Surat ul Qiyama

Surah: 75

Verse: 2

سورة القيامة

وَ لَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ ؕ﴿۲﴾

And I swear by the reproaching soul [to the certainty of resurrection].

اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nay! I swear by the Day of Resurrection. And nay! I swear by An-Nafs Al-Lawwamah. Qatadah said, "This means, I swear by both of these things." This has also been reported from Ibn `Abbas and Sa`id bin Jubayr. Concerning the Day of Judgement, it is well known what it is. In reference to An-Nafs Al-Lawwamah, Qurrah bin Khalid reported from Al-Hasan Al-Basri that he said about this Ayah, "Verily, by Allah, we think that every believer blames himself. He says (questioning himself), `What did I intend by my statement What did I intend by my eating? What did I intend in what I said to myself?' However, the sinner proceeds ahead and he does not blame himself." Ibn Jarir recorded from Sa`id bin Jubayr that he said concerning Allah's statement, وَلاَ أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (And nay! I swear by An-Nafs Al-Lawwamah) "He criticizes himself in good and bad." Similar has been reported from `Ikrimah. Ibn Abi Najih reported from Mujahid: "He is sorry for what he missed (of good deeds) and he blames himself for it." Allah said; أَيَحْسَبُ الاِْنسَانُ أَلَّن نَجْمَعَ عِظَامَهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا ؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] نفس انسانی کی تین حالتیں :۔ نفس انسانی کی تین مختلف قسمیں یا حالتیں ہیں اور یہ سب قرآن کی مختلف آیات سے ثابت ہیں۔ نفس کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ عموماً بری باتوں کا ہی انسان کو حکم دیتا ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف ذاتی مفادات کا حصول، اپنی بڑائی اور اپنی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا وہ دوسروں کے حقوق و مفادات کی پروا کیے بغیر خواہشات پیدا کرتا اور ان کو پورا کرنے کے لیے انسان کو اکساتا رہتا ہے۔ نفس کی ایسی حالت کو نفس امارۃ کہا گیا ہے (١٢: ٥٣) پھر جب اس نفس کی کسی حد تک اصلاح ہوجاتی ہے تو اسے کوئی برا کام کرلینے کے بعد ایک طرح کی ندامت اور خفت کا احساس ہونے لگتا ہے تو نفس کی اس حالت کو ہی اس آیت میں نفس لوامہ یا ملامت کرنے والا نفس کہا گیا ہے اور اسے ہی ہم آج کی زبان میں ضمیر کہتے ہیں۔ پھر جب نفس کی پوری طرح اصلاح ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو اسے برے کاموں سے نفرت اور چڑ سی ہوجاتی ہے۔ اور بھلائی کے کاموں میں ہی اس کا دل لگتا ہے۔ انہی میں وہ اپنی خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ ایسے نفس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (٨٩: ٢٧) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی۔ کیونکہ انسان کے نفس میں برے اور بھلے کی پوری تمیز موجود ہے۔ پھر اسی تمیز کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے۔ برے کام کا نتیجہ برا اور بھلے کام کا نتیجہ بھلا ہونا چاہیے۔ اور یہی قیامت اور آخرت کا اصل مقصد ہے۔ بالفاظ دیگر تمہارا نفس لوامہ بھی اس بات پر دلیل ہے کہ قیامت ضرور واقع ہونی چاہیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Interpretation of Lawwarnah Sayyidna Ibn ` Abbas, Hasan al-Basri and others have expressed the view that Allah has sworn an oath by the self-reproaching conscience in order to show honour for the believing souls who take account of their deeds, regret, and feel sorry for, their shortcomings and reproach themselves. Three kinds of Nafs The foregoing interpretation of An-nafs-ul-lawwamah embraces An-nafs-ul-mutma` innah. The two terms are titles of a God-fearing person. In Sufi terminology, we come across the following concepts. The noble Sufis say that man in his nature goes through three stages of human development. The first stage is called ] An-nafs-ul-ammarah &the self that tempts (to evil) & as said by the Holy Qur&an: اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ &...Surely, man&s inner self often incites to evil_[ 12:53] & The second stage of development is called An-nafs-ul-lawwamah &the self that blames& - translated above as &the self-reproaching conscience&. The first stage is developed into the second stage when the traveler perform righteousness, and exerts himself in riyadah &ascetic discipline& and mujahadah &spiritual struggle&. This Self is conscious of its own imperfections. It regrets its evils and shortcomings, but it is not completely cut off from the evils. The third and highest stage of development is called An-nafs-ul-mutma&innah &the self at peace&. This self develops into this stage when it progressively performs righteousness and attains Divine nearness and applies the sacred laws of Shari` ah so rigorously that Shari&ah becomes his nature and develops a natural hatred for anything contrary to Shari` ah . The title of the self at this stage is mutma&innah.

نفس لوامہ کی تفسیر۔ حضرت ابن عباس اور حس بصری وغیرہ کی اس تفسیر پر نفس لوامہ کی قسم کھانا حق تعالیٰ کی طرف سے ایسے نفوس مومنہ کے اکرام وشرف کے اظہار کے لئے ہے جو خود اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے کوتاہی پر نادم ہوتے اور اپنے کو ملامت کرتے ہیں۔ نفس لوامہ اور مطمئنہ۔ اور نفس لوامہ کی اس تفسیر کے مطابق یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے لوامہ اور مطمئنہ دونوں نفسم متقی کے لقب ہیں۔ نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ اور حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت و فطرت کے اعتبار سے امارة بالسو ہوتا ہے یعنی انسان کو برے کاموں کی طرف بلانے اور اسمیں مبتلا کرنے کا داعی ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ نفس لوامہ بنجاتا ہے کہ برائی اور کوتاہی پر نادم ہونے لگتا ہے مگر برائی سے بالکیہ انقطاع اس کا نہیں ہوتا۔ آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق تعالیٰ کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت بن جائے اور خلاف شرع کام طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب مطمئنہ ہوجاتا ہے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۝ ٢ ۭ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ لوامة وقوله : وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 2] قيل : هي النّفس التي اکتسبت بعض الفضیلة، فتلوم صاحبها إذا ارتکب مکروها، فهي دون النّفس المطمئنة وقیل : بل هي النّفس التي قد اطمأنّت في ذاتها، وترشّحت لتأديب غيرها، فهي فوق النّفس المطمئنة، ويقال : رجل لُوَمَةٌ: يَلُومُ الناسَ ، ولُومَةٌ: يَلُومُهُ الناسُ ، نحو سخرة وسخرة، وهزأة وهزأة، واللَّوْمَةُ : الْمَلَامَةُ ، واللَّائِمَةُ : الأمر الذي يُلَامُ عليه الإنسان . اور آیت کریمہ : وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 2] اور نفس لوامہ کی قسم ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے ۔ کہ نفسلوامہ سے مراد نفس ہے جس نے کچھ فضائل حاصل کرلئے ہوں اور کسی غلطی کے ارتکاب پر صاحب نفس کو ملامت کرے ۔ اس لحاظ سے لوامہ کا درجہ مطمئنہ سے کم ہوگا ۔ بعض نے کہا ہے کہ نفس لوامہ اس کو کہتے ہیں جو مذات خود مطمئن ہو ۔ علاوہ ازیں اس میں دوسروں کو تادیب کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوچکی ہو ۔ اس لحاظ سے یہ نفس مطمئنہ سے افضل ہوگا ۔ کرے مگر لومۃ ( بسکون واؤ ) وہ ہے جسے لوگ ملامت کرتے ہوں ۔ جیسا کہ سخرۃ وسخورۃ اور ھزءۃ وہ ھزءۃ میں فرق پایا جاتا ہے ۔ اللومۃ کے معنی ملامت کے ہیں ۔ اور لائمۃ اس فعل کو کہتے ہیں ۔ جس ارتکاب کرنے پر انسان قابل ملامت سمجھا جائے ۔ ( ل و ن )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ۔ } ” اور نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ “ نفس ِلوامہ ّکے لغوی معنی ہیں ملامت کرنے والا نفس۔ اس سے مراد انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرف عام میں ضمیر (conscience) کہتے ہیں۔ اس آیت میں نفس لوامہ یا انسانی ضمیر کو قیام قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انسانی نفس لوامہ یا ضمیر ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان ‘ کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا۔ ” میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے “ یا ” My conscience is biting me “ جیسے جملے دنیا بھر کے انسانوں کے ہاں بولے اور سمجھے جاتے ہیں ۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ اگر آپ کوئی غلط یا برا کام کریں تو اندر سے کوئی چیز کیوں بار بار آپ کے دل و دماغ میں چبھن پیدا کرتی ہے ؟ اور بعض اوقات اس چبھن کے تسلسل و تکرار کی وجہ سے آپ کی نیند تک کیوں اُڑ جاتی ہے ؟ اگر کوئی نیکی نیکی نہیں اور کوئی برائی برائی نہیں تو برے کام پر آپ کے اندر کی یہ چبھن یا خلش آخر آپ کو کیوں تنگ کرتی ہے ؟ چناچہ نیکی اور بدی کے الگ الگ وجود کا سب سے بڑا اور آفاقی سطح پر مسلمہ ثبوت انسانی نفس کی ملامت یا ضمیر کی خلش ہے ۔ اور اگر یہ حقیقت تسلیم کرلی جائے کہ نیکی نیکی ہے اور بدی بدی ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسانوں کے نیک اور برے اعمال کا حتمی اور قطعی نتیجہ نکلنا بھی ناگزیر ہے۔ دوسری طرف اس حوالے سے زمینی حقائق سب کے سامنے ہیں۔ یعنی دنیا میں ایسا کوئی حتمی اور قطعی نتیجہ نہ تو نکلتا ہے اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔ اس دلیل کی روشنی میں اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ہر انسان کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دینے کے لیے ایک دوسری دنیا یعنی آخرت کا وجود میں لایا جانا ناگزیر ہے۔ چناچہ قیامت ‘ آخرت یا بعث بعد الموت کی سب سے بڑی دلیل خود انسان کے اندر موجود ہے ‘ اور وہ ہے انسان کا نفس لوامہ یا اس کا ضمیر۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 The Qur'an has mentioned three kinds of human self: (1) Ammarah: the self that urges man to evil; (2) Lawwamah: the self that feels repentant at doing wrong, thinking wrong and willing wrong and reproaches man for this; and the same is called Conscienc in modern terminology; and (3) Mumta'innah: the self that feels full satisfaction at following the right path and abandoning the wrong path. Here. the thing for which. Allah has sworn an oath by the Resurrection (al- Qiyamah) and the self-reproaching Self, has not been mentioned, for the following sentence itself points it out. The oath has been sworn to stress the truth that Allah will certainly resurrect man after death and He has full power to do so. Now, the question arises: What is the relevance of swearing an oath by these two truths to this thing? As for the Day of Resurrection, the reason of swearing by it is certainty. The whole system of the universe testifies that it is neither eternal nor everlasting. Its own nature tells that it has neither existed since eternity nor can last till eternity. Human intellect has never had any strong argument to support the baseless view that this ever changing world could have existed since ever and would last for ever. But as the knowledge of man about this world goes on increasing, ii goes on becoming more and more certain for man himself that this workhouse of life had a beginning in time before which it was not, and necessarily it has also an end in time after which it will not be. For this reason, Allah has sworn an oath by Resurrection itself on the occurrence of Resurrection, and this is an oath of the kind that we might swear addressing a sceptical person, who may be sceptical about his own existence, saying: "By you yourself, you exist, i.e., your own being itself testifies that you exist. " But an oath by the Day of Resurrection is only an argument for the truth that this system will one day be upset. As for the truth that after that man shall be resurrected and called upon to account for his deeds and made to see the good or evil results thereof, another oath has been sworn by the self reproaching soul. No man exists in the world, who may not have a faculty called Conscience in him. This Conscience is necessarily conscious of the good and evil, and no :natter how perverted and degraded a man might be, his Conscience always checks him on doing evil and for not doing good irrespective of the fact whether the criterion of good and evil that he had set for himself might in itself be right or wrong. This is an express pointer that man is not merely an animal but a moral being. He naturally can distinguish good from evil; he regards himself as responsible for the good or the evil he does; and even if he might feel pleased suppressing the reproaches of his Conscience over the evil he has done to another, he, on the contrary, feels and demands from within that the other one who has done the same evil to him, must deserve punishment. Now, if the existence of a self-reproaching soul of this kind in tnan himself is an undeniable truth, then this truth too is undeniable that the same self-reproaching soul is an evidence of the life hereafter, which exists in man's own nature itself. For this demand of nature that man must be rewarded or punished for his good or evil deeds for which he himself is responsible, cannot be met in any other way than in the life hereafter. No sensible tnan can deny that if man becomes non existent after death, he will certainly be deprived of the rewards of his good deeds and escape the just and lawful punishment of many of his evil deeds. Therefore, unless one comes to believe in the absurd idea that a rational being like tnan has stumbled into an irrational system of the universe and a moral being like tnan has happened to be born in a world which basically has nothing to do with morality, he cannot deny the life hereafter. Likewise, the philosophy of the transmigration of souls also is no reply to this demand of nature, for if man goes on being born and reborn in this very world for the sake of being rewarded and punished for his moral acts, in every cycle of life he will perform some additional moral acts, which again will nerd to be rewarded and punished, thus making his account snore and snore lengthy and complicated in an endless way instead of being settled tidally and for good. Therefore, this demand of nature is fulfilled only in case man in this world should have only one life and then, after the whole human race has been brought to an end, there should be another life in which alI acts of man should be judged and assessed rightly and justly and he should be fully rewarded or punished in consequence thereof. (For further explanation, see E.N. 30 of Surah Al-A'raf) .

سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :2 قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے ۔ اس کا نام نفس امارہ ہے ۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے ۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں ۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے ۔ اس کا نام نفس مطمئنہ ہے ۔ اس مقام پر اللہ تعالی نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے ۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالی انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے؟ جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے ، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے ۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی ۔ اس کی نوعیت ہی خود یہ بتا رہی ہے کہ یہ نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے ۔ انسان کی عقل پہلے بھی اس گمان بے اصل کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہ پاتی تھی کہ یہ ہر آن بدلنے و الی دنیا کبھی قدیم اور غیر فانی بھی ہو سکتی ہے ، لیکن جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ یہ امر خود انسان کے نزدیک بھی یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس ہنگامئہ ہست و بو کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا ، اور لازماً اس کی ایک انتہا بھی ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا ۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت ہی کی قسم کھائی ہے ، اور یہ ایسی قسم ہے جیسے ہم کسی شکی انسان کو جو اپنے موجود ہونے ہی میں شک کر رہا ہو ، خطاب کر کے کہیں کہ تمہاری جان کی قسم تم موجود ہو ، یعنی تمہارا وجود خود تمہارے موجود ہونے پر شاہد ہے ۔ لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا ۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد پھر انسان دوباوہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا اور وہ اپنے کیے کا اچھا یا برا نتیجہ دیکھے گا ، تو اس کے لیے دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے ۔ کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو ۔ اس ضمیر میں لازماً بھلائی اور برائی کا ایک احساس پایا جاتا ہے ، اور چاہے انسان کتنا ہی بگڑا ہوا ہو ، اس کا ضمیر اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے بھلائی اور برائی کا جو معیار بھی قرار دے رکھا ہو وہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے ، اس کے اندر فطری طور پر بھلائی اور برائی کی تمیز پائی جاتی ہے ، وہ خود اپنے آپ کو ا پنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے ، اور جس برائی کا ارتکاب اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو اس پر اگر وہ اپنے ضمیر کی ملامتوں کو دبا کر خوش بھی ہو لے ، تو اس کے برعکس صورت میں جبکہ اسی برائی کا ارتکاب کسی دوسرے نے اس کے ساتھ کیا ہو ، اس کا دل اندر سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس زیادتی کا مرتکب ضرور سزا کا مستحق ہونا چاہیے ۔ اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے ، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی کے بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے ۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے ان کی جزا یا سزا اس کو ضرور ملنی چاہیے ، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہو سکتا ۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ مرنے کے بعد اگر آدمی معدوم ہو جائے تو اس کی بہت سی بھلائیاں ایسی ہیں جن کے اجر سے وہ لازماً محروم رہ جائے گا ۔ اور اس کی بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کی منصفانہ سزا پانے سے وہ ضرور بچ نکلے گا ۔ اس لیے جب تک آدمی اس بیہودہ بات کا قائل نہ ہو کہ عقل رکھنے والا انسان ایک غیر معقول نظام کائنات میں پیدا ہو گیا ہے اور اخلاقی احساسات رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں جنم لیے بیٹھا ہے جو بنیادی طور پر اپنے پورے نظام میں اخلاق کا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی ، اس وقت تک وہ حیات بعد موت کا انکار نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح تناسخ یا آواگون کا فلسفہ بھی فطرت کے اس مطالبے کا جواب نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر انسان اپنے اخلاقی اعمال کی سزا یا جزا پانے کے لیے پھر اسی دنیا میں جنم لیتا چلا جائے تو ہر جنم میں وہ پھر کچھ مزید اخلاقی اعمال کرتا چلا جائے گا جو نئے سرے سے جزا و سزا کے متقاضی ہوں گے ۔ اور اس لامتناہی سلسلے میں بجائے اس کے کہ اس کا حساب کبھی چک سکے ، الٹا اس کا حساب بڑھتا ہی چلا جائے گا ۔ اس لیے فطرت کا یہ تقاضا صرف اسی صورت میں پورا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی صرف ایک زندگی ہو ، اور پھر پوری نوع انسانی کا خاتمہ ہو جانے کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں انسان کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب کر کے اسے پوری جزا اور سزا دی جائے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف حاشیہ 30 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: ملامت کرنے والے نفس سے مراد اِنسان کا وہ ضمیر ہے جو اُسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس اِنسان کی اُس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور اِرادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفسِ اَمّارہ یعنی بُرائی پر مائل کرنے والا(دیکھئے :۲۱:۵۳)۔ دوسرے نفسِ لوَّامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے، اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور بُرائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے ۸۹:۲۷)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور بُرائی کے تقاضے اُس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اﷲ تعالیٰ نے نفسِ لوَّامہ کی قسم کھائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسام کی طبیعت میں اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا مادّہ رکھا ہے۔ جو اُسے بُرائی پر ملامت کرتا رہتا ہے۔ اِنسان کو غور کرنا چاہئے کہ یہ ملامت کرنے والی چیز جو خود اُس کے وجود میں رکھی ہوئی ہے، خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات نے اُسے پیدا کیا ہے، اُس نے ساتھ ساتھ اُس کو ایک تنبیہ کرنے والا وجود عطا فرما دیا ہے۔ اگر آخرت آنے والی نہ ہوتی، اور اِنسان کو اُس کے اچھے بُرے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہ ہوتا تو اس نفس لوَّامہ کی کیا ضرورت تھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(75:2) ولا اقسم بالنفس اللوامۃ : اور قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ النفس اللوامۃ موصوف و صفت۔ اللوامۃ، لام یلوم لوم (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مؤنث مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ملامت کرنے والی۔ النفس اللوامۃ سے کیا مراد ہے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) النفس اللوامۃ میں لام جنسی ہے ہر نفس مراد ہے (کافر ہو یا مؤمن) نیک یو یا بد۔ فراء نے کہا ہے کہ ہر شخص نیک ہو یا بد قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ اگر اس نے اچھے کام کئے ہوں گے تو نفس سے کہے گا۔ اس سے زیادہ تو نے نیکی کیوں نہیں کی ! اور بدی کی ہوگی تو کہے گا تو نے برے کام کیوں کئے ۔ (فرائ) (2) اس سے کافر مراد ہے ہر کافر قیامت کے دن اپنے نفس کو برا کہے گا کہ دنیا میں حقوق اللہ کی ادائیگی میں اس نے قصور کیوں کیا۔ (مقاتل) قتادہ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ (3) نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر۔ آیت میں ہر شخص مراد ہے کیونکہ کسی شخص کو سکھ پر قرار ہے نہ دکھ پر، خیر ہو یا شر ہر شخص اپنے کو برا ہی کہتا ہے۔ (سعید بن جبیر، عکرمہ) (4) نفس لوامہ مومن کا نفس ہے جو ہر وقت اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے خواہ کتنی ہی نیکی کرے۔ کہتا ہے کہ اس سے زیادہ کیوں نہ کی ۔ (حسن بصری، مجلی) (5) صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ نفس سرکش کو نفس امارہ کہتے ہیں جو امر کا مبالغہ ہے کیونکہ وہ ہر وقت برے کاموں کا حکم کرتا رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی یاد میں کوشاں ہوجاتا ہے تو موالیٰ کریم کی خصوصی توجہ اور جذب سے اس پر اس کے عیوب و نقائص منکشف ہوجاتے ہیں اس پر وہ پشیمان ہوتا ہے اور اپنے آپ کو برا بھلا کہتا ہے اس نفس کو نفس لوامہ کہتے ہیں اور جب وہ ہر ماسوائے اللہ سے قطع تعلق کرلیتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے تو اس کو نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ فائدہ : یہاں دو قسمیں کھائی گئی ہیں لیکن مقسم بہٖ محذوف ہے ای لتبعثن کہ تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 چونکہ قیامت کے دن ہی اس ملامت کا ظہور ہوگا حتی کہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نیک لوگ بھی اپنے آپ کو ملامت کرینگے کہ کیوں نہ زیادہ نیکی حاصل کرلی اس لئے مجازاۃ کے وقوع پر ” نفس لوامۃ “ کی قسم کھا کر اس کو بطور شاہد پیش کیا ہے۔ (راز) اور یوم قیامت چونکہ مجازۃ کا ظرف ہوگا لہٰذا اس کا تعلق بھی ظاہر ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” آدمی کا جی اول کھیل اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو کہتے ہیں ” امارۃ بالسوء “ (سورۃ یوسف 53) پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھا تو باز آیا۔ کبھی اپنی خو پر دوڑ پڑا۔ پیچھے پھر آپ کو الاہنا دیا (ملامت کی) ویسا جی ہے لوامہ پھر جب پورا سنور گیا دل سے رغبت نیکی ہی پر رہی بیہودہ کام سے آپ ہی بھاگے اور ایذا کھینچے۔ ویسے کا نام ہے مطمئنہ (الفجر 27،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ جواب قسم محذوف ہے، یعنی تم ضرور مبعوث ہوگے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اورقسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہے (کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے) یعنی کفار عام طور سے قیامت کا انکار کرتے ہیں اور ان کو قیامت کا یقین نہیں آتا اور یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب دینے کے قائل نہیں ہوتے اور گھبراتے ہیں اس لئے نہایت سختی سے اس کا انکار کرتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے شبہات پیش کرتے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ یہ اس بات سے اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہیں کہ وہ انسان کو اس کے مرے پیچھے زندہ نہیں کرسکتا حضرت حق تعالیٰ نے اس سورت میں قسم کھا کر ان کے تاکیدی انکار کر رد کیا ہے۔ چنانچہ پہلی قسم تو روز قیامت کی کھائی اور دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی چونکہ لوامہ نفس کی اس حالت کا نام ہے جو اپنی تقصیرات اور اپنی کوتاہیوں پر ملامت کیا کرتا ہے یہی ملامت اور پشیمانی اور اپنے کئے پر پچھتانے کا جس روز بدرجہ اتم ظہور ہوگا اسی کو قیامت کہتے ہیں اس لئے نفس لوامہ کی قسم کھائی آخر انسان میں ایک طاقت موجود ہے جو غلطی کا اعتراف کرتی ہے اور اپنے قصور پر نادم ہوتی ہے بس اس کی قسم کھانا مقام کے اعتبار سے نہایت ہی مناسب ہے قرآن میں نفس کی تین حالتوں کا ذکر ہے۔ نفس امارہ، لوامہ اور نفس مطمئنہ اگرچہ بعض مفسرین نے نفس انسانی کی تین قسمیں بتائی ہیں اور ان کا نام نفس مقدس ، نفس منطبعہ اور نفس ناطقہ بتایا ہے پھر ان نفوس ثلاثہ کی تفصیل بیان کی ہے لیکن ہم نے تطویل کے خوف سے مختصراً عرض کرتے ہیں کہ اگر نفس برائی پر ابھارے اور شریعت مقدسہ کے خلاف ترغیب دے تو اس کو امارہ کہتے ہیں اور اگر شریعت کے موافق مشورہ اور نیک کاموں کی ترغیب دیتا رہے تو اس کو مطمئنہ کہتے ہیں جیسا کہ سورة فجر میں آجائے گا۔ (انشاء اللہ تعالیٰ ) اور تیسری حالت یہ ہے کہ کوتاہیوں اور غلطیوں پر ملامت کرنے والا ہے اس کو لوامہ کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی رغبت نہیں کرتا ایسے جی کو کہتے ہیں امارہ بسو۔ پھر ہوش پکڑا نیک بد سمجھا تو باز آیا کبھی اپنی خو پر دوڑا پڑا پیچھے پھر آپ کو الاہنا دیا ایسا جی ہے لوامہ ، پھر جب پورا سنور گیا دل سے رغبت نیکی ہی پر ہے بیہودہ کام سے آپ ہی بھاگے اور ایذا کھینچے ایسے کا نام ہے مطمئنہ۔