Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 16
سورة المعارج
نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿۱۶﴾ۚ ۖ
A remover of exteriors.
جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے ۔
نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿۱۶﴾ۚ ۖ
A remover of exteriors.
جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے ۔
Nazza`ah the Shawa! Ibn `Abbas and Mujahid both said, "It is the skin of the head." Al-Hasan Al-Basri and Thabit Al-Bunani both said, "This means respectable parts of the face." Qatadah said, نَزَّاعَةً لِّلشَّوَى (Nazza`ahthe Shawa!) "This means removing his important organs, and the respectable parts of his face, his creation and his limbs." Ad-Dahhak said, "This means it will scrape the flesh and the skin off of the bone until it leaves nothing of it remaining." Ibn Zayd said, "The لِّلشَّوَى Shawa is the marrow of the bones." As for, نَزَّاعَةً Nazza`ah Ibn Zayd said, "It is cutting their bones and transformation of their skins and their form." Concerning Allah's statement, تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّى
16۔ 1 یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔
[١٠] شویٰ بمعنی جسم کے اطراف۔ ہاتھ پاؤں اور وہ اعضاء جن پر زخم لگنے سے موت واقع نہ ہو۔ کہتے ہیں رَمَاہَ فَاَشْوَاہ، یعنی اس نے اسے تیر مارا تو اس کے اطراف پر لگا۔ یعنی کسی ایسے عضو پر نہیں لگا جس پر زخم لگنے سے موت واقع ہوتی۔ یعنی جہنم کی آگ ان کی کھالوں کو کھینچ لے گی۔ کھالیں گل جائیں گی جسم ننگے بےکھال ہوجائیں گے مگر یہ آگ مجرموں کی جان ختم نہیں کرسکے گی۔
نزاعۃ للشوی :” نزاعۃ “ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اتار کھینچنے والی۔ ” الشوی “ ” شواۃ “ کی جم ہے۔ سر اور چہرے کی کھال۔ جمع کا لفظ اس کے اجزا کی وجہ سے لایا گیا ہے۔ مبالغے کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے شعلے کی لپیٹ فوراً ہی سر اور چہرے کی کھال جلا کر اتار کھینچے گی اور یہ بھی کہ وہ کھال بار بار درست ہوتی رہے گی اور آگ کا شعلہ اسے بار بار جلاتا رہے گا، البتہ دل قائم رہے گا تاکہ عذاب کی تکلیف برقرار رہے۔ دیکھیے سورة نسائ (٥٦) ۔
نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰى ١٦ ۚ ۖ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے شوی شَوَيْتُ اللّحم واشْتَوَيْتُهُ. قال تعالی: يَشْوِي الْوُجُوهَ [ الكهف/ 29] ، وقال الشاعر : فَاشْتَوَى ليلة ريح واجتمل والشَّوَى: الأطراف، کالید والرّجل . يقال : رماه فَأَشْوَاهُ ، أي : أصاب شَوَاهُ. قال تعالی: نَزَّاعَةً لِلشَّوى[ المعارج/ 16] ، ومنه قيل للأمر الهيّن : شَوَى «1» ، من حيث إنّ الشَّوَى ليس بمقتل . والشَّاةُ قيل : أصلها شَاهَةٌ بدلالة قولهم : شِيَاهٌ وشُوَيْهَةٌ. ( ش و ی ) شویت اللحم واشتویتہ کے معنی گوشت بھوننا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ يَشْوِي الْوُجُوهَ [ الكهف/ 29] ان کے چہروں کو جھلس دے گا ۔ شاعر نے کہا ( الرمل ) ( 271 ) فاشتوی لیلۃ ریح واجتمل تو اس نے ٹھنڈی رات ( یعنی قحط سالی ) میں گوشت بھونا اور چربی پگھلا کر کھائی ۔ الشوی جسم کے اطراف ہاتھ پاؤں ۔ وہ اعضا جن پر زخم لگنے سے موت واقع نہ ہو محاورہ ہے رماہ فاشواہ اسے تیر مارا تو اس کے اطراف پر لگا یعنی ایسے عضو پر نہیں لگا جس پر زخم لگنے سے انسان مرجاتا ہے قران میں ہے : ۔ نَزَّاعَةً لِلشَّوى[ المعارج/ 16] کھال ادھیڑ ڈالنے والی ۔ اور اسی سے غیر اہم معاملہ کو بھی شوی کہا جاتا ہے کیونکہ شوی مقتل یعنی عضو رئیس نہیں ہوتا ( جس پر زخم لگنے سے انسان مرجائے ) الشاۃ بھیڑ ۔ یہ اصل میں شایۃ ہے کیونکہ اس کی جمع شیاہ اور تصغیر شویھۃ آتی ہے
آیت ١٦{ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ۔ } ” جو کلیجوں کو کھینچ لے گی۔ “ شدت کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا دنیا کی آگ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ سورة الہمزہ میں جہنم کی آگ کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے : { تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ } کہ وہ براہ راست دلوں میں جلن پیدا کرے گی۔ آج کل اس کیفیت کو ultra violet rays کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان شعاعوں کی حرارت کھال کے اندر پہنچ کر اپنا اثر دکھاتی ہے۔
(70:16) نزاعۃ للشوی : ان کی خبرثانی، مصدر کا صیغہ ہے نزع (باب ضرب) مصدر۔ سخت کھینچنے والی۔ ادھیڑ دینے والی۔ نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں قرآن مجید میں ہے تنزع الناس کانھم اعجاز نخل منقعرہ (54:20) وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑے ڈالتی تھی گو یا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ اسی مادہ ن ز ع سے تنازع (تفاعل) باہم خصومت کرنا۔ باہم ایک دوسرے کو کھینچنا کے ہیں۔ شوی کے مختلف معانی ہیں :۔ کلیجہ، منہ کی کھال، سر کی کھال، اطراف بدن (یعنی بدن کے وہ حصے جن پر ضرب لگنے سے موت واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ہاتھ ، پاؤں) وغیرہ۔ شوی ، شواۃ کی جمع ہے جیسے نوی نواۃ کی جمع ہے۔ اس کے مختلف معانی کے لحاظ سے علماء نے اس کے مختلف معانی کئے ہیں۔ (1) سر کی کھال اتار دینے والی۔ (مجاہد) (2) دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کو اکھاڑ کر جدا کردینے والی۔۔ (3) ہڈیوں سے گوشت اتار دینے والی۔ (ابراہیم بن مہاجر) (4) پٹھوں کو کھینچ لینے والی ۔ (ابن عباس (رض) ) (5) انسان کے گوشت اور پست کو ہڈیوں سے ادھیڑ لینے والی۔ وغیرہ۔