Surat ul Mudassir

The Cloaked One

Surah: 74

Verses: 56

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة المدثر سورة نمبر 74 کل رکوع 2 آیات 56 الفاظ و کلمات 256 حروف 1145 مقام نزول مکہ مکرمہ تمام معتبر اور مستند احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے سورة علق کی پانچ ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد ” فترۃ الوحی “ (وحی بند رہنے کا زمانہ) آیا۔ بہت دنوں تک وحی کا سلسلہ بند رہنے کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔ ” فترۃ الوحی “ کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ایک دن کسی جگہ سے گزر رہا تھا۔ مجھے آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔ میں نے نظریں اتھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ ( حضرت جبرئیل) جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا وہ زمین وآسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس کو دیکھ کر دہشت محسوس کرنے لگا۔ میں نے گھر پہنچ کر کہا ” مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو “۔ (حضرت خدیجہ (رض) نے) مجھ پر کمبل ڈال دیا۔ اس کے بعد ” یا یھا المدثر “ نازل لوئی اور اس کے بعد لگاتار مجھ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ (بخاری ، مسلم، مسند احمد) ۔ سورت المدثر کا دوسرا رکوع اس وقت نازل فرمایا گیا جب آپو نے کھلم کھلا دین اسلام کی طرف دعوت پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرتے ہی پورے مکہ میں ایک بھونچال آگیا ہر طرف کھلبلی اور شور مچ گیا۔ ہر محفل اور ہر مقام پر اسی کا چرچا شروع ہوگیا۔ حج کا زمانہ قریب تھا کہ کفار اس تصور سے سخت پریشان تھے کہ حج کرنے کے لئے تمام عرب کے لوگ بیت اللہ آئیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے قرآن کریم پڑھ کر ان کو اسلام لانے کی دعوت پیش کریں گے اور اس طرح پورے عرب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچ جائے گا۔ وہ سب مل کر سوچنے لگے کہ حج سے پہلے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں سے دور رکھنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ سوچا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر، کاہن یا دیوانہ مشہور کردیا جائے مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت کی عظمت سے ہر شخص اچھی طرح واقف تھا انہیں ڈر ہوا کہ لوگ ہمارا ہی مذاق اڑائیں گے۔ ولید ابن مغیرہ جو قریشی سردار اور مال دار شخص تھا۔ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر مشہور کردیا جائے۔ یعنی وہ ایک ایسا کلام پیش کررہے ہیں جو آدمی کو اس کے ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچوں اور سارے خاندان سے جدا کردیتا ہے۔ اس تجویز پر سب نے اتفاق کرتے ہوئے طے کیا کہ مختلف گروہ بنا کر حج پر آنے والے حجاج کو پہلے ہی بتادی اجائے کہ اگر تم اپنے گھر بار اور خاندان کی سلامتی چاہتے ہو تو ان سے دور ہی رہنا۔ اس طرح لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خوف زدہ ہو کر آپ کے قریب نہ آئیں گے۔ چناچہ حج کے دن آتے ہی کفار قریش نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کردیا لیکن وہ کفار اس بات پر غور نہ کرسکے کہ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو ان لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جہاں مختصر وقت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کی دعوت لے کر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ چناچہ کفار قریش کے شدید پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں میں یہ اشتیاق پیدا ہوگیا کہ ہم بھی تو دیکھیں آخر یہ ہیں کون ؟ اور کیا کلام پیش کر رہے ہیں ؟ جو بھی قریب آتا اور قرآن کری کو سنتا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے سے متاثر ہوتا لیکن کفار قریش کی ان حرکتوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید رنج پہنچتا اور آپ چادر اوڑھ کر لیٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے چادر یا کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے ہمارے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اٹھیے اور اللہ کے بندوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیے اور اللہ کی بڑائی اور عظمت کا اعلان کر دیجئے۔ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظاہر و باطن پاک ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہترین اخلاق اور معاملات ہیں اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کو بھی پاکیزہ بنا دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح بتوں کی گندگی سے دور رہے ہیں اوروں کو بھی عقائد، خیالات، اخلاق اور اعمال کی گندگی سے دور رکھنے کی جدوجہد کیجئے اور جس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بہتر یا احسان کا معاملہ کریں اس میں اس سے کسی زیادہ بہتر معاملے کی توقع نہ رکھیے اور یہ راحق و صدات ہے اس میں شدید تکلیفیں اور مصیبیتن آئیں گی آپو ان تکالیف و مصائب پر صبر کیجئے۔ فرمایا کہ جب صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت قائم ہوگی تو وہ دن ان کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا ہلکا نہ ہوگا۔ ولید ابن مغیرہ جو آپ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا اس کا نام لیے بغیر فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ دین میں اپنا وقت لگائیے اور وہ جسے میں نے تنہا پیدا کیا تھا (یعنی وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا) پھر اس کو بہت سا مال و دولت دیا اس کو ایسے بیٹے دیے جو اس کی شان اور عزت بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ فرمایا کہ اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے میں خود اس سے نبٹ لوں گا۔ فرمایا کہ وہ کون سی دولت تھی جو ہم نے اس شخص کو نہ دی تھی مگر اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے رسول دشمنی کی حد کردی۔ اس کی ہوس اور نافرمانیوں کو اللہ دیکھ رہا ہے مگر وہ مزید نعمتوں کا طلب گار بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تو اس کا بدترین انجا ہی ہونے والا ہے جب میں اس کو بہت جلد (جہنم کے ٹیلوں پر) ایک کٹھن چڑھائی چڑھاؤں گا۔ اس کا تکبر اور غرور اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو ایک ایسا جادو کہتا ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ کبھی کہتا ہے یہ تو کوئی انسانی کلام ہے۔ فرمایا کہ اس کا انجام ایک ایسی جہنم ہوگا جو اس کی کھال تک کو جھلس کر رکھ دے گی اور کسی چیز کو باقی نہ چھوڑے گی۔ وہ جہنم جس پر ایک فرشتہ ہی عذاب دینے کے لئے کافی تھا مگر ہم نے اس پر انیس فرشتے مقرر کردئیے ہیں۔ فرمایا کہ جو اہل کتاب ہیں وہ تو اس بات کو سن کر اور سمجھ کر یقین کرلیں گے لیکن جو لوگ علم کتاب سے دور ہیں (یعنی کفار و مشرکین) وہ یہ کہتے رہ جائیں گے کہ یہ انیس کا عدد کیا ہے ؟ فرمایا کہ اللہ کے فرشتے کتنے ہیں اور اللہ کے اس لشکر کی تعداد کتنی ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ فرمایا کہ چاند کی قسم جو گھٹتا، بڑھتا اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اس رات کی قسم جو پلٹنے اور رخصت ہونے لگتی ہے اور اس صبح کی قسم جب اس کا نور ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ جہنم بڑی خبروں میں سے ایک خبر ہے جو ایک ڈرنے کی چیز ہے۔ جو چاہے اس کی طرف بڑھے اور جو چاہے اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہے۔ فرمایا کہ اہل جنت قیامت کے دن جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کون سے اعمال جہنم میں لانے کا سبب بنے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھتے تھے، نہ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم حق کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے تھے۔ جب تک موت نہیں آگئی ہم قیامت کو جھٹلاتے ہی رہے۔ اللہ نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا ہے یہ نصیحت سے اس طرح کیوں بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگی گدھے شیر کے خوف سے ڈر کر بھاگتے ہیں۔ اس کو وجہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ دراصل یہ لوگ آخرت کا خوف نہیں رکھتے ورنہ ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے، جس کا دل چاہے اس سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے اگر وہ چاہے گا تو ہر شخص عبرت حاصل کرے گا ورنہ بےتوفیق ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی اس کا حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی ایسے لوگوں کو بخشنے والا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة المدثر کا تعارف المدّثر کا لفظ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا توصیفی نام قرار پایا ہے اس سورت کی چھپن آیات اور دو رکوع ہیں یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ مفسرین نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اقراء کے بعد یہ دوسری وحی ہے جس میں اس سورت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں آپ کو ابتدائی اور بنیادی ہدایات دی گئیں۔ حکم ہوا کہ اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے، اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو، اپنی رب کی کبریائی کا اعلان کرو، اپنے کپڑے پاک صاف رکھو، گندگی سے دور رہو اور کسی پر اس لیے احسان نہ کرو کہ اس سے کوئی معاوضہ طلب کیا جائے اور ہمیشہ اپنی رب کی خاطر صبر کرتے رہو۔ جو آپ کی دعوت کا انکار کریں انہیں قیامت کے دن سے ڈراؤ اور فرماؤ کہ اس دعوت اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے لیے وہ دن بڑا بھاری ہوگا جو شخص قرآن مجید کا نکار کرے اور اسے جادو قرار دے گا یا یہ کہے کہ یہ کسی انسان کا کلام ہے اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس میں مجرم کی کھال جلا دینے والی آگ ہوگی اس پر انیس ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے قرآن مجید نے بتلایا کہ جہنم پر انیس فرشتے ہوں گے۔ جہنم سے ڈرنے اور بچنے کی بجائے کفار نے اس بات کو مذاق کا نشانہ بنایا اس پرچاند، رات اور صبح کی قسم کھا کر انتباہ کیا ہے کہ جہنم بڑی چیزوں میں ایک بہت بڑی چیز ہے۔ جس میں نافرمانوں کو پھینکا جائے گا جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں جہنم میں کیوں داخل کیا گیا ہے جہنمی اقرار کریں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، حق کے خلاف باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اب ہمیں یقین آگیا ہے کہ ساری باتیں حق پر مبنی تھیں۔ اس وقت وہ خواہش کریں گے کہ ہماری کوئی سفارش کرے تاکہ ہم جہنم سے نجات پاجائیں۔ لیکن انہیں کسی کی سفارش کوئی فائدہ نہیں دے گی یہ باتیں لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہیں۔ اس نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہیں نصیحت وہی حاصل کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرماتا ہے توفیق انہیں ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ڈر کر زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کی بشری کمزوریوں کو معاف فرمانے والا ہے کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة المدثر ایک نظر میں سورة مزمل کے مقدمہ میں جو کہا گیا ہے وہ اس سورت کے سبب نزول اور وقت نزول کو بھی متعین کرتا ہے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ سورت بھی علق کے بعد نازل ہونے والی پہلی سورت ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ علانیہ دعوت شروع ہونے کے بعد نازل ہوئی۔ اس وقت جب مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذائیں دینا شروع کردی تھیں۔ امام بخاری نے روایت کی ، یحییٰ ابن بکیر سے ، انہوں نے وکیع سے ، انہوں نے علی ابن مبارک سے ، انہوں نے یحییٰ ابن ابوکثیر سے ، انہوں نے فرمایا : میں نے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے پوچھا کہ قرآن مجید میں سب سے پہلے کیا نازل ہوا تو انہوں نے کہا : یایھا المدثر (1:73) میں نے کہا لوگ کہتے ہیں۔ اقراباسم ................ خلق (1:96) پہلے نازل ہوئی تو ابوسلمہ نے کہا : میں نے یہ سوال جابر بن عبداللہ سے کیا تھا اور میں نے ان سے یہی کہا جو تم نے مجھے کہا۔ تو جابر (رض) نے فرمایا میں تمہیں صرف وہی بات بتاﺅں گا جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی۔ آپ نے فرمایا : ” میں نے حرا میں تنہائی اختیار کی جب میں نے اپنا وقت پورا کردیا ، تو نیچے اترا ، تو مجھے ایک آواز دی گئی تو میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا ، میں نے شمال کی طرف دیکھا تو بھی کچھ نظر نہ آیا ، آگے کو دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا ، پیچھے کو دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا۔ میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ایک چیز دیکھ لی۔ اس کے بعد میں خدیجہ (رض) کے پاس آیا اور کہا : ” مجھے کچھ اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو “ ۔ آپ نے فرمایا : چناچہ انہوں نے مجھ پر کچھ ڈالا اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بھی ڈالا اور اس کے بعد مجھ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ یایھا المدثر (1:73) قم فانذر (2:73) وربک فکبر (3:73) (1:73 تا 3) اس روایت کو امام مسلم نے عقیل سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے نقل کیا ہے۔ ابو سلمہ نے کہا مجھے جابر ابن عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی رک جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا۔ (آپ نے اپنی بات میں فرمایا) کہ میں جارہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی۔ میں نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا ، زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے اس قدر گھبرایا کہ میں زمین کی طرف جھک گیا۔ میں گھر والوں کے پاس آیا۔ میں نے کہا مجھے کچھ اوڑھاﺅ، تو انہوں نے مجھے اور ڈھایا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔ یایھا المدثر (1) قم فانذر ( 2) وربک فکبر (3) وثیابک فطھر (4) والرجزفاھجر (5) (1:73 تا 5) تک۔ ابو سلمہ کہتے ہیں رجز سے مرادبت ہیں۔ یہاں تک کہ وحی کے نزول میں گرمی آگئی اور پے درپے نازل ہونے لگی۔ اس حدیث پر ابن کثیر نے یہ تبصرہ کیا کہ اس کا سیاق محفوظ ہے اور اس حدیث کے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے قبل وحی نازل ہوچکی تھی۔ کیونکہ اس حدیث میں ہے ” پس کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا “۔ یہ جبرائیل امین (علیہ السلام) تھے اور غار حرا میں آیات۔ اقرا باسم ............................ مالم یعلم (1:96 تا 5) لے کر آئے تھے اور اس کے بعد کچھ عرصہ کے لئے وحی رک گئی تھی اور اس وقفے کے بعد یہ فرشتہ دوبارہ آیا تھا۔ اور دونوں احادیث کے درمیان تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فترة الوحی کے بعد یہ سورت نازل ہوئی۔ یہ ہے ایک روایت ، لیکن ایک دوسری روایت بھی ہے۔ طبرانی نے روایت کی ہے ، محمد ابن علی ابن شعیب السمار سے ، انہوں نے حسن ابن بشر بحلی سے ، انہوں نے معافی ابن عمران سے ، انہوں نے ابراہیم ابن زید سے ، وہ کہتے ہیں میں نے ابو ملیکہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے یہ سنا کہ ولید ابن مغیرہ نے قریش کے لئے ایک دعوت ترتیب دی۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو ولید نے کہا تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو تو بعض نے کہا جادوگر ہے۔ بعض نے کہا جادوگر نہیں ہے۔ بعض نے کہا کاہن ہے اور بعض نے کہا کاہن نہیں ہے۔ بعض نے کہا شاعر ہے اور بعض نے کہا نہیں۔ بعض نے کہا یہ ایسا پرانا جادوگر یا موثر جادوگر ہے تو ان کی رائے اس پر بیٹھ گئی کہ یہ پرانا جادو ہے۔ ان لوگوں کا یہ تبصرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا تو آپ بہت ہی متفکر ہوئے۔ آپ نے اپنا سر جھکایا اور اپنے اوپر کپڑا اوڑھ لیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ یایھا المدثر .................................... ولربک فاصبر (1:73 تا 5) یہ وہی روایت معلومھ ہوتی ہے جو سورة مزمل کے بارے میں نقل ہوئی۔ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں میں سے کون سی سورت پہلے نازل ہوئی اور یہ روایت کس سورت کے بارے میں ہے۔ ہاں سورت کے نفس مضمون اور داخلی شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ سورت کی ابتدائی آیات۔ ولربک فاصبر (7:73) تک ، ممکن ہے کہ دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہوں جس طرح سورة مزمل کی ابتدائی آیات۔ واذکراسم ............................ فاتخذہ وکیلا (9:73) اور یہ دونوں ہدایات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عظیم بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار کرنے کے لئے دی گئی ہوں اور اس مرحلے کی تیاری کے لئے دی گئی ہوں کہ اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علانیہ دعوت کے مرحلے میں داخل ہونا تھا اور قریش کے سامنے پوری دعوت پیش کرنا تھی جس کے نتیجے میں آپ کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا تھا۔ اور آنے والی مشکلات کے لئے نفسیاتی اور نظریاتی تیاری کی ضرورت تھی۔ اور ان دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات کے بعد والی آیات ایک مناسب وقفے کے بعد اس وقت نازل ہوئی ہوں جب قوم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلادیا تھا ، اور آپ کی دشمنی میں کھل کر آگئے تھے اور مسلمانوں اور آپ کو ہر قسم کی ایذا دینے لگے تھے۔ آپ کے خلاف جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کررہے تھے۔ اور نہایت ہی گھٹیا ہتھیار استعمال کررہے تھے۔ بہرحال یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں سورتوں کی ابتدائی آیات سورتوں کے آخری حصوں کے ساتھ ہی اس وقت نازل ہوئی ہوں۔ جب کفار مکہ نے آپ کی تکذیب کردی تھی اور وہ سازشیں ، تبصرے اور پروپیگنڈے شروع کردیئے تھے جس کا ذکر ہوا اور ان سے حضور مغموم ہوکر اور کچھ اوڑھ کر لیٹ گئے ہوں اور یہی صورت سورة قلم کی بھی ہے۔ جیسا کہ ہم نے بیان کردیا۔ بہرحال اس سورت کا شان نزول اور وقت نزول جو بھی ہو ، اس کے آغاز میں عالم بالا نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ وہ بھاری ذمہ داری عائد کی ہے جس نے آپ کی نیند حرام کردی ، آپ کے آرام اور بےفکری کے دن جاتے رہے۔ اور آپ نے اس مسلسل جدوجہد اور جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کردیا جو آپ نے اپنی پوری زندگی میں جاری رکھا۔ یایھا المدثر ........................ ولربک فاصبر (3:73 تا 7) ” اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ، اور اپنے کپڑے پاک رکھو ، اور گندگی سے دور رہو۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو “۔ یہاں ہدایات کا خاتمہ صبر پر ہوتا ہے جس طرح سورت المزمل میں کہا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سورة میں قیامت کے منکرین کو سخت تہدید کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ جنگ صرف اللہ ہی کی ہے۔ جس طرح سورة المزمل میں بھی یہی مضمون آیا تھا۔ فاذا نقر ........................................ سارھقہ صعودا (8:73 تا 17) ” اچھا ! جب صور میں پھونک ماری جائے گی ، وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا ، کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا۔ چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا ، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیئے ، اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا “۔ سورة مدثر میں ایک خاص شخص کے اوصاف نمایاں کرکے بیان کیے گئے ہیں ، اور اس کی سازشوں میں سے ایک سازش کی نقشہ کشی کی گئی ہے۔ اسی طرح سورة قلم میں وارد ہوا ہے۔ شاید یہ دونوں نقشے ایک ہی شخص کے بارے میں ہوں۔ جس طرح بعض روایات میں کہا گیا کہ یہ شخص ولید ابن مغیرہ تھا۔ (روایات تشریح آیات میں آرہی ہیں) یہاں اس کے ساتھ اللہ کی جنگ کی وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ انہ فکر .................................... الاقول البشر (18:73 تا 25) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بنات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔ اس کے بعد اسی شخص کے انجام کا ذکر ہے۔ ساصلیہ .................... عشر (26:73 تا 30) ” عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ انیس کارکن اس پر مقرر ہیں “۔ جہنم کے منظر اور اس کے انیس داروغوں کے ذکر پر مکہ میں ایک شور سامچ گیا۔ ہر طرف سے شک کا اظہار ہونے لگا اور سوالات اٹھائے گئے اور مزاح ہونے لگا۔ اس سے ضعیف الایمان لوگ بھی متاثر ہوئے اور مشرکین کے اندر چرچا بھی ہوا۔ چناچہ یہاں انیس کے عدد کی تفسیر اور توجیہہ بھی کردی گئی کہ انیس فرشتے کیوں مقرر ہوں۔ اس کے بعد عالم غیب کی جانب ایک دریچہ کھولا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ غیب اللہ کا خاصہ ہے۔ اس دریچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تصور حیات میں اللہ کے خفیہ جہانوں اور غیبوں کے بارے میں کیا احکام ہیں۔ وما جعلنا ................................ ذکری للبشر (31:73) ” ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں ، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنا دیا ہے ، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں ، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کئی نہیں جانتا .... اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس نصیحت ہو “۔ آخرت اور دوزخ اور اس کے کارکن فرشتوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ کچھ مناظر قدرت بھی دیئے جاتے ہیں ، جو ہماری نظروں کے ہر وقت سامنے ہیں تاکہ یاددہانی اور ڈراوے کے موقعہ پر دلوں پر اچھا اثر ہو۔ کلا والقمر ................................ او یتاخر (32:73 تا 37) ” ہرگز نہیں ، قسم ہے چاند کی ، اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے ، یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لئے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے “۔ اس کے بعد پھر مجرموں اور نیکوں کا مقام بھی بتایا جاتا ہے۔ یعنی دائیں بازو والوں اور بائیں بازو والوں کا ۔ جہاں مکذبین صاف صاف اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس قدر قید وبند اور سزا کے مستحق ہیں جس کا فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے ، اور اس کے بعد فیصلہ کن انداز میں بتا دیا جاتا ہے کہ اب کسی سفارش کرنے والے کی سفارش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ کل نفس ................................ الشفعین (38:73 تا 48) ” ہر شخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے۔ دائیں بازو والوں کے سوا ، جو جنتوں میں ہوں گی وہ مجرموں سے پوچھیں گے ” تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟ “ وہ کہیں گے ” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ، اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے ، اور روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا۔ اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ اس شرمسار کنندہ موقف اور اس توہین آمیز اقرار کی فضا میں سرزنش کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے خلاف انہوں نے یہ موقف کیوں اختیار کررکھا ہے۔ حالانکہ یہ دعوت نصیحت اور نجات کی دعوت ہے ، جس کو قبول کرکے وہ برے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ چناچہ ان کی تصویر کشی ایک نہایت ہی مضحکہ خیز انداز میں پیش کی جاتی ہے کہ یہ اس قدر نفرت کرتے ہیں جس طرح جانور شیروں سے نفرت کرتے ہیں۔ فمالھم ........................ قسورة (49:73 تا 51) آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں ، گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں “۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وہ کس غرور میں مبتلا ہیں ، جو ان کو اس نصیحت آموز دعوت کے قبول کرنے سے روکتا ہے۔ بل یرید ........................ منشرة (52:73) ” بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ہر ایک کے نام الگ خط اور صحیفہ آئے۔ اور اس سے بھی گہرا سبب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر خدا خوفی نہیں ہے۔ کلا بل ................ الاخرة (52:73) ” ہرگز نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے “۔ آخر میں ایک فیصلہ کن قرار داد۔ کلا انہ .................... ذکرہ (55:73) ” ہرگز نہیں ، یہ تو ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کرے “۔ اور نصیحت حاصل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما یذکرون ............................ المغفرة (56:73) ” اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الایہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے “۔ یوں قرآن مجید نے قریش کے ذہنوں سے جاہلیت کے عقائد و تصورات نکالنے کے لئے یہ سخت جدوجہد کی اور قریش کے بغض وعناد کا مقابلہ کیا۔ جو انہوں نے عمداً اسلامی تحریک کے خلاف روارکھا ہوا تھا اور وہ مختلف طریقوں سے قصداً ایسا کررہے تھے۔ اس سورت اور سورة مزمل کے درمیان کئی یکسانیاں بھی ہیں اور سورة قلم بھی انہی جیسی ہے۔ چونکہ ان تینوں سورتوں کا رخ ایک ہی طرف ہے اس لئے ممکن ہے کہ یہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد نازل ہوئی ہوں اور ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہوں۔ ہاں سورة مزمل کا دوسرا حصہ جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعض ساتھیوں کی جسمانی اور روحانی ریاضت اور عبادت کے بارے میں نازل ہوا ، وہ بعد میں نازل ہوا۔ اس سورت کی آیات مختصر ، تیز رفتار اور مختلف القافیہ ہیں۔ کبھی اس میں ٹھہراﺅ ہے اور کبھی تیز رفتار بہاﺅ ہے۔ خصوصاً ایک مکذب کی تصویر کشی کے وقت ، خصوصاً جبکہ وہ سوچتا ہے اور بات کا اندازہ کرتا ہے۔ تیوری چڑھاتا ہے اور منہ بناتا ہے۔ اور دوزخ کا منظر۔ لا تبقی ........................ للبشر (29:73) اور ان کے بھاگنے کا منظر حمر ، مستطرہ ، فرت ، قسورة ، قافے اور زیروبم کے اس تنوع کی وجہ سے اور مناظر اور سایوں کی بوقلمونی کی وجہ سے اس سورت کے اندر ایک خاص ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔ بعض قافیوں کو ختم کرکے دوبارہ شروع کردیا جاتا ہے۔ مثلاً راء ساکنہ ، المدثر ، انذر ، فکبر اور اس کا ترک اور دوبارہ آجانا ، قدر ، بسر ، استکبر ، ستر ، نیز ایک قافیہ سے دوسرے قافیہ کی طرف چلا جانا اور ایک ہی فقرے میں ، خصوصی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، مثلاً فمالھم ........................ قسورة (49:73 تا 51) پہلی آیت میں سوال ہے اور یہ سوال استکاری ہے۔ دوسری اور تیسری آیت میں تصویر کشی اور مزاح ہے۔ اب آیات پر تفصیلی بحث۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi