Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 28

سورة الأنفال

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۸﴾٪  17

And know that your properties and your children are but a trial and that Allah has with Him a great reward.

اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالٰی کے پاس بڑا بھاری اجر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ... And know that your possessions and your children are but a trial. from Him to you. He grants these to you so that He knows which of you will be grateful and obedient to Him, or become busy with and dedicated to them instead of Him. Allah said in other Ayat, إِنَّمَأ أَمْوَلُكُمْ وَأَوْلَـدُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ Your wealth and your children are only a trial, whereas Allah! With Him is a great reward. (64:15) وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً And We shall make a trial of you with evil and with good. (21:35) يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاأَ تُلْهِكُمْ أَمْوَلُكُمْ وَلاأَ أَوْلَـدُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ O you who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosoever does that, then they are the losers. (63:9) and, يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ مِنْ أَزْوَجِكُمْ وَأَوْلـدِكُمْ عَدُوّاً لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you (who may stop you from the obedience of Allah); therefore beware of them! (64:14) Allah said next, ... وَأَنَّ اللّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ And that surely with Allah is a mighty reward. Therefore, Allah's reward, favor and Paradise are better for you than wealth and children. Certainly, among the wealth and children there might be enemies for you and much of them avail nothing. With Allah alone is the decision and sovereignty in this life and the Hereafter, and He gives tremendous rewards on the Day of Resurrection. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah said, ثَلَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَوَةَ الاِْيمَانِ مَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ للهِ وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللهُ مِنْه There are three qualities for which whomever has them, he will have tasted the sweetness of faith. They are: whoever Allah and His Messenger are dearer to him than anyone else, whoever loves a person for Allah's sake alone, and whoever prefers to be thrown in fire rather than revert to disbelief, after Allah has saved him from it. Therefore, loving the Messenger of Allah comes before loving children, wealth and oneself. In the Sahih, it is confirmed that he said, وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَا يُوْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين By He in Whose Hand is my soul! None of you will have faith unless I become dearer to him than himself, his family, his wealth and all people.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں ؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] مال اور اولاد سے آزمائش :۔ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پرخطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔ ١۔ عمر و بن عوف (رض) سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ نے فرمایا : & اللہ کی قسم ! میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگ جاؤ، تو وہ تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب، شہود الملائکۃ بدرا) نیز کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا) ٢۔ آپ نے فرمایا : ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ (ترمذی بحوالہ مشکوۃ، کتاب الرقاق، دوسری فصل) ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا ہے۔ محتاج مہاجرین دولت مند مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنیاء ھم ) ٤۔ سیدنا عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ وہاں ان لوگوں کی کثرت ہے جو دنیا میں محتاج تھے۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب فضل الفقر ) ٥۔ مال کا فتنہ :۔ ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ (خطبہ ارشاد فرمانے) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اپنے بعد میں جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ (تم مالدار ہوجاؤ گے) پھر آپ نے دنیا کی آرائش کا بیان شروع کیا، پہلے ایک بات بیان کی، پھر دوسری۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا بھلائی سے برائی پیدا ہوگی ؟ یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اور لوگ ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ نے اپنے منہ سے پسینہ پونچھا (وحی بند ہوئی) تو آپ نے پوچھا : وہ سائل کہاں ہے جو ابھی پوچھ رہا تھا۔ پھر آپ نے سوال کا جواب دیتے ہوئے تین بار فرمایا : مال و دولت سے بھلائی ہی نہیں ہوتی۔ & پھر فرمایا : بھلائی سے تو بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے مگر بہار کے موسم میں جب ہری ہری گھاس پیدا ہوتی ہے (جو ایک نعمت ہے، اس کا زیادہ کھا لینا) جانور کو یا تو مار ڈالتا ہے یا مرنے کے قریب کردیتا ہے۔ الا یہ کہ جانور اپنی کو کھیں بھرنے کے بعد دھوپ میں جا کھڑا ہو اور پیشاب کرے پھر اس کے ہضم ہوجانے کے بعد) اور گھاس چرے اور یہ مال و دولت بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے حق کے مطابق ہی لے پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرے اور جو شخص اپنے حق پر اکتفا نہ کرے اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔ & (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ ) ٦۔ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف (رض) کے سامنے ایک روز کھانا رکھا گیا۔ تو کہنے لگے مصعب بن عمیر (رض) جنگ احد میں شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کے لیے ایک چادر ملی اور حمزہ یا کسی اور کا نام لے کر کہا کہ وہ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کو بھی صرف ایک چادر تھی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ عیش و آرام کے سامان ہمیں دنیا میں ہی دے دیئے جائیں، یہ کہہ کر رونا شروع کردیا۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب الکفن من جمیع المال) ٧۔ سیدنا ابوذر غفاری (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بلاشبہ قیامت کے دن بہت مال و دولت رکھنے والے ہی زیادہ نادار ہوں گے۔ مگر جسے اللہ نے دولت دی اور اس نے اپنے دائیں سے بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے ہر طرف سے دولت کو اللہ کی راہ میں لٹا دیا اور اس مال سے بھلائی کمائی۔ & (بخاری، کتاب الرقاق، باب المکثرون ھم المقلون) ٨۔ آپ نے فرمایا : & جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہو اس کو دولت مندی کا کوئی خطرہ نہیں (احمد، بحوالہ مشکوۃ، باب استحباب المال، فصل ثالث) اولاد کے ذریعہ آزمائش کیسے ہوتی ہے ؟:۔ اور اولاد کے ذریعہ انسان کی آزمائش کا دائرہ مال کی آزمائش سے زیادہ وسیع ہے۔ اولاد اگر کسی کے ہاں نہ ہو تو بھی یہ ایک آزمائش ہے۔ ایسی صورت میں انسان اور بالخصوص عورتیں شرک جیسے بدترین گناہ پر آمادہ ہوجاتی ہیں اور پیروں فقیروں کے مزاروں اور مقبروں کے طواف کرتی اور ان کی منتیں مانتی ہیں اور اگر کسی کے ہاں زیادہ ہو تو وہ دوسری طرح آزمائش ہوتی ہے۔ کفار مکہ میں جو قتل اولاد کا دستور عام رائج تھا تو اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم انہیں کھلائیں گے کہاں سے ؟ گویا اولاد کے رزق کا اپنے آپ کو ٹھیکیدار سمجھنا اور اللہ پر قطعاً توکل نہ کرنا بھی شرک سے ملتا جلتا اور بعض پہلوؤں میں اس سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ پھر اولاد کی تربیت کا مرحلہ آتا ہے تو یہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنی اولاد کو دینی تربیت دیتا اور دین کی راہ پر چلاتا ہے یا محض ان کے لئے دنیا کمانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ انسان کی زندگی کا ایسا نازک موڑ ہوتا ہے جس کے اچھے یا برے نتائج خود اس کو اس دنیا میں بھگتنا پڑتے ہیں اور آخرت میں تو ان پر سزا و جزا کا مرتب ہونا ایک یقینی بات ہے۔ پھر اس کے بعد اولاد کی آرزوؤں کی تکمیل کا مرحلہ پھر ان کی شادی اور شادی کے سلسلہ میں رشتہ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے کہ وہ کس قسم کا رشتہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے اور یہ بھی ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کے نتائج انتہائی دور رس ہوتے ہیں اور ایسے ہی مرحلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی دینداری کے دعویٰ میں کس حد تک سچا اور مخلص ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے کس قدر محبت ہے۔ مختصر یہ کہ اولاد کا فتنہ ایسا فتنہ ہے جس کے ذریعہ انسان کی ہر وقت آزمائش ہوتی رہتی ہے۔ پھر بعض دفعہ مال اور اولاد دونوں کے فتنے ایک فتنہ میں مشترک ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ بعض مسلمانوں نے محض مال اور اولاد کی خاطر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان میں ہجرت کرنے کی استطاعت موجود تھی۔ ان پر جائیداد اور اولاد کی محبت غالب آگئی اور انہوں نے کافروں میں رہنا اور ذلت کی زندگی بسر کرنا گوارا کرلیا۔ ایسے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سخت وعید فرمائی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ: مال اور اولاد کی محبت انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ عام طور پر انھی کے لیے آدمی خیانت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ مَجْھَلَۃٌ مَحْزَنَۃٌ )” بیشک بچہ بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا باعث ہوتا ہے۔ “ [ صحیح الجامع الصغیر : ١٩٩٠۔ مستدرک حاکم : ٣؍٢٩٦، ح : ٥٢٨٤، عن الأسود بن خلف ] درحقیقت اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیتا ہے، یا مال اور اولاد کی ایسی محبت کو جس سے خیانت اور احکام الٰہی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ اس ناجائز محبت پر غالب آنے کا طریقہ اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿٢٨﴾(And be aware that your wealth and your children are but a trial and that with Allah there is a great reward). The word: فِتنَہ (fitnah) used here carries the sense of &trial& as well as that of &punishment.& Then, such things as become the cause of punish¬ment are also referred to as fitnah.& In different verses of the Qur&an, &fitnah& has been used to carry these three meanings. At this place, there is room for all three. There are occasions when one&s own proper¬ty and children become a can of troubles for him and that they would push him into negligence and disobedience and become the very cause of punishment right here in this world is all too obvious. Firstly, the sense could be that Allah aims to put you to test through your proper¬ty and children for these are His blessings. Now, you prove whether you become grateful and obedient after having received these, or that you choose to be ungrateful and disobedient. Also possible is the sec¬ond, even the third meaning, that is, should you become all engrossed in your love for your property and children and bring upon yourself the displeasure of Allah, then, these very children and property will become your punishment. There are occasions within this mortal world when one is engulfed into all sorts of hardships because of property and children and he starts experiencing the heat of punishment right here. Even if the case be otherwise, it stands settled that the property which was acquired or spent by ways counter to the injunctions of Al¬lah Ta` ala will itself become, in the Hereafter, the active agent of pun¬ishment through snakes, scorpions and brandings by fire - as stated clearly in several verses of the Qur&an and numerous narrations of the Hadith. Finally, the third meaning is that these things become the cause of punishment. As pointed out a little earlier, it is quite evident that once these things become the cause of heedlessness towards and disobedience to Allah Ta` ala and His injunctions, they automatically become the cause of punishment. At the end of the verse (28), it was said: وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ (and that with Allah there is a great reward). In other words, one should understand clearly that for a person who is not all-subdued by his love for property and children while doing his duty of being obedient to the commands of Allah and His Rasul, there is a great reward for him with Allah. As for the thematic content of this verse, it applies to all Muslims, but the cause of its revelation, according to the majority of commenta¬tors, is the event relating to Sayyidna Abu Lubabah (رض) as it came to pass during the battle of Banu Qurayzah. As reported, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the noble Companions (رض) kept the fort of Banu Qurayzah under siege for twenty one days which compelled them to make the request that they be allowed to leave their homeland and go to Syria. In view of their wickedness, he did not accede to their &request. Instead, he said that the only option of peace open to them was that they should now agree to whatever decision Sayyidna Sa&d ibn Mu` adh رضی اللہ تعالیٰ عنہ gave in their case. Thereupon, they requested that Sayyidna Abu Lubabah (رض) be entrusted with this duty in place of Sayyidna Sa&d ibn Mu` adh (رض) . The reason was that the family and property of Sayyidna Abu Lubabah رضی اللہ تعالیٰ عنہ were located in the Banu Qurayzah area. He, they thought, would take a lenient attitude in their case. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent Sayyidna Abu Lubabah (رض) as they requested. When he reached there, men and women from Banu Qurayzah assembled around him and started cry¬ing. They asked: If we were to surrender at the command of the Holy Prophet and come out of the fort, would he be lenient to us? Sayyidna Abu Lubabah (رض) knew that leniency was not the settled policy in this matter. However, it was partly because of their wailing and plaint and partly because of his own love and concern for his family and children that he passed his hand sword-like over his neck giving the signal that they shall be slaughtered. Thus, as one would say, he disclosed the secret of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The consideration of property and the love of children and family made him do what he did. But, he was immediately alerted to what had happened. He realized that he had committed a breach of trust reposed in him by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . When he returned from there, he was so overwhelmed by his sense of shame that he, rather than return to his master, went straight to his Masjid and it was a pil¬lar of the Masjid that he tied himself to swearing that he will stay tied like that until his taubah (repentance) was accepted, even if he were to die in that condition. So, for seven full days he stood there tied like that. His wife and daughter used to attend to him. They would untie him so that he could take care of his human compulsions and make his Salah. When he had done that, they would tie him again. He would usually avoid eating and drinking, so much so that he would faint out of weakness. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got this news initially, he said: If he had come to me first, I would have sought forgiveness for him and his taubah would have been accepted. Now that he has gone through this act of his, there is nothing left but to wait for the revela-tion of the Divine acceptance of his taubah. So, it was after seven days when, late at night, these verses relating to the acceptance of his taubah were revealed. Some Sahabah gave him the good news and reached out to untie him from the pillar. But, he said: Until such time that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would not decide to untie me, I would not prefer to be untied. Thus, when he came into the Masjid at the time of the Fajr Salah, he untied him with his own blessed hands. The real cause of the revelation of the cited verse which contains the prohibition of becoming overwhelmed by the concern and love for prop¬erty and children and not fulfilling the trust of Allah is as stated above. Allah knows best.

(آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بات سمجھ رکھو کہ تمہارے مال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔ فتنہ کے معنی امتحان کے بھی آتے ہیں اور عذاب کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں ان تینوں معنی کے لئے لفظ فتنہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں تنیوں معنی کی گنجائش ہے بعض اوقات مال و اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب غفلت و معصیت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جانا تو بالکل ظاہر ہے۔ اول یہ کہ مال و اولاد کے ذریعہ تمہارا امتحان لینا مقصود ہے کہ یہ چیزیں ہمارے انعامات ہیں۔ تم انعام لے کر شکر گزار اور اطاعت شعار بنتے ہو یا ناشکرے اور نافرمان۔ دوسرے اور تیسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مال اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا تو یہی مال و اولاد تمہارے لئے عذاب بن جائیں گے۔ بعض اوقات تو دنیا ہی میں یہ چیزیں انسان کو سخت مصیبتوں میں مبتلا کردیتی ہیں اور دنیا ہی میں مال و اولاد کو وہ عذاب محسوس کرنے لگتے ہیں ورنہ یہ تو لازمی ہے کہ دنیا میں جو مال اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کمایا گیا یا خرچ کیا گیا وہ مال ہی آخرت میں اس کے لئے سانپ بچھو اور آگ میں داغ دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اور بیشمار روایات حدیث میں اس کی تصریحات موجود ہیں۔ اور تیسرے معنی یہ کہ یہ چیزیں سبب عذاب بن جائیں یہ تو ظاہر ہی ہے کہ جب یہ چیزیں اللہ تعالیٰ سے غفلت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا سبب بنیں تو عذاب کا سبب بن گئیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بھی سمجھ لو کہ جو شخص اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل میں مال و اولاد کی محبت سے مغلوب نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ اس آیت کا مضمون تو سب مسلمانوں کو عام اور شامل ہے مگر واقعہ اس کے نزول کا اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ابو لبابہ (رض) کا قصہ ہے جو غزوہ بنو قریظہ میں پیش آیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہو کر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ تمہارے بارے میں جو کچھ فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ۔ انہوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ کے بجائے ابو لبابہ کو یہ کام سپرد کردیا جائے۔ کیونکہ حضرت ابولبابہ کے اہل و عیال اور جائیداد بنو قریظہ میں تھے، ان سے یہ خیال تھا کہ وہ ہمارے معاملہ میں رعایت کریں گے۔ آپ نے ان کی درخواست پر حضرت ابو لبابہ کو بھیج دیا۔ بنوقریظہ کے سب مرد و زن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں وہ کچھ نرمی فرمائیں گے۔ ابولبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کچھ ان لوگوں کی گریہ وزاری سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بتلا دیا کہ ذبح کئے جاؤ گے۔ گویا اس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راز فاش کردیا۔ مال و اولاد کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے۔ مگر فورا تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت کی۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی اسی طرح بندھا رہوں گا چاہے اسی حالت میں موت آجائے۔ چناچہ سات روز مکمل اسی طرح بندھے کھڑے رہے ان کی بیوی اور لڑکی نگہداشت کرتی تھیں، انسانی ضرورت کے وقت اور نماز کے وقت کھول دیتی اور فارغ ہونے کے بعد پھر باندھ دیتی تھیں، کھانے پینے کے پاس نہ جاتے تھے یہاں تک کہ غشی طاری ہوجاتی تھی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اول اس کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اول ہی میرے پاس آجاتے تو میں ان کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جب کہ وہ یہ کام کر گزرے تو اب قبولیت توبہ نازل ہونے کا انتظار ہی کرنا ہے۔ چنانچہ سات روز کے بعد آخر شب میں آپ پر یہ آیتیں ان کی توبہ قبول ہونے کے متعلق نازل ہوئیں بعض حضرات نے ان کو خوشخبری سنائی اور کھولنا چاہا مگر انہوں نے کہا کہ جب تک خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے نہ کھولیں گے میں کھلنا پسند نہ کروں گا۔ چناچہ جب آپ صبح کی نماز کے وقت مسجد میں تشریف لائے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا۔ آیت مذکورہ میں جو خیانت کرنے اور مال و اولاد کی محبت سے مغلوب ہونے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے اس کا اصل سبب یہ واقعہ ہے۔ واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَۃٌ۝ ٠ ۙ وَّاَنَّ اللہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۝ ٢٨ ۧ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) اور لبابہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ بنی قریظہ میں جو تمہارے اموال واولاد ہیں وہ تمہارے لیے ایک آزمایش ہیں، اور جہاد پر جنت میں بہت بڑا ثواب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌلا) فتنہ کے معنی آزمائش اور اس کسوٹی کے ہیں جس پر کسی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مال اور اولاد انسان کے لیے بہت بڑی آزمائشیں ہیں۔ یقیناً مال اور اولاد ہی انسان کے پاؤں کی سب سے بڑی بیڑیاں ہیں جو اسے نصرت دین کی جدوجہد سے روک کر اس کی عاقبت خراب کرتی ہیں۔ چناچہ وہ اپنی شعوری اور فعال زندگی کے شب و روز مال کمانے ‘ اسے سینت سینت کر رکھنے اور اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اس انداز سے کھپا دیتا ہے کہ اس میں اور کو لہو کے بیل میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اس کے بعد اس کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی بچتی ہی نہیں جسے وہ دین کی جدو جہد کے لیے پیش کر کے اپنے اللہ کے حضور سرخرو ہو سکے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23. Excessive love of money and one's children often impair the sincerity of a person's faith and often lead man to hypocrisy, treachery and dishonesty. The Qur'an, therefore, clearly points out ihat since 1ove of wealth or children drives people off the right path, it constitutes a considerable test for them. One's property, one's business and one's offspring constitute a test for man since they have been in his custody so as to judge to what extent he observes the limits of propriety laid down by God and adequately performs his responsibilities. What is tested is how far man is able to control his animal self - which is strongly attached to worldly purposes - so that he is able to act as God's servant and render all the rights of worldly life in the manner laid down by God.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :22 ”اپنی امانتوں“سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی پر اعتبار ( Trust ) کر کے اس کے سپرد کی جائیں ، خواہ وہ عہد وفا کی ذمہ داریاں ہوں ، یا اجتماعی معاہدات کی ، یا جماعت کے رازوں کی ، یا شخصی و جماعتی اموال کی ، یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نساء حاشیہ ۸۸ ) ۔ سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :23 انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت ، غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے ۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد ، جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو ، دراصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لیے سامان آزمائش ہیں ۔ جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں وہ در اصل امتحان کا ایک پرچہ ہے ۔ اور جسے تم جائیداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچہ امتحان ہے ۔ یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لیے کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق اور حدود کا لحاظ کرتے ہو ، کہاں تک اپنے نفس کو جو ان دنیوی چیزوں کی محبت میں اسیر ہوتا ہے ، اسی طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندہ حق بھی بنے رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک ادا بھی کرتے رہو جس حد تک حضرت حق نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے، لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پرتو آمادہ نہیں کررہی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہوگی تونہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب ہے ؛ لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے توایک وبال ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں، آمین۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ خدا اور خدا کے رسول کی خیانت نہ کرو جو بھید کی باتیں ظاہر کرنے کے لائق نہیں ہیں ان کو دشمنوں پر ظاہر نہ کرو عبادت میں کسی قسم کا خلل نہ ڈالو اور لوگوں کی امانت میں بھی خیانت نہ کرو کوئی امانت رکھنے کو دے تو اسے ہضم نہ کرلو اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ دنیا کے مال اور اولاد اگرچہ دنیادی زندگی میں تمہارے لئے زینت ہیں مگر ساتھ ہی اس کے اکثر یہی مال واولا دفتنہ میں ڈالنے والے ہیں اگر یہی مال واولاد گناہ کے سبب بن جاتے ہیں اور آخرت کے کاموں سے روک دیتے ہیں اس لئے ان میں مشغول ہو کر خدا کی اطاعت سے باز نہ ہو مال واولاد اس لئے تمہیں دئے گئے ہیں کہ تم انکا شکر بجالاؤ پھر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی عبادت اور فرما نبرداری میں مشغول رہنے سے ہمیشہ بہبودی کی صورت نظر آتی ہے کیونکہ اللہ ہی کی ذات وہ ہے جو دنیا و آخرت کا مالک ہے اور اس کے اختیار میں طرح طرح کے اجر عظیم ہیں علاوہ اس کی سعادت اخروی تمام دنیا سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ہمیشہ کے لئے بقا ہے اور دنیا کے پیچھے فنا لگی ہوئی ہے صحیحین میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یہ تین چیزیں جس ہیں ہونگی اس نے ایمان کی لذت پائی جس کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت غیر سے زیادہ ہو جو شخص کسی کو محض خدا کے واسطے دوست رکھتا ہو جو شخص ایمان لاکر پھر کفر کی طرف پھرجانا ایسا سمجھتا ہو جیسے آگ میں ڈالے جانے کو بڑا سمجھتا ہے دوسری حدیث انس (رض) کی صحیحین میں یوں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا شخص ہرگز مومن نہیں ہے جو مجھ کو اپنے ماں باپ بال بچوں اور کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پایا ہے کہ ہر شخص پکے ایماندار کو دین کی باتوں پر ایسا مضبوط رہنا چاہیے کہ مال واولاو دنبوی کے سبب سے اس کی عقبی کی مضبوطی میں کچھ فرق نہ آوے یہی مضبوطی پوری ایماندار اور اللہ و رسول کی محبت کی نشانی ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے مستورد (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقبے کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہے جیسے دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ آیت میں آخرت کے ثواب کو بڑا جو فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:28) فتنۃ۔ آزمائش۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی بہت بڑی آزمائش میں کہ تم شکر اور اطاعت بجا لاتے ہو یا ان میں مشغول ہو کر نافرمانی کرتے ہو۔ ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عموماً انسان ان کی وجہ سے خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ واعلموا کا معنی ہے اچھی طرح جان لو، اس میں ایک قسم کا انتباہ پایا جاتا ہے کہ اے لوگو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش کا باعث ہیں عمومی طور پر انسان اس وقت ہی خیانت کا مرتکب ہوتا اور شریعت کے احکام میں سستی اور غفلت کرتا ہے جب اس کے دل میں مال اور اولاد کی محبت غلو کر جائے۔ اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ خیانت سے بچنے کا حکم دینے کے بعد لوگوں کو بتلایا جائے کہ مال اور اولاد خیانت کا سبب بنتے ہیں لہٰذا تمہیں ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جو شخص اس آزمائش میں پورا اترے گا اللہ کے ہاں اسے اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ہر امت کے لیے ایک اجتماعی آزمائش ہوا کرتی ہے۔ میری امت کے لیے اجتماعی آزمائش مال ہوگا۔ دوسرے موقع پر آپ نے صحابہ کرام (رض) کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے ساتھیو ! مجھے آپ کی غربت کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں میں تو تمہارے متعلق کثرت مال سے ڈرتا ہوں۔ اولاد کے متعلق آپ نے یہ آیت کریمہ اس وقت تلاوت فرمائی جب آپ منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے سامنے دیکھا تو حسن و حسین لوگوں کے درمیان اچھلتے ہوئے منبر کی طرف آرہے تھے آپ نے خطبہ منقطع کیا اور ان کو سینہ کے ساتھ چمٹاتے ہوئے اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ واقعی اولاد انسان کے لیے آزمائش ہے۔ (عَنْ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ بَیْنَا رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلَام عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ وَحَمَلَہُمَا فَقَالَ صَدَقَ اللّٰہُ إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ رَأَیْتُ ہٰذَیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فِی قَمِیصَیْہِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰی نَزَلْتُ فَحَمَلْتُہُمَا) [ رواہ النسائی : کتاب العیدین، باب نزول الامام عن المنبر قبل فراغہ من الخطبۃ ] ” حضرت ابن بریدہ (رض) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک دن رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک حسن اور حسین ( علیہ السلام) آگئے انہوں نے سرخ قمیصیں پہن رکھی تھیں وہ چلتے اور گرتے پڑتے آرہے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ سچا ہے تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے اپنے کپڑوں میں الجھتے دیکھا مجھ سے رہا نہ جاسکا یہاں تک کہ میں نے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا۔ “ (عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ وَکَانَتْ تَحْتَ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنَّ ہٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ مَنْ أَصَابَہُ بِحَقِّہٖ بُورِکَ لَہٗ فیہِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فیمَا شَاءَ تْ بِہٖ نَفْسُہٗ مِنْ مَال اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ لَیْسَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا النَّارُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب ماجاء فی أخذ المال بحقہ ] ” حضرت خولہ بنت قیس (رض) جو کہ حمزہ بن عبدالمطلب (رض) کی بیوی تھیں فرماتی ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ فرما رہے تھے بلاشبہ یہ مال خوشنما اور دلفریب چیز ہے جو کوئی اس کو حق کے ساتھ لے گا تو اس کے لیے برکت کی جائے گی اور کتنے ہی متکلف لوگوں کے دل اللہ اور اس کے رسول کے مال سے چاہ رہے ہوتے ہیں لیکن قیامت میں آگ کے سوا ان کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ أَخَذَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِمَنْکِبِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ إِذَا أَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرَضِکَ وَمِنْ حَیَاتِکَ لِمَوْتِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب قول النبیکن فی الدنیا کانک غریب ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھے سے پکڑتے ہوئے فرمایا دنیا میں اس طرح رہو جس طرح تم اجنبی یا مسافر ہو اور عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو۔ “ مسائل ١۔ مال اور اولاد انسان کے لیے آزمائش ہیں۔ ٢۔ آزمائش میں پورا اترنے والے کے لیے اجر عظیم ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن کریم انسانی حقیقت سے مخاطب ہے۔ کیونکہ خالق کائنات انسان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے اس کی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا علم ہے۔ وہ اس راہ کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہے۔ وہ اس مخلوق کے کمزور پہلوؤں سے بھی واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ مال کے لالچ اور اولاد کے مفادات اس کی ذات میں رچے بسے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسان کو خبردار کرتا ہے کہ مال و اولاد کی حقیقت کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ دو محبوب عطیات اس کی آزمائش کے لیے دیے ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور آزمائش ہیں۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ مال اور اولاد میں کس طرح تصرف کرتا ہے۔ آیا شکر ادا کرکے حق نعمت پورا کرتا ہے یا غفلت اور نافرمانی کرتا ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ اور ہم تم کو خیر و شر کے ذریعے آزما کر فتنے میں ڈالتے ہیں۔ فتنہ فقط مشکلات اور محرومیت کی شکل ہی میں نہیں آتا بلکہ یہ خوشحالی اور اللہ کے عطیات کی شکل میں بھی آتا ہے اور مال و اولاد کی شکل میں بھی آزمائشیں آتی ہیں۔ یہ نہایت ہی اہم تنبیہ ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ : اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جب انسان کو دل سے یہ معلوم ہوجائے کہ کس بات سے اس کا امتحان لیا جا رہا ہے تو یہ بات اس کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے تاکہ وہ بیدار رہے اور محتاط رویہ اختیار کرے۔ یہ نہ ہو کہ امتحان میں اس سے بھول چوک ہوجائے اور وہ امتحان میں پیچھے رہ جائے۔ لیکن اس امتحان میں بھی اللہ بندے کو بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان امتحان میں فیل بھی ہوسکتا ہے۔ باوجود انتباہات کے ۔ اس لیے کہ اس راہ کی مشکلات بہت زیادہ ہیں ، خصوصا جب معاملہ مال اور اولاد کا درپیش ہو لہذا اللہ انسان کو یہ روشنی دکھاتا ہے۔ مال و اولاد کے مقابلے میں اللہ کا اخروی اجر عظیم یہی تو ہے۔ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ مال اور دولت دینے والا تو اللہ ہی ہے اور اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ اولاد اور دنیاوی مال سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہذا کوئی شخص بھی اس امانت کبریٰ کے حق ادا کرنے سے پیچھے نہ رہے اور یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا تعاون ہے۔ اس ضعیف انسان کے ساتھ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ خلق الانسان ضعیفا ” اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے “۔ غرض اسلامی نظام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں اعتقادات و تصورات بھی ہیں ، اس میں ہدایت و تربیت کے سامان بھی ہیں ، اس میں رائض و واجبات بھی ہیں۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے اور اللہ علیم وخبیر ہے۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ لطیف وخبیر بھی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اموال اور اولاد فتنہ ہیں یہ دو آیتیں ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ فتنہ امتحان کی چیز کو کہا جاتا ہے۔ مال اور اولاد کا فتنہ ہونا کئی وجوہ سے ہے۔ مال و اولاد کی مشغولیت اور محبوبیت صحیح طریقہ پر کام نہیں کرنے دیتی، جہاد کی شرکت سے باز رکھتی ہے۔ نماز بھی صحیح طریقہ سے پڑھنے نہیں دیتی، پوری زکوٰۃ ادا کرنے سے بھی نفس انکار کرتا ہے حج فرض ہوجاتا ہے تو برسوں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ حج فرض ہوتے ہوئے حج کیے بغیر مرجاتے ہیں اور دیگر فرائض و واجبات میں بھی دنیاوی مشاغل رکاوٹیں ڈالتے ہیں اللہ جل شانہٗ نے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں یہ آزمائش کی چیزیں ہیں، آزمائش میں پورے اترو، مال اور اولاد تمہارے امتحان میں فیل ہونے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔ آیت میں لفظ اموال کو اولاد سے پہلے لایا گیا ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے۔ کہ مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے بڑھ کر ہے۔ حضرت کعب بن عیاض نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ان لکل امۃ و فتنۃً امتی المال (بلاشبہ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے) ۔ ١ ؂ اول تو مال کمانے میں یہ دھیان کرنے کی ضرورت ہے کہ مال حلال ہو، حلال کمائی کے ذریعہ حاصل کیا ہو اور اس کے کمانے میں فرائض و واجبات کو ضائع نہ کیا ہو کمانے کے بعد اس کے خرچ کرنے کا مسئلہ ہے۔ خرچ کرنے کے بارے میں بھی شریعت کے احکام ہیں اور خلاف شرعی خرچ کرنے پر مواخذہ ہے، حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن بندہ کے قدم (حساب کی جگہ سے) نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ ہوجائے۔ ١۔ عمر کہاں فنا کی ٢۔ جوانی کہاں گنوائی ٣۔ مال کہاں سے کمایا ٤۔ اور کہاں خرچ کیا ٥۔ علم پر کیا عمل کیا۔ ٢ ؂ معلوم ہوا کہ مال کے بارے میں دوہرا سوال ہوگا، دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اول تو کمانے ہی میں حلال حرام کا خیال نہیں ہوتا اور پھر خرچ کرنے میں بھی شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کی جاتی، اولاد کی محبت میں اور بیویوں کی فرمائش پوری کرنے کے لیے بہت سے حلال پیشے حرام راستے میں خرچ کردیتے ہیں پھر زیادہ مال کی طلب تو اور بھی زیادہ ناس کھو دیتی ہے، سود جوئے اور سٹہ بازی کے ذریعہ نیز رشوتیں دے کر اور رشوتیں لے کر، اور حرام چیزوں کا کارو بار کر کے اور اپنے شرکاء تجارت کی خیانت کر کے مزدوروں کا حق مار کر نمازیں برباد کر کے، اصحاب حقوق کے حقوق روک کر، مال جمع کیا جاتا ہے، ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اسے تو دنیا سے چلا جانا ہے یہ مال تو دوسروں کے قبضہ میں آئے گا میں دوسروں کے لیے اپنی آخرت کیوں خراب کروں ؟ لیکن بینک بیلنس کی فکر، نوٹوں کی گڈیوں کی محبت، اس چیز کو سوچنے نہیں دیتی۔ اولاد بھی فتنہ ہے، اولاد کی فرمائش پوری کرنے اور ان پر عمدہ مال خرچ کرنے اور ان کی شادیوں میں مال لگانے اور موت کے بعد ان کے لیے مال چھوڑنے اور ان کے لیے گھر در بنانے میں بہت سے گناہ ہوتے ہیں اور خلاف شرع بہت سے کام کیے جاتے ہیں۔ جو چیز امتحان کے لیے دی گئی تھی اس کی مشغولیت اور محبوبیت میں بہت سے گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ مومن بندوں کو ہمیشہ فکرمند رہنا چاہئے کہ کہیں اموال و اولاد کی محبت میں پڑ کر امتحان میں فیل نہ ہوجائیں۔ فیل ہونے پر جہاں عذاب کی وعیدیں ہیں وہاں امتحان میں کامیاب ہونے پر اجر عظیم کا وعدہ بھی ہے آیت کے اخیر میں اسی کو فرمایا (وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) (اور بلاشبہ اللہ کے نزدیک بڑا اجر ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30: یعنی یہ انفال و غنائم جن میں تم نزاع واختلاف کر رہے ہو وہ تمہارے لیے فتنہ اور آزمائش ہیں۔ “ وَ اَنَّ اللّٰهَ الخ ” یہ “ اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ ” پر معطوف ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 اور تم یہ بات خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان اور آزمائش کی چیز ہے اور یہ بھی یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑ اجر وثواب ہے۔ یعنی جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں گے اور کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے تو وہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چوری اللہ رسول کی یہ بھی ہے کہ چھپ کر کافروں سے ملیں اپنے مال اور اولاد کے بچائو کو جیسے مہاجرین میں اکثروں کے گھر مکہ میں تھے اور یہ بھی ہے کہ مال غنیمت چھپا رکھیں سردار پاس ظاہرنہ کریں۔ 12 مطلب یہ ہے کہ بعض مہاجرین کے بیوی بچے مکہ میں تھے بعض کے گھر اور املاک بھی مکہ میں تھے اس قسم کے مہاجرین اپنی اولاد اور املاک ک تحفظ کی وجہ سے مکہ کے کافروں کی کچھ رعایت کرتے ہوں گے یا ہمدردی کرتے ہوں گے تاکہ ان کی اولاد اور املاک محفوظ رہے اور کافر اس کو نقصان نہ پہنچائیں۔ تفصیل سورة ممتحنہ میں آئے گی۔ اس قسم کی معمولی سی فروگذاشت کو حضرت حق نے خیانت فرمایا اور مال و اولاد کو فتنہ سے تعبیر کیا اور آزمائش میں پورا اترنے والوں سے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔