Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 24

سورة الجن

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾

[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number.

۔ ( ان کی آنکھ نہ کھلے گی ) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعدہ دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Till, when they see that which they are promised, then they will know who it is that is weaker concerning helpers and less important concerning numbers. meaning, until these idolators from the Jinns and humans see what has been promised to them on the Day of Judgement. Then on that day, they will know who's helpers are weaker and fewer in number -- them or the believers who worship Allah alone. This means that the idolators have no helper at all and they are fewer in number than the soldiers of Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 24۔ 2 یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا ؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] یہ ہجوم کرنے والے مشرک آج تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان مسلمانوں کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔ ہم ان پر ہجوم کرکے ہی انہیں مرعوب کرسکتے ہیں۔ لیکن عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سے فریق کی تعداد تھوڑی ہے اور اس کے مددگار کم ہیں اور یہ وقت فتح مکہ کا دن بھی ہوسکتا ہے اور قیامت کا دن تو بہرحال یقینی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(حتی اذا راواما یوعدون…: یعنی کفار اپنی تعداد کی کثرت اور اپنے مددگ اورں کی قوت پر فخر اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور کمزوری پر طعن کرتے ہیں تو کرتے رہیں، یہ سب کچھ تھوڑے وقت کے لئے ہے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ مددگ اورں کے لحاظ سے کمزور اور تعداد میں کم کون ہے ؟ وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد اسلام کا غلبہ اور کفار ک شکست بھی ہے، جیسا کہ بدر، خندق، فتح مکہ اور حنین بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، کفار پر خوف اور قحط کا مسل ہونا بھی ہے اور مرتے وقت فرشتوں کا ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارنا بھی، قبر کا عذاب بھی ہے، قیامت کی ہولناکی اور جہنم کی آگ بھی۔ درجہ بدرجہ یہ سب کچھ دیکھتے جانے کے ساتھ ہی ان پر اپنی تعداد کی کثرت اور حمایتیوں کی قوت کی حقیقت کھلتی جائے گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

حَتّٰٓي اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۝ ٢٤ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ عد العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقوله تعالی: فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، فَذِكْرُهُ للعَدَدِ تنبيه علی کثرتها . والعَدُّ ضمُّ الأَعْدَادِ بعضها إلى بعض . قال تعالی: لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] ، فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] ، أي : أصحاب العَدَدِ والحساب . وقال تعالی: كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] ، وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] ، ( ع د د ) العدد ( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ہم نے غار میں کئی سال تک ان کانوں پر ( نیند کا ) بردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ کے لفظ سے کثرت تعداد کی طرف اشارہ ہے ۔ العد کے معنی گنتی اور شمار کرنے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] اس نے ان سب کا اپنے علم سے احاطہ اور ایک ایک کو شمار کر رکھا ہے ۔ اور آیت ۔ فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] کے معنی یہ ہیں کہ حساب دانوں سے پوچھ دیکھو ۔ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] زمین میں کتنے برس رہے ۔ وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے :

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تو محمد آپ ان کی حالت کو اس وقت دیکھیے کہ جس وقت یہ عذاب کا نظارہ کریں گے تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ” یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے “ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا ۔ } ” اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔ “ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورة مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 That is, "I do not claim to have any share or role in the Godhead of AIIah, nor that I possess any power in making or marring the people's destinies. I am only a Messenger and the mission that has been entrusted to me is no more than that I should convey the messages of Allah to you. As for the powers of Godhead, they wholly belong to Allah. Not to speak of benefiting or harming others, I do not have the power to cause good or harm even to myself. If I disobey AIlah, I cannot seek and have refuge anywhere from His punishment, and 1 have no helper and protector beside AIIah." (For further explanation, see E.N. 7 of Ash-Shura) . 23 This does not mean that every sin and act of disobedience will cause one to live in Hell for ever, but in view of the context in which this thing bas been said, the verse means: the one who dces not accept the invitation to Tauhid given by AIlah and His Messenger and does not refrain from polytheism will suffer in Hell for ever.

سورة الْجِنّ حاشیہ نمبر :24 اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں قریش کے جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت الی اللہ کو سنتے ہی آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کا جتھا بڑا زبردست ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں اس لیے وہ بآسانی آپ کو دبا لیں گے ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ آج یہ لوگ رسول کو بے یارو مددگار اور اپنے آپ کو کثیر التعداد دیکھ کر حق کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے دلیر ہو رہے ہیں ، مگر جب وہ برا وقت آ جائے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ بے یارو مدد گار حقیقت میں کون ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:24) حتی : حرف جار ہے انتہا وقت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں :۔ (1) یہ یکونون علیہ لبدا (لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں) کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہے :۔ انھم یتظاھرون علیہ بالعداوۃ حتی اذا راوا ما یوعدون من یوم بدر و فتح مبین او یوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھو اضعف ناصرا واقل عدوا۔ وہ اس کے خلاف یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جیسے یوم بدر، فتح مبین، یوم قیامت یا وقت موت پس اس وقت وہ جان لیں گے کہ کس کی مدد کمزور ہے اور گنتی میں کون کم ہے۔ (2) یہ محذوف کے متعلق ہے مثلاً کہا جائے :۔ الکفار لایزالون علی ما ہم علیہ حتی اذا کان کذا وکذا۔ (کافر لوگ جس بات پر وہ ہیں وہ اس پر اڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے) ۔ اس کی نظیر سورة مریم کی آیت ہے۔ حتی اذا راوا ما یوعدون اما العذاب واما الساعۃ فسیعلمون من ھو شر مکانا واضعف جندا (19:75) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو اس وقت جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور شکر کس کا کمزور ہے (اس میں اذا شرطیہ ہے اور فسیعلمون اس کا جواب ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ میں بھی اذا رأوا ما یوعدون جملہ شرطیہ ہے اور فسیعلمون ۔۔ الخ اس کا جواب) ما یوعدون : ما موصولہ یوعدون مضارع مجہول جمع مذکر غائب اس کا صلہ جس کا ون سے وعدہ کیا گیا ہے۔ من اضعف ناصرا : من استفہامیہ ہے بمعنی کون ؟ اضعف۔ ضعف (باب نصر) مصدر۔ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ کمزور، ناصرا، نصر (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب بوجہ تمیز ہونے کے ہے۔ ازراو مددگار۔ یعنی مددگاروں کی حیثیت سے کون زیادہ کمزور ہے۔ کس کی مدد کمزور ہے۔ واقل عددا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اقل ، قلۃ (باب ضرب) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی کم سے کم۔ عددا بلحاظ تعداد کے۔ گنتی میں۔ القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل و ضع کے صفات اور عظم و صغر میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ کے استعمال ہونے لگا۔ چناچہ قلیل عرصہ، قلیل نفع۔ مقدار کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 مراد دنیا کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کا عذاب بھی2 یعنی تم جو ہم پر جتھے بنا بنا کر ہجوم کرتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی کمزور اور تھوڑے ہیں تو جب اللہ کا یہ عذاب آئے گا اس وقت پتا چلے گا کہ حقیقت میں کس کے ساتھی کمر ہو اور تھوڑی تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی کافر ہی ایسے ہوں گے جن کے کوئی کام نہ آوے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا ﴾ (الآیۃ) اب تو باتیں بنا رہے ہیں لیکن جب قیامت کا دن ہوگا جس کے منکر ہو رہے ہیں (حالانکہ وہ وعدہ سچا ہے) تو اس وقت پتہ چلے گا کہ مددگاروں کے اعتبار سے کون کمزور تر ہے اور جماعت کے اعتبار سے بھی سمجھ لیں گے کہ کس کی جماعت کم ہے، یہاں اس دنیا میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی تعداد کم ہے اور اپنے کو بلندو برتر سمجھتے ہیں۔ قیامت کے دن دیکھیں گے کہ جنہیں حقیر جانا وہی بلند نکلے ان کی تو آپس میں شفاعتیں بھی ہوں گی اور مجرمین کا کوئی دوست ہوگا نہ مددگار نہ سفارش کرنا والا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ” حتی اذا راو “ یہ اب تو نہیں مانتے اور ضد وعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر اڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جب عذاب موعود کو دیکھ لیں گے تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ کن کا مددگار اور حامی وناصر کمزور اور عاجز ہے اور کن کے اعوان و انصار کی تعداد کم ہے ؟ مشرکین کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کی یہ حقیقت میدان بدر میں مشرکین پر منکشف ہوئی جبکہ مٹھی بھر اور بےسرو سامان مسلمانوں کے ہاتھوں تین گنا مشرکین نے ذلت آمیز ہزیمت اٹھائی حالانکہ وہ ہر قسم کے سامان جنگ سے آراستہ تھی۔ مسلمانوں کی اللہ نے مدد فرمائی اور فرشتوں کو بھیج کر ان کے حامیوں میں اضافہ فرمایا مگر مشرکین کے مزعومہ کارساز اور مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچے۔ یا اس سے قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) آخر کار جب یہ اقلیت واکثرت اور مددگاروں کی کمی بیشی کا طعنہ دینے والے اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور اور شمار کیا عتبار سے کم ہے۔ یعنی عام طور سے کفار اپنی اکثریت پر نازاں تھے اور اپنے حمایتوں کی تعداد پر فخر کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر مسلمانوں پر ہجوم کرتے تھے اس کا جواب سورة مریم میں دیا گیا ہے اور یہاں بھی ہجوم وجتھ بندی کا جواب ہے کہ یہ کافر جو مسلمانوں کو ان کی کمزوری کا اور ان کی تعداد کی کمی کا طعنہ دیتے اور پیغمبر پر قرآن پڑھنے کی حالت میں ہجوم کرتے ہیں۔ جب ان پر وہ عذاب آجائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت اور اسکا عذاب دیکھ لیں گے تب ان کو معلوم ہوجائے گا کس کے حمایتی کمزور اور کس کی تعداد کم ہے یعنی کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی تعداد کم ہے۔