Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 36

سورة المعارج

فَمَالِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہۡطِعِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾

So what is [the matter] with those who disbelieve, hastening [from] before you, [O Muhammad],

پس کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ تیری طرف دوڑتے آتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Rebuke of the Disbelievers and the Threat against Them Allah rebukes the disbelievers who, in the time of the Prophet, saw him and the guidance Allah sent him with. They witnessed the magnificent miracles Allah aided him with. Then, after all of this they fled from him and separated themselves from him. They fled right and left, group by group and party by party. This is as Allah says, فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ Then what is wrong with them that they run away from admonition As if they were (frightened) wild donkeys. Fleeing from a beast of prey. (74:49-51) This is the example of disbeliever. And this Ayah is similar. As Allah says, فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ So what is the matter with those disbelievers, before you Muhti`in? meaning, `what is wrong with these disbelievers who are with you, O Muhammad. Why are they Muhti`in, meaning hastily running away from you' This is as Al-Hasan Al-Basri said, "Muhti`in means departing." عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ

مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے ، جیسے اور جگہ آیت ( فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49؀ۙ ) 74- المدثر:49 ) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں ، حضرت ابن عباس سے بروایت عوفی مروی ہے کہ وہ ٹولیاں ہو کر بےپرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں ، حضرت حسن فرماتے ہیں یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے ، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟ ( احمد ) ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے ، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ جس نے تمہیں ضعیف پائی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت ( اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20؀ۙ ) 77- المرسلات:20 ) کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ فرمان ہے آیت ( فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ Ĉ۝ۭ ) 86- الطارق:5 ) ، انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے ، یقینا وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ، پس یہاں بھی فرماتا ہے مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقینا ہونے والی چیزیں ہیں ۔ اسی لئے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے ، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات ، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی جیسے اور جگہ ہے آیت ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀ ) 40-غافر:57 ) یعنی آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀ ) 46- الأحقاف:33 ) یعنی کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ، اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81؀ ) 36-يس:81 ) ، یعنی کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے ، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ، یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ آپ ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ Ǽ۝ۭ ) 75- القيامة:3 ) ، کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے اور فرما آیت ( نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ 60۝ۙ ) 56- الواقعة:60 ) ، ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ، پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے ، دوسرا مطلب امام ابن جریر نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت ( وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 16؀ ) 48- الفتح:16 ) یعنی اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے جھٹلانے ، کفر کرنے ، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے ، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لئے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم ، تھان اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں ، مارے شرم و ندامت کے نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی اور چہروں پر پھٹکار برس رہی ہو گی ، یہ ہے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے سرکشی کرنے کا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے کو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، شریعت اور کلام الٰہی کی حقارت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیامت کیوں قائم نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ الحمد اللہ سورہ معارج کی تفسیر ختم ہوئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فمال الذین کفروا …:” مھطعین “” اھطع یھطع “ (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ ” عزین “ جمع ہے ” عزۃ “ کی، جو اصل میں د ’ عزوۃ “ یا ” عزھۃ “ تھا، ٹولیاں ، گروہ ۔ کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مذاق کرنے کے لئے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دڑوے چلے آتے ، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لئے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے کی طمع رکھتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! ہم نے انہیں جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے وہ خود بھی جاتنے ہیں، حقیر قطرے سے پیدا ہونے والے انسان کو یہ تکبر بھلا زیب دیتا ہے ؟ اس مضمون کے لئے دیکھیے سورة مرسلات (٢٠ تا ٢٣) اور سورة طارق (٥ تا ٧) ۔ ان آیات سے تین باتیں مقصود ہیں، ایک انسان کو تکبر سے باز رکھنا اوری ہ یاد دلانا کہ تم منی جیسی حقیر چیز سے پیدا ہو کر اتنے بڑے بن رہے ہو کہ جنت میں داخل ہونے کو اپنا حق سمجھ رہے ہو، حالانکہ جنت کے قابل تو رسول کی اطاعت سے ہوگے جس پر ٹولاں ی بنا کر حملہ آور ہو رہے ہو۔ دوسری کفار کے اس طمع کا رد کہ وہ جنت میں جائیں گے، گویا بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے تمہیں بھی اس چیز سے پیدا کیا جس سے دوسروں کو پیدا کیا ہے، جب سب کی پیدائش ایک جیسی ہے تو تم عمل کے بغیر جنت میں دناخل ہونے کے امیدوار کیسے بن گئے ؟ تیسری بات دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل پیش کرنا ہے کہ جب ہم نے اس حقیر پانی سے تمہیں بنا لیا تو دوبارہ بنانا کون سا مشکل کام ہے ؟ جیسے فرمایا :(الم یک نطفۃ من منی یمنی) (القیامۃ : ٣٨) ” کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُہْطِعِيْنَ۝ ٣٦ ۙ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ هطع هَطَعَ الرجل ببصره : إذا صوّبه، وبعیر مُهْطِعٌ:إذا صوّب عنقه . قال تعالی: مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُؤُسِهِمْ لا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ [إبراهيم/ 43] ، مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ [ القمر/ 8] . ( ھ ط ع ) ھطع الرجل ببصرہ کے معنی ہیں اس نے نظر جماکر دیکھا اور گردن اٹھا کر چلنے والے اونٹ کو بعیر مھطع کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُؤُسِهِمْ لا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ [إبراهيم/ 43] ( اور لوگ ) سر اٹھائے ہوئے ( میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ۔ ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی ۔ مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ [ القمر/ 8] اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦۔ ٣٧) تو ان کفار مکہ کو کیا ہوا کہ مذاق اور جھٹلانے کے لیے کہ جماعتیں بن کر آپ کی طرف دوڑ کر آتے ہیں اور آپ کو دور ہی سے دیکھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٦۔ ٤٤۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل غلط ہے آدمی تو ایک ایسی ناچیز شے پیدا ہوا ہے کہ اصل پیدائش کی رو سے اس کی کچھ قدر و منزلت نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کے پیچھے اپنی فرمانبرداری جو لگائی ہے اس کے پورے طور پر ادا ہوجانے کی حالت میں انسان قابل قدر و منزلت کے ہوسکتا ہے۔ قرآن کی جن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فرمانبرداری کی شکلیں اور شرطیں بیان کی ہیں۔ ان آیتوں کے سننے سے تو یہ لوگ وحشیوں کی طرح بھاگتے ہیں اور اس پر دعویٰ یہ کہ اللہ کی جنت میں یہ زبردستی گھس جائیں گے اس سے بڑھ کر اور کیا نادانی ہوگی۔ پھر قسم کھا کر فرمایا کہ قدرت سے یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنا دین پھیلانے کے لئے ان لوگوں سے بہتر لوگ بدل دے۔ اللہ سچا ہے ہجرت کے بعد اس کا ظہور ہوگیا کہ انصار لوگ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت میں دے دیئے جن کی مدد سے اللہ کا دین بہت جلد پھیل گیا۔ پھر فرمایا کہ ان اہل مکہ کو مسخرا پن کی باتیں بنانے کی حالت میں چھوڑ دیا جائے تاکہ ان میں سے جو بغیر فرمانبرداری بجا لانے کے مرگئے ان کا پھر زندہ ہو کر اللہ کی جنت میں زبردستی گھس جانا تو درکنار بلکہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں بتوں کے تھان کی طرف دوڑتے ہیں اسی طرح حشر کے دن قبروں سے اٹھ حساب و کتاب اور اس بت پرستی کا خمیازہ بھگتنے کے لئے آگے پیچھے میدان محشر کا طرف دوڑیں گے اور بت پرستی کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جو کچھ ہوگا اس کا ذکر شروع سورة میں گزر چکا ہے کہ ایک گناہ گار اپنے سارے رشتہ داروں اور تمام دنیا کے مال و متاع کو معاوضہ میں دے کر عذاب آخرت سے چھٹکارا چاہے گا تو بھی چھٹکارا ہرگز نہ ہوگا۔ اور عذاب آخرت میں جو کچھ سختی ہوگی اس کا بیان دوزخ کے ذکر کی آیتوں میں اوپر کئی جگہ گزر چکا ہے اللہ اس عذاب سے سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور اس عذاب سے بچنے کی توفیق دے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:36) فمال الذین کفروا قبلک مھطعین : ف سببیہ۔ ما استگہامیہ لام حرف جر۔ الذین کفروا موصول و صلہ مل کر، مجرور۔ قبلک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جانب ۔ مھطعین : صاحب قاموس نے لکھا ہے۔ ھطع ھطوعا وھطعا۔ تیزی کے ساتھ کسی کی طرف رخ کرکے دوڑتے ہوئے اپنی نظر کو کسی چیز پر جمائے ہوئے آیا۔ اور کسی روکاوٹ کی پرواہ نہ کی۔ یعنی ھطع ثلاثی مجرد کو باب فتح سے قرار دیا گیا ہے اور اس کا مصدر فطع وھطوع ہے۔ لیکن مھطعین مصدر اھطاع (باب افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اھطع کا معنی ہے گردن بڑھائی سر اٹھایا۔ مھطعین حال ہے الذین کفروا سے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس کافروں کو کیا ہوگیا ہے (یا کیا وجہ ہے کہ کافر لوگ) گردن بڑھائے سر اٹھائے تیری طرف دوڑے چلے آتے ہیں بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ :۔ کافروں کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جمع ہوکر کلام مبارک سنتی تھی مگر استہزاء اور تکذیب کرتی تھی ان کو تنبیہ کرنے کے لئے اس آیت کا نزول ہوا۔ اور اللہ نے فرمایا کہ۔ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے آپ کو دیکھتے (اور کلام سنتے) ہیں مگر فائدہ حاصل نہیں کرتے۔ اکثر مفسرین نے حروف کی کمی بیشی کے ساتھ آیت کا یہی مطلب لیا ہے لیکن علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں کہ :۔ (جو ہدایت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے تھے کفار کے سامنے تھی) اور آپ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے وہ دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ جاتے تھے۔ اور ٹولیاں ٹولیاں ہوکر دائیں بائیں کرا جاتے تھے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فما لہم عن التذکرۃ معرضین (74:49) (ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہیں) یہاں بھی اس طرح فرمایا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کرکے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں ۔ کیوں دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں۔ اور کیا وجہ ہے کہ وہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔ صاحب اضواء البیان اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ ای بال اولئک الکفار المنصرفین عنک متفرقین ۔۔ وکذلک ھنا فہم متفرقون عنہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماعات من کل جھۃ عن الیمین وعن الشمال ۔۔ کقولہ تعالیٰ فمالہم عن التذکرۃ معرضین۔ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے کہ ٹولے ٹولے ہوکر آپ کے پاس سے کھسک جاتے ہیں۔۔ اور اس طرح وہ ہر طرف سے دائیں بائیں سے گروہوں کی صورت میں آپ سے الگ ہوجاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن، ۔ مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔ تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔ کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک فرماتے تو وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے اللہ کے دین کو جھٹلاتے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لئے جتھے کے جتھے اور گروہ کے گروہ آپ کے دائیں بائیں جمع ہو کر کبھی تالیاں پیٹتے کبھی شور مچاتے اور ہر طرح دین کا مذاق اڑاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے کہ اگر قیامت کا دن آیا اور جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے وہ ہو کر رہا تو ہمیں اس کی فکر نہیں ہے کیونکہ جس طرح ہم اس دنیا میں عیش و آرام اور سکون سے ہیں جنت کی راحتوں میں بھی عیش کریں گے اور مسلمان جس طرح دنیا میں پریشان حال ہیں وہاں بھی ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ وہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کو ایک جیسا فرما دیں۔ بلکہ جنت کی راحتوں سے مستحق وہی ہوں گی جو اللہ و رسول کے فرماں بردار ہوں گے۔ فرمایا کہ یہ کافر اپنی زبان سے کہیں یا نہ کہیں لیکن یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے رب نے ان کو کسی چیز سے اور کیسے بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مشرقوں مغربوں اور اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت صرف اللہ کی ہے اگر وہ چاہے تو موجودہ کافروں کی جگہ دوسری قوم کو لے آئے اور ان سے اپنے دین کا کام لے لے وہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ مکہ والوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم اس سعادت سے اپنا دامن چھڑاتے رہے اور اس کو حاصل نہ کیا تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کرے گا کیونکہ وہ اللہ ایسی قدرت والا ہے جس کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں کو ان کی بےہودہ نکتہ چینیوں اور کھیل تماشوں میں لگا رہنے دیجئے وہ وقت دور نہیں ہے جب قیامت آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس دن یہ اپنی قبروں اور دفن کی جانے والی جگہوں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جس طرح وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ دور کر جاتے ہیں لیکن شرمندگی اور ندامت سے ان کی نظریں جھکی ہوئی ہوں گے اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ نے جس دن کے متعلق ان پہلے سے بتا دیا تھا وہ برحق تھا اور آج وہ دن ان کے سامنے ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔ مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ ” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : ٤١) (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : ٥٣) ” اور اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو دوسرے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟ “ اس کسم پرسی کے دور میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ جن میں یہ اوصاف پائے جائیں گے وہ جنت میں عزت و اکرام کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ جونہی یہ خوشخبری نازل ہوئی تو کفار کی حالت یہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کے دائیں بائیں جمع ہو کر اس بات کا دعویٰ کرنے لگے کہ ہم مسلمانوں سے دنیا میں بہتر ہیں اور آخرت میں بھی بہتر ہوں گے اور جنت میں ضرور داخل ہوں گے۔ کفار کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں، بیشک ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم ! ہم اس بات پر طاقت رکھتے ہیں کہ انہیں تہس نہس کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں اور یہ کسی صورت بھی ہمیں عاجز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر مشرقوں اور مغربوں کا نام لے کر اپنے رب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ سورة المزمل میں ایک مشرق اور ایک مغرب کا ذکر ہے۔ ( المزمل : ٩) سورۃ الرّحمن میں میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا بیان ہے اور یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ سورة الرّحمن میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سورج نہ ہر روز ایک مقام سے طلوع ہوتا اور نہ ایک مقام پر غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مقام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ (الرحمن : ١٧) اس حساب سے دو مشرق اور دو مغرب نہیں بنتے بلکہ کئی مشرق اور کئی مغرب بنتے ہیں اس لیے یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ مسائل ١۔ کفار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ٢۔ مشرقوں اور مغربوں کا رب اس بات پر قادر ہے کہ کفار کو ختم کرکے ان کی جگہ اور لوگ لے آئے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادر ہے اسے کوئی بےبس اور عاجز نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : ٢٠) ٢۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : ٢٩) ٣۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : ١٤٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : ٢٨٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں : فمال ........................ عزین مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔ فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں یا آپ سے ہدایات لیں۔ بلکہ وہ نہایت حواس بافتہ انداز میں معلوم کرنے کے لئے دوڑتے ہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور پھر واپس بھاگتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ہاں جاکر حلقوں میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ................ آپ کے خلاف کیا سازشیں کریں ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے باطل میں لگے رہیں، قیامت میں ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی ان آیات میں منکرین کا طرز عمل بتایا ہے جو انہوں نے دنیا میں اختیار کر رکھا تھا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ شریف کے قریب نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوتے تو مشرکین آپ کے چاروں طرف حلقے بنا بنا کر جمع ہوجاتے تھے اور ان کی مختلف جماعتیں بن جاتی تھیں، قرآن کو سن سن کر اس کا مذاق بناتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو مسلمان ہوتے تھے (جو بظاہر ٹوٹے پھوٹے حال میں تھے) انہیں دیکھ کر کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان ہے تو بلاشبہ ہم ان سے پہلے داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص یہ آرزو رکھتا ہے کہ کافر ہوتے ہوئے نعمتوں والی جنت میں داخل ہوجائے اول تو اسے استفہام انکاری کی صورت میں بیان فرمایا پھر مزید تردید فرمائی ﴿كَلَّا ﴾ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کوئی کافر جنت میں داخل ہوجائے یہ ان کی جھوٹی آرزوئیں ہیں ان کے نفس نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے اپنے مال اور اولاد کو دیکھ کر یوں سمجھتے ہیں کہ جب ہم دنیا میں اموال اور اولاد والے ہیں تو آخرت میں بھی ہم کامیاب ہوں گے اور اچھے حال میں ہوں گے۔ یہ ان کی جہالت اور حماقت تھی۔ کروڑوں کافر آج بھی اسی دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” فمال الذین “ زجر برائے کفار۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین دوڑتے ہوئے آتے اور ٹولیوں کی صورت میں آپ کے ارگرد جمع ہو کر استہزاء کرتے اور کہتے اگر یہ لوگ جنت میں چلے گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ مھطعین ای مسرعین، عزین عزۃ کی جمع ہے ای جماعات فی تفرقۃ، مہطعین اور عزین، الذین کفرو سے حال ہیں۔ عزین مہطعین کی ضمیر سے حال ہے یا یہ کان محذوف کی خبر ہے ای کانوا عن الیمین الخ۔ اہل عرب بسا اوقات کان کو مع اسم حذف کر کے خبر کو باقی رکھتے ہیں کما قال ابن مالک فی الفیت یحذفونہا ویبقون الخبر بعد ان ولو کثیرا اشتہر افادہ الشیخ قدس سرہ۔ یعنی ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ آپ کی طرف دوڑ کر آتے اور چاروں طرف سے ٹولیاں بن کر گھیرا ڈال دیتے ہیں اور کلام الٰہی کا تمسخر اڑاتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) پس ان کافرون اور دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑدوڑ کر آرہے ہیں۔