Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 15

سورة النازعات

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ﴿ۘ۱۵﴾

Has there reached you the story of Moses? -

کیا موسیٰ ( علیہ السلام ) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mentioning the Story of Musa and that it is a Lesson for Those Who fear Allah Allah informs His Messenger Muhammad about His Messenger Musa. He mentions that he sent Musa to Fir`awn and He aided him with miracles. Yet, even after this, Fir`awn continued in his disbelief and transgression until Allah seized him with a mighty and powerful punishment. Thus is the punishment of whoever opposes you (Muhammad) and rejects that which you have been sent with. This is why Allah says at the end of the story, إِنَّ فِى ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَى In this is a Lesson for whoever fears. Allah begins by saying, هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى Has there come to you the story of Musa? meaning, have you heard of his story

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی ، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا ، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ۔ اسی لئے اس واقعہ کے خاتمہ پر فریاد ڈر والوں کے لئے اس میں عبرت ہے ، پس فرماتا ہے کہ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ۔ اس کا تفصیل سے بیان سورہ طہ میں گزر چکا ہے ، آواز دے کر فرمایا کہ فرعون نے سرکشی تکبر ، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے ، میری سن میری مان ، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا ، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ ریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ۔ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا ، حجت ختم کی دلائل بیان کئے یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور حضرت موسیٰ کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جا گزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی ، یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے جھک جائے ۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادو گروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں حضرت موسیٰ کو نیچا دکھانا چاہا ۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں ، اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت ( مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ 38؀ ) 28- القصص:38 ) یعنی میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ، اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں ، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے بھی اس سے وہ اتنقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لئے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس کے بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ، جیسے فرمایا آیت ( وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ 41؀ ) 28- القصص:41 ) یعنی ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ، پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے ، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں ، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں ، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے ، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ، اس میں ان لوگوں کے لئے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] قصہ موسیٰ و فرعون :۔ قیامت کے ذکر میں فرعون کا ذکر آپ کو تسلی دینے کے خاطر لایا گیا ہے۔ یعنی یہ مکہ کے کافر تو فرعون کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ مصر کے بہت سے علاقہ کا واحد حکمران انتہائی مغرور اور سرکش بادشاہ تھا۔ اس نے بھی جب ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اکڑ بیٹھا تو ہم نے اسے اور اس کی آل کو سمندر میں غرق کردیا تھا۔ اور اب یہ کفار بھی اگر فرعون جیسا ہی کردار ادا کریں گے تو یہ اللہ کی گرفت سے کیونکر بچ سکیں گے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ھل اتک حدیث موسیٰ :” کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے ؟ “ قیامت اور اس کا انکار کرنے والوں کے ذکر کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک تو منکرین کو ڈرانا مقصود ہے کہ قح کا انکار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، دوسرا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ان کافروں کے جھٹلانے پر رنجیدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تو ان کا یہ انجام ہوا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى۝ ١٥ ۘ هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] ، هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] ، هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] ، هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] قيل : ذلک تنبيه علی قدرة الله، و تخویف من سطوته . ( ھل ) ھل یہ حرف استخبار اور کبھی استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جیسے قرآن پاک میں ہے : هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] کہدو کہ تمہارے پاس کوئی سند ہے اگر ہے تو اسے ہمارے سامنے نکالو ۔ اور کبھی تنبیہ تبکیت یا نفی کے لئے چناچہ آیات : ۔ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یار کہیں ان کی بھنکسنتے ہو ۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا ئم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو کیا تجھے ( آسمان میں ) کوئی شگاف نظر آتا ہے ۔ میں نفی کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ اور آیات : ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب ) بادل کے سائبانوں میں نازل ہو اور فرشتے بھی اتر آئیں ۔ ھلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] یہ اس کے سوا اور کسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا ۔ هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] یہ شخص کچھ بھی ) نہیں ہے مگر تمہارے جیسا آدمی ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تنبیہ اور اس کی سطوت سے تخو یف کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے : ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥۔ ١٦) کیا آپ کو حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی وادی طوی میں پکارا، انبیاء کا گزر اس وادی پر بکثرت ہوا اس واسطے اس کا یہ نام پڑگیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :6 چونکہ کفار مکہ کا قیامت اور آخرت کو نہ ماننا اور اس کا مذاق اڑانا دراصل کسی فلسفے کو رد کرنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے رسول کو جھٹلانا تھا ، اور جو چالیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چل رہے تھے وہ کسی عام آدمی کے خلاف نہیں بلکہ اللہ کے رسول کی دعوت کو زک دینے کے لیے تھیں ، اس لیے وقوع آخرت کے مزید دلائل دینے سے پہلے ان کو حضرت موسی اور فرعون کا قصہ سنایا جا رہا ہے تاکہ وہ خبردار ہو جائیں کہ رسالت سے ٹکرانے اور رسول کے بھیجنے والے خدا کے مقابلے میں سر اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٥۔ ٢٦۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب الا دنیٰ دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس مکی سورة کے وعدہ کے موافق ہجرت کے بعد اہل مکہ پر بدر کی لڑائی میں بڑی آفت آئی جس میں ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید ہوگئے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(797:15) ہل اتک حدیث موسیٰ : (قیامت کا ذکر ہو رہا تھا کہ اچانک روئے سخن فرعون کی طرف چلا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ انکار قیامت پر سختی سے ڈٹے ہوئے تھے کسی دلیل سے وہ متاثر نہیں ہو رہے تھے اس لئے ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا دردناک انجام پیش کیا جا رہا ہے جو کہ وہ بھی قیامت کا منکر تھا اور اسی وجہ سے وہ سرکشی اور طغیان میں اتنا دور نکل گیا تھا کہ خدائی دعوی کیا کرتا تھا۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول کے ساتھ ٹکر لینے والو اور اس کی باتوں کا انکار کرنے والو ! تم سے پہلے فرعون جیسے مطلق العنان حکمران نے میرے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اسی طرح ٹکر لی تھی وہ بھی ان کی تکذیب کرتا اور قیامت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اس کا جو انجام ہوا وہ تم نے بار ہا سنا ہے کیا تم اپنے لئے اسی طرح کا انجام پسند کرتے ہو۔ (تفسیر ضیاء القرآن) ہل استفہامیہ ہے اتی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر سے بمعنی آنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاض۔ کا مرجع حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ تیرے پاس۔ حدیث موسیٰ مضاف مضاف الیہ۔ حدیث ہر وہ بات جو انسان تک پہنچے سماع یا وحی کے ذریعہ اسے حدیث کہا جاتا ہے۔ بات ۔ احادیث جمع ۔ حدیث موسی۔ موسیٰ کی بات۔ موسیٰ کی خبر۔ ہل اتک حدیث موسیٰ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آپ کے موسیٰ والی خبر آچکی ہے۔ آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی اطلاع آچکی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اس مقام پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے مقصود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔ کہ ان کافروں کی تکلیف اور ایذا رسانی پر گھبرائیں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی اس قسم کے حالات سے سابقہ پیش آچکا ہے۔ (گذانی فتح البیان)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔ اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری راہنمائی کروں تاکہ تجھ میں خوف خدا پیدا ہوجائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے پاس جا کر اسے سمجھایا اور بڑا معجزہ دکھایا مگر اس نے اسے جھٹلادیا اور نہ مانا پھر مخالفت اور مکرو فریب کرنے کے لیے پلٹا اور لوگوں کو جمع کیا، ان سے کہا کہ میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت میں پکڑ لیا۔ اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا یہ طرز بیان ہے کہ موقع کی مناسبت سے ہر واقعہ کا اتنا ہی حصہ بیان کرتا ہے جتنا اس سے استدلال کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ اتنا ہی بیان کیا گیا ہے جس قدر اس سے استدلال کرتا تھا۔ ” جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں رہنے کی مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر کی طرف واپس چلے تو راستے میں طور کے قریب آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھروالوں سے فرمایا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا اس سے کوئی انگارہ اٹھا لاؤں جسے آپ تاپیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے مبارک مقام پر ایک درخت سے آواز آئی اے موسیٰ میں ہی ” اللہ “ ہوں سارے جہانوں کا مالک۔ اپنی لاٹھی پھینک دے جونہی موسیٰ نے لاٹھی پھینکی دیکھا تو لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور مڑکر نہ دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے موسیٰ پلٹ آؤ خوف نہ کرو تو بالکل محفوظ ہے۔ (القصص : ٢٩ تا ٣١) ” اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ۔ کیونکہ وہ سرکش ہوچکا ہے اور میری یاد سے غافل نہ ہونا۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ موسیٰ اور ہارون نے عرض کی پروردگار ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا ہم پر حملہ آور ہوگا فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن رہا ہوں اور سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے آزاد کر دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اس کے لیے سلامتی ہے ہم کو وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ جو اسے جھٹلائے اور منہ موڑے گا اسے عذاب ہوگا۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی پھر اس کی راہنمائی فرمائی۔ فرعون نے کہا جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا ہوگا ؟ موسیٰ نے کہا اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جو ایک کتاب میں محفوظ ہے میرا رب نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ (طٰہٰ : ٤٢ تا ٥٢) ” موسیٰ نے کہا مشرق ومغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ایک ہے اگر تم لوگ کچھ عقل رکھتے ہو۔ فرعون نے کہا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو تجھے بھی ان لوگوں کے ساتھ قیدی بنا دوں گا جو قید خانوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ نے کہا اگرچہ میں تیرے سامنے واضح دلیل پیش کروں فرعون نے کہا اچھا اگر سچا ہے تو دلیل لاؤ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا وہ یکایک بڑا اژدہا بن گیا پھر اپنا ہاتھ نکالا اور وہ دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ فرعون نے اپنے اردوگرد پیش بیٹھے ہوئے وزیروں، مشیروں سے کہا یقیناً یہ شخص ایک ماہر جادوگر ہے۔ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے اب بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟ انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیں اور شہروں میں ہر کارے بھجیں جو ہر ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں چناچہ ایک دن مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کرلیے گئے اور لوگوں سے کہا گیا کہ تم اس اجتماع میں شرکت کرو ؟ تاکہ ہم ان جادوگروں کی پیروی کریں اگر جادوگر غالب رہے۔ جب جادوگر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کیا انعام ملے گا۔ ؟ اس نے کہا ہاں تم مقربین میں شامل ہوجاؤ گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوں گروں کو فرمایا پھینکو جو تم پھینکنا چاہتے ہو جادوگروں نے فوراً اپنی رسیّاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور نعرہ لگایا کہ فرعون کی عزت کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا وہ یکایک ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کرگیا اس پر تمام جادوگر بےاختیار سجدے میں گرپڑے اور بول اٹھے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے ہاں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں، فرعون نے کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو ؟ یہ ضرور تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادوسکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جب تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور سب کو سولی چڑھادوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کچھ پرواہ نہیں ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے۔ اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ “ (الشعراء : ٢٨ تا ٥١) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اسکے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ فرعون غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً سچ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں، کہا گیا کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ “ (یونس : ٩٠ تا ٩١) المقدس طویٰ سے مراد وہ وادی ہے کہ مدین سے مصر آتے ہوئے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور دو معجزے عطا کیے گئے۔ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے بڑے بڑے معجزات پیش کیے مگر اس نے انہیں جھٹلادیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوا اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا ہوگا۔ ٢۔ فرعون اس قدر سرکش تھا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا جاتا ہے۔ اور انہیں فرعون کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں اس کی سرکشی اور پھر دنیا وآخرت میں اس کے انجام بد اور اللہ کی گرفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں اس کا انجام اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے کیونکہ سورت کا بنیادی موضوع ہے حشرونشر اور حساب و کتاب ہے۔ چند مختصر آیات میں ، الف کے ساتھ طویل مد کے ترنم کے ساتھ اس قصے کی جھلکیاں بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتی ہیں۔ یوں اس کا انداز اور اس کا اثر اس سورت کے مزاج کے مطابق ہوجاتا ہے۔ ان مختصر آیات میں نہایت تیزی اور سرعت کے ساتھ اس قصے کے کئی پہلو دکھائے گئے ہیں۔ اس کا آغاز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے کیا جاتا ہے۔ ھل اتک ................ موسیٰ (15:79) ” کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ مخاطب پوری توجہ سے قصے کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوجائے اور پوری طرح اخذ کرلے۔ اس کے بعد پھر واقعات کی تفصیلات آتی ہیں۔ اس قصے کو لفظ حدیث (بات) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قصہ دراصل ہے ہی موسیٰ اور رب کا مکالمہ۔ اس لئے لفظ حدیث لانا نہایت واقعیت پسندی ہے۔ چناچہ سوال و جواب اور رب کے ساتھ مناجات۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا ڈھیر ہوگیا، فرعونیوں کو پتہ چلا کہ فلاں شخص نے ہمارے آدمی کو مارا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں لگ گئے اور ان کے قتل کے بارے میں مشورہ کرنے لگے، ایک شخص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رائے دی کہ تمہارے بارے میں ایسے ایسے مشورے ہو رہے ہیں تم یہاں سے پھوٹ لو اور کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکلے اور مدین پہنچ گئے وہاں ایک بوڑھے شخص تھے ان کی ایک لڑکی سے نکاح ہوگیا اپنے خسر صاحب کی بکریاں چراتے اور زندگی گزارتے تھے، معیاد کے مطابق دس سال گزار کر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر کی طرف واپس ہو رہے تھے کہ راستہ بھی بھول گئے اور سردی بھی لگ گئی، دور سے انہوں نے دیکھا کہ آگ نظر آرہی ہے اپنی بیوی سے کہا کہ تم ذرا یہیں ٹھہرو میں تاپنے کے لیے آگ لے کر آتا ہوں آگ نہ ملی تو کوئی راستہ بتانے والا ہی مل جائے گا، جس جگہ آگ نظر آرہی تھی اس جگہ کا نام طویٰ تھا جسے الوادی المقدس یعنی پاک میدان فرمایا ہے وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اور حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش بنا ہوا ہے اور انہیں دو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرما دیئے ایک یہ کہ وہ اپنی لاٹھی زمین پر ڈالتے تھے تو اژدھا بن جاتی تھی دوسرے یہ کہ اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالتے تھے تو بہت زیادہ روشن ہو کر نکلتا تھا۔ یہاں سورة النازعات میں اس کا اجمالی تذکرہ ہے فرمایا هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىۘ٠٠١٥﴾ کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے۔ ﴿ اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ۚ٠٠١٦﴾ (جبکہ موسیٰ کو ان کے رب نے پاک میدان وادی طویٰ میں پکارا) ﴿ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ٞۖ٠٠١٧﴾ (تم فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے) ﴿ فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى ۙ٠٠١٨﴾ (سو اس سے فرمایئے کیا تجھے اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاکیزہ بن جائے) ۔ ﴿وَ اَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ٠٠١٩﴾ (اور کیا تجھے اس بات کی رغبت ہے کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت دوں) یعنی تیرے خالق اور مالک کی ذات وصفات اور اس کی الوہیت اور ربوبیت اور اس کی قدرت کاملہ اور اس کے قہر اور غلبہ سے تجھے واقف کراؤں۔ ﴿فَتَخْشٰى﴾تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے اور اس سرکشی کو چھوڑ دے جو تو نے اختیار کر رکھی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا فرمان سن کر وادی مقدس سے روانہ ہو کر مصر پہنچے وہاں سے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا (اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت سے سرفراز فرما دیا تھا) یہ دونوں فرعون کے پاس پہنچے اور اسے حق کی دعوت دی پاکیزہ بننے کے لیے کہا (کیونکہ وہ کفر اور ظلم کی ناپاکی میں لت پت تھا) اور اس سے فرمایا کہ تو ہماری بات مان لے ہدایت پر آ جا ورنہ تجھ پر عذاب آجائے گا۔ كما فی سورة ٴ طہٰ ﴿اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى٠٠٤٨﴾ فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا جب اس نے یہ سنا کہ میرا بھی کوئی رب ہے (اور بظاہر بھرے دربار میں یہ باتیں ہوئیں) تو وہ بڑا چونکا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے متعدد سوال جواب کیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پوری جرات اور دلیری کے ساتھ ہر بات کا جواب دیتے رہے جب فرعون دلیل سے عاجز ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ ٠٠٢٩﴾ (اگر تو نے میرے علاوہ کسی کو معبود بنایا تو تجھے ضرور قیدیوں میں شامل کر دوں گا) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں تیرے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں تب بھی تو ایسا ہی کرے گا ؟ فرعون نے کہا اگر تو سچا ہے تو لے آ وہ کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو وہ اژدھا بن گئی اور اپنا داہنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ خوب زیادہ روشن ہوگیا اسی کو فرمایا ﴿ فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى ٞۖ٠٠٢٠﴾ (پھر انہوں نے اسے بڑی نشانی دکھائی) ﴿ فَكَذَّبَ وَعَصٰىٞۖ٠٠٢١﴾ (سو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی پر جما رہا) دلیل سے بھی عاجز ہوگیا اور دو بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور رب جل شانہ کی نافرمانی پر بدستور قائم رہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر بتادیا پھر جادو گر بلائے ان سے مقابلہ کرایا، جادو گر ہار گئے اور ایمان لے آئے۔ فرعون اب بھی نہ مانا اور اپنی سرکشی پر اڑا رہا، چونکہ وہ مطلق العنان بااختیار تھا اور اس کے غرور کا یہ حال تھا کہ وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں اس لیے اسے اپنے اقتدار کی فکر پڑگئی اور طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات دب جائے اور عوام و خواص ان کی دعوت کو قبول نہ کریں اسی کو فرمایا ﴿ ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى ٞۖ٠٠٢٢﴾ (اس نے پشت پھیری اور کوشش کرنے لگا) ﴿ فَحَشَرَ فَنَادٰى ٞۖ٠٠٢٣﴾ (سو اس نے لوگوں کو جمع کیا پھر بلند آواز سے پکارا) یعنی اپنے لوگوں کو خطاب کیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8: ” ھل اتک “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس طوی میں آواز دی اور نبوت سے سرفراز فرما کر فرعون کی طرف بھیجا اور کہا فرعون کے پاس جاؤ وہ نہایت سرکش اور طاغی ہوچکا ہے۔ اسے نرمی کے ساتھ توحید کی دعوت دو اور اسے ہدایت کی راہ دکھاؤ۔ ” فقل ھل لک “ اسے جا کر کہو کیا تیرا اس طرف میلان ہے کہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کو قبول کر کے گناہوں سے پاک ہوجائے۔ یہ پہلا مرتبہ ہے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے۔ ” واھدیک الی ربک فتخشی “ میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں تو تیرے دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ یہ دونوں مرتبے دوسری جگہ بھی مذکور ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” لعلہ یتذکر او یخشی “ (طہ ع 2) ۔ پہلے اعلی مرتبہ کا ذکر ہے اور بعد میں ادنیٰ مرتبہ کا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) اے پیغمبر کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پہنچا ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی وہ بات جو فرعون کے ساتھ پیش آئی۔