Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 13

سورة النازعات

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾

Indeed, it will be but one shout,

۔ ( معلوم ہونا چاہیئے ) وہ تو صرف ایک ( خوفناک ) ڈانٹ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فانماھی زجرۃ واحدۃ…: یعنی تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا تمہیں کتنا ہی ناممن دکھائی دے، اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ اس کی طرف سے ایک ڈانٹ یعنی صور میں ایک پھونک پڑنے کی دیر ہے کہ سب زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر سطح زمین پر موجود ہوں گے۔” سھر “ (س) جاگنا اور ” الساھرۃ “ زمین کا اوپر کا حصہ، کیونکہ اسی پر انسانوں کا جاگنا اور سونا ہے۔ چٹیل میدان اور صحرا کو ” الساھرۃ “ اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں خوف کی وجہ سے انسان بیدار رہتا ہے۔ (فتح القدیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِنَّمَا ہِيَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۝ ١٣ ۙ زجر الزَّجْرُ : طرد بصوت، يقال : زَجَرْتُهُ فَانْزَجَرَ ، قال : فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] ، ثمّ يستعمل في الطّرد تارة، وفي الصّوت أخری. وقوله : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] ، أي : الملائكة التي تَزْجُرُ السّحاب، وقوله : ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] ، أي : طرد ومنع عن ارتکاب المآثم . وقال : وَقالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] ، أي : طرد، واستعمال الزّجر فيه لصیاحهم بالمطرود، نحو أن يقال : اعزب وتنحّ ووراءک . ( زج ر ) الزجر ۔ اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں زجرتہ میں نے اسے جھڑکا ، روکا ۔ انزجر ( جھڑکنے پر ) کسی کام سے رک جانا ۔ یہ زجر کا مطاوع بن کر استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے :۔ فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] اور قیامت تو ایک ڈانٹ ہے ۔ پھر کبھی یہ صرف دھتکار دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آواز کیلئے اور آیت کریمہ : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹ کر چلاتے ہیں اور آیت :۔ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] جس میں ( کافی ) تنبیہ ہے ۔ میں مزدجر سے ایسی باتیں مراد ہیں جو ارتکاب معاصی سے روکتی اور سختی سے منع کرتی ہیں اور آیت ؛۔ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] اور اسے جھڑکیاں دی گئیں ۔ کے معنی ہیں ڈانٹ کر نکال دیا گیا یہاں زجر کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ مار بھگانے کے وقت تہدید آمیز کلمات استعمال کئے جاتے ہیں ۔ جیسے جا چلا جا دور ہوجا وغیرہ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:13) فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ کفار کے استہزائیہ مقولوں کے جواب میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے۔ فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ ای لا تحسبوا تلک الکرۃ صعبۃ علی اللہ عزوجل فانھا سہلۃ ھینۃ فی قدرتہ فما ہی الا صحیۃ واحدۃ (فانما ہی زجرۃ واحدۃ) یرید النفخۃ الثانیۃ (مدارک) یعنی زندگی کی واپسی کو خدائے عزوجل کے لئے مشکل خیال نہ کرو۔ کیونکہ اس کی قدرت کاملہ کے لئے یہ بہت ہی سہل اور آسان ہے وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہے۔ مراد اس سے نفخۃ الثانیہ ہے۔ انما : بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ وہ تو صرف (یہ) ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ اور زجرۃ واحدۃ خبر ان ہے۔ زجرۃ : زجر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی ڈانٹنا۔ جھڑکنا۔ زجر کرنا ہے بمعنی ڈانٹ ، جھڑک، زجر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی آخرت کو محال نہ سمجھا بس…

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ کوئی بات وثوق اور محفوظ طریقے سے نہیں کہی جاسکتی۔ اس ڈانٹ سے مراد ، مطابق نصوص قرآن وسنت ، دوسرا نفح صور ہے ، جس کے ہوتے ہی تمام لوگ اپنی اپنی جگہ اور اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے ، جو الفاظ اس کے لئے چنے گئے ہیں ، ان سے اس عمل کی سرعت معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل نہایت تیزی سے ہوگا۔ اس پوری سورت کے بیان کردہ واقعات سرعت اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سرعت اور خوف کی وجہ سے دلوں پر کپکپی اور جسموں پر لرزہ طاری ہوگا۔ اس سورت کی ہر حرکت ، ہر لمحہ اور ہر منظر اور فضا میں ہم آہنگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے میں تیزی ، حرکت اور خوف کی یہ فضا قدرے تھم جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں قصہ موسیٰ وفرعون کی طرف مختصراً اشارات ہی۔ اس میں اس سرکشی کا انجام دکھایا گیا ہے ، اس لئے بیان میں قدرے سکون اور نرمی آجاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ٠٠١٣ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِؕ٠٠١٤ ﴾ (وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اس میں منکرین کی تکذیب کی تردید ہے اس وقت طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا واقعہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھاری بات نہیں ہے جب اس کا حکم ہوگا تو ایک چیخ وجود میں آئے گی (یعنی دوسری مرتبہ کا صور پھونکا جانا) اس وقت بغیر کسی دیر و انتظار کے ایک میدان میں موجود ہوں جائیں گے جو حساب کتاب کی جگہ ہوگی۔ قال صاحب الروح الساھرة قیل وجہ الارض والفلاة وفی الکشاف الارض البیضاء ای التی لانبات فیھا المستویة سمیت بذلک لان السراب یجری فیھا من قولھم عین ساھرة جاریة الماء۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” فانماھی زجرۃ “۔ ” زجرۃ “ ایک زبردست ڈانٹ۔ ایک چیخ۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ ” الساھرۃ “ روئے زمین، سطح ارض۔ یہ بعث بعد الموت پر قدرت خداوندی کا بیان ہے۔ یہ نفخہ ثانیہ ایک ایسی آواز ہوگی کہ اس سے تمام مردے زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر زمین کی سطح پر موجود ہوں گے اس طرح اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرما لے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) بس وہ واقعہ تو ایک ہی سخت آواز ہوگی۔