Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 19
سورة المعارج
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾
Indeed, mankind was created anxious:
بیشک انسان بڑے کچے دل والا بنایا گیا ہے ۔
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾
Indeed, mankind was created anxious:
بیشک انسان بڑے کچے دل والا بنایا گیا ہے ۔
Man is Impatient. Allah informs about man and his inclination to corrupt his behavior. Allah says, إِنَّ الاِْنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا Verily, man was created very impatient; Then, Allah explains this statement by saying, إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا
انسان بےصبرا ، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے ، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے ، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی ، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے ( ابو داؤد ) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے ، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ۔ جیسے فرمایا آیت ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ Ǻۙ ) 23- المؤمنون:1 ) ، ان ایمان داروں نے نجات پالی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ، ٹھہرے ہوئے بےحرکت کے پانی کو بھی عرب ماء دائم کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے ، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت میں جائے گو کم ہو ، خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے ، حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ حضرت دانیال پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بےبرکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا ، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے ، پھر فرماتا ہے ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورہ ذاریات میں گذر چکی ہے ۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں ، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں ، جس عذاب سے کوئی عقل مند انسان بےخوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں ، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کرلے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے ، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ Ǻۙ ) 23- المؤمنون:1 ) میں گذر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں ، نہ خیانت کریں نہ بد عہدی اور وعدہ شکنی کریں ۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے ، جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے ، جب کبھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں ، جو چھپالے وہ گنہگار دل والا ہے ۔ پھر فرمایا وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں ، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے ۔ سورہ ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ Ǻۙ ) 23- المؤمنون:1 ) میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وارث فردوس ہیں اور یہاں فرمایا یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ۔
19۔ 1 سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔
[١٢] ھلوعا کا لغوی مفہوم :۔ ھَلُوْعًا بمعنی بےقرار، بےثبات، ایک حالت پر قائم نہ رہنے والا۔ حالات کی تبدیلی کا فوراً اثر قبول کرلینے والا۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسا ہی پیدا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ایک عام دنیا دار انسان یا انسانوں کی اکثریت کی ہے۔ اور جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں ان کے دل کی یہ کیفیت نہیں رہتی ان کے دل میں صبر و سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہوجاتا ہے۔
ان الانسان خلق ھلوعا…: یعنی انسان میں پیدائشی طو ر پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑولا ہے، بےصبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہل ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(عجباً لامر المومن ان امرۃ کلہ خیر ولیس ذاک لاحد الا للمومن ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرالہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرلہ ) (مسلم، الزھد ، باب المومن امرہ کلہ خیر : ٢٩٩٩)” مومن کا معاملہ عیجب ہے کہ اس کے سب کام ہی (اس کے لئے) خیر ہیں اور مومن کے علاوہ یہ چیز کسی کو حاصل نہیں، (اس طرح کہ) اسے کوئی خوش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لئے خیر ہوتی ہے اور اگر تکلیف پہنتچی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ (بھی) اس کے لئے خیر ہوتی ہے۔ “ مگر اس کے لئے کوشش یقینا کرنا پ ڑتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ومن یستعف یعفہ اللہ ومن یستغن یعنہ اللہ ومن یصبر یصبرہ اللہ) (مسلم، الزکاۃ باب فضل العفف والصبر…: ١٠٥٣)” جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے بچا لے گا، جو اللہ سے غنا مانگے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔ “
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا (Indeed man is created weak in courage...70:19). The halu`, literally, means &one who is greedy, impatient, lacking courage&. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that the word halu& in the verse refers to a &person who is greedy about unlawful wealth&. Sayyidna Said Ibn Jubair (رض) says that the word refers to a &miserly person&. Muqatil says that it refers to a &person who is impatient and miserly&. All meanings attached assigned to this word are near-synonyms. The word halu& comprehends all these meanings. The verses that follow elaborate on the meaning of this word. In the meantime a doubt might arise here which needs to be disposed of. If it is objected that, according to this verse of the Holy Qur&an, man is created weak in courage, in other words, it is man&s nature or his natural weakness, to be impatient, greedy and miserly - then it is not his fault, and why is he declared &guilty&? This doubt may be allayed thus: Allah has created human nature such that it has the innate capacity to do good as well as evil. He has endowed him with intellect and intelligence. He has raised His Prophets with His Message and sent down His Books clearly stating the consequences of every action chosen by his free will. He has the right to choose between good and bad. Man, in this sense, will be declared &guilty&, and consequently punished on account of freely choosing to do the wrong deed, not on account of his inborn capacity. This interpretation is confirmed by the following verses that speak only of actions of choice.
(آیت) اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا، ہلوع کے لفظی معنی حریص بےصبر کم ہمت آدمی کے ہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت میں ہلوع سے مراد وہ شخص ہے جو مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو اور حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ اس سے مراد بخیل آدمی ہے اور مقاتل نے فرمایا کہ تنگدل بےصبر آدمی مراد ہے اور یہ سب معانی متقارب ہیں۔ ہلوع کے مفہوم میں سب داخل ہیں، اس ہلوع کی تشریح خود قرآن کے الفاظ میں آ رہی ہے۔ یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب اس کو پیدا ہی اس حال میں کیا ہے اور یہ عیب اس کی تخلیق میں رکھے ہیں تو پھر اس کا کیا قصور ہوا وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے سو اس میں حق تعالیٰ نے ہر خیر و صلاح کا مادہ اور استعداد بھی کھی ہے اور شر و فساد کی بھی۔ اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمایا اور اپنیک تابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کام کا انجام بھی بتلادیا تو اپنے اختیار سے مادہ شر و فساد کی پرورش کی اپنے اختیاری اعمال کو اس رخ پر ڈال دیا تو وہ مجرم ان اختیاری اعمال کی وجہ سے قرار پایا جو مادہ اس کی پیدائش میں ودیعت رکھا گیا تھا اس کی وجہ سے اس کو مجرم نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آگے ہلوع کے معنی کی تشریح خود قرآن کریم نے کی ہے ان میں صرف افعال اختیار یہ کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہیں۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا ١٩ ۙ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے هلع : الهَلَعُ : الحِرْصُ ، وَقِيلَ : الجَزَعُ وقِلّةُ الصبرِ ، وَقِيلَ : هُوَ أَسْوأُ الجَزَعِ وأَفْحَشُه، هَلِعَ يَهْلَعُ هَلَعاً وهُلوعاً ، فَهُوَ هَلِعٌ وهَلُوعٌ؛ وَمِنْهُ قَوْلُ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ لِشَبَّةَ بْنِ عَقَّالٍ حِينَ أَراد أَن يقبِّل يَدَهُ : مَهْلًا يَا شبَّةُ فإِن الْعَرَبَ لَا تَفْعَلُ هَذَا إِلا هُلُوعاً وإِن العَجَم لَمْ تَفْعَلْهُ إِلا خُضوعاً. والهِلاعُ والهُلاعُ : كالهُلُوعِ. ورجلٌ هَلِعٌ وهالِعٌ وهَلُوعٌ وهِلْواعٌ وهِلْواعةٌ: جَزُوعٌ حرِيصٌ. والهَلَعُ : الحُزْنُ ، تمیميَّة . والهَلِعُ : الحَزِينُ. وشُحٌّ هالِعٌ: مُحْزِنٌ. وَفِي التَّنْزِيلِ : إِنَّ الْإِنْسانَ خُلِقَ هَلُوعاً؛ قَالَ مَعْمَرٌ وَالْحَسَنُ : هُوَ الشَّرِهُ ، وَقَالَ الْفَرَّاءُ : الهَلُوعُ الضَّجُورُ ، وَصِفَتُهُ كَمَا قَالَ تَعَالَى: إِذا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً وَإِذا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعاً ، فَهَذِهِ صِفَتُهُ. والهَلُوعُ : الَّذِي يَفْزَعُ ويَجْزَعُ مِنَ الشَّرِّ. قَالَ ابْنُ بَرِّيٍّ : قَالَ أَبو الْعَبَّاسِ الْمُبَرِّدُ : رجلٌ هَلُوعٌ إِذا كَانَ لَا يَصْبِرُ عَلَى خَيْرٍ وَلَا شَرٍّ حَتَّى يَفْعَلَ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا غَيْرُ الْحَقِّ ، وأَورد الْآيَةَ وَقَالَ بَعْدَهَا : قَالَ الشَّاعِرُ : وَلِي قَلْبٌ سَقِيمٌ لَيْسَ يَصْحُو، ... ونَفْسٌ مَا تُفِيقُ مِنَ الهُلاعِ وَفِي الْحَدِيثِ : مِنْ شَرِّ مَا أُعْطِيَ المَرءُ شُحٌّ هالِعٌ وجُبْنٌ خالِعٌ أَي يَجْزَعُ فِيهِ العبدُ ويَحْزَنُ كَمَا يُقَالُ : يومٌ عاصِفٌ ولَيْلٌ نائِمٌ ، وَيَحْتَمِلُ أَيضاً أَن يَقُولَ هالِعٌ لِلِازْدِوَاجِ مَعَ خالِع، والخالِعُ : الَّذِي كأَنه يَخْلَعُ فُؤادَه لشِدَّتِه . وهَلِعَ هَلَعاً : جاعَ. والهَلَعُ والهُلاعُ والهَلَعانُ : الجُبْنُ عِنْدَ اللِّقاءِ. وَحَكَى يَعْقُوبُ : رِجْلٌ هُلَعةٌ مِثْلُ هُمَزةٍ إِذا كَانَ يَهْلَعُ ويَجْزَعُ ويَسْتَجِيعُ سَرِيعاً. وَفِي تَرْجَمَةِ هَرع قَالَ أَبو عَمْرٍو : الهَيْرَعُ والهَيْلَعُ الضَّعِيفُ. ابْنُ الأَعرابي : الهَوْلَعُ الجَزِعُ. وذئبٌ هَلَعٌ بُلَعٌ؛ الهُلَعُ مِنَ الحِرْصِ أَي الحَرِيصُ عَلَى الشَّيْءِ ، والبُلَعُ مِنَ الابْتِلاعِ. وَرَجُلٌ هَمَلَّعٌ وهَوَلَّعٌ: وَهُوَ مِنَ السرْعةِ. وَنَاقَةٌ هِلْواعٌ وهِلْواعةٌ: سَرِيعةٌ شَهْمةُ الفُؤادِ تخافُ السَّوْط . ( لسان العرب)
آیت ١٩{ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا ۔ } ” یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔ “ یہ انسان کی فطری اور جبلی کمزوری ہے کہ وہ تھڑدلا اور بےصبرا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی کئی اور کمزوریوں کا ذکر بھی آیا ہے ‘ مثلاً : { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا ۔ } (النساء) کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورة الاحزاب کی آیت ٧٢ میں انسان کو ظَلُوْمًا جَھُوْلًا قرار دیا گیا ہے ‘ جبکہ سورة الانبیاء کی آیت ٣٧ میں انسان کی طبعی عجلت پسندی کا ذکر آیا ہے : { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍط } ۔ ظاہر ہے ایک انسان جسم اور روح سے مرکب ہے ۔ انسان کے جسم کا تعلق عالم خلق سے ہے ‘ جبکہ انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے : { وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ } (بنی اسراء یل : ٨٥) ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔ آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے “۔ چناچہ مذکورہ سب کمزوریوں کا تعلق انسان کی جسمانی خلقت سے ہے۔ جہاں تک انسانی وجود کے اصل حصے یعنی اس کی روح کا تعلق ہے ‘ بنیادی طور پر اس کا مقام بہت بلند ہے اور اس میں ایسی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ انسان کی تخلیق کے اس پہلو کا ذکر سورة التین کی اس آیت میں آیا ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ } ” بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا “۔ لیکن افسوس کہ ہم انسانوں کی اکثریت اپنی روح سے بیگانہ ہوچکی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ اللہ کی یاد سے غفلت ہے۔ جو انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر اسے خود اپنی ذات (روح) سے غافل کردیتا ہے۔ سورة الحشر کی آیت ١٩ میں اہل ایمان کو اس حوالے سے یوں متنبہ کیا گیا ہے : { وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْط } ” (اے مسلمانو دیکھنا ! ) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔ “
13 "Man has been created impatient": It is man's nature, or his natural weakness, to be impatient. Here, one should keep in view that at many places in the Qur'an, after making mention of mankind's common moral weaknesses, those who believe and adopted righteousness have been made an exception; the same theme is being expressed in the following verses. This by itself explains the truth that these hereditary weaknesses are not unalterable; if man accepts the guidance sent down by God and tries to reform himself practically, he can remove them, and if he gives a free rope to his self these become ingrained in him deeply. (For further explanation, see E.N. 41 of Al-Anbiya', E.N.'s 23-28 of Az-Zumar, E.N. 75 of Ash-Shura) .
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :13 جس بات کو ہم اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ یہ بات انسان کی سرشت میں ہے ۔ یا یہ انسان کی فطری کمزوری ہے ۔ اسی کو اللہ تعالی اس طرح بیان فرماتا ہے کہ انسان ایسا پیدا کیا گیا ہے ۔ اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں بکثرت مواقع پر نوع انسانی کی عام اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے والے اور راہ راست اختیار کر لینے والے لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے ، اور یہی مضمون آگے کی آیات میں بھی آ رہا ہے ۔ اس سے یہ حقیقت خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابل تغیر و تبدل نہیں ہیں ، بلکہ انسان اگر خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کے لیے عملاً کوشش کرے تو وہ ان کو دور کر سکتا ہے ، اور اگر وہ نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دے تو یہ اس کے اندر راسخ ہو جاتی ہیں ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، الانبیاء حاشیہ 41 ۔ جلد چہارم ، الزمر حواشی 23 ۔ 28 ۔ الشوریٰ ، حاشیہ 75 ) ۔
١٩۔ ٣٥۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں محتاجوں کا بھی حصہ ہے۔ ان آیتوں اور صحیح حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو جس طرح کافروں اور ایمان داروں کی نشانیوں کا مقابلہ ان آیتوں میں ہے اسی طرح منافقوں اور ایمان داروں کی نشانیوں کا مقابلہ بھی ہے مثلاً ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ایمان دار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد کو نباہتے ہیں اور حدیث ١ ؎ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہد و پیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ ایمان دار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں حدیث شریف میں فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے۔ ان مکی آیتوں میں اور سورة مزمل وغیرہ کی مکی آیتوں میں جو زکوٰۃ کا ذکر ہے اس سے ان علماء مفسرین کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ ہجرت سے پہلے مکہ میں فرض ہوئی ہے اور اس کے وصول کرنے کا عمل ہجرت کے بعد مدینہ میں جاری ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایمان دار لوگوں کی نماز کی دو نشانیاں ذکر فرمائی ہیں ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ دوسری نشانی یہ کہ نماز کے وقت کا اور رکوع سجدہ کا لحاظ رکھتے ہیں وقت کو ٹال کر نماز نہیں پڑھتے اور نماز میں ایسی جلدی نہیں کرتے جس سے رکوع سجدہ پورا ادا نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی نماز میں یہ دو نشانیاں نہ ہوں ان کا ایمان اور ان کی نماز دونوں ادھوری ہیں اسی واسطے آخری وقت پر جلدی جلدی ایک شخص کو عصر کی نماز پڑھتے دیکھ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے۔ یہ قصہ صحیحین ٢ ؎ کی روایت میں ہے اسی طرح گنڈے وار نماز پڑھنے والوں کو ابوہریرہ کی صحیح ٣ ؎ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق قرار دے کر یہ فرمایا کہ عشاء اور فجر کی نماز منافقوں کو بھاری معلوم ہوتی ہے کہ یہ دونوں وقت راحت و آرام کے ہیں۔ اس راحت اور آرام کو چھوڑ کر یہ لوگ ان دونوں نمازوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ ھلوع کے معنی حرص کے ہیں۔ تفسیر اس کی وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے بعد فرمائی۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب علامۃ المنافق ص ١٠ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب استحباب التبکیر بالعصر ص ٢٣٥ ج ١۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب فضل صلوٰۃ العشآء فی الجماعۃ ص ٩٠ ج ١۔ )
(70:19) ہلوعا : ہلع (باب سمع) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ علماء تفسیر نے اس نے کئی معانی لئے ہیں۔ بہت بےصبرا۔ تھوڑدلا۔ ناجائز چیز کی حرص کرنے والا۔ سخت کنجوس۔ تنگ دل ۔ عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے ہلوعا کا مطلب پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا : ھو کما قال اللہ تعالیٰ ۔ اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا۔ آیات 2021 سورة ہذا۔ اس کا مطلب وہی ہے جو ان آیات کا ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ بہرحال انسان پیدائشی طور پر صفت ہلع کے ساتھ متصف ہے۔ اگر بالفعل متصف کہا جائے گا تو یہ آیت حال مودرہ ہوگی۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ آدمی کے اندر خصلت ھلع پیدا کی گئی ہے جو اس خصلت کا سرچشمہ ہے تو اس صورت میں یہ آیت حال محققہ ہوگی۔ بہرحال کلام سابق کی علت اس آیت میں بیان کی گئی ہے ! (تفسیر مظہری)
لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ بخل اور کنجوسی کرنے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بلند تر اور عزت دار سمجھے لگتا ہے۔ لیکن فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنی فطری کمزورویوں پر قابو پا لیتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرتے ہیں وہ بدحالی اور خوشحالی ہر دور میں ہمت و جرأت اور سخاوت کا پیکرہوتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں ؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ 1۔ جو لوگ نمازوں کا اہتمام اور پابندی کرتے ہیں۔ 2۔ وہ لوگ جو اپنی ضروریات کے باوجود ان لوگوں کا خیال رکھتے ہیں جو ان سے کوئی مدد مانگتے ہیں اور وہ ان لوگوں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں جو اپنی سفید پوشی اور شرم کی وجہ سے تنگی اور بدحالی کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ہمت نہیں کرتے۔ یہ ان کی ہر طرح مدد کرتے ہیں۔ 3۔ وہ لوگ جو قیامت کے دن کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک نئی دنیا بنائی جائے گی پھر اولین و آخرین کے تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے کر جنت یا جہنم میں پہنچایا جائے گا۔ 4۔ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوں گے کیونکہ ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔ 5۔ وہ لوگ جو اپنی بیویوں اور باندیوں کے سوا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی بدکاری کے کسی راستے پر نہیں چلتے بلکہ اللہ ورسول کے احکامات کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ 6۔ وہ لوگ جو امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ امانتیں جو ان کے سپرد کی جاتی ہیں ان کو وہ پوری طرح ادا کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ (بیہقی) ۔ 7۔ اپنے ہر اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ سے یا بندوں سے کئے ہیں۔ اس کے متعلق بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو شخص عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (بیہقی) ۔ 8۔ و ہ لوگ جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک طور پر ادا کرتے ہیں یعنی وہ سچی گواہی دیتے وقت اپنے یا غیر، چھوٹے یا برے کا لحاظ نہیں کرتے بلکہ جو سچی گواہی ہے وہ پیش کرتے ہیں۔ 9۔ وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی جسم و لباس اور جگہ کی پاکیزگی، وضو کا اہتمام اور فرض، واجب، سنت اور مستحب باتوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں میں یہ مذکورہ صفات ہوں گے وہ اپنی فطری کمزوریوں کے باوجود کامیاب و بامراد ہوں گے اور جنتوں میں عزت و احترام کے ساتھ داخل کئے جائیں گے۔
8۔ کم ہمتی سے مراد طبعی کم ہمتی نہیں ہے بلکہ کم ہمتی کے آثار ذمیمہ اختیار مراد ہین۔
فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اے انسان ! آج معمولی تکلیف پر تو چونک اٹھتا ہے۔ غور کر ! کہ تو جہنم کی آگ اور اس کی سختیوں کو کس طرح برداشت کرے گا ؟ پچھلی آیت میں مال جمع کرنے کا نقصان بتلایا گیا ہے، یہاں فرمایا ہے کہ جب انسان کو مال ملتا ہے تو اسے خرچ کرنے کی بجائے بخل کرتا ہے۔ یاد رہے ! جہاں مال کے فائدے ہیں وہاں اس کا یہ نقصان ہے کہ جوں جوں مال جمع ہوتا ہے توں توں انسان طبعی طور پر اتنا ہی حریص اور بخیل ہوتا جاتا ہے بالخصوص جو شخص حرام ذرائع سے مال جمع کرتا ہے اس میں دوسروں کی نسبت بخل زیادہ پایا جاتا ہے۔ جلد بازی اور بخل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نماز کو اس کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے ادا کیا جائے۔ جو شخص اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرتا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے۔ اسے طبیعت کی جلد بازی پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ جو حلال ذرائع سے مال کماتا ہے اس میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ میرے رب نے میرے مال میں سائل اور غریب کا ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے جو ہر صورت مجھے ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اگر میں نے یہ کام نہ کیے تو قیامت کے دن مجھے سزا ہوگی۔ اس لیے وہ جہنم کے عذاب سے ڈرتا ہے، اس کا ایمان ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) (رواہ مسلم : کتاب الطھارۃ، باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ۔۔ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ “ ) (رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر) ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے اور یہ دعا کرتے کہ اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ انسان طبعی طور پر جلد باز واقع ہوا ہے جس وجہ سے معمولی تکلیف پر گھبرا اٹھتا ہے۔ ٢۔ انسان کو مال حاصل ہو تو اس میں بخل پیدا ہوجاتا ہے۔ ٣۔ نماز کو ہمیشہ اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنے والا اپنی جلد بازی پر قابو پا لیتا ہے۔ ٤۔ جس کا قیامت پر حقیقی ایمان ہے وہ اپنے مال میں سائل اور غریب کا حق سمجھتا ہے۔ ٥۔ اللہ کے بندے اپنے رب کے عذاب سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں۔ ٦۔ رب کے عذاب سے کسی صورت بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔
” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (١٢) (٠٧ : ٩١ تا ١٢) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
انسان کا ایک خاص مزاج، گھبراہٹ اور کنجوسی، نیک بندوں کی صفات اور ان کا اکرام و انعام آیات بالا میں انسان کی بعض صفات رذیلہ اور بہت سی صفات جمیلہ بیان فرمائی ہیں اس سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ دوزخ انہیں بلائے گی جنہوں نے رو گردانی کی پشت پھیری اور مال جمع کیا اور اٹھا اٹھا کر رکھا اور ان آیات میں سے پہلی اور دوسری اور تیسری آیت میں انسان کا ایک خاص مزاج بتایا ہے ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ٠٠١٩﴾ (بلاشبہ انسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہا : الھلع سرعة الجزع یعنی جلدی سے گھبراہٹ میں پڑجانے کو ھلع کہا جاتا ہے یہ لفظ ناقة ھلوع سے لیا گیا ہے جو اونٹنی سریع السیر ہو تیز چلنے والی ہو اس کے لیے ناقۃ ھلوع بولا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا ﴿اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ٠٠٢٠ وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًاۙ٠٠٢١﴾ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ان دونوں آیتوں میں ھلوع کا معنی بیان فرمایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کے ھلوع ہونے کا زیادہ مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت زیادہ گھبراہٹ میں پڑجاتا ہے خوب جزع فزع کرتا ہے اور ہائے ہائے کرنے بیٹھ جاتا ہے (اسی کو ” كم ہمتی، ، سے تعبیر کیا گیا ہے) اور جب مال مل جاتا ہے تو اسے خرچ کرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ جب مال دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات میں اور مقرر کردہ حقوق میں خرچ نہیں کرتا۔ ضرورت مندوں کی حاجتیں رکی رہتی ہیں لیکن مال کو بھیج کر رکھے رہتا ہے اس کا دل چاہتا ہے کہ تجوری بھری رہے بینک بیلنس بڑھتا رہے اس میں اور ملالوں لیکن جو موجود ہے اس میں سے خرچ نہ کروں یہ جانتے ہوئے کہ نہ میں ہمیشہ رہوں گا نہ مال ہمیشہ رہے گا نہ مال ساتھ جائے گا پھر بھی مال کو دبائے بیٹھا رہتا ہے یہی خرچ نہ کرنے کا جذبہ بخل اور کنجوسی کہلاتا ہے بخل کی صفت انسان کو نیک کاموں میں آگے نہیں بڑھنے دیتی اور صدقات اور خیرات کے کاموں سے روکتی ہے بخیل آدمی جب خرچ کرنے لگتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی جان نکل جائے گی۔ اسی کو حدیث شریف میں فرمایا : شرما فی الرجل شح ھالح وجبن خالع (بلاشبہ انسان میں جو سب سے بری خصلت ہے وہ کنجوسی ہے جو گھبراہٹ میں ڈال دیتی ہے اور وہ بزدلی ہے جو جان نکال دینے والی ہے) ۔ (رواہ ابو داؤد كما فی المشکوٰۃ صفحہ ١٦٥) اس کے بعد ان حضرات کی صفات بیان فرمائی جو صفت ھلوع سے بچے ہوئے ہیں۔
6:۔ ” ان الانسان “ یہ زجر ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ کافر کا دل نہایت کمزور اور ضعیف ہوتا ہے۔ خیر و شر میں آپے سے باہر ہوجاتا ہے جنانچہ جب اس کا حال برا ہو تو بری طرح جزع فزع کرتا اور ناامید ہوجاتا ہے اور جب خوشحال ہو تو اتراتا ہے اور کار خیر میں خرچ نہیں کرتا۔ پچھلی دونوں آیتیں پہلی آیت کی تفسیر ہیں (ان الانسان خلق ھلوعا) ثم فسرہ بقولہ (اذا مسہ الشر جزوعا) ای اذا اصابہ الضر فزع وجزع وانخلع قلبہ من شدۃ الرعب وایس ان یحصل لہ بعد ذلک خیر (واذا مسہ الخیر منوعا) ای اذا حصلت لہ نعمۃ من اللہ بخل بھا علی غیرہ و منع حق اللہ تعالیٰ فیہا (ابن کثیر ج 4 ص 421) ۔