Surat ul Qiyama

Surah: 75

Verse: 31

سورة القيامة

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰی ﴿ۙ۳۱﴾

And the disbeliever had not believed, nor had he prayed.

اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فلا صدق ولاصلی…:” یتمطی “ ” م ط و “ سے ” تمطی “ کا مضارع ہے۔” مطا “ کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔” اولی “ ” و ل ی “ سے اسم تفصیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ (٢) ” فلاصدق “ (سو نہ اس نے سچ مان) میں ضمیر ” الانسان “ کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر ” ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ “ میں ذکر ہے ۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بےبس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہوناپ ڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لئے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ قعیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی روش درست کی، بلکہ رات کو اور پیدا کرنے والے کو جھٹلایا اور ماننے کے بجائے منہ پھیر کر چلا گیا اور عجز و بندگی اختیار کرن کے بجائے گھر گیا تو اکڑتا ہوا گیا۔ (٢) اولی لک فاولی : اس آیت کی سب سے بہتر تفسیر وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ اس کافر کو جس نے اپنے خلاق سے کفر کیا اور متکبرانہ چلا چلا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے طنز اور دھمکی کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے جھٹلا دیا اور اپنے خلاق سے کفر کی جرأت کرچکا تو تیرا حق بنتا ہے کہ یہ چلا چلے اور یہی چال تیرے لائق ہے۔ ہم تمہاری چال دیکھ رہے ہیں اور تمہیں اس کا نتیجہ مل جائے گا، جیسا کہ فرمایا، (کلوا وتمثعوا قلیلاً انکم مجرمون) (المرسلات : ٣٦)” کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا، یقیناً تم مجرم ہو۔ “ اور فرمایا :(کلوا وتمتعوا قلیلاً انکم مجرمون) (المرسلات : ٣٦)” کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا یقینا تم مجرم ہے۔ “ اور فرمایا :(فاعبدوا ماشئتم من دونہ) (الزمر : ١٥)” اس اللہ کے علاوہ جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ “ اور فرمایا :(اعملوا ما شئتم) (المومن : ٣٠)” تم جو چاہو کرو۔ “” اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی “ میں تکرار مزید وعید کیلئے ہے۔ یہ معنی اس لئے بھی بہتر ہے کہ ” اولی “ کا معنی ” زیادہ لائق، زیادہ حق دار “ معروف ہے۔ (٤) بہت سے مفسرین نے ” اولی لک “ کا معنی ” خرابی ہے تیرے لئے، افسوس ہے تیرے لئے ہلاکت ہے تیرے لئے “ کیا ہے، کیونکہ ” اولی لک “ کلام عرب میں د ’ ویل لکذ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مگر یہ معنی ” اولی لک “ کا لفظی معنی نہیں ہے لفظی معنی ” زیادہ لائق ، زیادہ حق دار “ ہی ہے، کیونکہ ” اولی “ کے حروف اصلی ” ول ی “ ” و ی ل ‘ ‘ نہیں ، بلکہ یہ معنی مرادی ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ موقع و محل کے مطابق ” اولی لک “ کا مبتدا ” الھلاک “ یا ” النار “ محذوف مانا جائے، یعنی ہلاکت ہی یرے زیادہ لائق ہے، یا آگ ہی تیرے زیادہ لائق ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى۝ ٣١ ۙ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١۔ ٣٣) اور اس ابو جہل نے نہ وحدانیت خداوندی کی تصدیق کی تھی اور نہ اسلام قبول کرکے نمازیوں میں سے ہوا تھا لیکن توحید کو جھٹلایا تھا اور ان سے منہ موڑا تھا اور پھر تکبر کرتا اور ناز کرتا ہوا دنیا میں اپنے گھر چل دیتا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یہ کسی خاص کافر کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے، اور کافروں کی عام حالت کا تذکرہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے واضح دلائل کے سامنے آنے کے بعد بھی ماننے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(75:31) فلا صدق ولا صلی : لا صدق ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ تصدیق (تفعیل) مصدر۔ اس نے تصدیق نہیں کی۔ اس نے سچ نہ مانا۔ یعنی اس نے رسول یا قرآن کی تصدیق نہیں کی۔ یا مال کی زکوۃ نہیں دی۔ ولا صلی اور نہ ہی اس نے فرض کردہ نماز ادا کی۔ فلا صدق کا عطف ایحسب کے مضمون پر ہے کیونکہ استفہام سے مراد ہے زجر (اور کسی چیز پر زجر کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چیز واقع ہوچکی ہو۔ اسی لئے اس پر زجر کی جاتی ہے) ۔ تو گویا مطلب اس طرح ہوگا :۔ انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں نہیں جوڑیں گے اور اس کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھائیں گے۔ اسی لئے نہ وہ تصدیق کرتا ہے اور نہ نماز پڑھتا ہے ۔ صدق وصلی کی ضمیریں الانسان کی طرف راجع ہیں۔ کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ آیت میں عدی بن ربیعہ مراد ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 75:3 ۔ لیکن بغوی کے نزدیک ابوجہل مراد ہے یقین شخصی اس وقت مراد ہوگی اگر الانسان کے الف لام کو ال عہدی قرار دیا جائے لیکن اگر الف لام جنسی ہو تو عدی، ابوجہل (اور ان جیسے سب انسان) الانسان میں داخل ہوں گے (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٣١ تا ٤٠۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت کے جوڑے بنائے اور بقائے نسل کو جاری فرمایا کہ ایک نظام کائنات بنایا جو پوری ذمہ داری سے اپنا پورا کام کررہا ہے ۔ ہر قطرہ آب ، ہر ذرہ خاک اپنے اپنے وقت پر اپنی اپنی جگہ پہنچ رہا ہے اور کتنا حساب وکتاب کا دخل ہے کہ ساعت بھریاذرہ بھر کمی زیادتی ہوتونظام کائنات چل نہ سکے کیا اتنی قدرت کاملہ کے مالک پروردگار کے لیے یہ مشکل ہے کہ مردوں کو دوبارہ بناکرزندہ نہ کرسکے ہرگز نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً اس شخص کی طرح ہوتا ہے جس کا تذکرہ ان آیات میں کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد ابوجہل لیا ہے۔ جس نے ایک موقعہ پر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ انداز اختیار کیا تھا۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قیامت کو جھٹلایا اور پھر متکبرانہ چال کے ساتھ پلٹا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے لیے بربادی ہی بربادی ہے یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ اسے جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ اپنے کیے کی پوری پوری سزا پائے گا۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ کْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ) ” حضرت عبادہ بن صامت (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے کسی ایک نے عرض کی کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام واکرام کی بشارت دی جاتی ہے، اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوجاتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے سامنے چیزوں سے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مومن موت سے پہلے گھبراتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے جب اسے موت آتی ہے تو اپنے مالک کی ملاقات پر خوش ہوجاتا ہے۔ ) مسائل ١۔ موت کے وقت بےدین شخص کو احساس ہوتا ہے کہ نہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کی اور نہ ہی نماز پڑھی۔ ٢۔ قیامت کو جھٹلانے والے اور بےنماز کی موت کے وقت بری حالت ہوتی ہے۔ تفسیر بال قرآن قیامت کے منکر اور بےنماز کا انجام : ١۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : ٩) ٢۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : ١٦) ٣۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ (الفرقان : ١١) ٤۔ بےنماز لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (المدثر : ٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔ قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (75:33) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔ کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان کی تکذیب کا حال اور اکڑفوں، کیا اسے پتہ نہیں کہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی یہ تخلیق ہے کیا اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ فرما دے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ٠٠٣١﴾ کی ضمیر ابو جہل کی طرف راجع ہے (اور اگر کافروں کا ہر سرغنہ مراد لیا جائے تو اس میں بھی کوئی بعد نہیں ہے کیونکہ کفر کے سردار اور چودھری اسی مزاج کے ہوتے ہیں جس کا یہاں تذکرہ فرمایا ہے) ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ٠٠٣١﴾ (سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی) ۔ ﴿ وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ٠٠٣٢﴾ اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ﴿ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ٠٠٣٣﴾ پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا۔ جن کا متکبرانہ انداز ہوتا ہے ان کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ اپنی چال ڈھال سے تکبر ظاہر کرتے ہیں اکڑتے مکڑتے اتراتے ہوئے چلتے ہیں جب کسی نے کوئی حق بات کہی اور حق کی دعوت دی تو اسے ٹھکرا کر منہ موڑ کر متکبرانہ چال سے گزر جاتے ہیں اور جب مجلس سے اٹھ کر گھر میں جانے لگیں تو ان کی متکبرانہ رفتار کا پوری طرح مظاہرہ ہوجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ ” فلا صدق، یہ منکرین حشر و نشر اور جاحدین جزاء وسزا پر زجر ہے۔ اس نے نہ تو توحید و رسالت اور حشر و نشر کو مانا، ایمان لایا نہ نماز پڑھی، نہ دوسرے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دی بلکہ تمام ضروریات دین، توحید، رسالت، قیامت وغیرہا کا انکار کیا اور قرآن و ایمان سے اعراض کیا اور کبر و غرور سے اکڑتا ہو اپنے اہل کی طرف چلا گیا تو اب اس کے لیے ہلاکت و تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اولی لک فاولی، ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے، تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت پھر کہتا ہوں تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت، تھدید بعد تھدید ووعید بعد وعید (قرطبی ج 19 ص 112) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اس منکر انسان نے نہ تصدیق کی تھی اور نہ نماز پڑھی تھی۔