Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 24

سورة الدھر

فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾

So be patient for the decision of your Lord and do not obey from among them a sinner or ungrateful [disbeliever].

پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم رہ اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہنا نہ مان ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ ... Therefore be patient with constancy to the command of your Lord., meaning, `just as you have been honored by what has been revealed to you, then be patient with His decree and decision and know that He will handle your affairs in a good manner.' ... وَلاَ تُطِعْ مِنْهُمْ اثِمًا أَوْ كَفُورًا And obey neither a sinner (Athim) nor a disbeliever (Kafur) among them. meaning, `do not obey the disbelievers and the hypocrites if they wish to deter you from what has been revealed to you. Rather convey that which has been revealed to you from your Lord and put your trust in Allah, for verily, Allah will protect you from the people.' The Athim is the sinner in his deeds and the Kafur is the disbeliever in his heart. وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کرو وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ ودعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] کچھ کافر تو وہ تھے جو قرآن پر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر مختلف قسم کے اعتراضات جڑ رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لالچ دے کر مداہنت اور سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ ان میں عتبہ بن ربیعہ کا نام بالخصوص قابل ذکر ہے۔ جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کی ریاست چاہتے ہیں یا مال و دولت یا کسی حسین لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر بات منظور ہوگی بشرطیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کام سے باز آجائیں۔ جس کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کو سمجھایا کہ ان میں سے کسی کی بات کو بھی تسلیم نہ کیجیے۔ نہ ان سے بحث میں الجھیے۔ صبر کیجیے اور صبر کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیے۔ اپنی منزل کھوٹی نہ کیجیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فاصبر لحکم ربک…: یعنی وہ وقت آرہا ہے جب آپ کا رب حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، آپ اس وقت کا اتنظار کرتے ہوئے صبر کریں۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ آپ جہاد کے لئے اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کریں، یعنی خود بھی اللہ تعالیٰ کے احاکم پر عمل کرتے رہیں، لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر آزمائش پر بھی صبر کریں اور اس سے روکنے والے کسی شخص کے کہنے پر، خواہ وہ کوئی گناہگار یعنی بدعمل ہو یا ناشکرا یعنی بدعقیدہ ہو، نہ اپنا عمل چھوڑیں، نہ عقیدہ اور نہ اس کی دعوت۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا۝ ٢٤ ۚ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے إثم الإثم والأثام : اسم للأفعال المبطئة عن الثواب وجمعه آثام، ولتضمنه لمعنی البطء قال الشاعرجماليّةٍ تغتلي بالرّادفإذا کذّب الآثمات الهجير وقوله تعالی: فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ [ البقرة/ 219] أي : في تناولهما إبطاء عن الخیرات . وقد أَثِمَ إثماً وأثاماً فهو آثِمٌ وأَثِمٌ وأَثِيمٌ. وتأثَّم : خرج من إثمه، کقولهم : تحوّب وتحرّج : خرج من حوبه وحرجه، أي : ضيقه . وتسمية الکذب إثماً لکون الکذب من جملة الإثم، وذلک کتسمية الإنسان حيواناً لکونه من جملته . وقوله تعالی: أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ [ البقرة/ 206] أي : حملته عزته علی فعل ما يؤثمه، وَمَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ يَلْقَ أَثاماً [ الفرقان/ 68] أي : عذاباً ، فسمّاه أثاماً لما کان منه، وذلک کتسمية النبات والشحم ندیً لما کانا منه في قول الشاعر : تعلّى الندی في متنه وتحدّراوقیل : معنی: «يلق أثاماً» أي : يحمله ذلک علی ارتکاب آثام، وذلک لاستدعاء الأمور الصغیرة إلى الكبيرة، وعلی الوجهين حمل قوله تعالی: فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا [ مریم/ 59] . والآثم : المتحمّل الإثم، قال تعالی: آثِمٌ قَلْبُهُ [ البقرة/ 283] . وقوبل الإثم بالبرّ ، فقال صلّى اللہ عليه وسلم : «البرّ ما اطمأنّت إليه النفس، والإثم ما حاک في صدرک» وهذا القول منه حکم البرّ والإثم لا تفسیر هما . وقوله تعالی: مُعْتَدٍ أَثِيمٍ [ القلم/ 12] أي : آثم، وقوله : يُسارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ المائدة/ 62] . قيل : أشار بالإثم إلى نحو قوله : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ [ المائدة/ 44] ، وبالعدوان إلى قوله : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [ المائدة/ 45] ، فالإثم أعمّ من العدوان . ( ا ث م ) الاثم والاثام ۔ وہ اعمال وافعال جو ثواب سے روکتے اور پیچھے رکھنے والے ہوں اس کی جمع آثام آتی ہے چونکہ اس لفظ میں تاخیر اور بطء ( دیرلگانا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے شاعر نے اونٹنی کے متعلق کہا ہے ۔ ( المتقارب ) (6) جمالیۃ تغتلی بالرادف اذا کذب الآثمات الھجیرا وہ اونٹ کی طرح مضبوط ہے جب سست رفتار اونٹنیاں دوپہر کے وقت چلنے سے عاجز ہوجاتی ہیں تو یہ ردیف کو لے کر تیز رفتاری کے ساتھ چلتی ہے اور آیت کریمہ { فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } ( سورة البقرة 219) میں خمر اور میسر میں اثم کبیر کے یہ معنی ہیں کہ ان کا تناول ( اور ارتکاب ) انسان کو ہر قسم کے افعال خیر سے روک لیتا ہے ۔ اثم ( ص) اثما واثاما فھو آثم و اثم واثیم ( گناہ کا ارتکاب کرنا ) اور تاثم ( تفعل ) کے معنی گناہ سے نکلنا ( یعنی رک جانا اور توبہ کرنا ) کے ہیں جیسے تحوب کے معنی حوب ( گناہ ) اور تحرج کے معنی حرج یعنی تنگی سے نکلنا کے آجاتے ہیں اور الکذب ( جھوٹ ) کو اثم کہنا اس وجہ سے ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا گناہ ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ انسان کو حیوان کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حیوان کہہ دیا جاتا ہے اور آیت کریمہ : { أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ } [ البقرة : 206] کے معنی یہ ہیں کہ اس کی عزت نفس ( اور ہٹ دھرمی ) اسے گناہ پر اکساتی ہے اور آیت : { وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا } [ الفرقان : 68] میں آثام سے ( مجازا ) عذاب مراد ہے اور عذاب کو اثام اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسے گناہ ( یعنی قتل وزنا ) عذاب کا سبب بنتے ہیں جیسا کہ نبات اور شحم ( چربی ) کو ندی ( نمی ) کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ نمی سے نباتات اور ( اس سے ) چربی پیدا ہوتی ہے چناچہ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (7) |" تعلی الندی فی متنہ وتحدار ، اس کی پیٹھ پر تہ برتہ چربی چڑھی ہوئی ہے اور نیچے تک پھیلی ہوئی ہے ۔ بعض نے آیت کریمہ : میں یلق آثاما کے یہ معنی بھی کئے ہیں مذکورہ افعال اسے دوسری گناہوں پر برانگیختہ کرینگے کیونکہ ( عموما) صغائر گناہ کبائر کے ارتکاب کا موجب بن جاتے ہیں اور آیت کریمہ : { فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا } [ مریم : 59] کی تفسیر بھی ان دو وجہ سے بیان کی گئی ہے ۔ لآثم ۔ گناہ کا ارتکاب کرنے والا ۔ قرآں میں ہے : { آثِمٌ قَلْبُهُ } [ البقرة : 283] وہ دل کا گنہگار ہے ۔ اور اثم کا لفظ بر ( نیکی ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا : (6) (6) البرما اطمانت الیہ النفس والاثم ما حاک فی صدرک کہ نیکی وہ ہے جس پر طبیعت مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جس کے متعلق دل میں تردد ہو ۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں آنحضرت نے البرو الاثم کی تفسیر نہیں بیان کی ہے بلکہ ان کے احکام بیان فرمائے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : { مُعْتَدٍ أَثِيمٍ } [ القلم : 12] میں اثیم بمعنی آثم ہے اور آیت : { يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } [ المائدة : 62] ( کہ وہ گناہ اور ظلم میں جلدی کر رہے ہیں ) کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ آثم سے آیت : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } [ المائدة : 44] کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ( یعنی عدم الحکم بما انزل اللہ کفرا اور عدوان سے آیت کریمہ : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ } [ المائدة : 45] کے مفہوم کی طرف اشارہ ( یعنی عدم الحکم بما انزل اللہ ظلم ) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ لفظ اثم عدوان سے عام ہے ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ” تو آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا “ ربط ِمضمون کے اعتبار سے یوں سمجھئے کہ ان آیات کا تعلق سورة القیامہ کی ان آیات سے ہے : { لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ - اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ ۔ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے “۔ یعنی ہم نے قرآن مجید کو بطرز تنزیل (تھوڑا تھوڑا کر کے ) ہی نازل کرنا ہے ‘ ہماری مشیت اسی میں ہے۔ ہمارا ہر حکم اور ہر فیصلہ اسی وقت پر نازل ہوگا جو وقت ہم نے اس کے نزول کے لیے طے کر رکھا ہے ۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ صرف نزول قرآن کے حوالے سے صبر کرنا ہے بلکہ مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے رب کے احکام کا منتظر رہنا ہے۔ { وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا ۔ } ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے کسی گناہگار یا ناشکرے کی باتوں پر دھیان نہ دیجیے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 "Be patient": "Face patiently the hardships and difficulties of the great Mission your Lord has entrusted to you: endure firmly and steadfastly whatever comes to pass, without showing any weakness in this regard." 29 "Do not obey ...": "Do not yield to any one of them so as to give up preaching of the true faith: do not be inclined to make even the least change in the religious beliefs for the sake of any denier of the Truth, or in the moral teachings for the sake of a wicked person. Proclaim whatever is unlawful and forbidden to be so openly even if an immoral person might press you hard to show some lenience in this condemnation, and proclaim whatever is false as false and whatever is we as true publicly even if the disbelievers might use all their influence to silence you, or to make you adopt a little lenience in this regard."

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :28 یعنی تمارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو ، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو ۔ سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :29 یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ ، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں ، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو ۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو ، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو ۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو ، چاہے کفار تمہارا منہ بند کرنے ، یا اس معاملہ میں کچھ نرمی اختیار کر لینے کے لیے تم پر کتنا ہی دباؤ ڈالیں ۔ سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :30 قرآن کا قاعدہ ہے کہ جہاں بھی کفار کے مقابلہ میں صبر و ثبات کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس کے معاً بعد اللہ کے ذکر اور نماز کا حکم دیا گیا ہے ، جس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنان حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے ، صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے سے مراد ہمیشہ اللہ کو یاد کرنا بھی ہو سکتا ہے ، مگر جب اللہ کی یاد کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ دیا جائے تو پھر اس سے مراد نماز ہوتی ہے ۔ آیت میں سب سے پہلے فرمایا اذکر اسم ربک بکرۃ و اصیلا ۔ بکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں اصیل کا لفظ زوال کے وقت سے غروب تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں ظہر اور عصر کے اوقات آ جاتے ہیں ۔ پھر فرمایا و من الیل فاسجد لہ ۔ رات کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہو جاتا ہے ، اس لیے رات کو سجدہ کرنے کے حکم میں مغرب اور عشاء ، دونوں وقتوں کی نمازیں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو ، نماز تہجد کی طرف صاف اشارہ کرتا ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم ا لقرآن ، جلد دوم ، بنی اسرائیل حواشی 92 تا 97 ۔ جلد ششم ، المزمل ، حاشیہ 2 ) ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے یہی اوقات ابتدا سے اسلام میں تھے ، البتہ اوقات اور رکعتوں کے تعین کے ساتھ پنجوقتہ نماز کی فرضیت کا حکم معراج کے موقع پر دیا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:24) فاصبر لحکم ربک ف سببیہ ہے (ف سے پہلے کا کلام بعد والے حکم کا سبب ہے۔ یعنی جب تم نے نیکوں اور بروں کا حال جان لیا۔ اور جزاء و سزا کی تاخیر کا سبب بھی جان لیا۔ تو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر کرو۔ کافروں کو عذاب دینے کی جلدی مت کرو۔ کافروں پر فتح یاب ہونے میں جو تاخیر خیر ہو رہی ہے اس سے رنجیدہ نہ ہو اور جب تم جانتے ہو کہ قرآن خدا نے ہی نازل کیا ہے تو اس کے تشریعی احکام پر صبر کرو۔ اصبر فعل امر واحد مذکر حاضر، صبر (باب ضرب) مصدر۔ تو صبر کر۔ ولا تطع منہم : واؤ عاطفہ، لاتطع فعل نہیں واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر تو اطاعت نہ کر۔ تو حکم نہ مان۔ منھم میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ اثما او کفورا : اثما : اثم (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ گناہ کرنے والا۔ گنہگار۔ او بمعنی یا۔ کفورا کفر (باب نصر) مصدر۔ صفت مشبہ منصوب۔ ناشکرا۔ ناشکر گزار۔ کافر (مراد وہ کافر کی طرف بلانے والا ہے) فائدہ : او بمعنی یا کے استعمال سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اثم یا کفور کی اطاعت سے منع کیا گیا ہے یعنی اختیار دیا گیا ہے کہ تم آثم اطاعت مت کرو یا کفور کی اطاعت مت کرو۔ دونوں میں سے کسی ایک کی اطاعت مت کرو۔ یعنی ایک کو کہنا مت مانو دوسرے کا مانو۔ اس شبہ کا ازالہ یہ ہے کہ اثما او کفورا ! دونوں نکرہ ہیں جو تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے اس لئے ممانعت میں عموما کا فائدہ دیا جا رہا ہے یعنی کوئی گناہ کی دعوت دے یا کفر کی یا دونوں کی تم کسی کی اطاعت مت کرو اگر بجائے او کے آیت میں واؤ ہوتا تو یہ مطلب ہوجاتا کہ اس شخص کی اطاعت مت کرو جو تم کو اثم اور کفر دونوں کی دعوت دیتا ہو اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ تنہا آثم یا صرف کفر کی دعوت دیتا ہو کی اطاعت نہ کرو۔ (تفسیر مظہری) اثما او کفررا دونوں لاتطع کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عنقریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ جب تک یہ حکم نہ آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ایذارسانی کو صبرو ہمت سے برداشت کرتے رہے۔10 یعنی یہ اگر دھمکی یا لالچ دے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت حق کے کام سے بازرکھنا چاہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی بات پر ہرگز کان نہ دھریں بلکہ دعوت کا کام پوری توجہ اور تندہی سے جاری رکھیں۔ کہتے ہیں کہ بدکار سے مراد عتبہ بن ربیعہ ہے اور ناشکرے سے مراد ولید بن مغیرہ، کیونکہ ان دونوں بدبختوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو خالص توحید کی طرف بلانے سے باز آجائیے، ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جتنی دولت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں گے دیں گے اور جس عورت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کردیں گے۔ (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاصبر لحکم ........................ اوکفورا (24:76) ” لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ نہ تمہارے درمیان کوئی پل ہے ، جس کے اوپر سے خیالات ، نظریات ادھر ادھر جاسکیں۔ کیونکہ تمہارے منہاج اور جاہلیت کے منہاج کے درمیان وسیع خلا ہے۔ اس کائنات کے بارے میں تمہارا تصور ان کے تصورات سے جدا ہے۔ تم حق پر ہو اور وہ کفر پر ہیں۔ تم ایمان پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ تم نور پر ہو اور وہ اندھیرے میں ہیں۔ تم علم ومعرفت پر ہو اور وہ جاہلیت پر ہیں۔ پھر معاملات تمام اللہ کے احکام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور نظام یہ ہے کہ وہ باطل کو بھی موقعہ اور مہلت دیتا ہے۔ شر کو بھی موقعہ دیتا ہے اور بعض اوقات اہل ایمان کو دیر تک آزمائشوں میں ڈال کر ان کو پاک اور خالص کرتا ہے۔ یہ تمام احکام اللہ کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں ، اللہ کی تقدیر اور حکمت دنیا کو چلاتی ہے۔ لہٰذا۔ فاصبر ............ ربک (24:76) ” رب کے حکم پر صبر کرو “۔ اس وقت تک جب وقت آجائے۔ اذیت پر بھی صبر کرو ، مشکلات پر بھی صبر کرو ، باطل اگر غالب ہو تو بھی صبر کرو۔ شہ رگ پھولی ہوئی ہو تو صبر کرو ، آپ حق کے حامل ہیں۔ اور قرآن آپ کے پاس ہے جو حق پر مشتمل ہے اس لئے آپ حق پر جم جائیں ، صبر کریں اور ان کی پیش کشوں کو نظر انداز کردیں۔ یہ لوگ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ کچھ اپنی باتوں منوانا چاہتے ہیں۔ ولا تطع .................... اوکفورا (24:76) ” اور ان میں کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ یہ لوگ آپ کو اللہ کی عبادت ، اللہ کی اطاعت اور حق پر چلنے نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ یہ لوگ بدکردار اور کفار ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی کسی قدر کفر اور شرک کا ارتکاب کریں تاکہ معاملے کا فیصلہ نصف نصف پر ہوجائے۔ کچھ اچھی باتیں وہ مانیں ، کچھ بری باتیں آپ مان لیں۔ اس طرح وہ آپ کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی جسمانی خواہشات پوری کرتے ہیں۔ چناچہ وہ آپ کو سربراہی کا منصب پیش کرتے ہیں۔ اور آپ کو دولت کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔ عتبہ ابن ربیعہ آپ سے کہتا ہے ” اس کام کو چھوڑ دیجئے ، میں اپنی بیٹی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ میری بیٹیاں قریش کی خوبصورت ترین لڑکیاں ہیں “۔ غرض ہر دور اور ہر زمان ومکان میں داعیان حق کو انہی ذرائع سے ورغلایا گیا ہے۔ صبر کریں اگرچہ طویل عرصہ تک آپ کو جدوجہد کرنی پڑے۔ اگرچہ قریش کا تشدد سخت ہوجائے اور راستہ طویل ہوجائے لیکن صبر تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور اس کے لئے سخت تیاری اور ریاضت کی ضرورت ہے اور وہ تیاری یہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ٠٠٢٤﴾ (اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا کافر کی بات نہ مانیے) یہ لوگ آپ کو تبلیغ سے روکتے ہیں آپ ان کی فرمانبرداری نہ کریں اور تبلیغ کے کام میں لگے رہیں۔ ﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًاۖۚ٠٠٢٥﴾ (اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجئے) ۔ ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا ٠٠٢٦﴾ (اور رات کے حصے میں بھی اپنے رب کو سجدہ کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں اس کی تسبیح کیا کیجئے) اس میں یہ بتایا کہ کار دعوت کی مشغولی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی عبادت میں بھی مشغول رہیں نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص عابد و ذاکر ہوگا۔ تبلیغی کاموں میں اس کی معاونت ہوتی رہے گی اور کام آگے بڑھتا رہے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر ثابت قدم رہیے اور جمے رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کا کہنا نہ مانیے۔ کہتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں سن کر کافروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ پیغمبر عیش و آسائش کی زندگی چاہتا ہے لہٰذا اس کو نعمتیں پیش کرو چناچہ سب لوگ جمع ہوئے کسی نے باغ کی پیش کش کی کسی نے بہت بڑا مکان دینے کو کہا، کسی نے اپنی خوبصورت لڑکی سے شادی کردینے کو کہا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ ہم نے قرآن تم پر نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ ہدایت قبول کریں۔ یہاں کسی عیش پرستی کا سوال نہیں ہے آپ ان میں سے کسی فاسق اور کافر کا کہنا نہ مانیے یعنی دونوں میں سے ایک کا بھی نہیں بلکہ اپنے پروردگار کے حکم پر چلئے یعنی تبلیغ کرتے رہیے اور تبلیغ کو ان کے کہنے سے ترک نہ کیجئے کیونکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ اپنی تبلیغ کو ترک کردیں ، لہٰذا آپ اپنے پروردگار کی حکم اور اپنے عام کام پر قائم رہیے آگے شخصی عبادت یعنی عبادت لازمہ کا حکم ہے۔