Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 64

سورة الأنفال

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۴﴾٪  4

O Prophet, sufficient for you is Allah and for whoever follows you of the believers.

اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouraging Believers to fight in Jihad; the Good News that a Few Muslims can overcome a Superior Enemy Force Allah says; يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُوْمِنِينَ O Prophet! Allah is sufficient for you and for the believers who follow you. Allah encourages His Prophet and the believers to fight and struggle against the enemy, and wage war against their forces. Allah affirms that He will suffice, aid, support, and help the believers against their enemies, even if their enemies are numerous and have sufficient supplies, while the believers are few. Allah said,

ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں ، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں ۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں ۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے کہا واہ واہ آپ نے فرمایا یہ کس ارادے سے کہا ؟ کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے ۔ آپ نے فرمایا میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کامیان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں رضی اللہ عنہ و رجاء ۔ ابن المسیب اور سعد بن جیر فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عمر کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی ۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے حضرت عمر کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے ۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا ۔ واللہ اعلم ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے ۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے ۔ پھر حکم منسوخ ہو گیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا ۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجھکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور فرمایا ۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کر دیا ۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہو گیا پہلے حکم تھا کہ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں اب یہ ہوا کہ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دوسو سے نہ بھاگیں ۔ پس گرانی گذر نے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کر دی ۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں ۔ ابن عمر فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں کے بارے میں اتری ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھ کر فرمایا پہلا حکم اٹھ گیا ۔ ( مستدرک حاکم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦] اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ آپ کو بھی کافی ہے اور ان مومنوں کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور مسلمانوں کی یہ جماعت جو آپ کی پیروی کرتی ہے۔ آپ کو کافی ہے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہو۔ گویا یہ مطلب سابقہ آیت (هُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ ) 8 ۔ الانفال :62) کا ہی خلاصہ ہوا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہے، اس لیے یہاں دوبارہ اس جملے کو لا کر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی پیروی کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ” وَمَنِ اتَّبَعَنَ “ میں واؤ کا عطف ” حَسْبُكَ “ کے کاف پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والے مومنوں کو کافی ہے۔ یہ واؤ بمعنی ” مَعَ “ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو مع آپ کے ساتھیوں کے سب کو کافی ہے۔ بعض لوگوں نے اس واؤ کا عطف لفظ ” اللّٰهُ “ پر ڈالا ہے، اس صورت میں ترجمہ ہوگا کہ تجھے اللہ کافی ہے اور وہ مومن کافی ہیں جو تیرے پیروکار ہیں، مگر یہ عطف اور ترجمہ سراسر غلط ہے، کیونکہ پورے قرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنے اور اسی کو کافی سمجھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم ہے، فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ) توکل کا یہ حکم ” الْمُؤْمِنُوْنَ “ اور ” الْمُتَوَكِّلُوْنَ “ کے الفاظ کے ساتھ ٩ جگہ ہے اور فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) [ المائدۃ : ٢٣ ] ” اور صرف اللہ پر بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ “ مخلوق تو خود اپنے لیے کافی نہیں، وہ دوسروں کو کیا کفایت کرے گی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری (رض) ایسے مواقع پر ایک شعر لکھا کرتے تھے ؂ سنبھلتا نہیں جن سے اپنا دوپٹا سنبھالیں گے کیا وہ کلیجہ کسی کا ابراہیم (علیہ السلام) نے آگ میں پھینکے جانے کے وقت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) نے احد کے بعد کفار کے جمع ہو کر دوبارہ حملہ آور ہونے کے موقع پر (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) [ آل عمران : ١٧٣ ] کہا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة آل عمران : ٤٥٦٣ ] رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور میرے ساتھی کافی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا : (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ) [ التوبۃ : ١٢٩ ] ” پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ “ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ وَاِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِھٖ ۭوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) [ آل عمران : ١٦٠ ] ” اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا ؟ اور اللہ ہی پر پھر لازم ہے کہ مومن بھروسا رکھیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (64) as well, by stating the same subject briefly, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been comforted by telling him that sufficient for him is Allah Ta` ala in the real sense, and the group of be¬lievers in the physical sense. So, he should have no fear of an enemy, no matter how big, strong, numerous or well-equipped. Commentators have said that this verse was revealed before actual fighting started in the battle of Badr so that Muslims, small in numbers and virtually un¬equipped, would not be overawed by the heavy numerical and techni¬cal superiority of their adversary.

دوسری آیت میں بھی یہی مضمون خلاصہ کے طور پر بیان فرما کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے لئے حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور ظاہر کے اعتبار سے مؤمنین کی جماعت کافی ہے آپ کسی بڑے سے بڑے دشمن کی تعداد یا سامان سے خوف زدہ نہ ہوں۔ حضرت مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے میدان میں جنگ شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی تاکہ قلیل التعداد، بےسامان مسلمان اپنے مقابل کی بھاری تعداد اور بھاری سامان سے مرعوب نہ ہوجائیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٦٤ ۧ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ حَسْبُ يستعمل في معنی الکفاية، وحَسْبُ يستعمل في معنی الکفاية، حَسْبُنَا اللَّهُ [ آل عمران/ 173] ، أي : کافینا هو، وحَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ [ المجادلة/ 8] الحسیب والمحاسب کے اصل معنی حساب لینے والا یا حساب کرنے والا کے ہیں ۔ پھر حساب کے مطابق بدلہ دینے والے کو بھی ھسیب کہا جاتا ہے ۔ ( اور یہی معنی اللہ تعالیٰ کے حسیب ہونے کے ہیں ) اور آیت کریمہ : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ حَسِيباً [ النساء/ 6] تو خدا ہی ( گواہ اور ) حساب لینے والا کافی ہے ۔ میں حسیب بمعنی رقیب ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نگہبانی کے لئے کافی ہے جوان سے محاسبہ کرے گا ۔ حسب ( اسم فعل ) بمعنی کافی ۔ جیسے فرمایا : ۔ حَسْبُنَا اللَّهُ [ آل عمران/ 173] ہمیں خدا کافی ہے ۔ وحَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ [ المجادلة/ 8] ان کو دوزخ رہی کی سزا کافی ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) اللہ تعالیٰ ہی آپ کے لیے کافی ہے اور اوس و خزرج ظاہرا آپ کے لیے کافی ہیں۔ شان نزول : (آیت) ” یایھا النبی حسبک اللہ “۔ (الخ) بزار (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ بذریعہ عکرمہ (رح) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت فاروق اعظم (رض) مشرف بااسلام ہوئے تو مشرکین کہنے لگے کہ آج کے دن ہم سے آدمی قوم تقسیم ہوگئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس روایت کے اور بھی شواہد ہیں۔ اور طبرانی (رح) وغیرہ نے سعید بن جبیر (رح) کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب ٣٩ مرد وعورتوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم (رض) مشرف بااسلام ہوئے تو چالیس کی تعداد پوری ہوگئی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یعنی اے نبی آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور جن مومنین نے آپ کا اتباع کیا ہے وہ کافی ہیں۔ اور ابن ابی حاتم (رح) نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (٣٦) چھتیس آدمی اور چھ عورتیں ایمان لے آئیں اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم (رض) مشرف بااسلام ہوئے تو یہ آیت اتری۔ اور ابوالشیخ (رح) نے سعید بن مسیب (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق اعظم (رض) مشرف بااسلام ہوئے تو ان کے اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ (یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ۔ اگر اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں ان کے لیے بھی۔ عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آگئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٤۔ طبرانی بزار تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابوالشیخ میں عکرمہ سعید بن جبیر سعید بن مسیب کے واسطہ سے حضرت عبداللہ (رض) بن عباس کی روایت ہے کہ انتالیس مسلمان پہلے سے تھے جب حضرت عمر (رض) اسلام لائے اور چالیس مسلمان پورے ہوگئے تو حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لیکن حافظ عما دالدین ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور حضرت عمر (رض) کا اسلام ہجرت سے پہلے ہے پھر یہ آیت حضرت عمر (رض) کے اسلام کے وقت کیونکر نازل ہوسکتی ہے جواب اس اعتراض کا اور مفسیرین نے یہ دیا ہے کہ اس آیت کو مدنی فقط اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے لیکن جب یہ کہا جائے کہ تمام سورة مدنی ہے اور اس آیت مکی کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے کے موافق مدنی سورة میں داخل کیا گیا ہے تو پھر کچھ اعتراض نہیں ہے کیونکہ اکثر سورتوں میں ایسا ہوا ہے کہ ساری سورة مکی ہے اور کچھ آیتیں اس میں مدنی ہیں یا ساری سورت مدنی ہے اور کچھ آیتیں اس میں مکی ہیں بعضے مفسرین نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ اس سبب سے اس شان نزول کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس شان نزول کی بعضی روایتیں مثلا تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت نہایت صحیح ہے پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ صحیح روایت کو محض عقلی اعتراض سے نہ تسلیم کیا جائے اور جب روایت کو صحیح مانا جائے گا تو معنے اس روایت کے وہی ہوں گے جو اعتراض کے جواب میں بیان کئے گئے ہیں کہ مدنی سورة میں یہ مکی آیت داخل کی گئی ہے اور اس میں ذرا شک نہیں ہے کہ جواب میں جو حالت قرآن شریف کی آیتوں کی بیان کی گئی وہ ایک موجودہ حالت ہے اس واسطے ابن العربی وغیرہ مفسرین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے کہ سورة انفال میں یہ ایک آیت مکی ہے امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس شان نزول کے اختلاف کا یوں فیصلہ کیا ہے کہ آیت خواہ مکی ہو یا مدنی لیکن آیت میں مومنین جمع کا صیغہ ہے اس لئے آیت کا مضمون عام ہے اسی واسطے آیت کو بدر کی لڑائی کی آیتوں میں رکھا گیا ہے تاکہ حاصل مطلب آیت کا یہ ٹھہر جاوے کہ اس لڑائی میں جس طرح کچھ اوپر تین سو مسلمانوں کو غیبی مدد سے ہزار دشمنوں پر فتح ہوئی اسی طرح آئندہ بھی مسلمانوں کی جس قدر جماعت لڑائی میں اللہ کے رسول کے ساتھ ہوگی وہ اللہ کی مدد سے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لئے اللہ کے رسول کو کافی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دشمن کی فوج ایک مہینے کے راستہ پر ہو تو اتنے فاصلہ سے بھی میرا رعب دشمن کی فوج کے دلوں پر چھا جاتا ہے اس حدیث سے امام بخاری کے فیصلہ کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ حدیث میں جس رعب کا ذکر ہے وہ عام مسلمانوں کے اس لشکر اسلام کے حق میں ہے جو لشکر کسی لڑائی میں اللہ کے رسول کے ساتھ ہو یہ تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کا حال ہوا صحیح بخاری میں ابوسعید (رض) خدری کی ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آیندہ ایک زمانہ ایسا آویگا کہ جس لشکر اسلام میں صحابیوں تابعیوں یا تبع تابعیوں میں سے کوئی ہوگا تو اس لشکر اسلام کو بھی اللہ تعالیٰ فتح نصیب کریگا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیکھنے والوں کو صحابی کہتے ہیں اور صحابی کے دیکھنے والے کو تابعی اور تابعی کے دیکھنے والے کو تبع تابعی کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس رعب کا ذکر جابر (رض) کی حدیث میں ہے اس کا کچھ اثر تبع تابعیوں کے زمانہ تک باقی رہا اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ زمانہ ٢٢٠؁ ہجری تک تھا اس کے بعد فلسفہ دین کا علم ٹھہر گیا اور طرح طرح کے فساد مسلمانوں میں پھیل گئے صحیح مسلم میں جابر (رض) نے یہ حدیث ابوسعید خدری (رض) کے حوالہ سے دو طرح بیان کی ہے پہلی حدیث تو بخاری کی روایت کے موافق ہے اور دوسری روایت میں چوتھا درجہ تبع تابعین کے دیکھنے والوں کا بھی ٹھہرایا ہے لیکن جبکہ جابر (رض) کی یہ روایت ابوسعید خدری (رض) کے حوالہ سے ہے اور ابوسعید خدری (رض) کی اصل حدیث جو بخاری میں ہے اس میں یہ چوتھا درجہ نہیں ہے اس واسطے علماء نے تین درجوں کی حدیث کو ترجیح دی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کا فی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے یہاں دوبارہ اس حملہ کو لاکر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروری کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ( کذافی الوحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور اپنی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد قتال کا حکم دیا۔ سربراہ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کرنے کا حکم دینا چاہیے جب مسلمان کردار کے حوالے سے پختہ تھے تو اس وقت کفار کے خلاف تناسب یہ قائم کیا گیا کہ اگر کفار اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو دس کفار کے مقابلے میں ایک مسلمان کافی ہے یہ تعداد اس لیے کافی ہے کہ کافر موت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ قتال اور موت سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد اور منزل نہیں ہوتی۔ جس وجہ سے اس میں وہ جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا جو مجاہد کے سینے میں موجزن ہوتا ہے مجاہد موت سے ٹکرانے کے لیے ہر وقت تیار ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے مولا کی رضا کی خاطر اس کے دین کی سربلندی کے لیے میدان کا رزار میں اترتا ہے وہ اپنے خالق ومالک سے ملاقات کی تمنا اور اس کی جنت کے لیے جان کی بازی لگا دیتا ہے اسی بناء پر غزوہ احد کے موقع پر ایک صحابی کھجوریں کھا رہے تھے جونہی اس نے قتال فی سبیل اللہ کی آواز سنی تو یہ کہتے ہوئے کھجوریں پھینک دیں کہ اللہ کی قسم مجھے احد پہاڑ کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ایسا ہی خوبصورت منظر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے اس وقت دیکھا۔ جب توحید کی پاداش میں اس کے نازک جسم پر میخیں ٹھونکی جا رہی تھیں۔ (قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) [ التحریم : ١١] ” اس نے دعا کی : ” اے میرے رب ! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا اور ان ظالموں سے بھی نجات دے۔ “ مفسرین نے لکھا کہ حضرت آسیہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی موت سے پہلے جنت میں اس کا گھر دکھلایا دیا تھا۔ یہی وہ فرق ہے جو مجاہد اور کافر کے درمیان ہوتا ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ کافر اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ پہلے حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہوا۔ جس میں تخفیف کردی گئی جسے مضمون میں تسلسل کی خاطر یہاں رکھا گیا ہے۔ آج اس کی صورت یہ ہوگی کہ اگر کفار مسلمانوں پر جنگ مسلط کریں اور جنگی تناسب ایک کے مقابلے میں دس کا ہو تو پھر مسلمانوں پر قتال فرض ہوجائے گا۔ اگر تناسب میں اس سے زیادہ فرق ہو تو پھر مسلمانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کفار کے ساتھ اپنے وقار سے کم درجہ شرائط پر صلح کرسکتے ہیں۔ لیکن جب جنگی تناسب ایک اور دو کا ہو اور کافر تبلیغ اسلام میں رکاوٹ یا مسلمانوں پر جارحیت کرنے لگیں تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اللہ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے کیونکہ فتح اور شکست اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر مسلمان ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ انھیں ضرور فتح سے سرفراز فرمائے گا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَغَدْوَۃٌ فِی سَبِیل اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الغدوۃ والروحۃ ] ” حضرت انس بن مالک (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کے راستے میں صبح یا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “ (عن ابی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیل اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ وَتَوَکَّلَ اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِہِ بِأَنْ یَّتَوَفَّاہُ أَنْ یُّدْخِلَہٗ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرْجِعَہُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ )[ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب أفضل المؤمنین ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو بہتر جانتا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے روزے رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کی طرح۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کو یہ بدلہ دے گا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا صحیح سلامت واپسی کی صورت میں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔ “ مسائل ١۔ سربراہ کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتال کے لیے تیار رکھے۔ ٢۔ مجاہد کے سامنے اللہ کی رضا اور اس کی جنت ہوتی ہے۔ ٣۔ کافر کے سامنے وطن، قوم اور ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ ٤۔ جب جنگی تناسب ایک کے مقابلے میں دو ہو تو قتال فرض ہوجاتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کافر بیوقوف ہوتا ہے : ١۔ متقین کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے مگر کافر نہیں سمجھتے۔ (الاعراف : ١٦٩) ٢۔ میرا اجر میرے پیدا کرنے والے اللہ کے ذمہ ہے بےعقل نہیں سمجھتے۔ حضرت صالح کا اعلان۔ (ھود : ٥١) ٣۔ منافق بےسمجھ ہوتے ہیں۔ (المنافقون : ٧) ٤۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ (التوبۃ : ١٢٧) ٥۔ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کی اکثریت بےعقل ہوتی ہے۔ ( المائدۃ : ١٠٣) ٦۔ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں اور وہ عقل نہیں کرتے۔ (البقرۃ : ١٧١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔ یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے : يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔ یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اے نبی آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور مومنین کافی ہیں جنہوں نے آپ کا اتباع کیا) ۔ اصل مدد تو اللہ ہی کی ہے۔ جو حقیقی مدد ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر مسلمانوں کی جماعت اور جمعیت بھی آپ کے ساتھ ہے۔ یہ حضرات آپ کا اتباع کرنے والے ہیں جہاں دیگر مسائل معاد اور اسباب معاش میں آپ کا حکم بجالاتے ہیں وہاں جہاد میں بھی وہ دل سے اور جان و مال سے آپ کا اتباع کرنے والے ہیں، اہل ایمان کی جماعت مخلص ہو، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متبع اور مجتمع ہو تو پھر دشمن ان پر غالب نہیں آسکتا۔ صاحب روح المعانی ص ٣٠ ج ١٠ نے حضرت ابن المسیب (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس دن نازل ہوئی جبکہ حضرت عمر (رض) اسلام لائے تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی تھی (اس کے بعد برابر تعداد بھی بڑھتی رہی اور قوت و شوکت میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا رہا۔ والحمدللہ علی ذلک۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64: چوتھا قانونِ جہاد مخصوص بآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ اگر مشرکین آپ کے ساتھ صلح کرنے کا ارادہ ظاہر کریں تو آپ بھی اگر اس میں مصلحت سمجھیں تو صلح کا ہاتھ آگے بڑھا دیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ آپ کا حامی وناصر ہے۔ “ جَنَحُوْا اي مالوا ” اور “ سلم ” کے معنی صلح کے ہیں۔ “ اِنَّهٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” جملہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ “ وَ اِنْ يُّرِیْدُوْا الخ ” صلح کی صورت میں مشرکین کی طرف سے دھوکے اور فریب کا اندیشہ ہوکستا تھا کہ بظاہر وہ صلح کا ارادہ ظاہر کریں اور اس سے ان کا مقصد آپ کو جنگی تدبیروں سے غافل اور ان کے خطرے سے مطمئن کرنا ہو تو اس کا جواب بھی ارشاد فرما دیا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں آپ کو اللہ کافی ہے۔ اگر ان کا ارادہ فریب دینے کا ہوگا تو اللہ آپ کو ان کے فریب سے محفوظ رکھے گا۔ جس اللہ نے اپنی مدد اور مہاجرین و انصار کے ذریعے آپ کی تائید فرمائی جب کہ سارا عرب آپ کا دشمن تھا وہ اب بھی آپ کی مدد کرے گا۔ “ وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ الخ ” عرب قوم کی عصبیت اور خاندانی رقابت ضرب المثل ہے لیکن اللہ نے اسلام کی برکت سے ان کے دلوں کو عصبیت و عداوت سے پاک وصاف کر کے ان کے دلوں میں باہمی محبت و الفت ڈالدی۔ اگر آپ ساری دنیا کی دولت خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ ان کے دلوں میں یہ انقلاب بپا نہ کرسکتے لیکن اللہ نے ان کے دل بدل دئیے اور ان کی عداوت محبت میں تبدیل کردی۔ جو اللہ ایسا قادر و حکیم ہے وہ اس موقع پر بھی کوئی ایسی تدبیر کرے گا کہ آپ دشمن کے مکر و فریب سے محفوظ رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

64 اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو اور مسلمانوں کو جو آپ کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس آپ کے لئے بھی کافی اور جو مسلمان آپ کے پیرو ہیں ان کی مدد کو بھی اللہ کافی ہے۔ بعض نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حمایت کے لئے کافی ہے اور ظاہری اسباب کے طور پر وہ مسلمان جو آپ کے پیرو ہیں وہ آپ کی مدد کو کافی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں آکر مسلمان شمار کروائے مرد قابل جنگ چھ سو ہوئے سب خوش ہوئے کہ اب ہم کو کس کافر کا ڈر ہے۔ 12 یعنی مردم شماری میں چھ سو جوان لڑائی کے قابل نکلے اس زمانے کے لحاظ سے یہ تعداد قابل اطمینان سمجھی گئی۔