Surat ul Qiyama
Surah: 75
Verse: 5
سورة القيامة
بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ ۚ﴿۵﴾
But man desires to continue in sin.
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے ۔
بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ ۚ﴿۵﴾
But man desires to continue in sin.
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے ۔
Nay! Man desires to break out ahead of himself. Sa`id reported from Ibn `Abbas that he said, "This means to proceed forward." Mujahid said about, لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (to break out ahead of himself). "This means that he wants to proceed ahead following his own whims." Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that he said, "This refers to the disbeliever who denies the Day of Reckoning." Ibn Zayd said the same thing. Thus, Allah says after this, يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ
5۔ 1 یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
[٤] اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں سمجھتا کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرکے اپنی آزادانہ زندگی پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ اگر اس نے عقیدہ آخرت کو تسلیم کرلیا تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور نہایت پابند اور محتاط زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس کا آسان حل اس نے یہ سوچا کہ قیامت کا ہی انکار کردے۔ اور اس کی یہ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اور اپنے نفس کو اس فریب میں مبتلا کرلیتا ہے کہ بس اب خطرہ دور ہوگیا۔
بل یرید الانسان …:” لیفجر “ ” فجر فجوراً “ (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے اناکر کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلک ہہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لئے وہ تیاری کے لئے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لئے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہوگا ؟
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ (But man wishes to go on violating Allah&s injunctions [ even in future ] ahead of him...75:5). The word amam signifies &ahead or future&. The verse purports to say that the unbeliever or the unmindful man does not ponder over the manifestations of Divine Omnipotence, so that he may regret his denial in the past and make amends for the future. In fact, he wishes to persist in his denial, polytheism and sins even in the future.
لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ لفظ امام فتح الہمزہ سامنے اور مستقبل کے معنی میں ہے اسلئے معنے آیت کے یہ ہوئے کہ کافر اور غافل انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ان مشاہدات میں غور نہیں کرتا کہ ماضی کے انکار پر نادم ہو کر اپنے مستقبل کو درست کرلے بلکہ مستقبل میں بھی وہ یہی چاہتا رہتا ہے کہ اپنے کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جما رہے۔
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَہٗ ٥ ۚ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ فجر الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] ، وقیل : الفَجْرُ فجران : الکاذب، وهو كذَنَبِ السَّرْحان، والصّادق، وبه يتعلّق حکم الصّوم والصّلاة، قال : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] . ( ف ج ر ) الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھا ڑ نے اور شق کردینے کے ہیں جیسے محاورہ ہے فجر الانسان السکری اس نے بند میں وسیع شکاف ڈال دیا فجرتہ فانفجرتہ فتفجر شدت کے ساتھ پانی کو پھاڑ کر بہایا قرآن میں ہے : ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو ۔ تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] جب تک کہ ہمارے لئے زمین میں سے چشمے جاری ( نہ) کردو ۔ اور ایک قرآت میں تفجر ( بصیغہ تفعیل ) ہے ۔ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ اور اسی سے صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] فجر کی قسم اور دس راتوں کی ۔ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا موجب حضور ( ملائکہ ) ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فجر دو قسم پر ہے ایک فجر کا ذب جو بھیڑیئے کی دم کی طرح ( سیدھی روشنی سی نمودار ہوتی ہے دوم فجر صادق جس کے ساتھ نماز روزہ وغیرہ احکام تعلق رکھتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی ) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ ( رکھ کر ) رات تک پورا کرو إِمام : المؤتمّ به، إنسانا كأن يقتدی بقوله أو فعله، أو کتابا، أو غير ذلک محقّا کان أو مبطلا، وجمعه : أئمة . وقوله تعالی: يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ [ الإسراء/ 71] أي : بالذي يقتدون به، الامام وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو اس کی جمع ائمۃ افعلۃ ) ہے اور آیت :۔ { يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ } ( سورة الإسراء 71) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے ۔ میں امام سے وہ شخص مراد ہے جس کی وہ اقتداء کرتے تھے ۔
بلکہ یہ چاہتا ہے کہ یہ فسق و فجور کرتا رہے اور توبہ میں تاخیر کرے یا یہ کہ اپنی آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے۔
آیت ٥{ بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ ۔ } ” بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ فسق و فجور آگے بھی جاری رکھے۔ “ انسانوں کے ہاں آخرت کے انکار کی سب سے بڑی اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی و بدی اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم کر کے عیش و عشرت کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ چناچہ حرام خوریاں چھوڑ کر راہ راست پر آنے کے مقابلے میں انہیں آخرت کا انکار کردینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ آخرت کے بارے میں انسان کا یہ رویہ ایسے ہی ہے جیسے ِ بلی ّکو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ لیکن جس طرح کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے سے بلی اپنا فیصلہ نہیں بدلتی اسی طرح ان کے انکار کردینے سے قیامت کے وقوع میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ وہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت کے طور پر اپنے معین وقت پر آدھمکے گی۔
5 In this brief sentence the real disease of the deniers of the Hereafter has been clearly diagnosed. What makes them deny the Hereafter is not, in fact, their regarding the Resurrection and Hereafter as impossible but they deny it because acceptance of the Hereafter inevitably imposes certain moral restrictions on them, which they detest. They desire that they should continue roaming in the world at will as they have been roaming before. They should have full freedom to go on committing whatever injustice, dishonesty, sin and wickedness that they have been committing before, and there should be no deterrent to obstruct their freedom and to warn them that one day they will have to appear and render an account of their deeds before their God. Therefore, it is not their intellect which is hindering them from believing in the Hereafter but their desires of the self.
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :5 اس چھوٹے سے فقرے میں منکرین آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کر دی گئی ہے ۔ ان لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اور آخرت کو ناممکن سمجھتے ہیں ، بلکہ ان کے اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں ، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بے نتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اسی طرح آئندہ بھی پھرتے رہیں ۔ جو ظلم ، جو بے ایمانیاں ، جو فسق و فجور ، جو بد کرداریاں وہ اب تک کرتے رہے ہیں ، آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے ، اور یہ خیال کبھی ان کو یہ ناروا آزادیاں برتنے سے نہ روکنے پائے کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ان اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی ۔ اس لیے دراصل ان کی عقل انہیں آخرت پر ایمان لانے سے نہیں روک رہی ہے بلکہ ان کی خواہشات نفس اس میں مانع ہیں ۔
3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بے خوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لئے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رُکاوٹ نہ بنے۔
(75:5) بل یرید الانسان لیفجرا مامہ : بل عاطفہ ہے اس کا عطف یحسب پر ہے (استفہام کے تحت ہے) اس کو سوالیہ بھی کہا جاسکتا ہے اور تحقیقہ بھی کیونکہ سابق سائل یا سوال سے اعراض (اور دوسری بات کو بیان کرنے کی طرف مائل ہونا) درست ہے (یعنی یہ دوسرا انسان پہلے انسان سے غیر ہوگا تو سائل اول سے اعراض ہوجا ائے گا : اور اگر سائل وہی ہو مگر اس کے سوال سے اضراب اور دوسرے مسئلہ کا بیان ہوگا) ۔ (تفسیر مظہری) لیفجر میں لام زائد ہے اور ان ناصبہ مقدرہ ہے ای ان یفجر : امامہ مضاف مضاف الیہ میں امام ظرف ہے۔ ای لیفجر فیما یستقبل۔ یفجر مضارع منصوب۔ واحد مذکر غائب فجور باب ضرب) مصدر۔ بعمنی دین کی پر وہ دری یعنی نافرمانی کرنا۔ الفجر کے معنی ہیں کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور شق کرنا۔ کہتے ہیں فجرتہ فانفجر میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا پس وہ بہہ گیا قرآن مجید میں ہے فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا (2:60) (حضرت موسیٰ نے لاٹھی ماری) تو پھر اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ صبح کو فجر اس لئے کہا جاتا ہے کہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ لیفجر کہ وہ دین کی پر وہ دری کرتے ہوئے علی الاعلان گناہ کرتا پھرے۔ امامہ اس کے آگے اس کے سامنے۔ ظرف زمان بمعنی اس کے مستقبل میں۔ امام قدام کی طرح ہے اسم بھی ہوتا ہے اور ظرف بھی ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔ وھو یرید لیدوم علی فجورھا فیما بین یدیہ من الاوقات وفیما یستقبل من الزمان۔ یعنیوی چاہتا ہے کہ زندگی کے آئندہ اوقات میں بھی وہ دین کی پردہ دری کرتا رہے۔
ف 14 یعنی یہ کہتا ہے کہ ابھی کیا ہے گناہ کرتے رہو آگے چل کر توبہ کرل ینا۔ یہاں تک موت آجاتی ہے اور توبہ کی نوبت ہی نہیں آتی۔
بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔
﴿ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ٠٠٥ يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ٠٠٦﴾ (بلکہ انسان یوں چاہتا ہے کہ قیامت کی بات سن کر تسلیم نہ کرے اور آئندہ آنے والی زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے وہ قیامت کا دن واقع ہونے کا منکر ہے اور بطور انکار یوں پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا) یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ فسق و فجور میں جو ذرا سا مزا ہے اس کی وجہ سے قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے قیامت کو مانا تو اس کے لیے تیاری کرنی ہی پڑے گی۔ گناہوں کو چھوڑنا ہوگا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ خالق اور مالک نے جو چیز مقدر اور مقرر فرما دی ہے اور فیصلہ فرما دیا ہے اس کا واقع ہونا ضروری ہے نہ ماننے سے اور انکار کرنے سے فیصلہ شدہ واقع ہونے والی چیز ٹل نہ جائے گی آنے والی آ کر رہے گی۔
4:۔ ” بل یرید “ یہ ماقبل یعنی ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے بطور ترقی ہے۔ لیفجر ای لیکر و یکذب۔ امامہ ای ما یاتی امامہ۔ یعنی جو کچھ آگے آنے والا ہے مراد حساب کتاب اور جزاء وسزا ہے۔ یہ منکرین نہ صرف دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں، بلکہ حقیقت میں وہ جزاء و سزا کا انکار کرنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہے جو حشر و نشر کا اصل مقصد ہے۔ قال ابن عباس : یعنی الکافر یکذب بما مامہ من البعث والحساب وقالہ عبدالرحمن بن زید (قرطبی ج 19 ص 93) ۔ ” یسئل ایان یوم القیامۃ “ بطور استہزاء و تمسخر پوچھتا ہے۔ اجی ! وہ قیامت کب آئے گی جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔
(5) بلکہ قیامت کے انکار کی غرض یہ ہے کہ انسان یوں چاہتا ہے کہ آئندہ زندگی میں بھی فجور اور ڈہٹائی کرتا رہے۔ یعنی قیامت کا اقرار اور روزجزا کا یقین بہت برائیوں سے روک دے گا اور انسان اس اعتقاد کا پابند ہوکر بہت سی باتوں کا پابند ہوجائے گا کیونکہ ہر جرم کے موقع پر قیامت کا اعتقاد مانع ہوگا اور یہ خیال اللہ تعالیٰ کے سامنے جاکر ایک دن حساب وکتاب دینا ہوگا ہر برائی اور ہر قسم کے فسق وفجور سے روکے گا اور انسان کی خواہش یہ ہے کہ جس طرح اب تک وہ گناہ آلودگی زندگی گزارتا رہا ہے اسی طرح آگے بھی گزارتا رہے اور آئندہ بھی ڈھٹائی کرتا رہے اس لئے قیامت کا یقین نہیں کرتا اور قیامت کا انکار کرتا ہے اور بطور انکار۔