Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 41

سورة المدثر

عَنِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

About the criminals,

مجرموں سے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

In Gardens they will ask one another, about criminals (and they will say to them) meaning, while they are in lofty rooms they will ask the criminals, who will be in the lowest levels (of Hell), saying to them, مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ۝ ٤١ ۙ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

32 At several places in the Qur'an above, it has been stated that the dwellers of Paradise and the dwellers of Hell will be able to see and commune with each other directly without the agency of any instrument whenever they will so desire, although they will be living hundreds of thousands of miles away from each other. For instance, see Al-A`raf: 44-50 and E.N. 35, As-Saaffat: 50-57 and E.N. 32 on it.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:41) اگرچہ جنت پر وقف کی علامت ہے لیکن آیت 38 پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے۔ اگر پہلی علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو آیت 39 کا ترجمہ ” سوائے اصحاب یمین کے “ پر جملہ ختم ہوجائے گا۔ اور فی جنت یتساء لون اکٹھا پڑھا جائے گا۔ اور جنت ظرف مکان یتساء لون کا ہوگا۔ اور فی جنت سے قبل ہم محذوف ہوگا اور آیت 41 اس کے ساتھ ہی پڑھی جائے گی۔ اور کلام یوں ہوگا :۔ ہم فی جنت یتساء لون عن المجرمین وہ باغوں میں مجرموں سے پوچھیں گے اور اگر دوسری علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو فی جنت کا ربط جملہ ما سبق سے ہوگا۔ اور کلام یوں ہوگا۔ الا اصحب الیمین فی جنت سوائے اصحاب یمین کے جو جنتوں میں ہوں گے۔ آیت 38 تا 42 کا باربط ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے سوائے اصحب الیمین کے کہ وہ باغہائے بہشت میں ہوں گے اور گنہگاروں سے پوچھتے ہوں گے۔ یتساء لون بمعنی یتسالون ہے (قرطبی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب عن ٗالحرمین میں عن کو زائد مانا جائے اور اسے زائد منایا جائی تو ترجمہ لف ہوگا وہ آپس میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں دریافت کریں گے (یہ کہتے ہوئے کہ )……“

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یہ سوال تقریعا ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) گنہگاروں سے ان کا حال۔ یعنی یہ حضرات بہشت کے باغوں میں ہوں گے آٹھویں پارے میں اہل جہنم اور اہل جنت کی گفتگو کا ذکر ہوچکا ہے اسی گفتگو کا ایک حصہ یہاں مذکور ہے مجرمین سے اہل جنت دریافت کریں گے۔