Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 26

سورة الأنفال

وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

And remember when you were few and oppressed in the land, fearing that people might abduct you, but He sheltered you, supported you with His victory, and provided you with good things - that you might be grateful.

اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے کمزور شمار کئے جاتے تھے ۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں ، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Reminding Muslims of Their previous State of Weakness and Subjugation which changed into Might and Triumph Allah reminds; وَاذْكُرُواْ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الاَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَأوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ And remember when you were few and were reckoned weak in the land, and were afraid that men might kidnap you, but He provided a safe place for you, strengthened you with His help, and provided you with good things (for livelihood) so that you might be grateful. Allah, the Exalted, reminds His believing servants of His blessings and favors on them. They were few and He made them many, weak and fearful and He provided them with strength and victory. They were meek and poor, and He granted them sustenance and livelihood. He ordered them to be grateful to Him, and they obeyed Him and implemented what He commanded. When the believers were still in Makkah they were few, practicing their religion in secret, oppressed, fearing that pagans, fire worshippers or Romans might kidnap them from the various parts of Allah's earth, for they were all enemies of the Muslims, especially since Muslims were few and weak. Later on, Allah permitted the believers to migrate to Al-Madinah, where He allowed them to settle in a safe resort. Allah made the people of Al-Madinah their allies, giving them refuge and support during Badr and other battles. They helped the Migrants with their wealth and gave up their lives in obedience of Allah and His Messenger. Qatadah commented, وَاذْكُرُواْ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الاَرْضِ (And remember when you were few and were reckoned weak in the land), "Arabs were the weakest of the weak, had the toughest life, the emptiest stomachs, the barest skin and the most obvious misguidance. Those who lived among them lived in misery; those who died went to the Fire. They were being eaten up, but unable to eat up others! By Allah! We do not know of a people on the face of the earth at that time who had a worse life than them. When Allah brought Islam, He made it dominant on the earth, thus bringing provisions and leadership for them over the necks of people. It is through Islam that Allah granted all what you see, so thank Him for His favors, for your Lord is One Who bestows favors and likes praise. Verily, those who thank Allah enjoy even more bounties from Him."

اہل ایمان پر اللہ کے احسانات مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی ، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا ، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا ، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا ، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا ، انہوں نے جیسے جسیے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے ۔ مومن صحابہ مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے ، چھپے پھرتے تھے ، بےقرار رہتے تھے ، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا ، مجوسی ان کے دشمن تھے ، یہودی ان کی جان کے پیچھے ، بت پرست ان کے خون کے پیاسے ، نصرانی ان کی فکر میں ۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں انگلیوں پر گن لو ۔ بغیر طاقت شان شوکت مطلقاً نہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے یہ مان لیتے ہیں وہاں پہنچتے ہی اللہ ان کے قدم جما دیتا ہے وہاں مدینہ والوں کو ان کا ساتھی بلکہ پشت پناہ بنا دیتا ہے وہ ان کی مدد پر اور ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں بدر والے دن اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں ، اپنے مال پانی کی طرح راہ حق میں بہاتے ہیں اور دوسرے موقعوں پر بھی نہ اطاعت چھوڑتے ہیں نہ ساتھ نہ سخاوت ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاند کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سورج کی طرح دمکنے لگتے ہیں ۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عرب کے یہ لوگ سب سے زیادہ گرے ہوئے ، سب سے زیادہ تنگ حال ، سب سے زیادہ بھوکے ننگے ، سب سے زیادہ گمراہ اور بےدین و مذہب تھے ۔ جیتے تو ذلت کی حالت میں ، مرتے تو جہنمی ہو کر ، ہر ایک ان کے سر کچلتا لیکن یہ آپ میں الجھے رہتے ۔ واللہ روئے زمین پر ان سے زیادہ گمراہ کوئی نہ تھا ۔ اب یہ اسلام لائے اللہ کے رسول کے اطاعت گذار بنے تو ادھر سے ادھر تک شہروں بلکہ ملکوں پر ان کا قبضہ ہو گیا دنیا کی دولت ان کے قدموں پر بکھرنے لگی لوگوں کی گردنوں کے مالک اور دنیا کے بادشاہ بن گئے یاد رکھو یہ سب کچھ سچے دین اور اللہ کے رسول کی تعلیم پر عمل کے نتائج تھے پس تم اپنے پروردگار کے شکر میں لگے رہو اور اس کے بڑے بڑے احسان تم پر ہیں وہ شکر کو اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے سنو شکر گذار نعمتوں کی زیادتی میں ہی رہتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

26۔ 1 اس میں مکی زندگی کے شدائد و خطرات کا بیان اور اس کے بعد مدنی زندگی میں مسلمان جس آرام و راحت اور آسودگی سے بفضل الٰہی ہمکنار ہوئے، اس کا تذکرہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر سختیاں :۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے جس میں سیدنا ابوذر غفاری (رض) کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کن مصائب اور حوصلہ شکن حالات سے دو چار تھے۔ سیدنا ابوذر غفاری (رض) کا اسلام لانا :۔ سیدنا ابوذر (رض) خود بیان کرتے ہیں کہ میں غفار قبیلے کا ایک شخص تھا مجھے خبر ملی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے تئیں پیغمبر کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملو۔ بات چیت کرو اور اس کا حال مجھے آ کر بتلاؤ۔ وہ آپ سے مل کر واپس میرے پاس آیا اور کہا & واللہ ! وہ اچھی بات کا حکم کرتا اور بری بات سے منع کرتا ہے۔ & اس جواب سے میری تسلی نہ ہوئی اور خود مکہ آگیا۔ یہاں میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا۔ نہ مجھے کسی سے آپ کا حال پوچھنا مناسب معلوم ہوا۔ میں زمزم کا پانی پیتا رہا اور مسجد میں بیٹھ رہا۔ سیدنا علی (رض) میرے سامنے سے گزرے اور پوچھا : & تم مسافر معلوم ہوتے ہو۔ & میں نے کہا : ہاں۔ آپ نے کہا۔ تو میرے گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے کوئی بات کی۔ صبح پھر میں مسجد میں آگیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ کسی سے نبی کے متعلق کچھ پوچھوں، مگر مجھے کوئی ایسا آدمی نہ ملا۔ دوسرے دن سیدنا علی (رض) پھر میرے پاس سے گزرے اور پوچھا تجھے ابھی تک کوئی ٹھکانہ نہیں ملا۔ & میں نے کہا : نہیں۔ انہوں نے کہا & تو میرے ساتھ چلو اور بتلاؤ تمہارا کیا کام ہے ؟ یہاں کیسے آئے ہو ؟ میں نے کہا : اگر تم کسی کو بتلاؤ نہیں تو میں آپ کو بتلاتا ہوں۔ & سیدنا علی (رض) نے کہا ٹھیک ہے۔ & تب میں نے انہیں اپنے بھائی کو بھیجنے کا واقعہ سنایا اور کہا کہ میں اس نبی کو ملنا چاہتا ہوں۔ & سیدنا علی (رض) نے کہا : یہ تمہارے لیے بہت اچھا اتفاق ہوا کہ میں بھی اسی نبی کے پاس جا رہا ہوں، تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ جہاں میں داخل ہوا تم بھی داخل ہوجانا اور اگر کوئی خطرہ کی بات ہوئی تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوجاؤں گا جیسے اپنا جوتا صاف کرنے لگا ہوں (اور ایک روایت میں ہے جیسے پیشاب کرنے لگا ہوں) تم وہاں سے آگے نکل جانا۔ & اس طرح ہم ایک مکان میں داخل ہوئے۔ جہاں آپ موجود تھے۔ میں نے عرض کی کہ آپ مجھے اسلام سکھلائیے۔ پھر میں اسی وقت مسلمان ہوگیا تو آپ نے فرمایا : ابو ذر ! اپنے ایمان کو چھپائے رکھو اور اپنے وطن واپس لوٹ جاؤ۔ جب تمہیں ہمارے غلبہ کی خبر پہنچے تو چلے آنا۔ & میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم ! میں اسلام کا کلمہ کافروں کے سامنے ببانگ دہل پکاروں گا۔ & پھر میں مسجد میں آیا اور پکارا : قریشیو ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ کہنے لگے & اٹھو اس بےدین کی خبر لو۔ & پھر انہوں نے مجھے خوب مارا۔ سیدنا عباس (رض) نے مجھے دیکھ لیا اور آ کر مجھ پر جھک گئے اور کہا & تمہاری خرابی ! تم ایک غفاری کو مار رہے ہو، جبکہ تمہارا تجارتی راستہ اسی قوم پر سے گزرتا ہے & یہ سن کر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ دوسرے دن صبح پھر میں مسجد میں آگیا اور وہی کلمہ کہا جو کل کہا تھا قریشیوں نے پھر وہی بات کہی کہ اٹھو اور اس کی خبر لو۔ چناچہ مجھے مار پڑنے لگی۔ اتنے میں سیدنا عباس (رض) آن پہنچے، وہ مجھ پر جھک گئے اور وہی بات کہی جو کل کہی تھی تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب قصہ زمزم، نیز باب اسلام ابی ذر) یعنی مکی زندگی میں مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا جبکہ اپنے اسلام کو ظاہر کرنا بھی جان جوکھوں کا کام تھا۔ پھر مکی زندگی کے آخری دور تک مسلمانوں پر کفار کی طرف سے سختیوں میں کمی واقع نہیں ہوئی انہیں سختیوں سے تنگ آ کر مسلمانوں نے دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ بالآخر مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ یہاں آ کر مسلمان قریش مکہ کے مظالم سے کسی حد تک محفوظ ہوگئے۔ مگر مسلمانوں کی مخالفت عامہ میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ مکی دور میں مسلمانوں کے دشمن صرف کفار مکہ تھے۔ جب کہ مدینہ میں کفار مکہ کے علاوہ دوسرے عرب مشرک قبائل اور مدینہ کے یہودی بھی دشمن بن گئے تھے۔ اور صورت حال کچھ اس قسم کی پیدا ہوگئی تھی کہ مسلمان رات کو آرام سے سو بھی نہ سکتے تھے تاآنکہ پہرہ کا کوئی معقول بندوبست نہ کرلیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کی اسی حالت کی طرف اشارہ ہے۔ پھر جب میدان بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی اور باطل کی کمر ٹوٹی تب جا کر مسلمانوں کو آزادی سے سانس لینا نصیب ہوا اور مسلمانوں کو بھی قریش مکہ کے ہمسر سمجھا جانے لگا۔ غزوہ بدر سے پہلے تک کفار مکہ کی یہی ذہنیت رہی کہ مسلمان ان کے مفرور قیدی ہیں۔ ان کی اس ذہنیت میں غزوہ بدر کے بعد ہی تبدیلی واقع ہوئی۔ [ ٢٧] یعنی مدینہ میں آزاد سلطنت عطا فرمائی۔ فتح بدر سے تمہاری پوزیشن خاصی مضبوط ہوگئی اور اموال غنائم سے تمہیں پاکیزہ رزق بھی دیا۔ اب تم دل سے، زبان سے اور عمل سے اللہ کا شکر ادا کرو اور عمل سے شکر کی صورت یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت پر مستعد رہا کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ: اس میں مکی زندگی میں مسلمانوں کی قلت تعداد، سختی اور خوف کا، پھر مدینہ میں ان کو اپنا گھر، امن و سکون اور راحت و آرام ملنے کا ذکر ہے۔ ” اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “ میں دوسری تمام پاکیزہ نعمتوں کے ساتھ غنیمت کے اموال کا حلال کرنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ پہلی امتوں کے لیے حلال نہیں تھے، بلکہ جلا دیے جاتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The second verse (26) also mentions several things which could make Divine injunctions easy on them. To pursuade them towards the option of obedience to Allah, Muslims have been reminded of their past weakness and of how Allah has blessed them with power and confi¬dence by changing surrounding conditions through His grace and mer¬cy. The text says: وَاذْكُرُ‌وا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِ‌هِ وَرَ‌زَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٢٦﴾ And remember when you were few in number, oppressed on the earth, fearing that the people would snatch you away. Then, He gave you shelter and fortified you with His support and provided you with good things, so that you may be grateful - 26. In this verse, Muslims are being asked to remember the conditions they were facing in Makkah during the pre-Hijrah period following which they were given the finest sanctuary at Madinah. Not only that, they were also blessed with Divine support, power and victory over ad¬versaries, as well as assets of great value. Then, towards the end of the verse, it was said: لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ (so that you may be grateful). It means that the purpose behind this great transformation of conditions around them supported by the flow of Divine blessings was to give them an opportunity to show their gratefulness as obedient servants of Allah, for the finest demonstration of gratefulness, in the real sense, comes through nothing but obedience to what Allah commands them to do.

دوسری آیت میں بھی احکام الہیہ کی اطاعت کو آسان کرنے اور اس پر ترغیب دینے کے لئے مسلمانوں کو ان کی پچلھی خستہ حالی اور ضعف و کمزوری پھر اس کے بعد اپنے فضل و انعام سے حالات بدل کر ان کو قوت اور اطمینان عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ارشاد فرمایا : (آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یعنی اے مسلمانو اپنے اس حال کو یاد کرو جو قبل ہجرت مکہ معظمہ میں تھا کہ تعداد میں بھی کم تھے اور قوت میں بھی ہر وقت یہ خطرہ لگا ہوا تھا کہ دشمن ان کو نوچ کھسوٹ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ میں بہترین ٹھکانا عطا فرمایا۔ اور نہ صرف ٹھکانا بلکہ اپنی تائید و نصرت سے ان کو قوت اور دشمنوں پر فتح اور اموال عظیمہ عطا فرما دیئے۔ آخر آیت میں فرمایا لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یعنی تمہارے حالات کی اس کایا پلٹ اور انعامات الہیہ کا مقصد یہ ہے کہ تم شکر گزار بندے بنو۔ اور ظاہر ہے کہ شکر گزاری اس کے احکام کی اطاعت میں منحصر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝ ٢٦ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ اسْتَضْعَفْ واسْتَضْعَفْتُهُ : وجدتُهُ ضَعِيفاً ، قال وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] ، قالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] ، إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] ، وقوبل بالاستکبار في قوله : قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] استضعفتہ ۔ میں نے اسے کمزور سمجھا حقیر جانا ۔ قران میں ہے : ۔ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا[ القصص/ 5] اور ہم چاہتے تھے کہ جنہیں ملک میں کمزور سمجھا گیا ہے ان پر احسان کریں : وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں قالوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز اور ناتوان تھے ۔ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] کہ لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] اور کمزور لوگ برے لوگوں سے کہیں گے ۔ میں استضاف استکبار کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ خطف الخَطْفُ والاختطاف : الاختلاس بالسّرعة، يقال : خَطِفَ يَخْطَفُ ، وخَطَفَ يَخْطِفُ «3» وقرئ بهما جمیعا قال : إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ وذلک وصف للشّياطین المسترقة للسّمع، قال تعالی: فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] ، يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] ، وقال : وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] ، أي : يقتلون ويسلبون، والخُطَّاف : للطائر الذي كأنه يخطف شيئا في طيرانه، ولما يخرج به الدّلو، كأنه يختطفه . وجمعه خَطَاطِيف، وللحدیدة التي تدور عليها البکرة، وباز مُخْطِف : يختطف ما يصيده، ( خ ط ف ) خطف یخطف خطفا واختطف اختطافا کے معنی کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا کے ہیں ۔ یہ باب ( س ض ) دونوں سے آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ«4» ہاں جو کوئی ( فرشتوں کی ) بات کو ) چوری سے جھپث لینا چاہتا ہے ۔ طا پر فتحہ اور کسرہ دونوں منقول ہیں اور اس سے مراد وہ شیاطین ہیں جو چوری چھپے ملا اعلیٰ کی گفتگو سنا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا :۔ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے ۔ يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] قریب ہے کہ بجلی ( کی چمک ) ان کی آنکھوں ( کی بصارت ) کو اچک لے جائے ۔ وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] اور لوگ ان کے گرد نواح سے اچک لئے جاتے ہیں ۔ یعنی ان کے گرد ونواح میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ الخاف ۔ ( 1) ابابیل کی قسم کا ایک پرندہ جو پرواز کرنے میں کسی چیز کو جپٹ لیتا ہے ۔ ( 2) آہن کج جس کے ذریعے کنوئیں سے ڈول نکالا جاتا ہے گویا وہ ڈول کو اچک کر باہر لے آتا ہے ۔ ( 3) وہ لوہا جس پر کنوئیں کی چرغی گھومتی ہے ۔ ج خطاطیف باز مخطف ۔ باز جو اپنے شکار پر جھٹپتا ہے ۔ الخطیف ۔ تیز رفتاری ۔ الخطف الحشاو مختطفتہ ۔ مرد باریک شکم جس کے وبلاپن کی وجہ سے ایسا معلوم ہو کہ اس کی انتٹریاں اچک لی گئی ہیں ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ ايد ( قوة) قال اللہ عزّ وجل : أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] فعّلت من الأيد، أي : القوة الشدیدة . وقال تعالی: وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] أي : يكثر تأييده، ويقال : إِدْتُهُ أَئِيدُهُ أَيْداً نحو : بعته أبيعه بيعا، وأيّدته علی التکثير . قال عزّ وجلّ : وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، ويقال : له أيد، ومنه قيل للأمر العظیم مؤيد . وإِيَاد الشیء : ما يقيه، وقرئ : (أَأْيَدْتُكَ ) وهو أفعلت من ذلك . قال الزجاج رحمه اللہ : يجوز أن يكون فاعلت، نحو : عاونت، وقوله عزّ وجل : وَلا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما[ البقرة/ 255] أي : لا يثقله، وأصله من الأود، آد يؤود أودا وإيادا : إذا أثقله، نحو : قال يقول قولا، وفي الحکاية عن نفسک : أدت مثل : قلت، فتحقیق آده : عوّجه من ثقله في ممرِّه . ( ای د ) الاید ( اسم ) سخت قوت اس سے اید ( تفعیل ) ہے جس کے معنی تقویت دنیا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] ہم نے تمہیں روح قدس سے تقویت دی وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] یعنی جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے بہت زیادہ تقویت بخشتا ہے ادتہ ( ض) ائیدہ ایدا جیسے بعتہ ابیعہ بیعا ( تقویت دینا) اور اس سے ایدتہ ( تفعیل) تکثیر کے لئے آتا ہے قرآن میں ہے وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] اور ہم نے آسمان کو بڑی قوت سے بنایا اور اید میں ایک لغت آد بھی ہے اور ۔ اسی سے امر عظیم کو مؤید کہا جاتا ہے اور جو چیز دوسری کو سہارا دے اور بچائے اسے ایاد الشئی کہا جاتا ہے ایک قرات میں ایدتک ہے جو افعلت ( افعال ) سے ہے اور ایاد الشئ کے محاورہ سے ماخوذ ہے زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ فاعلت ( صفاعلہ ) مثل عادنت سے بھی ہوسکتا ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦) اور اگر اے مہاجرین کی جماعت اس وقت کو بھی یاد رکھو جب تم تعداد میں کم تھے اور کمزور سمجھے جاتے تھے۔ سرزمین مکہ میں اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ مکہ والے تمہیں لوٹ نہ لیں یا تمہیں قیدی نہ بنالیں تو ہم نے تم لوگوں کو مدینہ منورہ میں جگہ دی اور بدر کے روز تمہاری مدد کی اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اور تمہیں مال غنیمت عطا فرمایا تاکہ بدر کے روز جو تمہیں نصرت اور غنیمت حاصل ہوئی اس نعمت خداوندی پر اس کا شکر کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ (وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ ) (تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ ) یہ آیت خاص طور پر مسلمانان پاکستان پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں تھے ‘ ہندوؤں کی اکثریت کے مقابلے میں انہیں خوف تھا کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے میں کمزور ہیں۔ اپنے جان و مال کو درپیش خطرات کے علاوہ انہیں یہ اندیشہ بھی تھا کہ اکثریت کے ہاتھوں ان کا معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی ‘ لسانی ‘ مذہبی وغیرہ ہر اعتبار سے استحاصل ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

21. The reference to gratefulness in the verse is worthy of reflection. Bearing in mind the subject under discussion, it appears that gratefulness does not simply mean that Muslims should acknowledge God's favour to them insofar as He rescued them from their state of abject weakness. God had not only salvaged them from an insecure life in Makka and provided them with a haven of security in Madina where they enjoyed an abundance of livelihood. Gratefulness does not simply require all that. Apart from acknowledging God's favour, gratefulness also demands that Muslims should faithfully obey God and His Messenger out of a consciousness of God's munificence, out of loyalty and devotion to the Prophet's mission, and should cast aside all dangers, hardships and misfortunes that might confront them. In their struggle for God's cause Muslims should have complete trust in God Who has helped them on earlier occasions and Who has delivered them from dangers. The Muslims should also have faith that if they work sincerely in God's cause He will certainly help and protect them. Hence, the gratefulness expected of the Muslims does not simply consist of a verbal acknowledgement of God's benefaction. Gratefulness to God should manifest itself in actual deeds as well. If someone were to acknowledge the favour of his Lord, and yet is slack in seeking His good pleasure, lacks sincerity in serving Him, and entertains doubts that God's benefaction will continue in the future, then that can hardly be characterized as gratitude.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :21 یہاں شکر گزاری کا لفظ غور کے قابل ہے ۔ اوپر کے سلسلہ تقریر کو نظر میں رکھا جائے تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس موقع پر شکر گزاری کا مفہوم صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ لوگ اللہ کے اس احسان کو مانیں کہ اس نے اس کمزوری کی حالت سے انہیں نکالا اور مکہ کی پر خطر زندگی سے بچا کر امن کی جگہ لے آیا جہاں طیبات رزق میسر ہو رہے ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی شکر گزاری کے مفہوم میں داخل ہے کہ مسلمان اس خدا کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں جس نے یہ احسانات ان پر کیے ہیں ، اور رسول کے مشن میں اخلاص و جاں نثاری کے ساتھ کام کریں ، اور اس کام میں جو خطرات و مہالک اور مصائب پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ اسی خدا کے بھروسے پر کرتے چلے جائیں جس نے اس سے پہلے ان کو خطرات سے بعافیت نکالا ہے ، اور یقین رکھیں کہ جب وہ خدا کا کام اخلاص کے ساتھ کریں گے تو خدا ضرور ان کا وکیل و کفیل ہوگا ۔ پس شکر گزاری محض اعترافی نوعیت ہی کی مطلوب نہیں ہے بلکہ عملی نوعیت کی بھی مطلوب ہے ۔ احسان کا اعتراف کرنے کے باوجود محسن کی رضا جوئی کے لیے سعی نہ کرنا اور اس کی خدمت میں مخلص نہ ہونا اور اس کے بارے میں یہ شک رکھنا کہ نہ معلوم آئندہ بھی وہ احسان کریگا یا نہیں ، ہرگز شکر گزاری نہیں ہے بلکہ اُلٹی ناشکری ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:26) مستضعفون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ (باب استفعال) استضعاف سے ناتواں اور کمزور سمجھے گئے۔ عاجز پائے جانے والے لوگ ۔ یعنی تمہیں حقیر اور ناتواں خیال کیا جاتا تھا۔ یتخطفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ تخطف (تفعل) مصدر۔ کہ تم کو اچک لیں۔ تم کو جھپٹ لیں۔ خطف یخطب (ضرب) و اختطف یختطف اختطاف (افتعال) کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا۔ یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے۔ ویتخطف الناس من حولہم (29:67) اور لوگ ان کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں۔ اولکم۔ اس نے تم کو ٹھکانہ دیا۔ اس نے جگہ دی۔ ایواء سے ماضی واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حضر۔ اوی۔ مادہ۔ ایدکم۔ تم کو قوت دی۔ تمہاری مدد کی۔ تائید (تفعیل) سے جس کے معنی مدد کرنے اور قوت دینے کے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 جیسے مال غنیمت جو تم سے کسی امت کے لیے حلال نہ تھا۔ ( کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی قبل ہجرت۔ 2۔ یعنی مکہ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فتنۂ خاصہ سے بچنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلمانوں کو ان کی مکی زندگی کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتلایا ہے اور اس سے نجات کا تذکرہ کیا ہے۔ کیونکہ مکہ میں مسلمان اجتماعی آزمائش میں مبتلا تھے۔ مسلمان مکہ معظمہ میں تھوڑے اور کمزور ہونے کی وجہ سے مشرکین کے مظالم کا اس قدر شکار تھے کہ ہر وقت سہمے اور ڈرے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ (رض) اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بھی ان مظالم سے محفوظ نہ تھی۔ سر بازار آل یا سر (رض) کو پیٹتے ہوئے حضرت سمیہ (رض) کو دولخت کردیا گیا۔ مزدور صحابہ کی خون پسینے کی کمائی ضبط کرلی گئی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے خاندان کو مسلمانوں کے ساتھ تین سال شعب ابی طالب میں محصور رکھا گیا۔ مسلمانوں کو پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور کردیا کیا۔ ان مصائب و آلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول نہیں کرو گے تو یاد رکھو تم پر دوبارہ ایسے حالات وارد ہوسکتے ہیں۔ لیکن تم نے رسول کی دعوت کو قبول کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اس کربناک صورت حال سے نجات دیتے ہوئے تمہیں مدینہ کی ریاست عطا فرمائی اور اپنی خاص مدد سے اسے مضبوط کرتے ہوئے تمہارے لیے رزق حلال کے دروازے کھول دیے تاکہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنو۔ اس آیت میں غزوۂ بدر کی طرف بھی اشارہ ہے جس کو موت سمجھتے ہوئے تم دشمن سے کانپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تم جیسے کمزور اور بےسروسامان لوگوں کو دشمن پر غلبہ عطا کر کے مال غنیمت اور فتح کی کامیابی سے ہمکنار کرکے مدینہ کی ریاست کیا اور تمہیں مال غنیمت عطا فرمایا قدر محفوظ کردیا کہ جس سے تمہارے لیے رزق حلال کے دروازے کھلے اور فتح و کامرانی کے راستے روشن ہوئے۔ اللہ کی نصرت و حمایت اور رزق حلال کی فراوانی کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اس کے شکر و حمد کے خوگر ہوجاؤ۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ دُعَاءٌ حَفِظْتُہُ مِنْ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاَ أَدَعُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ وَأَتَّبِعُ نَصِیحَتَکَ وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ [ رواہ الترمذی : باب فِی الاِسْتِعَاذَۃِ ] حضرت ابی سعید مقبری حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ دعاء میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب سے یاد کی اس کو چھوڑا نہیں۔ اے اللہ مجھے سب سے زیادہ شکر گذار، کثرت سے ذکر کرنے، ہدایت کی پیروی کرنے اور وصیّت کی حفاظت کرنے والا بنا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی کمزور اور تھوڑے لوگوں کی مدد کرنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد نہ فرمائے تو دشمن مسلمانوں کو ختم کردیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ رزق حلال اور فتح و کامیابی عطا فرمائے تو انسان کو اس کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا حکم : ١۔ لوگو ! اللہ کو یاد کرو اللہ تمہیں یاد کرے گا اور اس کا شکر ادا کرو کفر نہ کرو۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٢۔ لوگو ! تم اللہ کا شکر ادا کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ بہت ہی قدر دان ہے۔ (النساء : ١٤٧) ٣۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو وہ مزید عطا فرمائے گا۔ (ابراہیم، آیت : ٧) ٤۔ اللہ نے تمہیں دل، آنکھیں اور کان دیے تاکہ تم شکر کرو۔ (السجدۃ : ٩) ٥۔ اللہ کی پاکیزہ نعمتیں کھا کر اس کا شکر کرو۔ (البقرۃ : ١٧٢) ٦۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو۔ (العنکبوت : ١٧) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں تمہارے لیے متاع حیات بنایا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (الاعراف : ١٠) ٨۔ اللہ نے جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم شکر کرو۔ (الحج : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے چونکہ جانی اور مالی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے قرآن کریم اپنی مخاطب پہلی جماعت مسلمہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ تم یاد کرو کہ تم ضعیف تھے اور سازوسامان کے اعتبار سے قلیل تھے۔ تم مصائب سے دوچار تھے اور ہر وقت تم پر خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی ، لیکن دعوت اسلامی کی پناہ میں تم آئے تو تم معزز مالدار اور رزق طیب کے مالک بن گئے۔ لہذا تم اس دعوت کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ جس میں تمہارے لیے آب حیات ہے ، جو اللہ کا عطیہ ہے اور اللہ ہی اس کا حامی ہے۔ وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو اپنی یہ پوزیشن یاد کرو تاکہ تمہیں یہ یقین آجائے کہ دعوت اسلامی در حقیت آب حیات ہے۔ یہ یاد رکھتے جاؤ تاکہ دعوت اسلامی کی راہ میں جدوجہد کرنے اور مشکلات کو انگیز کرنے سے تم رک نہ جاؤ۔ ذرا اپنے ایام ضعف اور خوف کو یاد کرو۔ اب تو اللہ نے حکم دے دیا ہے کہ تم مشرکین کے ساتھ لڑو اور رسول نے تمہیں مشورہ دیا کہ قریش کے مسلح لشکر سے لڑو اور تم اس دعوت کو پسند نہیں کرتے لیکن مکہ کے وہ دن بھی یاد کرو کہ تمہیں ہر طرف سے خطرات لاحق ہوتے تھے اور اب تم انقلابی ، فاتح ، اجر اخروی کے مستحق اور رزق حسن کے پانے والے ہو۔ کیا اچھے اچھے سامان خوراک تمہیں دے دیے گئے ہیں۔ تم اس پر اللہ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ ھالت خوف اور ضعف کی تعبیر قرآن نے ان الفاط میں کی ہے۔ تخافون ان یتخطفکم الناس۔ تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں کوئی شخص کسی بھی وقت نازل ہونے والی مصیبت کا انتظار کر رہا ہو۔ وہ حالت خوف میں کسی بھی وقوعہ کا انتظار کر رہا ہو ، گویا وہ اپنی آنکھوں سے آنے والی مصیبت کو دیکھ رہا ہو۔ خوفناک ہلچل میں اس کی آنکھیں بےقرار ہیں۔ نظر آتا ہے کہ خوفناک ہاتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ہے جو خوفناک حالت میں دبکی بیٹھی ہے۔ اس خوفناک منظر سے تمہیں نکال کر امن ، فتح و نصرت اور عیش و عشرت اور سازوسامان کی زندگی میں لاای گیا ، اللہ کے سائے میں اور اللہ کی حمایت میں فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ” پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی۔ اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا شاید کہ تم شکر گزار بنو “ اور اللہ کی یہ راہنمائی ان کے شامل حال رہی تاکہ وہ شکر بجا لائیں اور اجر آئیں لعلکم تشکرون ” شاید کہ تم شکر گزار بنو “ کون ہے جو اس عظیم انقلاب پر غور و تامل کرے اور پھر اس مضبوط ، پر امن اور مکمل آواز پر لبیک نہ کہے یعنی حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پکار پر ، اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات و اکرامات اس کی جانب سے نصرت و امداد اور اس کے ان مناظر پر غور کرے جو قرآن کریم میں پیش کیے گئے اور ان پر لبیک نہ کہے۔ اس لیے ان مناظر میں نہایت ہی قوی اثرات ہیں اور سامع کے لیے واضح اشارات و ہدایات ہیں۔ پھر جماعت مسلمہ کا یہ پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا ، جو بذات خود ان حالات سے عملاً گزرا تھا اور سختی و ترشی اور فراوانی اور امن کے یہ دونوں مناطر ان کے پردہ خیال پر تازہ تھے۔ وہ اپنے ماضی اور حال سے اچھی طرح باخبر تھے۔ اور اس طرح قرآن کریم کی یہ پکار ان پر زیادہ اثرات چھوڑتی تھی۔ آج کی ہر اسلامی تحریک جس کے پیش نظر یہ نصب العین ہو کہ اس نے مسلمانوں کی زندگیوں میں اس دین کو عملاً زندہ کرنا ہے اور اس کرہ ارض پر اس کے مطابق اجتماعی نظام قائم کرنا ہے۔ اگرچہ وہ ان دو مراحل سے عملاً نہ گزر رہی ہو اور اس نے عملاً یہ دو حالات نہ بھی دیکھے ہوں۔ لیکن قرآن کریم اس سے بھی یہی خطاب کر رہا ہے اور آج ہم اللہ کے اس قول کے مصداق ہیں : اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ. یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ لہذا آج کی تحریک اسلامی کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس دعوت حیات جدید پر لبیک کہے جس کی طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں اور نہایت ہی یقین اور اعتماد کے ساتھ اس وقت کا انتظار کریں جس میں اللہ کا سچا وعدہ سامنے آئے گا۔ جو اس نے پہلی تحریک اسلامی کے ساتھ کیا تھا اور وہ پورا ہوا تھا۔ یہی وعدہ ہے اس کا ہر اس تحریک کے لیے جو اللہ کے نام برپا ہو اور جو اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرے اور اس انجام کا انتظار کرے۔ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو۔ ظاہری حالت نظر فریب ہوتے ہیں لیکن تحریک اسلامی کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرتی ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا ہوتا ہے۔ اور اس تحریک اسلامی کے حق میں ہوتا ہے جس کا نصب العین اسلامی انقلاب برپا کرنا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مسلمانوں کو ایک بڑے انعام کی یاد دہانی بدر میں جو اللہ جل شانہٗ نے اہل ایمان کی مدد فرمائی، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ واقعہ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کو شوکت اور عزت مزید حاصل ہوگئی اور پورے عرب پر دھاک بیٹھ گئی اور قریش مکہ (جو تجارت کے لیے ملک شام آیا جاتا کرتے تھے) کے واسطہ سے قیصر و کسریٰ کو بھی مسلمانوں کی اس فتح یابی کا علم ہوا اور انہیں بھی مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کا پتہ چل گیا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو جو کامیابی ہوئی اور مشرکین نے جو بری طرح شکست کھائی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے اس انعام کا احسان جتایا اور ان کی سابقہ کمزوری کو یاد دلایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اپنا وہ وقت یاد کرو جبکہ تم تھوڑے سے تھے ضعیف بھی تھے۔ مکہ کی سر زمین میں تمہاری کچھ بھی حیثیت نہیں تھی۔ تمہیں اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے اور کفار مکہ تمہیں ختم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا کہ تمہیں مدینہ منورہ میں ٹھکانا دیاجہاں رہنے کی جگہ بھی مل گئی اور دشمنوں سے حفاظت بھی ہوگئی۔ پھر جب مقام بدر میں دشمنوں سے مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوت دی اور مدد فرمائی اور تمہیں پاکیزہ چیزیں نصیب فرمائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے تمام حلال اور لذیذ چیزیں مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جو اموال بدر میں غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے تھے وہ مراد ہیں۔ آخر میں فرمایا (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (تاکہ شکر گزار بندے بنو) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28: یہ تذکیر نعمت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رض) کو خطاب کر کے اپنے انعامات یاد دلائے ہیں۔ پہلے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔ اب یہاں انعامات یاد دلا کر اسی حکم کی تاکید کی گئی۔ “ اعلم انه تعالیٰ لما امرھم بطاعة اللہ و طاعة الرسول ثم امرھم باتقاء المعصیة اکدذ ذلک التکلیف بھذه الایة الخ ” (کبیر ج 4 ص 535) وہ وقت یاد کرو جب تم معدودے چند تھے اور ارض مکہ میں کو فروں کے ہاتھوں بےبس، کمزور اور ناتواں تھے تمہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں مشرکین تمہاری تکہ بوٹی نہ کر ڈالیں تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ میں تمہیں پناہ دی اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مدد کر کے ان کو تمہارے ہاتھوں مغلوب و مقہور کیا اور ڈھیروں مال غنیمت کے ذریعے تمہاری مالی ساکھ مضبوط کی تاکہ تم اس کے انعامات کا شکر ادا کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

26 اور اس حالت کو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تعداد میں بہت تھوڑے تھے اور سرزمین مکہ میں کمزور سمجھے جاتے تھے تم اس بات سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں تم کو کفار اچک نہ لے جائیں اور تم پر حملہ اور قتل و غارتگری نہ کردیں پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو ٹھکانا دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت دی اور عمدہ عمدہ چیزیں تم کو کھانے کو دیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہو۔ یعنی مکہ کی ابتدائی زندگی بہت ہی خطرناک تھی مسلمانوں کی تعداد کم تھی کوئی سیاسی اقتدار نہ تھا دشمنوں کا غلبہ تھا دشمن آسمانی تہذیب سے ناواقف تھا جاہل تھا اس لئے اس کی جہالت سے ہر وقت اندیشہ تھا کہ نہ معلوم کس وقت حملہ کردے اور مٹھی بھر مسلمانوں کو قتل کردے۔ لوٹ لے عورتوں اور بچوں کو قید کرلے اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے مدینے بھیج کر بدل دیا۔ وہاں تعداد بھی بڑھ گئی۔ جہاد کی اجازت ہوگئی مالی حالت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی سیاسی اقتدار بھی میسر آیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ستھری چیزیں یعنی مال غنیمت۔ 12