Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 3

سورة النازعات

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ﴿۳﴾

And [by] those who glide [as if] swimming

اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And by the swimmers, swimming. Ibn Mas`ud said, "They are the angels." Similar statements have been reported from `Ali, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, and Abu Salih. Concerning Allah's statement, فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 سَبْح کے معنی تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] سَبَحَ بمعنی کسی چیز کا پانی یا ہوا میں تیرنا اور تیز رفتاری سے گزر جانا۔ اور سباّح بمعنی ماہر تیراک۔ یعنی وہ فرشتہ جو روح کو نکال کر زمین سے آسمان کی طرف اس قدر سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بےروک ٹوک ہوا میں تیرتے جارہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والسبحت سبحاً …:” سبح یسبح سبحاً “ (ف) تیرنا۔ ” السبحت “ تیرنے والے ” سبحاً “ مصدر تاکید کیلئے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ” خوب تیزی سے “ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکام الٰہی کی تعمیل کے لئے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third quality of the angels: وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا (and by those who float [ in the atmosphere ] swiftly... 79:3). The word sabh literally means to &swim& or &float&. Here it signifies &to glide along swiftly as in the sea where there is no mountain barrier&. The one who swims fast and goes far in swimming or a boatman who moves directly towards his final destination. The &angels who float swiftly& refer to the quality of the angels of death who extract human souls and take them quickly towards the sky.

تیسری صف فرشتوں کی وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ہے۔ سبح کے لغوی معنی تیرنے کے آتے ہیں، مراد اس جگہ تیزی سے چلنا ہے جیسے دریا میں کوئی آڑ پہاڑ نہیں ہوتا، تیرنے والا یا کشتی وغیرہ میں چلنے والا سیدھا اپنی منزل مقصود کی طرف جاتا ہے فرشتوں کی یہ صفت کہ تیز جانے والے ہیں یہ بھی ملائکہ موت سے متعلق ہے کہ انسان کی روح قبض کرنے کے بعد اس کو تیزی سے آسمان کی طرف لیجاتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۝ ٣ ۙ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ۔ } ” اور ان (فرشتوں) کی قسم جو تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔ “ فرشتے تیرتے ہوئے ان ارواح کو لے کر کہاں جاتے ہیں اور انہیں کہاں رکھا جاتا ہے ؟ اس بارے میں وضاحت آگے سورة المُطفِّفین میں آئے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:3) والسبحت سبحا واؤ عاطفہ، (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) السبحت مقسم بہا۔ سبحا مفعول مطلق۔ سبح (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ تیرنے والیاں۔ اور قسم ہے تیرنے والیوں کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ٠٠٣ ﴾ یہ ” سبح یسبح “ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو تیرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ فرشتے مومنین کی روحوں کو آسمان کی طرف بڑی سرعت و سہولت کے ساتھ لے جاتے ہیں گویا تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ ﴿فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ٠٠٤﴾ پھر یہ فرشتے تیزی کے ساتھ دوڑنے والے ہیں، وہ جب روحوں کو لے کر اوپر پہنچتے ہیں تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ کا حکم جو ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرنے میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” وَالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا “ فضاء آسمانی میں تیرنے والے۔ سرعتِ سیر کو تیرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ” فَالسّٰبِقٰتِ “ اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے والے۔ ” فَالْمُدَبِّرَاتِ “ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تدبیریں سوچنے والے۔ التی تسیح فی مضیھا (ای تسرع فتسبق الی ما امروا بہ فتدبر امرا من امور العباد مما یصلحہم فی دینہم کما رسم لھم (مدارک) ۔ یہ قیامت کے حق ہونے پر قسمیں اور شواہد ہیں اور جواب قسم محذوف ہے۔ اقسم سبحانہ لہذہ الاشیاء التی ذکرھا علی ان القیامۃ حق (قرطبی ج 19 ص 188) ۔ و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری ج 10 ص 185) ۔ یا لتسلطن علیکم الملائکۃ یوم القیامۃ کما فی الدنیا (الشیخ (رح) تعالی) ۔ حاصل یہ کہ یہ امور اس پر شاہد ہیں کہ قیامت ضرور آئیگی، تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائیگا، تمہارا حساب کتاب ہوگا اور تم پر فرشتے مسلط کیے جائیں گے جو بڑی شان سے مومنوں کو جنت میں داخل کریں گے، کچھ جنت میں ان کا استقبال کریں گے اور ان کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے اور کچھ کفار اور مشرکین کو سختی سے گھسیٹ کر دوزخ میں داخل کریں گے اور ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو تیرتے پھرتے ہیں ہوا میں۔