Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 3

سورة الدھر

اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾

Indeed, We guided him to the way, be he grateful or be he ungrateful.

ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ ... Verily, We guided to him the way, meaning, `We explained it to him, made it clear to him and showed it to him.' This is as Allah says, وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى And as for Thamud, We guided them but they preferred blindness to guidance. (41:17) Allah also said, وَهَدَيْنَـهُ النَّجْدَينِ And We guided him to the two ways. (90:10) meaning, `We explained to him the path of good and the path of evil.' This is the statement of `Ikrimah, `Atiyah, Ibn Zayd and Mujahid from what is well-known from him and the majority. Allah then says, ... إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا Whether he be grateful or ungrateful. This is his decree. Thus, with this he is either wretched or happy. This is like what has been recorded by Muslim in a Hadith from Abu Malik Al-Ash`ari. He said that the Messenger of Allah said, كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا All of mankind wakes up in the morning the merchant of his own soul. So he either imprisons it or sets it free.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] انسان کی ہدایت کے لیے کون کون سے ذرائع اللہ نے بنائے ہیں ؟:۔] راہ دکھانے کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مثلاً : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عہدالست سے تعبیر فرمایا ہے۔ ٢۔ ہر انسان میں برے اور بھلے کی تمیز رکھ دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے۔ ٣۔ انسان جب مصائب میں گھر جاتا ہے تو غیر شعوری اور اضطراری طور پر اس کی نگاہیں اپنے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ فریاد کے لیے اسے پکارنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے خالق یا کسی ان دیکھی بالاتر قوت پر تکیہ کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ ٤۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات پر غور کرنے سے بھی انسان کو ایک ایسی عظیم، مقتدر اور بالاتر ہستی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کائنات کا نہایت مربوط نظم و نسق چلا رہی ہے اور انسان کو یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ خود اس ہستی کے دائرہ اقتدار سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتا۔ لہذا اس کی اطاعت کے بغیر اس کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔ ٥۔ وہ کائنات میں یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ بعض ظالم زندگی بھر ظلم و جور کے طوفان اٹھانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض انسان ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار کر اور مصیبتیں سہہ سہہ کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ نظام کائنات انتہائی عدل اور توازن و تناسب پر قائم ہے جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان کو یقیناً ایک دوسری زندگی بھی مہیا کی جانی چاہیے جس میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں اور ٦۔ ان سب ذرائع سے بڑھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کا یہ اہتمام فرمایا کہ انبیاء اور کتابیں ہر دور میں بھیج کر انسانوں پر اتمام حجت کردی۔ ان سب باتوں کے بعد انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ اب وہ اپنے اختیار کا صحیح استعمال کرکے اس کا فرمانبردار اور شکرگزار بندہ بننا چاہتا ہے یا دنیا کی دلکشی میں مست ہو کر اللہ کو بھول جاتا یا اس کی سرکشی کی راہ اختیار کرکے نمک حرام بن جاتا ہے۔ [٥] یہ دنیا نہ دارا لجزاء ہے نہ دارالعیش بلکہ دارالعمل ہے :۔ اس دنیا میں انسان کی تخلیق کا ٹھیک مقصد یہ ہے کہ یہ دنیا اس کے لیے دارالامتحان ہے۔ جہاں اس کی یہ آزمائش مقصود ہے کہ وہ اچھے یا برے کیسے اعمال بجا لاتا ہے ؟۔ یہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے کہ ہر ظالم کو یہاں فوراً سزا مل جائے یا نیک آدمی کو اس کی نیکی کا فوری طور پر بدلہ مل جائے۔ یہ دارالعذاب بھی نہیں ہے۔ خ رُہبان & اہل تناسخ اور اشتراکی نظریات کی تردید :۔ جیسا کہ اہل طریقت، رہبان اور درویش قسم کے لوگوں کا خیال ہے کہ جسم کو عذاب دے دے کر روح کی ترقی کی منزلیں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ نیز یہ دنیا اہل تناسخ کے نظریہ کے مطابق دارالجزاء بھی نہیں ہے کہ انسان اگر اپنی پہلی جون (زندگی) میں گناہ کرتا رہا ہے تو اب اس کی روح کسی ناپاک جسم مثلاً کتے یا سور میں ڈال دی جائے گی یا اگر وہ پچھلی جون میں نیک اعمال بجا لاتا رہا ہے تو اس کی روح کسی مہاتما کے جسم میں ڈال دی جائے گی۔ نیز یہ دنیا دہریوں، آخرت کے منکروں اور دنیا داروں کے نظریہ کے مطابق دارالعیش یا تفریح گاہ بھی نہیں ہے کہ انسان یہاں جیسے جی چاہے زندگی گزار کر چلتا بنے اور اس کے اعمال پر اس سے کوئی بازپرس کرنے والا نہ ہو۔ نیز یہ دنیا جدلیاتی کشمکش کا میدان بھی نہیں ہے جیسا کہ ڈارون اور کارل مارکس کے پیروکار سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے۔ جہاں وہ جیسا بوئے گا آخرت میں ویسا ہی کاٹے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) انا ھدینہ السبیل : یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اور عقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لئے معروف صبح نے پہچانے) اور برے کام منکر (نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء (علیہ السلام) کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔ (٢) اما شاکراً و اما کفوراً : سمع و بصر، عقل و فہم، فطرت انسانی اور انبیاء (علیہ السلام) کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لئے صحیح راستہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اسے راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا ترک کر کے اس کی نعمتوں کی ناشکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا ہَدَيْنٰہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا۝ ٣ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہم نے اس کو ایمان و کفر کا اور نیکی و برائی کا راستہ بتلا دیا یا تو وہ شکر گزار مومن ہوگیا یا ناشکرا کافر یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو شکر گزاروں یا ناشکروں کا راستہ دکھلا دیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ } ” ہم نے اس کو راہ سجھا دی “ اس سے مراد ” ایمان “ سے متعلق وہ شعور یا وہ ہدایت اور راہنمائی ہے جو ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یعنی انسان اندھا اور بہرہ پیدا نہیں ہوا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی طور پر بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جسمانی حواس بھی دیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے روح کی بصیرت بھی عطا کی ہے۔ { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا ۔ } ” اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘ چاہے ناشکرا ہوکر۔ “ اب ظاہر ہے جس انداز اور طریقے سے انسان زندگی گزارے گا ‘ اسی کے مطابق آخرت میں اس کو بدلہ دیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 That is, "We did not just leave him to himself after giving him the powers of knowledge and reason, but We also guided him so that he knows which is the path of gratefulness and which of ungratefulness, so that whichever path he chooses in his later life, he himself is responsible for it. In Surah Al-Balad, the same subject has been expressed, thus "And We showed him both the conspicuous ways (of good and evil) ." And in Surah Ash-Shams, thus "By the human self, and by Him Who balanced it (with all the external and internal powers) , then inspired it with its wickedness and its piety " When all these explanations are kept in view and also those detailed statements of the Qur'an in which it has been stated what arrangements Allah has made for man's guidance in the world, it becomes evident that in this verse "showing the way" does not imply any one form of guidance but many forms of it which arc limitless and countless. For example. (1) Along with the faculties of knowledge and reason man has also been endowed with a moral sense by which he discerns between good and evil, regards some acts and qualities as evil even if he himself is involved in them, and regards some other acts and qualities as good even if he himself is avoiding them. So much so that even those people who for the satisfaction of their selfish motives and desires have invented philosophies by which they have justified many evils for themselves, protest loudly when they are themselves treated with the same evils by others, and then it becomes known that in spite of their false philosophies they actually regard them as evil. Likewise, when a man himself is benefited by a good treatment from another person, he is from within forced to commend and appreciate it even though he might be looking upon good acts and qualities as ignorance folly and antiquated things, (2) In every man Allah has placed the faculty of Conscience (the lawwamah) , which checks and pricks him every time he is about to commit an evil, or is in the process of committing it, or has already committed it. However hard man may try to silence his Conscience or make it insensitive, he dces not have the power to destroy it completely. He may become shameless and prove himself to be absolutely devoid of the Conscience, he may also try to deceive the world by argumentation, he may even invent a thousand excuses to justify his acts in order to deceive himself, but despite all this the censor that Allah has placed in his nature is so active and powerful that it does not let remain hidden from an evil person what he actually is. This same thing has been stated in Surah Al-Qiyamah, thus: "Man knows his own self best even though he may offer many excuses." (v. 15) (3) In man's own self and outside him, from the earth to the heavens, there lie scattered in the universe countless such signs which clearly show that all this could not happen without a God, nor could there be many gods to create this life and control and administer it. Likewise, these very signs, inside man and outside him, clearly point also to the Resurrection and Hereafter. If man shuts down his eyes on them, or refuses to ponder over them intelligently, or avoids to admit the truths which they point out, he himself would be to blame. For Allah has shown no negligence in laying out every possible sign of the truth for the guidance of man. (4) Man does come across in his own life, and in the contemporary world and in the experiences of past history, countless such incidents which prove that a supreme power is ruling over him and the entire universe before whom he is absolutely powerless, whose Will is dominant over everything and whose help he needs at every moment. These experiences and observations which point to the truth do not exist only outside him but in man's own nature as well there exists the evidence of the existence of the supreme power on the basis of which even the most confirmed atheist spreads out his hands in prayer before God when in distress and the most hardened polytheist abandons all false gods and starts invoking One God only for help. (5) Man's intellect and his nature assert positively that crime ought to be punished and good deeds ought to be rewarded. On this very basis in every society of the world a system of the courts is established in one form or another, and the services and works, which are regarded as commendable are also rewarded in one way or another. This is a clear proof of the fact that there is a necessary relationship between morality and the law of retribution, which man cannot possibly deny. Now, if it is admitted that in this world there are countless such crimes which cannot be punished at all. to say nothing of punishing them fully and adequately, and there are also countless such virtues, which cannot be rewarded at aII, to say nothing of rewarding them fully and adequately, there is no alternative but to acknowledge the Hereafter, unless, of course, a foolish person may assume, or a stubborn person may insist on having the opinion, that man who has been endowed with the concept of justice, has taken birth in a world which in itself is devoid of the concept of justice; and then it remains for him to answer the question as to how and wherefrom this man, who was born in such a world, obtained this concept of justice. To reinforce these means of guidance AIIah sent Messengers and revealed Books in the world for the purpose of giving clear and definite guidance to man; in these Books it was clearly explained what is the way of gratefulness and what is the way of ungratefulness and unbelief and what will be the consequences of following either way. The teaching brought by the Prophets and the Books has spread throughout the world in countless perceptible. and imperceptible ways, on such a large scale that no section of human population has remained unaware of the concept of God and the Hereafter, of the distinction between good and evil, and of the moral principles and legal rulings presented by them, whether it knows or dces not know that it has obtained this knowledge only through the teachings of the Prophets and the Books they brought. Even those who disbelieve in the Prophets and the Books today, or are unaware of them, also are following many of those things which have reached them actually through their teachings while they do not know what is the real source of these teachings.

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :5 یعنی ہم نے اسے محض علم و عقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا ، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ شکر کا راستہ کونسا ہے اور کفر کاراستہ کونسا ، اور اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمہ دار وہ خود ہو ۔ سورہ بلد میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وھدینہ النجدین ۔ اور ہم نے اسے دونوں راستے ( یعنی خیر و شر کے راستے ) نمایاں کر کے بتا دیے ۔ اور سورہ شمس میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے و نفس و ما سوھا فالھمھا فجورھا و تقوھا ، اور قسم ہے ( انسان کے ) نفس کو اور اس ذات کی جس نے اسے ( تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ ) استوار کیا ، پھر اس کا فجور اور اس کا تقوی دونوں اس پر الہام کر دیے ۔ ان تمام تصریحات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کے ان تفصیلی بیانات کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی ہدایت کے لیے دنیا میں کیا کیا انتظامات کیے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں راستہ دکھانے سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدو نہایت نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر: ( 1 ) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو ، اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو ۔ حتی کہ جن لوگوں نے اپنی اغراض و خواہشات کی خاطر ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جن کی بنا پر بہت سی برائیوں کو انہوں نے اپنے لیے حلال کر لیا ہے ، ان کا حال بھی یہ ہے کہ و ہی برائیاں اگر کوئی دوسرا ان کے ساتھ کرے تو وہ اس پر چیخ اٹھتے ہیں اور اس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ اپنے جھوٹے فلسفوں کے باوجود حقیقت میں وہ ان کو برا ہی سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح نیک اعمال و اوصاف کو خواہ کسی نے جہالت اور حماقت اور دقیانوسیت ہی قرار دے رکھا ہو ، لیکن جب کسی انسان سے خود اس کی ذات کو کسی نیک سلوک کا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی فطرت اسے قابل قدر سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ ( 2 ) ہر انسان کے اندر اللہ تعالی نے ضمیر ( نفس لوامہ ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کر چکا ہو ۔ اس ضمیر کو خواہ انسان کتنی ہی تھپکیاں دے کر سلائے ، اور اس کو بے حس بنانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کر لے ، لیکن وہ اسے بالکل فنا کر دینے پر قادر نہیں ہے ۔ وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بے ضمیر ثابت کر سکتا ہے ، وہ حجتیں بگھار کر دنیا کو دھوکا دینے کی بھی ہر کوشش کر سکتا ہے ، وہ اپنے نفس کو بھی فریب دینے کے لیے اپنے افعال کے لیے بے شمار عذرات تراش سکتا ہے ، مگر اس کے باوجود اللہ نے اس کی فطرت میں جو محاسب بٹھا رکھا ہے وہ اتنا جاندار ہے کہ کسی برے انسان سے یہ بات چھپی نہیں رہتی کہ وہ حقیقت میں کیا ہے ۔ یہی بات ہے جو سورہ قیامہ میں فرمائی گئی ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے خواہ وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے ۔ ( آیت 15 ) ۔ ( 3 ) انسان کے اپنے وجود میں اور اس کے گرد و پیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو خبر دے رہی ہیں کہ یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر نہیں ہو سکتا ، نہ بہت سے خدا اس کارخانہ ہستی کے بنانے والے اور چلانے والے ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح آفاق اور انفس کی یہی نشانیاں قیامت اور آخرت پر بھی صریح دلالت کر رہی ہیں ۔ انسان اگر ان سے آنکھیں بند کر لے ، یا اپنی عقل سے کام لے کر ان پر غور نہ کرے ، یا جن حقائق کی نشاندہی یہ کر رہی ہیں ان کو تسلیم کرنے سے جی چرائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے تو حقیقت کی خبر دینے والے نشانات اس کے سامنے رکھ دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے ۔ ( 4 ) انسان کی اپنی زندگی میں ، اس کی ہم عصر دنیا میں ، اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجربات میں بے شمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں اور آتے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک بالا تر حکومت اس پر اور ساری کائنات پر فرمانروائی کر رہی ہے ، جس کے آگے وہ بالکل بے بس ہے ، جس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے ، اور جس کی مدد کا وہ محتاج ہے ۔ یہ تجربات و مشاہدات صرف خارج ہی میں اس حقیقت کی خبر دینے والے نہیں ہیں ، بلکہ انسان کی اپنی فطرت میں بھی اس بالاتر حکومت کے وجود کی شہادت موجود ہے جس کی بنا پر بڑے سے بڑا دہریہ بھی برا وقت آنے پر خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے ، اور سخت سے سخت مشرک بھی سارے جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے ۔ ( 5 ) انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے ۔ اسی بنا پر تو دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا نظام کسی نہ کسی صورت میں قائم کیا جاتا ہے اور جن خدمات کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے ان کا صلہ دینے کی بھی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کی جاتی ہے ۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اخلاق اور قانون مکافات کے درمیان ایک ایسا لازمی تعلق ہے جس سے انکار کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے ۔ اب اگر یہ مسلم ہے کہ اس دنیا میں بے شمار جرائم ایسے ہیں جن کی پوری سزا تو درکنار سرے سے کوئی سزا ہی نہیں دی جا سکتی ، اور بے شمار خدمات بھی ایسی ہیں جن کا پورا صلہ تو کیا ، کوئی صلہ بھی خدمت کرنے والے کو نہیں مل سکتا ، تو آخرت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، الا یہ کہ کوئی بے وقوف یہ فرض کر لے ، یا کوئی ہٹ دھرم یہ رائے قائم کرنے پر اصرار کرے کہ انصاف کا تصور رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہو گیا ہے جو بجائے خود انصاف کے تصور سے خالی ہے ۔ اور پھر اس سوال کا جواب اس کے ذمہ رہ جاتا ہے کہ ایسی دنیا میں پیدا ہونے والے انسان کے اندر یہ انصاف کا تصور آخر کہاں سے آگیا ؟ ( 6 ) ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لیے اللہ تعالی نے انسان کی صریح اور واضح رہنمائی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں جن میں صاف صاف بتا دیا گیا کہ شکر کی راہ کون سی ہے اور کفر کی راہ کونسی اور ان دونوں راہوں پر چلنے کے نتائج کیا ہیں ۔ انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی یہ تعلیمات ، بے شمار محسوس اور غیر محفوس طریقوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلی ہیں کہ کوئی انسانی آبادی بھی خدا کے تصور ، آخرت کے تصور ، نیکی اور بدی کے فرق ، اور ان کے پیش کردہ اخلاقی اصولوں اور قانونی احکام سے ناواقف نہیں رہ گئی ہے ، خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ علم اسے انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی تعلیمات ہی سے حاصل ہوا ہے ۔ آج جو لوگ انبیاء اور کتابوں کے منکر ہیں ، یا ان سے بالکل بے خبر ہیں ، وہ بھی ان بہت سی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں جو دراصل انہی کی تعلیمات سے چھن چھن کر ان تک پہنچی ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان چیزوں کا اصل ماخذ کونسا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:3) انا ھدینہ ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر بمعنی ہدایت یاب کرنا۔ راستہ بتادینا۔ ہدایت کرنا۔ بھلائی برائی کے حصول کے فطری راستے بتادینا۔ یہاں اس کا مطلب ہے ہم نے اس کو حق کا راستہ بتادیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ السبیل : منصوب بوجہ مفعول ھدینا کے۔ والسبیل الطریق السوی سیدھا راستہ، راہ حق۔ اما شاکرا واما کفورا : اما بمعنی اگر ، یا۔ شاکر اشکر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ شکر گراز، احسان مند۔ کفورا۔ کفران مصدر سے مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر۔ بڑا ناشکرا۔ بڑا احسان فراموش۔ شاکرا اور کفورا کے متعدد اقوال ہیں :۔ (1) دونوں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر سے حال ہیں ۔ (2) کلام یوں ہے : انا ھدینہ السبیل لیکون اما شاکرا واما کفورا۔ ہم نے اس کو راہ حق بتادی اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا چاہے احسان فراموش بنے۔ عربی میں کہتے ہیں :۔ قد نصحت نک ان شئت فاقیل وان شئت فاترک میں نے تجھے نصیحت کردی ہے اب چاہے قبول کر یا چھوڑ دے۔ (3) اما مرکب ہے ان شرطیہ اور ما زائدہ سے۔ ای بینا لہ الطریق ان شکر وان کفر۔ ہم نے اس کو سیدھا راستہ بتادیا ہے اگر وہ شکر گزار ہوتا ہے وہ انکار کرتا ہے (یہ اس کی مرضی ہے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی عقل اور سمجھ بھی دی اور اس کی طرف پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بھیجے جنہوں نے اس پر شکر گزاری اور ناشکری کے راستے واضح کردیئے اور دونوں پر چلنے کے انجام سے خبردار کردیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا ھدینہ ............................ کفورا (3:76) ” اور ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ یہاں اللہ نے راہ ہدایت کی تعبیر شکر نعمت سے کی ہے۔ کیونکہ جب کسی کو ہدایت عطا کردی جاتی ہے تو اس کے پردہ شعور پر سب سے پہلے شکر کا احساس نمودار ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت عطا کرکے ایک قابل ذکر چیز بنایا۔ پھر اسے سمع وبصر کرکے دوسرے حیوانات سے ممتاز کیا اور یوں وہ علم ومعرفت پر قادر ہوا ، پھر اسے ازروئے فطرت اور بذریعہ انبیاء ہدایت عطا فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا کہ وہ راہ ہدایت اختیار کرکے مشکور بنے یا راہ ضلالت اختیار کرکے کفور اور ناشکرا بنے۔ لفظ کفور کے مفہوم میں ہے کہ ناشکری میں وہ غلو کرے۔ ان تین توجہ مبذول کرنے والی چٹکیوں اور تنبیہات کے بعد اب انسان محسوس کرلیتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور بامقصد مخلوق ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک محور کے گرد بندھا ہوا ہے۔ اور گھوم رہا ہے۔ اور اسے جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان پر اس سے حساب کیا جارہا ہے اور یہ جہاں اس کے لئے دارالامتحان ہے۔ یہاں اسے آزمائشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہاں اسے کھیل کے میدان میں نہیں اتارا گیا بلکہ امتحان کے کمزرہ میں بٹھایا گیا ہے۔ غرض ان مختصرتین آیات سے فکرونظر کا بےبہا خزانہ نکلتا ہے اور بلند افکار اور تصورات اور گہری حکمت کے جوہر ظاہر ہوتے ہیں جبکہ ان تمام نکات کے نتیجے میں انسان پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شعور کی پختگی اور طرز عمل میں سنجیدگی اور وقار حاصل ہوتا ہے۔ یہ مختصر آیات انسان کا نظریہ حیات متعین کردیتی ہیں۔ اس کے وجود کا مقصد بتاتی ہیں اور زندگی کا شعور عطا کرتی ہیں۔ اور ان کی روشنی میں انسان اپنی زندگی اور اس کی قدروں کا تعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے بعد متصلایہ بتادیا جاتا ہے کہ اس آزمائش اور ابتلا کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اور انسان اگر شکر کی راہ لے گا تو نتیجہ کیا ہوگا اور اگر انسان کفر اور کفران کی راہ لے گا تو انجام کیا ہوگا ؟ جو کفر اور ناشکری کی راہ لیں گے ، ان کا انجام نہایت ہی اختصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری سورت کی فضا اور اس کا انداز نرم ونازک اور سہولتوں اور خوشیوں اور جنتوں کی دائمی نعمتوں کا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ عذاب جہنم کی تفصیلات دے کر اس سورت کی فضا کو مکدر کرنا نہیں چاہتے۔ نہایت اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” اناھدیناہ “ شاکرا اور کفورا، ھدیناہ میں ضمیر منصوب سے حال ہیں۔ ہم نے انسان کو خواہ شاکر (مومن) ہو یا کفور (کافر) ہر حال میں سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ عقل و تمییز بھی عطا کی پھر دلائل کائنات کی کتاب اس کے سامنے کھول کر رکھدی کہ اس میں غور و فکر کر کے حق بات سمجھنے کی کوشش کرے اور پھر ساتھ ہی اپنے پیغمبروں کو ہدایات دے کر ان کے پاس بھیجدیا تاکہ وہ ان کو سمجھائیں اور ان کو اللہ کی راہ دکھائیں اب ان کی مرضی شاکر بنیں یا کفور۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) ہم نے اس کو راستہ بتادیا یا وہ شکر کرنے والا ہے اور یا ناسپاس اور کفر کرنے والا ہے۔ سبیل سے مراد یا تو طریقہ حق ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے یہ کہ حق و باطل اور بھلائی برائی کا راستہ دکھادیا اور کتابیں نازل کرکے اور رسول بھیج کر یہ بات بتادی کہ نجات کا راستہ یہ اور ہلاکت کی راہ یہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ احکام کا مخاطب بنایا اس کے بعد یہ انسان یا تو شکرگزار ہوگیا یعنی موحد مومن اللہ کی اطاعت بجا لانے والا ہوا اور ناسپاس یعنی مشرک اور کافر شقی ہوگیا بہرحال دوراستوں میں تقسیم ہوگیا آگے دونوں کے انجام کا ذکر فرمایا صحیح راہ اختیار کرنے والوں کی تعداد چونکہ کم تھی اس لئے ان کو شاکر فرمایا اور نافرمانوں کی تعداد چونکہ زیادہ تھی اس لئے ان کو کفور یعنی مبالغہ کے صیغے سے تعبیر فرمایا۔