Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 5

سورة نوح

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾

He said, "My Lord, indeed I invited my people [to truth] night and day.

۔ ( نوح علیہ السلام نے ) کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nuh complains about his Encounter with His People Allah tells about His servant and Messenger, Nuh, and that he complained to his Lord about the response he received from his people, and how he was patient with them for this long period of time -- which was nine hundred and fifty years. He complained due to his explaining and clarifying matters for them and his calling them to guidance and the straightest path. So قَالَ he (Nuh) said, ... رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلً وَنَهَارًا O my Lord! Verily, I have called to my people night and day, meaning, `I did not abandon calling them night and day, carrying out Your command and in obedience to You.' فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَايِي إِلاَّ فِرَارًا

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے ، تو حضرت نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی ، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا ، نہ رات کو رات ، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے ، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا ، کان بند کر لئے ، یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے آیت ( وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 26؀ ) 41- فصلت:26 ) یعنی کافرو نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو ، قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لئے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی ، حضرت نوح فرماتے ہیں عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لئے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں ، میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سر زد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے ، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلادھار بارش برسائے گا ۔ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لئے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں ، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل بھی یہی ہے ۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لئے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی ، جن میں ایک آیت یہ بھی تھی ۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں ، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے ۔ حضرت نوح فرماتے ہیں اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے کھیتیاں خوب ہوں گی جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے مال و اولاد میں ترقی ہو گی قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی ، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے ۔ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہوگئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند پھر جامد خون پھر گوشت کا لوتھڑا پھر اور صورت پھر اور حالت وغیرہ ، اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں ۔ ایک ایک کو بےنور کر دیتا ہے ، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے ، تیسرے میں زہرہ ہے ، چوتھے میں سورج ہے ، پانچویں میں مریخ ہے ، چھٹے میں مشتری ، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لئے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں ، لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے ، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے ، یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں ، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے ، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے ، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں ، جیسے فرمان ہے آیت ( ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ Ĉ۝ ) 10- یونس:5 ) اللہ وہ ہے جس نے سورج ، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے ۔ عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں ، پھر فرمایا اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اس مصدر نے مضمون کو بیحد لطیف کر دیا پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا ، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا ، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لئے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے ، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو ، غرض حضرت نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی کی راہ اختیار کرو ، تمیں ضرور چاہئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوج ، اس جیسا اس کا شریک ، اس کا ساجھی ، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو ، اسے بیوی اور ماں سے ، بیٹوں پوتوں ، وزیر و مشیر سے ، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قال رب انی دعوت قومی لیلاً ونھاراً : نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سینکڑوں برس کی تبلیغ کے باوجود جب چند قلیل آدمیوں کے علاوہ کسی نے ایمان قبول نہ کیا اور نوح (علیہ السلام) ان سے ہر طرح سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔ اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی، یعنی کوئی وقت نہیں چھوڑا جس میں دعوت نہ دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے جتنا لمبا عرصہ مسلسل دعوت میں گزارا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہر داعی اور عالم کو اسی جذبے اور محنت سے دعوت دینی چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّنَہَارًا۝ ٥ ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٦) اس لیے میری بات تسلیم کرو چناچہ جب حضرت نوح ساڑھے نو سال تک ان کو سمجھاتے رہے اور وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے اور نہ ان کی نصیحت کو مانا تو مایوس ہو کر نوح نے دعا فرمائی کہ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو توبہ اور توحید کی طرف رات کو بھی اور دن کو بھی دعوت دی سو وہ میرے بلانے سے توبہ اور ایمان سے اور زیادہ دور بھاگتے رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 Omitting the history of a long period of preaching, now the Prophet Noah's petition that he made to Allah in the last stage of his worldly mission is being related.

سورة نُوْح حاشیہ نمبر :7 بیچ میں ایک طویل زمانے کی تاریخ چھوڑ کر اب حضرت نوح علیہ السلام کی وہ عرضداشت نقل کی جا رہی ہے جو انہوں نے ا پنی رسالت کے آخری دور میں اللہ تعالی کے حضور پیش کی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥۔ ٢٠۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا نہ ہوں ان کی بد عادت سے قحط کی آفت جو ان پر پڑی ہوئی ہے میں نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ اگر تم اللہ کی جناب میں اپنی بد اعمالی سے توبہ استغفار کرو گے تو اللہ تعالیٰ خوب موسلادھار منیہ بر سا دے گا جس سے تمہاری کھیتی تمہارے باغ سرسبز ہوجائیں گے۔ آدمی اور جانوروں کے لئے نہروں میں پانی آجائے گا ‘ تم آباد ہوجاؤگے ‘ تمہارے مال و اولاد میں ترقی ہوگی۔ اولاد کی ترقی کا ذکر اس لئے کیا کہ سزا کے طور پر جس طرح ان لوگوں میں قحط پڑا تھا اسی طرح ان کے گھر اولاد کا پیدا ہونا بھی بند ہوگیا تھا میں نے ان لوگوں کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اللہ کی اس قدرت کو ذرا خیال کرو کہ اس نے تم میں سے کسی کو گورا کسی کو کالا کسی کو مرد کسی کو عورت جس طرح سے چاہا پیدا کیا۔ اور پھر اب پیدا ہونے کے بعد کوئی بچہ ہے کوئی جوان کوئی بوڑھا۔ کوئی تندرست کوئی بیمار ‘ پھر کوئی اچھا ہوجاتا ہے کوئی مرجاتا ہے۔ تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کے لئے تم نے کیا یہ نہیں دیکھا کہ اس نے سات آسمان ‘ چاند ‘ سورج کیا کیا پیدا کیا زمین کو بچھونے کی طرح ایسا نرم کردیا کہ اس میں کھیتی کرو باغ لگاؤ ‘ اس کو کھود کر اس کی اینٹ مٹی سے مکان بناؤ پہاڑوں کی گھاٹیاں رکھیں تاکہ ایک شہر سے دوسرے شہر کو تجارت کے لئے جا سکو تم جو کھیتی کرتے ہو تو اناج کے ہاتھ آنے کی نیت سے باغ لگاتے ہو میوہ کھانے کے ارادہ سے مکان بناتے ہو تو اس میں رہنے کے قصد سے پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ سب انتظام بغیر کسی انجام کے کئے ہیں نہیں نہیں ‘ اس سب انتظام کا انجام یہی ہے جو میں تم سے کہتا ہوں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پھر تم کو زندہ کرے گا اور عمر بھر جو تم نے کیا ہے اس سب کی جزا و سزا دے گا۔ ان سب باتوں کو بھلا کر تم نے جو خدا کی عظمت بالکل دل سے نکال دی اور بتوں کو خدا کا ہمسر ٹھہرا لیا اور ان کی پوجا کرنے لگے ان بتوں کو خدا کی خدائی میں کیا اختیار ہے جو ان کی پوجا کرنے لگے۔ جو ان کی پوجا سے تم کچھ فیض کو پہنچو گے یہ مانا کہ جن لوگوں کی یہ مورتیں ہیں وہ جیتے جی خدا کے نیک بندے تھے لیکن جو جیتے جی خدا کے نیک بندہ ہو مرنے پر اس کو خدائی اختیار نہیں مل جاتے کہ رفع حاجات کے لئے اس کی پوجا اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ٹھہرے۔ غرض باوجود ان سب فہمایشوں کے یہ لوگ کسی طرح راہ راست پر انہیں آتے بلکہ ان کی سرکشی دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:5) قال۔ یہاں کلام میں اختصار کیا گیا ہے پورا کلام یوں تھا کہ :۔ نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ کی۔ قوم نے تکذیب کی، نوح (علیہ السلام) برابر دعوت دیتے رہے مگر قوم انکار پر اڑی رہی۔ آخر نوح (علیہ السلام) نے کہا (تفسیر مظہری) فائدہ : صاحب ضیاء القرآن یون رقمطراز ہیں :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے۔ آپ کو برا بھلا کہا جاتا۔ طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے، افتراء و بہتان کے طوفان اٹھائے جاتے، حتی کہ آپ کو مار مار کر لہولہان کردیا جاتا۔ آپ پہروں بیہوش پڑے رہتے۔ آپ کو کسی مکان میں بند کردیا جاتا۔ لیکن اس جو روبنفا کے باوجود یہ اللہ کا پیغمبر ان ناہنجاروں کی اصلاح میں لگا رہا۔ اور بارگاہ الٰہی میں ان کے لئے دعائیں مانگتا رہا۔ اور شب روز ان کو تبلیغ بھی کرتے رہے۔ عام اجتماعوں میں بلند آواز سے انہیں وعظ فرماتے اور جب اپنی خلوت گاہوں میں بیٹھے ہوتے تو آپ وہاں جاکر رازدارانہ طور پر اور چپکے چپکے ان کو گمراہیاں چھوڑنے کی تلقین کرتے اور یہ سلسلہ جلدی رہا۔ سالوں نہیں بلکہ تو صدیاں بیت گئیں۔ اور ان میں حق پذیری کے آثار نمایاں نہ ہوئے۔ بلکہ ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب میں روز بروز اضافہ ہوتا ہی چلا گیا۔ جب آپ کو ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہی تو آپ نے اپنے پروردگار کے حضور میں اپنی روداد الم بیان کرنی شروع کی۔ عرض کرتے ہیں الٰہی ! ان کو سمجھانے میں میں نے دن رات ایک کردیا کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن جتنا میں ان کو حق کی طرف کھینچتا ہوں اتنا ہی وہ اس سے دور بھاگتے ہیں اور ان کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ رب اصل میں یاربی تھا۔ شروع سے حرف نداء اور آخر سے ی ضمیر واحد متکلم حذف ہوکر رب رہ گیا۔ لیلا ونھارا۔ دونوں دعوت کے ظرف ہیں۔ رات اور دن۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ایک مدت تک حضرت نوح اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے۔ اس پر آخر کار حضرت نوح نے دعا کی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال رب انی ............................ سبلا فجاجا یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔ انی دعوت .................... ونھارا (١٧ : ٥) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن فلم یزدھم ................ فرار (١٧ : ٦) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان کے پیچھے پڑے رہے۔ حالانکہ اللہ ان کا خالق تھا ، جن انعامات میں وہ مزے سے رہ رہے تھے ، وہ اللہ کی تخلیق کردہ تھیں۔ یہ ہدایت بھی اللہ ہی کی طرف سے آرہی تھی ، اور داعی نہ اجر کا طلبگار تھا اور نہ فیس عائد کررہا تھا۔ اور جس ذات سے وہ بھاگ رہے تھے وہ ان کو اس لئے بلارہی تھی کہ آﺅ تمہیں بخش دیا جائے ، آﺅ تمہیں ان گناہوں کے انجام سے بچایا جائے اور معصیت اور ضلال سے بچایا جائے۔ وہ تو بھاگتے رہے لیکن داعی حق ان کو گھیرتے رہے اور ہر طرح ان کے کانوں تک کلمہ حق پہنچاتے رہے لیکن انہوں نے نہ اس بات کو برداشت کیا کہ ان کے کانوں میں کلمہ حق پڑے اور نہ اس بات کو پسند کیا کہ پیغمبر پر ان کی نظریں پڑیں ، اس لئے انہوں نے گمراہی پر بےحد اصرار اور کلمہ حق کے قبول کرنے سے بڑا تکبر کیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” قال رب “ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تبلیغی جدو جہد اور مشرکین کے عناد و تعنت کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت توحید دینے میں نہ دن دیکھا ہے، نہ رات، جب انہیں موقع ملا انہوں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میں جتنا ان کو توحید کی طرف بلاتا ہوں وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں۔ ” وانی کلما دعوتہم “ میں نے جب بھی ان کو توحید کی طرف دعوت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور تو ان کے گناہ معاف فرما دے تو غور سے سننے اور ماننے کے بجائے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری آواز سن ہی نہ پائیں اور اپنے معبودوں کی توہین نہ سن سکیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر اپنے کو خوب ڈھانپ لیا کہیں مجھ پر ان کی نظر نہ پڑجائے کیونکہ جو شخص ان کے معبودوں کے بارے میں کہتا ہو کہ وہ برکات دہندہ نہیں ہیں وہ اس کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے یہ ان کے خیال میں ان کے معبودوں کی بےحرمتی ہے یعنی ماننا تو درکنار انہیں تو مجھ سے اس قدر نفرت ہے کہ وہ میری بات سننا اور میری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کفر و شرک پر مصر ہیں اور میری دعوت کو قبول کرنے اور میری بات کو ماننے سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) نوح (علیہ السلام) نے حضرت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی اے میرے پروردگار میں اپنی قوم کو رات اور دن توحید کی دعوت دیتا رہا۔