Surat ul Mudassir
Surah: 74
Verse: 10
سورة المدثر
عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾
For the disbelievers - not easy.
۔ ( جو ) کافروں پر آسان نہ ہوگا ۔
عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾
For the disbelievers - not easy.
۔ ( جو ) کافروں پر آسان نہ ہوگا ۔
Then, when the Naqur is sounded. Truly, that Day will be a Hard Day -- far from easy for the disbelievers. Ibn `Abbas, Mujahid, Ash-Sha`bi, Zayd bin Aslam, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas, As-Suddi and Ibn Zayd, all said, النَّاقُورِ Naqur,"It is the Trumpet." Mujahid said, "It is in the shape of a horn." Ibn Abi Hatim narrated that Abu Sa`id Al-Ashaj told them that Asbat bin Muhammad related to them from Mutarrif, from `Atiyah Al-`Awfi, from Ibn `Abbas, فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ (Then, when the Trumpet is sounded), The Messenger of Allah said, كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُوْمَرُ فَيَنْفُخُ How can I be comfortable when the one with the horn has placed it in his mouth, leaned his forehead forward, and is waiting to be commanded so that he can blow? The Companions of the Messenger of Allah said, "What do you command us, O Messenger of Allah" He replied, قُولُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا Say: "Allah is sufficient for us, and what an excellent Trustee He is. We put our trust in Allah." It has been recorded like this by Imam Ahmad on the authority of Asbat. Concerning Allah's statement, فَذَلِكَ يَوْمَيِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ Truly, that Day will be a Hard Day. meaning, severe. عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ Far from easy for the disbelievers. meaning, it will not be easy for them. This is as Allah says, يَقُولُ الْكَـفِرُونَ هَـذَا يَوْمٌ عَسِرٌ The disbelievers will say: "This a Hard Day." (54:8) We have reported from Zurarah bin Awfa, the judge of Al-Basrah, that he lead the people in the morning prayer and he recited this Surah. Then, when he reached Allah's statement, فَإِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُورِ فَذَلِكَ يَوْمَيِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكَـفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ Then, when the Naqur is sounded. Truly, that Day will be a Hard Day -- far from easy for the disbelievers. he made a moaning sound and then he fell down dead. May Allah have mercy on him.
10۔ 1 یعنی قیامت کا دن کافروں پر بھاری ہوگا کیونکہ اس روز کفر کا نتیجہ انہیں بھگتنا ہوگا، جو جرم وہ دنیا میں کرتے رہے ہونگے۔
[٧] عقیدہ قیامت اور اس کا تصور :۔ اس آیت میں وضاحت یہ ہے کہ جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی قیامت آجائے گی تو یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت ہوگا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن مومنوں کے لیے سخت نہیں ہوگا اور مومنوں کا غالباً یہاں اس لیے ذکر نہیں کیا گیا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی مومنوں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ && لا تقوم الساعۃ الاعلیٰ شرار الخلق && یعنی قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ (مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی)
علی الکفرین غیر یسیر : پہلے ” یوم عسیر “ (وہ ایک مشکل دن ہے) فرمایا، پھر فرمایا :(علی الکفرین غیر یسیر)” جو کافروں پر آسان نہیں ہے۔ “ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشکل ہوتا ہی وہ ہے جو آسان نہ ہو، تو اس صراحت کا مطلب کیا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مشکل دن میں کوئی نہ کوئی آسانی بھی ہوسکتی ہے، یا ممکن ہے شروع میں مشکل ہو مگر پھر آسانی ہوجائے، اس لئے فرمایا کفار کے لئے تو اس دن کوئی آسانی نہیں، نہ شروع میں نہ بعد میں۔ ہاں ، اہل ایمان کے لئے آسانی ہوگی، جیسا کہ فرمایا :(لایحزنھم الفزع الاکبر) (الانبیائ : ١٠٣)” وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں کرے گی۔ “ اور اگر شروع میں کچھ شدت محسوس ہوئی بھی تو بعد میں آسانی ہوجائے گی۔
عَلَي الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ ١٠ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] ، فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] واليُسْرَى: السّهل، وقوله : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] فهذا۔ وإن کان قد أعاره لفظ التَّيْسِيرِ- فهو علی حسب ما قال عزّ وجلّ : فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] . واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] والمَيْسَرَةُ واليَسَارُ عبارةٌ عن الغنی. قال تعالی: فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ [ البقرة/ 280] واليَسَارُ أختُ الیمین، وقیل : اليِسَارُ بالکسر، واليَسَرَاتُ : القوائمُ الخِفافُ ، ومن اليُسْرِ المَيْسِرُ. ( ی س ر ) الیسر کے معنی آسانی ار سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے ۔ اور سختی نہیں چاہتا ۔ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا ۔ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] بلکہ اس سے نرم بات کہیں گے ۔ فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] پھر نر می سے چلتی ہیں ۔ تیسر کذا واستیسرکے معنی آسان ہو نیکے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] اگر رستے میں روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو کردو ۔ فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] تو جتنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لیا کرو ۔ اسی سے الیسرت المرءۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی عورت کے سہولت سے بچہ جننے کے ہیں ۔ یسرت کذا کے معنی کسی کام آسان اور سہل کردینے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ۔ فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] اے پیغمبر یہ قران تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ہے ۔ الیسری اسم بمعنی یسر قرآن پاک میں ہے : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] اس کو ہم آسان طریقے کی توفیقی دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] اسے سختی میں پہنچا ئنگے ۔ میں عسریٰ کے ساتھ تیسیر کا لفظ بطور تحکم لایا گیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] میں عذاب کے متعلق بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن پاک میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً
9 These words by themselves support the conclusion that that Day will be light for the believers, and its hardships will be specially intended only for the deniers of the Truth. Moreover, these words also contain the meaning that the severity of that Day will be of an enduring and permanent nature for disbelievers it will not be a severity which might be expected to become mild with the passage of time.
سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :9 اس ارشاد سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ دن ایمان لانے والوں کے لیے ہلکا ہو گا اور اس کی سختی صرف حق کا انکار کرنے والوں کے لیے مخصوص ہو گی ۔ مزید براں یہ ارشاد اپنے اندر یہ مفہوم بھی رکھتا ہے کہ اس دن کی سختی کافروں کے لیے مستقل سختی ہو گی ، وہ ایسی سختی نہ ہو گی جس کے بعد کبھی اس کے نرمی سے بدل جانے کی امید کی جا سکتی ہو ۔
(74:10) غیر یسیر : غیر حرف استثناء ہے اس کا مستثنیٰ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ یسیر یسر یسر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، بمعنی سہل، آسان، غیر یسیر ہے عسیر کی۔ یہ کافروں کے لئے وعید مزید ہے یہ کافروں کے لئے دنیا کی عسرت کی طرح نہیں ہوگی کہ اس کے بعد یسر کی امید کی جائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن (یعنی روز قیامت) کافروں پر بڑا مشکل ہوگا۔ دنیاوی مشکل کی طرح نہ ہوگا کہ اس مشکل کے بعد آسانی کی امید کی جاسکے۔
علی ................ یسیر (74:10) ” کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا “۔ یہ دن سب کا سب سخت ہوگا۔ اس قدر سخت کہ اس میں کوئی نرمی نہ ہوگی ، لہٰذا یہ سمجھو کہ اس دن بےحد کرب ہوگا ، سخت تنگی ہوگی ، لہٰذا اس کے بارے میں محتاط ہوجاﺅ۔ اور صور سے بچنے سے پہلے تیاریاں کرلو۔ یوں ان کے سامنے اس دن کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اب روئے سخن ایک مخصوص مکذب اور جھٹلانے والے معاند کی طرف پھرجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دعوت اسلامی کا ایک خاص معاند تھا اور دعوت کے خلاف تمام تدابیر یہ کرتا تھا۔ چناچہ اسے سخت دھمکی دی جاتی ہے اور اس کی ایسی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ سننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کون ہے ؟ اس شخص کے پورے خدوخال اس قلمی تصور میں دے دیئے گئے ہیں اور یہ شخصیت صاف صاف الفاظ کے اندر متحرک نظر آتی ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں :
(10) اس دن میں ذرا آسانی نہ ہوگی۔ نقر کے معنی کلام عرب میں آواز دینے کے ہیں عرب کا محاورہ ہے نقرباسم الرجل ، یہاں مراد صور کے ذریعہ ارواح کو بلانا اور جمع کرنا ہے اسی لئے مفسرین کے نزدیک یہاں دوسرا نفخہ مراد ہے یعنی دوبارہ صور میں آواز ماری جائے گی اور سب لوگ زندہ ہوکر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اس دن کو فرمایا کہ وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا جس میں ذرا آسانی نہ ہوگی۔ یہ غیر یسیر تاکید ہے یوم عسیر کی سورة فرقان میں گزرا ہے۔ وکان یوما علی الکافرین عسیراً اب آگے ایک مخصوص کافرولید بن مغیرہ کی خباثت اور اسلام دشمنی کا ذکر ہے۔