27 Though the addressee here apparently is the Holy Prophet (upon whom be peace) , the discourse is directed to the disbelievers, who said "Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) himself composes the Qur'an deliberately piece by piece; had it been from Allah, it would be revealed all at once. At some places on the Qur'an this objection bas been cited and answered (e.g. see E.N.'s 102, 104, 105, 106 of An-Nahl and E.N. 119 of Bani Isra'il) , but here Allah has answered it without citing it, saying emphatically: "It is We Ourself Who are sending it down: it is not the composition of Muhammad: and it is We Ourself Who are sending it gradually. That is, it is the requirement of Our wisdom that We should not send down Our message all together in book form, but should send it piece by piece."
سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :27
یہاں مخاطب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے ۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں ، ورنہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آ جاتا ۔ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ ( مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حواشی 102 ۔ 104 ۔ 105 ۔ 106 ۔ بنی اسرائیل ، 119 ) اور یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالی نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے و الے ہم ہیں ، یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے مصنف نہیں ہیں اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں ، یعنی یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے کہ اپنا پیغام بیک وقت ایک کتاب کی شکل میں نازل نہ کر دیں ، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجیں ۔