Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 23

سورة الدھر

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾

Indeed, it is We who have sent down to you, [O Muhammad], the Qur'an progressively.

بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mention of the Qur'an's Revelation and the Command to be Patient and remember Allah Allah reminds His Messenger, إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْانَ تَنزِيلً Verily, it is We Who have sent down the Qur'an to you by stages. Allah reminds His Messenger of how He blessed him by revealing the Magnificent Qur'an to him.

اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باہم عہد و معاملات اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا جو خاص کرم کیا ہے اسے یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تجھ پر بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے یہ قرآن کریم نازل فرمایا اب اس اکرام کے مقابلہ میں تمہیں بھی چاہئے کہ میری راہ میں صبر و ضبط سے کام لو ، میری قضا و قدر پر صابر شاکر رہو دیکھو تو سہی کہ میں اپنے حسن تدبیر سے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچاتا ہوں ۔ ان کافروں منافقوں کی باتوں میں نہ آنا گویہ تبلیغ سے روکیں لیکن تم نہ رکنا بلا رو و رعایت مایوسی اور تکان کے بغیر ہر وقت وعظ ، نصیحت ، ارشاد و تلقین سے غرض رکھو میری ذات پر بھروسہ رکھو میں تمہیں لوگوں کی ایذاء سے بچاؤں گا ، تمہاری عصمت کا ذمہ دار میں ہوں ، فاجر کہتے ہیں ، بد اعمال عاصی کو اور کفور کہتے ہیں دل کے منکر کو ، دن کے اول آخر حصے میں رب کا نام لیا کرو ، راتوں کو تہجد کی نماز پڑھو اور دیر تک اللہ کی تسبیح کرو ، جیسے اور جگہ فرمایا آیت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀ ) 17- الإسراء:79 ) ، رات کو تہجد پڑھو عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا ، سورہ مزمل کے شروع میں فرمایا اے لحاف اوڑھنے والے رات کا قیام کر مگر تھوڑی رات ، آدھی یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ترتیل سے پڑھ ۔ پھر کفار کو روکتا ہے کہ حب دنیا میں پھنس کر آخرت کو ترک نہ کرو وہ بڑا بھاری دن ہے ، اس فانی دنیا کے پیچھے پڑھ کر اس خوفناک دن کی دشواریوں سے غافل ہو جانا عقلمندی کا کام نہیں پھر فرماتا ہے سب کے خالق ہم ہیں اور سب کی مضبوط پیدائش اور قومی اعضاء ہم نے ہی بنائے ہیں اور ہم بالکل ہی قادر ہیں کہ قیامت کے دن انہیں بدل کر نئی پیدائش میں پیدا کر دیں ، یہاں ابتداء آفرنیش کو اعادہ کی دلیل بنائی اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر ہم چاہیں اور جب چاہیں ہمیں قدرت حاصل ہے کہ انہیں فنا کر دیں مٹا دیں اور ان جیسے دوسرے انسانوں کو ان کے قائم مقام کر دیں ۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا ١٣٣؁ ) 4- النسآء:133 ) ، اگر اللہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو برباد کر دے اور دوسرے لے آئے ۔ اللہ تعالیٰ اس پر ہر آن قادر ہے ، اور جگہ فرمایا اگر چاہے تمہیں فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے اللہ پر یہ گراں نہیں ، پھر فرماتا ہے یہ سورت سراسر عبرت و نصیحت ہے ، جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ سے ملنے کی راہ پر گامزن ہو جائے ، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت ( وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا 39؀ ) 4- النسآء:39 ) ، ان پر کیا بوجھ پڑھ جاتا اگر یہ اللہ کو قیامت کو مان لیتے ۔ پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے تمہیں ہدایت کی چاہت نصیب نہیں ہو سکتی ، اللہ علیم و حکیم ہے متقین ہدایت کو وہ ہدایت کی راہیں آسان کر دیتا ہے اور ہدایت کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جو اپنے آپ کو مستحق ضلالت بنا لیتا ہے اسے وہ ہدایت سے ہٹا دیتا ہے ہر کام میں اس کی حکمت بالغہ اور حجت نامہ ہے ۔ جسے چاہے اپنی رحمت تلے لے لے اور راہ راست پر کھڑا کر دے اور جسے چاہے بےراہ چلنے دے اور راہ راست نہ سمجھائے ، اس کی ہدایت نہ تو کوئی کھو سکے نہ اس کی گمراہی کو کوئی راستی سے بدل سکے ، اس کے عذاب ظالموں اور ناانصافیوں سے ہی مخصوص ہیں ، الحمد اللہ سورہ انسان کی تفسیر بھی ختم ہوئی ، اللہ کا شکر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت مختلف اوقات میں نازل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] کفار مکہ کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساتھ کے ساتھ قرآن تصنیف کرتے رہتے ہیں۔ پھر ہمیں سنا دیتے ہیں۔ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہوتا تو ایک ہی بار نازل ہوجاتا۔ اس اعتراض کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تاکید اور تاکید مزید کے طور پر جمع متکلم کی تین ضمیریں استعمال فرمائیں ایک انا میں دوسرے نحن میں اور تیسرے نَزَّلْنَا میں۔ اتنی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ قرآن رسول کا تصنیف کردہ نہیں بلکہ ہم ہی نے اسے نازل کیا ہے اور تدریجاً نازل کیا ہے جس میں کئی مصلحتیں ہیں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزلیلاً : سورت کے شروع سے یہاں تک کفار و ابرار کے انجام کا ذکر فرمانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے اعتراضات کے جواب میں تسلی دی جا رہی ہے اور صبر و استقامت اور ذکر و تسبیح اور سجود کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آپ قرآن مجید اپنے پاس ہی سے بنا کر سناتے رہتے ہیں، ورنہ یہ اکٹھا ہی کیوں نازل نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس کا جواب مذکور ہے (مثلاً دیکھیے فرقان : ٣٢) مگر یہاں نہایت زور دار لہجے میں فرمایا کہ یقینا ہی نے یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے آپ پر نازل کیا ہے، یعنی ہمارے علاوہ کوئی ایسا کلام بنا ہی نہیں سکتا، ورنہ تم سب ملکر ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو اور ہم ہی جانتے ہیں کہ حکمت کا تقاضا اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا ہے، اس لئے آپ ان کے اعتراضات کی پروا نہ کریں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا۝ ٢٣ ۚ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣۔ ٢٦) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آیئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 Though the addressee here apparently is the Holy Prophet (upon whom be peace) , the discourse is directed to the disbelievers, who said "Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) himself composes the Qur'an deliberately piece by piece; had it been from Allah, it would be revealed all at once. At some places on the Qur'an this objection bas been cited and answered (e.g. see E.N.'s 102, 104, 105, 106 of An-Nahl and E.N. 119 of Bani Isra'il) , but here Allah has answered it without citing it, saying emphatically: "It is We Ourself Who are sending it down: it is not the composition of Muhammad: and it is We Ourself Who are sending it gradually. That is, it is the requirement of Our wisdom that We should not send down Our message all together in book form, but should send it piece by piece."

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :27 یہاں مخاطب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے ۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں ، ورنہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آ جاتا ۔ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ ( مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حواشی 102 ۔ 104 ۔ 105 ۔ 106 ۔ بنی اسرائیل ، 119 ) اور یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالی نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے و الے ہم ہیں ، یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے مصنف نہیں ہیں اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں ، یعنی یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے کہ اپنا پیغام بیک وقت ایک کتاب کی شکل میں نازل نہ کر دیں ، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٣۔ ٣١۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو راہ دیکھ اپنے رب کے حکم کی اور ان گناہ گار ناشکر لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کر۔ یہ راہ دیکھنے کا حکم جہاد کا حکم تھا جس کے نازل ہونے کے بعد آخر کو مکہ فتح ہوا اور اہل مکہ اسلام کے تابع ہوگئے تفسیر مقاتل میں ١ ؎ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے ایک روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم یہ نئی دین کی باتیں دنیا کمانے کے لئے کرتے ہو تو ہم بہت سامان تمہارے لئے جمع کرسکتے ہیں اور مکہ میں جو عورت تمہاری پسند کی ہو اس سے تمہارا نکاح کرا سکتے ہیں یہاں تک کہ عتبہ اپنی بیٹی بغیر مہر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں دینے کو راضی ہوگیا۔ یہ عورت نہایت خوبصورت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ آخرت کے تو منکر ہیں فقط دنیا پر ان لوگوں کا مدار ہے اور اللہ کے نزدیک دنیا کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لئے اے نبی اللہ کے تم ان لوگوں کی ایک نہ سنو اور لوگوں کی نصیحت اور اللہ کی عبادت میں جہاں تک ممکن ہو رات دن لگے رہو۔ اللہ تمہاری ہر طرح کی مدد کو کافی ہے۔ یہ گناہ گار کافر لوگ تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں۔ مقاتل بن سلیمان کی تفسیر کو امام شافعی (رح) نے معتبر کہا ہے۔ مستدرک ٢ ؎ حاکم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس طرح تم لوگ اپنے بیمار آدمی کو بد پرہیزی کی چیزوں سے بچاتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو دنیا کی ثروت سے بچاتا ہے۔ حاکم ٣ ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس باب میں صحیح ابن حبان اور طبرنی وغیرہ میں متعبر سند سے اور بھی روایتیں ہیں۔ مستند ٤ ؎ ابو یعلی ‘ طبرانی ‘ مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ گار لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی کہ وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی تو اور بڑی تکلیفوں کا کیا ٹھکانہ ہے۔ اسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا۔ حشر کی باتوں کو یہ لوگ خلاف عقل جو کہتے تھے اس کے جواب میں فرمایا کہ پانی جیسی پتلی چیز سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ہڈی پسلی وغیرہ ی سب مضبوط چیزیں ان کی آنکھوں کے سامنے پیدا کردیں تو وہ جب چاہے ان کے غارت کرنے کے بعد ان جیسی اور مخلوق کو یا حشر کے دن انہی کو پیدا کرسکتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے جو چیز ایک دفعہ آچکی تو پھر دوبارہ اس کے پیدا ہوجانے کا انکار ‘ یہ خلاف عقل سلیم ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن تو اللہ کی طرف سے ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اس نصیحت کو سن کر اس کے موافق عمل کرے تاکہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ اچھا ہو مگر اتنی بات ہے کہ جو لوگ راہ پر آنے والے تھے وہ اور جو ان کے برعکس تھے وہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ کے علم ازلی میں چھانٹے جا چکے ہیں اس کے موافق جن کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے وہ باوجود نصیحت کے کبھی راہ راست پر آنے والے نہیں اور مجبور کرکے ان کو راہ پر لانا اللہ کو منظور نہیں کیونکہ مجبوری کا ایمان مجبوری کی عبادت کچھ اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ اس واسطے نتیجہ یہی ہوگا کہ ان میں کے بعض لوگ حالت شرک میں مریں گے اور اس کی سزا میں ان کو قیامت کے دن سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ آیت ان الشرک لظلم عظیم کے موافق یہاں بھی ظلم کے معنی شرک کے ہیں۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٩٠ ج ٤) (٢ ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الفقر وقلۃ ذات الید ص ٢٢٦ ج ٤۔ ) (٣ ؎ الترغیب والترہیب ص ٢٦٦ ج ٤۔ ) (٤ ؎ الترغیب والترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص ٧٤٥ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:23) نزلنا۔ ماضی جمع متکلم تنزیل (تفعیل) مصدر۔ بطور مفعول مطلق تاکیدا لایا گیا ہے۔ مراد یہ کہ قرآن مجید کو ہم نے آیت آیت کرکے نازل کیا۔ علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :۔ مراد یہ ہے کہ آیت آیت کرکے نازل کیا یک دم مجموعہ نازل نہیں کیا۔ نحن مسند الیہ (مبتدائ) ہے نزلنا خبر فعلی ہے جملہ کو انا سے شروع کیا ہے نزلنا خود جمع متکلم ہے لیکن نحن کا اس پر اضافہ کرکے فاعل کی طرف فعل کی اسناد کو مکرر کردیا۔ یہ طرز کلام کلام کو بہت مؤکد کردیتا ہے اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تفریق کے ساتھ قرآن کو نازل کرنے میں حکمت اور مصلحت ہے (یک دم مجموعہ نازل کرنے سے وہ مصلحت اور فائدہ حاصل نہیں ہوتا) پھر فعل کی نسبت اپنی طرف کرنے سے اختصاص کا بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے (کہ ہم نے ہی نازل کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں یہ فعل ہمارا ہی ہے) اور حکیم کا فعل پراز حکمت ہوتا ہے (خدا حکیم ہے اس کا یہ فعل حکمت سے خالی نہیں) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

“۔8 مطلب یہ ہے کہ اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے جیسا کہ یہ مشرکین خیال کرتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٣ تا 31 اسرار ومعارف۔ ہم نے آپ پر قران نازل فرمایا ہے جو یہ سب حقائق بیان فرمارہا ہے اور ان کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لہذا آپ پوری ہمت کے ساتھ کفر کا مقابلہ کیجئے اور اپنے رب کے عطا کردہ نظام پر قائم رہیے اور ان بدکاروں اور ناشکرگزاروں کی بات کو ذرہ برابر اہمیت نہ دیجئے اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یعنی ہر وقت ہر آن یاد کررہیے۔ اسم ذات کے ذکر کا حکم۔ یہاں بھی اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار کا حکم ہے لہذا یہ واجب ہے ہاں کوئی صورت متعین نہیں لہذا ہر وہ طریقہ درست ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور راتوں کو سجدوں اور ذکر الٰہی سے روشن کیجئے کہ تہجد اور رات کے اذکار قلب کے نور کا باعث ہیں اور شرعیت پر عمل کرنے کے لی قوت نصیب ہوتی ہے کفار کی پرواہ مت کیجئے ان بدبختوں نے تو دنیا کے لالچ میں آخرت کو فراموش کررکھا ہے جو بہت مشکل مقام ہے حالانکہ ہم نے ان کو پیدا کیا اور چھوٹے چھوٹے بیشمار مظبوط جوڑ لگا کر انسانی جسم کو بنایا اور جب چاہیں ویسے پھر سے زندہ کردیں بھلا کیا مشکل ہے یہ سب ایک قیمتی نصیحت ہے لہذا جو چاہے اپنے رب کا راستہ اپنالے لیکن وہی کچھ آرزوں کریں گے جس کی اللہ توفیق دیں گے اور توفیق الٰہی کیفیت قلبی پر ہے کہ ایمان قبول کرتا ہے یارد کرتا ہے کہ اللہ سب جانتا بھی ہے اور وہ بہت بڑی حکمت والا ہے۔ رضاء الٰہی۔ جس پر کرم کرتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے یعنی اللہ کی رحمت اور رضایہ ہے کہ نیک عمل کی توفیق ارزاں فرمادیتا ہے جو ظلم کرتے ہیں کہ سب سے بڑا ظلم اللہ پر ایمان نہ لانا ہے تو ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ شددنا۔ ہم نے مضبوط کیا۔ اسر۔ سارا بدن۔ ماتشائو ون ۔ تم نہ چاہو گے۔ تشریح : اصل میں جلد ہاتھ آجانے والے دنیاوی مفادات، اس کا لالچ، اخلاق اور عقائد کی گمراہی، غرور وتکبر یہ وہ چیزیں ہیں جو حق و صداقت کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی کسی پیغمبر نے سچائی اور پیغام الٰہی کو ان دنیا پرستوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے اور بےحقیقت ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ کے نبیوں کو طرح طرح سے ستایا اور ان کی ہر بات پر اعتراض کیا۔ یہی حالات اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت پیش آئے جب آپ نے اللہ کا کلام کفار قریش کے سامنے پیش کیا۔ انہیں یہ اعتراض تھا کہ ہر پیغمبرپر جو بھی کلام نازل کیا گیا ہے وہ چند دنوں یا ہفتوں میں مکمل کردیا گیا لیکن یہ کیسا قرآن ہے کہ اس کی چند آیتیں نازل کی جاتی ہیں اور پورا قرآن ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا (نعوذ باللہ) آپ اس قرآن کو خود سے گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کے ان اعتراضات کے جواب میں ان آیتوں کو پیش فرمایا ہے اور کہا ہے کہ ” ہم نے ہی آپ پر اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے “ یعنی اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی مصلحت یہ ہے کہ زندگی کا ہر انداز قرآن کریم کے اصولوں میں ڈھلتا چلا جائے۔ لہٰذا جس موقع پر جتنی آیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کردیا جاتا ہے۔ آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کے حکم پر ڈتے رہیے اور ان میں سے کافر اور گناہ گار کی بات نہ مانئیے۔ آپ صبح و شام اپنے پروردگار کا ذکر کرتے رہیے۔ راتوں کو اس کے سامنے سجدے کیجئے اور رات کے طویل وقت میں اس کی حمدو ثنا کیجئے۔ اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کیجئے جو آخرت کی ابدی زندگی اور آگے آنے والے بھاری دن سے غافل ہو کر جلد حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو تو اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھیا کہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا۔ اسی نے ان کے جوڑ بند درست اور مضبوط کئے جن سے وہ زندگی بھر کام لیتے ہیں۔ یعنی دنیا میں کوئی کتنی ہی مضبوط مشین ہو وہ آخر کار گھس جاتی ہے لیکن اللہ نے انسان کو ایسے جوڑ بند عطا کئے جس سے وہ ایک طویل عرصہ تک کام لیتا ہے اور وہ مشینری چلتی رہتی ہے۔ فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو سب کچھ بدل کر رکھ دیں۔ ان کی جگہ کسی اور مخلوق کو لے آئیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو جو سراسر ہدایت اور رحمت ہے تھوڑ اتھوڑا کرکے نازل کرنا شروع کردیا ہے اس کی نصیحت اور خیر خواہی کے اصولوں سے جس کا دل چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ بنالے یعنی اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرلے۔ لیکن ہدایت اللہ نے اپنی ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے کیونکہ اس کائنات میں وہی ہوتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے اور جسے چاہے جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنادیتا ہے۔ لہٰذا راہ ھق میں چلنے میں ہر وقت اللہ کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔ حد سے بڑھنے والے ظالموں کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ نے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مفسرین نے سورة الدھر کی آیت نمبر 25 اور 26 کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ان آیتوں میں پانچ وقت کی نمازوں کا صاف اشارہ موجود ہے۔ صبح و شام اور رات کے طویل حصے میں اللہ کا ذکر اور اس کی حمدو ثنا کرنے کا بہترین طریقہ نماز ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے لئے یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ دین حق کو پہنچانے میں جب بھی مشکلات پیش آئیں تو ہر مخالفت کا مقابلہ عبادت سے کیا جائے اور ان لوگوں کی زیادہ پرواہ نہ کی جائے جو اپنے دنیاوی مفادات اور لالچ کی وجہ سے حق و صداقت کی مخالفت کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور ان کے اہتداء میں آسانی ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مجید کے بڑے بڑے مضامین تین میں اور یہ مضمون بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ 1 ۔ توحید 2 ۔ رسالت 3 ۔ آخرت۔ اہل مکہ اور ہر دور کے لوگوں کی اکثریت ان تینوں باتوں کا انکار کرتی رہی ہے۔ ان مضامین کو قرآن مجید بار بار مختلف الفاظ اور انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنا لیں کیونکہ ان مضامین پر قرآن مجید بار بار زوردیتا ہے اس لیے اہل مکہ قرآن مجید کا انکار کرنے کے لیے مختلف بہانے کیا کرتے تھے۔ ان بہانوں میں ان کا ایک بہانہ یہ بھی تھا کہ قرآن مجید یکبارگی کیوں نازل نہیں کیا جاتا۔ قرآن مجید نے کفار کے ان اعتراضات کے جواب درج ذیل تفسیر بالقرآن میں پیش کیے گئے ہیں۔ لیکن ٹھوس دلائل پانے کے باوجود اہل مکہ یا وہ گوئی کرتے رہے۔ جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر و حوصلہ سے کام لیں اور حالات جیسے بھی ہوں آپ کو کسی بدعمل اور ناشکرے کی بات نہیں ماننی چاہیے، صبر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے رب کو صبح و شام یاد کریں اور رات کے کچھ حصوں میں اپنے رب کے حضور سجدے کیا کریں اور اس کی تسبیحات پڑھیں۔ یاد رہے کہ ” اللہ “ کا ذکر انسان کو ایک طرف اس کے رب کے قریب کرتا ہے اور دوسری طرف اسے مشکلات پر قابو پانے کے لیے حوصلہ دیتا ہے۔ ” بکرۃ “ سے مراد صبح کی نماز اور ” اصیل “ کا لفظ زوال کے وقت سے لے کر مغرب کے وقت تک ہوتا ہے اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں شامل ہیں۔ ” وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ “ سے مراد غروب آفتاب سے آدھی رات ہے۔ ان اوقات میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی جاتی ہے۔” لَیْلاً طَوِیْلًا “ سے مراد تہجد کا وقت ہے جو صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے وہاں آپ کو نماز پڑھنے اور ذکر کرنے کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے کیونکہ نماز اور اللہ کے ذکر کے بغیر مشکلات پر قابو نہیں پایا جاسکتا جو شخص مشکلات کے وقت اپنے آپ پر قابو نہیں پاتا وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ” حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے وہ شخض زندگی کے حقائق سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا جو صبر و استقامت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ “ (سیرت عمر فاروق (رض) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو وقفے وقفے سے نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ مسلمان کو مشکلات کے وقت اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کرنا چاہیے اور کسی حال میں بھی برے لوگوں کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ ٣۔ مسلمان کو ہر حال میں اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ کے ذکر اور نماز پڑھنے سے مسلمان کو حوصلہ نصیب ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید یک بار کیوں نازل نہیں کیا گیا : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو یک بار اس لیے نازل نہیں کیا تاکہ قرآن کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر اچھی طرح ثبت کردیا جائے اور آپ اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (الفرقان : ٣٢) ٢۔ قرآن مجید کو اس لیے آہستہ آہستہ نازل کیا گیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑا تھوڑا کرکے لوگوں تک پہنچائیں۔ (بنی اسرائیل : ١٠٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا نحن ................................ طویلا ان چار آیات آیات میں دعوت اسلامی کے حوالے سے ایک عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو داعیان حق کی زندگی میں اچھی طرح رچ اور بس جائے اور وہ ایک طویل عرصہ تک اس حالت میں رہیں اور اس میں غوروفکر کریں اور اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے حقیقی مفہوم ، اس کی عملی شکل اور اس کے ایمانی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کریں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا بنیادی نکتہ عقیدہ توحید تھا اور آپ ایک عرصہ تک مشرکین مکہ کے سامنے اسے پیش کرتے رہے تھے۔ آپ عقیدہ توحید کو محض ایک عقیدے کے طور پر ان کے سامنے نہ پیش کرتے تھے۔ اگر آپ صرف ایک عقیدے کا اظہار کرتے تو اس کا برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہوتا ، کیونکہ عقیدہ شرک جس کے اوپر وہ لوگ جمے ہوئے تھے ، وہ کوئی ٹھوس قوت اور ثبات والا عقیدہ نہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ عقیدہ توحید کا مقابلہ کرسکتے ، کیونکہ اسلامی عقیدہ توحید نہایت قوی ، سادہ اور ٹھوس عقیدہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی دعوت اور اسلامی عقیدہ توحید کے ساتھ کچھ حالات ایسے تھے جن کی وجہ سے یہ لوگ عناد اور دشمنی پر اتر آئے۔ اور وہ تاریخی کشمکش برپا ہوئی جس کا ذکر قرآن نے بھی جا بجا کیا ہے۔ شرک کے عقیدے کی وجہ سے دراصل قریش کو ایک اجتماعی قیادت کا مقام حاصل تھا۔ اور اس عقیدے کے ارد گرد اعلیٰ خداﺅں کا جو تانا بانا بنا گیا تھا ، اور پھر ان خداﺅں کے ساتھ ان کے جو اجتماعی مفادات وابستہ ہوگئے تھے یہی وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے قریش دعوت اسلامی کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ حالانکہ ان کا موقف بظاہر بالکل باطل تھا۔ اور اس باطل عقیدے کو یہ لوگ لے کر اسلام کے ظاہر ، سادہ اور قوی عقیدے کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ جاہلی زندگی کی عیاشی ، لذت کوشی اور شہوت رانی اور اباحیت ان کو مجبور کررہی تھی کہ اس نئے عقیدہ اور نظام کا مقابلہ کیا جائے۔ کیونکہ اس نظام میں قانونی ، اخلاقی پابندیاں ہیں اور اعلیٰ انسانی قدروں پر زور دیا گیا ہے اور جس میں فحاظی اور آزاد شہوت رانی پر پابندیاں تھیں ، جبکہ وہ ایسی زندگی گزار رہے تھے جو اخلاقی بندھنوں سے آزاد تھی۔ یہ اسباب خواہ ان کا تعلق اجتماعی قیادت وسیادت سے ہو یا اقتدار اور مصالح سے ہو یا عادات ، عرف عام ، رسم و رواج اور موروثی تقالید سے ہو ، یا جن کا تعلق اخلاقی حدود وقیود کی آزادی سے ہو۔ جو پہلی دعوت اسلامی کے مقابلے میں اس وقت کے لوگوں کو اٹھا لائے تھے۔ یہی اسباب آج بھی قائم ہیں اور آج بھی ہر ملک اور ہر سر زمین کی دعوت اسلامی کا مقابلہ انہی اسباب ووجوہات سے کیا جارہا ہے۔ یہ نظریاتی دعوت کا مقابلہ انہی اسباب کی وجہ سے کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ دعوت اسلامی کا کام پر مشقت ، مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ لہٰذاداعیان حق کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت پر طویل وقت تک غور وفکر کریں اور ان حقائق میں زندہ رہیں جوان آیات میں بیان ہوئے ہیں ، چاہے یہ داعیان جس زمان ومکان میں ہوں کیونکہ دعوت اسلامی خواہ جس زمان ومکان میں ہو ، اسے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی جانب سے یہ پیغام ملا کہ آپ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں اور آپ سے کہا گیا۔ یایھا .................... فانذر (2:74) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے اٹھو اور ڈراﺅ“۔ جب آپ نے دعوت کا آغاز کیا تو یہ اسباب آپ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوگئے۔ قوم پوری کی پوری دعوت جدید کی راہ روکن کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جن حالت پر وہ قائم ہیں ان کو جوں کا توں رکھیں ، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کا عقیدہ کمزور اور ناقابل قیام ہے۔ پہلے ان کے اندر عناد کا جذبہ پیدا ہوا ، پھر انہوں نے اپنے ان کمزور اور بودے عقائد کا دفاع شروع کردیا۔ اور ان کی جو اجتماعی حالت تھی۔ زندگی کے جو رسم و رواج تھے ، جو آزادی اور بےقیدی تھی اور جو عریانی اور فحاشی رائج تھی اس کے دفاع میں یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے لگے کیونکہ یہ جدید دعوت ان کے لئے خطرہ تھی۔ دعوت اسلامی کا مقابلہ یوں شروع ہوتا ہے کہ ابتداء میں دعوت پر چند سعید روحیں لبیک کہتی ہیں۔ ان کو اذیت دی جاتی ہے اور دھمکیوں اور اذیتوں کے ذریعہ اس کو اس دین سے پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دعوت کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں دعوت کی غلط تصور بیٹھ جائے۔ مختلق قسم کے بےبنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں تاکہ جو لوگ داخل ہوگئے ہوں وہ اگر باز نہیں آئے تو اور لوگ داخل نہ ہوں۔ کیونکہ جو لوگ دعوت اسلامی کو سمجھ چکے ہوتے ہیں ان کو دعوت سے روکنے اور واپس لانے کے مقابلے میں نئے لوگوں کو روکنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یہ وسائل اختیار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دھمکیوں اور تشدد کے علاوہ دوسرے تمام دباﺅ بھی ڈالنا شروع کیے کہ آپ ان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کا طریقہ اختیار کرلیں۔ اور آپ ان کے عقائد ، ان کے رسم و رواج اور بتوں کے خلاف باتیں بند کریں وہ بھی آپ کے ساتھ چھیڑچھاڑ نہیں کریں گے۔ یہ سودا بازی بعینہ ایسی تھی جیسا کہ دنیاوی معاملات کے بارے میں لوگ مصالحت کے لئے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ مراحل ہیں جو ہر اس شخص کو پیش آتے جو کھبی زمان ومکان میں منہاج النبوة پر دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اللہ کے رسول تھے۔ اللہ نے ان کو فتنوں اور دشمنوں سے بچا لیا۔ لیکن آپ بہرحال انسان جانتا تھا کہ آپ بشر ہیں اور آپ کے ساتھی ضعیف ہیں اس لئے اللہ نے ان کو دشمنوں کے حوالے نہیں فرمایا اور ان کی مدد فرمائی۔ اور قدم قدم پر نشانات راہ بتلائے گئے .... چناچہ ان آیات میں اسی امداد کا ذکر ہے اور اس رہنمائی کا ذکر ہے جو اس مشکل مرحلے میں کی گئی۔ انا نحن .................... تنزیلا (23:76) ”” اے نبی ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے “۔ یہ پہلا نکتہ توجہ طلب ہے ، بتایا جاتا ہے کہ اس دعوت کا سرچشمہ اور ماخذ کیا ہے۔ یہ دعوت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہے۔ اور اللہ ہی اس کا سرچشمہ ہے۔ اسی نے قرآن نازل کیا ہے۔ اللہ کے سوا اس کے اندر کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ اللہ کی دعوت کی سوا کسی اور کی دعوت اس کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اس کی ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی فکر کسی اور ذریعہ سے نہیں پیش جاتی۔ اللہ ہی نے قرآن کریم نازل فرمایا ہے ، اللہ ہی حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ہے لہٰذا یہ دعوت اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے اور اس کے بتائے ہوئے نشانات پر جارہی ہے۔ کیونکہ اس دعوت کا ماخذ قرآن ہے جو نازل ہی اللہ نے کیا ہے۔ لیکن باطل نہایت مغرور اور سرکش ہوتا ہے اور شربظاہر پھولا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مومنین کو اذیت دی جاتی ہے۔ ہر قسم کا شر اور فتنہ ان کی راہ میں ہے۔ دعوت اسلامی کے دشمن صرف یہ کرسکتے ہیں کہ وہ لوگوں کو دعوت اسلامی کو قبول کرنے سے روکیں اور اس پر وہ اصرار کرتے رہیں۔ اس پر مزید یہ کہ وہ اپنے عقائد ، رسم و رواج اور فتنہ انگیزیوں پر جمے ہوتے ہیں۔ شر و فساد اور فتنہ انگیزی کے اس دور میں یہ لوگ مصالحت اور میانہ روی کی پیش کش کرتے ہیں ، معاملات کو نصف نصف تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ان مشکل حالات میں ایک پرکشش پیشکش ہے۔ اور ایسے حالات میں اس قسم کی پیشکش کو رد کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن ایسے حالات میں ایک دوسری تنبیہ آتی ہے اور اس اہم معاملے کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کا حکم کہ آپ صبح شام اللہ تعالیٰ ذکر کیجئے اور رات کو نماز پڑھیے اور دیر تک تسبیح میں مشغول رہیے، فاسق یا فاجر کی بات نہ مانیے اہل جنت کے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اس انعام عظیم کا تذکرہ فرمایا جو دنیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا جس کے ذریعے آخرت میں انعامات ملیں گے، یہ انعام قرآن کریم کی تنزیل ہے تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اول سے آخرتک بیک وقت پورا نازل نہیں فرمایا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔ اس میں آپ کے لیے بھی آسانی ہوگئی اور حضرات صحابہ (رض) کے لیے بھی تھوڑا تھوڑا کر کے یاد بھی ہوگیا اور جیسے جیسے نازل ہوتا رہا آپ مخاطبین کو پہنچاتے رہے چونکہ قرآن کے پہنچانے پر دشمن تکلیف پہنچاتے تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ﴿ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ﴾ (کہ اپنے رب کے حکم کی ادائیگی میں صبر کے ساتھ لگے رہیے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” انا نحن “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے۔ ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو تبلیغ کریں۔ مسئلہ توحید ان کو سمجھائیں حشر و نشر اور جزاء سزا سے ان کو آگاہ کریں۔ ” فاصبر لحکم ربک “ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تبلیغ توحید اور ادائے رسالت کا جو حکم صادر فرمایا اس کی خاطر مخالفین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں اور تکلیفوں پر صبر کیجئے اور راہ حق میں آنے والے شدائد و مصائب کو مردانہ وار برداشت فرمائیے۔ ان مشرکین میں سے کسی مجرم اور کفر و شرک کے داعی کی بات نہ مانئے گا۔ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ توحید کی تبلیغ سے باز آجائیں اور رسالت کا کام چھوڑیں تو ہم مال و دولت اور حسب منشاء شادی سے آپ کو راضی کردیں گے۔ اس آیت میں آپ کو ان فساق وفجار کی بات ماننے سے منع کیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) اے پیغمبر ہم نے قرآن کو آپ پر تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا ہے یعنی حسب ضرورت نجماً نجماً نازل ہوتا رہا ہے تاکہ خوب ذہن نشین ہوجائے اور لوگوں کو ابتداء میں پڑھنے اور سیکھنے کی آسانی ہو جیسا کہ ہم سورة بنی اسرائیل اور سورة فرقان میں عرض کرچکے ہیں۔