اور مانگنے والے نے ایسا عذاب مانگا اور ایسے عذاب کی درخواست کی جو واقع ہونے والا ہے۔