Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 14

سورة الدھر

وَ دَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَ ذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾

And near above them are its shades, and its [fruit] to be picked will be lowered in compliance.

ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہونگے اور ان کے ( میوے اور ) گچھے نیچے لٹکا ئے ہوئے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَلُهَا ... And the shade thereof is close upon them. meaning, the branches will be close to them. ... وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلً And the bunches of fruit thereof will hang low within their reach. meaning, whenever he attempts to get any fruit, it will come nearer to him and come down from its highest branch as if it hears and obeys. This is as Allah says in another Ayah, وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ And fruits of the two gardens will be near at hand. (55:54) Allah also says, قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ The fruits in bunches whereof will be low and near at hand. (69:23) Mujahid said, وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلً (And the bunches of fruit thereof will hang low within their reach.) "If he stands it will rise with him an equal amount, if he sits it will lower itself for him so that he can reach it and if he lies down it will lower itself for him more so that he can reach it. So this is Allah's statement, تَذْلِيلً (will hang low within their reach). " Qatadah said, "No thorn or distance will repel their hands away from it (the fruit)." Vessels of Silver and Drinking Cups Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہوگی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہونگی۔ اور درختوں کے پھل، گوش برآواز فرماں بردار کی طرح انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہوجائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] جنت میں روشنی کس قسم کی اور کس چیز سے ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی سائے ہوں گے اور وہ سائے خوشگوار بھی ہوں گے اور درختوں کے پھلوں کے گچھے اہل جنت کے اتنے قریب کردیئے جائیں کہ جب وہ چاہیں انہیں اپنے استعمال میں لاسکیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(ودانیۃ علیھم ظلھا…:”’ انیۃ “”’ نا یدنو “ (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ ” ذلت “ تابع کئے جائیں گے، جھکا دیئے جائیں گے۔ ” تذلیلاً “ تاکید ہے، خوب جھکانا ۔ ” قطوف “ ” قطف “ کی جمع ہے، خوشہ، چنا ہوا پھل ، یعنی جنت کے درختوں کے سائے نہایت گھنے اور جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے جنتیوں کے تابع اور ان کی دسترس میں ہوں گے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جس طرح چاہیں گے توڑ سکیں گے۔ انس بن مالک (رض) عنہماباین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ان فی الجنۃ الشجرۃ یسیر الراکب فی ظلھا مائۃ عام لایقطعھا) (بخاری، بدہ الخلق ، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ…: ٣٢٥١)” جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا مگر اسے طے نہیں کرسکے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَدَانِيَۃً عَلَيْہِمْ ظِلٰلُہَا وَذُلِّـلَتْ قُطُوْفُہَا تَذْلِيْلًا۝ ١٤ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] ، وقوله : وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] ، وتارة عن الأقرب، فيقابل بالأقصی نحو : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] ، وجمع الدّنيا الدّني، نحو الکبری والکبر، والصّغری والصّغر . وقوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] ، أي : أقرب لنفوسهم أن تتحرّى العدالة في إقامة الشهادة، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] ، وقوله تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] ، متناول للأحوال التي في النشأة الأولی، وما يكون في النشأة الآخرة، ويقال : دَانَيْتُ بين الأمرین، وأَدْنَيْتُ أحدهما من الآخر . قال تعالی: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] ، وأَدْنَتِ الفرسُ : دنا نتاجها . وخصّ الدّنيء بالحقیر القدر، ويقابل به السّيّئ، يقال : دنیء بيّن الدّناءة . وما روي «إذا أکلتم فدنّوا» من الدّون، أي : کلوا ممّا يليكم . دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ۔ اور آیت کریمہ ؛وَآتَيْناهُ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ النحل/ 122] اور ہم نے ان کو دینا بھی خوبی دی تھی اور آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی اقرب آنا ہے اوراقصی کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] جس وقت تم ( مدینے کے ) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر ۔ الدنیا کی جمع الدنیٰ آتی ہے جیسے الکبریٰ کی جمع الکبر والصغریٰ کی جمع الصغر۔ اور آیت کریمہ ؛ذلِكَ أَدْنى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهادَةِ [ المائدة/ 108] اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت ادا کریں ۔ میں ادنیٰ بمعنی اقرب ہے یعنی یہ اقرب ہے ۔ کہ شہادت ادا کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھیں ۔ اور آیت کریمہ : ذلِكَ أَدْنى أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ [ الأحزاب/ 51] یہ ( اجازت ) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ البقرة/ 220] تا کہ تم سوچو ( یعنی ) دنای اور آخرت کی باتوں ) میں غور کرو ) دنیا اور آخرت کے تمام احوال کی شامل ہے کہا جاتا ہے ادنیت بین الامرین وادنیت احدھما من الاخر ۔ یعنی دوچیزوں کو باہم قریب کرنا ۔ یا ایک چیز کو دوسری کے قریب کرتا ۔ قرآن میں ہے : يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَ [ الأحزاب/ 59] کہ باہر نکلاکریں تو اپنی چادریں اپنے اوپر ڈٖال لیا کریں َ ادنت الفرس ۔ گھوڑی کے وضع حمل کا وقت قریب آپہنچا ۔ الدنی خاص ک حقیر اور ذیل آدمی کو کہا جاتا ہے اور یہ سیئ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے کہا کاتا ہے :۔ ھودنی یعنی نہایت رزیل ہے ۔ اور حومروی ہے تو یہ دون سے ہیے یعنی جب کھانا کھاؤ تو اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ قطف يقال : قَطَفْتُ الثّمرة قَطْفاً ، والْقِطَفُ : الْمَقْطُوفُ منه، وجمعه قُطُوفٌ. قال تعالی: قُطُوفُها دانِيَةٌ [ الحاقة/ 23] وقَطَفَتِ الدّابّةُ قَطْفاً فهي قَطُوفٌ ، واستعمال ذلک فيه استعارة، وتشبيه بِقَاطِفِ شيء كما يوصف بالنّقض علی ما تقدّم ذكره، وأَقْطَفَ الكَرْم : دنا قِطَافُهُ ، والْقِطَافَةُ : ما يسقط منه کالنّفاية . ( ق ط ف ) قطفت ( ض ) التمرۃ قطفا کے معنی پھل چننا کے اور درخت سے توڑے ہوئے پھل کو قطف کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع قطوف آتی ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ قُطُوفُها دانِيَةٌ [ الحاقة/ 23] جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے ۔ جانور کا آہستہ چلنا اور ایسے جانور کو قطوف کہا جاتا ہے اور جانور کے متعلق اس کا استعمال صرف تشبیہ اور استعارہ کے طور پر ہوتا ہے ۔ یعنی دابۃ کو قاطف ( پھل چننے والا ) کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے جیسا کہ نقض کے ساتھ کوئی چیز متصف ہوتی ہے وقد تقدم ذکرہ اقطف الکرم : انگور چننے کا موسم قریب آگیا ۔ اور جو انگور پک کر زمین پر گر پڑیں انہیں قطا فۃ کہا جاتا ہے اور یہ قفا یۃ کی طرح ہے ۔ تَذْلِيلًا قال تعالی: وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] ، أي : سهّلت، وقیل : الأمور تجري علی أذلالها أي : مسالکها وطرقها . آیت کریمہ : وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ وہ گچھے اس طرح جھکے ہوئے ہوں گے کہ ان کو نہایت آسانی سے توڑ سکیں گے محاورہ ہے ۔ ( مثل ) کہ تمام امور اپنے راستوں پر اور حسب مواقع جاری ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی تمام پھل اُن کی دسترس اور ان کے قابو میں دے دئیے جائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:14) ودانیۃ علیہم ظلھا : اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی حال ہے۔ دانیۃ : دنو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی قریب، نزدیک، جھکنے والی، لٹکنے والی۔ ظلھا مضاف مضاف الیہ۔ ان کے سائے جنت کے (باغوں کے) سائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جنت کے باغوں کے سائے ان پر جھک رہے ہوں گے۔ وذللت قطوفھا تذلیلا : اس کا عطف دانیۃ پر ہے جیسے فالق الاصباح وجعل الیل سکنا (6:97) میں جعل کا عطف فالق پر ہے۔ یا دانیۃ کے ذوالحال سے حال ہے اور ذوالحال کی طرف راجع ہونے والی ضمیر محذوف ہے یعنی ذللت لہم (تفسیر مظہری) ۔ ذللت ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ تذلیل (تفعیل) مصدر۔ وہ پست کردی گئی۔ وہ مسخر کردی گئی۔ وہ تابع کردی گئی ۔ قطوفھا : قطوف جمع قطف کی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ھا کا مرجع جنت کے پھل ہیں۔ قطف مصدر ۔ درخت سے پھل توڑنا۔ قطف وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں۔ (خواہ توڑے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں۔ توڑے جانے کے قابل ہوں) ۔ یہاں وہ پھل مراد ہیں جو اہل جنت کھڑے بیٹھے توڑ سکیں گے۔ تذلیل (تفعیل) مصدر ہے۔ بطور مفعول مطلق برائے تاکیداستعمال ہوا ہے۔ ذل صعوبت کی ضد ہے۔ مطلب یہ کہ جنت کے باغوں کے پھلوں کا حصول ان کے لئے آسان بنادیا جائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 تاکہ جب چاہیں، انہیں توڑ لیں اور توڑنے میں ذرا بھی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ودانیة ............................ تذلیلا ۔ یہ کہ چھاﺅں بھی قریب ہوگی اور جنت کے درختوں کے پھل بھی ان پر جھکے ہوں گے ، تو اس سے زیادہ خوشی اور مسرت اور عیش و عشرت کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تصور ہے ، خوشحالی اور فارغ البالی کا۔ یہ تو ہے اس جنت کی عمومی صورت حال جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کیا ہے ، جن کے لئے یہ صورت بیان کی گئی ہے ، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اور روشن ہے تاکہ دنیا میں کتاب الٰہی میں پڑھ کر وہ خوش ہوں۔ ان نعمتوں اور سہولیات کی مزید تفصیلات :۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ دَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا ٠٠١٤﴾ (اور ان پر اس کے سائے قریب ہوں گے اور ان پر اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے) ۔ جنت میں دھوپ نام کو نہ ہوگی سایہ ہی سایہ ہوگا اور سایہ قریب بھی ہوگا اور گہرا اور گھنا بھی کما قال تعالیٰ : ﴿وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا ٠٠٥٧﴾ اور جو پھل ملیں گے وہ ان کے اختیار میں ہوں گے، کھڑے اور لیٹے اور بیٹھے توڑ سکیں گے۔ اس کے بعد اہل جنت کے برتنوں کا تذکرہ فرمایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 11:۔ ” و دانیۃ “ یہ جنۃ پر معطوف ہے اور جنۃ مقدر کی صفت ہے یا یہ متکئین پر معطوف ہے اور حال واقع ہے۔ قال الزجاج ھو ھال عطفا علی متکئین وقال ایضا ویجوز ان یکون صفۃ للجنۃ فالمعنی وجزاھم جنۃ دانیۃ (بحر ج 8 ص 396) ۔ جنت کے درختوں کے سائے ان سے بالکل قریب ہوں گے اور ان کے اس طرح تابع ہوں گے کہ جب وہ چاہیں گے لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہاتھ بڑھا کر آسانی سے میوے تناول کرسکیں گے۔ (وذللت) سخرت للقائم والقاعد والمتکئ (مدارک) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اور جنت کے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان درختوں کے پھل ان کے قریب اور ان کے اختیار میں ہوں گے ۔ یعنی درختوں کے سائے قریب ہوں گے اور پھل بالکل قریب اور مسخر ہوں گے۔