Allah's Signs displayed during Badr, And throwing Sand in the Eyes of the Disbelievers
Allah states that He creates the actions that the servants perform and that whatever good actions they take, it is He Who should be praised for them, for He directed and helped them perform these actions.
Allah said,
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ
...
You killed them not, but Allah killed them.
meaning, it is not because of your power and strength that you killed the pagans, who were many while you were few. Rather, it is He Who gave you victory over them, just as He said in another Ayah,
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ
And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force. (3:123)
and,
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْياً وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ
Truly, Allah has given you victory on many battlefields, and on the day of Hunayn when you rejoiced at your great number, but it availed you naught and the earth, vast as it is, was straitened for you, then you turned back in flight. (9:25)
Allah, the Exalted and Ever High, states that victory does not depend on numbers or collecting weapons and shields. Rather, victory is from Him, Exalted He is.
كَم مِّن فِيَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِيَةٍ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّـبِرِينَ
How often has a small group overcome a mighty host by Allah's leave!" And Allah is with the patient. (2:249)
Allah then mentioned the handful of sand that His Prophet threw at the disbelievers during the day of Badr, when he went out of his bunker. While in the bunker, the Prophet invoked Allah humbly and expressing his neediness before Allah. He then threw a handful of sand at the disbelievers and said,
شَاهَتِ الْوُجُوه
(Humiliated be their faces).
He then commanded his Companions to start fighting with sincerity and they did. Allah made this handful of sand enter the eyes of the idolators, each one of them were struck by some of it and it distracted them making each of them busy.
Allah said,
...
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّهَ رَمَى
...
And you threw not when you did throw, but Allah threw.
Therefore, it is Allah Who made the sand reach their eyes and busied them with it, not you (O Muhammad).
...
وَلِيُبْلِيَ الْمُوْمِنِينَ مِنْهُ بَلء حَسَناً
...
that He might test the believers by a fair trial from Him.
Muhammad bin Ishaq said that Muhammad bin Jafar bin Az-Zubayr narrated to him that Urwah bin Az-Zubayr said;
"So that the believers know Allah's favor for them by giving them victory over their enemy, even though their enemy was numerous, while they were few. They should thus know His right and express gratitude for His favor on them."
Similar was said by Ibn Jarir.
It is stated in a Hadith,
وَكُلَّ بَلَءٍ حَسَنٍ أَبْلَنَا
Every trial (from Allah) is a favor for us.
Allah said next,
...
إِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Verily, Allah is All-Hearer, All-Knower.
Allah hears the supplication and knows those who deserve help and triumph.
Allah said,
ذَلِكُمْ وَأَنَّ اللّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ
اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے ۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا ، جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ١٢٣ ) 3-آل عمران:123 ) اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی اور آیت میں ہے آیت ( لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25ۚ ) 9- التوبہ:25 ) ، بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے ، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بےکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہوگئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے ۔ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی ، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے ۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت ( کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصابرین ) یعنی بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعاکی ۔ روئے ، گڑگڑائے اور منجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ان کے چہرے بگڑ جائیں ، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو ۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں ۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہ تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا ۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تونے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یارسول اللہ آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی ۔ سدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں حضرت علی سے فرمایا کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو حضرت علی نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی ۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں ۔ ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکرلے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں ۔ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے ۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی ۔ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے ۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں ۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وہ تیر تونے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا ۔ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہوگیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے ۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورہ انفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے ۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت ، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمیں نے انہیں ان پر غالب کر دیا ۔ حدیث میں ہے ہر ایک امتحان ہمارا امتحان ہے اور ہم پر اللہ کا احسان ہے ۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ پھر فرماتا ہے اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا اور یہی ہوا بھی ۔