Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 17

سورة الأنفال

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ ۪ وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷﴾

And you did not kill them, but it was Allah who killed them. And you threw not, [O Muhammad], when you threw, but it was Allah who threw that He might test the believers with a good test. Indeed, Allah is Hearing and Knowing.

سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالٰی نے ان کو قتل کیا ۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالٰی نے وہ پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالٰی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah's Signs displayed during Badr, And throwing Sand in the Eyes of the Disbelievers Allah states that He creates the actions that the servants perform and that whatever good actions they take, it is He Who should be praised for them, for He directed and helped them perform these actions. Allah said, فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ ... You killed them not, but Allah killed them. meaning, it is not because of your power and strength that you killed the pagans, who were many while you were few. Rather, it is He Who gave you victory over them, just as He said in another Ayah, وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force. (3:123) and, لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْياً وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ Truly, Allah has given you victory on many battlefields, and on the day of Hunayn when you rejoiced at your great number, but it availed you naught and the earth, vast as it is, was straitened for you, then you turned back in flight. (9:25) Allah, the Exalted and Ever High, states that victory does not depend on numbers or collecting weapons and shields. Rather, victory is from Him, Exalted He is. كَم مِّن فِيَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِيَةٍ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّـبِرِينَ How often has a small group overcome a mighty host by Allah's leave!" And Allah is with the patient. (2:249) Allah then mentioned the handful of sand that His Prophet threw at the disbelievers during the day of Badr, when he went out of his bunker. While in the bunker, the Prophet invoked Allah humbly and expressing his neediness before Allah. He then threw a handful of sand at the disbelievers and said, شَاهَتِ الْوُجُوه (Humiliated be their faces). He then commanded his Companions to start fighting with sincerity and they did. Allah made this handful of sand enter the eyes of the idolators, each one of them were struck by some of it and it distracted them making each of them busy. Allah said, ... وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّهَ رَمَى ... And you threw not when you did throw, but Allah threw. Therefore, it is Allah Who made the sand reach their eyes and busied them with it, not you (O Muhammad). ... وَلِيُبْلِيَ الْمُوْمِنِينَ مِنْهُ بَلء حَسَناً ... that He might test the believers by a fair trial from Him. Muhammad bin Ishaq said that Muhammad bin Jafar bin Az-Zubayr narrated to him that Urwah bin Az-Zubayr said; "So that the believers know Allah's favor for them by giving them victory over their enemy, even though their enemy was numerous, while they were few. They should thus know His right and express gratitude for His favor on them." Similar was said by Ibn Jarir. It is stated in a Hadith, وَكُلَّ بَلَءٍ حَسَنٍ أَبْلَنَا Every trial (from Allah) is a favor for us. Allah said next, ... إِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ Verily, Allah is All-Hearer, All-Knower. Allah hears the supplication and knows those who deserve help and triumph. Allah said, ذَلِكُمْ وَأَنَّ اللّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ

اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے ۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا ، جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ١٢٣؁ ) 3-آل عمران:123 ) اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی اور آیت میں ہے آیت ( لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25؀ۚ ) 9- التوبہ:25 ) ، بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے ، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بےکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہوگئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے ۔ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی ، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے ۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت ( کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصابرین ) یعنی بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعاکی ۔ روئے ، گڑگڑائے اور منجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ان کے چہرے بگڑ جائیں ، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو ۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں ۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہ تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا ۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تونے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یارسول اللہ آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی ۔ سدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں حضرت علی سے فرمایا کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو حضرت علی نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی ۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں ۔ ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکرلے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں ۔ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے ۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی ۔ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے ۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں ۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وہ تیر تونے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا ۔ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہوگیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے ۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورہ انفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے ۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت ، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمیں نے انہیں ان پر غالب کر دیا ۔ حدیث میں ہے ہر ایک امتحان ہمارا امتحان ہے اور ہم پر اللہ کا احسان ہے ۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ پھر فرماتا ہے اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا اور یہی ہوا بھی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی جنگ بدر کی ساری صورت حال تمہارے سامنے رکھ دی گئی ہے اور جس جس طرح اللہ نے تمہاری وہاں مدد فرمائی، اس کی وضاحت کے بعد تم یہ نہ سمجھ لینا کہ کافروں کا قتل، یہ تمہارا کارنامہ ہے۔ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی اس مدد کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ فتح حاصل ہوئی اس لئے دراصل انہیں قتل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ 17۔ 2 جنگ بدر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کافروں کی طرف پھینکی تھی، جسے ایک تو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مونہوں اور آنکھوں تک پہنچادیا اور دوسرے، اس میں یہ تاثیر پیدا فرمادی کہ اس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا، یہ معجزہ بھی، جو اس وقت اللہ کی مدد سے ظاہر ہوا، مسلمانوں کی کامیابی میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اے پیغمبر ! کنکریاں بیشک آپ نے پھینکی تھیں، لیکن اس میں تاثیر ہم نے پیدا کی تھی، اگر ہم اس میں یہ تاثیر پیدا نہ کرتے تو یہ کنکریاں کیا کرسکتی تھیں ؟ اس لئے یہ بھی دراصل ہمارا ہی کام تھا نہ کہ آپ کا۔ 17۔ 3 بلاء یہاں نعمت کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ کی یہ تائید و نصرت، اللہ کا انعام ہے جو مومنوں پر ہوا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] ریت کی مٹھی کا کرشمہ :۔ میدان بدر میں اللہ کی مدد کی چوتھی صورت یہ تھی کہ جب جنگ پورے زوروں پر تھی اس وقت آپ نے ریت اور کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اسے کافروں کے لشکر کی طرف پھینک دیا اور فرمایا شاھت الوجوہ اس ریت کے ذرات کافروں کی آنکھوں میں جا لگے جس سے وہ آنکھیں ملتے رہ گئے اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو موقع دیا۔ کہ وہ کافروں کو بےدریغ قتل کرسکیں۔ بعض عقل پرست حضرات کہتے ہیں کہ مٹھی پھینکنے کے وقت ہوا کا رخ چونکہ کافروں کی طرف تھا، اس لیے کافروں کو یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مٹھی بھر ریت کے ذرات آخر سب کافروں تک کیسے پہنچ گئے۔ پھر یہ ذرات آنکھوں میں ہی کیوں جا لگے۔ کسی اور جگہ بھی لگ سکتے تھے۔ آنکھ تو انتہائی مختصر حصہ جسم ہے۔ لازماً یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل تھا۔ جس کا صدور اس کے نبی کے ہاتھوں معجزہ کے طور پر ہوا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی نسبت براہ راست اپنی طرف کی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ : صاحب کشاف نے فرمایا، یہاں حرف ” فاء “ یعنی ” پس “ ایک شرط کا جواب ہے کہ اگر تم فخر کرو کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا تو درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انھیں قتل کیا، کیونکہ نہ تمہاری تعداد زیادہ تھی اور نہ تمہارے پاس اتنا سروسامان تھا کہ تم کافروں کے ہر طرح سے مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے، لہٰذا ان کو چاہیے کہ کسی بات میں اپنا دخل نہ دیا کریں۔ (موضح) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ : یعنی وہ مٹھی جو آپ نے پھینکی، درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی، کیونکہ اگر وہ آپ کی پھینکی ہوئی ہوتی تو اتنی دور ہی جاسکتی جتنی ایک آدمی کے پھینکنے سے جاسکتی ہے، اس کو اتنا بڑھانا اور ٹھیک نشانے پر پہنچانا کہ ہر مشرک کی آنکھ میں پہنچ جائے صرف اللہ تعالیٰ کا کام تھا۔ یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو حافظ ابن کثیر نے علی بن طلحہ عن ابن عباس (رض) کی حسن سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا : ” یا رب ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کبھی نہیں ہوگی۔ “ تو جبریل (علیہ السلام) نے کہا : ” آپ مٹی کی ایک مٹھی لیں اور ان کے چہروں پر پھینکیں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور ان کے چہروں کی طرف پھینکی تو جو بھی مشرک تھا اس کی آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس مٹھی کا کچھ حصہ جا پہنچا تو وہ پیٹھ دے کر بھاگ گئے۔ گویا مٹی پھینکی آپ نے لیکن اس کو نشانے تک اللہ نے پہنچایا، ابتدائی کام پھینکنا آپ کا تھا اور انتہا نشانے پر لگانا اللہ کا فعل تھا۔ اگر درحقیقت خود آپ ہی اللہ تعالیٰ تھے تو دونوں فعل آپ کے ہوئے، آپ سے ایک فعل (نشانے پر لگانے) کی نفی کیوں کی گئی ؟ بعض لوگ ” وَمَا رَمَيْتَ “ سے ثابت کرتے ہیں کہ درحقیقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی پروردگار عالم تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پھینکنے کو اپنا پھینکنا قرار دیا، مگر اس صورت میں تو لازم آئے گا کہ ” وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ “ سے بدری مسلمان بھی خود اللہ تعالیٰ ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفار کے قتل کرنے کو اپنا کام قرار دیا ہے۔ مگر یہ نہایت کفریہ بات ہے جس سے دین اسلام کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ وہ صحابہ کرام (رض) کچھ بدر ہی میں شہید ہوئے، کچھ بعد میں فوت یا شہید ہوئے، خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زہر کے اثر سے وفات پائی اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ زندہ حی و قیوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی تو ایک ہی ہے، فرمایا : (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) ان لوگوں کا رب عجیب ہے، جو ایک نہیں بلکہ بڑی تعداد میں ہے اور وہ شہید ہوتا اور مرتا بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو رب مانتے ہیں اور اسے وحدت الوجود کہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ قرآن و حدیث کے احکام کا خاتمہ اور اسلام و کفر اور جنت و دوزخ سب کے وجود کا انکار ہے۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ] وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا : ” لِيُبْلِيَ “ یہ ” بَلَاءٌ“ سے مشتق ہے، از باب افعال، آزمانا، جو سختی اور مصیبت کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور نعمت عطا فرما کر بھی، اس لیے ” بَلَاءٌ“ کا معنی مصیبت بھی ہے اور انعام بھی۔ یہاں مراد انعام یا احسان اور عطا کے ساتھ آزمانا ہے۔ یعنی باوجود یہ کہ مسلمانوں کا سامان اور لشکر کافروں کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح دی، تاکہ وہ اس نعمت کو پہچانیں اور اس کا شکر بجا لائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This great victory was achieved by Muslims in the background which was initially full of dismay and hopelessness. So, when they returned from the battlefield, they started talking about it. The Companions (رض) got busy relating their deeds on the battlefield. Revealed thereupon was this verse: فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ قَتَلَهُمْ (So, you did not kill them, but Allah killed them -17) through which they were instructed not to wax proud over their effort and deed, for that which happened there was not simply the outcome of their personal effort and deed. In fact, it was purely and simply the fruit of the help and support given by Allah Ta` ala - and the enemies killed at their hands were not really killed by them, rather, they were killed by Allah Ta` ala. Similarly, addressing the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم , it was said: وَمَا رَ‌مَيْتَ إِذْ رَ‌مَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَ‌مَىٰ (And you did not throw when you threw, but Allah did throw). It means that the specific outcome of the act of throwing, whereby it would reach the eyes of every fighting man in the enemy force and frighten them all, was not the direct effect of &his& throwing. It was, in fact, the perfect power of Allah Ta’ ala which generated the format of this situation. To quote Rumi for a chic poetic explanation: ما رمیت اذ رمیت گفت حق کا رما برکارھا دارد سبق &And you did not throw when you did,& said Allah, &Our Act precedes all other acts.& Certainly valuable for Muslims - more valuable than their victory in Jihad - was this instruction which disengaged their minds from means and tied it up with the master-provider of all means, and through it, saved them from falling into the trap of pride and arro¬gance which generally intoxicates victorious nations. After that it was said that victory and defeat are subservient to the command of Allah and that His support is with those who are obedient: وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا (so that He may bless the believers with a good favour). It means that Allah blessed the believers with this great victory in order to give them the best of return for their obedience and struggle. The literal meaning of the word: بَلَاءً (bala& ) is test or trial. As for the test taken by Allah Ta` ala, it sometimes comes when someone is put to distress or hardship - and there are occasions when this is done by giving someone comfort and wealth. Here, the name of hasan حَسَن (good) bala& (trial) has been given to a test which is taken by giving comfort, wealth, support and victory to find out if people who are so blessed take it to be a favour from Allah and are grateful for it, or take it to be the outcome of their personal excellence, become proud and arrogant and undo what they did - because, there is no room for pride from anyone before Allah Ta` ala.

بالکل مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں یہ فتح عظیم مسلمانوں کو حاصل ہوئی میدان جنگ سے واپس آکر آپس میں گفتگوئیں شروع ہوئیں صحابہ کرام اپنے اپنے کارنامے ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ، جس میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اپنی سعی و عمل پر ناز نہ کرو یہ جو کچھ ہوا وہ صرف تمہاری محنت و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص حق تعالیٰ کی نصرت و امداد کا ثمرہ تھا۔ جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو درحقیقت تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے۔ اسی طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے ارشاد ہوا۔ (آیت) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى۔ یعنی یہ مٹھی کنکریوں کی جو آپ نے پھینکی وہ درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پھینکنے کا یہ نتیجہ کہ لشکر دشمن کے ہر فرد کی آنکھوں میں پہنچ کر سب کو سراسیمہ کردے یہ آپ کے پھینکنے کا اثر نہیں تھا بلکہ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ صورت پیدا فرمائی۔ مارمیت اذ رمیت گفت حق کا رما بر کارہا دارد سبق غور کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے جہاد کی فتح و کامیابی سے زیادہ قیمتی یہ ہدایت تھی جس نے ان کے ذہنوں کو اسباب سے پھیر کر مسبب الاسباب سے وابستہ کردیا اور اس کے ذریعہ اس فخر و عجب کی خرابی سے بچا لیا جس کے نشہ میں عموما فاتح اقوام مبتلا ہوجایا کرتی ہیں۔ اور اس کے بعد یہ بتلایا کہ فتح و شکست ہمارے حکم کے تابع ہیں۔ اور ہماری فتح و نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اطاعت گزار ہوں۔ (آیت) وَلِيُبْلِيَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا، یعنی یہ فتح عظیم ہم نے اس لئے دی کہ مومنین کو ان کی محنت کا پورا صلہ دے دے۔ بلاء کے لفظی معنی امتحان کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا امتحان کبھی مصیبت و مشقت میں مبتلا کرکے ہوتا ہے اور کبھی راحت و دولت دے کر۔ بلاء حسن اس امتحان کو کہا گیا ہے جو راحت، دولت اور فتح و نصرت دے کرلیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کو ہمارا انعام سمجھ کر شکر گزار ہوتے ہیں یا اس کو اپنی ذاتی قابلیت کا اثر سمجھ کر فخر و ناز میں مبتلا ہوجاتے اور اپنے عمل کو برباد کردیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کے فخر و ناز کی کوئی گنجائش نہیں ہے بقول مولانارومی : فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۝ ٠ ۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۝ ٠ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْہُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ ١٧ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] رمی الرَّمْيُ يقال في الأعيان کالسّهم والحجر، نحو : وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] ، ويقال في المقال، كناية عن الشّتم کالقذف، نحو : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] ، يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] ، وأَرْمَى فلان علی مائة، استعارة للزّيادة، وخرج يَتَرَمَّى: إذا رمی في الغرض . ( ر م ی ) الرمی ( ض ) کے معنی پھینکنے کے ہیں یہ اجسام ( مادی چیزیں ) جیسے تیر وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو تم نے تیر نہیں چلائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیر چلائے ۔ اوراقوال کے متعلق استعمال ہو تو |" قذف |" کی طرح اس کے معنی سب و شتم اور تہمت طرازی کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] جو لوگ اپنی بیبیوں پر ( زنا کا ) عیب لگائیں ۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں ۔ محاورہ ہے ارمیٰ علٰی مائۃ : وہ سو سے زائد ہیں ۔ خرج یترمٰی : وہ نکل کر نشانہ بازی کرنے لگا ۔ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] ، وقال عزّ وجل : إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وسمي التکليف بلاء من أوجه : - أحدها : أن التکالیف کلها مشاق علی الأبدان، فصارت من هذا الوجه بلاء . - والثاني : أنّها اختبارات، ولهذا قال اللہ عزّ وجل : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] . - والثالث : أنّ اختبار اللہ تعالیٰ للعباد تارة بالمسار ليشکروا، وتارة بالمضار ليصبروا، فصارت المحنة والمنحة جمیعا بلاء، فالمحنة مقتضية للصبر، والمنحة مقتضية للشکر . والقیام بحقوق الصبر أيسر من القیام بحقوق الشکر فصارت المنحة أعظم البلاء ین، وبهذا النظر قال عمر : ( بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نشکر) «4» ، ولهذا قال أمير المؤمنین : من وسع عليه دنیاه فلم يعلم أنه قد مکر به فهو مخدوع عن عقله «1» . وقال تعالی: وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] ، وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً [ الأنفال/ 17] ، وقوله عزّ وجل : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، راجع إلى الأمرین، إلى المحنة التي في قوله عزّ وجل : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، وإلى المنحة التي أنجاهم، وکذلک قوله تعالی: وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] ، راجع إلى الأمرین، كما وصف کتابه بقوله : قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] . وإذا قيل : ابْتَلَى فلان کذا وأَبْلَاهُ فذلک يتضمن أمرین : أحدهما تعرّف حاله والوقوف علی ما يجهل من أمره، والثاني ظهور جو دته ورداء ته، وربما قصد به الأمران، وربما يقصد به أحدهما، فإذا قيل في اللہ تعالی: بلا کذا وأبلاه فلیس المراد منه إلا ظهور جو دته ورداء ته، دون التعرف لحاله، والوقوف علی ما يجهل من أمره إذ کان اللہ علّام الغیوب، وعلی هذا قوله عزّ وجل : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] . ويقال : أَبْلَيْتُ فلانا يمينا : إذا عرضت عليه الیمین لتبلوه بها ( ب ل ی ) بلی الوقب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ ۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] اور ہم کسی قدر خوف سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ اور تکلف کو کئی وجوہ کی بناہ پر بلاء کہا گیا ہے ایک اسلئے کہ تکا لیف بدن پر شاق ہوتی ہیں اس لئے انہیں بلاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ دوم یہ کہ تکلیف بھی ایک طرح سے آزمائش ہوتی ہے ۔ جیسے فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں ۔ سوم اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو بندوں کو خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں اور کبھی تنگی کے ذریعہ امتحان فرماتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں ۔ لہذا مصیبت اور نعمت دونوں آزمائش ہیں محنت صبر کا تقاضا کرتی ہے اور منحتہ یعنی فضل وکرم شکر گزاری چاہتا ہے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ کہا حقہ صبر کرنا کہا حقہ شکر گزاری سے زیادہ آسان ہوتا ہے اس لئے نعمت میں یہ نسبت مشقت کے بڑی آزمائش ہے اسی بنا پر حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تکا لیف پر تو صابر رہے لیکن لیکن فراخ حالی میں صبر نہ کرسکے اور حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزامائش کی گرفت میں ہے تو و فریب خوردہ اور عقل وفکر سے مخزوم ہے قرآن میں ہے ۔ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں ۔ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً «2» [ الأنفال/ 17] اس سے غرض یہ تھی کہ مومنوں کو اپنے ( احسانوں ) سے اچھی طرح آزما لے ۔ اور آیت کریمہ : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہاراے پروردگار کی طرف سے بڑی ( سخت ) آزمائش تھی میں بلاء کا لفظ نعمت و مشقت دونوں طرح کی آزمائش کو شامل ہی چناچہ آیت : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49]( تہمارے بیٹوں کو ) تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔ میں مشقت کا بیان ہے اور فرعون سے نجات میں نعمت کا تذکرہ ہے اسی طرح آیت وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] اور ان کو نشانیاں دی تھیں جنیہں صریح آزمائش تھی میں دونوں قسم کی آزمائش مراد ہے جیسا کہ کتاب اللہ کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] ( کسی کا امتحان کرنا ) یہ دو امر کو متضمن ہوتا ہے ( 1) تو اس شخص کی حالت کو جانچنا اور اس سے پوری طرح باخبر ہونا مقصود ہوتا ہے دوسرے ( 2 ) اس کی اچھی یا بری حالت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ۔ پھر کبھی تو یہ دونوں معنی مراد ہوتے ہیں اور کبھی صرف ایک ہی معنی مقصود ہوتا ہے ۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تو صرف دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی اس شخص لہ خوبی یا نقص کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذات ہے اسے کسی کی حالت سے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں لہذا آیت کریمہ : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] اور پروردگار نے چند باتوں میں ابراھیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے ۔ دوسری معنی پر محمول ہوگی ( یعنی حضرت ابراھیم کے کمالات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود تھا ) ابلیت فلانا یمینا کسی سے آزمائش قسم لینا ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی طرح وقوع پذیر ہونا جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اطلاع دی تھی نبوت کی نشانی تھی ظن و تخمین اور اٹل کی بنا پر بتائی ہوئی باتیں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح یہ بات بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی نشانی تھی کہ بارش کی وجہ سے ریت کی تہ جم گئی اور اس پر مسلمانوں کے قدم جم گئے اور پھر مسلمان کافروں پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹ پڑے۔ اس لئے کہ روایت میں ہے کہ کافروں کا جس جگہ پڑائو تھا وہ جگہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بن گئی اور ان کے لئے اس پر چلنا پھرنا مشکل ہوگیا۔ ایک نشانی یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کو کافروں کے لشکر کا سامنا کرنا پسند نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں میں طمانیت کی کیفیت پیدا کردی گئی۔ پھر یہ بھی ایک نشانی تھی کہ ان پر ایسے موقع پر غنودگی طاری کردی گئی جب گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے ایک اور نشانی یہ تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کافروں پر ایک مٹھی مٹی پھینکی تھی جس کی وجہ سے ان کے قدم اکھڑ گئے تھے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧) اور بدر کے روز جبریل امین (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتوں نے کافروں کو قتل کیا اور مشرکین تک آپ نے مٹی نہیں پھینکی لیکن واقعی وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی۔ تاکہ اس مٹی پھینکنے کی وجہ سے مدد اور غنیمت کے ذریعے مسلمانوں کو بہترین بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والا اور تمہاری مدد سے باخبر ہے۔ شان نزول : (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “۔ (الخ) امام حاکم (رح) نے سعید بن المسیب (رض) کے ذریعے مسیب سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف احد کے روز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آیا، اس کا راستہ چھوڑ دیا اس کے سامنے سے حضرت مصعب بن عمیر (رض) آئے۔ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن خلف کی ہنسلی اس کے خود اور زرہ کے درمیان سے دیکھی، آپ نے اس میں اپنا نیزہ مارا، وہ گھوڑے سے گرپڑا اور آپ کے نیزہ مارنے سے خون وغیرہ نہیں بہا البتہ اس کی زرہ کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ٹوٹ گئی، اس کے ساتھی دوڑ کر اس کے پاس آئے۔ وہ بیل کی طرح چنگاڑ رہا تھا تو اس کے ساتھیوں نے کہا ایسی کون سی بات پیش آگئی ہے یہ تو معمولی سی خراش ہے تو اس نے ان سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بیان کیا کہ نہیں بلکہ میں ابی کو قتل کروں گا۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جس قدر مجھے چوٹ آئی ہے اگر اس قدر ذی المجاز والوں کو آتی تو سب مرجاتے۔ غرض کہ ابی مکہ جانے سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور مرگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، حدیث صحیح الاسناد ہے مگر غریب ہے۔ اور ابن جریر (رح) نے عبدالرحمن بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن تیر کمان منگوائی اور تیر قلعہ پر مارا، تیر گھستا چلا گیا تاآنکہ ابن ابی الحقیق کو مار ڈالا اور وہ اپنے بستر پر تھا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یہ حدیث مرسل ہے، سند عمدہ مگر غریب ہے۔ مگر مشہور یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے روز اس وقت اتری جب آپ نے کفار کی طرف ایک مٹھی بھر کر کنکریاں ماریں، چناچہ ابن جریر (رح) ، ابن ابی حاتم (رح) اور طبرانی (رح) نے حکیم بن حزام سے روایت کیا گیا ہے کہ جب بدر کا دن ہوا تو ہم نے کچھ آواز سنی، گویا کہ آسمان سے زمین کی طرف آئی گویا کہ وہ کنکریوں کی سی آواز ہے، جو ایک طشت میں آئیں اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کنکریوں کو پھینکا، ان ہی کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی، اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ نے فرمان میں اشارہ ہے ، (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت “۔ الخ اور ابوالشیخ (رح) نے اسی طرح جابر (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے، نیز ابن جریر (رح) نے دوسرے طریقہ سے اسی طرح مرسل روایت نقل کی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ) ویسے تو ہر کام میں فاعل حقیقی اللہ ہی ہے ‘ ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی مشیت سے ممکن ہوتا ہے ‘ اور جس شے کے اندر جو بھی تاثیر ہے وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ عام حالات کے لیے بھی اگرچہ یہی قاعدہ ہے : لَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَۃِ وَلَا مُؤَثِّرَ الاَّ اللّٰہ لیکن یہ تو مخصوص حالات تھے جن میں اللہ کی خصوصی مدد آئی تھی۔ (وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ج) میدان جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں لیں اور شاھَتِ الْوجُوْہ (چہرے بگڑ جائیں) فرماتے ہوئے کفار کی طرف پھینکیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کنکریاں کہاں کہاں تک پہنچی ہوں گی اور ان کے کیسے کیسے اثرات کفار پر مرتب ہوئے ہوں گے۔ بہر حال یہاں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وہ کنکریاں آپ نے پھینکی تھیں ‘ تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اسی بات کو اقبال ؔ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ع ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ ! (وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآءً حَسَنًا ط) ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آزمائشیں اپنے بندوں کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُو ‘ بَلَاءًکے معنی ہیں آزمانا ‘ تکلیف اور آزمائش میں ڈال کر کسی کو پرکھنا ‘ لیکن اَبْلٰی ‘ یُبْلِی جب باب افعال سے آتا ہے تو کسی کے جوہر نکھارنے کے معنی دیتا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14. This refers to the occasion wnen the armies of the Muslims and the unbelievers stood face to face in the Battle of Badr and were on the verge of actual fighting. At that moment, the Prophet (peace be on him) threw a handful of dust at the enemy saying: 'May, their faces be scorched.' So saying the Prophet (peace be on him) made a gesture and the Muslims started their charge. (See Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 1, p. 368; Ibn Hisham, vol. 1, p. 668; Ibn Kathir, comments on the verse - Ed.)

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :14 معرکہ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور عام زد و خورد کا موقع آگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لے کر شاھتِ الوُجُوہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھینکی اور اس کے ساتھ ہی آپ کے اشارے سے مسلمان یکبارگی کفار پر حملہ آور ہوئے ۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن پوری طاقت سے حملہ کرنے کے لئے چڑھا چلا آرہا تھا، اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مٹھی میں مٹی اور کنکر اٹھاکر دشمن کی طرف پھینکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ کنکریاں دشمن کے ہر فرد تک پہنچادیں، جو ان کی آنکھوں وغیرہ میں جاکر لگیں اور ان سے لشکر میں افراتفری مچ گئی، یہ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧۔ جنگ بدر اور جنگ حنین میں آنحضرت نے ایک مٹھی خاک کی لے کر دشمنوں کے لشکر کی طرف پھینک دی اور فرمایا کہ شاھت وجوہ جس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے منہ پھرگئے اور چہرے بگڑ گئے اللہ کے حکم سے کوئی کافروں کے لشکر بھر میں ایسا باقی نہ رہا جس کے منہ اور آنکھوں میں خاک نہ بھر گئی ہو بدر کی لڑائی کے وقت یہ خاک کی مٹھی پھینکنے کا قصہ طبرانی تفسیر ابن جریر تفسیر ابوالشیخ ابن حبان او تفسیر ابن ابی حاتم میں حکیم بن حزام (رض) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور جابر (رض) کی روایتوں سے آیات اور حنین کی لڑائی کے وقت کا یہ قصہ صحیح مسلم میں سلمۃ بن الاکوع (رض) اور مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایتوں سے آیا ہے بدر کے وقت کا قصہ تین صحابیوں کے حوالہ سے چند طریق سے آیا ہے اس لئے یہ قصہ بھی صحیح ہے خصوصا ابن ابی حاتم کی روایت سے اور روایتوں کو زیادہ تقویت ہوجاتی ہے کیونکہ اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایتوں کی صحت کا زیادہ خیال رکھا ہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے شاگردوں میں سے مجاہد کے قول کے موافق آیت کی شان نزول اور آیت کے مطلب کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی فتح کے بعد کچھ مسلمان آپس میں فخر کی باتیں کیا کرتے تھے ایک اپنی بہادری کو فتح کا سبب قرار دیتا تھا اور دوسرا اپنی کو تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا مسلمانوں کا دشمنوں پر غالب ہونا اللہ کے رسول کی ایک مٹھی خاک سے اور دشمنوں کا پست ہمت ہوجانا یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوا اس لئے بجائے ان فخر کی باتوں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی مدد اور اس کے احسان کی شکر گذازی کا تذکرہ آپس میں کیا کریں کہ اس شکر گذاری کے بدلے میں اس کے احسانات کی اور زیادتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی شکر گذاری کی بات کو خوب سنتا اور شکر گزاری کی نیت کو خوب جانتا ہے معتبر سند سے مسند امام احمد میں نعمان (رض) بن بشیر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے احسانات کا جتلانا شکر گذار اور اس کے احسانات کو بھول جانا بڑی ناشکری ہے مستدرک حاکم میں عبداللہ بن عمر (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسے شخص پر قیامت کے دن اللہ کا غصہ ہوگا جو اپنے فخر اور اپنی بڑائی کا دل میں خیال رکھے گا عبداللہ (رض) بن عمر کی حدیث کو حاکم نے صحیح کہا ہے آیت میں آپس کی فخر کی باتوں کی ممانعت اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کے شکر گذاری کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:17) رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی یرمی (ضرب) سے ماضی واحد مذکر حاضر۔ ناقص یائی۔ لیبلی۔ لام تعلیل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلی یبلی (باب افعال) ابلاء مصدر ۔ بلو وبلی مادہ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا پرانا اور بوسیدہ ہونے کے ہیں۔ اسی سے بلاہ السفر۔ ای ابلاہ کا محاورہ ہے۔ یعنی سفر نے اسے لاغر کردیا۔ اور بلوتہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا۔ اور اسی آزمائش کے معنی میں اس کا اکثر استعمال ہوتا ہے۔ ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع (2:155) اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک سے تمہاری آزمائش کریں گے۔ یا ان ھذا لھو البلؤ المبین (37:106) بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔ تکلیف کو بھی بلاء کہا گیا ہے کیونکہ تکلیف بھی ایک طرف کی آزمائش ہی ہے۔ جیسے ولنبونکم حتی نعلم المجاھدین منکم ونعلم الصابرین (47:31) ہم تم کو ضرور آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تم میں سے مجاہدین اور ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کریں (یعنی جہاد کی تکلیف میں مبتلا کرکے) ۔ اللہ تعالیٰ کبھی بندوں کا تنگی کے ذریعہ امتحان لیتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں اور کبھی خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ اس کے بندے شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ کما حقہ صبر کرنا آسان ہے بہ نسبت کما حقہ شکر کرنے کے۔ کیونکہ آرام و آسائش میں انسان زیادہ نفسانی خواہشات میں محو ہوجاتا ہے اور اپنے منعم کو اور اس کا شکر بجالانے کو بھول جاتا ہے۔ اسی بناء پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں من وسع علیہ دنیاہ فلم یعلم انہ قدمکربہ فھو مخذوع عن عقلہ۔ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزمائش کی گرفت میں ہے تو وہ فریب خوردہ اور عقل و فکر سے محروم ہے۔ اور حضرت عمر (رض) کا قول ہے بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نصر۔ تکلیف سے ہمیں آزمایا گیا تو ہم نے صبر کیا اور فراخ حالی سے ہمیں آزمایا گیا تو صابر نہ نکلے۔ ان ہی معانی کی روشنی میں بعض نے لیبلی المؤمنین منہ بلاء حسنا کا ترجمہ کیا ہے۔ تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ (تفہیم القرآن) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی جانب سے ایک باوقار آزمائش سے آزمائے۔ (عبد اللہ یوسف علی) لیکن جمہور مفسرین نے بلاء کا معنی احسان۔ عطاء اور نعمت لیا ہے۔ اور یبلی کا مطلب عطا کرنا یا نعمت سے نوازنا۔ الخازن لکھتے ہیں :۔ نقد اجمع المفسرون علی ان البلاء ھنا بمعنی النعمۃ مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہاں بلاء سے مراد نعمت ہے۔ صاحب کشاف رقمطراز ہیں :۔ ولیبلی المؤمنین منہ بلاء حسنا۔ ای لعطیہم عطاء جمیلا۔ تاکہ مؤمنین کو عطاء جمیل سے نوازے۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ ولینعم علیہم نومۃ عظیمۃ بالنصور الغنیمۃ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح اور مال غنیمت کی نعمت عظیم عطا فرمائے۔ صاحب منتہی الادب نے منجملہ دیگر معانی کے ابلاہ بلاء کا معنی نعمت داد اورا کیا ہے۔ یعنی کفار کا مؤمنوں کے مؤمنوں کے ہاتھوں قتل اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وست مبارک سے الرمی کا معجزہ اس واسطے عمل میں لایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو فتح اور مال غنیمت کی نعمتوں سے نوازے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ورنہ خود مسلمانوں کی نہ تعداد زیادہ تھی، اور نہ ان کے پاس اتنا سامان تھا کہ ہو کافروں کے ہر طرح کی مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے الہذا ان کا چاہیے کہ کسی بات میں پنا دخل نہ کر کریں ( از موضح)5 یہ اشارہ ہے اس وقعہ کو طرف بدر کے روز جب معرکہ قتال گرم تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹھی بھر سکنگ ریزے ہاتھ میں کر شاھت الوجو جہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھنکنے جو ان میں ہر ایک لگے اور اس کی ا آنکھوں اور نتھوں میں داخل ہوگئے، اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں ر میٰ سے مراد یہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مٹھی بھر کنکر یاں پھنکنا ہے۔ ( ابن کثیر)6 باوجود یکہ ان کا سامنا اور لشکر کافروں کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہ رکھتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح دی تاکہ وہ اس کی نعمت کو پہچانیں اور اس کا ششرک بجا لائیں۔ ( کذافی ابن جریر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ غزوۂ بدر کی کامیابی کا اصل سبب۔ بدر کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے گھر سے نکلنا، بدر کی رات بارش کا ہونا، رات کو مسلمانوں کا پرسکون ہو کر سونا، پے درپے ملائکہ کی کمک کا پہنچنا، کفار پر مسلمانوں کا رعب طاری ہونا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مٹھی بھر کنکریوں کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکنا، اللہ تعالیٰ کا کفار کی آنکھوں میں کنکریوں کا پہنچانا۔ سب کے سب اقدام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کا نتیجہ تھے۔ اس لیے بدر کی کامیابی کے بارے میں ارشاد فرمایا اے مسلمانو ! اس کا میابی پر اترانے کے بجائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو یاد رکھو کیونکہ تم تو ہر اعتبار سے کفار کے مقابلے میں کمزور اور ناتواں تھے۔ تم نے کفار کو قتل نہیں کیا یہ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قتل کیا ہے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے کنکریاں نہیں پھینکیں وہ تو اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہیں گویا کہ ایک ایک کافر کی آنکھ میں کنکریاں جھونکنا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس کی بات نہ تھی۔ بدر میں مسلمانوں کو کامیابی سے اس لیے ہمکنار کیا گیا تاکہ ان کو فتح دے کر آزمائے اور دوسری طرف کفار کو ذلیل کردیا جائے۔ دنیا میں یہ پہلا معرکہ تھا کہ اتنے کمزور اور تھوڑے لوگوں نے اپنے سے تین گنابڑی قوت کو نہ صرف شکست دی بلکہ ان کے ستر سر کردہ لوگوں کو جہنم و اصل کرکے ستر آدمیوں کو گرفتار کرلیا جہاں تک اس میں مسلمانوں کی آزمائش کا تعلق ہے۔ اس کے لیے بلاءً حَسَنًا کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ بدر میں عظیم الشان کامیابی دے کر مسلمانوں کو آزمایا گیا اسی لیے سورة الحدید آیت ٢٣ میں یہ اصول بتلایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم سے کوئی چیزلے لے تو زیادہ افسوس نہ کیا کرو اور جب وہ عطا فرمائے تو اس پر فخر و غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آَتٰاکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ )[ الحدید : ٢٣] ” اس لیے کہ جو تمہیں نہ مل سکے اس پر غم نہ کرو اور جو اللہ تمہیں دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ “ (عَنْ أَبِی دَاوُدَ الْمَازِنِیِّ وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا قَالَ إِنِّی لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِّنْ الْمُشْرِکِینَ لِاَضْرِبَہٗ إِذْ وَقَعَ رَأْسُہٗ قَبْلَ أَنْ یَصِلَ إِلَیْہِ سَیْفِی فَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ قَتَلَہٗ غَیْرِی) [ رواہ أحمد ] ” حضرت ابی داؤد المازنی (رض) جو کہ بدر کے معرکہ میں شامل تھے بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مشرک کے پیچھے اسے قتل کرنے کے لیے بھاگ رہا تھا کہ اچانک میرے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی گردن کٹ گئی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اسے کسی اور نے قتل کیا ہے۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَوْمَ بَدْرٍ ہٰذَا جِبْرِیلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِہٖ عَلَیْہِ أَدَاۃُ الْحَرْبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرا ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا یہ جبرائیل ہیں جنہوں نے اپنے گھوڑے کی پیشانی پکڑی ہوئی ہے اور اس پر اسلحہ رکھا ہوا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کبھی دے کر آزماتا ہے اور کبھی لے کر آزماتا ہے۔ ٢۔ آزمائش کبھی نعمت کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی بیماری اور نقصان کی صورت میں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں بھی ذلیل کردیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار کی تدابیر کی حقیقت : ١۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے تدبیر کی اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔ (الانفال : ٣٠) ٢۔ انکے مکر کا انجام دیکھو ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : ٥١) ٣۔ اللہ نے ان کی خفیہ تدبیروں سے آپ کو محفوظ رکھا۔ (المومن : ٤٥) ٤۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے تدبیر کی اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔ (آل عمراٰن : ٥٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

روایات میں آتا ہے کہ اس مارنے سے وہ مارنا مراد ہے کہ حضور نے کنکریاں اور ریت ہاتھ میں لیں اور انہیں کفار کے لشکر کی طرف پھینکا اور حضور نے اس وقت یہ الفاظ کہے شاھت الوجوہ۔ شاھت الوجوہ۔ ان کے چہرے بد شکل ہوجائیں ، قبیح ہوجائیں۔ اور یہ آیت اور کنکریاں ان چہروں پر جا کر لگیں جن کا اس جنگ میں قتل ہونا مقدر تھا۔ لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لشکر اسلام جو کچھ کر رہا تھا ، اس کے پیچے دست قدرت کام کر رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آیت میں یہ فقرہ ہے : وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۔ تاکہ مومنین کو اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ یعنی تاکہ وہ مومنین کو آزمائش کا یہ موقعہ دے اور اس پر وہ اجر کے مستحق ہوجائیں جبکہ فتح تو اس نے لکھ دی تھی۔ گویا یہ کامیابی ہر حال میں مزید اجر کا باعث تھی ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ وہ تمہاری دعاؤں کو سن رہا تھا ، اور تمہارے حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے مشرکین مقتول ہوئے غزوہ بدر میں بظاہر مسلمانوں نے جنگ کی ان کے ساتھ فرشتوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہی موثر حقیقی ہے اور سب کچھ اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اسی لیے یہ فرمایا کہ (فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ ) کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا (وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ) لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا۔ غزوۂ بدر کے موقعہ پر ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مٹی کی ایک مٹھی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینک دیجیے، آپ نے ایسا ہی کیا اور وہ مٹی مشرکین میں سے ہر شخص کی آنکھوں میں اور ناک کے نتھنوں اور منہ میں پہنچ گئی جس کی وجہ سے وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، اب مسلمان ان پر پل پڑے، ان کو قتل بھی کرتے رہے اور قید بھی کرتے رہے۔ آپ نے جب ان کی طرف مٹی پھینکی تو ان کو بد دعا دیتے ہوئے فرمایا : شاھت الوجوہ (دشمنوں کے چہرے بدصورت ہوگئے) اس پر وہ لوگ شکست کھا کر بھاگے، اسی کو فرمایا (وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی) (اور یہ جو آپ نے مٹی پھینکی آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں تک پہنچا دی اور اس کو شکست کا سبب بنا دیا (تفسیر ابن کثیر ص ٢٩٥ ج ٢) یہ مٹی پھینکنے کا واقعہ غزوہ حنین کے موقعہ پر بھی پیش آیا تھا۔ (کماذ کرہ صاحب الروح وغیرہ) پھر فرمایا (وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآءً حَسَنًا) (اور تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کی طرف سے اچھا انعام دے) لفظ بلا انعام کے معنی میں بھی آتا ہے اور آزمائش کے معنی میں بھی مفسرین نے یہاں انعام کا معنی لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو ایسا اچھا انعام عطا فرمائے جس میں تکلیفیں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کافروں کو قتل کیا اور مٹھی بھر مٹی ان کی آنکھوں کو پہنچائی اور ان کو شکست دی جس کی وجہ سے اہل ایمان فتح یاب اور ظفر یاب ہوئے یہ اللہ کا انعام عظیم ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا دوسرا ترجمہ بھی کیا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں۔ و اختار بعضھم تفسیرہ بالا بلاء فی الحرب یعنی بعض حضرات نے آیت کا یہ معنی لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو جنگ میں اچھی طرح سے آزمائے۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ) (بلاشبہ اللہ سننے والا ہے) جس نے مسلمانوں کی دعا سنی اور فریاد رسی کی اور مدد فرمائی علیم (جاننے والا ہے) سب کی نیتوں کو اور ظاہر کو اور باطن کو بھی جانتا ہے، اس کے بعد فرمایا ذٰلِکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تو یہ ہے کہ جو ابھی مذکور ہوا (وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے) یہ دوسرا انعام ہے بدر کے موقعہ پر دشمن بہت زیادہ تھے ان کے پاس ساز و سامان بھی بہت تھا۔ اپنے خیال خام میں مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے آئے تھے لیکن ان کی ساری تدبیر دھری رہ گئی اور بھاری تعداد میں مقتول ہوئے اور قیدی بنا لیے گئے۔ سیاق کلام تو غزوۂ بدر سے متعلق ہے لیکن جملہ اسمیہ پر حرف ان بھی داخل ہے جو تحقیق کے لیے آتا ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد آج تک اس کا تجربہ ہوتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے مقابلہ میں بارہا کافروں کی تدبیریں کمزور فرما دیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17: یہ ثمرہ ہے جو گذشتہ پانچ علتوں پر متفرع ہے۔ یعنی دعویٰ کی مذکورہ پانچ علتوں سے معلوم ہوا کہ جنگ بدر میں مشرکین کے قتل اور ان کی ذلت آمیز شکست کا سامان اللہ تعالیٰ ہی نے غیب سے فرما دیا تھا۔ اس لیے کہ تم لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ یہ تمہارا کما ہے اور تم نے ان کو مارا ہے نہیں ! نہیں ! ! بلکہ اللہ نے ان کو مارا اور برباد کیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ مشرکین کا قتل اگرچہ بظاہر مسلمانوں کے ہاتھوں واقع ہوا لیکن اس کے اسباب اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے اس نے مسلمانوں کو ان پر مسلط کی اور ان کے دلوں کو مسلمانوں کی ہیبت و شجاعت سے مرعوب کردیا۔ امام مجاہد فرماتے ہیں بدر کے دن فتح کے بعد مجاہدین میں سے کسی نے کہا فلاں کو میں نے قتل کیا اور کسی دوسرے نے کہا فلاں کافر کو میں نے مارا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری کیا ہستی تھی یہ فتح عظیم تو محض میری توفیق اور اعانت سے حاصل ہوئی ہے۔ “ یعنی ان ھذه الکسرة الکبیرة لم تحصل منکم وانما خصلت بمعونة اللہ ان قتل الکفار انما تیسر بمعونة اللہ ونصره و تائیده ” (کبیر ج 4 ص 527) ۔ 18: میدان بدر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم الٰہی سے مٹھی بھر کنکریاں مشرکین کے لشکر کی طرف پھینکیں اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت ہر مشرک کی آنکھوں میں مٹی کے ذرات پہنچا دئیے۔ اس سے مشرک فوج میں کھلبلی مچ گئی اور وہ شکست کھا کر بھاگ نکلی یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالیٰ نےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے قبضہ اور اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے جسے وہ اپنے پیغمبروں کے ہاتھوں پر ظاہر فرماتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں فرمایا۔ “ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰی قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلیٰ ” (طٰہٰ رکوع 3) اگر معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قبضہ و اختیار میں ہوتا تو انہیں ڈرنے کی کیا ضرورت تھی۔ 19: واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے۔ “ اي لیمحق الکٰفرین ولیبلی المومنین الخ ”۔ “ ابلاء ” یہاں بمعنی “ اعطاء ” ہے “ بلاء حسنا ” یعنی عطاء جمیل جو بلا مشقت حاصل ہوجائے۔ “ اي لیعطیھم سبحانه من عنده اعطاء جمیلا غیر مشوب بالشدائد و المکاره ” (روح ج 9 ص 187، ابو السعود ج 4 ص 528) ۔ یا “ بلاء حسنا ” سے انعامات جلیلہ و احسانات عظیمہ مراد ہیں۔ مثلاً مال غنیمت فتح و نصرت اور اجر وثواب “ اي ینعم علیهم نعمة عظیمة بالنصرة والغنیمة والاجر والثواب ”(کبیر ج 4 ص 528، خازن ج 2 ص 15) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

17 پس اے مسلمانو ! تم نے ان کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا اور اے پیغمبر ! جب آپ نے دشمنوں کی جانب خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی اور یہ خلاف توقع اور خلاف عادت کام اس لئے ہوئے تاکہ دشمنانِ اسلام کو شکست ہو۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہترین اور اچھا اجر دے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ یعنی اس قدر بےسروسامان اور قلیل جماعت نے جو اتنی بڑی مسلح جماعت کو شکست دی تو یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا اور اسی نے کیا۔ اسی طرح ہجوم اعداء کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خاک کی مٹھی بھر کر اعدا کی جانب پھینکی تھی اور فرمایا تھا۔ شاعت الوجوہ چناچہ وہ مٹھی بھرخاک سب دشمنوں کی آنکھوں میں پڑگئی اور اس کو بھی فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا بلکہ یہ ہمارا کام تھا۔ مطلب یہ ہے کہ تمام افعال کو اگرچہ مسلمانوں کی طرف منسوب کیا لیکن حقیقی اثرات کی وجہ سے اپنی جانب منسوب فرمایا جو نتیجہ اور اثر ان افعال پر مرتب ہوا وہ تمہارا کام نہ تھا بلکہ وہ ہمارا کام تھا اور چونکہ ظاہری جدوجہد پر اجر ملنے والا تھا۔ اس لئے فرمایا، ولیبلی المؤمنین مند بلآء حسنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب شدت جنگ ہوئی تب حضرت نے ایک مٹھی کنکریاں اس لشکر کی طرف پھینکیں اللہ کی قدرت سے ہر کسی کی آنکھ میں خاک پہنچی اس کے بعد شکست کھائی یہ فرمایا کہ مسلمان سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں سب اللہ کی مدد سے ہے تو کسی بات میں اپنا دخل نہ کریں۔ 12