2 The Qur'an has mentioned three kinds of human self:
(1) Ammarah: the self that urges man to evil;
(2) Lawwamah: the self that feels repentant at doing wrong, thinking wrong and willing wrong and reproaches man for this; and the same is called Conscienc in modern terminology; and
(3) Mumta'innah: the self that feels full satisfaction at following the right path and abandoning the wrong path. Here. the thing for which. Allah has sworn an oath by the Resurrection (al- Qiyamah) and the self-reproaching Self, has not been mentioned, for the following sentence itself points it out. The oath has been sworn to stress the truth that Allah will certainly resurrect man after death and He has full power to do so. Now, the question arises: What is the relevance of swearing an oath by these two truths to this thing? As for the Day of Resurrection, the reason of swearing by it is certainty. The whole system of the universe testifies that it is neither eternal nor everlasting. Its own nature tells that it has neither existed since eternity nor can last till eternity. Human intellect has never had any strong argument to support the baseless view that this ever changing world could have existed since ever and would last for ever. But as the knowledge of man about this world goes on increasing, ii goes on becoming more and more certain for man himself that this workhouse of life had a beginning in time before which it was not, and necessarily it has also an end in time after which it will not be. For this reason, Allah has sworn an oath by Resurrection itself on the occurrence of Resurrection, and this is an oath of the kind that we might swear addressing a sceptical person, who may be sceptical about his own existence, saying: "By you yourself, you exist, i.e., your own being itself testifies that you exist. " But an oath by the Day of Resurrection is only an argument for the truth that this system will one day be upset. As for the truth that after that man shall be resurrected and called upon to account for his deeds and made to see the good or evil results thereof, another oath has been sworn by the self reproaching soul. No man exists in the world, who may not have a faculty called Conscience in him. This Conscience is necessarily conscious of the good and evil, and no :natter how perverted and degraded a man might be, his Conscience always checks him on doing evil and for not doing good irrespective of the fact whether the criterion of good and evil that he had set for himself might in itself be right or wrong. This is an express pointer that man is not merely an animal but a moral being. He naturally can distinguish good from evil; he regards himself as responsible for the good or the evil he does; and even if he might feel pleased suppressing the reproaches of his Conscience over the evil he has done to another, he, on the contrary, feels and demands from within that the other one who has done the same evil to him, must deserve punishment. Now, if the existence of a self-reproaching soul of this kind in tnan himself is an undeniable truth, then this truth too is undeniable that the same self-reproaching soul is an evidence of the life hereafter, which exists in man's own nature itself. For this demand of nature that man must be rewarded or punished for his good or evil deeds for which he himself is responsible, cannot be met in any other way than in the life hereafter. No sensible tnan can deny that if man becomes non existent after death, he will certainly be deprived of the rewards of his good deeds and escape the just and lawful punishment of many of his evil deeds. Therefore, unless one comes to believe in the absurd idea that a rational being like tnan has stumbled into an irrational system of the universe and a moral being like tnan has happened to be born in a world which basically has nothing to do with morality, he cannot deny the life hereafter. Likewise, the philosophy of the transmigration of souls also is no reply to this demand of nature, for if man goes on being born and reborn in this very world for the sake of being rewarded and punished for his moral acts, in every cycle of life he will perform some additional moral acts, which again will nerd to be rewarded and punished, thus making his account snore and snore lengthy and complicated in an endless way instead of being settled tidally and for good. Therefore, this demand of nature is fulfilled only in case man in this world should have only one life and then, after the whole human race has been brought to an end, there should be another life in which alI acts of man should be judged and assessed rightly and justly and he should be fully rewarded or punished in consequence thereof. (For further explanation, see E.N. 30 of Surah Al-A'raf) .
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :2
قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے ۔ اس کا نام نفس امارہ ہے ۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے ۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں ۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے ۔ اس کا نام نفس مطمئنہ ہے ۔
اس مقام پر اللہ تعالی نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے ۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالی انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے؟
جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے ، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے ۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی ۔ اس کی نوعیت ہی خود یہ بتا رہی ہے کہ یہ نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے ۔ انسان کی عقل پہلے بھی اس گمان بے اصل کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہ پاتی تھی کہ یہ ہر آن بدلنے و الی دنیا کبھی قدیم اور غیر فانی بھی ہو سکتی ہے ، لیکن جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ یہ امر خود انسان کے نزدیک بھی یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس ہنگامئہ ہست و بو کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا ، اور لازماً اس کی ایک انتہا بھی ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا ۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت ہی کی قسم کھائی ہے ، اور یہ ایسی قسم ہے جیسے ہم کسی شکی انسان کو جو اپنے موجود ہونے ہی میں شک کر رہا ہو ، خطاب کر کے کہیں کہ تمہاری جان کی قسم تم موجود ہو ، یعنی تمہارا وجود خود تمہارے موجود ہونے پر شاہد ہے ۔
لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا ۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد پھر انسان دوباوہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا اور وہ اپنے کیے کا اچھا یا برا نتیجہ دیکھے گا ، تو اس کے لیے دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے ۔ کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو ۔ اس ضمیر میں لازماً بھلائی اور برائی کا ایک احساس پایا جاتا ہے ، اور چاہے انسان کتنا ہی بگڑا ہوا ہو ، اس کا ضمیر اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے بھلائی اور برائی کا جو معیار بھی قرار دے رکھا ہو وہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے ، اس کے اندر فطری طور پر بھلائی اور برائی کی تمیز پائی جاتی ہے ، وہ خود اپنے آپ کو ا پنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے ، اور جس برائی کا ارتکاب اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو اس پر اگر وہ اپنے ضمیر کی ملامتوں کو دبا کر خوش بھی ہو لے ، تو اس کے برعکس صورت میں جبکہ اسی برائی کا ارتکاب کسی دوسرے نے اس کے ساتھ کیا ہو ، اس کا دل اندر سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس زیادتی کا مرتکب ضرور سزا کا مستحق ہونا چاہیے ۔ اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے ، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی کے بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے ۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے ان کی جزا یا سزا اس کو ضرور ملنی چاہیے ، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہو سکتا ۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ مرنے کے بعد اگر آدمی معدوم ہو جائے تو اس کی بہت سی بھلائیاں ایسی ہیں جن کے اجر سے وہ لازماً محروم رہ جائے گا ۔ اور اس کی بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کی منصفانہ سزا پانے سے وہ ضرور بچ نکلے گا ۔ اس لیے جب تک آدمی اس بیہودہ بات کا قائل نہ ہو کہ عقل رکھنے والا انسان ایک غیر معقول نظام کائنات میں پیدا ہو گیا ہے اور اخلاقی احساسات رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں جنم لیے بیٹھا ہے جو بنیادی طور پر اپنے پورے نظام میں اخلاق کا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی ، اس وقت تک وہ حیات بعد موت کا انکار نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح تناسخ یا آواگون کا فلسفہ بھی فطرت کے اس مطالبے کا جواب نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر انسان اپنے اخلاقی اعمال کی سزا یا جزا پانے کے لیے پھر اسی دنیا میں جنم لیتا چلا جائے تو ہر جنم میں وہ پھر کچھ مزید اخلاقی اعمال کرتا چلا جائے گا جو نئے سرے سے جزا و سزا کے متقاضی ہوں گے ۔ اور اس لامتناہی سلسلے میں بجائے اس کے کہ اس کا حساب کبھی چک سکے ، الٹا اس کا حساب بڑھتا ہی چلا جائے گا ۔ اس لیے فطرت کا یہ تقاضا صرف اسی صورت میں پورا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی صرف ایک زندگی ہو ، اور پھر پوری نوع انسانی کا خاتمہ ہو جانے کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں انسان کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب کر کے اسے پوری جزا اور سزا دی جائے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف حاشیہ 30 ) ۔