Surat ud Dahar

Man

Surah: 76

Verses: 31

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الدھر سورة نمبر 76 کل رکوع 2 آیات 31 الفاظ و کلمات 246 حروف 1099 مقام نزول مکہ مکرمہ سورۃ الدھر میں انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ آج تو وہ اپنے وجود اور دی گئی نعمتوں پر بڑا فخر کرتا ہے اور اتراتا ہے لیکن اس پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔ اس کے وجود کی ابتداء اس حقیر بوند سے ہوئی جو ایک مخلوط نطفہ تھا۔ پھر اللہ نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔ یہ اس کی کڑی آزمائش ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا اس کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کرتا ہے۔ نعمتوں پر شکر ادا نہ کرنے والے اور نعمتوں پر شکرا دا کرنے والے دونوں کے بدترین اور بہترین انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ناشکری اور کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں، گلے میں ڈالے جانے والے طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ لیکن شکر گزار مومن بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں ایسی شراب کے جام پیش کئے جائیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ بہتا ہوا رواں دواں چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ یہ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں جہاں چاہیں گے وہاں اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا وہ جو اپنی نذر یعنی منتوں کو پورا کرنے والے، اس دن کی اس آفت سے ڈرنے والے جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور اس کی محبت میں مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والے اور یہ کہنے والے کہ ہم اس نیکی پر نہ تو تم سے کوئی بدلہ اور صلہ چاہتے ہیں نہ تم سے کسی طرح کے شکریہ کی توقع رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے اس دن کے عذاب کا خوف رکھتے ہیں جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل اور لمبا دن ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کی اس دن کے شر اور آفت سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں تروتازگی، سکون اور سرور عطا کیا جائے گا۔ ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت کا ریشمی لباس دیا جائے گا۔ وہاں وہ بڑے شاہانہ انداز سے مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ سردی کی شدت۔ جنت کے درختوں کی چھاؤں ان پر سایہ کیے ہوگی اور ان درختوں کے پھل ان کے اختیار میں دے دئیے جائیں گے وہ جس طرح چاہیں گے ان پھلوں کے کھانے سے لطف اندوز ہوں گے۔ ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کر رہے ہوں گے۔ شیشے بھی اتنے خوبصورت جو چاندی کی طرح چمکتے ہوں گے۔ ان پیالوں کو ٹھیک اندازے کے مطابق خوب بھرا گیا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جام دئیے جائیں گے جس شراب میں سونٹھ (خشک ادرک) کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لر کے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم دیکھو گے تو سمجھو گے کہ موتی ہیں جو ہر طرف بکھیر دئیے گئے ہیں۔ فرمایا کہ وہاں تم جدھر نظر دوڑائو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی۔ ان اہل جنت کو باریک ریشم کا سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے دئیے جائیں گے۔ ان کو چاندی کے کنگنس پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو نہایت لذیر شراب پلائے گا اور فرمایا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارے حسن عمل کا نتیجہ ہے۔ کفار یہ اعتراض کرتے تھے کہ اگر قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے تو اس کو ایک دم ایک کتاب کی شکل میں نازل کیوں نہیں کردیا جاتا۔ تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کی ان باتوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس قرا انکو ہم نے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے یعنی یہ بھی اللہ کی رحمت ہے اس کا کرم ہے اس طرح ہر آیت پر ہر شخص کو عمل کو موقع ملتا ہے اور قرآن کریم یاد ہوتا چلا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان بدمل کافروں کی باتوں پر دھیان نہدیں۔ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیں صبر کریں اور صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کریں اور راتوں کو اللہ کے سامنے سجدے کیا کریں اور رات کے طویل حصے میں اس کی حمدو ثنا کرتے رہا کریں۔ فرمایا کہ یہ ناشکرے لوگ تو اس دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو انہیں جلدی سے مل جائے اور اس دن کو نظر انداز کررہے ہیں جو بڑا بھاری دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہی ان کی شکلیں صورتیں بدل کر رکھ دیں۔ فرمایا کہ یہ قرآن کریم تو ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔ اب جس کا دل چاہیے وہ اس قرآن کریم کو اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنالے اور کامیاب ہوجائے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے۔ اگر ان کو توفیق عطا نہیں کی جائے گی تو انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ لہٰذا اسی سے توفیق مانگتے رہنا چاہیے جو سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہیے گا اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور ظالموں کو دردناک عذاب جو ان کے لئے تایر کیا گیا ہے اس میں جھونک دیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الدّھر کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے یہ مدنی سورت ہے اس کی اکتیس آیات ہیں، جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ الدّھر کا معنٰی زمانہ ہے اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں ہر انسان کو اس کا وہ دور یعنی زمانہ یاد کروایا ہے جب انسان کا اس کائنات میں ذکر اور وجود نہیں تھا۔ یہ کیفیت ہر انسان پر اس لیے چسپاں ہوتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے اس کے ماں باپ کو بھی علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوگا یا بچی، خوبصورت ہوگا عام صورت یا غریب ہوگا یا خوشحال لہٰذا ہر اعتبار سے ہر انسان اپنی پیدائش سے پہلے غیر متعارف ہوتا ہے۔ انسان کو اس کا ماضی یاد کروانے کے بعد اس کی تخلیق یاد کروائی ہے کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط لوتھڑے سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔ اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ہے۔ ہم نے اسے راستے کی راہنمائی کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ شکر کرنے والا بنتا ہے یا کفر پسند کرتا ہے۔ کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے طوق اور زنجیریں اور جہنم تیار کیا ہے۔ شکر کرنے والے جنت میں ہونگے اور وہ شراب کے ایسے جام پئیں گے جن میں کافور ملا ہوا ہوگا وہاں اس کا ایک چشمہ ہوگا۔ جس سے جنتی اپنی مرضی کے ساتھ اس سے نہریں نکالیں گے۔ جنتیوں کے اوصاف میں یہ وصف بھی ہوں گے کہ وہ دنیا میں اپنی نذریں پوری کرتے تھے۔ اللہ کی محبت میں مساکین، یتامیٰ اور قیدیوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے اور قیامت کے دن سے ڈرا کرتے تھے۔ ان کے نیک اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن کی سختیوں سے بچائے گا اور انہیں خوش کرے گا۔ انہیں جنت میں ریشمی لباس پہنایا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے، انہیں نہ سردی چھوئے گی اور نہ گرمی لگے گی۔ ان کے سامنے جنت کے خدام شیشے اور چاندی سے بنے ہوئے شراب کے ایسے جام پیش کریں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ ان کی خدمت کرنے والے خدام ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے۔ دیکھنے والا انہیں چلتے پھرنے موتی محسوس کرے گا۔ جنتی جدھر نظر اٹھائیں گے ایک سے ایک بڑھ کر جنت کی نعمتیں پائیں گے، اور انہیں بہت بڑی جنت عطاء کی جائے گی۔ اس سورت کے آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست ارشاد ہوا کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور کردار کی اصلاح کریں۔ اس راستے میں جو مشکلات پیش آئیں ان پر صبر کریں اور کسی حال میں بدکردار اور حق کا انکار کرنے والے کے پیچھے نہیں چلنا۔ آپ کو چاہیے کہ صبح و شام اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اور رات کے طویل اوقات میں اپنے رب کو سجدے کریں گے اور اسے یاد کریں جو لوگ آپ کی دعوت کا انکار کرتے ہیں حقیقت میں وہ دنیا سے محبت کی وجہ سے قیامت کے دن کو بھول چکے ہیں انہیں یاد نہیں کہ ہم نے انہیں پیدا کیا، ہم نے ان کے جوڑ بناے اور ہم جب چاہیں ان کی شکل و صورت کو بدل سکتے ہیں ہم نے انہیں ایک مدّت کے لیے ڈھیل دی ہے اب جو چاہے اپنے رب کا راستہ اختیار کرے یا اس کی نافرمانی میں لگا رہے البتہ انہیں معلوم ہونا چاہیے جو اپنے رب کا راستہ اختیار کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کرے گا ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الدھر ایک نظر میں بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور اس کا مکی ہونا بالکل ظاہر ہے۔ اس کے موضوع سخن ، طرز ادا اور تمام معنوی وکلامی خصوصیات بتاتی ہیں کہ یہ مکی ہے۔ اس لئے ہم ان روایات پر اعتماد کرتے ہیں جن میں ہے کہ یہ مکی ہے۔ بلکہ اس کی بعض باتیں تو یہ بتاتی ہیں کہ یہ مکی دور کی بھی نہایت ابتدائی سورتوں میں ہے۔ کیونکہ جنات کے انعامات کی تفصیلات مکہ کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے۔ اسی طرح قیامت کے سخت عذاب کی تصویر کشی بھی۔ نیز اس سورت میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے فیصلوں پر صبر کریں۔ یعنی مشکلات کو برداشت کریں۔ اور کسی آثم اور ناشکرے کی اطاعت نہ کریں۔ یہ اشارہ ان مظالم کی طرف ہے جب مکہ کے ابتدائی دور میں لوگ تحریک اسلامی کے کارکنوں پر کیا کرتے تھے۔ اس لئے اہل ایمان کو ہدایت ہوئی کہ ان ظالموں کو ذرا مہلت دیجئے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیجئے اور جو سچائی آپ پر نازل ہوئی ہے اس پر جم جائیں اور کفار کی طرف ہرگز نہ جھکیں اور نہ ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں۔ جیسا کہ سورة قلم ، سورة مزمل اور سورة مدثر کے مضامین ہیں۔ لہٰذا یہ سورت اسی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کہ یہ سورت مدنی ہے ، نہایت ضعیف بات ہے۔ جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ سورت کا انداز نہایت نرم ، تروتازہ اور دعوت الی اللہ کی التجا ہے۔ اللہ کے سامنے گڑگڑانا اور اس کی رضامندی کی طلب۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنا اور اللہ کے فضل کا احساس ، اللہ کے عذاب سے بچنا ، راہ خدا میں ابتلاﺅں کو سمجھنے کی کوشش کرنا ، اور انعام واکرام اور ابتلاو آزمائش میں اس کی حکمتوں کو سمجھنا ، اس سورت کے مضامین ہیں۔ اس سورت کا آغاز ایک نہایت موثر اور قلب پر رقت طاری کردینے والے سوال سے ہوتا ہے کہ ذرا کبھی سوچا ہے تو اے انسان ، کہ تخلیق سے پہلے تو کہاں تھا ؟ کس نے تمہاری تخلیق کی ؟ اور کس نے تمہیں ایک قابل ذکر مخلوق بنایا ؟ جبکہ اس سے قبل تو اس کائنات کی کوئی قابل ذکر مخلوق نہ تھا۔ ھل آتی ............................ مذکورا (1:76) ” کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا “۔ اس کے بعد اس کی اصلیت اور حقیقت کے بارے میں ایک اشارہ ہے کہ اس کی تخلیق کس قدر حکیمانہ ہے اور اس کی تخلیق کے اندر کس قدر گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اور اس کے اندر احساس وادراک کی کیا کیا عجیب قوتیں ودیعت کردی گئی ہیں۔ انا خلقنا ............................ بصیراً (2:76) ” ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا “۔ پھر ایک تیسرا اشارہ کہ ہم نے انسان کو نیک وبد کی تمیز دی اور راہ ہدایت تک لانے میں اس کی مدد کی اور اس کے بعد اسے چھوڑ دیا کہ وہ راہ راست اختیار کرتا ہے یابد۔ انا ھدینہ .................... کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راستہ دکھایا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ ان تین اشارتی چٹکیوں کے بعد ، اور دل مومن کے اندر گہری سوچ پیدا کرنے کے بعد ، اسے آگے اور پیچھے کی بصیرت عطا کرنے کے بعد ، اور راہ کے انتخاب میں احتیاط اور تدبر کی تعلیم دینے کے بعد ، انسانوں کو ببانگ دہل پکارا جاتا ہے کہ تمہارے آگے جنت بھی ہے اور دوزخ بھی ہے۔ اور جنت میں تمام انعام واکرام ہوں گے اور عیش و آرام کی زندگی ہوگی جبکہ جہنم میں آگ اور زنجیریں ہوں گی۔ انا اعتدنا ............................ یفجرونھا تفجیرا (6) (4:76 تا 6) ” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیروں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے “۔ اس سے قبل کہ عیش و عشرت کی تصویر کشی کی جائے ، ان ابرار اور نیک لوگوں کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ، لیکن یہ خصوصیات نہایت محبت آمیز ، ان کے جمال اور خوبصورتی کے ساتھ بیان کی گئیں جوان نعمتوں کے حسب حال ہیں اور ان کے ساتھ مناسب ہیں۔ یوفون بالنذر ................ مستطیر (7) ویطعمون ................ واسیرا (8) انما نطعمکم ................ شکورا (9) انا نخاف ................ قمطریرا (10) (7:76 تا 10) ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو (دنیا میں ) نذر پوری کرتے ہیں ، اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی ، اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں کہ) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کا عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ اس کے بعد پھر ان لوگوں کی جزائے اخروی کی تفصیلات دی جاتی ہیں جو اس مصیبت کے طویل دن سے ڈرتے رہے اور اللہ کے احکام بجا لاتے رہے۔ جو نیک رہے ، اور اپنی محتاجی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔ محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے ، جو کسی سے نہ بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ بلکہ وہ محض قیامت کے دن کے خوف سے یہ عبادات سرانجام دیتے ہیں۔ یہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ خضوع وخشوع کرنے والے ہیں ، اللہ کے لئے کھانا کھلانے والے ہیں اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے والے ہیں ، ان کے لئے کیا انعام ہے ؟ اس کی تفصیلات دی جارہی ہیں۔ ان کے لئے امن و آرام اور عیش و عشرت ہیں۔ فوقھم اللہ ........................................ مشکورا (11:76 تا 22) ” پس اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھر۔ جنت کی چھاﺅں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی ، اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ ڈالیں) ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے ، شیشے بھی وہ چاندی کی قسم کے ہوں گے ، اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی ، یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں۔ وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔ ان کی اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس ودیبا کے کپڑے ہوں گے ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ، اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھہری ہے “۔ جب نعمتوں اور عشرتوں کی یہ نمائش گاہ ختم ہوگئی اور خوشگوار زندگی اور جنتوں کے مزے کا بیان ہوگیا تو اب روئے سخن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ اس کفر ، اعراض اور تکذیب کے مقابلے میں آپ جم جائیں اور صبر کریں اور قدرے انتظار کریں کہ اللہ کا فیصلہ آجائے۔ اور اپنے رب کے ساتھ رابطہ کریں۔ اور جب بھی راستہ طویل ہو ، رب ہی سے مدد حاصل کریں۔ انا نحن ........................ طویلا (23:76 تا 26) ” اے نبی ! ہمنے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا نازل کیا ہے ، لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔ اپنے رب کا شام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ اس کے بعد لوگوں کو اس بھاری دن سے ڈرایا جاتا ہے جس کے لئے لوگ کچھ تیاری نہیں کررہے ہیں اور نہ اس کو اہمیت دیتے ہیں اور نیک اور متقی لوگ اس سے بہت ڈرتے ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا معاملہ اللہ پر بہت ہی ہلکا ہے ، جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں قوت دی ہے اور جس طرح اس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں لے جا بھی سکتا ہے اور تمہاری جگہ دوسری اقوام بھی کھڑی کرسکتا ہے۔ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو تمہیں کبھی کا مٹا دیا ہوتا ، اور یاد رکھو یہاں تمہیں بطور آزمائش بھیجا گیا ہے۔ ان ھولائ ............................ عذابا الیما (28:76 تا 31) ” یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جو ڑبند مضبوط کیے ہیں ، اور ہم جب چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں۔ یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے ، اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے۔ یقینا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے ، داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے “۔ اس سورت کا آغاز انسان کی تخلیق سے ہوتا ہے۔ اور یہ کہ یہ تخلیق اللہ کے نظام تقدیر کے مطابق ہے۔ اور انسان کو اللہ نے اس جہاں میں آزمائش کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور سورت کا خاتمہ آخرت کی ابتلا اور آزمائش پر ہوتا ہے۔ چناچہ زندگی کے آغاز اور خاتمہ کے درمیان پوری زندگی آتی ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کو یہ زندگی عبث ضائع نہیں کرنا چاہئے اور نہ غفلت اور لاپرواہی سے گزارنا چاہئے کہ نہ وہ اس کا کوئی مقصد سمجھے اور نہ راز ہائے حیات کو سمجھے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ وہ آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اللہ نے اسے قوت مدرکہ دی ہے تاکہ وہ آزمایا جائے۔ آغاز اور انجام کے درمیان جنتوں کی نعمتوں اور عیش و عشرت کی ایک طویل ترین تصویر کشی کی گئی ہے۔ یا یہ قرآن کی طویل ترین تصویر یا تصاویر میں سے ہے۔ اگر ہم سورة واقعہ کی تصویر کشی کو پیش نظر رکھیں۔ اس میں جنت کے انعامات کی طویل تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ تصویر کشی بالجملہ حسی نعمتوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ان نعمتوں کے ساتھ اعزاز واکرام بھی ہے ، لیکن اس کا حسی انداز یہ بتاتا ہے کہ یہ چھ آیات مکی دور میں نازل ہوئیں۔ کیونکہ مکی دور میں لوگ زمانہ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے اور حسی سوچ کے زیادہ قریب تھے اور حسی لطف اندوزی کے زیادہ دلدادہ تھے۔ وہ چیزیں جن کا یہاں ذکر ہوا۔ ان کو زیادہ متاثر کرتی تھیں اور ان کی طرف وہ بالعموم زیادہ راغب ہوتے تھے اور یہ ان کے لئے پر کشش تھیں۔ اور آج جدید ترقی یافتہ دور میں بھی اس قسم کے حسی لذات پر لوگ مرمٹتے ہیں۔ لہٰذا یہ رنگ اور یہ تصاویر ان کی خواہشات کے عین مطابق تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی تخلیق کردہ دل چاہے کیا ہیں ؟ اور ان کی ساخت اور ان کے شعور کے حسب حال کیا چیز ہے اور بعض انعامات ان حسی انعامات سے زیادہ ارفع بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً سورة قیامت میں ہے۔ وجوہ ................ ناظرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” بعض چہرے آج تروتازہ ہوں گے ، اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ بہرحال اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کے بندوں کی اصلاح کے لئے کیا بہتر ہے۔ ٭٭٭٭٭

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi