Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 54

سورة المدثر

کَلَّاۤ اِنَّہٗ تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۵۴﴾

No! Indeed, the Qur'an is a reminder

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ( قرآن ) ایک نصیحت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nay, verily, this is an admonition. meaning, truly the Qur'an is a reminder. فَمَن شَاء ذَكَرَهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

54۔ 1 لیکن اس کے لئے جو اس قرآن کے واعظ اور نصیحت سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

کلا انہ تذکرۃ…: یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہرگز درست کی ، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَلَّآ اِنَّہٗ تَذْكِرَۃٌ۝ ٥٤ ۚ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ تَّذْكِرَةُ والتَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . ( ذک ر ) تَّذْكِرَةُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 That is, no such demand of theirs will ever be fulfilled.

سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :40 یعنی ان کا ایسا کوئی مطالبہ ہرگز پورا نہ کیا جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:54) کلا۔ کلمہ روع۔ (باز داشت، روکنا، جھڑکی، سرزنش) ہے ان کی بےباکی پر۔ ایک باز داشت ہے۔ یا گذشتہ کلا کی تاکید ہے۔ انہ تذکرۃ : میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن مجید ہے۔ تذکرۃ یادداشت نصیحت، یاد کرنے کی چیز۔ اللہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی صفات اور رحمت و عذاب کا اس میں ذکر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کلا انہ ............................ ذکرہ یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔ یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” کلا انہ تذکرۃ “ کلا حرف ردع ہے یا بمعنی حقا یقینا قرآن تذکرہ ہے اور عبرت و نصیحت اور راہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے اس کی موجودگی میں کسی دوسری کتاب یا تحریر کی کوئی ضرورت نہیں۔ فمن شاء ذکرہ، اب جو چاہے اسے پڑھے، بار بار دہرائے اور اس پر عمل کر کے دین و دنیا کی سعادت حاصل کرلے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(54) ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ قرآن سراسر پندونصیحت ہے۔