Surat ul Mursilaat
Surah: 77
Verse: 11
سورة المرسلات
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ ﴿ؕ۱۱﴾
And when the messengers' time has come...
اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا ۔
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ ﴿ؕ۱۱﴾
And when the messengers' time has come...
اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا ۔
And when the Messengers are Uqqitat. Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas that he said that Uqqitat means "Gathered." Ibn Zayd said, "This is similar to Allah's statement, يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ On the Day when Allah will gather the Messengers together. Mujahid said, أُقِّتَتْ (Uqqitat.) "This means postponed." Ath-Thawri narrated from Mansur, who narrated from Ibrahim that he said concerning the word, أُقِّتَتْ (Uqqitat.) "This means promised." It seems as though he holds this to be similar to Allah's statement, وَأَشْرَقَتِ الاٌّرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَـبُ وَجِـىءَ بِالنَّبِيِّيْنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ And the earth will shine with the light of its Lord: and the Book will be produced; and the Prophets and the witnesses will be brought forward; and it will be judged between them with truth, and they will not be wronged. (39:69) Then Allah says, لاِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ
11۔ 1 یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
[٦] اس طرح موجودہ ارضی و سماوی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔ تمام مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کرکے زمین سے نکال لایا جائے گا۔ اور سب سے پہلے رسولوں سے اپنی اپنی امت کے متعلق شہادت طلب کی جائے گی کہ جب تم نے لوگوں کو میرا پیغام پہنچایا تھا تو انہوں نے کیسا ردعمل اختیار کیا تھا ؟
وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (and when the messengers will be assembled at the appointed time, [ then all matters will be decided.] [ 77:11] & The word uqqitat is derived from tauqit which primarily means &appointment of time&. According to Zamakhshari, it signifies &to arrive at an appointed time& [ as cited in Ruh ]. In this context, the second meaning appears to be more appropriate. The verse signifies that the appointed time for the Prophets and Messengers to assemble with their communities will arrive, so that all matters concerning them may be decided. The verses further describe the Day of Judgment as the great and horrible day and the Day of Decision. It shall be the day of destruction for the deniers and rejecters, thus:
وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ١١ ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ ۔ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] قسم ہے ان فرشتوں کی جو پیام الہی دے کر بھیجے جاتے ہیں وقت الوَقْتُ : نهاية الزمان المفروض للعمل، ولهذا لا يكاد يقال إلّا مقدّرا نحو قولهم : وَقَّتُّ كذا : جعلت له وَقْتاً. قال تعالی: إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] . وقوله : وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] . والمِيقَاتُ : الوقتُ المضروبُ للشیء، والوعد الذي جعل له وَقْتٌ. قال عزّ وجلّ : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] ، إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] ، إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] ، ( و ق ت ) الوقت ۔ کسی کام کے لئے مقرر زمانہ کی آخری حد کو کہتے ہیں ۔ اس لئے یہ لفظ معنین عرصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ۔ وقت کذا میں نے اس کے لئے اتنا عرصہ مقرر کیا ۔ اور ہر وہ چیز جس کے لئے عرصہ نتعین کردیا جائے موقوت کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات ( مقرر ہ ) میں ادا کرنا فرض ہے ۔ ۔ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] اور جب پیغمبر اکٹھے کئے جائیں ۔ المیفات ۔ کسی شے کے مقررہ وقت یا اس وعدہ کے ہیں جس کے لئے کوئی وقت متعین کیا گیا ہو قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن اٹھنے کا وقت ہے ۔ إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] سب ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے ۔ اور کبھی میقات کا لفظ کسی کام کے لئے مقرر کردہ مقام پر بھی بالا جاتا ہے ۔ جیسے مواقیت الحج یعنی مواضع ( جو احرام باندھنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ۔ اقتت اصل میں وقتت تھا۔ واؤ مضموم کو ہمزہ سے بدل لیا کیونکہ ہر وہ واؤ جو کہ مضموم ہو اور اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جاء ہے۔ وقت مادہ۔
آیت ١ ١{ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۔ } ” اور جب رسولوں (علیہ السلام) (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔ “ جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
6 At several places in the Qur'an it has been stated that when the case of mankind will be presented before Allah on the Day of Resurrection, the Messenger of every nation will be called upon to testify that he had conveyed Allah's Messages intact to his people. This will be Allah's first and major argument against the culprits and the wicked people to prove that they were themselves responsible for their wrong attitude and conduct in life, for there had been no negligence on the part of Allah to show guidance and administer warnings . For instance, see AI-A`raf: 172, 173 and E.N.'s 134, 135, Az-Zumar: 69 and E.N. 80, Al-Mulk:8 and E.N. 14.
سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :6 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ میدان حشر میں جب نوع انسانی کا مقدمہ پیش ہو گا تو ہر قوم کے رسول کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس امر کی گواہی دے کہ اس نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ۔ یہ گمراہوں اور مجرموں کے خلاف اللہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حجت ہو گی جس سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اپنی غلط روش کے خود ذمہ دار ہیں ورنہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی ۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، آیات 172 ، 173 ۔ حواشی 134 ، 135 ۔ جلد چہارم ، الزمر ، آیت 69 ، حاشیہ 80 ۔ جلد ششم ، الملک ، آیت 8 ، حاشیہ 14 ۔
4: اﷲ تعالیٰ نے آخرت کا ایک وقت مقرّر فرمایا ہے ہوا ہے جس میں تمام پیغمبر جمع ہو کر اپنی اپنی اُمت کے بارے میں گواہی دیں گے، یہاں وہی وقت مراد ہے۔
(77:11) واذ الرسل اقتت (جملہ شرطیہ) اقتت ماضی (بمعنی مستقبل) مجہول واحد مؤنث غائب۔ توقیت (تفعیل) مصدر بمعنی وقت مقرر کرنا۔ اور جب پیغمبروں (کو اکٹھا کرنے) کا وقت مقرر کیا جائے گا۔ اقتت اصل میں وقتت تھا۔ واؤ مضموم کو ہمزہ سے بدل لیا کیونکہ ہر وہ واؤ جو کہ مضموم ہو اور اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جاء ہے۔ وقت مادہ۔ ان چاروں جملوں (آیات 8، 9، 10، 11) کا جواب شرط ” تو اس روز اہل جنت اور اہل دوزخ کو جدا جدا کردیا جائے گا “ محذوف ہے۔ (تفسیر مظہری)
ف 10 یعنی وہ فیصلہ کے لئے اپنی اپنی امتوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور باری باری حاضر ہوں۔
واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔